Showing posts with label غیرمقلدین کتنا جھوٹ بولتے ہیں یہ آپ کے سامنے پیشِ خدمت ہے. Show all posts
Showing posts with label غیرمقلدین کتنا جھوٹ بولتے ہیں یہ آپ کے سامنے پیشِ خدمت ہے. Show all posts

Saturday, 16 May 2020

غير مقلدوں پاس نماز ميں سينے پر ہاتھ باندھنے کی نہ کوئی صحيح حديث ہے اور نہ ہی خيرالقرون

غير مقلدوں پاس نماز ميں سينے پر ہاتھ باندھنے کی نہ کوئی صحيح حديث ہے اور نہ ہی خيرالقرون (يعنی صحابہ تابعين تبع تابعين) کا عمل نماز ميں سينے پر ہاتھ باندھنے کا موجود ہيں۔ صرف اورصرف جھوٹ ہيں۔
قرآن:الالعنت اﷲ علی الکاذبین
سنو اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔
جھوٹ نمبر1:سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایات....بخاری ومسلم میں بکثرت ہیں۔( فتاویٰ ثنائیہ جلد1 ص443)
جھوٹ نمبر2: سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت صحیح ہے۔(بلوغ المرام فتاویٰ ثنائیہ جلد1 ۔ص593)
جھوٹ نمبر3: سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح بتلایا ہے۔ ( ثنائیہ جلد1ص 457 نیز دلائل محمدی ص 110 حصہ دوم)
جھوٹ نمبر4: امام احمد نے قبیصہ بن ہلب سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سینے پر ہاتھ باندھاکرتے تھے۔
یہ حدیث حسن ہے۔ صحیح بخاری میں بھی ایک ایسی ہی حدیث آتی ہے۔واللہ اعلم ثنائيہ جلد 1ص457

جھوٹ نمبر5: مسلم کی سند ابن خزیمہ کے متن کے ساتھ ملادی۔ملاحظہ ہو۔( فتاویٰ ثنائیہ جلد1 ص444)
اصل سند ابن خزیمہ جلد1 ص 243 پر ملاحظہ کریں۔ مسلم کی سند جلد1 ص 172 پر ملاحظہ کریں۔

زبیر علی زئی نے شفیق الرحمان کی کتاب نماز نبوی کے پرانے ایڈیشن میں مقدمہ میں یہ بیان کیا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے۔



زبیر علی زئی نے شفیق الرحمان کی کتاب نماز نبوی کے پرانے ایڈیشن میں مقدمہ میں یہ بیان کیا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے۔
( مقدمہ نماز نبوی، پران ایڈیشن صفحہ 16)
اس کتاب میں شفیق الرحمٰن نے سینہ پہ ہاتھ باندھنے کے لئے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ کی صحیح ابن خزیمہ والی حدیث پیش کی کہ نبی کریم ﷺ سینہ پہ ہاتھ باندھتے تھے۔
(نماز نبوی، شفیق الرحمٰن، صفحہ 117، مقدمہ زبیر علی زئی)

اسی کتاب نماز نبوی کا جدید ایڈیشن غیر مقلدین کے متکبہ دار السلام سے شائع ہوا اور اس کا مقدمہ بھی زبیر علی زئی کا ہے جس نے یہاں بھی کہا ہے کہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب میں ضعیف حدیث نہیں ہے۔
( مقدمہ نماز نبوی، صفحہ 38)
لیکن جدید ایڈیشن میں سینہ پہ ہاتھ باندھنے والے موضوع میں سے انہوں نے حضرت وائل بن حجر کی صحیح ابن خزیمہ والی وہ روایت نکال دی جو انہوں نے پرانے ایڈیشن میں شائع کی تھی۔
( نماز نبوی، جدید ایڈیشن، مکتبہ دار السلام، صفحہ 184)

