Showing posts with label اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ. Show all posts
Showing posts with label اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ. Show all posts

Tuesday, 19 January 2021

عثمان بن محمد القری پر غیرثابت جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ "


 اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ

_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )

قسط (۴) " عثمان بن محمد القری پر غیرثابت جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ "


اگر اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع الیدین کی حدیث کی سند میں عثمان بن محمد القری ہی تسلیم کرلیا جائے تب بھی وہ حدیث صحیح کی صحیح ہی رہتی ہے کیونکہ عثمان بن محمح القری بھی ایک ثقہ راوی ہے اور اس کی توثیق ہم پچھلی قسط میں نقل کرچکے ہیں اور اس پر جرح کا رد بھی لکھ چکے ہیں الحمدللہ۔ اب اس غیرثابت جرح پر رد کے سلسلے میں مزید کچھ باتیں عرض کررہا ہوں بغور ملاحظہ فرمائیں۔


پچھلی قسط میں احقر عرض کرچکا ہے کہ القری پر امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی نقل کردہ جرح کا مدار مجہول العین ، مجہول الاسم اور غیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی نے اخبرنی بذاک تو فرمایا ہے ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٩ ) مگر اس خبر دینے والے کا نام ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ کون ہے؟ اور اصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی اور روایت عندالجمہور حجت نہیں ہوتی ( مقدمہ مسلم للنووی صفحہ ۱۷ وغیرہ )۔ خود امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں لہذا ان کا آپس میں لقاء اور سماع ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان کا لقاء ثابت کردے !!! بقول علامہ ذہبی دامت فیوضہم العالیہ کے کہ یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین اور مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر غیرمقلدین میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمه الله کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ و ثقہ عند الجمهور ثابت کردے۔

اب اگر کوئی شخص کہے کہ القری پر جرح کرنے والا امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کے نزدیک ثقہ ہے جیسا کہ تاریخ اندلس میں اخبرني بذالک من اثق بہ کے الفاظ موجود ہیں۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ جب چوٹی کے امام حافظ ناقد جیسے امام شعبہ رحمہ اللہ ، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ، امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کی تعديل و توثیق معروف الاسم راوی جابر بن یزید الجعفی کے متعلق قابل قبول نہیں حالانکہ انہوں نے ما رایت اورع في الحديث منه ، صدوق في الحديث ، اوثق الناس ، اصدق الناس جیسے الفاظ سے اس کی تعدیل و توثیق کی ہے ( تہذیب التہذیب )

تو پھر اکیلے امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی توثیق غیر معروف مجہول الاسم مجهول العین راوی کے متعلق کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے جس کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں!! 

 

______تحقیقی جواب کے بعد ایک الزامی جواب بھی احقر نے لکھا تھا وہ بھی پیشِ خدمت ہے۔ ( کذب بمعنی خطا )

            غیرمقلدین کے محقق العصر جناب ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں : علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں فاما قول الشعبی الحارث کذابًا فمحمول علی انہ عنی بالکذاب الخطا۔۔۔ الخ ( السیر : 4 / 153 ) رہا امام شعبی کا قول کہ حارث کذاب ہے تو یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے کذب سے خطا مراد لی ہے۔ شیخ ابوغدہؒ نے علامہ الیمانی کی الروض الباسم ( ج 1 ص 82 ) کے حوالے سے لکھا ہے : ان لفظ کذاب قد یطلقہا کثیر من المتعنتین فی الجرح علی من یھم و یخطی فی حدیثہ۔۔۔ الخ ( حاشیۃ الرفع والتکمیل ص 168 ) کہ بہت سے متشددین جرح میں راوی کے حدیث میں وہم و خطا پر کذاب کا اطلاق کرتے ہیں۔ 

دیکھئے ارشاد الحق اثری کی کتاب : ( تنقیح الکلام / ص : 246 )  

اس اقتباس میں ارشاد الحق اثری صاحب شیخ ابوغدہ ؒاور حافظ ذھبیؒ کے فرامین نقل کرکے کذاب کی جرح کو خطا پر محمول کررہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ یہاں بھی عثمان بن محمد القری پر امام ابن الفرضی کی نقل کردہ کذاب کی جرح کو صرف وہم یا خطا پر محمول کرلیا جائے بشرطیکہ وہ جرح پہلے ثابت ہو۔


خلاصہ کلام کہ عثمان بن محمد القری پر ابن الفرضی کی نقل کردہ جرح ثابت نہیں


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, 13 January 2021

اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ


 اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ

_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )

قسط (٣) " عثمان بن محمد القری بھی ایک ثقہ راوی ہے "


اگر اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع الیدین کی حدیث کی سند میں عثمان بن محمد القری ہی تسلیم کرلیا جائے تب بھی وہ حدیث صحیح کی صحیح ہی رہتی ہے کیونکہ عثمان بن محمح القری بھی ایک ثقہ راوی ہے الحمدللہ


عثمان بن محمد القری کی توثیق


(1) امام قیروانی رحمہ اللہ نے زیر بحث روایت کو شاذ ( مقبول ) لکھا ہے ( اخبار الفقہاء / ص : ٢١٦ ) جو کہ قیروانی کے نزدیک سند میں موجود عثمان بن محمد کے ثقہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔


( 2 ) امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے شروع میں ہی اپنی کتاب میں مذکور لوگوں کے بارے میں لکھا ہے : فقہاء الاندلس و علماءھم ۔۔۔۔ و اہل العنایة منہم ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣١ ) اور پھر ان میں عثمان بن محمد القری کا ترجمہ بھی ذکر کیا ہے

(٢) اور پھر آگے چل کر القری کیلئے مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیں : " و کان علمہ الذی ینسب الیہ و یغلب علیہ التنجیم ، وقد الف کتابا فی فقہاء الاندلس اخذ عنہ وقرء علیہ ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٨ ، ٣٩٩ ) یہ الفاظ بھی القری کی فقاہت اور فضیلتِ علم کو ثابت کرتے ہیں۔

اور اصول ہے کہ راوی کی عدالت نیکی اور نیک شہرت سے ثابت ہوجاتی ہے۔ ( الباعث الحثيث للحافظ ابن کثیر صفحہ / ٨٨ )


القری پر جرح کا جواب

اب جہاں تک بات ہے القری پر امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی نقل کردہ جرح کی جوکہ غیرمقلدین پیش کرتے رہتے ہیں تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس جرح کا مدار مجہول العین ، مجہول الاسم اور غیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی نے اخبرنی بذاک تو فرمایا ہے ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٩ ) مگر اس خبر دینے والے کا نام ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ کون ہے؟ اور اصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی اور روایت عندالجمہور حجت نہیں ہوتی ( مقدمہ مسلم للنووی صفحہ ۱۷ وغیرہ )۔ خود امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں لہذا ان کا آپس میں لقاء اور سماع ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان کا لقاء ثابت کردے !!! بقول علامہ ذہبی دامت فیوضہم العالیہ کے کہ یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین اور مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر غیرمقلدین میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمه الله کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ و ثقہ عند الجمهور ثابت کردے۔

______اس تحقیقی جواب کے بعد ایک الزامی جواب بھی پیشِ خدمت ہے۔ ( کذب بمعنی خطا )

            غیرمقلدین کے محقق العصر جناب ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں : علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں فاما قول الشعبی الحارث کذابًا فمحمول علی انہ عنی بالکذاب الخطا۔۔۔ الخ ( السیر : 4 / 153 ) رہا امام شعبی کا قول کہ حارث کذاب ہے تو یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے کذب سے خطا مراد لی ہے۔ شیخ ابوغدہؒ نے علامہ الیمانی کی الروض الباسم ( ج 1 ص 82 ) کے حوالے سے لکھا ہے : ان لفظ کذاب قد یطلقہا کثیر من المتعنتین فی الجرح علی من یھم و یخطی فی حدیثہ۔۔۔ الخ ( حاشیۃ الرفع والتکمیل ص 168 ) کہ بہت سے متشددین جرح میں راوی کے حدیث میں وہم و خطا پر کذاب کا اطلاق کرتے ہیں۔ 

دیکھئے ارشاد الحق اثری کی کتاب : ( تنقیح الکلام / ص : 246 )  

