Showing posts with label جمعہ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد حدیث پاک سے. Show all posts
Showing posts with label جمعہ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد حدیث پاک سے. Show all posts

Sunday, 26 July 2020

کیا عشاء کی نماز سے قبل چار رکعت سنت ثابت ہیں؟

عنوان: کیا عشاء کی نماز سے قبل چار رکعت سنت ثابت ہیں؟

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہْ وبرکاتہ، کیا عشاء سے پہلے چار رکعت سنت ثابت ہے؟ حدیث شریف میں اس کا ذکر ہے؟

جواب: عشاء سے قبل چار رکعت سنت غیر مؤکدہ کا ذکر صراحت کے ساتھ کسی مرفوع روایت میں نہیں آیا، البتہ بعض روایات میں عشاء سے قبل نوافل پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔

وہ روایات درج ذیل ہیں:

صحیح بخاری میں ہے:
"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ المُزَنِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ، ثَلاَثًا لِمَنْ شَاءَ".
(صحیح البخاری: رقم ۶۲۴)
(وکذا فی صحیح المسلم: ۱/ ۲۷۸)
ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریمﷺنے تین مرتبہ یہ اِرشاد فرمایا: ہر دو اذانوں(یعنی اذان و اِقامت)کے درمیان نماز ہے،جو پڑھنا چاہے۔

"عن سعيد بن جبير : كانوا يستحبون أربع ركعات قبل العشاء الآخرة".
(قیام اللیل لمحمد بن نصر الروزی: ۵۸)

ترجمہ:
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: پہلے بزرگ (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین و تابعین رحمہم اللہ) عشاء کی نماز سے قبل چار رکعت پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔

مذکورہ بالا روایات سے استدلال کرتے ہوئے فقہائے امت نے عشاء سے قبل چار رکعت کو سنت غیر مؤکدہ قرار دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
لما قال العلامہ ابراہیم حلبیؒ:
وأما الأربع قبلہا فلم یذکر في خصوصہا حدیث، لکن یستدل لہ بعموم ما رواہ الجماعۃ من حدیث عبد اللّٰہ بن مغفل أنہ علیہ الصلاۃ والسلام قال: "بین کل أذانین صلاۃ بین کل أذانین صلاۃ٬ ثم قال في الثالثۃ: لمن شاء".
فہٰذا مـع عدم المـانع من التنفل قبلہا یفید الاستحباب، لکن کونہا أربعاً لیمشي علی قول أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ؛ لأنہا الأفضل عندہ، فیحمل علیہا لفظ الصلاۃ حملاً للمطلق علی الکامل ذاتاً ووصفاً".
(حلبي کبیر: ۳۸۵)
(وفی الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۳۰۰ رقم: ۲۴۸۹)

وفی المحیط البرھانی:
"یجب أن یعلم أن التطوع قبل الفجر رکعتان، والتطوع قبل الظہر أربع رکعات، وبعد الظہر رکعتان، وأما قبل العصر، فإنہ تطوع بأربع رکعات، والتطوع بعد المغرب رکعتان، وأما التطوع قبل العشاء بأربع رکعات فحسن، والتطوع بعدہا رکعتان".
(المحیط البرہاني، کتاب الصلاۃ، الفصل الحادي عشر في التطوع قبل الفرض وبعدہ، ۲/ ۲۳۲، رقم: ۱۶۳۶-۱۶۴۱ ط: المجلس العلمي بیروت)

واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

عشاء کے بعد دو رکعت سنتِ مؤکدہ ہے اور ظہر سے قبل چار رکعات ، اس کی فضیلت حدیث میں وارد ہے

عشاء کے بعد  دو رکعت سنتِ مؤکدہ ہے، اس کی فضیلت حدیث میں وارد ہے ، حضرت  عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمیشہ بارہ رکعت سنت پڑھتا رہے گا اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے ایک مکان بنائے گا، چار رکعت ظہر سے پہلے،  دو ظہر کے بعد،  دو رکعتیں مغرب کے بعد ، دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔

سنن الترمذي (2/ 273) :
"عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ثابر على ثنتي عشرة ركعةً من السنة بنى الله له بيتًا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر".