اس طرح حضرت وائل بن حجر کی سینہ پہ ہاتھ باندھنے والی روایت کو اپنی کتاب سے نکال دینا اور مقدمہ میں زبیر زئی کا یہ تسلیم کرنا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے اس بات کی دلیل ہے کہ سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی یہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو غیر مقلد اس روایت کو جدید ایڈیشن سے نہ نکالتے لیکن غیر مقلدین کا اس روایت کو جدید ایڈیشن سے نکالنا اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔

post-1668-0-93130300-1366741188.jpg
post-1668-0-58494500-1366741213.jpg

غیر مقلدین نے ہمیشہ کی طرح یہاں بھی لوگوں کو دھوکہ دیا اور آدھے حوالے پیش کئے اور نیچے کتاب کا حاشیہ نہیں دیا۔

  1. post-1668-0-82637700-1367581906_thumb.jpg

    غیر مقلدین نے ہمیشہ کی طرح یہاں بھی لوگوں کو دھوکہ دیا اور آدھے حوالے پیش کئے اور نیچے کتاب کا حاشیہ نہیں دیا۔

    حاشیہ میں مکمل وضاحت کی گئی ہے کہ امام ابو حنیفہ رح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو ترجیح دیتے تھے اور ان کی حدیث پہ فتوی دیتے تھے۔

    اصول السرخصی میں (١ / ٣٤١) ہے: جو قیاس کے موافق ہے حضرت ابوہریرہ کی روایت میں سے، تو اس پر عمل ہے (امت کا تعامل ہے)، اور نہیں ہے وہ خلاف_قیاس، تو جب امت نے اسے قبول کیا، پس اس پر عمل جاری ہوا، اور قیاس_صحیح شرعاً مقدم ا اس روایت پر جس میں راۓ کا دروازه بند ہوتا ہے، اور فرمایا فخر الاسلام نے : خبر (حدیث) کا راوی فقیہ ہو یا غیر فقیہ ہو لیکن روایت کے جاننے والا ہو، یا غیر فقیہ ہو نہ جانتا ایک یا دو حدیثوں کو...تو فقیہ کی خبر مقبول ہوگی واجب ہوگا عمل اس کا اگرچہ خلاف_قیاس ہو، اور خبر غیر فقیہ کی جو معروف (و مشہور) ہو روایت کرنے میں وہ اسی طرح مقبول ہے، ترک کیا جاۓ گا اس (روایت) سے قیاس، سواۓ اس کے کہ اگر ہو وہ خلاف سب کے قیاس کے، اور وہ بند کرتا ہے دروازہ راۓ کلّی (سب کی راۓ) کا، اور یہ (بات) اختیار کردہ ہے امام عیسیٰ بن ابان، اور قاضی ابی زید کا، اور گئے اسی (راۓ کی) طرف شیخ ابو الحسن الکرخی جیسے (گئے) پہلے. اور بعض نے کہا اور وہ بحث کے عمل سے روکنا ((المصراة)) والی حضرت ابوھریرہ کی خبر (حدیث) میں : کہ حضرت ابوہریرہ غیر فقیہ ہیں ، اور حدیث کا مخالف ہونا اس پورے قیاس کو، اور ان کے قول میں (یہ بھی ہے کہ) : "ابوھریرہ غیر فقیہ ہیں"، دیکھتا ہے ظاہر (الفاظ) کو، وہ فقیہ مجتہد ہیں ان کی فقاہت میں کوئی شک نہیں، تحقیق وہ فتویٰ دیا کرتے تھے نبی صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی، اور تھے ٹکراتے حضرت ابن عباس اور ان کے فتویٰ، جیسا کہ آئی ہے اس (بارے) میں صحیح خبر کہ خلاف کیا حضرت ابن عباس نے حاملہ کی عدت (کے بارے) میں جس کا شوہر وفات پاگیا ہو. وہاں حکم دیا ابن عباس نے کہ اس کی عدت دوعدتوں میں سے زیادہ عدت ہوگی (یعنی ولادت یا عدت کے چارماہ دس دنوں میں سے جس میں زیادہ دن ہوں گے وہی اس کی عدت ہے)، اور اس کا حکم وہ وضع حمل سے کرتے.
    اور ابو حنیفہ رحمہ الله عمل کرتے حدیث_ابو ہریرہ پر : "جو شخص کھالے (روزہ کی حالت میں) بھول کر وہ پورا کرے اپنا روزہ " اس کے ساتھ قیاس ان کے نزدیک افطار کرنا (کھانا) تھا، پس ترک کیا قیاس کو ابو ہریرہ کی خبر کے سبب.
    اور (مزید) دیکھئے جو لکھا ہے اس کو علامہ محمد بخیت المطيعي اپنے حاشیے میں (سلم الوصول) ٣ / ٧٦٧ ، 
    ٧٦٩.

