Showing posts with label حسام الحرمین کے جھوٹی کتاب ہونے کے دلائل. Show all posts
Showing posts with label حسام الحرمین کے جھوٹی کتاب ہونے کے دلائل. Show all posts

Saturday, 29 August 2020

مولوی احمد رضا خان بریلوی کی بدنامِ زمانہ کتاب ”حسام الحرمین“ کے جھوٹی ہونے کی قسط سوم


 مولوی احمد رضا خان بریلوی کی بدنامِ زمانہ کتاب ”حسام الحرمین“ کے جھوٹی ہونے کی

#دلیل نمبر ۳

مولوی احمد رضا خان بریلوی حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ پر”ختم نبوت کے انکار“ کا الزام لگاتے ہوئے ”حسام الحرمین“ میں لکھتےہیں:

”والقاسمیۃ المنسوبۃ الی قاسم النانوتوی صاحب تحذیرالناس وھو القائل فیہ (لو فُرض فی زمنہ صلی اللہ علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذلک بخاتمیتہ وانما یتخیل العوام انہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنٰی آخر النبیین مع أنہ لا فضل فیہ اصلاً عند اھل الفھم )“(حسام الحرمین صفحہ ۱۹)

#ترجمہ:

اور قاسمیہ قاسم نانوتوی کی طرف منسوب جس کی تحذیر الناس ہےاور اس نے اپنے اس رسالہ میں کہا ہے کہ (اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرض کر لیا جائے ؛بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہوجائے تو یہ آپ کی نبوت میں خلل انداز نہ ہوگااور عوام تو یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین آخرالنبیین کے معنٰی میں ہیں جبکہ اِس میں اہل فہم کے نزدیک بالکل فضیلت نہیں ہے)

مولوی احمد رضا خان بریلوی نے بین القوسین عبارت کو تحذیر الناس کی عبارت قرار دیا ہےجیسا کہ انہوں نے لکھا ہے

”وھو القائل فیہ“(اور اس نے اپنے اس رسالہ میں کہا ہے)

حالانکہ یہ عبارت پوری تحذیرالناس میں کہیں بھی نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ ”حسام الحرمین“ عربی کا ترجمہ جب مولوی احمد رضا خاں بریلوی کے بھتیجے حسنین رضا نے اردو میں کیا تو خط کشیدہ عربی عبارت کا ترجمہ کرنے کے بجائے تحذیرالناس کے تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارت بے ترتیب اِس طرح رکھ دی:۔

” بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو ۔جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہےبلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہے ۔ مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں الخ“ (حسام الحرمین صفحہ ۲۰ )

کوئی بھی شخص تحذیرالناس اٹھا کر دیکھ سکتا ہے کہ اُس میں یہ پوری عبارت اِس طرح کہیں بھی نہیں ہے؛ بلکہ وہ عربی عبارت خود مولوی احمد رضا خان کی بنائی ہوئی ہے؛لہٰذا مولوی احمد رضا خان بریلوی کا اپنی طرف سے ایک عربی عبارت بناکر اُس کو حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی کتاب تحذیرالناس کی طرف منسوب کرنا اور اُس خودساختہ عربی عبارت کا صحیح ترجمہ کرنے کے بجائے حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی کتاب تحذیرالناس کے تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارت بے ترتیب رکھنا یہ سراسر جھوٹ، دجل اور خیانت نہیں تو پھر کیا ہے؟

مولوی احمد رضاخان نے اپنی طرف سے ایک عربی عبارت بنائی اور اس کو تحذیرالناس کی طرف منسوب کر دیا ، اُس کو چونکہ معلوم تھا کہ علمائے حرمین شریفین اردو زبان جانتے نہیںہیں؛ اسلئے اِس خودساختہ عربی عبارت کو تحذیرالناس کی اردوعبارت سے ملانے کا معاملہ ہی نہیں آئے گا،اور پھر جب بھتیجے حسنین رضا خاں نے حسام الحرمین عربی عبارت کا اردو ترجمہ کرنے کیلئے قلم اٹھایا تو اُس نے سوچاہوگا کہ اگر چچا کی اِس خودساختہ عربی عبارت کا صحیح ترجمہ کر دیا جائے تو یہ عبارت تحذیرالناس میں ملے گی ہی نہیں پھر تو سارا بھانڈا ہی پھوٹ جائے گا؛ اسلئے یہ چال چلی کہ اُس خود ساختہ عربی عبارت کا صحیح ترجمہ کرنے کے بجائے تحذیرالناس کی تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارت بے ترتیب رکھ دی۔

