سینے پہ ہاتھ باندھنا غیر مقلدین کا مشہور مسئلہ ہے لیکن اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے غیر مقلدین کتنا جھوٹ بولتے ہیں یہ آپ کے سامنے پیشِ خدمت ہے۔
غیر مقلدین کے ایک عالم داؤد ارشد نے بریلوی عالم احمد یار نعیمی کی ایک کتاب جاءالحق کے جواب میں کتاب لکھی جس کا نام دین الحق بجواب جاء الحق ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ مشہور غیر مقلد یحیی گوندلوی نے لکھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف موجودہ دور کے مشہور غیر مقلد علامہ مبشر احمد ربانی نے بھی کی ہے۔
اس کتاب میں سینے پہ ہاتھ باندھنے کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے داؤد ارشد صاحب نے کئی جھوٹ بولے۔
انہوں نے ایک روایت پیش کی حضرت ھلب رضی اللہ عنہ سے اور لکھتے ہیں کہ ''رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ،ويَضَعُ یدهُ عَلَى صَدْرِهِ۔ مسند امام احمد،ج5، صفحہ 226۔" میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ نماز کے اختتام پہ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے اور نماز میں سینہ پہ ہاتھ رکھتے تھے۔ ( دین الحق بجواب جاءالحق، مصنف داؤد ارشد، صفحہ 217)
داؤد صاحب نے حوالہ دیا مسند امام احمد کا لیکن انہوں نےخیانت کرتے ہوئے روایت کے الفاظ تبدیل کر دئیے۔
مسند امام احمد میں حضرت ھلب رضی اللہ کی یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے جن الفاظ کے ساتھ داؤد صاحب نے بیان کی ہے۔ مسند امام احمد کی روایت یہ ہے کہ"حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي سِمَاكٌ , عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ , وَرَأَيْتُهُ قَالَ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ " , وَصَفَّ يَحْيَى : الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ "۔ ( مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ھلب طائی رضی اللہ عنہ)
سب سے پہلے تو اس روایت میں نماز کے الفاظ ہی نہیں ہیں جبکہ داؤد صاحب نے ترجمہ کرتے ہوئے اپنی مرضی سے اس میں نماز کے الفاظ شامل کر دئیے اس کے علاوہ داؤد صاحب نے اپنا مؤقف ثابت کرنے کے لئے خیانت یہ کی کہ اس روایت سے (وَرَأَيْتُهُ قَالَ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ " , وَصَفَّ يَحْيَى : الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ ") یہ الفاظ نکال دئیے اور اس کے علاوہ لفظ "هَذِهِ" کو "یدهُ" سے تبدیل کر دیا،اس طرح یہ پوری روایت ہی تبدیل ہو گئی۔
اور یہ خیانت صرف یہاں تک ہی نہیں کی بلکہ اس روایت کو پیش کرتے ہوئے داؤد صاحب نے سند بیان ہی نہیں کی اور روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بھی امام ترمذی اور علامہ نیموی حنفی رح کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔
داؤد صاحب لکھتے ہیں کہ '' امام ترمذی اور علامہ نیموی حنفی نے اس کی سند کو حسن تسلیم کیا ہے" ( دین الحق بجواب جاء الحق، صفحہ 218)
سب سے پہلے تو ترمذی میں ھلب رضی اللہ سے ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت ہی نہیں ہے جن الفاظ کے ساتھ داؤد صاحب نے اپنی کتاب دین الحق میں پیش کی ہے اور اس کے علاوہ امام ترمذی نے ھلب رضی اللہ کی جس حدیث کو حسن کہا ہے اس کی سند بھی مختلف ہے۔ تو داؤد صاحب نے یہاں امام ترمذی کی طرف جھوٹ کی نسبت کی۔