اسی طرح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں ادا کرے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا،  چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو ظہر کے بعد اور دو مغرب کے بعد اور دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر کی نماز سے پہلے جو نماز ہے اول روز کی ۔

سنن الترمذي  (2/ 274) :
"عن أم حبيبة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعةً بني له بيت في الجنة: أربعًا قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل صلاة الفجر صلاة الغداة".

نیز سنتِ مؤکدہ کااہتمام کرناواجب کے قریب ہے، کسی عذر  کے بغیر سنتِ مؤکدہ کاترک جائز نہیں ہے جوشخص کسی عذر کے بغیر سنتِ مؤکدہ ترک کرتاہے وہ گناہ گار اور لائق ملامت ہے۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلاً وقت تنگ ہے اور صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہو یاکوئی ضرورت  تو اس وقت سنتوں کو چھوڑ سکتاہے۔ [کفایت المفتی 3/319،دارالاشاعت]  فقط واللہ اعلم

Saturday, 25 July 2020

جمعہ کی نماز سے قبل چار رکعات سنت پڑہنا ثابت ہے

جمعہ کی نماز سے قبل چار رکعات سنت پڑہنا ثابت ہے

🍃بســم الله الرحـمـن الرحــيـم 🍃

نماز جمعہ سے قبل سنت نماز پڑہنا ثابت ہے

بعض حضرات جمعہ کی نماز سے پہلے سنت کو جائز نہیں سمجہتے مگر جمہور علماء اہل السنة والجماعة کے نزدیک جمعہ سے قبل اور جمعہ کے بعد سنت نماز ثابت ہے. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول ان سنتوں کے پڑہنے کا تہا. حدیث میں ایک صحابہ کو نماز نہ پڑہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹوکنا ثابت ہے. اسلئے جمہور علماء کے نزدیک جمعہ سے پہلے اور بعد سنت نماز ثابت ہے.

غیر مقلدین کا اعتراض

غیر مقلدین کے سب سے بڑے محدث ناصر الدین البانی صاحب لکہتے ہیں

لا اصل لها فى السنة

الاجوبة النافعة

اعتراض كا جواب :

قولی حدیث صحیح بخاری میں ہے

عن  جابر بن عبد الله قال جاء رجل والنبى صلى الله عليه وسلم يخطب الناس يوم الجمعة فقال اصلت يا فلان قال لا قال قم فاركع ركعتين

دوسری حدیث سنن ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہے جس کے الفاظ یہ ہیں

اصلیت رکعتین قبل ان تجیء ؟ قال لا،  قال فصل ركعتين وتجوز فيهما

شارح بخاری علامہ سراج الدین ابن ملقن شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

رواه ابن ماجة فى سننه باسناد صحيح...قال صاحب المنتقى رجال اسناده ثقات قال وقوله قبل ان يجى ء يدل على ان هاتين الركعتين الجمعة قبلها لا تحية المسجد.

تحفة المحتاج الى ادلة المنهاج

محدث دیوبند حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں

فدل على انهما ركعتان قبل الجمعة لا تحية المسجد

العرف الشذى

فعلى حدیث سے دلیل کی تائید

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے قبل اور نماز کے بعد چار رکعات پڑہتے تہے

حدیث کے الفاظ یہ ہیں

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی قبل الجمعہ اربعا وبعدها اربعا

المعجم الاوسط للطبرانى

{غیر مقلدین کا اعتراض}

 یہ روایت ضعیف ہے. البانی صاحب ضعیف کہا ہے کیونکہ اس کے راوی محمد بن عبد الرحمن سہمی ضعیف ہیں.

