Showing posts with label نظریہ وحدت الوجود پر تحریری مناظرہ. Show all posts
Showing posts with label نظریہ وحدت الوجود پر تحریری مناظرہ. Show all posts

Thursday, 18 June 2020

تحقیق مسئلہ وحدۃ الوجود

تحقیق مسئلہ وحدۃ الوجود
حسین بن منصورحلّاجؒ کے حالات کو جاننے کے لئے سب سے پہلے مسئلہ وحدۃالوجودکی حقیقت کو واضح کرنا ہوگا جسکے غلط عنوان سے مخالفین اسلام نے ایک شور برپاکیااور عام اور لاعلم مسلمانوں کو بہت بہکایا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ ابن منصورحلّاجؒ اور ابن عربیؒ کواس مسئلے میں بہت زیادہ بدنام کیا جاتا ہے۔ کبھی کہاجاتا ہے کہ وہ خالق ومخلوق میں اتحاد مانتے ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ مخلوق میں خدا کے حلول کے قائل ہیں، اور اس مغالطہ کا اصل منشاء مسئلہ وحدۃالوجودکی حقیقت سے بیخبری ہے۔ اس لئے مختصراًعرض ہے کہ یہ مسئلہ نہ مقاصد تصوف سے ہے، نہ مقامات سلوک میں اسکا شمارہے۔ چنانچہ سلف میں اس کامفصل تذکرہ تحریراً یا تقریراً نہ تھا، صرف ابہام کے درجہ میں کہیں کہیں اس کے آثار کا ظہور ہوجاتا تھا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ معنون تھا، عنوان نہ تھا، پھر خلف میں اس کا عنوان ظاہر ہوا، اور مختلف تعبیرات سے ظاہرہوا۔ اسی لئے بعض لوگ غلطی میں پڑگئے اور دوسروں کو مغالطہ دینے لگے۔
اس مسئلہ کی حقیقت معلوم کرنے سے پہلے یہ امر اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیئے کہ اسلام کے تمام فرقے اﷲتعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین اور اتفاق رکھتے ہیں۔ اسلام میں توحید کی جیسی سادہ، بے تکلف اور صاف تعلیم ہے۔ جس کی نظیرکوئی مذہب پیش نہیں کرسکتا۔ محققین کے نزدیک اسلام کی سرعت اشاعت کا بڑاسبب یہی ہے کہ توحیدکی تعلیم جیسی اسلام میں ہے کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ خصوصیت کے ساتھ صوفیہ کرام سب سے زیادہ عقیدۂ توحید کے علمبردارہیں کیونکہ دوسروں کے نزدیک تو یہ مسئلہ محض عقلی ونقلی ہے۔ مگرصوفیہ کرامؒ کے نزدیک کشفی اور بدیہی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیہ کرامؒ کے کلام میں توحید کا ذکر دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ پس ان کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو توحیداسلامی کے خلاف یاکسی درجے میں بھی اس کے منافی ہو بہت بڑا ظلم ہے۔ حضرات صوفیہ نے غلبۂ حال میں جن مختلف عنوانات سے اپنے ذوق کو تعبیرکرنا چاہا۔ بعض لوگوں نے اس کے سمجھنے میں غلطی کی اور غلطی کے ازالہ کا جو طریقہ تھا ان کے اس کلام کی طرف رجوع کیا جاتا جو حالتِ صحومیں انھوں نے فرمایاہے، اس سے کام نہیں لیا گیا۔
وحدۃ الوجودکا صحیح مطلب
امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیریؒ (متوفی: ۴۶۵)لکھتے ہیں: ’’کہاجاتاہےکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جوافعال ہوتے دیکھتے ہیں، واقعات ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جن پرحقیقت کھل جاتی ہے تووہ اﷲکے سواہرچیزکومحسوس کرنے سے عاری ہوجاتے ہیں چنانچہ وہ اپنے دل میں سب کوباطنی طورپرایک ہی جگہ اکھٹے دیکھتے ہیں اورجب انہی چیزوں کودنیامیں دیکھتے ہیں توہرچیزکاایک الگ وجودنظرآرہاہوتاہے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۷)
عقیدۂ وحدۃالوجودبزبان حضرت جنیدبغدادیؒ: ’’حضرت جنیدؒسےکسی نے توحیدکے بارے میں پوچھاتوفرمایاکہ میں نے کسی شاعرسےاس بارے میں یہ سناتھا۔
"میرےدل میں ایک آرزوگنگنانے لگی (کہ توحیدکیاہے؟) تومیں نے بھی یہی گنگناناشروع کردیاچنانچہ جہاں وہ (توحیدسےواقف) تھے، ہم بھی وہاں تھےاورجب وہ وہاں تھے ہم بھی اسی وقت میں تھے۔"
یہ سن کراس قائل نے پوچھاکہ قرآن وحدیث ختم ہوگئے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، موحدایک ادنیٰ اورآسان طریقے سےبھی توحیدکابلندمقام تلاش کرلیتاہے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۸)
مولاناتقی عثمانی حفظ اﷲفرماتے ہیں: ’’وحدۃ الوجود کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجودصرف ذات باری تعالیٰ کی ہے، اس کے سوا ہروجود بے ثبات، فانی اور نامکمل ہے۔ ایک تو اس لئے کہ وہ ایک نہ ایک دن فنا ہوجائے گا، دوسرے اس لئے کہ ہرشئی اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالیٰ کی محتاج ہے، لہٰذاجتنی اشیاءہمیں اس کائنات میں نظرآتی ہیں، انہیں اگرچہ وجود حاصل ہے لیکن اﷲکے وجود کے سامنے اس وجود کی کوئی حقیقت نہیں، اس لئے وہ کالعدم ہے۔
اس کی نظیریو سمجھئے جیسے دن کے وقت آسمان پرسورج کے موجود ہونے کی وجہ سے ستارے نظرنہیں آتے، وہ اگرچہ موجود ہیں، لیکن سورج کا وجود ان پر اس طرح غالب ہوجاتا ہے کہ ان کا وجود نظر نہیں آتا۔
اسی طرح جس شخص کو اﷲنے حقیقت شناس نگاہ دی ہو وہ جب اس کائنات میں اﷲتعالیٰ کے وجود کی معرفت حاصل کرتا ہےتو تمام وجود اسے ہیچ، ماند، بلکہ کالعدم نظرآتے ہیں‘‘۔ (فتاویٰ عثمانی: جلداوّل، کتاب الایمان والعقائد: ص۶۶)
’’حضرت جنیدؒنے فرمایاکہ اﷲکی توحیدبیان کرتے وقت سب سے بہترین بات جوہم کہہ سکتے ہیں، وہ ہےجسے حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲعنہ نے بیان فرمایاتھا:
"پاک ہے وہ ذات کہ جس نے اپنی مخلوق کو اپنی پہچان کاراستہ نہیں دیابلکہ اپنی ذات کی پہچان سے عاجزکردیاہے۔"