    Usoole Sarkhasi 1/341 me hai:
    Jo Qiyas se muwafiqat kare Abu Huraira razi Allahu anhu ki riwayaat me se, to wo Mamool bih hai, aur Jo Qiyas ke Khilaaf ho, pas agar Ummat ne usey Talaqqi bil Qabool diya to wo (bhi) Mamool bih hai, warna Qiyas e Saheeh Shar’an Muqaddam hai unki Riwayat par jis me raai ka darwaza band hota hai Aur Fakhrul Islam ne farmaya: Hadees ka rawi Cahahe wo Faqeeh ho ya Ghair Faqeeh ho lekin Riwayat ke Zarye jana jata ho, Ya Ghair Faqeeh ho nahi jana jata magar ek Ya 2 Ahadis se… to faqeeh ki Khabar Maqbool hai us par Amal karna Wajib hai Agarche ke Wo Qiyas ke khilaf ho . aur Aise Ghair Faqeeh ki Hadees jo Riwayat ke Zarye Maroof hon Inki Riwayat bhi maqbool hogi aur uski wajeh se Qiyas chorda jayega, Illa ye ke jab Khilaaf ho tamam Qiyason ke. Aur Raai ka baab Band hota hai poora ka poora aur isko Ikhtyar kiya hai Imam ‘IISA BIN ABAAN, QAZI ABU ZAID ne aur Shaikh Abul Hasan Karkhi rah bhi pehle isi rai ki taraf gaye. Aur Baazon ne kaha hai aur wo rokti hai bahes ko Hazrat Abu Huraria razi Allahu anhu ki MUSARRAT wali Riwayat me : “ke Abu Huraira razi Allahu anhu GHAIR FAQEEH the”. Aur Hadees Qiyason ke Mukhalif hai BI ASARRIHA . Aur unke Qaul “ Abu Huraira razi Allahu anhu GHAIR FAQEEH hai” Zaahiran Nazar hai kyu ke Woh Razi Allah anhu FAQEEH aur MUJTAHID the unki FAQAHAT me koi Shak nahi, Chunanche Wo Nabi sallallahu alaihi wasallam ke zamane me aur unke baad FATWA diya karte the, aur woh Ibne Abbas Razi Allahu anhu aur unke Fatwe se Muariz hote. jaisa ke Hadees e Saheeh me aya hai ke unho ne Ibne Abbas razi Allahu nahu se Ikhtelaaf kiya Mutawaffa Shaqs ki Hamela Aurat ki IDDAT ke mamle me. Wahan Ibne Abbas Razi Allahu anhu ne hukum diya hai ke uski Iddat 2 Iddaton me se Ziada wali hogi(yani Wiladatya Iddat ke 4 Mahine dus dinon me se jisme Ziada Din din honge wahi uski iddat hai) Aur iska Hukum Wo Waz’e hamal karte.

    Aur Abu haneefa Rahmatullahi alaih ne Abu Huraira Razi Allahu anhu ki Hadees par amal kiya:” Jo Bhool kar khaana khale use chahye ke apna roza Mukammal kare” Is baat ke bawajood ke Qiyas kehta hai ke Wo shaqs Iftar karle(yani Roza tod de), To unho ne Abu Huraira Razi Allahu anhu ki Hadees par Qiyas ko chord diya.

    post-1668-0-48567900-1367582128_thumb.jpg

سینے پہ ہاتھ باندھنا غیر مقلدین کے جھوٹ

سینے پہ ہاتھ باندھنا غیر مقلدین کا مشہور مسئلہ ہے لیکن اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے غیر مقلدین کتنا جھوٹ بولتے ہیں یہ آپ کے سامنے پیشِ خدمت ہے۔

