Showing posts with label مسئلہ استمداد من غیر اللہ کی وضاحت. Show all posts
Showing posts with label مسئلہ استمداد من غیر اللہ کی وضاحت. Show all posts

Sunday, 19 September 2021

استمداد از غیر اللہ پر دیوبندی کتب سے دلائل کا مختصر اصولی جواب*

 *استمداد از غیر اللہ پر دیوبندی کتب سے دلائل کا مختصر اصولی جواب* 👇


بدعتی حضرات جب اپنے شرکیہ عقائد و نظریات کو قرآن و سنت ثابت نہیں کر پاتے تو علماء اہل سنت دیوبند کی کتابیں کھولتیں ہیں اور کہیں استعانت تصرف لفظ نداء یا کشف و کرامات معجزات والے واقعات

نظر آجائے یا مختار اختیار کا لفظ نظر آجائے فورا رقص شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو ہم نے اپنا نظریہ اپنے عقائد کو تمہارے گھر سے ثابت کردیا 😋


ناظرین !!

اس تعلق سے ہم چند جوابی اصول بریلوی کتب سے نقل کرتے ہیں 

*سب سے پہلے اشعار کے متعلق اصول*👇


استمداد لغیر اللہ پر عموماً بدعتی اشعار پیش کرتے ہیں حاجی صاحب علامہ نانوتوی کے یا حکیم الامت حضرت تھانوی علیھم الرحمہ سے اور رقص شروع کہ دیکھو ہم نے اپنا عقیدہ تمہارے گھر سے ثابت کردیا 

تم شرک شرک کررہے تھے اب ان پر بھی شرک کے فتویٰ لگاؤ ❓😛😁


بدعتیوں کا اصول👇

حالانکہ خود بریلویوں کو مسلم ہے کہ  اشعار سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اسمیں مبھم و مجمل باتیں ہوتی ہے غلبہ شوق ذوق ہوتا ہے مبالغہ سے کام لیا جاتا 

حوالہ نمبر ایک 

بریلویوں کی معتبر کتاب 


📗رسائل میلاد حبیب  ہے ۔صفحہ نمبر 174ہے 

*اسمیں لکھتے ہیں کہ شاعرانہ مزاق الگ ہوتا ہے اسمیں حدود شرعیہ نگاہ میں نہیں رکھی جاتی کیونکہ یہ پہلے ہی فیصلہ ہوچکاہے کہ ان میں مبالغہ ہوتا ہے اور انمیں کسی کے عقائد کا سراغ نہیں لگ سکتا* 


حوالہ 2👇

بریلویوں کی ایک اور  کتاب 

📗عرفان رضا ۔صفحہ نمبر 19میں خود بریلوی علماء پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے 

*ہمارے علماء شعر کو بھی فقہ کے پیمانے پر ناپتے ہیں جبکہ شاعری میں بہت ساری رعایتیں اور سہولتیں ہوتی ہیں*


 

ایک اور حوالہ 3👇


بریلویوں کی مشہور احمد رضا بریلوی کی مصدقہ کتاب📗

 انوار ساطعہ ۔صفحہ 319

اسمیں لکھا ہے کہ

*پھر اسی طرح سمجھ لو کہ جو اشعار  شوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جناب میں بطور خطاب حاضر کیے ہیں  وہ اس لیے ہے کہ چونکہ آپکا تصور دل میں بندھا ہوا ہے غلبہ اشتیاق میں حاضرانہ خطاب  حضور فی الذہن کے باعث کرتے ہیں* ۔۔


حوالہ نمبر 4👇 


بریلوی کتاب 📗 اعانت واستعانت کی شرعی حیثیت ۔صفحہ 46پر لکھتے ہیں👇

*صوفیاء کی شعر و شاعری کو اگر شرعی درجہ دیا جائے تو  پھر صوفیہ کو چاہیے تھا کہ وہ مخالفین کے سوالات و اشکالات کے جواب میں اپنے اشعار پیش کرتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا  شعرو شاعری کا ذوق الگ چیز ہے* 


حوالہ نمبر 5👇


بریلویوں کے جید مفتی اشعار کے متعلق ایک اہم اصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں 👇


*چونکہ یہ شعر کسی بیباک زبان دراز کا کلام نہیں جس کی عادت ہو جو جی میں آئے بک دے بلکہ ایک واقف شریعت کی طرف منسوب ہے لہذا تاحد امکان کلام کی تاویل کی جائیگی اور کلام کو ظاہر پر حمل نہیں کیا جا ئے گا*

📗فتاویٰ امجدیہ  ۔صفحہ 279


اس سے واضح ہوگیا غلط بولنے کی جسکی عادت نہ ہو واقف شریعت ہو اسکے کلام میں تاویل کی جائیگی ظاہر پر حمل نہیں کیا جائے گا لہذا اکابرین علماء اہل سنت چونکہ  واقف شریعت تھے لہذا انکے اشعار کی تاویل ہوگی ظاہر پر حمل نہیں ہوگا👆


