Showing posts with label ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی امام اعظم ہیں. Show all posts
Showing posts with label ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی امام اعظم ہیں. Show all posts

Sunday, 19 July 2020

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ "نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ" ۸۰ھ – ۱۵۰ھ

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی

آپ کا اسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ آپ کے والد کا نام ثابترحمتہ اللہ تھا اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان و اشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ آپ کے والد حضرت ثابترحمتہ اللہ بچپن میں حضرت علیرضی اللہ کی خدمت میں لائے گئے تو حضرت علیرضی اللہ نے آپ اور آپ کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی جو ایسی قبول ہوئی کہ امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ جیسا عظیم محدث و فقیہ اور خدا ترس انسان پیدا ہوا۔

آپ نے زندگی کے ابتدائی ایام میں ضروری علم کی تحصیل کے بعد تجارت شروع کی لیکن آپ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے علم حدیث کی معروف شخصیت شیخ عامر شعبی رحمتہ اللہ کوفی ۱۷ھ – ۱۰۴ھ" جنہیں پانچ سو سے زیادہ اصحاب رسولرضی اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہے، نے آپ کو تجارت چھوڑ کر مزید علمی کمال حاصل کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ آپ نے اما شعبی رحمتہ اللہ کوفی کے مشورہ پر علم کلام، علم حدیث اور علم فقہ کی طرف توجہ فرمائی اور ایسا کمال پیدا کیا کہ علمی و عملی دنیا میں امام اعظم رحمتہ اللہ کہلائے۔ آپ نے کوفہ ، بصرہ اور بغداد کے بے شمار شیوخ سے علمی استفادہ کرنے کے ساتھ حصول علم کے لئے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور ملک شام کے متعداد اسفار کئے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کو ملک کے قاضی ہونے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے معذرت چاہی تو وہ اپنے مشورہ پر اصرار کرنے لگا چنانچہ آپ نے صراحتہ انکار کر دیا اور قسم کھالی کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے ۱۴۶ ہجری میں آپ کو قید کر دیا گیا۔ امام صاحب رحمتہ اللہ کی علمی شہرت کی وجہ سے قید خانہ میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور امام محمد رحمتہ اللہ جیسے محدث و فقیہ نے جیل میں ہی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ سے تعلیم حاصل کی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی مقبولیت سے خوفزدہ خلیفہ وقت نے امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر دلوا دیا۔ جب امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں وفات پا گئے۔ تقریبا پچاس ہزار افراد نے نماز جنازہ پڑھی، بغداد کے خیزران قبرستان میں دفن کئے گئے۔ ۳۷۵ھ میں اس قبرستان کے قریب ایک بڑی مسجد "جامع الامام الاعظم رحمتہ اللہ " تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔ عرض ۱۵۰ھ میں صحابہ و بڑے بڑے تابعین سے روایت کرنے والا ایک عظیم محدث و فقیہ دنیا سے رخصت ہو گیا اور اس طرح صرف اور صرف اللہ تعالی کے خوف سے قاضی کے عہدہ کو قبول نہ کرنے والے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تاکہ خلیفہ وقت اپنی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ نہ کراسکے جس کی وجہ سے مولاء حقیقی ناراض ہو۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے بارے میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم کی بشارت

مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی شافعی مصری رحمتہ اللہ ۸۴۹ھ – ۹۱۱ھ" نے اپنی کتاب "تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " میں بخاری و مسلم و دیگر کتب حدیث میں وارد نبی اکرم کے اقوال : " اگر ایمان ثریا ستارے کے قریب بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے۔ "بخاری" اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرلے گا۔ "مسلم" اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس کو حاصل کر لے گا "طبرانی" اگر دین ثریا ستارہ پر بھی معلق ہو گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں گے "طبرانی" ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ "شیخ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ " کے بارے میں ان احادیث میں بشارت دی ہے اور یہ احادیث امام صاحب کی بشارت و فضیلت کے بارے میں ایسی صریح ہیں کہ ان پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے۔ شیخ ابن حجر الھیتمی المکی الشافعی رحمتہ اللہ "۹۰۹ھ – ۹۷۳ھ" نے اپنی مشہور و معروف کتاب " الخیرات الحسان فی مناقب امام ابی حنیفہ" میں تحریر کیا ہے کہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ کے بعض تلامذہ نے فرمایا اور جس پر ہمارے مشائخ نے بھی اعتماد کیا ہے کہ ان احادیث کی مراد بلاشبہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں اس لئے کہ اہل فارس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی بھی علم کے اس درجہ کو نہیں پہنچا جس پر امام صاحب رحمتہ اللہ فائز تھے۔

وضاحت : ان احادیث کی مراد میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے مگر عصر قدیم سے عصر تک ہر زمانہ کے محدثین و فقہاء علماء کی ایک جماعت نے تحریر کیا ہے کہ ان احادیث سے مراد حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں۔ علماء شوافع رحمتہ اللہ نے خاص طور پر اس قول کو مدلل کیا ہے جیسا کہ شافعی مکتبہ فکر کے دو مشہور جید علماء مفسر قرآن کے اقوال ذکر کئے گئے۔ 

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی تابعیت

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ "جو فن حدیث کے امام شمار کئے جاتے ہیں" سے جب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو پایا ، اس لئے کہ وہ ۸۰ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہاں صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن اوفیرضی اللہ موجود تھے، ان کا انتقال اس کے بعد ہوا ہے۔ بصرہ میں حضرت انس بن مالکرضی اللہ تھے اور ان کا انتقال ۹۰ یا ۹۳ ہجری میں ہواہے۔ ابن سعد رحمتہ اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کہا جائے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے اور وہ طبقہ تابعین میں سے ہیں۔ نیز حضرت انس بن مالکرضی اللہ کے علاوہ بھی اس شہر میں دیگر صحابہ کرام اس وقت حیات تھے۔

شیخ محمد بن یوسف صالحی و مشقی شافعی رحمتہ اللہ نے " عقود الجمان فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " کے نویں باب میں ذکر کیا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ اس زمانہ میں پیدا ہوئے جس میں صحابہ کرام کی کثرت تھی۔

اکثر محدثین " جن میں امام خطیب بغدادی رحمتہ اللہ ، علامہ نووی رحمتہ اللہ ، علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ ، علامہ ذہبی رحمتہ اللہ ، علامہ زین العابدین سخاوی رحمتہ اللہ ، حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمتہ اللہ ، امام دار قطنی رحمتہ اللہ ، حافظ ابن البر رحمتہ اللہ اور علامہ ابن الجوزی رحمتہ اللہ کے نام قابل ذکر ہیں" کا یہی فیصلہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے۔

محدثین و محققین کی تشریح کے مطابق صحابی رسولرضی اللہ سے روایت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ صحابی کا دیکھنا بھی کافی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے تو صحابہ کرام کی ایک جماعت کو دیکھنے کے علاوہ بعض صحابہ کرام خاص کر انس بن مالکرضی اللہ سے احادیث روایت بھی کی ہیں۔

غرضیکہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تابعی ہیں اور آپ کا زمانہ صحابہ ، تابعین تبع تابعین کا زمانہ ہے جس دور کی امانت و دیانت اور تقوی کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن کریم " سورہ التوبہ آیت نمبر ۱۰۰" میں فرمایا ہے۔ نیز نبی اکرم کے فرمان کے مطابق یہ بہترین زمانوں میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی حیات میں ہی حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق بشارت دی تھی ، جیساکہ بیان کیا جا چکا ہے جس سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی تابعیت اور فضیلت روز روشن کی واضح ہو جاتی ہے۔

Wednesday, 1 April 2020

ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی امام اعظم ہیں

ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی امام اعظم ہیں

آج کل اک نئی بدعت اور اک نئے الحاد نے جنم لیا ہوا ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کیا جاتا ہے ۔
الحاد کیوں ؟
اسلئے کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر متفق ہے کہ امام اعظم اعزاز و لقب ہے حضرت نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کا اور اکابرین امت اس بات کا اظہار بے شمار جگہوں پر کرتے چلے آئے ہیں ۔ آسان الفاظ میں اس بات پر کہ امام اعظم جس ہستی کو کہا جائے گا وہ ہیں ابو حنیفہ رحمہ اللہ یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ۔پس ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امام اعظم لقب سے پکارنا امت کے اجماع سے ثابت ہے جس کا غیر مقلد منکر ہے اور ثابت شدہ مسئلہ کا انکار کرکے غیر مقلد ملحدین کی جماعت میں شامل ہیں۔
اور بدعت کیوں؟
اسلئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر امام اعظم کہنا ہوتا تو اللہ فرماتا یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے۔(چونکہ نام نہاد خود ساختہ اہل حدیثوں کا نعرہ یہی ہے کہ صرف قرآن اور حدیث،تو پھر دلیل بھی ان ہی میں سے ہونی چاھئیے)
جبکہ ہوتا الٹ ہے نہ قرآن دیکھنا دکھانا ہے نہ حدیث، بلکہ اپنے فرقہ جدیدہ نام نہاد اہل حدیث کے علماء" کی اندھی تقلید کرتے ہوئے "امام اعظم صلی اللہ علیہ وسلم " کہنا ،لکھنا اور اس پر ضد بازی شروع کردی وہ بھی بغیر کسی دلیل کے۔جبکہ امت کا بچہ بچہ اس بات پر اتفاق رکھتا اور جانتا ہے کہ جب بھی امام اعظم کہا،لکھا جائے گا تو مراد امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی ہوتے ہیں۔
بہت بڑی گستاخی کیوں؟
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ابوحنیفہ رحمہ اللہ ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔
اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امتی کو ملا ہوا لقب عطا کرنا گستاخوں کا کام تو ہوسکتا ہے محمدیوں کا نہیں،اگر ایسا کہا جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے یا یوں کہیں کہ ڈھکوسلہ دیاجاتا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے امام ہیں ،نبیوں کے امام ہیں ،اللہ کے بعد سب سے بڑے مقام والے ہیں اسلئے امام اعظم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی کہا جانا چاھئیے۔
یہ ڈھکوسلہ اسلئے ہے کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو پھر
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کہنا ناجائز ٹھہرے گا کیونکہ سب سے بڑے صدیق تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق اعظم کہنا بھی جائز نہیں کیوں کہ سب سے بڑے فاروق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

تو امتی کا مقابلہ امتیوں سے تو ممکن ہے مگر کیا کیا جائے فتنہ غیر مقلدیت کا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امتی کے مقابل لاکھڑا کیا ہے اور وہ بھی بغیر دلیل ،صرف امتیوں کے اقوال کی اندھی اتباع کرتے ہوئے ۔

اگر ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امام اعظم کہنا گستاخی ہے تو پھر تمام غیر مقلدین یعنی فرقہ جماعت جدیدہ نام نہاد اہل حدیثوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اکابر مولویوں کو ، کہ جنہوں نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امام اعظم لکھا ہے ان سب کو گستاخ قرار دے کر اپنے گھر سے نکال باھر کرنے کا اعلان کریں کیونکہ یہ ڈھکوسلہ اب مزید نہیں چلنے دیاجائے گا کہ فرقہ جدیدہ نام نہاد اہل حدیث بن کر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ایسے کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امتیوں کو ملے ہوئے لقب سے یاد کیا جائے ۔
اور پھر سارے ڈھکوسلے اس جگہہ پر آکر دم توڑ جاتے ہیں کہ جہاں ڈنڈے کھانے پڑتے ہوں (ابتسامہ)
دیکھئے پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ قائد اعظم کون ہے ۔ اگر یقین نہیں آتا تو کسی پہلی جماعت کے بچے سے آج ہی جاکر یا اسے بلاکر پوچھ لینا ۔ تو جواب یہی ملے گا کہ محمد علی جناح کو قائد اعظم کہتے ہیں بلکہ ایک سو روپے کا نوٹ ہی دکھادینا بچہ خود ہی بتادے گا کہ یہ ہمارے قائد اعظم ہیں ۔
اہل حدیثو کچھ ڈھکوسلے اس بارے میں بھی گھڑلو کہ تم لوگ قائد اعظم محمد علی جناح کو قائد اعظم نہیں مانتے ، کہو اور کوئی بڑی تحریک نہیں بلکہ ایک آٹھ بائی چار سائز کا بینر ہی بنوا کر کسی نام نہاد اہل حدیث مرکز کے باہر لگوادو کہ ہم محمد علی جناح کو قائد اعظم کہنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی مانتے ہیں یا ہم محمد علی جناح کو قائد اعظم نہیں مانتے ۔
آخر میں فرقہ جماعت اہل حدیثوں کے گھر سے ہی صرف ایک ثبوت دکھاتا ہوں جس سے معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اکابرین بھی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ہی لکھتے اور کہتے اور مانتے رہے یہ بدعت تو بعد میں ایجاد ہوئی ۔
[​IMG]
سرخ لکیر پر دیکھیں "امام اعظم " کس کو لکھا ہوا ہے ؟