غیر مقلدین کے ایک عالم داؤد ارشد نے بریلوی عالم احمد یار نعیمی کی ایک کتاب جاءالحق کے جواب میں کتاب لکھی جس کا نام دین الحق بجواب جاء الحق ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ مشہور غیر مقلد یحیی گوندلوی نے لکھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف موجودہ دور کے مشہور غیر مقلد علامہ مبشر احمد ربانی نے بھی کی ہے۔

اس کتاب میں سینے پہ ہاتھ باندھنے کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے داؤد ارشد صاحب نے کئی جھوٹ بولے۔
انہوں نے ایک روایت پیش کی حضرت ھلب رضی اللہ عنہ سے اور لکھتے ہیں کہ ''رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ،ويَضَعُ یدهُ عَلَى صَدْرِهِ۔ مسند امام احمد،ج5، صفحہ 226۔" میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ نماز کے اختتام پہ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے اور نماز میں سینہ پہ ہاتھ رکھتے تھے۔ ( دین الحق بجواب جاءالحق، مصنف داؤد ارشد، صفحہ 217)
داؤد صاحب نے حوالہ دیا مسند امام احمد کا لیکن انہوں نےخیانت کرتے ہوئے روایت کے الفاظ تبدیل کر دئیے۔

مسند امام احمد میں حضرت ھلب رضی اللہ کی یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے جن الفاظ کے ساتھ داؤد صاحب نے بیان کی ہے۔ مسند امام احمد کی روایت یہ ہے کہ"حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي سِمَاكٌ , عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ , وَرَأَيْتُهُ قَالَ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ " , وَصَفَّ يَحْيَى : الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ "۔ ( مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ھلب طائی رضی اللہ عنہ)
سب سے پہلے تو اس روایت میں نماز کے الفاظ ہی نہیں ہیں جبکہ داؤد صاحب نے ترجمہ کرتے ہوئے اپنی مرضی سے اس میں نماز کے الفاظ شامل کر دئیے اس کے علاوہ داؤد صاحب نے اپنا مؤقف ثابت کرنے کے لئے خیانت یہ کی کہ اس روایت سے (وَرَأَيْتُهُ قَالَ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ " , وَصَفَّ يَحْيَى : الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ ") یہ الفاظ نکال دئیے اور اس کے علاوہ لفظ "هَذِهِ" کو "یدهُ" سے تبدیل کر دیا،اس طرح یہ پوری روایت ہی تبدیل ہو گئی۔

اور یہ خیانت صرف یہاں تک ہی نہیں کی بلکہ اس روایت کو پیش کرتے ہوئے داؤد صاحب نے سند بیان ہی نہیں کی اور روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بھی امام ترمذی اور علامہ نیموی حنفی رح کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔

داؤد صاحب لکھتے ہیں کہ '' امام ترمذی اور علامہ نیموی حنفی نے اس کی سند کو حسن تسلیم کیا ہے" ( دین الحق بجواب جاء الحق، صفحہ 218)
سب سے پہلے تو ترمذی میں ھلب رضی اللہ سے ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت ہی نہیں ہے جن الفاظ کے ساتھ داؤد صاحب نے اپنی کتاب دین الحق میں پیش کی ہے اور اس کے علاوہ امام ترمذی نے ھلب رضی اللہ کی جس حدیث کو حسن کہا ہے اس کی سند بھی مختلف ہے۔ تو داؤد صاحب نے یہاں امام ترمذی کی طرف جھوٹ کی نسبت کی۔

اس کے علاوہ علامہ نیموی کا حوالہ دیا کہ انہوں نے آثار السنن میں اس روایت کو حسن تسلیم کیا ہے لیکن یہاں بھی داؤد صاحب نے غیر مقلدین کی روش پہ چلتے ہوئے خیانت کر دی۔ داؤد صاحب نے علامہ نیموی کا مکمل حوالہ پیش ہی نہیں کیا بلکہ آدھا حوالہ پیش کیا ہے اور باقی آدھا حوالہ چھوڑ دیا کیونکہ اگر اس حوالے کو مکمل پیش کرتے تو اس روایت کی حقیقت سب کے سامنے آ جاتی۔