ان تمام حوالہ جات سے یہ ثابت ہواکہ شعر و شاعری سے نہ تو عقیدہ ثابت ہوگا نہ ہی  عقائد میں یہ حجت بن سکتے ہیں ۔

نوٹ ۔ہماری کتب میں جس جگہ اشعار میں غیراللہ کے لیے حاجت روا مشکل کشا جیسے الفاظ آئے ہیں وہ لغوی وار مجازی طور پر ہے 

اشعار کا معاملہ ختم 👆👀🤔


اب آتے ہیں عبارات پر 


بدعتی حضرات اپنے شرکیہ عقائد کے اثبات کے لیے ہماری کتب سے وہ عبارات پیش کرتے ہیں جسمیں کشف و کرامات معجزات کا ذکر ہوتا ہے 


 اور کرامات کے بارے  علماۓ حق کا عقیدہ اظہر من الشمس ہے کہ کرامت یہ اللہ کا فعل ہوتا ہے جس کا ظہور ولی کے ہاتھ پہ ہوتا ہے

*موت کے بعد کسی کا کہیں تشریف لانا یا کوئی ولی موت کے بعد کسی کو نظر آ جاۓ تو یہ کسی قسم کا تصرف یامدد کرنا بھی کرامت ہے*👀👇

 اس کی وضاحت بھی سمجھ لیجیے

موت کے بعد کسی ولی کا کسی کو نظر آنا اور کسی قسم کا تصرف کرنا یا مدد کرنا جسم مثالی کے ساتھ ہوتا ہے

حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ بعض اوقات اللہ کسی مقرب فوتشدہ کی روح کا تعلق قبر میں موجود جسم کے ساتھ ساتھ جسم مثالی سے بھی قائم کر دیتا ہے۔اور اس جسم مثالی سے کام لیتا ہے جسے تصرف کہتے ہیں۔اور اکثر اوقات اصل جسم کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ میری روح کا تعلق جسم مثالی سے جوڑا گیا ہے

      روح کا جسم مثالی سے تعلق اور اس کا تصرف خالص اللہ کا فعل ہوتا ہے جس کا ولی کے اپنے اختیار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اور یہ معاملہ کرامات کی ذیل میں آتا ہے۔

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی فیوض حرمین پڑھیں۔کتنی ہی بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم مثالی کے ساتھ دیکھا اور ان سے شرعی سوال کئے

یہ جسم مثالی دکھنے میں باکل جسد عنصری جیسا ہوتا ہے اسلئے دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ سامنے حقیقی وجود کے ساتھ اللہ کا ولی کھڑا ہے

یہ میں نے مختصرا وضاحت کردی ہے ۔

*اولیاء سے استعانت ظاہری اور واسطہ رحمت الٰہی وغیرہ کے الفاظ سے  بریلوی استدلال کا جواب*


 بریلوی حضرات ایک دھوکہ یہ دیتے ہیں کہ ہماری کتاب میں جہاں  استعانت کا لفظ دیکھتے بس رقص شروع کر دیتے ہیں اور اسکو بھی اپنی شرکیہ عقائد غیراللہ سے بلا واسطہ (ڈائریکٹ)مافوق الاسباب  مدد کے اثبات پر پیش کرتے ہیں 

جیساکہ علامہ شبیر احمد عثمانی کی تفسیر سے پہلے ہم وہ عبارت نقل کرتے ہیں پھر مختصرا جواب عرض کیے دیتے ہیں 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو  یہ جائز ہے اور یہ استعانت درحقیقت حق تعالٰی ہی سے استعانت ہے ۔

📗تفسیر عثمانی آیت ایاک نعبد و ایا نستعین ۔

الجواب 👇

پہلی بات غور کریں تو یہاں بھی غیراللہ سے مدد مانگنے کو صراحتا ناجائز کہا گیاہے 

دوسری بات یہاں وسیلہ کا ذکر ہے جیساکہ عبارت کے اندر خود استعانت ظاہری اور لفظ واسطہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ وسیلہ میں انسان بزرگوں کے واسطہ سے ہی اللہ سے دعاء کرتا ہے کہ  اپنے نیک بندے کے وسیلہ  سے ہماری فلاں دعا قبول کرلے استعانت ظاہری سے یہی مراد ہے

 اور وسیلہ ہم اہل سنت کے نزدیک بالکل درست ہے تفصیل کے لیے📗 المہند علی المفند دیکھیں۔

*ہماری کتب سے تصرف اور اختیارات وغیرہ کے الفاظ سے اثبات امداد مافوق الاسباب  کا جواب*


کائنات میں تصرف کا اختیار ہے وغیرہ ۔

اس سے مراد یہ ہے کہ اولیاء محبوب اللہ  ہوتے ہیں ان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور عام لوگوں کے مقابلے میں اللہ کی ذات پر یقین بھی خوب کامل ہوتا ہے کہ ہم اپنے رب سے جو بھی دعاء مانگیں گے وہ قبول فرمائے گا۔ 

