Showing posts with label شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق. Show all posts
Showing posts with label شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق. Show all posts

Friday, 4 June 2021

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

 شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

ألحمد لله الذي أمدنا بالنعم التي لاتعد ولاتحصى والحمد لله الذي أمدنا بالحياة الى أن أدركنا رمضان ووفقنا لإتمام صيام رمضان وقيامه والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين أما بعد:


اسلام میں طاعات وعبادات کا کوئی متعین موسم نہیں ہے کہ مثلا وه موسم ختم ہوجائے تو پهر بنده آزاد ہے جو چاہے کرے بلکہ درحقیقت ایک مومن بنده کو طاعات وعبادات پر قائم ودائم رہنے کا حکم ہے یہاں تک کہ بنده قبر میں داخل ہوجائے بے شک ہرمسلمان کو ہمیشہ طاعات پرقائم رہنے اورتزکیہ نفس کی کوشش کرنے کا حکم ہے اوراسی تزکیہ کے لیئے عبادات وطاعات مشروع کیئے گئے اوربقدر نصیب واستعداد ہرشخص کوان عبادات وطاعات سے تزکیہ وقرب الہی حاصل ہوتا ہے اورجس قدر عبادات وطاعات سے غفلت وبُعد ہوتا ہے اتنا ہی تزکیہ وقرب الہی میں کمی ہوتی ہے اسی طرح روزه بهی ان اہم عبادات میں سے ہے جو تزکیہ نفس وتصفیہ قلب کرتا ہے اور روحانی امراض کو دور کرتا ہے اور رمضان کا موسم تزکیہ نفس وتصفیہ قلب وتعلق مع الله کا بہترین واہم ترین موسم ہے اور پهر رمضان کے گذرنے کے بعد شوال کے چھ روزے بهی ان ہی طاعات میں سے ہیں جن سے مزید تزکیہ نفس وتصفیہ قلب حاصل ہوتا ہے اورساتھ ہی اجروثواب بهی حاصل ہوتا ہے اسی لیئے حدیث میں ان چھ روزوں کی بہت ترغیب آئی ہے


شوال کے چھ روزوں کا حکم


شوال کے چھ روزے مسنون ہیں صحیح حدیث میں اس کا ثبوت موجود ہے 

عن أبي أيوب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر . رواه مسلم وأبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد 

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکهنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکهے تو وه ایسا ہے کہ گویا اس نے ہمیشہ روزے رکهے .(یعنی گویا کہ پورے سال کے رکهے)

ترمذی شریف میں یہ حدیث اس طرح ہے

وأما لفظ الترمذي فقال من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال فذلك صيام الدهر وفي الباب عن جابر وأبي هريرة وثوبان وقال أبو عيسى حديث أبي أيوب حديث حسن صحيح

امام ابن خزيمة نے اس حدیث پرایک مستقل باب اس طرح قائم کیا

فضل اتباع صيام رمضان بصيام ستة أيام من شوال فيكون كصيام السنة كلها 

امام نووی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ

علماء نے فرمایا ہے کہ یہ (( صیامُ الدهر )) اس لیئے ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے پس رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر اورشوال چھ کے روزے دو مہینوں کے برابر ہیں . يقول الإمام النووي رحمه الله قال العلماء وإنما كان كصيام الدهر لأن الحسنة بعشر أمثالها فرمضان بعشرة أشهر والستة بشهرين. حاصل یہ کہ جمهور فقهاء مالكيہ وشافعيہ وحنابلہ وحنفيہ کے نزدیک رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکهنا مسنون ہیں


شوال کے چھ روزوں کی فضیلت


رسول الله صلى الله عليه وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے جس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکهے گویا اس نے پورے سال روزے رکهے کیونکہ جو ایک نیکی لے کرآئے گا اس کو دس گنا اجرملے گا 

وعن ثوبان رضي الله عنه مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها رواه ابن ماجه 

گذشتہ حدیث میں حضور صلى الله عليه وسلم نے شوال کے چھ روزوں کو{ كصيام الدهر } فرمایا اور اس حدیث میں{ صیامُ الدهر } کی تفسیر وتشریح کردی یعنی اس کا اجروثواب پورا سال روزے رکهنے کے برابر ہے. صحیح ابن حبان صحیح ابن خزيمة سنن النسائي مسند احمد مسند البزار وغیره میں حدیث موجود ہے کہ شہر رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے برابر ہیں پس یہ پورے سال کے روزوں کی طرح ہوگئے


وفي سنن النسائي الكبرى من طريق أبي أسماء الرحبي عن ثوبان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال صيام شهر رمضان بعشرة أشهر وصيام ستة أيام بشهرين فذلك صيام سنة والنسائي ولفظه جعل الله الحسنة بعشر أمثالها فشهر بعشرة أشهر وصيام ستة أيام بعد الفطر تمام السنة. وهو صحيح . وابن خزيمة في صحيحه ولفظه وهو رواية النسائي قال صيام شهر رمضان بعشرة أشهر وصيام ستة أيام بشهرين فذلك صيام السنة. وهو صحيح . وابن حبان في صحيحه ولفظه من صام رمضان وستا من شوال فقد صام السنة. وهو صحيح . وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صام رمضان وأتبعه بست من شوال فكأنما صام الدهر. رواه البزار وأحد طرقه عنده صحيح . عن عمرو بن جابر الحضرمي قال سمعت جابر بن عبد الله الأنصاري يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من صام رمضان وستا من شوال فكأنما صام السنة كلها . رواه أحمد


طبراني کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبدالله ابن عمر رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے رکهے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکهے تو وه گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسا کہ اپنی ماں کی پیٹ سے پیدا ہونے کے بعد تها

قال الطبراني حدثنا مسعود بن محمد الرملي ثنا عمران بن هارون نا مسلمة بن علي ثنا أبو عبد الله الحمصي عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صام رمضان وأتبعه ستا من شوال خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه لم يرو هذا الحديث عن نافع إلا أبو عبد الله الحمصي تفرد به مسلمة بن علي


شوال کے چھ روزوں کے بعض فوائد


1 = رمضان کے گذرنے کے بعد شوال کے چھ روزے پورے سال کے اجروثواب کی تکمیل کرتے ہیں

2 = شوال وشعبان کے روزے بمنزلہ سنتوں کے ہیں جو فرض نمازوں قبل پڑهے جاتے ہیں جس طرح فرائض میں خلل ونقص سنن ونوافل سے پورا ہوجاتا ہے ایسا ہی فرض روزوں میں نقص وخلل شوال کے روزوں سے پورا ہوجاتا ہے

3 = رمضان کے بعد بهی روزه کی عظیم عبادت کی عادت ضروری ہے اور یہ صوم رمضان کی قبولیت کی علامت ہے کیونکہ الله تعالی جب کسی کا نیک عمل قبول کرلیتے ہیں تواس کو دوسرے نیک عمل کی توفیق دیتے ہیں جیسا کہ بعض علماء نے کہا ثوابُ الحسنة الحسنة بعدها نیکی کے ثواب وقبولیت کی علامت اس کے بعد نیکی کرنا ہے اسی طرح جس نے نیکی کے بعد معاصی کی طرف رجوع کیا تو یہ نیکی کی عدم قبول کی علامت ہے الله تعالی حفاظت فرمائے

4 = صائمين کو عید الفطر کے دن پورا پورا اجر وانعام مل گیا جوکہ يوم الجوائز { انعامات کا دن } ہے اوربنده کے لیئے تمام گناہوں کی بخشش سے بڑی کوئی نعمت نہیں لہذا عید الفطر کے بعد اس عظیم نعمت کا شکر بهی ضروری ہے

5 = بعض سلف کی یہ عادت تهی کہ رات اگرعبادت کی توفیق مل جاتی تو دن کواس کے شکریہ میں روزه رکهتے تهے توجن کو رمضان کی عظیم دولت نصیب ہوئی اور طاعات وعبادات کی توفیق ملی تو ان پرشکر ضروری ہے


حاصل کلام یہ ہے کہ اسلام میں عبادات وطاعات کے لیئے کوئی خاص موسم متعین نہیں هے کہ جب وه موسم ختم ہوجائے توبنده معاصی وغفلت میں پڑجائے بلکہ نیکی وطاعات کا موسم بنده کے ساتھ پوری زندگی تادم آخر ہے اور عبادات وطاعات کا موسم کبهی ختم نہیں ہوتا یہاں تک کہ بنده قبرمیں داخل ہوجائے


مسئله = شوال کے چھ روزوے عید کے بعد فورا لگاتار بهی رکھ سکتا ہے اورمتفرق طورپروقفہ کے ساتھ بهی رکھ سکتا ہے لہذا دونوں طرح درست ہیں

لیکن بہتریہ ہے کہ متفرق طورپر رکهے جائیں

وندب تفریق صوم الست الخ. فتاوی شامی ج ۲ ص ۱۷۱ 


وفي الختام أسأل الله تعالى أن ينفع المسلمین بهذه المبحث المختصر وأن يجعله في موازين حسناتی وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسلیما کثیرا

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق

 شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق

عن ابی ایوب الانصاری رضی الله عنه، ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان، ثم اتبعه ستا من شوال كان كصیام الدهر

(رواه مسلم ، كتاب الصیام ، رقم الحدیث 1164)

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی مانند ہے۔‘‘

فوائد الحسنة بعشر امثالها (ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہے) کے مطابق ایک مہینے (رمضان) کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں، اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھ لئے جائیں جنھیں شش عید روزے کہا جاتا ہے تو یہ دو مہینے کے برابر ہوگئے یوں گویا پورے سال کے روزوں کا مستحق ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے پورے سال کے روزے رکھے اور جس کا یہ مستقل معمول ہوجائے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری وہ اللہ کے ہاں ہمیشہ روزہ رکھنے والا شمار ہوگا۔

اس اعتبار سے یہ شش عید روزے بڑی اہمیت رکھتے ہیں گو ان کی حیثیت نفلی روزوں ہی کی ہے۔ یہ روزے متواتر رکھ لیے جائیں یا ناغہ کرکے، دونوں طرح جائز ہیں، تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے رمضان کے فرضی روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں، ان کیلئے ضروری ہے کہ پہلے وہ فرضی روزوں کی قضا دیں اور اس کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے رکھیں۔

شوال کے چھ روزوں کی بابت: علامہ قاسم بن قطلوبغا کی تحقیق (۲)

مالکیہ کے صحیح مذہب کی تفصیل: چونکہ ان روزوں کی نفی کے بارے میں سب سے زیادہ پیش کی جانی والی دلیل امام مالک کا قول ہے‘ اس لئے مالکیہ کی معتبر کتابوں سے اس بارے میں وہ تصریحات بھی پیش کی جاتی ہیں جن سے ان کا مذہب‘ جمہور کے مذہب کے قریب نظر آتا ہے اور امام مالک کے قول کی صحیح تشریح بھی ہوجاتی ہے۔

1:- سب سے پہلے شرح زرقانی کی عبارت ذکر کرتے ہیں جس میں ”موطأ“ والی ان کی روایت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

”یحییٰ کہتے ہیں کہ: میں نے عید الفطر کے بعد چھ روزوں کے بارے میں امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے اہل علم وفقہ (اور اہل اجتہاد) میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی سلف میں سے (جن حضرات کو میں نے نہیں پایا‘ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبار تابعین رحمہم اللہ) کسی سے کوئی روایت پہنچی، چنانچہ اہل علم اس کو پسند نہیں کرتے تھے، اور ان کو اس کے بدعت بن جانے اور بے علم لوگوں کا رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو ملانے کا اندیشہ تھا۔“

مطرف فرماتے ہیں کہ: امام مالک نے اس مذکورہ وجہ کی بنیاد پر ان روزوں کو مکروہ سمجھا تھا، ورنہ جو شخص صرف فضیلت کے حصول کی نیت سے یہ روزے رکھے تو اس کے لئے کراہت نہیں‘ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے‘ پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور روزے رکھے تو یہ پورا سال روزے رکھنے کی طرح ہے“۔

قاضی عیاض فرماتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے اور چھ روزوں سے ایک سال کا حساب پورا ہوجاتاہے‘ جیساکہ نسائی نے روایت کیا ہے۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ امام مالک نے اس وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیا کہ کہیں جاہل لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں، البتہ شریعت (کے بیان کردہ فضیلت) کی بناء پر یہ روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔

نیز کہا گیا ہے کہ امام مالک کو (متعلقہ) حدیث نہیں پہنچ سکی یا (پہنچی تو صحیح مگر) ان کے نزدیک (استدلال کے درجہ میں) ثابت نہ ہوسکی یا اہل مدینہ کا عمل اس کے برعکس تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے عید کے دن کے ساتھ ملا کر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہو‘ چنانچہ اگر مہینہ کے درمیان میں رکھے تو پھر کوئی کراہت نہیں اور ان کے قول ”ستة ایام بعد الفطر من رمضان“ کا ظاہری معنی بھی یہی بنتا ہےاور ابو عمر (ابن عبد البر) فرماتے ہیں کہ: امام مالک بچ بچ کر چلنے والے دین کے معاملہ میں نہایت احتیاط برتنے والے آدمی تھے‘ اور روزہ ویسے تو ایک نیک عمل ہے مگر (یہاں) اس کا رکھنا بھی اچھا نہیں سمجھا (کیونکہ) بے علم لوگوں کی کوتاہی کا اندیشہ تھا‘ جیساکہ خود بیان کیا ہے۔ 

امام مالک کے نزدیک (متعلقہ) حدیث ثابت نہ ہوسکنے (حالانکہ صحیح مسلم میں موجود ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں سعد بن سعید راوی ہیں جس کو امام احمد نے ضعیف کہا ہے، 

اور نسائی نے کہا کہ: لیس بالقوی

اور ابن سعد نے کہا: ثقة قلیل الحدیث

اور ابن عیینہ وغیرہ نے کہا: کہ یہ حدیث ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ پر موقوف ہے‘ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ یہ ان کی اپنی رائے ہو‘ کیونکہ ایک نیکی تو ویسے بھی دس کے بدلے میں ہے تو اس حدیث کی دو علتیں ہوئیں : ایک اس کے راوی میں اختلاف ہونا ‘ دوسری موقوف کہا جانا (انتہی) (۱۴)

2:- ابن رشد نے ”بدایة المجتہد“ میں لکھا ہے:

”بہرحال شوال کے چھ روزے کے بارے میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے پورے سال روزے رکھے“۔

مگر امام مالک نے اس کو مکروہ کہا ہے‘ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ان کو اس بات کا خوف تھا کہ کہیں عام لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں اور یا اس وجہ سے کہ ان کو متعلقہ حدیث نہیں پہنچ سکی، یا یہ حدیث ہی ان کے نزدیک استدلال کے درجہ کو نہیں پہنچ پاتی اور یہی (توجیہ) زیادہ واضح ہے۔“ (۱۵)

3:- علامہ ابن شاش المتوفی: ۶۱۶ھ نے ”عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة“ میں لکھا ہے:

”صحیح روایت میں شوال کے چھ روزوں کا ذکر آیا ہے، مگر امام مالک کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ کہیں جاہل لوگ فرائض کے ساتھ غیر فرض کو شامل نہ کر بیٹھیں، تحدید کی کراہت میں ان کے اصل کے مطابق، چنانچہ ان دنوں کے علاوہ ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھا ہے، کیونکہ اس سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے یعنی ان چھ دنوں اور رمضان کے روزوں کے ثواب کا کئی گنا ہوجانا یہاں تک کہ ایک سال کی تعداد کو پہنچ جائیں، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور چھ روزے دو مہینوں کے برابر، تو یہ ایک سال کے روزے ہوگئے“۔

ان روزوں کے لئے شوال کو مقرر کرنے کی بنیاد مکلف کے لئے آسانی پیدا کرنے پر ہے، کیونکہ اس کو روزہ رکھنے کی عادت ہوگئی ہے ‘ مذکورہ وقت کے ساتھ اس کے حکم کو خاص کرنا مقصود نہیں، لامحالہ اگر کوئی عشرہ ذی الحجہ کے دوران رکھے گا، جبکہ اس میں روزہ رکھنے کی بھی فضیلت آئی ہے، تو بہت ہی بہتر ہوگا، کیونکہ مقصود یہاں بھی حاصل ہوتا ہے، ساتھ میں اس عشرہ کی فضیلت بھی حاصل ہوگی اور امام مالک کو جس چیز کا اندیشہ تھا‘ اس سے بھی حفاظت رہے گی۔“ (۱۶)

4:- امام قرافی المتوفی: ۶۸۴ھ نے ”الذخیرة“ میں لکھا ہے:”صحیح مسلم میں ہے ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے‘ امام مالک شوال کے علاوہ کسی اور مہینے میں ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں‘ اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں جاہل لوگ ان کو رمضان کے ساتھ ہی شامل نہ کردیں اور جہاں تک شوال کی بات ہے تو شریعت نے صرف مکلف کی آسانی کی خاطر اس کی تعیین کی ہے‘ کیونکہ یہ مہینہ رمضان کے قریب ہے‘ ورنہ مقصد تو دوسرے مہینہ میں بھی حاصل ہوجاتا ہے ‘ لہذا دونوں مصلحتوں کی خاطر تاخیر مشروع ہوگی۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”فکانما صام الدہر“ کا معنی یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے‘ تو ایک مہینہ دس مہینوں کے اور چھ روزے ساٹھ دن کے برابر ہوگئے تو یہ ایک سال کا حساب ہوگیا اور جب سالہا سال اس طرح کرے گا تو گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔

سوال: تشبیہ میں مساوات یا مقاربہ شرط ہوتا ہے اور یہاں تو کوئی نہیں ‘ اس وجہ سے کہ یہ روزہ صوم الدہر کا عشر ہے اور کسی چیز کے عشر اور کل میں کوئی مقاربہ نہیں ہوتا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ: مذکورہ تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ گویا صوم الدہر رکھ لیا‘ اگر کسی دوسری امت میں سے ہوتا۔ کیونکہ ہمارا ایک مہینہ ہم سے پہلی امتوں کے دس مہینوں کے برابر ہے اور ہمارے چھ روز ان کے دو مہینوں کے برابر ہیں، لہذا ہر اعتبار سے مساوات پائی گئی۔ 

تنبیہ: یہ ثواب مختلف الاجر ہے، اس طرح کہ اس میں سے پانچ سدس تو مرتبہ کے اعتبار سے بڑے درجہ میں ہے، کیونکہ وہ واجب کے باب میں سے ہے اور ایک سدس نفل کا ثواب ہے۔ 

فائدہ: روایت میں ”بست“ کے الفاظ ہیں تذکیر کے ساتھ اصل کی رعایت کی خاطر ”بستة“ نہیں فرمایا‘ جبکہ عدد میں مذکر کے لئے تانیث ضروری ہے‘ کیونکہ عرب لوگ لیلی کو سبقت کی وجہ سے ایام پر غلبہ دیتے ہیں‘ جیساکہ آپ کہتے ہیں: ”لعشر مضین من الشہر“۔ (۱۷)

دور اخیر کے محقق عبد العزیز بن صدیق العماری نے بھی ”شرح العثماویة“ میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس مسئلے میں متکلم فیہ روایت کا سہارا لینے والوں کی خوب خبر لی ہے‘ کیونکہ اس باب کی روایات تواتر کی حدود کو چھورہی ہیں۔ موصوف کا ان روایات پر تفصیلی کام کرنے کا بھی ارادہ تھا (۱۸) اگر وہ یہ کر چکے ہوں تو پھر بزعم خویش محققین کے لئے گنجائش نہیں چھوڑی ہوگی۔ اس باب کے دیگر موضوعات کو مستقل رسالہ لکھنے تک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ

حوالہ جات اور مآخذ:

۱۴- شرح الزرقانی ۲/۱۹۰ ۱۵- بدایة المجتہد لابن رشد الحفید ۱/۳۰۸ ۱۶- عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة لابن شاش المالکی ۱/۳۶۹ طبع دار العرب الاسلامی بیروت ۱۷- الذخیرة للقرافی المتوفی: ۶۸۴ھ ۲/۵۳۰ طبع: دار الغرب الاسلامی بیروت ۱۸- اتحاف ذوی الہمم العالیة بشرح العثماویة ص:۱۵۵-۱۵۷ ابو الیسر عبد العزیز بن صدیق الغماری طبع دار البشائر الاسلامیة ۱۴۲۲ھ

.......

شوال کے چھ روزوں 

کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ 

پر اعتراض کا جواب

باطل نے ہر دور میں عوام کو اہلِ حق سے دور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے؛تقریروتحریر کے ذریعے اہلِ حق کی عبارات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کی۔

ان دنوں موبائل کے ذریعہ ایک میسج عام کیا جارہا ہےکہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ 

اس کی ایک مثال یوں دی کہ حدیث مبارکہ میں ہے: 

جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو سال بھر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔دوسری طرف فتاویٰ عالمگیریہ کے ایک مسئلہ سے تقابل کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے۔

الحواب..........

یہ بات بالکل غلط ہے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب یہاں تک کہ اسی فتاویٰ عالمگیریہ میں بھی شوال کے 6 روزوں کو مستحب کہا گیا۔باقی جہاں ان کو مکروہ کہا گیا ہے وہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم خاص صورتوں کے متعلق ہے۔ 

جیسے اگر کوئی شخص ایک روزہ عید کے دن رکھے اور پانچ بعد میں تو یہ مکروہ ہے۔

اسی طرح جو شخص ان روزوں کو رمضان کی طرح فرض سمجھے تو یہ فرض سمجھ کر رکھنا مکروہ ہے۔

اگر کوئی شخص عیدالفطر کے دن کو چھوڑ کر رمضان کی طرح فرض سمجھے بغیر شوال کے 6 روزے رکھے تو یہ مستحب ہے۔

احناف کے نزدیک راجح یہی قول ہے۔ 

چند تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

1: وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ۔۔۔۔ وَتُسْتَحَبُّ السِّتَّةُ مُتَفَرِّقَةً كُلَّ أُسْبُوعٍ يَوْمَانِ۔۔۔۔۔۔۔ وَيُكْرَهُ صَوْمُ الْوِصَالِ وهو أَنْ يَصُومَ السَّنَةَ كُلَّهَا وَلَا يُفْطِرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيِّ عنها وإذا أَفْطَرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيَّةِ الْمُخْتَارُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ

(فتاوی عالمگیری ج1ص221کتاب الصوم باب فیمایکرہ للصائم ومالا یکرہ)

حاصل عبارت: شوال کے چھ روزوں کے بارے میں دو قول ہیں۔

1:مکروہ، 

2:مستحب

اگر کوئی شخص عید کے دن بھی روزہ رکھے تو یہ مکروہ ہے اور اگر عید کا دن چھوڑ کر بعد میں رکھے تو مستحب ہے۔

2: وندب تفريق صوم الست من شوال ولا يكره التتابع على المختار خلافا للثاني۔۔۔ والاتباع المكروه أن يصوم الفطر وخمسة بعده فلو أفطر لم يكره بل يستحب ويسن

(رد المحتار ج 3 ص 485 ،486 کتاب الصوم: مطلب فی صوم الست من شوال)

اس عبارت کا حاصل بھی وہی ہے کہ شوال کے روزے مستحب ہیں لیکن اگر کوئی عید کے دن سے شروع کرے تو مکروہ ہے۔

3: یہی بات بدائع الصنائع میں بھی مذکورہ ہے۔ [ ج2ص215کتاب الصوم الصیام فی الایام المکروہۃ]

Friday, 7 June 2019

شوال کے چھ روزوں کی حقیقت

مفتی اجمل قاسمی صاحب
لنک ویڈیو 👇👇👇👇
https://www.facebook.com/704633959705498/posts/1277232589112296/

شوال کے چھ روزوں کی تحقیق


☄شوال کے 6 روزوں کی فضیلت☄

رمضان المبارک کے مہینہ کے بعدشوال کا مہینہ آتا ہے ،رمضان میں ایک مہینہ تک مسلسل روزوں کا اہتما م کیا جاتا ہے،اور چوں کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اس لئے ہر کوئی ہر ممکن رکھنے کی پوری کوشش بھی کرتا ہے ۔رمضان کے گزرنے کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ نفل روزے رکھے جاتے ہیں ،جن کو ’’ ستۂ شوال ‘‘ کہاجاتا ہے ،یعنی شوال کے چھ روزے ۔عام طور پر ہمارے پاس رمضان المبارک کا جو نظام الاوقات چھپتا ہے اس میں بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے بھی سحر و افطار کے اوقات درج ہوتے ہیں ،اور اللہ کے کچھ بندے ان چھ روزوں کے رکھنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔تو آئیے مختصراً ان روزوں کی حقیقت ،فضیلت او ر ان سے متعلق ضروری مسائل جانتے ہیں ،تاکہ ہمیں ان روزوں کی حقیقت اور حیثیت معلوم ہوجائے۔

✨چھ روزوں کی فضیلت✨

شوال کے مہینہ میں رکھے جانے والے ان روزوں کی فضیلت میں مختلف حدیثیں وارد ہوئی ہیں
1⃣حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ ‏''
جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے (کے ثواب)کی طرح ہیں
صحیح مسلم :1164 ،دارالسلام 2758، صحیح ابن خزیمہ:2114،صحیح ابن حبان :3626/3634،صحیح ابی عوانہ :القسم المفقود صفحہ :94/95، سنن الترمزی : 759 وقال :''حدیث حسن صحیح '' شرح السنتہ للبغوی 6/331 حاشیہ 1780 ، وقال :''ھذا حدیث صحیح ''
اس حدیث کو درج ذیل اماموں نے صحیح قرار دیا ہے :
1⃣ـ امام مسلم ،
2⃣امام ابن خزیمہ ، 
3⃣امام ترمذی ، 
4⃣حافظ ابوعوانہ ،
5⃣حافظ ابوعوانہ ، 5ـ حافظ ابن حبان ،
 6⃣حافظ حسین بن مسعود البغوی رحمہم اللہ

2⃣حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنِ ابِي، أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال‏:‏ صِيَامُ شَهْرٍ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ وَسِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَهُنَّ بِشَهْرَيْنِ فَذَلِكَ تَمَامُ سَنَةٍ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ
" رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اس کے بعد چھ روزے دو مہینوں کے برابر ہیں ، اس طرح سے پورے سال کے روزے بنتے ہیں ''
(السنن الدارمی : 1762 و سندہ صحیح ، سنن ابن ماجہ : 1715 ، صحیح ابن خزیمہ : 2115 ، صحیح ابن حبان : 3635 ، السنن الکبری للنسائی : 2861 ، مسندہ احمد 280/5 ، وغیرہ )
اس حدیث کو ابن خزیمہ اور ابن حبان وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے
 امام نسائی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں :
3⃣"انبا محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکیم قال : حدثنا ابوعبد الرحمن المقری قال :حدثنا شعبتہ بن الحجاج عن عبد ربہ بن سعید عن عمر بن ثابت عن ابی ایوب الانصاری انہ قال :من صام شھر رمضان ثم اتبعہ ستتہ ایام من شوال فکانما صام السنتہ کلھا ''
ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اسنے سارا سال کےروزے رکھے
(السنن الکبری للنسائی 163/2 ، 164 ھجریہ 2865 )اس موقوف روایت کی سند صحیح ہے ـ عبدریہ بن سعید بن قیس ثقہ اور صحیحن کے راوی ہیں دیکھئے تقریب التہذیب (3786) اور ان تک سند صحیح ہے
 ان احادیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں ان چھ روزوں کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے منقو ل ہیں۔

✨ *چھ روزں کی خصوصیت:* ✨

احادیث میں خود نبی کریم ﷺ سے یہ منقول ہے کہ رمضان المبارک کے تیس روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا گویا پورا سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا اور سال بھر روزے رکھنے کا اجر وثواب ملے گا۔
1⃣علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ مسلم کی شرح ’’فتح المہلم ‘‘میں حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:وَاِنَّمَاکَانَ ذٰلِکَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ،ِ لاَنَّ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرَ اَمْثَالِہَا،فَرَمَضَان بِعَشْرَۃِ اَشْھُرٍ وَالِستَّۃُ بِشَھْرَیْنِ ۔( فتح الملھم : 6/258،دار الضیا ء کویت)ان روزوں کی وجہ سے عمر بھر روزے رکھنے کی طرح ہوگیا ،اس لئے کہ ہر نیکی کا اجر دس گناہ ہے ، پس رمضان کے تیس روزے دس مہینے ( یعنی تین سو دن )کے برابر ہوگئے ،اور چھ روزے دو مہینے ( یعنی ساٹھ دن ) کے برابر ہوگئے اس طرح پورا سال روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔
2⃣حکیم الاسلام قاری محمد طیب ؒ بھی اس کی اسی حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ماہِ رمضان کے دنوں کو دیکھئے تو ان میں 30 روزے رکھے گئے ہیں اور شریعت کی بخششیں بے کراں نے ایک نیکی کو دس نیکی کے برابر شمار کیا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا ۔ اس اصول پر یہ 30 روزے 300 ہوجاتے ہیں،اور ادھر عید کے بعد شش عید جو بطور تتمہ و توابع رمضان کے ساتھ لاحق کئے گئے ( گو بوجہ تسہیل و رحمت انہیں اختیاری رکھا گیا ،اور جزو رمضان نہیں بنایا گیا) اصولِ مذکورہ پر 60 ہوجاتے ہیں تو رمضان کے اصل اور ملحقہ روزوں کا مجموعہ بھی وہی 360 ہوجاتا ہے جو سال کے دنوں کی تعداد ہے ،اور اس کا حاصل بھی وہی نکلا کہ رمضان کے یہ انعامی 360 روزے سال بھر کے پورے 360 دنوں کے مساوی ہیں اور رمضان کے یہ اصل اور توابع روزے پورے کردینے والا سال کے تمام روزے رکھنے والا بن کر ’’صائم الدھر‘‘ بن جاتا ہے ۔( خطبات حکیم الاسلام:9/108)

✏ *چھ روزوں کے مسائل:* ✏

1⃣شوال کے یہ روزے لگاتار رکھنا ، یا عید کے اگلے دن سے فوراً رکھنا ضروری نہیں بلکہ شوال کے مہینے میں عید کا دن چھوڑ کر جب اور جس طرح سے چاہیں رکھ سکتے ہیں ،بس اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال کے مہینے میں مکمل ہوجانی چاہیے ۔( شوال و عید الفطر : فضائل واحکام:418)
2⃣رمضان کے روزے فرض ہیں ،شوال کے چھ روزے نفل ہیں ،لہذا شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے روزوں کی قضا کی نیت کرنادرست نہیں ،اس طرح رمضان کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔( روزے کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا:131)
3⃣شوال کے روزے جائز اور مستحب ہیں ،نہ فرض ہیں اور نہ واجب ، اس لئے یہ سمجھنا کہ رمضان کے روزوں کا اجر ان روزوں پر موقوف رہتا ہے ،درست نہیں ہے۔( کتاب الفتاوی :3/442)
4⃣عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر عید کے بعد سے لگاتا رہے تو یہ افضل ہے۔( الفقہ الاسلامی وادلتہ :2/589)
5⃣بعض لوگ عید الفطر گزرنے کے بعد شوال کی آٹھ تاریخ کو ایک اور عید مناتے ہیں ،جب کہ بعض لوگ شوال کے چھ روزوں سے فارغ ہو کر یہ عید مناتے ہیں اور بعض لوگ اس عید کو ’’ عیدِ ابرار‘‘ کانام دیتے ہیں،اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں اور اس کو عید قراردینا شرعاً غلط ہے ۔( شوال و عید الفطر کے فضائل واحکام:422

 📌 *کیا امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے*
 *نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے*  📌

📝 *فقہاء مالکیہ کا موقف* 📝

امام مالک کی طرف ان روزوں کی کراہیت کا جو قول منسوب کیا جاتا ہے اس کے متعلق خود مالکیہ نے مختلف تاویلات کی ہیں:
1⃣. ابن عبدالبر رحمه اللہ کا قول:
ابن عبدالبر رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک نے ان روزوں کی ممانعت ایک خاص وجہ سے کی ہے اور وہ یہ کہ ان روزوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے لہذا احتیاطا امام مالک نے ان روزوں کی کراہت کا قول فرمایا.
2⃣. ابو عبداللہ العبدری رحمه اللہ:
ابو عبداللہ العبدری رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ ان روزوں کو واجب نہ سمجھ لیں اس لئے منع فرماتے تھے ورنہ امام مالک رحمه اللہ خود ان روزوں کو رکھتے تھے.
یہی بات امام قرطبی نے بھی مطرف کی روایت سے نقل کی ہے.
□ وذهب أبو عبدالله العبدري إلى تأويل آخر لقول مالك وهو: أن مالكا إنما كره صومها لسرعة أخذ الناس بقوله فيظن الجاهل وجوبها، وزعم العبدري -وهو من فقهاء المالكية- أنّ مالكا كان يصومها وحضَّ مالكٌ الرشيدَ على صيامها [168].
○ كما أن القرطبي قال: "وروي مطرف عن مالك أنه كان يصومها في خاصة نفسه". [169].

 *اہل خراسان کا عمل:*

امام مالک جس بات کا خوف کرتے تھے وہ عمل اہل خراسان نے شروع کیا کہ ان روزوں کا بھی باقاعدہ اسی طرح کا اہتمام کیا جاتا جیسا کہ رمضان کے روزوں میں کیا جاتا تھا.
○ قد وقع ما خافه الإمام مالك في بعض بلاد خراسان إذ كانوا يقومون لسحورها على عادتهم في رمضان (153).

 📝 *جمھور مالکیة کا عمل:* 📝

1⃣:جمھور مالکیہ کا عمل ابتداء سے ہی ان روزوں کے رکھنے کا ہے اور ابتدائی دور میں جب جھل زیادہ تھا تو خوف تھا کہ لوگ اسکو فرض کا حصہ نہ سمجھ بیٹھیں لیکن جب علم عام ہوا تو اب کراہت بھی ختم ہوگئی.
2⃣وللمالكية المتأخرين قيود معروفة لثبوت الكراهة، إذا انتفى قيد منها انتفت الكراهة.
3⃣: وعمل جمهورهم منذ زمن على المبادرة لصومها اتباعا لظاهر النص، بعد انتشار العلم وذهاب ما خشيه الإمام. والله أعلم.

📝 احناف فقہا کرام کا موقف* 📝

1⃣امام ابویوسف رحمه اللہ ان روزوں کو مسلسل رکھنے کی کراہت کے قول کو نقل فرماتے ہیں، لیکن اگر یہ روزے متفرق طور پر رکھے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں.
2⃣:وقال ابن نُجيم في البحر الرائق: ومن المكروه... صوم ستة من شوال عند أبي حنيفة متفرقا كان أو متتابعا، وعن أبي يوسف كراهته متتابعا لا متفرقا [161]

3⃣"فتح القدیر" میں جمھور احناف کا قول ان روزوں کے استحباب کا نقل کیا ہے اور یہی قول ہمارے زمانے کے تمام فتاوی میں بھی موجود ہے.
4⃣:صاحب بدائع علامہ کاسانی رحمه الله نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عیدالفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے اور اگر کسی نے عیدالفطر کے دن افطار کیا، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والاتباع المکروہ هو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما اذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل هو مستحب وسنة (بدائع الصنائع، کتاب الصوم ۲:۵۶۲، ط: دارالکتب العلمیة بیروت)
5⃣5: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانی رحمه الله نے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ روزے بھی ہیں (رسالہ: تحریر الأقوال في صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص۳۸۶)۔

6⃣: فتاویٰ عالمگیری میں البحرالرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح ترقول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔

عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال - بأسًا ہکذا في البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الہندیة، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ، ۱:۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،
 وکلمة ”لابأس“ ہنا مستعملة فی المندوب؛ لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولیٰ؛ بل تستعمل فی المندوب أیضاً اذا کان المحل مما یتوہم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة اذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامی فی الدرالمختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطہارة ۱:۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳:۶۵، باب الجنائز فی شرح قول الدر: ”ولا بأس برش الماء علیہ“ ۳:۱۴۳ و ۶:۲۵۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،
 مثلها کلمة ”لاجناح“ بل قد استعملت هذه في سورة البقرة (رقم الآیة: ۱۵۸) بمعنی الوجوب کما فی رد المحتار لابن عابدین الشامی (۶:۲۵۷)، وکلمة ”لا حرج“ أیضاً؛ لأنہا بمعناہا․

 7⃣:علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے درمختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیاگیا، یعنی: عیدالفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے اور علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ کے رسالہ (تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کے قول کو موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف درمختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والاتباع المکروہ ہو أن یصوم الفطر وخمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیہا، ۳:۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)

8⃣:اسی طرح علامہ محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔

9⃣: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹:۱۷۷، مطبوعہ: ادارة القرآن والعلوم الاسلامیة کراچی) میں حضرت ابی ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے، یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔

🔟 بہشتی زیور کامل (۳:۱۴۲) میں ہے
عید کے بعدچھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اورنفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔

درج بالا چند دلائل اور حوالہ جات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلاشبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت کا قول صحیح نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ أعلم


Tuesday, 4 June 2019

ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ

ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ
 ﺑﺎﻃﻞ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺮﺑﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ؛ﺗﻘﺮﯾﺮﻭﺗﺤﺮﯾﺮ سوشل میڈیا  ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺑﺪﻇﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
🌴 ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ  سوشل میڈیا پر ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺴﺞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ۔
🌸 ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻮﮞ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ : ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
🌷 ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
 ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮐﺘﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔
💐 ﺑﺎﻗﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺧﺎﺹ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ۔
🎄 ﺟﯿﺴﮯﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯﮦ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
🌹 ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
🍀 ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪﺍﻟﻔﻄﺮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ﺍﺣﻨﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺭﺍﺟﺢ ﯾﮩﯽ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔
🌺 * ﭼﻨﺪ ﺗﺼﺮﯾﺤﺎﺕ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ *:
1⃣ ﻭَﺍﻟْﺄَﺻَﺢُّ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ۔۔۔۔ ﻭَﺗُﺴْﺘَﺤَﺐُّ ﺍﻟﺴِّﺘَّﺔُ ﻣُﺘَﻔَﺮِّﻗَﺔً ﻛُﻞَّ ﺃُﺳْﺒُﻮﻉٍ ﻳَﻮْﻣَﺎﻥِ۔۔۔۔۔۔۔ ﻭَﻳُﻜْﺮَﻩُ ﺻَﻮْﻡُ ﺍﻟْﻮِﺻَﺎﻝِ ﻭﻫﻮ ﺃَﻥْ ﻳَﺼُﻮﻡَ ﺍﻟﺴَّﻨَﺔَ ﻛُﻠَّﻬَﺎ ﻭَﻟَﺎ ﻳُﻔْﻄِﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻲِّ ﻋﻨﻬﺎ ﻭﺇﺫﺍ ﺃَﻓْﻄَﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻴَّﺔِ ﺍﻟْﻤُﺨْﺘَﺎﺭُ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯼ ﺝ 1 ﺹ 221 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺑﺎﺏ ﻓﯿﻤﺎﯾﮑﺮﮦ ﻟﻠﺼﺎﺋﻢ ﻭﻣﺎﻻ ﯾﮑﺮﮦ ‏)
🌻 ﺣﺎﺻﻞ ﻋﺒﺎﺭﺕ : ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔
1⃣ : ﻣﮑﺮﻭﮦ، 2⃣ : ﻣﺴﺘﺤﺐ
☘ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔
2⃣ ﻭﻧﺪﺏ ﺗﻔﺮﻳﻖ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺍﻟﺘﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻠﺜﺎﻧﻲ۔۔۔ ﻭﺍﻻﺗﺒﺎﻉ ﺍﻟﻤﻜﺮﻭﻩ ﺃﻥ ﻳﺼﻮﻡ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺑﻌﺪﻩ ﻓﻠﻮ ﺃﻓﻄﺮ ﻟﻢ ﻳﻜﺮﻩ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻭﻳﺴﻦ
‏( ﺭﺩ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ ﺝ 3 ﺹ 485 ، 486 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ : ﻣﻄﻠﺐ ﻓﯽ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ ‏)
🌴 ﺍﺱ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
🌷 ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﮨﮯ۔
‏[ ﺝ 2 ﺹ 215 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺍﻟﺼﯿﺎﻡ ﻓﯽ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﺍﻟﻤﮑﺮﻭﮨۃ ‏]
🌸 ﻣﯿﺴﺞ ﻣﯿﮟ ﺁﺩﮬﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﯽ ﺑﺎﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﺪﺩﯾﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔
🌼 ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ﺁﻣﯿﻦ

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق
عن ابی ایوب الانصاری رضی الله عنه، ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان، ثم اتبعه ستا من شوال كان كصیام الدهر
(رواه مسلم ، كتاب الصیام ، رقم الحدیث 1164)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی مانند ہے۔‘‘
فوائد الحسنة بعشر امثالها (ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہے) کے مطابق ایک مہینے (رمضان) کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں، اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھ لئے جائیں جنھیں شش عید روزے کہا جاتا ہے تو یہ دو مہینے کے برابر ہوگئے یوں گویا پورے سال کے روزوں کا مستحق ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے پورے سال کے روزے رکھے اور جس کا یہ مستقل معمول ہوجائے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری وہ اللہ کے ہاں ہمیشہ روزہ رکھنے والا شمار ہوگا۔
اس اعتبار سے یہ شش عید روزے بڑی اہمیت رکھتے ہیں گو ان کی حیثیت نفلی روزوں ہی کی ہے۔ یہ روزے متواتر رکھ لیے جائیں یا ناغہ کرکے، دونوں طرح جائز ہیں، تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے رمضان کے فرضی روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں، ان کیلئے ضروری ہے کہ پہلے وہ فرضی روزوں کی قضا دیں اور اس کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے رکھیں۔
شوال کے چھ روزوں کی بابت: علامہ قاسم بن قطلوبغا کی تحقیق (۲)
مالکیہ کے صحیح مذہب کی تفصیل: چونکہ ان روزوں کی نفی کے بارے میں سب سے زیادہ پیش کی جانی والی دلیل امام مالک کا قول ہے‘ اس لئے مالکیہ کی معتبر کتابوں سے اس بارے میں وہ تصریحات بھی پیش کی جاتی ہیں جن سے ان کا مذہب‘ جمہور کے مذہب کے قریب نظر آتا ہے اور امام مالک کے قول کی صحیح تشریح بھی ہوجاتی ہے۔
1:- سب سے پہلے شرح زرقانی کی عبارت ذکر کرتے ہیں جس میں ”موطأ“ والی ان کی روایت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
”یحییٰ کہتے ہیں کہ: میں نے عید الفطر کے بعد چھ روزوں کے بارے میں امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے اہل علم وفقہ (اور اہل اجتہاد) میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی سلف میں سے (جن حضرات کو میں نے نہیں پایا‘ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبار تابعین رحمہم اللہ) کسی سے کوئی روایت پہنچی، چنانچہ اہل علم اس کو پسند نہیں کرتے تھے، اور ان کو اس کے بدعت بن جانے اور بے علم لوگوں کا رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو ملانے کا اندیشہ تھا۔“
مطرف فرماتے ہیں کہ: امام مالک نے اس مذکورہ وجہ کی بنیاد پر ان روزوں کو مکروہ سمجھا تھا، ورنہ جو شخص صرف فضیلت کے حصول کی نیت سے یہ روزے رکھے تو اس کے لئے کراہت نہیں‘ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے‘ پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور روزے رکھے تو یہ پورا سال روزے رکھنے کی طرح ہے“۔
قاضی عیاض فرماتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے اور چھ روزوں سے ایک سال کا حساب پورا ہوجاتاہے‘ جیساکہ نسائی نے روایت کیا ہے۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ امام مالک نے اس وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیا کہ کہیں جاہل لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں، البتہ شریعت (کے بیان کردہ فضیلت) کی بناء پر یہ روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔
نیز کہا گیا ہے کہ امام مالک کو (متعلقہ) حدیث نہیں پہنچ سکی یا (پہنچی تو صحیح مگر) ان کے نزدیک (استدلال کے درجہ میں) ثابت نہ ہوسکی یا اہل مدینہ کا عمل اس کے برعکس تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے عید کے دن کے ساتھ ملا کر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہو‘ چنانچہ اگر مہینہ کے درمیان میں رکھے تو پھر کوئی کراہت نہیں اور ان کے قول ”ستة ایام بعد الفطر من رمضان“ کا ظاہری معنی بھی یہی بنتا ہےاور ابو عمر (ابن عبد البر) فرماتے ہیں کہ: امام مالک بچ بچ کر چلنے والے دین کے معاملہ میں نہایت احتیاط برتنے والے آدمی تھے‘ اور روزہ ویسے تو ایک نیک عمل ہے مگر (یہاں) اس کا رکھنا بھی اچھا نہیں سمجھا (کیونکہ) بے علم لوگوں کی کوتاہی کا اندیشہ تھا‘ جیساکہ خود بیان کیا ہے۔
امام مالک کے نزدیک (متعلقہ) حدیث ثابت نہ ہوسکنے (حالانکہ صحیح مسلم میں موجود ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں سعد بن سعید راوی ہیں جس کو امام احمد نے ضعیف کہا ہے،
اور نسائی نے کہا کہ: لیس بالقوی
اور ابن سعد نے کہا: ثقة قلیل الحدیث
اور ابن عیینہ وغیرہ نے کہا: کہ یہ حدیث ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ پر موقوف ہے‘ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ یہ ان کی اپنی رائے ہو‘ کیونکہ ایک نیکی تو ویسے بھی دس کے بدلے میں ہے تو اس حدیث کی دو علتیں ہوئیں : ایک اس کے راوی میں اختلاف ہونا ‘ دوسری موقوف کہا جانا (انتہی) (۱۴)
2:- ابن رشد نے ”بدایة المجتہد“ میں لکھا ہے:
”بہرحال شوال کے چھ روزے کے بارے میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے پورے سال روزے رکھے“۔
مگر امام مالک نے اس کو مکروہ کہا ہے‘ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ان کو اس بات کا خوف تھا کہ کہیں عام لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں اور یا اس وجہ سے کہ ان کو متعلقہ حدیث نہیں پہنچ سکی، یا یہ حدیث ہی ان کے نزدیک استدلال کے درجہ کو نہیں پہنچ پاتی اور یہی (توجیہ) زیادہ واضح ہے۔“ (۱۵)
3:- علامہ ابن شاش المتوفی: ۶۱۶ھ نے ”عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة“ میں لکھا ہے:
”صحیح روایت میں شوال کے چھ روزوں کا ذکر آیا ہے، مگر امام مالک کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ کہیں جاہل لوگ فرائض کے ساتھ غیر فرض کو شامل نہ کر بیٹھیں، تحدید کی کراہت میں ان کے اصل کے مطابق، چنانچہ ان دنوں کے علاوہ ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھا ہے، کیونکہ اس سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے یعنی ان چھ دنوں اور رمضان کے روزوں کے ثواب کا کئی گنا ہوجانا یہاں تک کہ ایک سال کی تعداد کو پہنچ جائیں، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور چھ روزے دو مہینوں کے برابر، تو یہ ایک سال کے روزے ہوگئے“۔
ان روزوں کے لئے شوال کو مقرر کرنے کی بنیاد مکلف کے لئے آسانی پیدا کرنے پر ہے، کیونکہ اس کو روزہ رکھنے کی عادت ہوگئی ہے ‘ مذکورہ وقت کے ساتھ اس کے حکم کو خاص کرنا مقصود نہیں، لامحالہ اگر کوئی عشرہ ذی الحجہ کے دوران رکھے گا، جبکہ اس میں روزہ رکھنے کی بھی فضیلت آئی ہے، تو بہت ہی بہتر ہوگا، کیونکہ مقصود یہاں بھی حاصل ہوتا ہے، ساتھ میں اس عشرہ کی فضیلت بھی حاصل ہوگی اور امام مالک کو جس چیز کا اندیشہ تھا‘ اس سے بھی حفاظت رہے گی۔“ (۱۶)
4:- امام قرافی المتوفی: ۶۸۴ھ نے ”الذخیرة“ میں لکھا ہے:”صحیح مسلم میں ہے ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے‘ امام مالک شوال کے علاوہ کسی اور مہینے میں ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں‘ اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں جاہل لوگ ان کو رمضان کے ساتھ ہی شامل نہ کردیں اور جہاں تک شوال کی بات ہے تو شریعت نے صرف مکلف کی آسانی کی خاطر اس کی تعیین کی ہے‘ کیونکہ یہ مہینہ رمضان کے قریب ہے‘ ورنہ مقصد تو دوسرے مہینہ میں بھی حاصل ہوجاتا ہے ‘ لہذا دونوں مصلحتوں کی خاطر تاخیر مشروع ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”فکانما صام الدہر“ کا معنی یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے‘ تو ایک مہینہ دس مہینوں کے اور چھ روزے ساٹھ دن کے برابر ہوگئے تو یہ ایک سال کا حساب ہوگیا اور جب سالہا سال اس طرح کرے گا تو گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔
سوال: تشبیہ میں مساوات یا مقاربہ شرط ہوتا ہے اور یہاں تو کوئی نہیں ‘ اس وجہ سے کہ یہ روزہ صوم الدہر کا عشر ہے اور کسی چیز کے عشر اور کل میں کوئی مقاربہ نہیں ہوتا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ: مذکورہ تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ گویا صوم الدہر رکھ لیا‘ اگر کسی دوسری امت میں سے ہوتا۔ کیونکہ ہمارا ایک مہینہ ہم سے پہلی امتوں کے دس مہینوں کے برابر ہے اور ہمارے چھ روز ان کے دو مہینوں کے برابر ہیں، لہذا ہر اعتبار سے مساوات پائی گئی۔
تنبیہ: یہ ثواب مختلف الاجر ہے، اس طرح کہ اس میں سے پانچ سدس تو مرتبہ کے اعتبار سے بڑے درجہ میں ہے، کیونکہ وہ واجب کے باب میں سے ہے اور ایک سدس نفل کا ثواب ہے۔
فائدہ: روایت میں ”بست“ کے الفاظ ہیں تذکیر کے ساتھ اصل کی رعایت کی خاطر ”بستة“ نہیں فرمایا‘ جبکہ عدد میں مذکر کے لئے تانیث ضروری ہے‘ کیونکہ عرب لوگ لیلی کو سبقت کی وجہ سے ایام پر غلبہ دیتے ہیں‘ جیساکہ آپ کہتے ہیں: ”لعشر مضین من الشہر“۔ (۱۷)
دور اخیر کے محقق عبد العزیز بن صدیق العماری نے بھی ”شرح العثماویة“ میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس مسئلے میں متکلم فیہ روایت کا سہارا لینے والوں کی خوب خبر لی ہے‘ کیونکہ اس باب کی روایات تواتر کی حدود کو چھورہی ہیں۔ موصوف کا ان روایات پر تفصیلی کام کرنے کا بھی ارادہ تھا (۱۸) اگر وہ یہ کر چکے ہوں تو پھر بزعم خویش محققین کے لئے گنجائش نہیں چھوڑی ہوگی۔ اس باب کے دیگر موضوعات کو مستقل رسالہ لکھنے تک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ
حوالہ جات اور مآخذ:
۱۴- شرح الزرقانی ۲/۱۹۰ ۱۵- بدایة المجتہد لابن رشد الحفید ۱/۳۰۸ ۱۶- عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة لابن شاش المالکی ۱/۳۶۹ طبع دار العرب الاسلامی بیروت ۱۷- الذخیرة للقرافی المتوفی: ۶۸۴ھ ۲/۵۳۰ طبع: دار الغرب الاسلامی بیروت ۱۸- اتحاف ذوی الہمم العالیة بشرح العثماویة ص:۱۵۵-۱۵۷ ابو الیسر عبد العزیز بن صدیق الغماری طبع دار البشائر الاسلامیة ۱۴۲۲ھ
.......
شوال کے چھ روزوں
کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراض کا جواب
باطل نے ہر دور میں عوام کو اہلِ حق سے دور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے؛تقریروتحریر کے ذریعے اہلِ حق کی عبارات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کی۔
ان دنوں موبائل کے ذریعہ ایک میسج عام کیا جارہا ہےکہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔
اس کی ایک مثال یوں دی کہ حدیث مبارکہ میں ہے:
جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو سال بھر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔دوسری طرف فتاویٰ عالمگیریہ کے ایک مسئلہ سے تقابل کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے۔
الحواب..........
یہ بات بالکل غلط ہے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب یہاں تک کہ اسی فتاویٰ عالمگیریہ میں بھی شوال کے 6 روزوں کو مستحب کہا گیا۔باقی جہاں ان کو مکروہ کہا گیا ہے وہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم خاص صورتوں کے متعلق ہے۔
جیسے اگر کوئی شخص ایک روزہ عید کے دن رکھے اور پانچ بعد میں تو یہ مکروہ ہے۔
اسی طرح جو شخص ان روزوں کو رمضان کی طرح فرض سمجھے تو یہ فرض سمجھ کر رکھنا مکروہ ہے۔
اگر کوئی شخص عیدالفطر کے دن کو چھوڑ کر رمضان کی طرح فرض سمجھے بغیر شوال کے 6 روزے رکھے تو یہ مستحب ہے۔
احناف کے نزدیک راجح یہی قول ہے۔
چند تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
1: وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ۔۔۔۔ وَتُسْتَحَبُّ السِّتَّةُ مُتَفَرِّقَةً كُلَّ أُسْبُوعٍ يَوْمَانِ۔۔۔۔۔۔۔ وَيُكْرَهُ صَوْمُ الْوِصَالِ وهو أَنْ يَصُومَ السَّنَةَ كُلَّهَا وَلَا يُفْطِرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيِّ عنها وإذا أَفْطَرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيَّةِ الْمُخْتَارُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ
(فتاوی عالمگیری ج1ص221کتاب الصوم باب فیمایکرہ للصائم ومالا یکرہ)
حاصل عبارت: شوال کے چھ روزوں کے بارے میں دو قول ہیں۔
1:مکروہ،
2:مستحب
اگر کوئی شخص عید کے دن بھی روزہ رکھے تو یہ مکروہ ہے اور اگر عید کا دن چھوڑ کر بعد میں رکھے تو مستحب ہے۔
2: وندب تفريق صوم الست من شوال ولا يكره التتابع على المختار خلافا للثاني۔۔۔ والاتباع المكروه أن يصوم الفطر وخمسة بعده فلو أفطر لم يكره بل يستحب ويسن
(رد المحتار ج 3 ص 485 ،486 کتاب الصوم: مطلب فی صوم الست من شوال)
اس عبارت کا حاصل بھی وہی ہے کہ شوال کے روزے مستحب ہیں لیکن اگر کوئی عید کے دن سے شروع کرے تو مکروہ ہے۔
3: یہی بات بدائع الصنائع میں بھی مذکورہ ہے۔ [ ج2ص215کتاب الصوم الصیام فی الایام المکروہۃ]