استاذابوالقاسم القشیریؒ نے فرمایاکہ حضرت صدیق اکبررضی اﷲعنہ کے فرمان کایہ مطلب ہرگزنہیں کہ اﷲتعالیٰ کی پہچان ممکن ہی نہیں کیونکہ ہرایک کویہ بات معلوم ہے کسی شئے سے عجزتبھی ہوتاہے جب وہ موجودہواورمعدوم نہ ہوجیسے ایک اپاہج اپنے عمل دخل سے بیٹھ توسکتانہیں لیکن اگروہ صحیح ہوجائے تواس میں بیٹھنے کی صفت موجودہے بالکل یونہی اﷲکاعارف یعنی اس کی پہچان کرنے والا، اس کی پہچان سے عاجزہوتاہےحالانکہ پہچان کرلینے کی صفت اس میں موجودہوتی ہےکیونکہ عارف میں معرفت ہوتوعارف ہوگالیکن صوفیہ کے ہاں انتہاءمیں معرفت کاپایاجاناضروری ہوتاہے چنانچہ ابتداءمیں کسبی معرفت اگرچہ حقیقۃًمعرفت ہی کہلاتی ہے لیکن حضرت صدیق اکبررضی اﷲعنہ نے ضروری معرفت کے مقابلے میں اسے اہمیت نہیں دی جیسے روشن سورج کے سامنے ایک جلتے چراغ کی روشنی کی حیثیت نہیں ہوتی‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۵)
مشہورغیرمقلدعالم حافظ عبداﷲمحدث روپڑی فتویٰ اہلحدیث میں توحید کی چاراقسام بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’یہ چار قسمیں توحید کی صوفیاء کے ہاں مشہور ہیں۔ اخیر کی دو وہی ہیں جن کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے یعنی توحید حالی وحدۃ الشہود ہے اور توحید الٰہی وحدۃ الوجود ہے۔ یہ اصطلاحات زیادہ تر متاخرین صوفیاء(ابن عربی وغیرہ) کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔ متقدمین کی کتب میں نہیں۔ ہاں مراد ان کی صحیح ہے، توحید ایمانی اور توحید علمی تو ظاہر ہے توحید حالی کا ذکر اس حدیث میں ہے: "ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک"۔ "یعنی خدا کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تواس کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو نہ دیکھے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے"۔
یہ حالت چونکہ اکثر طور پر ریاضیت اور مجاہدہ سے تعلق رکھتی ہے ، اس لیے یہ عقل سے سمجھنے کی شئے نہیں ہاں اس کی مثال عاشق ومعشوق سے دی جاتی ہے۔عاشق جس پر معشوق کا تخیل اتنا غالب ہوتا ہے کہ تمام اشیاء اس کی نظر میں کالعدم ہوتی ہیں‘ اگر دوسری شئے کا نقشہ اس کے سامنے آتا ہے تو محبوب کاخیال اس کے دیکھنے سے حجاب ہو جاتا ہے گویا ہر جگہ اس کو محبوب ہی محبوب نظر آتا ہے خاص کر خدا کی ذات سے کسی کو عشق ہو جائے تو چونکہ تمام اشیاء اس کے آثار اور صفات کا مظہرہیں اس لیے خدائی عاشق پر اس حالت کا زیادہ اثر ہوتا ہے یہاں تک کہ ہر شئے سے اس کو خدا نظر آتا ہے وہ شئی نظر نہیں آتی ہے جیسے شیشہ دیکھنے کے وقت چہرے پر نظر پڑتی ہے نہ کہ شیشہ پر‘‘۔ (فتاویٰ اہلحدیث: ج۲، ص۱۵۳)
مشہورغیرمقلدعالم علامہ اسماعیل سلفی فرماتےہیں: ’’مسئلہ درست تھا، اگرتعبیرناپسندتھی تو اسے بدل دیاجاتالیکن یہاں کوئی پرانابغض تھاجسے نکالناضروری سمجھاگیااورفتووں کی مشین تان دی گئی اورکفرکے انبار انڈیل دیئے گئے‘‘۔ (تحریک آزادیٔ فکر: ص۲۹)

شہادتِ حسین بن منصورحلّاج رحمہ اﷲتحقیق کے آئینے میں

بسم الله الرحمن الرحیم
شہادتِ حسین بن منصورحلّاج رحمہ اﷲتحقیق کے آئینے میں
حُرفِ آغاز
اس تحریرکے آغاز سے پہلے میں قارئین کرام کو یہ باور کروانا چاہتاہوں کہ اس تحریرکے لکھنے سےنہ تو مجھے کوئی مالی نفع حاصل ہوگا اور نہ ہی دنیاوی شان و شوکت حاصل ہوگی بلکہ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کے منظرعام پرآجانے کے بعد آج کےلاعلم مسلمان حسین بن منصورحلّاجؒ اور ان کی تائید میں کتابیں لکھنے والے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور حضرت مولانا ظفراحمدعثمانیؒ کی طرح مجھ پربھی لعن طعن کرتے ہوئےکافروزندیق ہونےکے فتوے لگائیں۔ لیکن جو لوگ دلائل کے ساتھ حق بات  کوسمجھنے اورقبول کرنے والے ہیں وہ میری اس تحریرسے ضرور استفادہ حاصل کریں گےانشاءاﷲ۔
کسی بھی شخص کو کافریازندیق کہنا بہت آسان ہے جس کے لیےصرف دوالفاظ اور ایک لمحہ ہی کافی ہوتاہے۔ لیکن کسی ایسےشخص کوجس پرکافروزندیق ہونے کا الزام لگاکرقتل کیا گیا ہو، دلائل کےساتھ مومن مسلمان اورولی اﷲثابت کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ بڑی جرٔت اور حوصلے کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے لاعلم اورکم علم وکم فہم علماء بناتحقیق کیئے بڑی آسانی کے ساتھ حسین بن منصورحلّاجؒ کو کافروزندیق کہہ کراپنی جان چھڑالیتےہیں اوراس مسئلے میں عام اورلاعلم مسلمانوں کو بے وقوف بنارہے ہیں اوراہل اﷲسے بدگمان کررہے ہیں۔ لیکن ہر دور میں جہاں علماءِ سُو مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں مشغول رہے ہیں وہیں علماءِ حق بھی مسلمانوں کی اصلاح و رہنمائی کرنے میں ہردور میں کوشاں رہے ہیں۔ ان ہی علماءِ اہل حق میں سے قابل ذکرنام حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور ان کے شاگردِخاص حضرت مولانا ظفراحمدعثمانیؒ کا ہے جنہوں نے حسین بن منصورحلّاجؒ پرلگائے گئے الزامات کے مدلل ، علمی اور تحقیقی جوابات اپنی کتاب’’القول المنصورفی ابن منصور-سیرت منصورحلّاج‘‘میں دیکرعام اورلاعلم مسلمانوں کو گمراہ ہونے اوراہل اﷲسے بدگمان ہونے سے بچایاہے۔
میری اس تحریرکااصل مقصد ان لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے جو لاعلمی کے سبب چند لوگوں کے پیش کردہ نہایت قلیل اوریک طرفہ دلائل پڑھ کرولی اﷲاوربزرگ ہستیوں پرلعن طعن کرتے ہیں اور انہیں کافر وزندیق کہہ کراپنی عاقبت خراب کرتے ہیں اور قرآن مجیدکی اس آیت کا مصداق بنتےہیں۔’’وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا‘‘۔ ’’اور جو ایمان دار مردوں اور عورتوں کو ناکردہ گناہوں پر ستاتے ہیں سو وہ اپنے سر بہتان اور صریح گناہ لیتے ہیں‘‘۔ [سورۃ الاحزاب:۵۸]