جیساکہ قرآن کریم میں 28,ویں پارہ میں حضرت خولہ کا واقعہ اس بات پردال ہے اور 

حدیث قدسی  میں ہے اللہ اپنے محبوب بندوں کے متعلق فرماتا ہے 

*۔۔۔۔میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں* 

فتح الباری حدیث نمبر (6502) اس حدیث کو امام بخاری اور امام احمد بن حنبل اور بیہقی رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے۔۔


لہذا ان حضرات کو جب بھی کوئی حاجت ہوتی اللہ سے دعاء کرتے ہیں اللہ انکی حاجتیں پورا کردیتا ہے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا جس بنا پر مجازا تصرف یا اختیار وغیرہ  کی نسبت یہ اپنی طرف کرتے ہیں یا انکی طرف کی جاتی ہیں۔

اور حقیقت تو یہ ہے کہ 👇

من کان للہ کان اللہ لہ۔ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اسکا ہوجاتا ہے ۔


*قبر سے دستگیری*   👀👇


*بریلویوں کا امدادالمشتاق کی ایک عبارت سے مافوق الاسباب امداد  کے اثبات کا جواب*


ا رضاخانی ایک عبارت پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے :

حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا بعد انتقال حضرت مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کومحتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائے حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنےیا آدھ آنہ روز ملا کرے گا ‘‘۔

(امداد المشتاق ،ص۱۲۳)


الجواب👇

 امداد المشتاق کا مذکورہ بالا واقعہ بھی توسل و دعاء اور کرامت پر محمول ہے 

کیو نکہ اس مرید  کو اس وقت کشف قبور ہوگیا ہو اور ہم چونکہ قبر میں حیات بھی مانتے ہیں اور سماع کے بھی قائل ہیں تو اس مرید نے بطور توسل اور دعا اپنے پیر سے کہہ دیا ہو  ۔پیر صاحب نے اللہ کی بارگاہ میں دعا مانگی ہوگی اور اللہ نے کرامۃ اس مزار سے اس کرامت کا ظہور کردیا

جس پر  خود یہ واقعہ دلالت کرتا ہے 

*غور سے پڑھیں اسی واقعہ میں مرید کا مزار شریف پر جاکر اپنے  پیر سے  عرض کرنا لکھا* 

اگر مافوق الاسباب مدد لینا ہوتا تو مزار پر حاضری کی ضرورت کیا تھی 

 لہذا اس واقعہ میں بھی ظاہری استعانت مراد ہے یعنی  توسل دعاء کے ذریعہ نہ کہ مافوق الاسباب۔


*قبر کی مٹی سے شفاء پر بریلوی اعتراض کا جواب*👇


مٹی سے  شفاء یہ بطور کرامت ہے اور 

قبر کی مٹی  سے برکت حاصل کی گئی نہ کہ اسے مشکل کشاء یا مافوق الاسباب مدد پر قادر مان کر  مدد طلب کی گئی

تفصیل کے لیے احباب اس مسئلہ پر امام اہل السنہ کی کتاب اتمام البرھان کا ضرور مطالعہ کریں 


✍️از قلم ریان ندوی حنفی چشتی 🌹

Wednesday, 12 August 2020

علماء دیوبند قبور سے فیض حاصل کرنے کا عقیده رکهتے هیں

 

علماء دیوبند قبور سے فیض حاصل کرنے کا عقیده رکهتے هیں

وسوسه = علماء دیوبند قبور سے فیض حاصل کرنے کا عقیده رکهتے هیں جوکہ ایک شرکیہ عقیده هے ۰
جواب = فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث میں فی زمانہ کچهہ نام نہاد شیوخ عوام الناس کوگمراه کرنے کے لیئے یہ وسوسہ استعمال کرتے هیں ، ان کا دجل وفریب اس طرح هوتا هے کہ حکایات وسوانح اور وعظ ونصیحت وتصوف وغیره کسی کتاب ورسالہ سے کوئ بات لیتے هیں اورکوئ مُحتمل ومُشتبہ عبارت پیش کرتے هیں اورپهرعوام سے کہتے هیں کہ یہ علماء دیوبند کا عقیده هے ، اوراس طرح کرکے جاهل عوام کوورغلاتے هیں ،
خوب یاد رکهیں همارے اکابرومشائخ حضرات علماء دیوبند (کثرهم الله سوادهم )

کا مسلک ومنهج تمام امورمیں افراط وتفریط سے پاک اورمبنی براعتدال هے اوراعتدال کی یہ شان ان اکابراعلام کا ایک خصوصی وصف وامتیاز هے ، لیکن اعتدال کا یہ طریق اختیارکرنے کی وجہ سے کچهہ جہلاء نے بوجہ جہالت وتعصب وحسد کےان اکابراعلام کو افراط وتفریط میں مبتلا قراردیا ،