{ اعتراض کا جواب}

اگر چہ بعضوں نے ضعیف کہا ہے مگر امام  ابن حبان نے اپنی ثقات میں ان کو شامل کیا ہے

امام ابن عدی فرماتے ہیں

(لا باس به)

ميزان الاعتدال للذهبى

جب جرح وتعدیل میں اختلاف ہو تو روایت کم از کم حسن ہوتی ہے. اس وجہ سے علامہ عراقی فرماتے ہیں

رواہ ابوالحسن الخلعى فى فوائدہ باسناد جيد

طرح التثريب

علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے بہی حسن کا حکم لگایا ہے. فرماتے ہیں

الحديث بسند الطبرانى حسن

اعلاء السنن

اور اس حدیث کی تائید میں کئی ایک حدیث موجود ہے.

شرح مشکل الآثار للطحاوی میں حدیث موجود ہے

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان مصليا فليصل قبل الجمعة اربعا وبعدها اربعا

اس کی تائید میں دوسری عملی حدیث بہی موجود ہے.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں

ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلى قبل الجمعة ركعتين فى اهله وبعدها ركعتين.

جزء القاسم بن موسى الاشيب

غیر مقلد عالم شمس الحق عظیم نے حق کو تسلیم کیا ہے. لکہتے ہیں

والحاصل ان الصلاة قبل الجمعة مرغب فيها عموما وخصوصا

عون المعبود

البانی صاحب کا قول کوئی امام قبل جمعہ سنت کا قائل نہیں. اس سے مراد ان کا امام قائل نہیں یعنی ابن تیمیہ رحمہ اللہ قائل نہیں.

حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب لکہتے ہیں

بہرحال جمعہ کی سنن قبلیہ کی سنیت کے تمام ائمہ قائل ہیں البتہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جمعہ کی سنن قبلیہ کا بالکل انکار کیا ہے.....لیکن علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ دعوی درست نہیں......
بہرحال ان روایات وآثار کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی رواتب قبلیہ بے اصل نہیں ان کے دلائل موجود ہیں. علاوہ ازیں ظہر پر قیاس کا تقاضہ بہی یہی ہے کہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں مسنون ہوں. اللہ اعلم

درس ترمذی، از مولانا تقی عثمانی

جمعہ کی نماز میں رکعات کی تعداد کیا ہے؟ جمعہ کی سنن کتنی ہیں؟

جمعہ کی نماز میں رکعات کی تعداد کیا ہے؟ جمعہ کی سنن کتنی ہیں؟

سوال

جمعہ کی نماز میں کتنی رکعتیں فرض ہیں؟ اور کتنی سنت اور کتنی نفل ہیں؟  صحیح بات بتلا دیں، کیوں کہ ہر جگہ سے الگ الگ بات سننے کو مل رہی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ جمعہ میں کل بارہ رکعتوں کا ثبوت ملتا ہے، جمعہ کے خطبہ سے پہلے چار رکعت سنتِ  مؤکدہ، خطبہ کے بعد جمعہ کی دو رکعت فرض، پھر جمعہ کی دو رکعت فرض کی ادائیگی کے بعد چھ رکعت (چار رکعت ایک سلام کے ساتھ، اور دو رکعت ایک سلام کے ساتھ) سنت ہیں، البتہ چار رکعت سنتِ مؤکدہ اور دو رکعت سنتِ زائدہ ہیں، پڑھنے کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے چار رکعت سنت پڑھنی ہیں، پھر دو رکعت، ان کا ثبوت احادیثِ نبویہ اور صحابۂ کرام کے عمل سے ثابت ہے، نوافل جتنا پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔

معجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"عن ابن عباس – رضي الله عنه- قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركع قبل الجمعة أربعًا، وبعدها أربعًا، لايفصل بينهن". (باب ما جاء في الصلوة قبل الجمعة، ص: 117، ط: قديمي)

ترمذی شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعًا". (باب ما جاء في الصلوة قبل الجمعة ص: 117، قديمي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(هي فرض) عين (يكفر جاحدها) لثبوتها بالدليل القطعي كما حققه الكمال، وهي فرض مستقل آكد من الظهر، ولیست بدلاً عنه. (قوله بالدليل القطعي) وهو قوله تعالى - ﴿يا أيها الذين اٰمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا﴾ (الجمعة: 9) الآية- وبالسنة والإجماع". (باب الجمعة، 2/136، ط: دارالفكر بيروت)

وفيه أيضًا:

"و(سن) مؤكداً (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة)". (باب الوتر والنوافل، 2/12، مطلب فی السنن والنوافل، ط: سعید کراچی)

حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے:

"منها أربع «قبل الجمعة»؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يركع قبل الجمعة أربعًا لايفصل في شيء منهن، «و» منها أربع «بعدها»؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد الجمعة أربع ركعات يسلم في آخرهن؛ فلذا قيدنا به في الرباعيات فقلنا: «بتسليمة» لتعلقه بقوله: وأربع، وقال الزيلعي: حتى لو صلاها بتسليمتين لايعتد بها". (حاشية الطحطاوي على المراقي، ص: 389، دار الکتب العلمیة بیروت)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"سن قبل الفجر وبعد الظهر والمغرب والعشاء ركعتان وقبل الظهر والجمعة وبعدها أربع. كذا في المتون والأربع بتسليمة واحدةعندنا حتى لو صلاها بتسليمتين لايعتد به عن السنة". (كتاب الصلوة، الباب التاسع في النوافل 1/12، ط: ماجديهکوئٹہ)

عمدۃ الفقہ میں ہے:

’’جمعہ کے وقت فرض سے پہلے چار رکعتیں ایک سلام سے سنتِ مؤکدہ ہیں اور فرض کے بعد بھی چار رکعتیں ایک سلام سے سنتِ مؤکدہ ہیں (یہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک جمعہ کے بعد چھ رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں، پہلے چار ایک سلام سے پھر دو رکعت ایک سلام سے دونوں طرف صحیح حدیثیں موجود ہیں، افضل یہ ہے کہ جمعہ کے بعد پہلے چار پڑھے، پھر دو؛  تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے‘‘۔ (فصل، سنت اور نفل نمازوں کا بیان 2/ 297، ط: ادارہ امجدیہ ناظم آباد کراچی)

غنیۃ المستملی میں ہے:

"(والسنة قبل الجمعة أربع وبعدها أربع) ... (وعند أبي يوسف) السنة بعد الجمعة (ست) ركعات وهو مروي عن علي رضي الله عنه الأفضل أن يصلي أربعا ثم ركعتين للخروج عن الخلاف".(فصل فی النوافل، ص: 388، سہیل اکیڈمی لاہور)فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008202007
تاریخ اجراء :08-06-2019

جمعہ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد


Web re

جمعہ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد حدیث پاک سے 

جمعہ والے دن نماز جمعہ سے پہلے چار، فرضوں کے بعد چار اور پھر دو، کل چھ رکعات سنتیں ہیں، پہلے والی چار ملائیں تو جمعہ کی 10 سنتیں ہیں۔ یہ تمام سنتیں موکدہ ہیں، یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ایک ہے جن میں اللہ کے فضل سے مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، لہذا وہ نہیں چاہتا کہ کسی ایک مسئلہ میں بھی مسلمان متحد و متفوق رہیں۔ شیطانی مشن ہی یہ ہے کہ مسلمانوں میں اختلاف، افتراق اور ذہنی انتشار پھیلایا جائے اور دشمن سے اس کے سوا توقع بھی کیا ہو سکتی ہے؟

جمعہ کی سنتوں کا ثبوت

ان النبی صلی الله عليه وآله وسلم قال من رکع اثنتی عشرة رکعه، بنی له بيت فی الجنة،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے (جمعہ کے دن) بارہ رکعات نماز ادا کی، اس کےلیے جنت میں گھر تعمیر ہوگا۔

عن عطاء انه رای ابن عمر يصلی بعد الجمعة قالفی نماز قليلا عن مصلاة فيرکع رکعتين ثم يمشی انفسی من ذلک ثم يرکع اربع رکعات.

حضرت عطا نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جمعہ کے بعد نماز پڑھتے دیکھا، اپنی جگہ سے ذرا ہٹ کر، دو رکعت ادا کیں۔ پھر وہاں سے دور جا کر چار رکعات ادا کیں۔ عطا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، جب نماز جمعہ سے فارغ ہوئے، اپنے جائے نماز سے کچھ آگے ہوئے اور

فرکع رکعتين ثم تقدم ايضا فرکع اربعا.

پھر دو رکعات ادا کیں، پھر مزید آگے بڑھ کر چار رکعات نماز ادا کی۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے :

کان يصلی قبل الجمعة اربع رکعات و بعدها اربع رکعات قال ابو اسحاق کان علی يصلی بعد الجمعة ست رکعات.

جمعہ سے پہلے چار رکعات، نماز جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے، ابو اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جمعہ کے بعد چھ رکعات ادا کرتے تھے۔

عبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے تھے کہ

ان يصلی قبل الجمعة اربعا و بعدها اربعا. حتی جاء نا علی فامرنا ان نصلی بعدها رکعتين ثم اربعا.

کہ ہم جمعہ سے پہلے چار رکعات پڑھیں اور بعد میں بھی چار۔ یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بعد میں دو رکعتیں پڑھ کر پھر چار رکعتیں ادا کریں۔

(باب الصلوٰة قبل الجمعه وبعدها، مصنف عبدالرزاق، 3 : 246-248)

عن ابی هريرة رضی الله عنه قال قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم من کان منکم مصليا بعد الجمعة فليصل اربعا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو نماز جمعہ کے بعد نماز پڑھے، وہ چار رکعات ادا کرے۔

(سنن ترمذی، 1 : 69)

سالم عن ابيه عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه کان يصلی بعد الجمعة رکعتين.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعات ادا فرماتے تھے۔

(ترمذی، 1 : 68)

عن عبدالله بن مسعود رضی الله عنه کان يصلی قبل الجمعة اربعا و بعدها اربعا، وروی عن علی بن ابی طالب انه امر ان يصلی بعد الجمعة رکعتين ثم اربعا.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ سے پہلے بھی چار رکعات پڑھتے تھے اور بعد میں بھی۔ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھی جائیں، پھر چار۔

(سنن نسائی، 1 : 201، سنن ابن ماجه، 1 : 79، جامع ترمذی، 1 : 69، سنن ابی داؤد، 1 : 167)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اذا صليتم بعد الجمعة فصلوا اربعا.

جب نماز جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعات پڑھا کرو۔

(صحيح مسلم، 1 : 288)

ان النبی صلی الله عليه وآله وسلم کان يصلی بعد الجمعة رکعتين.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

(صحيح بخاری، 1 : 128، صحيح مسلم، 1 : 286)

فقہائے کرام :

فهذا البحث يفيد ان السنة بعدها ست.

اس بحث سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے بعد چھ سنتیں ہیں۔ اور نماز جمعہ سے پہلے چار۔

(فتح القدير، 2 : 39، المغنی و الشرح الکبير لابن قدامه، 2 : 210، 220، البحر الرائق، 2 : 49، فتاویٰ عالمگيری، 1 : 112، رد المختار شرح درالمختار للشامی، 2 : 13، بدائع الصنائع، 1 : 23، کتاب الفقه علی المذاهب الاربعه للجزری، 1 : 327)

عن ابی يوسف انه ينبغی ان يصلی اربعا ثم رکعتين ....... والافضل عندنا ان يصلی اربعا ثم رکعتين.

یہ ہیں جمعہ کی پہلی اور پچھلی کل سنتیں جو الحمدللہ ہم نے کثیر کتب حدیث و فقہ سے با دلیل و حوالہ پیش کر دی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جس طرح نمازیں ادا کر رہے ہیں، کرتے رہیں۔ فرائض بھی، واجبات بھی اور سنن و نوافل بھی اور کسی شیطانی آواز پر کان نہ دھریں، شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے، وہ نیکیوں سے روکتا ہے، گناہوں کی ترغیب دیتا ہے۔ مسلمان اپنے رب، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بزرگان دین سلف کے راستے پر چلتے رہیں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے اور یہی جنت کا راستہ ہے۔ جو شیطانوں کے چکر میں پھنس گیا جہنم رسید ہوا۔ اللہ تعالیٰ شیطانی شر سے بھی بچائے اور نفسانی سے بھی۔ آمین