اس اقتباس میں ارشاد الحق اثری صاحب شیخ ابوغدہ ؒاور حافظ ذھبیؒ کے فرامین نقل کرکے کذاب کی جرح کو خطا پر محمول کررہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ یہاں بھی عثمان بن محمد القری پر امام ابن الفرضی کی نقل کردہ کذاب کی جرح کو صرف وہم یا خطا پر محمول کرلیا جائے بشرطیکہ وہ جرح پہلے ثابت ہو۔


خلاصہ کلام کہ عثمان بن محمد القری بھی ایک ثقہ راوی ہے اور الحمدللہ یہ حدیث ایک صحیح حدیث ہے الحمدللہ


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, 12 January 2021

اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ


 اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ

_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )

قسط (٢) " عثمان بن محمد کا تعین "

#نوٹ : اس اعتراض کے سلسلے میں آج تک کی ہم تک پہنچنے والی کسی بھی مطبوع تحریر میں اتنی منقح گفتگو نہیں کی گئی ہے۔


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع الیدین کی صحیح اور صریح حدیث پر منکرین حدیث بشکل غیرمقلدین کا سب سے بڑا اور مرکزی اعتراض یہ ہے کہ اس کے راوی عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ہے۔

چنانچہ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں ؛ اس کے راوی عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ہے۔ بغیر کسی دلیل کے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک مراد لینا غلط ہے۔ اس ابن مدرک سے محمد بن حارث القیروانی کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ عثمان بن محمد سے مراد یہاں یہی ( ابن خشیش ) کذاب ہے۔   ( نورالعینین ص ۲۰٦ )


 الجواب : 

پہلی گزارش تو یہ ہے کہ اٰل غیرمقلدیت ذرا سوچے کہ اگر بقول علی زئی صاحب کے اس روایت میں محمد بن عثمان کا تعین ثابت نہیں ہے اور ملاقات کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک القبری مراد لینا غلط ہے تو پھر آپ کے علی زئی نے یہاں عثمان بن محمد بن خشیش کیسے مراد لے لیا بغیر کسی ثبوت کے ؟ جب ملاقات کے ثبوت کے بغیر عثمان بن محمد القبری مراد لینا غلط ہے تو ملاقات کے ثبوت کے بغیر ہی عثمان بن محمد بن خشیش مراد لینا کیسے درست ہوگیا ؟ نیز جب آپ کے نزدیک عثمان بن محمد کا تعین سرے سے ثابت ہی نہیں تو پھر علی زئی نے اسے ابن خشیش کیوں بنا ڈال ؟ اس نے یہ بلا دلیل تعین کیوں کیا ؟ اور آج کل تو آپ لوگ اس عثمان بن محمد کو القری بنائیں پھرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ آپ کے علی زئی نے اسے ابن خشیش کیسے بنا دیا تھا ؟


اب آئے اصل کلام کی طرف

اخبار الفقہاء والمحدثین کے مصنف امام محمد بن حارث القیروانی رحمۃ اللہ علیہ نے بذات خود اپنی اسی کتاب میں عثمان بن محمد کا تعین کر رکھا ہے لیکن اس میں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اخبار الفقہاء والمحدثین کے ایک مطبوعہ نسخے میں عثمان بن محمد القبری لکھا ہے اور دوسرے مطبوعہ نسخے میں عثمان بن محمد القری لکھا ہے اور دونوں نسخے بیروت لبنان سے شائع شدہ ہیں۔

چنانچہ اس کتاب کے صفحہ ۱۰۳ اور ۱۰۵ پر ایک نسخے میں القبری لکھا ہے اور دوسرے میں القری لکھا ہے جن کا احقر نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے اور عنقریب ہم القبری والے مطبوعہ نسخے کا سکین بھی نشر کردینگے ان شاء اللہ۔


اب غیرمقلدین اس صحیح حدیث سے اپنی جان چھڑانے کیلئے اخبار الفقہاء والمحدثین کا وہ نسخہ جس میں القری کا لفظ ہے لیکر جگہ جگہ بنا کسی واضح ثابت قرینے کے خود ہی یہ کہتے اور لکھتے پھر رہے ہیں کہ قیروانی کا استاد عثمان بن محمد القبری نہیں بلکہ القری ہے اور اس پر امام ابن الفرضی نے اپنی کتاب " تاریخ علماء الاندلس " میں کذاب کی جرح نقل کررکھی ہے لہذا یہ روایت گئی۔


جواب :

( 1) پہلی بات یہ کہ اگر ایک مطبوعہ نسخے میں القری کا لفظ ہے تو اسی کتاب کے دوسرے مطبوعہ نسخے میں القبری کا لفظ بھی موجود ہے کمامر۔


( 2 ) یہ بات تو معلوم ہے کہ سند میں موجود عثمان بن محمد کی امام قیروانی سے ملاقات ہے جیسا کہ اخبار الفقہاء کے صفحہ ۷۸ ، ۹۷ ، ١٠٣ ، ١٠۵ ، ۱۲۲ اور ٢١۴ سے اور امام قیروانی ہی کی ایک دوسری کتاب " قضاة قرطبة " کے صفحہ ٢٨ ، ٣٠ ، ٨۵ ، ١٠٧ ، ١۴٩ اور ٢٠٩ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ القبری اور القری میں سے کس کی ملاقات کے قرائن موجود اور ثابت ہیں اور کس کی ملاقات کے نہیں ہیں۔

تو آئے دیکھتے ہیں

(١) امام عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک رحمہ اللہ کا انتقال ۳۲۰ھ میں ہے ( اخبار الفقہاء والمحدثین  صفحہ ٢١٦ ، رقم : ۳۸۱ )

ابن مدرک القبری کی یہ تاریخ وفات سامنے رکھ کر یہ بات صاف طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ امام محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ المتوفی ۳٦١ھ کی ان سے ملاقات و سماع ممکن ہے اور یہ امکان ہی بقول علماءِ غیرمقلدین کے اتصالِ سند کیلئے کافی ہے۔ چنانچہ محمد گوندلوی صاحب لکھتے ہیں : باقی رہا یہ اعتراض کہ مکحول کا سماع محمود سے ثابت نہیں۔ عدم ثبوت صحت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ صحت حدیث کے لیے صرف استاد اور شاگرد کی ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہے عدم ثبوت سے نفی لازم نہیں آتی ( خیرالکلام ص ۱٦٧ )۔ اور ارشاد الحق اثری صاحب بھی لکھتے ہیں : اصول حدیث کا یہ قاعدہ ہے کہ اتصال سند کے لیے امکان القاء ہی کافی ہے جیسا کہ امام مسلم نے کہا ہے ( توضیح الکلام )۔

دوسری طرف القری کی تاریخ وفات کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں ہے لہذا وہاں امکان اور غیر امکانِ لقاء کی بحث ہی نہیں۔

الغرض جب محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ کی عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک سے ملاقات اور سماع ممکن ہے جو کہ اتصال سند کیلئے کافی وافی ہے اور القری کی تاریخ وفات کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ اس سند میں ابن مدرک کا تعین ہی مضبوط شئی ہے۔

(٢) نیز امام محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک رحمہ اللہ کا اپنی اسی کتاب میں باقاعدہ ترجمہ بیان کیا ہے جس میں ان کی تعدیل و توثیق بھی بیان فرمائی ہے اور ان کا سن وفات ۳۲۰ھ بھی جزم کے ساتھ بیان فرمایا ہے

دیکھئے : اخبار الفقہاء والمحدثین ( ص ۲١٦ رقم : ۳۸۱ )

جبکہ عثمان بن محمد القری رحمہ اللہ کا نہ کہیں ترجمہ لکھا ہے اور ناہی کوئی سن وفات کہیں لکھا ہے۔

امام محمد بن حارث رحمہ الله کا اپنی اسی کتاب میں القبری کا ترجمہ قائم کرکے اس کی مدح و ثناء بیان کرنا اور سن وفات تک کا ذکر کرنا اور القری کا کہیں پر کوئی ترجمہ نا لکھنا بھی ایک واضح قرینہ ہے کہ ابن مدرک ہی امام محمد بن حارث قیروانی کے استاد ہیں۔