اس کے علاوہ علامہ نیموی کا حوالہ دیا کہ انہوں نے آثار السنن میں اس روایت کو حسن تسلیم کیا ہے لیکن یہاں بھی داؤد صاحب نے غیر مقلدین کی روش پہ چلتے ہوئے خیانت کر دی۔ داؤد صاحب نے علامہ نیموی کا مکمل حوالہ پیش ہی نہیں کیا بلکہ آدھا حوالہ پیش کیا ہے اور باقی آدھا حوالہ چھوڑ دیا کیونکہ اگر اس حوالے کو مکمل پیش کرتے تو اس روایت کی حقیقت سب کے سامنے آ جاتی۔
علامہ نیموی حنفیؒ نے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان ہی نہیں کی جن الفاظ کے ساتھ داؤد صاحب نے پیش کی۔
علامہ نیموی نے یہ روایت مسند احمد سے پیش کی اور مسند احمد کی روایت کی سند کو حسن تسلیم کیا لیکن اس کے ساتھ آگے وضاحت کی کہ مسند احمد کی اس روایت کی سند میں ''عَلَى صَدْرِهِ " کے الفاظ غیر محفوظ ہیں۔
مطلب یہ کہ اس روایت کی سند حسن ہے لیکن اس روایت میں "سینے پہ ہاتھ باندھنے کے الفاظ'' غیر محفوظ ہیں۔ (آثار السنن،علامہ نیموی، صفحہ 107،108)
لیکن داؤد ارشد صاحب نے خیانت کرتے ہوئے صرف اتنا بیان کیا کہ اس روایت کی سند حسن ہے اور آگے کا حوالہ چھوڑ دیا۔
غیر مقلدین کے مولانا داؤد ارشد صاحب مراسیل ابو داؤد سے ایک روایت بیان کر کے لکھتے ہیں کہ
"اس کی سند امام طاؤس تک بلکل صحیح ہے'' (دین الحق بجواب جاء الحق، جلد 1 ، صفحہ 218)
یہ داؤد ارشد صاحب کا جھوٹ ہے کہ اس کی سند صحیح ہے کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اور علامہ نیموی نے اس کو ضعیف بیان کرنے کے بعد اس کی سند میں ایک راوی کو بھی ضعیف بیان کیا ہے۔
علامہ نیموی یہ روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اسے ابو داؤد نے اپنی مراسیل میں بیان کیا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی سند میں سلیمان بن موسیٰ حدیث میں نرمی برتنے والے ہیں اور امام بخاری رح کے نزدیک منکر الحدیث، اور امام نسائی نے فرمایا کہ قوی نہیں ہیں اور التقریب میں اس کو صدوق اور فقیہ کہنے کے ساتھ ساتھ حدیث میں نرم اور آخر عمر میں مخلوط الکلام فرمایا ہے“ ( آثار السنن، صفحہ 108، علامہ نیموی)۔
اس کے علاوہ اس روایت کے راوی سلیمان بن موسیٰ کے بارے میں امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ” حدیث میں قوی نہیں ہیں“ ( کتاب الضعفاء، امام بخاری،صفحہ 186)۔
جس روایت کی سند ضعیف ہے اس روایت کو داؤد ارشد صاحب صحیح کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مولانا احمد یار نعیمی صاحب نے علامہ ابن حزم کی کتاب سے ایک روایت حضرت انس رضی اللہ کی بیان کی کہ داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پہ ناف کے نیچے رکھنا نبوت کے اخلاق میں سے ہے۔ اس روایت پہ اعتراض کرتے ہوئے مولانا داؤد راشد صاحب لکھتے ہیں کہ
”بلا شبہ امام حزم نے اسے بیان کیا ہے مگر اس کی سند بیان نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود امام حزم نے صراحت کی ہے کہ اس کی سند نہیں ہے یہ بلا سند ہی ہے“ ( دین الحق بجواب جاء الحق، جلد 1 صفحہ 226)
اس حوالے میں داؤد راشد صاحب نے علامہ ابن حزم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب میں یہ روایت بلا سند بیان کی ہے لیکن علامہ ابن حزم نے یہ صراحت نہیں کی کہ اس روایت کی سند نہیں ہے۔
علامہ داؤد صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ ” علامہ ابن حزم نے صراحت کی ہے کہ اس کی سند نہیں ہے اور یہ بلا سند ہے۔“
یہ داؤد ارشد صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔
میں نے آپ کے سامنے غیر مقلدین کے صرف ایک روایت کے بارے میں یہ جھوٹ بیان کئے تاکہ لوگوں کو ان کی حقیقت پتہ چلے کہ یہ کس طرح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