اور ساتھ ہی نبی کریمﷺکےفرمان کامصداق قرار پاتے ہیں: ’’حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "‏لاَ يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلاً بِالْفُسُوقِ، وَلاَ يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلاَّ ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ‏"‘‘۔ ’’حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اورکافر ہو جائے گا‘‘۔ (صحیح البخاری: کتاب الأدب، باب مَا يُنْهَى مِنَ السِّبَابِ وَاللَّعْنِ ، جلد نمبر ۸، رقم الحدیث ۶۰۴۵)
امام ابو داؤدؒ روایت کرتے ہیں کہ: ’’حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم"يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الإِيمَانُ قَلْبَهُ لاَ تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلاَ تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ"‘‘۔ ’’حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے وہ لوگو جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو مگرایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا"“۔ (صحیح سنن ابی داؤد: كتاب الأدب، باب فِي الْغِيبَةِ، ج۳، ص ۱۹۷، رقم الحدیث ۴۸۸۰؛ قال الشيخ الألبانی: حسن صحيح)
امام ابو داؤدؒ روایت کرتے ہیں کہ: ’’حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَجَلَسَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ "مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ عَنْهُ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ"‏۔ ’’یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے "جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے"“۔ (صحیح سنن ابی داؤد: كتاب الأقضية، باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا، ج۲، ص ۳۹۶، رقم الحدیث ۳۵۹۷؛ قال الشيخ الألبانی: حسن صحيح)
مندرجہ بالا آیت و احادیث کی روشنی میں آئمہ احناف کا مؤقف یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کی زبان سےکوئی ایسا کلمۂ کفر نکل جائے جس سے صحیح اور غلط دونوں معنیٰ مراد لیئے جاسکتے ہوں تو ایسی صورت میں وہی معنیٰ مراد لینا چاہیئے جو صحیح ہو، خصوصاًجب دوسرے قرائن اور شواہد اس کی تصدیق کرتے ہوں۔
میری اس تحریرسے ہرگزہرگزیہ تاثر بھی نہ لیا جائے کہ میری یہ تحریرحسین بن منصورحلّاجؒ کی ہمایت میں اوراس دورکے قاضی اور مفتیان کرامؒ کی مخالفت میں لکھی گئی ہےجنہوں نے حسین بن منصور حلّاجؒ کے قتل کے فتویٰ پردستخط کیئے۔ کیونکہ شریعت کے قوانیں ظاہری اعمال وشواہدکی بنیادپر لاگوہوتے ہیں، باطنی اعمال پرنہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ظاہر کے مکلف ہیں باطن کے نہیں، لہٰذا جب کوئی عمل شواہدکی بنیاد پرواضح طورپرثابت ہوجائے توشریعت کاحکم اس ظاہری عمل پرعائد ہوتا ہے بھلے اس انسان کاباطن کتنا ہی اچھاکیوں نہ ہو۔ اس دور کے علماءومفتیان کرامؒ نے بھی حسین بن منصورحلّاجؒ کے ظاہری عمل اورشواہدکی بنا پر فتویٰ صادر کیاتھا باطن پرنہیں، بھلے ان کا باطن کتنا ہی اچھاکیوں نہ تھا، اس لئے کہ شریعت ظاہری دلائل کے قبول کرنے کی پابند ہے جبکہ کسی انسان کے باطن پرکسی بھی قسم کی دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس کی مثال کچھ اس طرح سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقین دیدے اوربعدمیں کہے کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی تو شریعت میں اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گااور طلاق واقع ہوجائے گی بھلے حقیقت میں اس کی نیت ایک ہی طلاق کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس دور کے علماء ومفتیان کرامؒ کے اس فیصلے کو شریعت کے خلاف نہیں سمجھتےکیونکہ انہوں نےان ہی شواہدپرفتویٰ دیا جو شواہد ان کے سامنے رکھے گئے اور ان ناکافی شواہد پرفتویٰ دینے کےلئےانہیں مجبورکیاگیا۔
آج کےاِس پُرفتن دورمیں اس فتویٰ کی بنیاد پرعام اور لاعلم مسلمانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے اوران بزرگ ہستیوں سے بدظن کرکے ان پرلعن طعن کیاجارہا ہےاور ان پرایسے ایسے الزامات لگائے جارہے ہیں جن کے وہ کبھی بھی حقدار نہ تھے۔ میری اس تحریرکا حقیقی مقصدایسے ہی لوگوں کا رد کرنا ہے جو عام اورلاعلم مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی عام مسلمانوں کو یہ پیغام بھی پہنچانا ہے کہ اس مسئلہ میں خاموشی اختیارکی جائے اوران بزرگ ہستیوں کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جائے اوران کے تمام معاملات کو اﷲتبارک وتعالیٰ کے سپردکردیاجائےکیونکہ وہ دلوں کے بھیدبہترجاننے والاہے۔
مقدمہ
اہل اَﷲمقبولین کی آزمائش مختلف طریقوں سے ہردور میں ہوتی رہی ہیں، انبیاء علیہم السلام کی آزمائش وامتحان تو انتہائی اعلیٰ درجہ ومعیار پرہوئیں ہیں۔ جیساکہ ہمارے پیارے نبی رسول اﷲﷺاوردوسرےانبیاءعلیہم السلام کی آزمائشوں کی گواہی قرآن و حدیث کے مطالعہ سے واضح ہوکرسامنے آچکی ہے۔ امت مسلمہ میں ہردورمیں ایسے بیشترافرادموجود رہے ہیں جن کو آزمائش کی ان منزلوں سے گزرناپڑاہے جہاں بڑے بڑوں کی پتہ پانی ہوجاتا ہے۔ دورِصحابہ وتابعین رضوان اﷲعلیہم اجمعین کے واقعاتِ عشق الہی سے قطع نظربعدکے ادوار پر سرسری نظر ڈالی جائے تو بھی امتحانات و آزمائشوں کی فہرست بہت طویل ہوجاتی ہے۔ اسی طویل فہرست میں حسین بن منصورحلّاجؒ’’اناالحق‘‘کا اسم گرامی بھی سنہرے حروف سے لکھاگیا ہے۔
حسین بن منصورحلّاجؒ کی آزمائش کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے آغاز سے چودھویں صدی کے نصف تک امت مسلمہ کے بڑے بڑے ائمہ اوراکابرین میں ان کی عظمت وشان سے قطع نظران کی دیانت وامانت کے بارے میں عجیب قسم کے شکوک وشبہات موجودرہے ہیں۔ اس لئے کہ تاریخی روایات میں روایتی تساہل نے اپنی رنگ آمیزی خوب خوب طریقے سے کی ہے۔ تاہم چیدہ چیدہ علماءدین اور عارفین نے روایاتِ تاریخ کو تحقیق کی سان پرپرکھ کرحسین ابن منصورؒکوعارف باﷲاور فنافی اﷲکے بلندمقام پرفائزپایاہے۔
حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے انہی تحقیقات پرروشنی ڈالی تو حسین بن منصورؒ کی آزمائش کو امت مسلمہ کے عظیم محسن امام احمدبن حنبلؒ کی آزمائش کی مماثل بتایاہے۔ اس حقیقت کی وضاحت کی غرض سے حکیم الامتؒ نے حسین بن منصورؒ کے بارے میں جس قدرمواد و تاریخی روایات اور تحقیقی اشارات کی صورت میں جو کچھ صحیح سند سے میسر آسکاسب کو جمع کیا اور اپنے خادمِ خاص حضرت مولانا ظفراحمدعثمانیؒ کو اس جمع شدہ مواد کی روشنی میں شیخ فنافی اﷲحسین بن منصورحلّاجؒ کی ایسی مکمل سوانح حیات مرتب کرنے کاحکم فرمایا جس میں حسین بن منصورحلّاجؒ کی جلالت و شان اور عرفان وعشقِ الہی کے مقام بلندکی وضاحت کے ساتھ ساتھ الزامات واعتراضات اور شکوک و شبہات کا بھی پردہ چاک ہوجائے۔سوانح حسین بن منصورؒکی تکمیل ہونے کے بعد حکیم الامتؒ نے خود ہی اس سوانح کا نام’’القول المنصورفی ابن منصور‘‘ تجویزفرمایا۔ اس تحریرکا تاریخی مواداورروایات واشارات کتاب’’القول المنصورفی ابن منصور-سیرت منصورحلّاج‘‘سے لیاگیا ہے اورقارئین کےاطمینان کے لئے اُن اصل کتابوں کے حوالہ جات اور اسکین صفحات بھی پیش کیئے گئے ہیں جن کتابوں سے حکیم الامتؒ نے استفادہ کیاہے۔
اولیاءاﷲکی باتوں کو سمجھنا ہرکسی کے بس کا کام نہیں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: ’’کسی غیرمقبول کے ساتھ حسن ِظن رکھنا مضرنہیں، اور مقبول سے بالاوجہ بدگمانی کرنامضرہےاسکی ایسی مثال ہے کہ کسی رذیل(یعنی بے حیا، بے شرم، بے غیرت، کم ذات) کے ساتھ شریفوں جیسامعاملہ کرنا بُرانہیں لیکن کسی شریف کے ساتھ رذیلوں جیسا برتاؤبہت ہی بُراہے‘‘۔ (القول المنصورفی ابن منصور-سیرت منصورحلّاج: ص۱۷)
الإمام أبی المواهب عبد الوهاب بن أحمد بن علی الأنصاری الشافعی المشهور بالشعرانیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’وكان الشيخ محيي الدين رضي الله عنه يقول: كثيراً ما يهب على قلوب العارفين نفحات إلهية، فإن نطقوا ا جهلهم كمل العارفين وردها عليهم أصحاب الأدلة من أهل الظاهر، وغاب عن هؤلاء أن الله تعالى كما عطى أولياءه الكرامات التي هي فرع المعجزات، فلا بد أن ينطق ألسنتهم بالعبارات التي تعجز العلماء عن فهمها۔
قلت: ومن شك في هذا القول: فلينظر في كتاب المشاهد للشيخ محيي الدين؛ أو كتاب الشعائر لسيدي محمد، أو في كتاب خلع النعلين لابن قسي، أو كتاب عنقاء مغرب لابن العربي، فإن أكبر العلماء لا يكاد يفهم منه معنى مقصوداً لقائله أصلاً، بل خاص بمن دخل مع ذلك المتكلم حضرة القدس، فإنه لسان قدسي لا يعرفه إلا الملائكة، أو من تجرد عن هيكل البشرية، أو أصحاب الكشف الصحيح‘‘۔ ’’شیخ محی الدین ؒ(ابن عربی)کا ارشادہےکہ بسااوقات قلوب عارفین پرتجلیاتِ الٓہیہ کی ہوائیں چلتی ہیں۔ اگروہ ان کو زبان سے بیان کردیں تو بعض دفعہ عارفین کاملین بھی انکونہیں سمجھتے اور اہل ظاہرتوردہی کردیتے ہیں۔ مگران لوگوں کے ذہن سے یہ بات اس وقت غائب ہوجاتی ہےکہ جب اﷲتعالیٰ نے اپنے اولیاءکوکرامات عطا فرمائی ہیں جو معجزات کی فرع ہیں تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اﷲتعالیٰ انکی زبانوں کوایسی عبارات بھی عطا فرمائیں جن کے سمجھنےسےعلماءعاجزہوجائیں، انتہیٰ جس کو اس قول میں شک ہووہ شیخ ابن عربی کی کتاب المشاھدیاسیدی محمدی کی کتاب الشعائریا ابن قسی کی کتاب خلع النعلین یا شیخ ابن عربی کی کتاب عنقاءمغرب مطالعہ کرے، کہ بڑےبڑےعلماء ان کا مطلب نہیں سمجھ سکتے، ان کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو اس متکلم کے ساتھ بارگارہِ قدس میں داخل ہوا ہوکیونکہ یہ قدسی زبان ہےجسکوملاٹکہ ہی سمجھ سکتے ہیں یا وہ جوبشریت کی قید سے خلاصی پاچکے، یا وہ جن کوکشفِ صحیح عطاہواہے‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی:ج۱، ص۲۸-۲۹)
’’ہمارے زمانے میں حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتویؒ کی کتاب آب حیات کامطالعہ کرنے کے باوجوداردوزبان میں ہونیکے بڑےبڑےعلماء اسکے سمجھنے سے قاصر ہیں نیزحضرت مولانا محمداسماعیل صاحب دہلویؒ شہیدکی کتاب عتقات اور حضرت شاہ ولی اﷲدہلویؒ کی کتاب تفہیماتِ الٓہیہ کا مطالعہ کیا جائے کہ اکثر اہل علم انکے بہت سے مقامات نہیں سمجھ سکتے‘‘۔ (القول المنصورفی ابن منصور-سیرت منصورحلّاج: ص۱۷)
اہل علم کے مندرجہ بالا اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اولیاءاﷲکی زبان سے نکلے ہوئے کلمات کو سمجھنا ہر انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔ اور اسی ناسمجھی کے سبب اولیاءاﷲوجماعت صوفیہ پر لعن وطعن ہر دور میں ہوئی ہے۔ ذوالنون مصریؒ اور ابویزیدبسطامیؒ کے وقت سے آج تک ہرزمانے میں یہ لعن طعن برابرہوتی رہی ہے، بلکہ سیدی ابراہیم دسوقیؒ نے نقل کیا ہےکہ بعض لوگوں نے تو صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت پرطعن کیاہے۔ کسی کو ریاءکارکہا، کسی کو منافق ۔ چنانچہ حضرت زبیررضی اﷲعنہ نماز بہت خشوع سے پڑھتے تھے، تو بعض لوگ ان کو معاذاﷲریاءکار کہتے تھے۔ یعنی ہر دور میں ایسے کم فہم لوگ رہے ہیں جنہوں نے اہل اﷲکی مخالفت کی ہے، جس کی دلیل قرآن مجیدکی یہ آیت ہے: ’’وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا‘‘۔’’ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا، کیا تم ثابت قدم رہتے ہو، اور تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے‘‘۔ [سورۃ الفرقان:۲۰]
الإمام أبی المواهب عبد الوهاب بن أحمد بن علی الأنصاری الشافعی اللشعرانیؒ نےاپنی کتاب الطبقات الکبریٰ اللشعرانی میں ان واقعات کو تفصیل سے نقل کرتے ہوئے لکھاہےکہ:
۱۔ سہل بن عبداﷲرضی اﷲعنہ کو ان کے وطن سے نکالاگیا۔ انکی طرف بہت سی بُری بُری باتیں منسوب کی گئیں۔ کافر تک کہاگیا۔ چنانچہ وہ اپنے وطن سے بصرہ آئے اور مرتے دم تک وہیں رہے، حالانکہ علم ومعرفت ومجاہدات میں بڑے درجہ پرتھے۔
۲۔ شیخ ابوالحسن حصری رضی اﷲعنہ پر بھی کفر کاحکم لگایاگیا۔ ان کے کچھ الفاظ ایک محضرمیں لکھ کرقاضی القضاۃ کے سامنے پیش کیئے گئے۔ قاضی نے ان کو بلایا اور ان سے گفتگوکی، نتیجہ یہ ہواکہ ان کو جامع مسجد میں بیٹھنے (اور حلقہ قائم کرنے)سے روک دیا گیا۔
۳۔ امام غزالیؒ کی بھی تکفیر کی گئی اور انکی کتاب احیاء کو جلایاگیا، امام غزالیؒ پرانکارکرنے اور کتاب کے جلانے کا فتویٰ دینے والوں میں قاضی عیاض اور ابن رشدؒ بھی تھے۔
۴۔ ابویزیدبسطامیؒ کو سات مرتبہ ان کے شہرسے جلاءوطن کیاگیا۔
۵۔ اسی طرح علماءاخمیم نے ذوالنون مصریؒ کے خلاف شوروشغب کیا اور کشتی میں سوار ہوکرسلطان مصر کی طرف چلے، تاکہ ذوالنونؒ کے کفرپرشہادت دیں، اُن کو اسکا علم ہوا، تو فرمایااے اﷲاگریہ لوگ جھوٹے ہوں، تو انہیں غرق کردیجئے، چنانچہ کشتی لوٹ گئی اور لوگوں کی نظروں کے سامنے سب غرق ہوگئے۔ ذوالنون مصریؒ کی شکایت بعض حکام تک پہنچائی گئی، تو ان کو بغداد تک اس صورت سے لایا گیاکہ گلے میں طوق تھا اور پیروں میں بیڑیاں، جب خلیفہ نے ان سے گفتگوکی تو ان کے کلام کی صولت و شوکت سے متاثرہوکربے ساختہ کہنے لگا۔ اگریہ زندیق ہے تو روئے زمین پرکوئی مسلمان نہیں۔
۶۔ سمنون محب کو بھی بڑی مصیبت کا سامنا ہواتھا۔ خلیفہ نے ان کی اور ان کے اصحاب کی گردن مارنے کا حکم دیاتھا، جسکی وجہ سے یہ حضرات برسوں روپوش رہے۔
۷۔ علماء نے شیخ ابوسعید فرازؒکی بعض الفاظ کی بناءپرجو ان کے مکتوبات میں پائے گئے تھے تکفیرکی۔
۸۔ حضرت جنیدبغدادیؒ نے علم توحیدپر تقریرکی تو لوگوں نے ان کے خلاف شہادت دی پھر انھوں نے فقہ میں (مشغولی اختیارکرکے) اپنے کو چھپایا، حالانکہ ان کا درجۂ علم وجلالت مقام معلوم ہے۔
۹۔ شیخ ابن ابی جمرہؒ نے جب یہ فرمایا کہ مجھے بیداری میں رسول اﷲﷺسے شرفِ اجتماع حاصل ہوتا ہے۔ لوگوں نے ان کے خلاف ایک مجلس منعقد کی جسکے بعد وہ اپنے گھرسے باہرنہیں نکلتے تھے۔ صرف جمعہ کے لئے گھرسے باہرآتے تھےاور مرتے دم تک یہی حال رہا۔
۱۰۔ مقام رے کے زہادوصوفیہ نے شیخ یوسف بن الحسین پرانکار کیا اور ان کو عظائم امورسے متہم کیا، مگرانھوں نے کسی کی پرواہ نہ کی کیونکہ وہ اپنی حالت میں متمکن تھے۔
۱۱۔ امام سبکیؒ کے متعلق بارہاکفرکی شہادت قائم کی گئی۔ باوجودیکہ ان کا علم وعمل بہت کامل تھا۔ بڑےمجاہدہ کرنے والے اور کامل متبع سنت تھے۔
۱۲۔ اسی طرح بہت سے علماءصوفیہ کو ابتلاءپیش آیاہے۔ آئمہ اربعہ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدبن حنبلؒ وغیرہم کے ابتلاءات مشہوراور کتب مناقب میں مسطور ہیں۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی: ج۱، ص۳۰-۳۵؛ اردو ترجمہ: ص۷۰-۷۵)
پس کسی شخص کے متعلق اس کے بعض معاصرین کے سخت کلمات یا بعض مورخین کی ضعیف روایات یا بعض علماء کے تکفیری فتاوجات کسی امام یا ولی اﷲکے مردودہونے کی دلیل نہیں ہوسکتےورنہ کوئی بڑے سے بڑا عالم یا ولی اﷲبھی مقبول نہ رہ سکے گا۔ کیونکہ اس قسم کے ابتلاءات سے بہت کم لوگ بچے ہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ موافقین ومخالفین کے اقوال میں غلبہ اور بقاء کس جانب کو ہواہے۔ اگر اہل اسلام کے قلوب میں اس شخص کی مقبولیت اور ولایت کااعتقادباقی رہا اور مخالفین کی باتوں کا کچھ اثر نہ رہا تو وہ مقبول اور ولی اﷲہے۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو مقبول اور ولی اﷲنہیں کیونکہ اﷲتبارک وتعالیٰ نے جس طرح دین اسلام کے مقابلے میں کسی باطل دین کو پنپنے نہیں دیا بالکل اسی طرح اولیاءاﷲکےمقابلے میں کسی باطل شخص کو مقبول ہونے نہیں دیا۔ اس کی دلیل اﷲتبارک وتعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: ’’وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُـوْنُـوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ‘‘۔ ’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسولﷺ تم پر گواہ ہو ‘‘۔ [سورۃ البقرۃ:۱۴۳]
اسی طرح حدیث شریف میں آتا ہے: ’’أَنْتُمْ شُھَدَائُ اللّٰہِ فِي الْأَرْضِ‘‘۔ ’’ کہ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو ‘‘۔
حسین بن منصورحلّاجؒ پر لگائے گئے الزامات کی اصل حقیقت جاننے سے پہلے ان کا ایک مختصرتعارف عوام الناس کے سامنے پیش کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ عام عوام جو ابھی تک تصویر کا ایک رُخ دیکھتی رہی ہے اور حسین بن منصورحلّاجؒ پر لعن طعن کرتی رہی ہے اس کے سامنےتصویرکادوسرااورحقیقی رُخ پیش کرکے ان کی اصلاح کی جاسکے۔
حسین بن منصورحلّاجؒ کا مختصرتعارف وحالات زندگی
ان کا اصل نام حسین بن منصورہے۔ دادا کانام محمی ہے جو مجوسی تھااور مقام بیضاءکاباشندہ تھا جو فارس کا ایک شہرہے۔ ان کے والدکانام منصورہے جن کے حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ حسین بن منصورکی کنیت ابومغیث ہے، اور بعض کے نزدیک ابوعبداﷲ۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۸۸-۶۸۹)