( 3 ) پھر غیرمقلدین کا تاریخ علماء الاندلس کے حوالے سے یہ کہنا کہ عثمان بن محمد القری کے اساتذہ میں عبیداللہ بن یحیی کا نام موجود ہے لہذا سند میں القری ہے ناکہ القبری بھی غلط بات ہے کیونکہ یہ بات امام ابن الفرضی المتوفی ۴٠٣ھ کی ہے جس کا عثمان بن محمد القری کے ساتھ سرے سے لقاء ثابت ہی نہیں ہے۔ اگر ہے تو کوئی غیرمقلد ثابت کرکے دے من ادعی فعلیہ البیان بالبرھان۔ اور اگر مجہول راوی کی خبر پر مدار ہے تو یہ بوجہ جہالت ثابت نہیں ہوتا اور پھر اس میں بھی تاریخ علماء الاندلس میں " کان یزعم " کے الفاظ ہیں۔ کیا مجہول راوی کے محض گمان سے کوئی کسی کا استاد ثابت ہوتا ہے ؟


( 4 ) اب اگر بالفرض سند میں عثمان بن محمد القری ہی تسلیم کرلیا جائے تب بھی اس حدیث پر کوئ اثر نہیں پڑتا کیونکہ القری پر امام ابن الفرضی کی طرف سے نقل کردہ کذاب کی جرح ثابت ہی نہیں ہے ( جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آرہی ہے ) بلکہ " فقہاء الاندلس و علماءھم ۔۔۔۔ و اہل العنایة منہم " کے الفاظ اسی امام ابن الفرضی نے اپنی کتاب میں مذکور لوگوں کے بارے میں استعمال کئے ہیں جن میں سے عثمان بن محمد القری بھی ایک عالم اور فقیہ ہیں ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣١ )۔ نیز اسی کتاب میں القری کیلئے " و کان علمہ الذی ینسب الیہ و یغلب علیہ التنجیم ، وقد الف کتابا فی فقہاء الاندلس اخذ عنہ وقرء علیہ جیسے الفاظ خود امام ابن الفرضی نے لکھے ہیں ( تارخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٨ ، ٣٩٩ ) جو کہ القری کی فقاہت اور فضیلتِ علم کو ثابت کرتے ہیں اور اصول ہے کہ راوی کی عدالت نیکی اور نیک شہرت سے ثابت ہوجاتی ہے۔ ( الباعث الحثيث للحافظ ابن کثیر صفحہ / ٨٨ )

اب جہاں تک بات ہے القری پر امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی نقل کردہ جرح کی جوکہ غیرمقلدین پیش کرتے رہتے ہیں تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس جرح کا مدار مجہول العین ، مجہول الاسم اور غیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی نے اخبرنی بذاک تو فرمایا ہے ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٩ ) مگر اس خبر دینے والے کا نام ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ کون ہے؟ اور اصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی اور روایت عند الجمہور حجت نہیں ہوتی۔ ( مقدمہ مسلم للنووی  صفحہ ۱۷ وغیرہ )۔ خود امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے لہذا لقاء اور سماع کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان کا لقاء ثابت کردے !!! بقول علامہ ذہبی دامت فیوضہم العالیہ کے کہ یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین اور مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر غیرمقلدین میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمه الله کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ و ثقہ عند الجمهور ثابت کردے۔

______اس تحقیقی جواب کے بعد ایک الزامی جواب بھی پیشِ خدمت ہے۔ ( کذب بمعنی خطا )

            غیرمقلدین کے محقق العصر جناب ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں  :  علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں فاما قول الشعبی الحارث کذابًا فمحمول علی انہ عنی بالکذاب الخطا۔۔۔ الخ  ( السیر : 4 / 153 ) رہا امام شعبی کا قول کہ حارث کذاب ہے تو یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے کذب سے خطا مراد لی ہے۔ شیخ ابوغدہؒ نے علامہ الیمانی کی الروض الباسم ( ج 1 ص 82 ) کے حوالے سے لکھا ہے : ان لفظ کذاب قد یطلقہا کثیر من المتعنتین فی الجرح علی من یھم و یخطی فی حدیثہ۔۔۔ الخ ( حاشیۃ الرفع والتکمیل ص 168 ) کہ بہت سے متشددین جرح میں راوی کے حدیث میں وہم و خطا پر کذاب کا اطلاق کرتے ہیں۔ 

دیکھئے ارشاد الحق اثری کی کتاب  :  ( تنقیح الکلام / ص : 246 )  

اس اقتباس میں ارشاد الحق اثری صاحب شیخ ابوغدہ ؒاور حافظ ذھبیؒ کے فرامین نقل کرکے کذاب کی جرح کو خطا پر محمول کررہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ یہاں بھی عثمان بن محمد القری پر امام ابن الفرضی کی نقل کردہ کذاب کی جرح کو صرف وہم یا خطا پر محمول کرلیا جائے بشرطیکہ وہ جرح پہلے ثابت ہو۔


( 5 ) اب سب سے مزیدار بات اور غیرمقلدین کیلئے کبھی ختم نہ ہونے والا درد سر جو کہ ایک واضح حقیقت ہے۔ وہ یہ کہ امام قیروانی رحمہ اللہ نے زیر بحث حدیث کو خود اپنی اسی کتاب کے اسی صفحے پر شاذ لکھا ہے۔

اب بات سمجھنے کی ہے کہ عندالمحدثین شاذ کی دو تعریفیں ہیں

( ایک ) ۔۔۔۔ شاذ اس حدیث کو کہتے ہیں جسے نقل کرنے میں کوئی ثقہ راوی اکیلا ہو اور کوئی ثقہ راوی اس کی متابعت نہ کرے۔ 

( معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص ١١٩ ، علی زئی کا ماہنامہ الحدیث شمارہ ۵۳  ص ۴۴ وغیرہ  ) 

ایسی شاذ حدیث صحیح اور قابل حجت ہوتی ہے کیونکہ یہ تفرد من الثقات کے قبیل سے ہے اور ثقہ و صدوق راوی کا تفرد ائمہ محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے جیسا کہ خود علی زئی نے بھی صراحت کر رکھی ہے کہ اگر ثقہ راوی منفرد ہو اور دوسروں کی مخالفت نہ کرے تو یہ شاذ بھی مقبول ہوتی ہے اور اگر اسے رد کردیا جائے تو اس قسم کی بہت سی روایتیں رد ہوجاتی ہیں اور بہت سے مسائل دلائل سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ( ماہنامہ الحدیث شمارہ ۵۳  ص ۴۵ ) 

( دوسری ) ۔۔۔۔ شاذ ایسی حدیث کو بھی کہا جاتا ہے جس میں کوئی ثقہ راوی دوسرے ثقات راویوں کی مخالفت کرے۔ ( معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص ۱۱۹ وغیرہ ) 

ایسی شاذ حدیث ضعیف و مردود ہوتی ہے۔

زیر بحث حدیث پر شاذ کی دوسری تعریف کسی طور پر بھی صادق نہیں آتی کیونکہ اس میں ثقہ راویوں کی مخالفت نہیں پائی جارہی ، ہاں البته شاذ کی پہلی تعریف اس حدیث پر صادق آتی ہے کیونکہ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو نقل کرنے میں ثقہ راوی منفرد ہے اور شاذ کی اسی پہلی تعریف کے اعتبار سے ہی امام قيروانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شاذ کہا ہے۔ اور ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ اس قسم کی شاذ حدیث صحیح اور قابل حجت ہوتی ہے۔ لہذا یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔

اب جو نقطہ یہاں سمجھنے کا ہے وہ یہ ہے کہ اگر اس حدیث کی سند میں کوئ کذاب راوی ہوتا تو پھر امام قیروانی اس کو شاذ نہیں لکھتے کیونکہ کذاب کی روایت شاذ نہیں بلکہ منکر کہلاتی ہے جبکہ وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کررہا ہو اور اگر نا بھی کرے تب بھی جس سند میں کذاب راوی موجود ہو اسے شاذ نہیں کہتے۔ امام قیروانی کا شاذ لکھنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کی سند میں کوئ بھی کذاب راوی نہیں ہے۔ اب ہم غیرمقلدین کو ان کیلئے اختیار دیتے ہیں کہ یا تو وہ اس سند میں موجود عثمان بن محمد کو ابن مدرک تسلیم کرلیں کیونکہ وہ بالاتفاق کذاب نہیں ہے یا پھر القری ہی مان لیں لیکن پھر اس سے کذاب کی غیر ثابت جرح کو ہٹالیں جو کہ لفظ شاذ سے بھی ہٹ رہی ہے اور اس صورت میں القری بھی خود بہ خود ثقہ ثابت ہوگیا۔ دونوں صورتوں میں حدیث صحیح کی صحیح رہتی ہے الحمدللہ۔