چند جہلاء مذکوره بالا وسوسہ پیش کرکے عوام کویہ باورکراتے هیں کہ قبورسے فیض کا مطلب یہ هے کہ یہ لوگ قبرپرست هیں ، قبورکا طواف کرتے هیں ،اهل قبورسے استمداد کرتے هیں ، ان کومشکل کشا حاجت روا سمجهتے هیں وغیره ( معاذالله )
خوب یادرکهیں همارے اکابرومشائخ حضرات علماء دیوبند میں سے کسی نے بهی یہ تعلیم نہیں دی بلکہ قبور واهل قبورسے متعلق بهی ان کا مسلک اعتدال والا هے نہ تواتنی تفریط هے کہ اهل قبورکی زیارت ودعا وایصال ثواب کوبهی منع کردیں ، اورنہ اتنا افراط هے کہ قبور سے متعلق تمام مُروجہ بدعات وخرافات کوجائزقراردیں ، لہذا احادیث مبارکہ سے قبور کی زیارت ودعاء مسنون وایصال ثواب برائے اهل قبورثابت هے ، تویہی تعلیم وطریق علماء دیوبند کا بهی هے ، باقی اس سے زیاده اگرکوئ شخص وساوس پیش کرے تواس کی طرف توجه نہیں کرنی چائیے کیونکہ وساوس کا اصل علاج عدم التفات هے ۰
انبیاء واولیاء وصالحین کی قبورسے فیض حاصل کرنے کا عام فہم مطلب
حدیث میں آتا هے کہ قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ هے یا جهنم کے گهڑوں میں سے ایک گهڑا هے ۰
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ ) رواه الترمذي في سننه ، والبيهقى فى شعب الإيمان ، والطبراني
اب قبر کا یہ گهڑا جس میں انبیاء وصحابہ واولیاء الله وعلماء وصُلحاء مدفون هیں همارا اعتقاد هے کہ یہ جنت کے باغات هے ، جیسا کہ حدیث میں بیان هوا ، اب جنت الله تعالی کے انعامات ورحمتوں وتجلیات کا مقام هے توصالحین کے قبورپرالله تعالی رحمتوں کا نزول هوتا هے ، لہذا زیارت کرنے والا شخص اس رحمت سے محروم نہیں رهتا اگرچہ اس کومحسوس هو یا نہ هو ، یہی سارا مفہوم هے فیض وفائده کا ، ایک لحظہ کے لیئے اس حدیث کوسامنے رکهہ کریہ دیکهیں کہ انبیاء وصحابہ وعلماء وصالحین کے قبور جنت کے باغ هیں یقینا اس بات میں کوئ شک نہیں کرسکتا ، لہذا جنت کے ان باغات کی زیارت ونفع کا کون انکارکرسکتا هے ؟؟ باقی قبور کا طواف اورسجدے کرنا ، وهاں چراغ جلانا ، قبرپراذان پڑهنا ، وهاں عرس میلے قوالی کرنا ، قبرکوبوس وکنار کرنا ،ان سے حاجات طلب کرنا ، ان کومتصرف سمجهنا وغیره سب بدعات وخرافات هیں۔ 
صحيح البخاري میں امام البخاري نے ایک باب قائم کیا هے
" باب ماجاء في قبر النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما "
اس باب کے تحت امام البخاري نے حضرت عمر رضی الله عنہ کی وه حدیث نقل کی هے جس میں انهوں نے حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہ کے واسطہ سے حضرت عائشة رضي الله عنها سے حجرة النبوية میں دفن هونے کی اجازت مانگی تهی انهوں نے کہا تها کہ یہ جگہ میں نے اپنے لیئے پسند کی تهی لیکن
میں آج یہ جگہ ان کودیتی هوں الحدیث
حافظ ابن حجر رحمہ الله اس حدیث کی شرح میں لکهتے هیں کہ
وفيه الحرص على مجاورة الصالحين في القبور طمعا في إصابة الرحمة إذا نزلت عليهم وفي دعاء من يزورهم من أهل الخير "
یعنی اس حدیث میں ثبوت هے اس بات كاکہ صالحین کے ساتهہ قبورمیں پڑوسی هونے كاحرص کرنا چائیے اس امید ونیت سے کہ صالحین پرنازل هونے والی رحمت اس کوبهی پہنچے گی اورنیک صالح لوگ جب ان کی زیارت کریں گے اوردعا کریں گے تواس کوبهی حصہ ملے گا ۰
اسی طرح ایک حدیث حسن میں هے کہ
بعض صحابہ نے کسی قبرپراپنا خیمہ نصب کیا اوراس معلوم نہیں تها کہ یہ قبرهے ، پس اس قبرمیں ایک انسان سورة { تبارك الذي بيده الملك }پڑهہ رها تها یہاں تک کہ سورة ختم کردی ، جب حضور صلى الله عليه وسلم.کے پاس تشریف
لائے توفرمایا يا رسول الله میں اپنا خیمہ ایک قبرپرنصب کیا اورمجهے معلوم نہیں تها کہ وه قبر هے ، پس اس قبرمیں ایک انسان سورة { تبارك الذي بيده الملك }پڑهہ رها تها یہاں تک کہ سورة ختم کردی ، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سورة عذاب قبرکوروکتی هے عذاب قبرسے نجات دیتی هے اس (صاحب قبر) کو عذاب قبرسے نجات دیتی هے ۰
وقال الإمام الترمذي بسنده عن ابن عباس قال : ضرب رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم خباءه على قبر وهو لا يحسب أنه قبر ، فإذا قبر إنسان يقرأ سورة " الملك " حتى ختمها ، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ، ضربت خبائي على قبر وأنا لا أحسب أنه قبر ، فإذا قبر إنسان يقرأ سورة " الملك " حتى ختمها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " هي المانعة ، هي المنجية تنجيه من عذاب القبر " . قال : حديث حسن غريب .
ورواه الطبراني في الكبير، وأبونعيم في الحلية ، والبيهقي في إثبات عذاب القبر ٠
قبور اولیاء سے فیض کا مطلب استمداد واستغاثہ نہیں هے
سوال = مردوں سے بطریق دعا مد د چاهنا جائزهے یا نہیں ؟ 
جواب = مد د چاهنا تین قسم کا هے