علامہ نیموی حنفیؒ نے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان ہی نہیں کی جن الفاظ کے ساتھ داؤد صاحب نے پیش کی۔
علامہ نیموی نے یہ روایت مسند احمد سے پیش کی اور مسند احمد کی روایت کی سند کو حسن تسلیم کیا لیکن اس کے ساتھ آگے وضاحت کی کہ مسند احمد کی اس روایت کی سند میں ''عَلَى صَدْرِهِ " کے الفاظ غیر محفوظ ہیں۔
مطلب یہ کہ اس روایت کی سند حسن ہے لیکن اس روایت میں "سینے پہ ہاتھ باندھنے کے الفاظ'' غیر محفوظ ہیں۔ (آثار السنن،علامہ نیموی، صفحہ 107،108)
لیکن داؤد ارشد صاحب نے خیانت کرتے ہوئے صرف اتنا بیان کیا کہ اس روایت کی سند حسن ہے اور آگے کا حوالہ چھوڑ دیا۔

غیر مقلدین کے مولانا داؤد ارشد صاحب مراسیل ابو داؤد سے ایک روایت بیان کر کے لکھتے ہیں کہ
"اس کی سند امام طاؤس تک بلکل صحیح ہے'' (دین الحق بجواب جاء الحق، جلد 1 ، صفحہ 218)

یہ داؤد ارشد صاحب کا جھوٹ ہے کہ اس کی سند صحیح ہے کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اور علامہ نیموی نے اس کو ضعیف بیان کرنے کے بعد اس کی سند میں ایک راوی کو بھی ضعیف بیان کیا ہے۔
علامہ نیموی یہ روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اسے ابو داؤد نے اپنی مراسیل میں بیان کیا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی سند میں سلیمان بن موسیٰ حدیث میں نرمی برتنے والے ہیں اور امام بخاری رح کے نزدیک منکر الحدیث، اور امام نسائی نے فرمایا کہ قوی نہیں ہیں اور التقریب میں اس کو صدوق اور فقیہ کہنے کے ساتھ ساتھ حدیث میں نرم اور آخر عمر میں مخلوط الکلام فرمایا ہے“ ( آثار السنن، صفحہ 108، علامہ نیموی)۔
اس کے علاوہ اس روایت کے راوی سلیمان بن موسیٰ کے بارے میں امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ” حدیث میں قوی نہیں ہیں“ ( کتاب الضعفاء، امام بخاری،صفحہ 186)۔
جس روایت کی سند ضعیف ہے اس روایت کو داؤد ارشد صاحب صحیح کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مولانا احمد یار نعیمی صاحب نے علامہ ابن حزم کی کتاب سے ایک روایت حضرت انس رضی اللہ کی بیان کی کہ داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پہ ناف کے نیچے رکھنا نبوت کے اخلاق میں سے ہے۔ اس روایت پہ اعتراض کرتے ہوئے مولانا داؤد راشد صاحب لکھتے ہیں کہ
”بلا شبہ امام حزم نے اسے بیان کیا ہے مگر اس کی سند بیان نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود امام حزم نے صراحت کی ہے کہ اس کی سند نہیں ہے یہ بلا سند ہی ہے“ ( دین الحق بجواب جاء الحق، جلد 1 صفحہ 226)

اس حوالے میں داؤد راشد صاحب نے علامہ ابن حزم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب میں یہ روایت بلا سند بیان کی ہے لیکن علامہ ابن حزم نے یہ صراحت نہیں کی کہ اس روایت کی سند نہیں ہے۔
علامہ داؤد صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ ” علامہ ابن حزم نے صراحت کی ہے کہ اس کی سند نہیں ہے اور یہ بلا سند ہے۔“
یہ داؤد ارشد صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔

میں نے آپ کے سامنے غیر مقلدین کے صرف ایک روایت کے بارے میں یہ  جھوٹ بیان کئے تاکہ لوگوں کو ان کی حقیقت پتہ چلے کہ یہ کس طرح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
post-1668-0-59983900-1367683989_thumb.jpg
post-1668-0-07629800-1367684018_thumb.jpg
post-1668-0-01493900-1367684043_thumb.jpg
post-1668-0-01719300-1367684066_thumb.jpg
post-1668-0-78118300-1367684088_thumb.jpg
post-1668-0-65339300-1367684108_thumb.jpg
post-1668-0-65766500-1367684131_thumb.jpg
post-1668-0-44351100-1367684159_thumb.jpg