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, 11 January 2021

أخبار الفقہاء و المحدثین


 ،             " أخبار الفقہاء و المحدثین" 


یہ اندلس کے علماء پر  تاریخ  کی کتاب ہے اور اس میں بعض جگہ علماء کے تعارف میں ان سے سند کے ساتھ احادیث بھی درج ہیں ، جیسا کہ امام بخاری رحمہ الله المتوفی ۲۵۶ ھ  کی کتاب تاریخ الکبیر اصل تاریخ کی کتاب ہونے کے باوجود بعض جگہ سند کے ساتھ احادیث بھی درج ہیں، اس کتاب کے مصنف کا نام نامی اسم گرامی امام ابو عبد اللہ محمد بن حارث قیروانی رحمہ الله المتوفی ۲۶۱ ہجری ہے، جن کا تعلق علماء الاندلس فقہ مالکیہ کے جید و ثقہ الامام  سے ہیں اور جن کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ الله المتوفی ۷۴۸  لکھتے ہیں: الحافظ ۔الحافظ الامام : (تاریخ الاسلام للذہبی برقم ۱۷، تذکرۃ برقم ۹۳۴، سیراعلام النبلاء برقم ۳۳۱۹)  اس کتاب کو بھی غیر مقلدین کے محدث العصر جناب حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اور ان کے  نامور شاگردوں نے بے سند و جعلی کتاب ثابت کرنے کی سر توڑ کوششیں کی ہیں اور وہ  اس مقصد میں کتنے فیصد کامیاب  رہے ہیں، یہ آپ دیکھیں گے، اس کا فیصلہ آپ ہی پر چھوڑا،  جانتے ہیں یہ سب کیوں کیا گیا ہے ، اس کی وجہ تو ہم آپ کو بعد میں بتائیں گے لیکن ان شاءاللہ کل سے اس کتاب پر  کئے جانے والے اعتراضات  اشکال کو پہلے ایک کرکے پیش کیا جائے گا پھر ان کا تسلی بخش جواب دیا جائے گا اور یہ ثابت کیا جائے گا اصول محدثین اور دلائل کی روشنی میں کہ یہ کتاب امام ابو عبداللہ محمد بن حارث القیروانی رحمہ الله المتوفی ۲۶۱ ھ سے ثابت ہے ،
عمران گوندل !
 جمادی الاول ۱۹.۱۴۴۲/ جنوری اتوار  3.1.21

Qurratul Aynayn bi Jawab Nurul Aynayn' (pp. 164-182) ‏of Shaykh Rayhan Jawaid۔ ‏The narration of Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin ‎(of Imam Muhammad ibn Harithal-Khushani):

 

Qurratul Aynayn bi Jawab Nurul Aynayn' (pp. 164-182) ‏of Shaykh Rayhan Jawaid۔ ‏The narration of Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin ‎(of Imam Muhammad ibn Harithal-Khushani):