1 = ایک یہ کہ اهل قبور سے مد د چاهے اسی کوسب فقہاء نے ناجائزلکهاهے ،

2 = دوسرے یہ کہ کہے اے فلاں خدا تعالی سے دعا کرکہ فلاں کام میرا پورا هوجائے یہ مبنی هے اس بات پرکہ مردے سنتے هیں کہ نہیں ، جوسماع موتی کے قائل هیں ان کے نزدیک درست ، دوسروں کے نزدیک ناجائز،

( سماع موتی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف هے دونوں طرف اکابر ودلائل هیں لہذا ایسے اختلافی امرکا فیصلہ کون کرسکتا هے ، لیکن بہتریہ هے اس دوسری قسم پربهی عمل نہ کرے ۰)

3 = تیسرے یہ کہ دعا مانگے الہی بحرمت فلاں میرا کام پورا کردے یہ بالاتفاق جائز هے ( فتاوی رشیدیه ص 57 ) حضرت گنگوهی رحمہ الله کی یہ فتوی بالکل واضح هے کہ مردوں سےمد د طلب کرنا تمام فقہاء کے نزدیک ناجائزهے ، اوریہی فیصلہ وفتوی تمام اکابرعلماء دیوبند کا بهی هے ، لہذا جو لوگ فیض عن القبور کا مطلب استعانت واستمداد وغیره بیان کرکے اس کو اکابرعلماء دیوبند کا عقیده قرار دیتے هیں ، یہ سب دجل وفریب هے ، هداهم الله


قبور اور أهل قبور کے متعلق فرقہ جدید اهل حدیث کے اکابرکا مذهب
جیسا کہ میں گذشتہ سطورمیں عرض کرچکا کہ اس فرقہ جدید کے اکابراورآج کل کے اس فرقہ جدید کے هم نواوں میں بہت سخت اختلاف هے ، مثلا اسی مذکوره مسئلہ میں اس فرقہ جدید اهل حدیث کے بانی ومُوجد نواب صدیق حسن خان صاحب کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں اپنی کتاب ( ألتاجُ المُكلل ) میں اپنے والد

ابواحمد حسن بن علی الحُسینی البخاری القنوجی کے تذکره میں لکها کہ
لايـَزال يـُرى النـورعَـلى قـبـره الشـريـف والنـاسُ يـَتـَبَـرَّكـُون بـه ٠
آپ کی کی قبرشریف پرهمیشہ نور رهتا هے اورلوگ آپ کی کی قبرسے تـَـبـَـرُّکـــْـــــــ حاصل کرتے هیں ۰
( ألتاجُ المُكلل صفحه 543 ، مكتبة دارالسلام )
اسی طرح فرقہ جدید اهل حدیث کے بانی علامہ وحیدالزمان صاحب بهی یہی فرماتے هیں کہ ولازال السلف والخلف يـَتـَبَـرَّكـُون بآثارالصلحـاء ومشـاهدهم ومقـامـاتهم وآبـارهم وعـيـونهم ۰ یعنی سلف وخلف سب صالحین کے آثار ، اور ان کی قبروں سے ، اوران کے مقامات ، اور ان کے کنووں سے ، اور ان کے چشموں سے تـَـبـَـرُّکـــْـــــــ حاصل کرتے تهے ۰

آگے علامہ وحیدالزمان صاحب فرماتے هیں کہ

ولم یقل احد ان التبرک بمثل هذه الاشیاء شرک

یعنی کسی ایک نے بهی یہ نہیں کہا کہ اس قسم کی اشیاء تـَـبـَـرُّکـــْـــــــ حاصل کرنا شرک هے ۰

آگے علامہ وحیدالزمان صاحب فرماتے هیں کہ

ترجى سرعة الإجابة عند قبرالنبي صلى الله عليه وسلم أوغيره من المواضع المتبركة قال الشافعي قبرموسى الكاظم ترياق مجرب وروى الشيخ ابن حجرالمكي في القلائد عن الشافعي قال إني أستبرك بقبرأبي حنيفة واذا عرضت لي حاجة أجيئ عند قبره وأصلي ركعتين وأدعوالله عنده فتقضي حاجتي ٠