سینے پر ہاتھ باندھنا اور غیر مقلدوں کے جھوٹ

(ابو خالد نور گرجاکھی ٖغیر مقلد اور اس کے جھوٹ))))

غیر مقلد لوگوں کو اپنی طرف لانے اور فقہ حنفی سے بدظن کرنے کے لئے ہمیشہ دھوکہ دیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے قرآن اور حدیث کے نام پہ احادیث کی کتابوں کے غلط حوالے پیش کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ عوام کی ان کتابوں تک رسائی نہیں ہے اس لئے عوام ان کے حوالے پڑھ کر یا سن کر یہ سجمھتی ہے کہ ان کا ہر مسئلہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور یہ حدیثوں پہ عمل کرتے ہیں جبکہ یہ بات غلط ہے کیونکہ ان کے اکثر حوالے یا تو ادھورے ہوتے ہیں یا غلط۔

غیر مقلد عالم ابو خالد نور گرجاکھی نے رفع یدین کے موضوع پہ ایک کتاب لکھی جس کا نام '' اثباتِ رفع یدین'' ہے لیکن اس کتاب میں بھی اس نے غیر مقلدین کی روش اختیار کی اور احادیث کی کتابوں کی طرف غلط حوالے منسوب کئے۔
ابو خالد نور گرجاکھی نے اپنی کتاب '' اثبات رفع یدین'' کے صفحہ 28 پہ ایک حدیث حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے بیان کی۔


جیسا کہ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد رفع یدین کو ثابت کرنا تھا لیکن اس نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اس روایت میں الفاظ اپنی طرف سے شامل کئے اور نہ صرف الفاظ شامل کئے بلکہ اس روایت کو حدیث کی 8 کتابوں کی طرف منسوب کیا جن کتابوں میں یہ روایت موجود ہی نہیں ہے
یہاں اس نے ایک تو حدیث کے الفاظ تبدیل کئے دوسرا احادیث کی کتابوں کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔


((اس نے روایت بیان کی کہ ''عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قال قلت لانظرن إلى رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كيف يصلي قال فنظرت إليہ قام فكبر ورفع يديہ حتى حاذتا أذنيہ ثم وضع يده اليمنى علیٰ الیسری علی صدرہ فلما اراد ان یرکع رفع یدیہ مثلہ فلما رفع راسہ من الرکوع رفع یدیہ مثلھا (رواہ احمد) ( اثبات رفع یدین، صفحہ 28)
ترجمہ ''سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ دیکھوں رسول اللہ ﷺ نماز کس طرح پڑھتے ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ جب آپ ﷺ اللہ اکبر کہتے تو رفع یدین کرتے اور سینہ پہ ہاتھ رکھ لیتے تھے پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ فرماتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے۔
بحوالہ ، صحیح مسلم، ابن ماجہ، ابو داؤد، بہیقی، دار قطنی، سنن الدارمی، جز بخاری، مسند احمد، کتاب الام، جز سبکی، مشکوۃ۔)))


اس روایت میں شاید نورگرجاکھی غیر مقلد نے سوچا کہ رفع یدین کے ساتھ ساتھ سینہ پہ ہاتھ باندھنے کا مسئلہ بھی بیان کر دیا جائے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ نبی کریم ﷺ سینہ پہ ہاتھ باندھتے تھے اس لئے اس نے '' علیٰ صدرہ'' یعنی '' سینہ پہ ہاتھ باندھنا'' کے الفاظ اپنی طرف سے ملا لئے۔