حسین بن منصورؒکے صاحبزادےاحمدبن حسین سے خطیب بغدادیؒ نے تاریخ بغداد میں روایت کیاہےکہ: ’’میرےوالدحسین بن منصوربیضاءفارس کے ایک موضع میں جس کانام طورہےپیداہوئے۔ نشودنماتسترمیں ہوا۔ وہیں سہل بن عبداﷲتستریؒ کی صحبت میں دوسال رہے۔ پھربغداد کی طرف چلے گئے، کبھی تو وہ ٹاٹ پہنتے تھے کبھی دوبے سلے رنگین کپڑوں میں رہتے۔ بعض اوقات دراعہ(لمباکرتا)اور عمامہ استعمال کرتےاور کبھی سپاہیوں کے طریقے پرقباء پہن کرچلتے پھرتےتھے۔ جب تسترسے اپناپہلاسفربصرہ کی طرف کیا تو ان کی عمر۱۸سال تھی۔ اس وقت دو بے سلے رنگین کپڑے پہن کرعمروابن عثمان مکیؒ اور جنیدبن محمدؒکے پاس تشریف لے گئے۔ اُم الحسین بنت ابی یعقوب اقطع سے نکاح کیا۔ عمروبن عثمان ؒاس نکاح سے بگڑگئےاور جس کی وجہ سے ابویعقوب اورعمروبن عثمان ؒکے درمیان وحشت و نفرت بڑھ گئی۔ پھرحضرت جنیدبن محمدؒکی خدمت میں حاضرہوئے اوران سے اس کلف واذیت کو ظاہرکیاجوابویعقوب اور عمروبن عثمانؒ کے درمیان چل جانے سے ان کو پہنچی تھی۔ جنیدؒنے سکون وصبرکاامرکیا اور فرمایاکہ دونوں کی خاطرداری کرتے رہو۔ ایک مدّت تک اس حالت پرصبرکیاپھرمکہ چلے گئے۔ ایک سال مجاور مکہ رہ کراس حال میں بغدادواپس آگئےکہ فقراءصوفیہ کی ایک جماعت ان کے ساتھ تھی(گویااجازت سے پہلے ہی شیخ بن گئے)پھرجنیدؒکے پاس پہنچے اور ان سےکوئی مسئلہ (جوغالباًتصوف کاتھا)پوچھاتو جنیدؒنے کچھ جواب نہیں دیااور بعدمیں انکی نسبت یہ فرمایا کہ وہ اس سوال میں (درپردہ) مدعی تھے(طالب علم نہ تھے)۔ اب وہ جنیدؒ سے بھی متوحش ہوگئے اور اپنی زوجہ کو لے کرتسترواپس چلے گئے۔ ایک سال تک وہیں رہے، اس وقت لوگوں میں ان کو بڑی مقبولیت حاصل ہوگئی تھی، یہاں تک کہ اس زمانے کے سب لوگ ان سے حسد کرنے لگے، اور عمربن عثمانؒ تو ان کے بارے میں خورسنان والوں کو برابرخطوط لکھتے رہتےتھے۔ جن میں ان کے متعلق بڑی بڑی باتیں ہوتی تھیں۔ پھر اچانک ان میں ایک تبدیلی رونماہوئی یہاں تک کہ انہوں نے صوفیانہ لباس اتارپھینکااور (اہل طریق سے) الگ ہوگئےاور (سپاہیانہ)قباءپہن کراہل دنیا کی صحبت میں رہنے لگے۔ پھرتسترسے روانہ ہوگئےاور پانچ سال تک غائب رہے۔ پھر فارس واپس آئے اور لوگوں کے سامنے (عارفانہ وصوفیانہ)کلام کرنے لگے۔ مجلس منعقد کرتے اور لوگوں کو اﷲتعالیٰ کی طرف دعوت دیتےتھے۔ فارس میں ابوعبداﷲزاہدکے لقب سے مشہورتھے۔ اس زمانے میں چندکتابیں بھی تصنیف کیں‘‘۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۸۸-۶۹۰)
لقب حلّاج کی وجہ
’’خطیب بغدادیؒ نے تاریخ بغداد میں ابو عبدالرحمٰن بن حسین السلمیٰ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حسین بن منصورؒ کو حلّاج اس لئے کہاجاتا تھاکہ وہ ایک بار واسط میں ایک دُھنے کی دکان پرپہنچے اور اسے کسی کام کو بھیجناچاہا، اس نے کہا! میں اپنے کام میں مشغول ہوں، ابن منصور نے کہا تو میراکام کردے میں تیراکام کردوں گا۔ چنانچہ وہ چلاگیا، جب (کام کرکے) واپس آیا تودکان کی روئی کا ساراذخیرہ دُھنا ہواپایا (جس کا ایک مدّت میں بھی دُھننا دشوارتھا) اس وجہ سے ان کا لقب حلّاج پڑگیا۔
بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی حالت میں لوگوں کے اسرارپران کے دل کا حال بیان کردیا کرتے تھےاورمریدوں کے چھپے ہوئے بھیدظاہرکردیتےتھے۔ اسی وجہ سے لوگ ان کو حلّاج الاسرارکہنے لگے۔ پھرحلّاج لقب مشہورہوگیا‘‘۔(بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۱)
ریاضت و مجاہدات
خطیب بغدادیؒ تاریخ بغداد میں محمدبن علی بن الفتح کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ حسین بن منصورؒ اپنی بدایت حال میں مکہ پہنچے تو ہم نے کوشش کرکے ان کی پیوندزدہ گدڑی کو دیکھا اس میں سے ایک جُوں پکڑی، پھر اس کووزن کیاتو نصف دانگ کے برابرتھی۔ کثرت ریاضت اور شدّت مجاہدات کی وجہ سے (ان کی گدڑی میں ایسی بڑی بڑی جُوئیں ہوگئی تھیں اور ان کو اپنے شغل سے) اتنی فرصت نہ تھی کہ کپڑوں کو صاف کریں یا جُوں ماریں۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۶)
خطیب بغدادیؒ نے تاریخ بغداد میں ابویعقوب نہرجوری کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حسین بن منصورؒپہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں آئے تو سال بھر تک (مسجدحرام) کے صحن میں بیٹھے رہے، وضواور طواف کے سواکسی وقت اپنی جگہ سے نہ ہٹتے تھے۔ نہ بارش کی پرواہ تھی، نہ دھوپ کی، شام کے وقت ان کے واسطے مکہ کی روٹیوں میں سے ایک روٹی اور ایک کوزہ میں پانی لایا جاتاتھا تو وہ روٹی کے چار طرف ایک ایک دفعہ منہ مارتے (اورچارلقمہ کھالیتے)پانی کے دوگھونٹ پیتے۔ ایک گھونٹ کھانے سے پہلے اور ایک گھونٹ کھانے کے بعد، پھر باقی ماندہ روٹی کو کوزہ کے اوپررکھ دیتے جو ان کے پاس سے اٹھالی جاتی تھی۔(بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۶)
خطیب بغدادیؒ نےتاریخ بغداد میں ابو عبدالرحمٰن بن حسین السلمیٰ سے روایت کیاہےکہ فارس بغدادی سے میں نے سنا کہ جب حسین بن منصورحلّاجؒ کو قید کیا گیاتو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ بیڑیاں (لوہے کی) ان کے پیروں میں ڈالی گئیں اس کے باوجود بھی وہ رات دن میں ایک ہزار رکعتیں پڑھتے تھے۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۰)
ابن منصورؒ کی کرامات
خطیب بغدادیؒ نے تاریخ بغداد میں ابو عبدالرحمٰن بن حسین السلمیٰ کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ حسین بن منصورؒ کو حلّاج اس لئے کہاجاتا تھاکہ وہ ایک بار واسط میں ایک دُھنے کی دکان پرپہنچے اور اسے کسی کام کو بھیجناچاہا، اس نے کہا! میں اپنے کام میں مشغول ہوں، ابن منصور نے کہا تو میراکام کردے میں تیراکام کردوں گا۔ چنانچہ وہ چلاگیا، جب (کام کرکے) واپس آیا تودکان کی روئی کا ساراذخیرہ دُھنا ہواپایا (جس کا ایک مدّت میں بھی دُھننا دشوارتھا) اس وجہ سے ان کا لقب حلّاج پڑگیا۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۱)