آپ صلى الله عليه وسلم کے قبرمبارک اوراس کے علاوه مقامات متبركة میں دعا بہت جلد قبول هوتی هے ، امام شافعی رحمہ الله نے فرمایا کہ موسی کاظم کی قبرتریاق مجرب هے ، اورالشيخ ابن حجرالمكي نے اپنی کتاب " القلائد " میں امام شافعی رحمہ الله سے روایت کیا هے فرمایا کہ میں ابوحنیفہ کے قبرسے تبرک حاصل کرتا هوں ، اورجب مجهے کوئ حاجت پیش آتی هے تومیں ابوحنیفہ کے قبرکے پاس آتاهوں اوردورکعت نمازپڑهتا هوں ، اورالله تعالی سے دعا کرتا هوں پس میری حاجت پوری هوجاتی هے ۰

علامہ وحیدالزمان صاحب نے ایک فصل قائم کیا هے " مَقرارواح " کے متعلق اورآٹهہ مذاهب نقل کیئے هیں اسی فصل میں فرماتے هیں کہ

وقال شـيخنا ابن القـيـم فثبت بهذا انه لامنافات بين كون الروح في عليين أوفي الجنة أوفي السماء وبين اتصاله بالبدن بحيث تدرك وتسمع وتصلي وتقرأ ،

اورهمارے شیخ ابن القـيـم نے فرمایا کہ اس سے ثابت هوا کہ اس میں کوئ منافات نہیں هے کہ روح عليين میں هو یا جنت میں هو یا آسمان میں هو اوراس کا تعلق بدن کے ساتهہ هو اس طورپرکہ وه ادراک بهی کرے اور سماع بهی کرے اورنمازبهی پڑهے اورقرآءت بهی کرے ۰

قلت بهذا يدفع الشـبـهـة التي أوردهـا القــاصرون انه كيف يمكن استحصال الفيوض

والبـركــات وبرد القلب والأنوارمن أرواح الصلحـاء بزيـارة قبـورهم ٠

میں ( علامہ وحیدالزمان صاحب ) کہتا هوں کہ اس سے وه شبہ بهی دور هوجائے گا جو بعض کوتاه عقل لوگ پیش کرتے هیں کہ صلحاء کی قبور کی زیارت کرکے ان کی ارواح سے فـيـوض وبـركـــــات وأنـوارات کا حصول کیسے ممکن هے ۰

(( دیکهیئے هــديـة المـهـدي ص 32 ، 33 ، 34 ، 62 ،23 ))

اسی طرح علامہ وحیدالزمان صاحب نے قبروں کی مُجاوری کوبهی جائزقرار دیا هے ( دیکهیئے هــديـة المـهـدي ص 34 ، نزل الأبرار ج 1 ص 2
یہ چند حوالے اختصارکے ساتهہ فرقہ جدید اهل حدیث کے اکابرکے حوالہ سے آپ نے ملاحظہ کیئے ، جب کہ آج کل فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل چند لوگ ان سب امورکوشرک وبدعت کہتے هیں ، میرے علم میں نہیں هے کہ فرقہ جدید اهل حدیث کی آج کل کی ایڈیشن میں شامل توحید وسنت کے علمبرداروں نے فرقہ جدید اهل حدیث کے بانیان نواب صدیق حسن خان اورعلامہ وحیدالزمان صاحب کے ان نظریات کی تردید کی هو کوئ کتاب ورسالہ لکها هو یا کوئ بیانات اس سلسلہ میں کیئے هوں ؟؟ والله اعلم
مزارات اولیاء سے فیض بطریق خاص صرف کاملین کے لیئے هے