The narration of Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin (of Imam Muhammad ibn Harith
al-Khushani):
Uthman ibn Muhammad narrated to me, he said that ‘Ubaydullah ibn Yahya said to
me: Uthman ibn Sawada ibn ‘Abbad narrated to me from Hafs ibn Maysara from
Zayd ibn Aslam from ‘Abdullah ibn ‘Umar (ra); he said:
'We would, with the Prophet (sallallahu alaihi wa sallam) in Makka, raise our hands at
the beginning of Salah and within Salah at the time of ruku’. Then when the Prophet
(sallallahu alaihi wa sallam) migrated to Madina, he left raising the hands within
Salah at the time of ruku’ and continued to raise the hands at the beginning of Salah.'
[Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin, p. 214, Abu Shu’ayb [Rayhan Jawaid] said: Its
chain of transmission is authentic (isnaduhu Sahih)]
Benefit:
In this authentic narration it clearly displays the Makki and the Madani practice. I
mean that raising of the hands began in Makka and stayed during the Madani period
until Allah willed. Then in the latter days it was abrogated and left, while the initial
raising of the hands continued. This is Sunna and upon this the Ahlus Sunna wal
Jama'a Hanafis and other than them practice.
Analysing the Sanad:
1) Imam Abu Abdillah ibn Harith al-Qairawani al-Maliki (died in 361 AH)
This is a famous Imam and Muhaddith. The Imams have called him Hafiz Abu
Abdillah al Khushani al-Qairawani al-Maghribi and he has written many books. The Hafiz stayed in Qurtuba (nazeelul qurtabah). Al Hafiz sahibul tawaaleef. Min ahl al
ilm wal fadhl faqeeh muhaddith. wa kana Hafiz aalim bil fatyaa. husnul qiyaas
waliyyul shuraa. wa sannafa fi al fiqh wat tareekh wa ghayruhaa. He is authentic
(thiqa) by consensus.
See - Tadhkiratul Huffaz, 3/138-139, al-Ibar,1/359, Siyar a’lam an-nubala, 10/429
(all three of these are by Hafiz Shamsud-Din al-Dhahabi), Jadhwatul Muqtabis lil
Humaydi, p. 47, Bughyatul Multamis, p. 61, Ta’rikh Ulama al-Andalus (of ibn al
Faradi), p. 383-384, ad-Dibaj lil Sam'ani, 5/130, Tartibul Madarik (of Qadi Iyad),
4/513, Mu'jamul Udaba (of Yaqut al-Hamawi), 8/111, Tabaqatul Huffaz lil Suyuti, p.
398
2) Imam Uthman bin Muhammad al Qabari (d. 320 AH)
He is also a famous Imam. Scholars have praised him and authenticated him. For
example
من اهل قبره ... ممن عنى بطلب العلم و درس المساءل و عقد الوثاءق مع فضله و كان مفتي اهل موضعه.... من
اهل قبرة كان معتنيا بالعلم حافظا للمساءل عاقدا للشروط مفتي اهل موضعه
(Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin lil Qayrawani p. 216, Bughyatul Multamis lil
Dabbi p 359, Ta’rikh Ulama al-Andalus of ibn al Faradi p 243, Jadhwatul Muqtabis
lil Humaydi p 270 and others.)
3) Imam Ubaydullah bin Yahya Qurtubi (d. 298 AH)
He is a famous Imam (It is said about him):
الفقيه الامام المعبر القرطبي مسند قرطبة ... و كان كبير القدروافر الجلالة و كان كريما عاقلا عظيم الجاه والمال ما في
الشوري منفردا برءساسةالبلا غير مدافع. فقيه قرطبة و مسند الاندلس و كان ذا حرمة عظيمة و جلالة. و كان عقلا
وقورا وافر الحرمة عظيم الجاه... تام المءروة عزيز النفس عزيز المعروف و كان محمد بن ابراهيم بن حيون ثني عليه و
يوثقه
He is thiqa (trustworthy) by consensus. See Siyar a'lam an-Nubala, 9/294-295, al
Ibar, 1/271, Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin lil-Qayrawani, pp. 170-173,
Jadhwatul Muqtabis lil Humaydi, p. 237, Ta’rikh Ulama al-Andalus of ibn al-Faradi,
pp. 206-207, Ta’rikh al-Islam lil Dhahabi, 22/200, Bughyatul Multamis li Dabbi, al
Wafayat, p. 197, Shadharatul Dhahab, 2/231 and others. 
4) Imam Uthman ibn Sawada al Qurtubi (died ca. 235 AH)
Scholars have said:
كان ثقة مقبؤلا عند القضاة و الحكام و كان من اهل الخير و الفضل و كان من اهل الزهد و العبادة و كثرة التلاوة
See Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin, p. 214, and Ta’rikh Ulama al-Andulus, p.
242
5) Imam Hafs bin Maysara al San'ani (d. 181 AH)
He is a narrator found in Bukhari and Muslim. Scholars have said he is thiqa
(trustworthy), a person of Hadith (sahibul hadith) and thiqa. There is nothing wrong
with him. He is thiqa by consensus. See al-Ibar, 1/216 and Tahdhib al-Tahdhib (of
ibn Hajar al-Asqalani), 1/570
6) Imam Zayd bin Aslam al Madni (d. 136 AH)
He is a narrator of Bukhari and Muslim. Scholars have said
الحافظ الفقیھ المدني و كان من العلماء الابرار ثقة من اھل الفقھ و العلم و كان عالما بتفسیر القران و كان كثیر الحدیث
See Tadhkiratul Huffaz, 1/99-100, al Ibar, 1/141, Tahdhib al-Tahdhib, 2/231-232
7) Hadhrat Abdullah bin Umar (d. 74 AH, radiallahu anhu)
A famous Companion (Sahabi).
Conclusion - The hadith of Ibn Umar (ra) by way of chain (sanad) is authentic. And
by way of wording (matn) it clarifies the Prophet’s (sallallahu alaihi wa sallam)
practice of abrogating the raising of the hands in the end of the Madinan period, and
this is correct, the truth, and acceptable to practice as a continuous Sunna.
The replies of the objections to this hadith:
First objection-
Zubayr Ali Zai writes that this book does not have a mentioned chain (see his Nur al_Aynayn, p. 205, printed in 2006-2007 by Maktaba Islamiyya, Faisalabad)
Reply-
A famous Imam’s book which has been linked famously to the Imam makes looking
at the isnad not needed. As Imam Ibn Hajr has clarified this principle
لان الكتاب المشهور الغني بشهرته عن اعتبار الاسناد الي مصنفه (النكت علي ابن صلاح
Because of this, the objection is against this principle, hence leaving it rejected and
void.
Second objection-
Zubayr Ali Zai writes that at the end of this book the completion is written 'in
Sha'ban the year 483' (after Hijra). Meaning, that this book was completed 122 years
after the demise of the mentioned author Muhammad ibn Harith al Qairawani (d. 361
AH). Who is the one who wrote Akhbarul Fuqaha and who completed it? This is not
known hence this book is not established as being one of Muhammad bin Harith's.
(See his Nur al-Aynayn, p. 206)
First reply-
483 in reality is a copyist error who instead of writing 3 on the left, he wrote it on the
right. It should have been written 384. These type of copyist errors are common as is
not hidden from the people of knowledge.
Second reply-
This book was written by Muhammad ibn Harith, 13 years before his demise (taking
the first reply into consideration). It is also possible that the copyist had completed
arranging (tartib) the book at 483. Examples of this
a) Imam ibn Hibban (d. 354 AH) collected Sahih ibn Hibban. But Ibn Balban (d. 739
AH) arranged the work 321 years after the demise of Ibn Hibban. The name of the
book is al Ihsaan bi tartib Sahih ibn Hibban.
b) In the same way, Imam al-Tahawi (d. 321 AH) wrote his work Sharh Mushkil al-
Athar. The arranging of this book was done by Dr. Abu Hussain Khalid Mahmud,
who is a contemporary, by placing the book with fiqhi chapters. And it was published
by the name Tuhfatul Idhyaar bi Tartib Sharh Mushkil al-Athar. And no one scholar
rejected the authorship of the two scholars. Likewise is the state of the compiler of
this book Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin.
Third reply-
Imam Bukhari (d. 256 AH) compiled his work Sahih al Bukhari. Then this book was
arranged by ibn Yusuf al Farabri (d. 320 AH) and other than him. But who is the
copyist for the present form and when did he write it? His name is not known. Even
though the copyist of Sahih al Bukhari is not known, his connection with Imam
Bukhari remains intact. Same way the copyist of Akhbarul Fuqaha wal Muhddithin,
his connection remains established with Imam Muhammad bin Harith.
Hence this objection is rejected and void.
Third objection-
Zubayr Ali Zai writes that this narrator, Uthman ibn Muhammad, can not be
specified without any evidence. So to say it is Uthman bin Muhammad ibn Ahmed
bin Mudrik is wrong. Even so the meeting of Ibn Mudrik and Muhammad bin Harith
Qairawani has no evidence.
First Reply-
Mr Zubayr Ali Zai, for your information the specification (ta'yeen) of Uthman bin
Muhammad is established. He is Imam Uthman bin Ahmed bin Mudrik min ahli
qabrihi (d. 320 AH). Ponder over the following!
قد قال الامام الحافظ المحدث الفقیھ محمد بن حارث القیرواني المالكي قال لي عثمان بن محمد القبري قال لي محمد بن غالب (1
(Akhbarul Fuqaha p 103)
قال محمد بن حارث القیرواني قال لي عثمان بن محمد القبري قال لي محمد بن غالب (2
(Ibid p105)
Imam Muhammad bin Harith himself clarified that he (Uthman ibn Muhammad) is al
Qabari. Because him being ibn Mudrik has been specified with a clear evidence. And
it is a slap on the face on a Muhaqqiq (researcher) like Zubayr Ali Zai! Because of this
Uthman bin Muhammad al Qabari is specified with an evidence.
Second Reply-
The meeting of Imam Muhammad bin Harith al-Qairawani and Uthman ibn
Muhammad al-Qabari is established. For example
قال محمد بن حارث القیرواني قال لي عثمان بن محمد قال لي محمد بن غالب
(Akhbarul Fuqaha p. 78)
قال محمد القیرواني قال لي عثمان بن محمد
(Ibid p. 97 and p. 122)
قال محمد القیرواني قال لي عثمان بن محمد
(Ibid p 162)
قال محمد القیرواني قال لي عثمان بن محمد سمعت محمد بن غالب
(p14 -قضاة قرطبة و علماء افریقة للقیرواني)
قال محمد القیرواني قال لي عثمان بن محمد اخبرنب ابي
(ibid 103)
قال محمد القیرواني قال لي عثمان بن محمد
(ibid 153)
Because of this the meeting of Muhammad bin Harith and Uthman ibn Muhammad
bin Ahmed bin Mudrik is established like a shining light.
Third reply-
Imam Muhammad bin Harith al-Qairawani's meeting with Imam Uthman bin
Muhammad bin Ahmad bin Mudrik from the people of Qabara (d. 320 AH) is
established clearly- For example:
قال محمد القیرواني اخبرني عثمان بن محمد