امام ابوجعفرمحمد بن جریرالطبریؒ تاریخ الطبری میں روایت کرتے ہیں کہ بنت سمری نے کہا کہ ابن منصورنے ایک دن مجھے بلایااوراپناہاتھ آستین کے اندرڈال کرنکالاتو وہ مشک سے بھراہواتھا، وہ مشک مجھے دی، دوبارہ پھرآستین میں ہاتھ ڈالااور مشک سے بھراہوانکالا، وہ بھی مجھے دی۔ اسی طرح چندبارکیا اور کہااس کو اپنی خوشبومیں ڈال لے، کیونکہ عورت جب مردکے پاس پہنچتی ہے تو اسے خوشبوکی حاجت ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ اپنے کمرہ میں بوریوں پر بیٹھے تھے، مجھے بلایااور کہا! فلاں جگہ سے بوریہ اٹھاؤاور اسکے نیچے سے جتنا چاہولےلو۔ میں نے اس جگہ سے بوریہ اٹھایاتو اس کے نیچے تمام گھرمیں دینا ربچھے ہوئے دیکھےجس سے میری آنکھوں میں چکا چوند ہونے لگی۔ (بحوالہ تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۸۱)
عریب بن سعد قرطبی دنبالہ تاریخ الطبری میں نقل کرتے ہیں کہ ابن نصر قشوری بیمار ہواتو طبیب نے اس کے لئے سیب تجویز کیا۔ ہر چندتلاش کیاگیا، نہیں ملاتوحلّاج نے ہواکی طرف ہاتھ کا اشارہ کیااورلوگوں کے سامنے سیب رکھ دیا۔ سب کو تعجب ہوا توپوچھا، یہ تم کو کہاں سے ملا؟ کہاجنت سے۔ حاضرین میں سےایک نے کہاکہ جنت کے پھل میں تغیرنہیں ہوتااور اس میں تو کیڑاہے، کہا چونکہ یہ داربقاسے دارفنامیں آگیاہے اس لئے اس میں ایک جزویہاں کی بلاءکا آگیا۔ لوگوں نے اس جواب کوان کے فعل سے بھی زیادہ عجیب سمجھا۔ (بحوالہ دنبالہ تاریخ الطبری از عریب بن سعد قرطبی:۸۸۲ء)
شیخ یوسف بن اسماعیل النبہانیؒ نے اپنی کتاب جامع کراماتِ اولیاءمیں نقل کیا ہے کہ حسین بن منصور حلاجؒ کی کرامات میں سے ایک کرامت یہ بھی ہے کہ ابن خفیف (جیل خانہ) میں انکے پاس گئے اور پوچھا کس حال میں ہو؟ کہااللہ تعالیٰ کی نعمتیں میرے اوپر (نازل) ہیں ظاہر میں بھی اورباطن میں بھی۔ پھرابن خفیف نے کہا میں تم سے تین مسئلہ (تصوف کے) پوچھنا چاہتا ہوں۔ ابن منصورؒ نے کہا پوچھو! ابن خفیف نے کہا! صبر کسے کہتے ہیں؟ ابن منصور ؒنے کہا، صبر یہ ہے کہ میں ان بیڑیوں کی طرف نظر کروں تو یہ ٹوٹ جائیں۔  ابن خفیف کہتے ہیں کہا ابن منصور نے یہ کہہ کر ان بیڑیوں کی طرف نگاہ کی تو سب ٹوٹ کر کھل گئیں (باوجود اس قدرت تصرف کے رات دن پیروں میں بیڑیاں ڈالے رکھتے تھے، تصرف کے زریعے انکو الگ نہ کرتے تھے) اور دیوار(جیل خانہ کی طرف نظر کی تو دیوار)پھٹ کر کھل گئی اور دفعۃًہم دجلہ کے کنارے پہنچ گئے (مگربایں ہمہ وقت جیل خانہ میں ہی رہتے تھے) اور کہا یہ صبر ہے۔ ابن خفیٖف نے کہا فقر کیا ہے؟ تو ایک پتھر پر نگاہ ڈالی، وہ فوراً سونا اور چاندی بن گیا، کہا یہ فقر ہے۔کہ باوجود اس (تصرف) کے میں ایک پیسے تک کا محتاج ہوتا ہوں جس سے(گھر میں جلانے) کا تیل خریدوں۔ ابن خفیف نے کہا! فتوت (مردانگی) کسے کہتے ہیں؟ ابن منصور ؒنے کہا کل رات تم اس کو دیکھ لو گے۔ ابن خفیف کہتے ہیں جب رات آئی تو میں نے (خواب ) میں دیکھا گویا قیامت قائم ہے، اور ایک منادی پکار رہا ہے، حسین بن منصور حلّاج کہاں ہے؟چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے آگے کھڑے کیئے گئے، ان سے کہا گیا جو تجھ سے محبت رکھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو تجھ سے بغض رکھے گا وہ دوزخ میں جائے گا۔ حلّاج نے کہا (نہیں) یارب بلکہ سب کو بخش دیجیئے۔ پھر میری (ابن خفیف) طرف متوجہ ہوئے اور کہا یہ "فتوت"(مردانگی) ہے۔ (جامع کراماتِ اولیاء: ج۲، ص۴۳-۴۴)
 اگرحسین بن منصورحلّاجؒ ساحر و زندیق ہوتے تو باوجود اس تصرف کے جیل خانہ میں قیدکیوں رہتے؟ ہروقت پیروں میں بیڑیاں کیوں ڈالے رکھتے؟ ساحرو زندیق کا صبر و فقر سے کیا واسطہ؟ جس انسان کوایسا تصرف حاصل ہو تو یقیناًجیل خانہ سے بھاگ جائے اور ایسی جگہ روپوش ہوکہ کسی کوبھی پتہ نہ چلے۔
حسین بن منصورؒ پرلگائے گئےالزامات اورجوازِقتل کا فتویٰ کس طرح حاصل کیاگیا
خطیب بغدادیؒ تاریخ بغداد میں لکھتے ہیں کہ:
حسین بن منصورحلّاجؒ جب واپس بغداد آئےتو کسی نے وزیر حامد بن عباس کو اطلاع دی کہ حلّاج کہتا ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں کو زندہ کیا ہے اور میں مُردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور بہت سے جنات میرے تابع ہیں اور میں جو چاہوں میرے پاس لا کر حاضر کر دیتے ہیں۔ نیز یہ کہ بہت سے اہل کار میرے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ نصر حاجب سرکاری دفاتر کا نگران بھی میری طرف مائل ہو گیا ہے اور اس کے علاوہ کئی بڑے بڑے لوگ حلقہ بگوش ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر وزیر حامد بن عباس نے خلیفہ سے درخواست کی کہ حلّاج کا معاملہ اس کے سپرد کر دیا جائے لیکن نصر حاجب آڑے آیا۔ جب وزیر نے اصرار کیا تو خلیفہ مقتدر باللہ نے ابن منصوراوراس کے مریدوں کا معاملہ وزیرحامد بن عباس کے سپرد کر دیا۔ وزیرحامد بن عباس نے علماء سے اس کے قتل کا فتویٰ طلب کیا تو علماء اور فقہاء نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ثبوت کافی نہیں۔
وزیر حامدبن عباس نے بہت سے طریقوں اور کوششوں کے ذریعہ حسین بن منصورؒکو ۸سال سات مہینے آٹھ دن قیدمیں رکھنے کے بعدان کے ایک مریدکوسرکاری گواہ بنالیامگروہ اس کوشش میں تھاکہ ابن منصورؒ کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس پرگرفت کرکے علماءسے قتل کافتویٰ حاصل کرلے، چنانچہ حامد نے علماء کے سامنے حلاج کی ایک کتاب پیش کی، جس میں لکھا تھا کہ: "اگر کوئی شخص حج نہ کر سکے تو ایک صاف ستھری کوٹھی کو لیپ پوت کر حج کے ارکان اس کے سامنے ادا کرے۔ پھر تین یتیموں کو بلوا کر انہیں عمدہ کھانا کھلائے، عمدہ کپڑے پہنائے اور سات سات درہم ان کے حوالے کر دے، تو اس کو حج کا ثواب مل جائے گا"۔