دوسر اس نے نیچے احادیث کی مشہور10 کتابوں کے حوالے بھی دے دئیے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ رفع یدین اور سینہ پہ ہاتھ باندھنے کا مسئلہ صحیح مسلم اور باقی احادیث کی کتبس ے ثابت ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ نور گرجاکھی نے یہ روایت بیان کی ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت ان میں سے کسی بھی حدیث کی کتاب میں نہیں ہے۔
بعض کتابوں میں اس روایت میں علیٰ صدرہ کےا لفاظ نہیں ہیں اور کئی کتابوں میں تو یہ حدیث ہی موجود نہیں ہے بلکہ وہاں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی کوئی اور حدیث بیان ہوئی ہے۔



نور گرجاکھی نے جن کتابوں کا حوالہ دیا ان پہ نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ
1۔ صحیح مسلم میں یہ روایت موجود ہی نہیں ہے۔
2۔سنن ابن ماجہ میں '' علیٰ صدرہ'' لے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
3۔سنن الدارمی میں یہ روایت ہی موجود نہیں ہے۔
4۔سنن ابو داؤد میں بھی یہ روایت موجود نہیں ہے۔
5۔ امام بخاری کی کتاب جز بخاری میں اس روایت میں '' علیٰ صدرہ'' کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
6۔سنن کبری بہیقی میں بھی '' علی صدرہ'' کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
7۔سنن دار قطنی میں یہ روایت موجود نہیں لیکن حاشیہ میں حاشیہ لکھنے والے نے یہ روایت بیان کی لیکن اس میں بھی ہاتھ باندھنے کا ذکر ہی نہیں ہے۔
8۔مسند احمد میں بھی '' علی صدرہ'' کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
9۔امام شافعی رح کی کتاب الام میں یہ روایت نہیں ہے لیکن کتاب الام کے محقق نے حاشیہ میں مسند حمیدی سے یہ روایت بیان کی لیکن اس میں بھی ''علی صدرہ'' کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
10۔مشکوۃ المصابیح میں بھی یہ روایت موجود نہیں اور وہاں جو روایت وائل بن حجر رضی اللہ سے موجود ہے اس میں ''علی صدرہ" کے الفاظ نہیں ہیں۔


پس ثابت ہوا کہ نور گرجاکھی نے احادیث کی 10 کتابوں کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔
میں آپ کے سامنے نور گرجاکھی کے ہی بیان کی گئی احادیث کی کتابوں کے صفحات پیش کرتا ہوں جن کتابوں کا نور گرجاکھی نے حوالہ دیا ہے کہ یہ روایت ان کتابوں میں موجود ہے۔


قارئیں خود فیصلہ کر لیں کہ نور گرجاکھی نے کتنا بڑا جھوٹ ان احادیث کی کتابوں کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حدیث میں الفاظ کی ملاوٹ بھی کی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر مقلد کہہ دے کہ '' علیٰ صدرہ'' کا لفظ غلطی سے کتابت کی وجہ سے پرنٹ ہو گیا ہے تو ان غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ اگر '' علیٰ صدرہ'' کا لفظ غلطی سے پرنٹ ہوا ہے تو تمہارے اس عالم نے روایت میں اس لفظ کا ترجمہ '' سینہ پہ ہاتھ باندھا'' کیسے بیان کر دیا؟؟؟؟


نور گرجاکھی نے لفظ بیان کرنے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی بیان کیا اور یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ روایت میں یہ لفظ اس غیر مقلد نے خود ملائے ہیں۔
اگر کسی غیر مقلد کو ان کتابوں میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ملے تو برائے مہربانی اس کا اصل صفحہ کا سکین لگا دے تا کہ مجھے اور سب کو پتہ چل سکے کہ یہ روایت موجود ہے۔

غلام خاتم النبیین ﷺ
محسن اقبال
post-1668-0-13807300-1367684672_thumb.jpg
post-1668-0-34251200-1367684696_thumb.jpg
post-1668-0-37637400-1367684716_thumb.jpg
post-1668-0-83632200-1367684748_thumb.jpg
post-1668-0-10561800-1367684770_thumb.jpg
post-1668-0-39318700-1367684792_thumb.jpg
post-1668-0-93222100-1367684812_thumb.jpg
post-1668-0-04118100-1367684831_thumb.jpg
post-1668-0-92655000-1367684856_thumb.jpg
post-1668-0-59981700-1367684880_thumb.jpg
post-1668-0-78610500-1367684897_thumb.jpg