#پہلی جگہ کی عبارت یہ ہے :۔
”بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو ۔جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے“
یہ عبارت صفحہ۱۴ کی ہے،اور ”بلکہ“ کا لفظ بتارہا ہے کہ یہ عبارت ادھوری ہے۔

#دوسری جگہ کی عبارت یہ ہے:۔
”بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا“
یہ عبارت صفحہ۲۸ کی ہے، اِس میں بھی ”بلکہ“ کا لفظ بتارہا ہے کہ یہ عبارت بھی ادھوری ہے۔

#تیسری جگہ کی عبارت یہ ہے :۔
”عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہے ۔ مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں“ یہ عبارت صفحہ۳ کی ہے ۔

پھراِن تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارتوں کو اِس طرح بے ترتیب رکھا:۔
”بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو ۔جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہےبلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہے ۔ مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں“
پہلے صفحہ۱۴ کی پھر صفحہ۲۸ کی پھر صفحہ ۳کی، اور اُن کے درمیان کوئی ایسا امتیاز بھی قائم نہیں کیا جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ مختلف جگہوں کی عبارتیں ہیں۔ یہ ہے دیانتداری کا حال؟؟؟

چچا بھتیجے کی کارروائی واضح ہو چکی کہحجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کو کافر ثابت کرنے کیلئے چچا نے اپنی طرف سے ایک عبارت بناکراُس کو تحذیرالناس کی طرف منسوب کیا، اور بھتیجے نے تحذیرالناس کی تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارت بےترتیب رکھدی۔جیسی کارروائی چچا بھتیجے نے کی ہے اگر اِس طرح کارراوائی کی جائے تو مولوی احمد رضا خان کی پوری نسل کافر ہو جائے گی۔

مولوی احمد رضا خان ”حسام الحرمین “ میں لکھتے ہیں :
”نعرض منھا ذکربعض الفرق بلفظہ“ ( ہم بعض فرقوں کا ذکر اسی کی عبارت میں ۔۔۔عرض کرتے ہیں) (حسام الحرمین۱۱)

اِس سے معلوم ہوا کہ مولوی احمد رضا خان نے ”حسام الحرمین “ میں جن فرقوں کا ذکر کیا ہے، انہیں کی عبارتیں نقل کی ہیں، اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا ہے۔
جیسا کہ مولوی نعیم الدین مرادآبادی بھی لکھتے ہیں کہ:۔
”حسام الحرمین میں ۔۔۔ عبارتیںبلفظہا نقل کی گئیں ہیں“ (التحقیقات لدفع التلبیسات /بحوالہ: الصوارم الہندیہ صفحہ ۱۳۹)

حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے؛ کیونکہ جب عبارتیں بلفظہا نقل کی گئی ہیں تو سوال یہ ہے کہ مولوی احمد رضا خان نے جس عبارت کو تحذیرالناس کی طرف منسوب کیا ہے وہ عبارت تحذیرالناس میں کہاں ہے؟آج تک کوئی اُس عبارت کو تحذیرالناس میں کیوں نہیں دکھا سکا؟اور بھتیجے نے صحیح ترجمہ کرنے کے بجائے تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارت بے ترتیب کیوں رکھی؟

ایک طرف تو دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حسام الحرمین میں عبارتیں بلفظہا نقل کی گئی ہیں اور دوسری طرف حال یہ ہے کہ جس کو تحذیرالناس کی عبارت قرار دیا ہے وہ تحذیر الناس میں ہے ہی نہیں۔

یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ مولوی احمد رضا خان نے وہ عربی عبارت اپنی طرف سے بناکر تحذیرالناس کی طرف منسوب کیا تھا شائد اِس خیال سے کہ علمائے حرمین شریفین اردو زبان نہیں جانتے ہیں ؛ اسلئے اُن کے سامنے میرا دَجل نہیں کھلے گا، مگر ساتھ ہی مولوی احمد رضا خان کو یہ بھی ڈر تھا کہ اگر علمائے حرمین شریفین نے کسی اردو جاننے والے سے اِس عربی عبارت کو تحذیرالناس میں تلاش کروایا اور نہیں ملی تو پھر میرا دَجل سب پر کھل جائےگا اِس ڈر سے مولوی احمد رضا خان نے علمائے حرمین شریفین کے سامنے دیگر کتابیں تو پیش کیں مگر تحذیرالناس کو پیش ہی نہیں کیا۔

#جیساکہ وہ خود علمائے حرمین شریفین کے سامنے کتابیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
”ویا سادتنا!بینوانصراً لدین ربکم أن ھؤلاء الذین سماھم ونقل کلامھم (وھاھو ذا نبذ من کتبھم کالاعجاز الأحمدی و إزالۃ الأوھام للقادیانی وصورۃ فتیا رشید أحمد الکنکوھی فی فوتو غرافیا والبراھین القاطعۃ حقیقۃ لہ ونسبۃ لتلمیذہ خلیل احمد الأنبھتی وحفظ الایمان لأشرفعلی التانوی معروضات۔۔۔)“ (اور اے ہمارے سردارو! اپنے رب عزوجل کے دین کی مدد کو بیان فرمائیےکہ یہ لوگ جن کا نام مصنف نے لیا اور اُن کا کلام نقل کیا( اور ہاں یہ ہیں کچھ اُن کی کتابیں جیسے قادیانی کی اعجازِ احمدی اور ازالۃ الاوہام اور فتوائے رشید احمد گنگوہی کا فوٹواور براہینِ قاطعہ کہ در حقیقت اسی گنگوہی کی ہے اور نام کے لئے اس کے شاگرد خلیل احمد انبہٹی کی طرف نسبت ہے۔ اور اشرفعلی تھانوی کی حفظ الایمان۔۔۔) (حسام الحرمین صفحہ ۱۱)

دیکھئے ! مولوی احمد رضا خان نے جو کتابیں علمائے حرمین شریفین کے سامنے پیش کی تھیں اُن میں تحذیرالناس نہیں تھی،آخر علمائے حرمین شریفین کے سامنے تحذیرالناس کیوں نہیں پیش کی گئی؟
حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کو کافر ثابت کرنے کیلئے مولوی احمد رضا خان نے اُن کی طرف ایک کفری عقیدہ ”ختم نبوت کے انکار“ کا منسوب کیا، اور اِس کفری عقیدہ کو ثابت کرنے کیلئے مولوی احمد رضا خان نے اپنی طرف سے ایک عبارت بناکر اُس کو تحذیرالناس کی طرف منسوب کیا اور بھتیجے حسنین رضا نے تحذیرالناس کی تین مختلف جگہوں کی ادھوری عبارت بے ترتیب ایک جگہ رکھ دی،جب علمائے دیوبند نے چچا بھتیجے کی اِس گھناؤنی کارراوئی سے پردہ اٹھایا تو بریلوی علماء سے مولوی احمد رضا خاں کی کارراوائی کا تو کوئی جواب نہ بن پڑا ، مگر بھتیجے صاحب کی طرف سے صفائی پیش کرنے لگے کہ تینوں عبارتوں میں سے ہر ایک میں کفر تھے اسلئے تینوں عبارتوں کو ایک جگہ رکھ دیا ، جیسا کہ مولوی نعیم الدین مرادآبادی لکھتے ہیں:
”اِن میں سے ہر ایک عبارت کفری معنی رکھتی ہے“(التحقیقات لدفع التلبیسات /بحوالہ: الصوارم الہندیہ صفحہ ۱۳۹)
اگر واقعی اِن میں سے ہر ایک عبارت کفری معنی رکھتی ہے تو مولوی احمد رضا خان نےبعینہٖ اِن تینوں عبارتوں کی عربی عبارت بنانے کے بجائے اپنی طرف سے ایک عربی عبارت کیوں بنائی جو تحذیرالناس میں ہے ہی نہیں؟
ہاں! مولوی احمد رضا خان کو یقینی طور پر یہ معلوم تھا کہ تحذیرالناس کی کسی بھی عبارت میں کفری معنی نہیں ہے؛ اسی لئے اپنی طرف سے ایک عبارت بنا کر تحذیرالناس کی طرف منسو ب کیا اور تحذیرالناس کو علمائے حرمین شریفین کے سامنے پیش نہیں کیا۔

مولوی احمد رضا خان بریلوی کی بد نامِ زمانہ کتاب ”حسام الحرمین“ کے جھوٹی کتاب ہونے کے دلائل قسط دوم


 

مولوی احمد رضا خان بریلوی کی بد نامِ زمانہ کتاب ”حسام الحرمین“ کے جھوٹی کتاب ہونے کے دلائل

#دلیل ۲

مولوی احمد رضا خان بریلوی نے اپنی بدنامِ زمانہ کتاب ”حسام الحرمین“ میں جن تین فرقوں کی نسبت ”اکابر علمائے دیوبند رحمہم اللہ“ کی طرف کی ہے اُن پر ”وہابی “ ہونے کا بھی الزام لگایاہے، حالانکہ علمائے دیوبند ہر گز وہابی نہیں ہیں۔

#چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے :۔
”ایک سلسلۂ گفتگو میں فرمایا کہ کتنے غضب اور ظلم کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں کو بدنام کرتے ہیں اور” وہابی“ کے لقب سے یاد کرتے ہیں“۔(ملفوظاتِ حکیم الامت جلد ۴ صفحہ ۵۱/ملفوظ نمبر ۵۵)

#اسی طرح
”ایک سلسلۂ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کو بدعتی لوگ ”وہابی“ کہتے ہیں، نہ معلوم یہ نسبت کہاں سے تراشی؟ اور اس کی دلیل کیا ہے؟“ (ملفوظاتِ حکیم الامت جلد ۵ صفحہ۲۴۲/ملفوظ نمبر ۲۳۸)

#اسی طرح
”ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ معلوم نہیں یہ بدعتی لوگ ہم کو ”وہابی“ کیسے کہتے ہیں؟اول تو وہ بدنام شخص عبدالوہاب نہیں خواہ مخواہ بیچارے کو بدنام کیا،وہ محمد بن عبدالوہاب ہے جس نے تشدد سے کام لیاہے اور جتنا اس کو بدنام کیا ہے وہ بھی اُس درجہ کا نہیں،پھر قطع نظر اِس سے ہمارے عقائد بھی تو ان جیسے نہیں،اگر کوئی کہے کہ بعض تو ہیں؟سو بعض تو تمہارے بھی ہیں مثلاً محمد بن عبدالوہاب اسلام کو حق سمجھتا ہے تم بھی حق سمجھتے ہو،وہ رسالت کو حق سمجھتا ہے تم بھی حق سمجھتے ہوتو اس سے کیا نقصان ہوا؟اور بہت سے مسائل میں ہم کو اُن سے سخت اختلاف بھی تو ہے،تو ہم اُن کے متبع کیسے ہوئے؟مثلاً وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزارِ مبارک پر قصداً جانے کو حرام کہتے ہیں ہم مستحب؛ بلکہ مؤکد کہتے ہیں،اور ہمارے بعض علماء کا وجوب تک خیال ہے،تو پھر ہم وہابی کیسے ہوئے؟ اگر محض اس وجہ سے وہابی سمجھتے ہیں کہ ہم اُن کو گالیاں نہیں دیتے تو حضرت رابعہ تو شیطان پر بھی لعنت کرنے کو پسند نہ کرتی تھیں،اور یہ گالیاں اور تبرا تو رافضیوں کا مذہب ہے (ہم) اہل سنت والجماعت کو اس سے کیا تعلق؟“ (ملفوظاتِ حکیم الامت جلد۸ صفحہ ۲۵۹/ملفوظ نمبر ۳۲۰)

#اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے ”الشہاب الثاقب“ میں علمائے دیوبند کا محمد بن عبدالوہاب سے بارہ مسائل میں اختلاف تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔

#اِس سے معلوم ہوا کہ علمائے دیوبند ”وہابی“ نہیں تھے۔

#لہٰذا مولوی احمد رضا خان بریلوی کا اُن حضرات کو ”وہابی“ کہنابھی سراسر جھوٹ ہے۔

#نوٹ: یاد رہے کہ جس وقت حسام الحرمین لکھی گئی ہے اُس وقت محمدبن عبدالوہاب کے کچھ کارناموں کی وجہ سے اُن کے مخالفین نے اُن کو بہت بدنام کر رکھا تھا، اُ ن کے تعلق سے بہت ساری بے سر وپا باتیں بھی مشہور کر رکھی تھی جس کی وجہ سے اہل عرب کو محمد بن عبدالوہاب اور ان کے متبعین سے سخت دشمنی اور نفرت تھی، اسی وجہ سے مولوی احمد رضا خان نے علمائے دیوبند رحمہم اللہ کو بھی ”وہابی “ کہہ کر انہیں میں شامل کر دیا تاکہ علمائے عرب سے ان کے خلاف فتویٰ لینے میں آسانی ہو۔

حسام الحرمین کے جھوٹی کتاب ہونے کے دلائل دلیل نمبر۱



 حسام الحرمین کے جھوٹی کتاب ہونے کے دلائل:

دلیل نمبر۱

مولوی احمد رضا خان بریلوی ”حسام الحرمین“میں لکھتے ہیں:۔

”نعرض منھا ذکر بعض الفِرَق“ (یعنی ہم ۔۔۔بعض فرقوں کا ذکر عرض کرتے ہیں)