حامد بن عباس نے جب یہ فقرے قاضی ابوعمر کو سنائے تو اس نےحلّاج کوبُلاکرپوچھا کہ: تجھے یہ مضمون کہاں سے پہنچا؟ حلّاج نےحسن بصری رحمةاللہ علیہ کی کتاب "الاخلاص: کتاب السنة" کا حوالہ دیا۔ جس پرقاضی القضاة غضب ناک ہو گیا اورقاضی ابوعمرکی زبان سے ابن منصورؒکے لئے’’یاحلال الدم‘‘نکل گیااوروزیرحامد نے قاضی کے اس لفظ کو پکڑلیااورکہااس لفظ کو لکھ دیجئے۔ قاضی ابوعمرحلّاج سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھ کراس بات کو ٹالنے لگےمگرحامد اس بات کے لکھنے کامطالبہ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ حامد نے دوات اپنے آگے سے بڑھاکرقاضی کے سامنے رکھ دی اورکاغذ منگاکراس کے حوالے کردیااور بہت سختی کے ساتھ اس بات کے لکھنے کا مطالبہ کیاجس کے بعد قاضی مخالفت نہ کرسکا اورابن منصورؒ کےجوازِقتل کافتویٰ لکھ دیا۔ ان کے بعددوسرے علماءنےبھی اس پردستخط کردیئے، پھرخلیفہ نے بھی علماءکے فتوے پرقتل کی اجازت دے دی۔
حسین بن منصورحلّاجؒ نے جب یہ صورت دیکھی توکہاکہ: ’’میری پشت (شرعاً) ممنوع ومحفوظ ہے (یعنی مجھے سزا ئے تازیانہ بھی نہیں دی جاسکتی) اورمیراخون بہانا حرام ہے، تم کو ہرگز یہ جائزنہیں کہ گھڑگھڑا کہ میرے جوازقتل کا فتویٰ دو، حالانکہ میرااعتقاد اسلام (کےموافق) ہے، میرامذہب سنت ہے، اور میں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت عمرؓوعثمانؓ وحضرت علیؓ وطلحہؓ وزبیرؓ وسعدؓوسعیدؓاورعبدالرحمٰن بن عوفؓ اورابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲعنہم کی تفضیل کا قائل ہوں اور سنت (کے بیان) میں میری کتابیں کتب فروشوں کے پاس موجود ہیں۔ پس میرے خون کے معاملہ میں اﷲسے ڈرو۔ اﷲسے ڈرو‘‘۔
وہ بارباراسی بات کودہراتے رہے اورلوگ برابردستخط کررہے، یہاں تک کہ حسب منشاء فتوے کی تکمیل کرلی گئی تویہ لوگ مجلس میں اُٹھ کھڑے ہوئے اورحلّاج کواسی جگہ بھیج دیا گیاجہاں وہ پہلے قیدتھے۔ (تاریخ مدینۃ السلام، خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۷-۷۱۸)
اس فتوے کی بنیادپرچوتھی صدی ہجری کے آغاز یعنی۱۸ ذیقعد ۳۰۹ھ کو حسین بن نصورحلّاجؒ کے ہاتھ پاؤں کاٹنے کے بعدسولی دی گئی اور پھر گردن کاٹ کران کی نعش کو جلاکردریا دجلہ میں بہادیاگیا، سرکودودن تک بغداد کے پُل پرنصب کیاگیاپھرخراسان بھیج دیاگیااور اطراف واکناف میں گھمایاگیااورعام عوام کے سامنے یہ مشہور کردیا گیا کہ حسین بن منصور حلّاجؒ "اناالحق" ’’میں حق ہوں‘‘ کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔ اورانہوں نےمبینہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا حتیٰ کہ وہ اس سے بھی اوپر چلےگئے اور پھر وہ یہ دعویٰ کرنے لگے کہ وہی اللہ ہے (نعوذباللہ)۔
تذکرۃ الاولیا میں مرقوم ہے کہ ’’حلّاج کے کان، ناک کاٹ دیئے گئے اس کے آخری کلام کے بعد اس کی زبان کاٹ دی گئی پھر نماز شام کے وقت اس کا سر تن سے جدا کردیا گیا‘‘۔ ایک اور روایت جو کچھ یوں ہے کہ ’’حلّاج نے اپنے دونوں کٹے ہوئے خون آلود بازو اپنے چہرے پر ملے ان کا چہرہ خون سے دہکنے لگا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہو، کہنے لگے میرے جسم کا بہت خون بہہ چکا ہے جس سے میرا چہرہ زردپڑ گیا ہوگا میں نے اپنے چہرے کو سرخ اس لئے کیا تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں میرا چہرہ کسی ڈر یا خوف سے پیلا پڑ گیا ہوگا ۔ پھر لوگوں نے سوال کیا آپ نے چہر ہ تو سرخ کرلیا مگر اپنی کلائیوں کو خون سے تر کیوں کیا۔ جواب دیا کہ وضو کیلئے۔ عشق میں دو رکعت کی نماز ہے جس کا وضو صرف خون سے ہی ہوتا ہے۔ جب منصور کے ہاتھ، پاؤں، بازو کاٹے جاچکے تھے اور آنکھیں نکال دی گئی تھیں جلاد نے ان کی زبان کاٹنے کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو منصور نے کہا ٹھہر میں ایک بات کہہ لوں پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کے بولے یا الٰہی اس تکلیف پر جو یہ مجھ پر تیرے لئے روا رکھے ہیں انہیں محروم نہ رکھنا۔ میں تیرے دیدار کیلئے آرہا ہوں، پھرجلاد نے وزیرحامد العباس کے کہنے پر اس کا سر کاٹنے کیلئے اپنا ہاتھ اٹھایا ساتھ ہی حلّاج نے یہ کلمات ادا کئے "واجد کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ تیرے ساتھ ایک ہوجائے۔ میں تیرے دیدار کو آرہا ہوں"۔ حلّاج کا کٹا ہوا سر نیچے آن گرا اس کے جسم کو تیل سے تر کردیا گیا اور پھر آگ لگادی خاکستر کو ایک مینار سے دریائے دجلہ میں پھینک دیا گیا۔
علامہ حضرت زکریا قزوینی لکھتے ہیں: ’’"جب انہیں پھانسی دینے کے لیے لے جانے لگے تو انہوں نے ایک حاجب کو بلایا اور کہا کہ جب مجھے جلایا جانے لگے تو دجلہ کا پانی چڑھنا شروع ہوجائے گا اور قریب ہوگا کہ پانی بغداد کو غرق کردے جب تم یہ منظر دیکھو تو میری راکھ پانی میں ڈال دینا تاکہ پانی ساکت ہوجائے ۔ جب انہیں پھانسی دی گئی اور جلایا گیا تو دجلہ میں طغیانی آگئی حتی کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ بغداد غرق ہوجائے گا تو خلیفہ نے کہا کیا تمہیں پتہ ہے کہ منصور حلّاج نے اس بارے میں کچھ کہا تھا ۔ حاجب نے کہا ہاں امیر المومنین اس نے اسی طرح کہا تھا تب اس نے حکم دیا جیسا اس نے کہا تھا ویسا ہی کرو پھر انہوں نے راکھ پانی میں پھینک دی"۔ موت سے عین پہلے منصور حلّاج ؒنے آخری بات یہ کہی "اے رب اگر تو ان لوگوں کو بھی وہی کچھ دکھادیتا جو میں دیکھ رہا ہوں تو یہ مجھے کبھی سزا نہ دیتے اور اگر مجھ سے وہ چیز چھپا لیتا جو ان سے چھپا رکھی ہے تو میں کبھی اناالحق کا نعرہ نہ لگاتا۔ اے اللہ میرے قاتلوں کو معاف کردے"واللہ اعلم‘‘۔ (آثارالبلادواخبارالعباد: ص۱۶۸)
جو دنیا کو پہچان لے گا وہ زاہد ہوجائے گا، اور جو اللہ تعالیٰ کو پہچان لےگا وہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھے گا، اور جو اپنے ہی کو نہ پہچانے گا وہ تو زبردست غرور اور دھوکہ میں مبتلا رہےگا۔