Saturday, 16 May 2020

حجت اجماع حجت رائے و قیاس فرقہ اہلحدیث

۱۰۔ حجت اجماع
اس میں تو شک نہیں کہ عملاً غیرمقلدین اجماع کے منکر ہیں مگر تقیہ کرکے ان کے بعض علماء اجماع کو تسلیم بھی کرتے ہیں:
جیسے ایک مولوی صاحب ایک حنفی عالم  کے خلاف بکتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اہل حدیث کا مذہب ہے کہ دین کے اصول چار ہیں:
1 قرآن 2 حدیث 3 اجماع امت 4 قیاس مجتہد
اہلحدیث کا مذہب ص 58
اگر یہ بیان پڑھا ہے تو تمہارا اعتراض باطل ہوا اور اگر نہیں پڑھا تو اپنی انکھوں کا علاج کروا لو“۔
(الحدیث 105 ص 46)
لعنت اللہ علی الکاذبین

 مگر دوسری طرف ان کے  عالم عبد المننان نور پوری صاحب لکھتے ہیں:
” اجماع صحابہ اور اجماع ائمہ مجتہدین کا دین میں  حجت ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں“۔
(مکالمات نورپوری ص 85)
نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
اجماع اور قیاس کی کوئی حیثیت نہیں۔
(عرف الجادی ص 3)

۱۱۔ حجت رائے و قیاس
فرقہ اہلحدیث کے محدث عبد الرحمٰن مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں:
”اس حدیث سے قیاس کی مشروعیت ثابت ہے “۔
(تحفۃ الاحوذی ج 2 ص 43)
زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کتاب اللہ پھر سنت رسول ﷺ اور پھر آثار ابی بکر و عمرؓ سے فیصلہ کرتے تھے اور اگر کوئی مسئلہ ان سے نہ ملتا تو پھر اپنی رائے سے اجتہاد کرتے تھے۔
(فتاویٰ علمیہ ص 22)
فرقہ اہلحدیث کے امام  شوکانی صاحب شرعی دلائل کی ترتیب میں لکھتے ہیں:
” سب سے پہلے قرآن اس کے بعد سنت اس کے بعد اجماع  اور  آخر میں قیاس“۔
(فقہ الحدیث ج1 ص 105)
دوسری طرف فرقہ اہلحدیث کے مولوی نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
 اجماع اور قیاس کی کوئی حیثیت نہیں۔
(عرف الجادی ص 3)
عبد المنان نوری پوری صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
اجماع و قیاس کا قانون سازی کی بنیاد ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
(مکالمات نور پوری ص 85)
فرقہ اہلحدیث کے امام العصر محمد جونا گڑھی صاحب  اپنی جہلات بکھیرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”تعجب ہے جس دین میں نبی کی رائے حجت نہ ہو اس دین والے آج ایک امتی کی رائے کو دلیل اور حجت سمجنے لگے“۔
(طریق محمدی ص 40-41)


غیرمقلدین کے ایک مولوی ڈاکٹر بہاوالدین صاحب نے ایک بات لکھی ہے آج غیرمقلد پر پوری فٹ آتی ہے  ” ہاں بعض عوام کالانعام گروہ اہل حدیث  میں ایسے بھی ہیں جو اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ ان کو لامذہب بد مذہب ضال منصل جو کچھ کہو زیبا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں۔ کسی سے کوئی حدیث سن کر یا کسی اردو مترجم کتاب میں دیکھ کر نہ صرف اس کے ظاہری معنی کے موافق عمل کرنے پر صبر و اکتفا کرتے ہیں۔ بلکہ اس میں اپنی خواہش نفس کے موافق استنباط و اجتہاد بھی شروع کر دیتے ہیں۔ جس   میں  وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ (تاریخ اہل حدیث ص164)

یہ تمام باتیں کافی ہیں غیرمقلدین کا عمل بالحدیث اور صرف قرآن حدیث کے  جھوٹے نعرے اور دعوے  کی  پول کھولنے کیلئے۔ اور یہ لوگ  ائمہ اربعہؒ کی تقلید سے نکال کر  صرف اپنے جاہل مولویوں کی تحقیق کے پیچھے لگاتے ہیں اور خود بھی اسی پر چلتے ہیں۔ اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں ائمہ اربعہؒ میں سے ہی کسی ایک کی تقلید کا پابند رہا جائے۔
غیرمقلد عوام کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ انکے علماء ائمہ اربعہؒ کی تقلید سے ہٹا کر کوئی اللہ رسول کی طرف نہیں   لے جاتے بلکہ اپنی اپنی  تحقیقی کے پیچھے آپ لوگوں کو چلا رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment