Showing posts with label اہل سنت و جماعت تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں. Show all posts
Showing posts with label اہل سنت و جماعت تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں. Show all posts

Saturday, 2 May 2020

اہل سنت و جماعت تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں

اہل سنت و جماعت تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں

ان غالی غیر مقلدین کا عجیب طریقہ ہے کہ تمام ذخیرہ حدیث فی الباب سے ایک حدیث لے لیتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش کے مطابق ہو اور اُس کے خلاف خواہ کس قدر احادیث ہوں بس ایک وہی حدیث پیش کئے جاتے ہیں اور اپنے مخالفوں کو مخالفِ حدیث کہے جاتے ہیں۔حضرت قاری عبدالرحمن ان غُلاۃ کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ یہ بیشک عامل بالحدیث ہیں لیکن الف لام الحدیث میں عوض میں مضاف کے ہے اور وہ مضاف الیہ نفس ہے یعنی عامل بالحدیث النفس تو واقعی یہ لوگ حدیث نفس کے عامل ہیں حدیثِ رسولﷺ پر عامل نہیں۔ یہ لوگ اپنے نفس کے مطابق احادیث تلاش کر لیا کرتے ہیں جیسے کسی کی حکایت مشہور ہے کہ اُس سے پوچھا گیا کہ تمہیں قرآن کا کونسا حکم سب سے زیادہ پسند ہے، کہا ربنا انزل علینا مائدہ من السماء اسی طرح انہوں نے بھی تراویح کی تمام احادیث سے صرف آٹھ والی حدیث پسند کی اور وتر کی تمام حدیثوں سے ایک وتر والی حدیث پسند کی۔ تمام رات تراویح پڑھنا جو صحیح حدیث سے ثابت ہے اس سنت کو تو کبھی ادا نہیں کیا لیکن سنت فجر کے بعد سونے کی سنت پر خوب زور ہے سبحان اللہ کیا معیار ہے۔ایک حدیث کو مان کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قول و فعلِ رسول یہی ہے باقی تمام ذخیرہ حدیث کو خاطر میں نہیں لاتے اور ان کے اس سبق کے رٹنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے سلف صالحین کے اعمال کو خلافِ حدیث ظاہر کر کے اُن کی تقلید سے منحرف کریں اور اپنی تقلید کا پھندا اُن کے گلے میں پیوست کر دیں قاتلھم اللّٰہ انی یوفکون۔ اس مسئلے میں بھی یہ حنفیہ کو مخالفِ حدیث کہتے ہیں اور اپنے آپ کو عامل بالحدیث حالانکہ نہ یہ آٹھ والی روایات کو مانتے ہیں نہ بیس والی کو کیونکہ حدیث عائشہ تہجد کے متعلق ہے کہ رسول پاکﷺ رمضان غیر رمضان میں گیارہ رکعت تہجد پڑھتے تھے لیکن غیر مقلد رمضان کے مبارک مہینہ میں تہجد بھی نہیں پڑھتے بلکہ جو غیر مقلد غیر رمضان میں تہجد پڑھتے ہیں وہ بھی رمضان میں چھوڑ بیٹھتے ہیں اور دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں۔اہل سنت رمضان اور غیر رمضان میں ٨ رکعت تہجد اور تین وتر پڑھتے ہیں غرضیکہ حنفی تو حدیثِ عائشہ پر پورا عمل کرتے ہیں لیکن غیر مقلد نہ تہجد کے بارے میں اس پر عامل ہیں نہ وتر کے بارے میں کیونکہ غیر مقلد جتنی دلیلیں آٹھ تراویح پر لاتے ہیں ہر ایک میں تین وتر کا ذکر ہے اور غیر مقلد ایک وتر پڑھتے ہیں۔ حدیثِ عائشہ اور حدیثِ جابر میں بھی تین وتر کا ذکر ہے اور حضرت فاروق اعظم کے حکم میں بھی تین رکعت وتر مذکور ہیں ، نہ تو غیر مقلدوں نے حضرت عائشہ کی اس حدیث پر عمل کیا اور نہ حضرت عائشہ کی اُن روایتوں پر عمل کیا جن کو میں شروع میں نقل کر چکا ہوں کہ رسول پاکﷺ رمضان المبارک میں غیر رمضان سے زیادہ کوشش اور محنت فرماتے تھے، زیادہ شب بیداری کرتے تھے اور زیادہ نماز پڑھتے تھے بلکہ غیر مقلد تو زیادتی سے منع کر کے کھلم کھلا ان حدیثوں کی مخالفت کرتے ہیں نہ تو ان تینوں بزرگوں یعنی حضر ت عائشہ ، حضرت جابر، حضرت عمر کی مذکورہ روایات پر غیر مقلد ین کا عمل ہے اور نہ ان تینوں کے اپنے عمل کو مانتے ہیں کیونکہ حضرت عائشہ، حضرت جابر،حضر ت عمر تینوں کے سامنے بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھیں ان تینوں میں سے کسی ایک نے بھی بیس رکعت تراویح سے منع نہ فرمایا بلکہ خود اُن کے ساتھ شامل ہو گئے اور کوئی غیر مقلد یہ ثابت نہیں کر سکتاکہ یہ تینوں آٹھ رکعت تراویح پڑھتے تھے۔جب ان تینوں میں سے کسی نے بیس رکعت کا انکار نہ کیا اور نہ منع فرمایا تو غیر مقلد کس دلیل سے بیس رکعت سے منع کرتے ہیں۔غرض نہ ان تینوں کی روایت کو مانتے ہیں اور نہ عمل کو ا س کے برخلاف اہل سنت و جماعت تمام احادیث کو مانتے اور عمل کرتے ہیں۔ حضرت جابر کی آٹھ رکعت والی روایت اگرچہ صحیح نہیں ہے اس لیے ذہبی نے میزان الاعتدال میں اُسے منکر روایات میں ذکر کیا ہے اور جس امرِ فاروقی کو غیر مقلد پیش کرتے ہیں وہ مضطرب ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اسی لیے علامہ ابن عبد البر نے اس کو وہم قرار دیا ہے نیز یہ صحیح روایات اور عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہے تاہم اگر بفرض محال آٹھ رکعت پر اگر کوئی لُولی لنگڑی روایت ہو پھر بھی وہ ہم کو مضر نہیں اور نہ غیر مقلد ین کو مفید ہے کیونکہ بیس میں آٹھ بھی شامل ہیں۔اور بیس پڑھنے والا بیس والی روایات پر بھی عمل کر رہا ہے اور آٹھ والی روایات پر بھی کیونکہ آ ٹھ رکعت پر حصر کی کوئی دلیل نہیں ہے اور کسی ایک ضعیف روایت میں بھی یہ نہیں کہ آٹھ سے زیادہ منع ہیں تو بیس رکعت پڑھنا آٹھ والی کے مخالف کیسے ہوا بلکہ دونوں پر عمل ہوا۔

مثال اول : بعض روایات میں ہے کہ رسول پاکﷺ ہر روز ستر مرتبہ استغفار پڑھتے تھے اور بعض میں سو مرتبہ کا ذکر ہے۔اب اگر کوئی شخص سومرتبہ استغفار پڑھے تو کون عاقل کہے گا کہ اس نے ستر والی روا یت کی مخالفت کی ہے بلکہ حقیقت می