(Akhbarul Fuqaha p 90)
قال محمد القیرواني اخبرني عثمان بن محمد
(ibid p 122)
و قال محمد القیرواني و حدثني عثمان بن محمد قال حدثتي ابو مروان عبید أالله بن یحیى
(Quda Qurtaba lil Qairawani p 15)
و قال محمد القیرواني اخبرني عثمان بن محمد قال اخبرني عبید االله بن یحیى عن ابیھ
(ibid p 55)
Because of this the meeting and the hearing (sama') of the two is clearly established
as the wording akhbarani and haddathani is used. So Ali Zai's research is termed as
void.
Fourth objection-
Zubayr writes that Imam al-Dhahabi writes-
Uthman bin Muhammad bin Khashish al Qairawani from ibn Ghanim the Qadi of Africa, I think he is a liar (khadhdhab) (al-Mughni fi al Du'afa, 2/50)
Uthman bin Muhammad from Qairawan is a liar. And Muhammad bin Harith is also
from Qairawan. Hence, what becomes apparent is that Uthman bin Muhammad over
here is referring to that liar.
Reply-
When Imam Muhammad bin Harith has already specified Uthman bin Muhammad al
Qabari (d. 320 AH), as has passed, then this objection doesn't fit right. And those
books of rijal which we have, nowhere is there mention of Muhammad bin Harith al-
Qairawani as having a teacher (ustadh) named Uthman bin Muhammad Khashish al
Qairawani. So we ask Janab Zubayr Ali Zai, from which evidence did he specify the
individual to be Uthman bin Muhammad Khashish al Qairawani؟ His simply being
from Qairawan is not an evidence. This type of specification was done by the
infamous rejecter of hadith 'Tumna Ammari', with the hadith of Abu Hurayra (in
Bukhari) chapter of the descent of Isa ibn Maryam (alaihis salam), where he rejected
the specification of the narrator being Ishaq bin Rahawayh. He also used the same
logic and said Ya'qub bin Ibrahim al Madani and Ishaq bin Muhammad Al Madani
are both Madani, hence he based his specification (ta'yeen) on that. Whereas on an
academic level the students of Imam Ya'qub bin Ibrahim al Madani are Ishaq bin
Rahawayh and Ishaq bin Mansur not Ishaq bin Muhammad (Tahdhibul Kamal lil
Mizzi, v. 2 p. 20, 24, v. 20, p. 415, 516). This is the same method adopted by Zubayr
Ali which is clearly rejected and void.
Fifth objection-
Zubayr Ali Zai writes 'It should be remembered that Uthman ibn Muhammad bin
Ahmed bin Mudrik's being reliable (thiqah) is not known'.
Reply-
That Imam who has been praised by the Muhaddithin then that is authentication
قال یوسف بن ریحان سمعت محمد بن اسماعیل البخاري یقول كان علي بن المدیني یسالني عن شیوخ خراسان....الي ان قال.... (1-
example For. him for) tawthiq wa dil'ta (reliability showing and
كل من اثنیت علیھ فھو عندنا الرضا و في نسخة عندنا الرضا
(Tahdhib al-Tahdhib, 5/35 and Ta’liq ala’l Raf wal Takmil, p. 136)
2) Shaykh Abdul Fattah Abu Ghudda says in his notes on Raf' wa Takmil:
تكفي لتحدید مرتبة قولھم في الراوي رضا فانھ عندھم بمعني ثقة او عدل
1) The Imam of Jarh and Ta'deel, Khalid bin S'ad al Qurtubi (d. 352 AH) says 
Uthman bin Muhammad
من اھل قبره ... ممن عنى بطلب العلم و درس المساءل و عقد الوثاءق مع فضلھ و كان مفتي اھل موضعھ
(Akhbarul Fuqaha p 216)
Note:
Imam Khalid bin S'ad al Qurtubi al Andalusi was a great Muhaddith and an Imam of
Asma al Rijal (names of narrators) and I’lal al Hadith (hidden defects in Hadith). Just
like in the East was the master of the Huffaz, the Imam of Jarh and Ta'deel, Yahya
ibn Ma'een al Hanafi, then from the West was Imam Khalid bin S'ad. And he is a
person deserving praise. (See Ta’rikh Ulama al Andalus p 113, Jadhwatul Muqtabis,
p. 180, al Ibar lil Dhahabi, v.1, p. 347, Tadhkiratul Huffaz, v.3, p 89)
2) Muhammad bin Harith said similar to Khalid bin S'ad. (Akhbarul Fuqaha, p 216)
3) Imam Abdullah bin Muhammad known as ibn al Faradi al-Andalusi says:
من اھل قبرة كان معتنیا بالعلم حافظا للمساءل عاقدا للشروط مفتي اھل موضعھ
(Ta’rikh Ulama al-Andalus, p. 243)
4) Imam al-Humaydi al-Andalusi said 'Uthman bin Muhammad bin Ahmed bin
Mudrik from Qabara, he died in Andalus in the year 320. (Jadhwatul Muqtabis lil
Humaydi, p 270)
Sixth objection-
Zubayr Ali Zai writes 'Uthman bin Sawada bin Abbad's state is not found in any book
other then Akhbarul Fuqaha.... because Uthman bin Muhammad is inauthentic
(majruh) or unknown (majhul), and because of this the authentication (tawthiq) of
Ubaydullah bin Yahya is not established. Conclusion is that Uthman bin Sawada is
majhul al Haal (unknown in status as a reliable narrator). His date of birth and death
are unknown'.
First reply-
Imam Uthman bin Sawada bin Abbad al Qurtubi's (I think he died in 235 AH)
mention comes in other then Akhbarul Fuqaha (See Ta’rikh Ulama al Andalus of ibn
al-Faradi, p 242, no. 890, printed in Beirut) with authentication (tawthiq). It should
be remembered that a narrators birth and death date being unknown does not result
in him being majhul al haal. If this is your principle then we find these types of
narrators in Sahih al Bukhari whose birth and death date are unknown. Does that
mean they are Majhul al Haal?  Because of this Uthman bin Sawada is authentic and truthful with certainty. And
putting an objection against him is rejected and void.
Second reply-
Imam Uthman bin Muhammad is not Majhul al Haal nor majruh, because the Imam
of al-Jarh wa Ta’dil, the Muhaddith (hadith scholar) and Naqid (critic), Khalid bin
S'ad (d. 352 AH), Imam Muhammad bin Harith (d. 361 AH) the Muhaddith, Faqih
(jurisprudent) and Naqid, and also Imam, Hafiz, Muhaddith and Naqid, ibn al-Faradi
(d. 403 AH), Imam, Hafiz, Muhaddith, Naqid, al Humaydi (d. 388 AH) have all praised
him. And Imam Ubaydullah bin Yahya (d. 298 AH), who is a famous Muhaddith, has
done clear ta'dil and tawthiq of him (See Akhbar al-Fuqaha, p. 214, Ta’rikh Ulama
al-Andalus, p. 242 and others)
Because of this, with certainty Uthman bin Sawada is trustworthy (thiqah) and
truthful (saduq).
Challenge - I give a challenge to Zubayr Ali Zai and the non madhabists, that they
produce against Uthman bin Muhammad al Qabari a Jarh (disparagement) which is
explained (mufassar) and the reason is clarified (bayyin al sabab). Then we will give
them 10, 000 rupees. 'Bring your evidence if you are truthful'.
Seventh objection-
Ali Zai writes 'Uthman bin Sawada's meeting with Hafs bin Maysara is not
established. Hafs passed away in 181 AH (see Nur al-Aynayn, p. 207)
Reply-
Imam Uthman bin Sawada al Qurtubi is the teacher of Imam Ubaydullah bin Yahya
al Qurtubi (d. 298 AH). And he is the student of Hafs bin Maysara (d. 181 AH). Imam
Uthman bin Sawada passed away approx (d. 235 AH). These dates show a possibility
in meeting. And dates and the possibility of meeting are clearly showing connection
(ittisal) according to Imam Muslim. This is the stance of the majority. (Muqaddima
Muslim, p. 21)
With this, the objection is false and void and the Hadith is fully connected (muttasil)
and Sahih (authentic) – And all praise be to Allah.
Eighth Objection-
Zubayr Ali Zai writes that from the books of Muhammad bin Harith is Akhbarul Quda
wal Muhaddithin, but the name Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin is not found....
and the early scholars failed to mention it. (Nur al-Aynayn, p. 207-8) 
Reply-
Zubayr Ali Zai should know that the early scholars have mentioned it, but Mr,
Zubayr missed it-
1) Imam Abu Muhammad Ibn Hazm al-Andalusi al-Zahiri who died in 456 AH (See
Jadhwatul al-Muqtabis of al-Humaydi, p. 47)
2) Imam Abu Umar Ibn Abd al-Barr al-Andalusi al-Qurtubi, who died in 463 AH (Ibid
and Bughyatul Multamis, p. 61)
3) Imam Abu Muhammad al-Humaydi al-Andalusi (d. 488 AH) said that Muhammad
bin Harith al-Khushani was from the people of knowledge and virtue. He was a Faqih
and Muhaddith. He narrated from Ibn Waddah and the like of him. He gathered
another book regarding the narrations of the judges of Andalus (Akhbarul Quda bil
Andalus) and a book Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin. (Jadhwatul Muqtabis p.
37)
4) Imam al-Hafiz al-Muhaddith Ahmed bin Yahya al-Dabbi (d. 599 AH) said that
Muhammad bin Harith al- Khushuni... He gathered a book regarding the narrations
of the judges of Andalus (Akhbarul Quda bil Andalus) and another book Akhbarul
Fuqaha wal Muhaddithin. (Bughyatul Multamis fi Ta’rikh Rijal Ahl al-Andalus, p.
61)
Because of this, if Imam Ibn Makula (d. 476 AH) and Imam Abu Sa'd as-Sam'ani (d.
562 AH) did not mention the book, then (it doesn't matter) as they are later (then
scholars mentioned above). Even so, then not mentioning of something does not
necessitate its negation as Zubayr Ali has also attested to (this principle). See Nurul
Aynayn, p87, 81,140,219,222).
Allama Umar Rida Kahhala and Allama Khayrud-Din al-Zirikli and other than them
mentioning this book were correct. (Mu'jam al- Mu'allifin, v3, p. 204, al-I’lam v. 6,
p75). Hence, Akhbarul Fuqaha wal Muhaddithin was a work of Imam Muhammad
bin Harith.
Ninth Objection-
Zubayr Ali Zai writes that this is from the unusual (gharib) narrations, so these
aberrant (shadh) narrations are weak (Nur al-Aynayn, p. 208).
(First reply):
For example
1) Imam al-Hakim says - A type from them is unusual narrations which are authentic
(Ghara'ib as-Sahih). An example of that is what Imam al-Bukhari narrates in al-Jami'
al-Sahih from Khallad ibn Yahya al-Makki from Abdul Wahid ibn Ayman. Thus, this
hadith is authentic although Abdul Wahid bin Ayman is the sole narrator from his
father. So this is Ghara'ib as-Sahih. (Ma'rifat al-Ulum al-Hadith, p. 94)
2) Imam al-Hakim says that Imam Muslim narrates in his al-Musnad al-Sahih from