پھر آگے چل کر بالترتیب اُن بعض فرقوں کا ذکر اِس طرح کرتے ہیں:۔
”فمنھم المرزائیۃونحن نسمیھم الغلامیۃ نسبۃً إلی غلام احمد القادیانی“(اُن میں سے ایک فرقہ مرزائیہ ہےاور ہم نے ان کا نام غلامیہ رکھا ہےغلام احمد قادیانی کی طرف نسبت)
”ومنھم الوہابیۃ الامثالیۃ والخواتمیۃ۔۔۔وھم مقتسمون إلی۔۔۔القاسمیۃ المنسوبۃ إلی قاسم ألنانوتوی“ (دوسرا فرقہ وہابیہ امثالیہ ۔۔۔ اور خواتمیہ۔۔۔ اور وہ کئی قسم ہیں، ایک۔۔۔قاسمیہ قاسم نانوتوی کی طرف منسوب)
”ومنھم الوہابیۃ الکذابیۃ، أتباع رشید أحمد الکنکوہی“ (تیسرا فرقہ وہابیہ کذابیہ،رشید احمد گنگوہی کے پیرو)
”ومنھم الوہابیۃ الشیطانیۃ۔۔۔وھم ایضاً أذناب ذلک المکذب الکنکوہی“ (چوتھا فرقہ وہابیہ شیطانیہ۔۔۔اور یہ بھی اُسی تکذیب خدا کرنے والے گنگوہی کے دُم چھلے ہیں)

آگے چل کر اس چوتھے فرقے میں فخرالمحدثین حضرت مولانا خلیل احمد صاحب انبیٹھویؒ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کو بھی شامل کیا ہے۔

مولوی احمد رضا خان بریلوی نے جن چار فرقوں کا ذکر کیا ہے اُن میں سے اخیر کے تین فرقوں کی نسبت ”اکابر علمائے دیوبند  “ کی طرف کی ہے(دوسرے فرقہ کو حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی طرف اور تیسرے وچوتھے فرقہ کو قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کی طرف منسوب کیا ہے) اس لئے انہی تین فرقوں سے متعلق گفتگو ہوگی۔

اب مولوی احمد رضا خان بریلوی کا جھوٹ ملاحظہ کیجئے!

حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ، قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ دونوں بزرگانِ دین ایک ہی جماعت کے اکابر ہیں، یہ دونوں حضرات ایک ہی مسلک ومشرب کے ہیں،متفق العقائد ہیں۔

چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ رقمطرازہیں :۔
”حضرت شمس الاسلام مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ اور حضرت شمس العلماء مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور جناب مولانا مولوی خلیل احمد صاحب ومولانا مولوی اشرف علی صاحب دامت فیوضہما ۔۔۔ اور دیگر حضرات علمائے دیوبند وسہارنپور وامروہہ ومرادآباد وغیرہ وغیرہ ایک ہی چمنستانِ ہدایت کے گلہائے شگفتہ اور ۔۔۔ باغہائے امداد الٰہی کے یہ جملہ حضرات اَشجار مُثمِرہ اورخاندانِ ولی اللٰہی کے یہ سب نونہال درختہائے مُزہرہ ہیں،طُرُقِ اَسانید حضرت شاہ شیخ عبدالغنی الدہلوی ثم المدنی اور حضرت مولوی احمد علی صاحب قدس اللہ سرہما العزیز ان اکابر کی ذات پاک سے مسلسل الی غیر النہایہ ہیں، اور اَنہارِ برکات طُرُقِ اَربعہ خصوصاً طریقۂ چشتیہ صابریہ قدوسیہ امدادیہ ان کے انفاسِ طیبہ سے جاری لا الی الغایہ ہیں۔
الحاصل یہ جملہ اکابر ایک روح چند قالب اور ایک معنیٰ چند الفاظ ہیں، اِن کے خیالات وعقائد واعمال ایک ہی ہیں، ان کے معتقدین، مریدین، تلامیذ سب ایک خیال وایک عقائد ہیں،اوقات ان کے اعمالِ صالحہ اور مرضِیاتِ نبویہ سے معمور ہیں، نہ ان میں مختلف فرقے ہیں ، اور نہ ان کی مخالف رائیں“ ۔(الشہاب الثاقب صفحہ ۲۳)

لہٰذا مولوی احمد رضا خان بریلوی کا اِن متفق العقائد بزرگانِ دین کو فرقوں میں بانٹنا صریح جھوٹ ہے۔