غیر مقلدین کے”عمل بالحدیث" کا معیار
غیر مقلدین احادیث کے قبول اور رد کرنے کے بارے میں کسی ضابطہ اخلاق کے پابند نہیں۔ ان کا اپنا معیار ہے کہ جو حدیث ان کے مخصوص نظریات کے موافق ہو اسے ہر حال میں [ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ] قبول کرتے ہیں،اگرچہ حقیقت میں وہ ضعیف ہو اور محدثین نے اس کے راویوں پر شدید جرح بھی کی ہواور جو حدیث ان کے مذہب کے خلاف ہو اسے کسی نہ کسی طرح ضعیف قرار دے کر ہی دم لیتے ہیں اگرچہ وہ حدیث محدثین کرام کے ہاں صحیح کیوں نہ ہو۔ بطورنمونہ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
مثال نمبر1:احناف کا مذہب یہ ہے کہ اقامت کے کلمات دوہرے کہے جائیں اس بارے میں علامہ عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کی درج ذیل حدیث صحیح سند کے ساتھ بیان کی ہے:کان عبداللہ بن زید الانصاری موذن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یشفع الاذان والاقامۃ۔
مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص321رقم 2151
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے موذن تھے وہ اذان اور اقامت کے الفاظ دہرے دہرے ادا کرتے تھے۔
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں :ہذا اسناد فی غایۃ الصحۃ۔
المحلیٰ بالآثار ج2ص191
یہ سند انتہائی درجہ کی صحیح ہے۔مگر غیرمقلدین کے نامور عالم عبدالرحمان مبارکپوری اس صحیح سند والی روایت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:قلت لاشک ان رجالہ رجال الصحیح لکن فی صحۃ اسنادہ نظر وان زعم ابن حزم انہ فی غایۃ الصحۃ لان فیہ الاعمش وہو المدلس۔
ابکار المنن ص292
یعنی میں کہتا ہوں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کے رواۃ؛ صحیح[صحیح سے مراد بخاری شریف ہے۔از راقم]کے رواۃ ہیں۔اگرچہ ابن حزم نے اس کو انتہائی صحیح حدیث قرار دیا ہے مگر اس کی صحت محل نظر ہے کیوں کہ اس میں ایک راوی اعمش ہے اور وہ مدلس ہے۔
جناب اگر ذرا دیر کے لیے یہ بات تسلیم بھی کرلیں کہ اعمش راوی مدلس ہیں اس لیے ان کی یہ صحیح حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔مگر یہ تو بتایا جائے کہ اس کا احساس امام بخاری وامام مسلم کو کیوں نہیں ہوا؟آخر انہوں نے اسی اعمش [جو کہ آپ کے نزدیک مدلس ہیں]کی روایات کو کثیر تعداد میں اپنی اپنی کتابوں میں کیوں ذکر کیا ہے؟
سلسلۂ مضمون جاری ہے.....