Abu Bakr Ibn Abi Shaybah and other than him from Sufyan and it is Gharib al-
Hadith. (Ibid p. 95)
3) And clearly Imam al-Suyuti shows that the first hadith and last hadith of Bukhari
are Gharib. (Tadrib al-Rawi, v. 3, pp. 164-165)
Hence, to do disparagement (jarh) based upon strangeness (gharaba) is rejected and
void! And the hadith of Ibn Umar is Sahih.
Second Reply-
To Zubayr Ali Zai-
As for the Muhaddithin, aberrant (shadh) has two definitions. For example
1) Imam al-Hakim says- As for shadh then it is that narration which a trustworthy
narrator (thiqa) narrates solely from thiqat (trustworthy narrators). And there is not
follow up of that thiqa narrator (Mutabi). (See Ma'rifat ulum al-hadith, p. 199 and
Tadrib al-Rawi, v. 1, p194-195)
Zubayr Ali writes over here that shadh is weak (da'eef) but in another place he writes
'if a trustworthy narrator (thiqa rawi) is alone, then this type of shadh is accepted' (al-
Hadith magazine, p. 45, no. 53)
2) Imam Shafi'i says:
ليس الشاذ من الحديث ان يروي الثقة و الا يروي غيره هذا ليس بشاذ. انما الشاذ ان يروي الثقة حديثا يخالف فيه
الناس هذا الشاذ من الحديث
(Ma'rifat ulum al-Hadith, p. 119 and Tadrib al-Rawi, v1, p193-194)
This means that a shadh hadith is that hadith in which a trustworthy (thiqa)
narrator is alone and no thiqa narrator has followed (mutaba'a) him up.
Shadh is that narration in which a thiqa narrator narrates something contrary to other thiqa narrators.
It should be kept in mind that according to the first definition of shadh, then it
confirms this hadith because it has been narrated solely (tafarrud) from thiqat
(trustworthy narrators). And tafarrud from thiqat is accepted according to most of the
Fuqaha and Muhaddithin. As for the second definition of shadh, then it also confirms
this hadith as the hadith does not contradict thiqat.
Note- Rather this hadith is not shadh from any angle, as there are follow ups
(shawahidat) which are authentically available and nor does it contradict thiqat, as it
is not hidden from the people of knowledge.
This shows that this objection is null and void and all praise is for Allah.
Third reply-
The narration of Ibn Umar in leaving raf'ul yadayn (raising of the hands) at the time
of ruku' is a trustworthy increase (ziyadat thiqa). And the ziyadat of the Sahih and
Hasan narrators are obligatory (wajib) to accept.
1) Imam al-Bukhari says that ziyada are accepted and that mufassar (the explained)
decides upon the vague (mubham) when narrated from authentic narrators (ahl al-
thabt).... he also said 'there is no difference in that some narration increase upon
others and the ziyada (additional wording) are accepted from the people of
knowledge'. (Bukhari, v. 2 p. 201 and the Juzz Raful Yadayn ascribed to al-Bukhari,
p. 58)
2) Imam al-Hakim said, “This is a condition of authenticity near to all the fuqaha
(jurisprudents) of Islam that ziyada in chains and texts from thiqa (narrators) are
accepted'... and he also said, 'Tafarrud (unique narrations) from thiqat are accepted'.
(Muqaddima Mustadrak p. 42 and Mustadrak v. 1 p. 91)
3) Imam Abu Bakr al-Khatib (al-Baghdadi) said that the majority of the fuqaha and
the companions of hadith (Ashab al-Hadith) have said that the ziyada of a thiqa is
accepted even if he is the sole narrator. (Al-Kifaya fi ilm al-riwaya, p. 424)
4) Imam Nawawi said that the acceptance of a ziyada from a thiqa is obligatory...
(Sharh Muslim lil-Nawawi, v.1, p. 219)
5) Imam Ibn Hajr said that a ziyada from a Sahih or hasan (good) narrator is
accepted, as long as something contrary to it doesn't occur... till he said... because it
is in the ruling of the independent (mustaqill) which a thiqah narrates alone. (Sharh
Nukhbat al-Fikr, p. 45-46) Because of this the narration of Ibn Umar is Sahih and objection to it is rejected and
void. And for Allah is all praise.
Tenth Objection-
Zubayr Ali writes that the text of this hadith shows that the Messenger of Allah
(sallallahu alaihi wa sallam), after migrating to Madina, he left doing raf'ul yadayn at
the time of ruku'. But it is established through authentic channels that the Prophet
(sallallahu alaihi wa sallam), used to raise his hands in Madina at the time of ruku'.
Then there is the hadith of Malik ibn al-Huwairith and Wa'il bin Hujr as narrated by
Bukhari and Muslim. Wa'il bin Hujr came to the Prophet (sallallahu alaihi wa sallam)
initially at the 9th year of Hijri and then again on the 10th year of Hijri. And in this
year as well he witnessed the performance of raf'ul yadayn. As is narrated by Abu
Dawud and Ibn Hibban.
First Reply-
Imam Ahmed mentioned the principle, 'The hadith in which the channels are not
gathered it would not be understood, some hadith clarify other hadith'. (Al-Jami' al-
Akhlaq al-Rawi lil-Khatib, v. 2, p. 212)
Based on this principle, if the narrations of Abdullah bin Umar (ra) are gathered then
the matter will become apparent.
1) From Ibn Umar marfu'an (raised back to him) that he would raise his hands in
ruku' and sujud. (Musannaf Ibn Abi Shayba v. 1 p. 266 it's chain is authentic
(Sahih))
2) From him (Ibn Umar) marfu'an that he used to raise his hands at every lowering,
rising, ruku, sujud, standing and sitting and between the two prostrations. (Mushkil
al-Athar lil-Tahawi, v. 1 p. 46 and it's chain is authentic (Sahih) and Bayan al-Wahm
wa-Ieham li Ibn al-Qattan, v. 5, p. 613 its chain is authentic)
3) And from him (Ibn Umar) marfu’an that he used to raise his hands during ruku
and when making sajda (Juzz Raf’ul yadayn lil-Bukhari, p. 48, and it is Sahih)
4) And from him (Ibn Umar) marfu’an that he would raise his hands with every
Takbir (Fath al-Mugith lil-Sakhawi, 2/323 and the additions of Faydur Rahman
(Ghayr Muqallid) to al-Bukhari’s Juzz on raf’ul yadayn, p. 68)
This means that Ibn Umar (ra) mentioned that it was a Madani practice to raise the
hands at the time of ruku' and sujud. And the narration of Malik ibn al-Huwairith
(ra) and Wa'il bin Hujr (ra) is also regarding the raising of the hands at the time of
Sujud. These are in agreement, not in disagreement. Hence this objection of contradiction is not correct, as the narration of Akhbarul Fuqaha is regarding after
these Sahaba saw this practice. For Allah is all praise.
Second Reply-
It should be remembered that from authentic narrations it is established that Malik
ibn al-Huwairith (ra), in his Madani life, performed raf'ul yadayn between the two
عن مالك بن الحویرث مرفوعا و اذا سجد و اذا رفع رأسھ من السجود حتي یحاذي بھما فروع اذنیھ (1-
example For. prostrations
(al-Mujtaba of Nasa'i, v1 p125 its chain is authentic, Sunan al-Kubra lil-Nasa’i, v. 1
p. 228, Musnad Ahmed it's chain is authentic)
عن مالك بن الحویرث مرفوعا و اذا رفع رأسھ من السجود فعل مثل ذالك كلھ یعني رفع یدیھ (2
(Al-Mujtaba of Nasa’i, 1/171 with a Sahih chain of transmission, Sunan al-
Kubra lil-Nasa’i, 1/228 with a Sahih chain of transmission, Al-Muhalla of Ibn
Hazm, 4/127-128 and he said it is Sahih (authentic))
عن مالك بن الحویرث مرفوعا كان یرفع یدیھ حیال فروع اذنیھ في الركوع و السجود(3
(Musnad Ahmed (5/66) and its chain is authentic and also in Sahih Abu Awana
(2/95) and he said sahih (authentic))
Note-
Malik ibn al-Huwairith (ra) in the 9th year of Hijri came on a caravan with Banu
Layth. And he spent 10 days with the Prophet as is mentioned in Bukhari. Then he
returned back to his hometown. Whereas Abdullah bin Umar (ra) and others were
with the Prophet (sallallahu alaihi wa sallam) until his demise and even remained in
Madina. And Malik witnessed the Salah’s of these individuals in which he saw them
leaving the raising of the hands between sujud (prostration).
So back to Ali Zai, what ever reply he gives for leaving the raising of the hands
between prostration, then that is the same reply we give for leaving it at the time of
ruku'.
Third Reply-
Likewise it is established from Wa'il bin Hujr (ra) via complete and authentic
narrations that he would raise his hands between prostrations. For example
عن واءل بن حجر مرفوعا و اذا رفع رأسھ من السجود ایضا رفع یدیھ حتي فرغ من صلوة(1
(Sunan of Abu Dawud its chain is authentic, Mu'jam al-Kabir of al-Tabarani, 22/28,
its chain is authentic, Tamheed (of ibn Abd al-Barr), 9/227, its chain is authentic,
Muhalla, 4/126, of Ibn Hazm and he said it is Sahih).
عنھ مرفوعا كان یرفع یدیھ اذا ركع و سجد(2
(Juz raf’ul-yadayn (of al-Bukhari), p. 45 and Sunan al-Daraqutni, 1/394, its chain is
authentic)
3) It is said likewise in Sahih ibn Khuzayma (1/346) and he said Sahih and Sunan
al-Tahawi (1/144) its chain is authentic.
Wa'il Ibn Hujr witnessed the raising of the hands at prostration (sajda) at the 9th
year of Hijri, and then he returned back to his hometown. Then in the 10th year of
Hijri he returned and prayed some Salah’s in which he witnessed the same
happenings. (Abu Dawud (1/112) with an authentic chain, Sharh al-Sunna lil-
Baghawi, 3/27-28, Mu'jam al-Kabir of al-Tabarani, 22/39).
Then, Wa'il Ibn Hujr again returned back to his hometown. Within 80-90 days of his
departing, the Prophet (sallallahu alaihi wa sallam) passed away. And these Salah’s
in the last few days were surely witnessed by Ibn Mas'ud, Ali, Ibn Umar, Bara ibn
Aazib (radiallahu anhum) and others. They bear witness that the Prophet (sallallahu
alaihi wa sallam) left the raising of the hands at the time of ruku' and sujud. And
simply carried on raising of the hands at the beginning of the Salah. This is without a
doubt an evidence for abrogation.
For Allah is all praise!

اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
#قسط_اول 
اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ
_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )
قسط (١)

قد روى الإمام الحافظ ابو عبدالله محمد بن حارث الخشني القيروانی ، قال حدثنی عثمان بن محمد قال قال لي عبيد الله بن يحيى حدثنی عثمان بن سوادة بن عباد عن حفص بن میسرة عن زید بن اسلم عن عبدالله بن عمر قال : كنا مع رسول الله صلی الله عليه وسلم بمكة نرفع ایدینا فی بدء الصلاة وفي داخل الصلاة عندالركوع فلما هاجر النبی صلی الله عليه وسلم الى المدينة ترک رفع اليدين في داخل الصلاة عند الركوع وثبت علی رفع اليدين في بدء الصلاة 
( اخبار الفقہاء والحدثین صفحہ : ۲۱۴ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان )

ترجمہ : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں نماز کے شروع اور درمیان میں رکوع کے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان نماز رکوع کے وقت رفع الیدین کرنا ترک فرما دیا اور صرف شروع نماز میں ہی کرتے رہے۔

سند کی تحقیق
صاحبِ کتاب امام ابوعبداللہ محمد بن حارث القیروانی رحمہ اللہ
( ١ ) ۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : الحافظ الامام    ( تاریخ الاسلام ،  تذکرة ، سیر اعلام النبلاء )

( ۲ ) ۔۔۔۔ امام ابراہیم بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان حافظا للفقه متقدما فيه نبيها ذكيا فقيها فطنا متفننا عالما    ( الدیباج المذهب ج ۲ ، ص ۲۱٢ )

( ۳ ) ۔۔۔۔ امام محمد بن فتوح الحمیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : من اهل العلم والفضل فقيه محدث    ( جذوة المقتبس ج ١ ، ص ۵۳  )

( ۴) ۔۔۔۔ امام احمد بن یحییٰ الضبیرحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں : من اهل العلم والفضل فقيه محدث    ( بغیة الملتمس ج ١ ، ص ٧١ )

( ۵ ) ۔۔۔۔ علامہ خیرالدین زرکلی فرماتے ہیں : مؤرخ من الفقهاء الحفاظ    ( الاعلام ج ٦ ، ص ٧۵ ) 

( ٦ ) ۔۔۔۔ امام ابن الفرضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان حافظا للفقه عالما بالفتيا حسن القياس    ( تاریخ علماءالاندلس ج ٢ ، ص ١١۵ ) 

( پہلا راوی ) عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک القبری رحمہ اللہ
( ١ ) ۔۔۔۔ امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں : كان معتنيا بالعلم حافظا للمسائل عاقدا للشروط مفتی اهل موضعه    ( تاریخ علماء الاندلس ج ۱ ص ٣۴٧ )

( ۲ ) ۔۔۔۔ امام خالد بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ممن عنى بطلب العلم و درس المسائل وعقد لوثائق مع فضله     ( اخبار الفقہاء والحدثین ص ٢١٦ )

( دوسرا راوی ) امام عبید الله بن یحیی القرطبی رحمہ اللہ
( ١ ) ۔۔۔۔ امام قیروانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان عاقلا وقورا وافر الحرمة عظيم الجاه بعيد الاسم تام المروءة عزير النفس عزیز المعروف نهاضا۔بالاثقال مشاورا في الأحكام     ( اخبار الفقہاء والحدثین ص ١٧٠ )

( ۲ ) ۔۔۔۔ امام محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقة ( ملخصا ایضا ص ١٧٢ ) 

( ۳ ) ۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان جيلا نبيلا كبير الشان الفقيه الامام المعمر مسند القرطبة    ( تاریخ الاسلام ، سیر اعلام النبلاء ) 

( ۴ ) ---- امام ابن الفرضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان رجلا عاقلا کریما عظيم المال والجاه مقدما في المشاورة في الأحكام منفردا برئاس البلدغير كدافع    ( تاریخ علماءالاندلس ج ١ ، ص ٢٩٣ ) 

( تیسرا راوی ) عثمان بن سوادہ القرطبی رحمہ اللہ
( ١ ) ۔۔۔۔ امام ابن الفرضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان عثمان بن سوادة ثقة مقبلا عند القضاة والحكام و كان من اهل الزهد والعبادة وكثرة التلاوة    ( تاریخ علماءالاندلس جلد ١ ، ص ٣۴٦ )

( ۲ ) ۔۔۔۔ امام عبید اللہ بن یحیی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان عثمان ثقة مقبولا عند القضاة والحكام و كان من اهل الخير والفضل    ( اخبار الفقہاء والمحدثین ص ٢١۴ )

 ( چوتھا راوی ) امام حفص بن میسرہ رحمہ اللہ ( 1 ) ۔۔۔۔ امام ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقة    ( تاریخ ابن معین برقم : ۵۰۳۸ )

( ۲ ) ۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ليس به باس    ( الجرح والتعدیل برقم ۸۰۹ )

( ۳ ) ۔۔۔۔ امام ابوحاتم رازی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں : صالح الحديث ( ايضًا ) 

( ۴ ) ۔۔۔۔ امام ابوزرعہ رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لا باس به ( ایضًا )

( ۵ ) ۔۔۔۔ حافظ ذہبی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان من العلماء الأتقياء له مواعظ المحدث الامام الثقة      ( تاریخ الاسلام ، سیر اعلام النبلاء ، لمن تكلم فيہ وھو موثق برقم : ۹۰ )

( پانچواں راوی ) امام زید بن اسلم المدنی رحمہ اللہ
( ١ ) ۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقة       ( الجرح والتعدیل برقم : ۲۵۱١ )

( ٢ ) ۔۔۔۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقة    ( ایضًا )

( ۳ ) ۔۔۔۔ امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقة    ( ايضًا )

( ۴ ) ۔۔۔۔ امام ابن سعد  رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كان ثقة كثير الحديث    ( الطبقات الکبری ۱٢١۴ )

( ۵ ) ۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقة عالم    ( تقریب برقم ۲۱۱۷ )

اور چھٹے راوی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

خلاصہ کلام کہ یہ روایت بلکل صحیح اور ثابت ہے الحمدللہ

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