سوال = مزارات اولیاء رحمهم الله سے فیض حاصل هوتا هے یا نہیں ؟؟
اگر هوتا هے توکس صورت سے ؟؟
جواب = مزارات اولیاء سے کاملین کوفیض هوتا هے مگرعوام کواس کی اجازت دینی هرگزجائزنہیں هے ، اورتحصیل فیض کا طریقہ کوئ خاص نہیں هے ، جب جانے والا اهل هوتا هے تواس طرف سے حسب استعداد فیضان هوتا هے ، مگرعوام میں ان امورکا بیان کرنا کفروشرک کا دروازه کهولنا هے ۰
(( فتاوی رشیدیه ص 104 ))
اب یہاں چند باتیں قابل غور هیں
1 = تقریبا اسی طرح کی بات ( المهند علی المفند ) اور دیگرکتب مشائخ میں بهی موجود هے ، اور حضرت گنگوهی رحمہ الله اوردیگرتمام اکابرعلماء دیوبند کا اجماعی فتوی یہ هے کہ اهل قبورسے استمداد واستعانت جائزنہیں هے ، تومعلوم هوا کہ اس فیض سے مراد اهل قبورسے استمداد واستعانت وغیره نہیں هے ،
2 = پهر قبور اولیاء سے فیض سے متعلق جو طرق وتفصیلات هیں یہ صرف علماء کاملین کے لیئے هیں نہ کہ عوام کے لیئے اورپهر عوام میں هروه شخص داخل هے جواس طریق سے نابلد هو چاهے کسی اورفن میں معلومات رکهتا هے
عربی کا مشہور مقولہ هے (( لکُـل فـَنٍّ رِجـَال )) هرفن کے اپنے ماهرلوگ هوتے هیں ، لہذا اس وجہ سے اس میدان کے کامل وماهرلوگوں کواجازت هے 3 = کچهہ لوگ اس قول پراعتراض کرتے هیں کہ عوام کواس کی اجازت دینی کیوں جائزنہیں هے ؟؟ اورعوام میں ان امورکا بیان کرنا کفروشرک کا دروازه کهولنے کےمترادف کیوں هے ؟؟
خوب یاد رکهیں الحمد لله حضرات اکابرعلماء دیوبند کا یہ قول بهی احادیث نبویہ وتعلیمات سلف کے بالکل موافق هے ، کیونکہ لوگوں کے سامنے ایسی باتیں بیان کرنا ممنوع هے جہاں تک ان کے عقول ومعرفت نہ پہنچ سکیں ،
ابن مسعود رضی الله عنہ کا قول هے کہ
جب توکسی قوم کو کوئ حدیث بیان کرتا هے جس تک ان کے عقول نہیں پہنچتے تو وه اس قوم میں سے بعض کے لیئے فتنہ کا باعث بن جاتا هے ۰
قال ابن مسعود رضی الله عنہ : " ما أنت بمحدث قوما حديثا لا تبلغه عقولهم ، إلا كان لبعضهم فتنة "
أخرجه مسلم في " مقدمة صحيحه " ( 1 / 108 – نووي ) ، وعبدالرزاق في " مصنفه " ( 11 / 286 ) – ومن طريقه الطبراني في " المعجم الكبير " ( 9 / 151 / 8850 ) ، والخطيب في "الجامع لأخلاق الراوي " ( 2 / 108 / 1321 ) ، والسمعاني في " أدب الإملاء والاستملاء " ( ص 60 ) – ، والرامهرمزي في " المحدث الفاصل " ( ص 577 ) ، وابن عبدالبر في " جامع بيان العلم " ( 1 / 539 و 541 / 888 و 892 ) ، والبيهقي في " المدخل " ( 611 ) .
الله تعالی کی بے شمار رحمتیں هوں ان اکابراعلام کے قبور مبارکہ پر کہ دین میں کوئ بات بلادلیل وثبوت نہیں کہی ، مجهے ازخود اکابرکے اس قول پرکئ ساتهیوں نے کہا کہ همیں کچهہ کهٹک سی رهتی هے کہ یہ کیوں کہا کہ کاملین کے لیئے جائز اور عوام کے لیئے ناجائز ؟ لہذا اس باب میں تهوڑی سی تحقیق وتفتیش کے بعد معلوم هوا کہ ان اکابراعلام کا یہ فرمان احادیث نبویہ واقوال وتعلیمات سلف کے بالکل مطابق وموافق هے ، حتی کہ امام بخاری رحمہ الله نے صحیح بخاری (کتاب العلم ) میں ایک باب قائم کیا هے ، جس میں اتنی واضح طور پراکابراعلام کے اس قول کی تائید وتصدیق موجود هے ،

باب من ترك بعض الاختيار مخافة أن يقصر فهم بعض الناس عنه فيقعوا في أشد منه
یعنی یہ باب هے اس شخص کے بارے میں جس نے بعض جائز چیزوں کو اس ڈرسے چھوڑ دیا کہ بعض کم فہم لوگ اس سے سخت بات میں مبتلا نہ ہو جائیں ،
اوراس باب وترجمہ کے تحت یہ حدیث نقل کی هے

حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الأسود قال: قال لي ابن الزبير كانت عائشة تسر إليك كثيرا فما حدثتك في الكعبة قلت: قالت لي قال النبي يا عائشة لولا قومك حديث عهدهم قال ابن الزبير بكفر لنقضت الكعبة فجعلت لها بابين باب يدخل الناس وباب يخرجون ففعله بن الزبير ۰
امام بخاری رحمہ الله نے صحیح بخاری (کتاب العلم ) میں ایک اوراس طرح باب قائم کیا هے

باب من خص بالعلم قوما دون قوم كراهية أن لا يفهموا

یعنی جس نے بعض قوم کوعلم کے ساتهہ خاص کیا اوربعض کواس ڈرسے نہیں پڑهایا کہ وه اس کو نہیں سمجهیں گے ۰

اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ الله نے فرمایا


وقال علي حدثوا الناس بما يعرفون أتحبون أن يكذب الله ورسوله
حضرت علی نے فرمایا کہ لوگوں کوبیان کرو جووه سمجهتے هوں ، کیاتم پسند کرتے هو کہ الله ورسول کی تکذیب کی جائے ؟
یعنی کوئ بهی غامض ودقیق وباریک بات جوعوام کے سمجهہ وفہم سے باهرهوتوان کووه بیان نہ کی جائے۰
اوراسی کو حضرت الامام گنگوهی رحمہ الله نے فرمایا کہ
( مگرعوام میں ان امورکا بیان کرنا کفروشرک کا دروازه کهولنا هے ۰ )
اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ الله نے حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کی یہ روایت نقل کی هے ،
حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کے ساتهہ سواری پرسوار تهے تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا يا ‏ ‏معاذ بن جبل
حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے فرمایا لبيك يا رسول الله وسعديك پهر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا يا ‏ ‏معاذ بن جبل حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے فرمایا لبيك يا رسول الله وسعديك ، تین مرتبہ فرمایا یعنی یہ ندا اورجواب ، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جوکوئ بهی صدق دل سے یہ گواهی دے کہ لا إله إلا الله وأن ‏ ‏محمدا ‏ ‏رسول الله توالله تعالی اس کوجهنم کی آگ پرحرام کردیں گے ، حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے فرمایا يا رسول الله کیا میں لوگوں کواس کی خبرنہ دوں پس وه بهی خوشخبری حاصل کرلیں ؟؟
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ( إذا يتكلوا ) یعنی اگرتوان کوخبردے گا تووه اسی پراکتفاء کرلیں گے ، یعنی عمل نہیں کریں گے اسی حکم کے ظاهرپراعتماد کرلیں گے ، اور حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے اپنی موت کے وقت اس حدیث کی خبردی تاکہ ( کتمان علم ) کا گناه نہ هو ۰
حدثنا إسحاق بن إبراهيم قال: حدثنا معاذ بن هشام قال: حدثني أبي عن قتادة قال: حدثنا أنس بن مالك أن النبي ومعاذ رديفه على الرحل قال: يا معاذ بن جبل قال لبيك يا رسول الله وسعديك قال: يا معاذ قال لبيك يا رسول الله وسعديك ثلاثا قال: ما من أحد يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صدقا من قلبه إلا حرمه الله على النار قال: يا رسول الله أفلا أخبر به الناس فيستبشروا قال إذا يتكلوا وأخبر بها معاذ عند موته تأثما ۰
حدثنا مسد د قال: حدثنا معتمر قال: سمعت أبي قال: سمعت أنسا قال: ذكر لي أن النبي قال لمعاذ من لقي الله لا يشرك به شيئا دخل الجنة قال ألا أبشر الناس قال لا إني أخاف أن يتكلوا ۰
اوراسی مضمون کوبیان کرنے والی بعض دیگر روایات ملاحظہ کریں
أُمِرْنا أن نُكلِّمَ الناسَ على قدْر عقولِهم.
(رواه الديلمي عن ابن عباس مرفوعا، )
وقال في المقاصد وعزاه الحافظ ابن حجر لمسند الحسن بن سفيان عن ابن عباس بلفظ
أمرت أن أخاطب الناس على قدر عقولهم ،

ورواه أبو الحسن التميمي من الحنابلة في العقل له عن ابن عباس من طريق أبي عبد الرحمن السُلَمي أيضا بلفظ بُعْثِنا معاشر الأنبياء نخاطب الناس على قدر عقولهم، وله شاهد عن سعيد بن المسيب مرسلا بلفظ إنا معشر الأنبياء أمرنا وذكره،

ورواه في الغنية للشيخ عبد القادر قدس سره بلفظ أمرنا معاشر الأنبياء أن نحدث الناس على قدر عقولهم
وروى البيهقي في الشعبعن المقدام بن معدي كرب مرفوعاإذا حدثتم الناس عن ربهم فلا تحدثوهم بما يعزب عنهم ويشق عليهم،
وصح عن أبي هريرة حفظت عن النبي صلي الله عليه وسلم وعاءَيْنِ  فأما أحدهما فَبَثثْتُهُ، وأما الآخر فلو بثثتُه لقُطع هذا البلعوم،
وروى الديلمي عن ابن عباس مرفوعا عاقبوا أرقاءكم على قدر عقولهم، وأخرجه الدارقطني عن عائشة مثله، وروى الحاكم وقال صحيح على شرط الشيخين عن أبي ذر مرفوعا خالقوا الناس بأخلاقهم،
وأخرج الطبراني وأبو الشيخ عن ابن مسعود خالط الناس بما يشتهون، ودينك فلا تَكْلِمْهُ، ونحوه عن علي رفعه، خالق الفاجر مخالقة، وخالص المؤمن مخالصة، ودينك لا تسلمه لأحد، وفي حديث أوله خالطوا الناس علي قدر إيمانهم (( راجع كشف الخفاء للعجلوني ))



اس باب میں دیگراقوال وروایات بهی هیں ، لیکن حق وهدایت کے طالبین کے لیئے اس قدر میں کفایت هے ۰

مسئلہ استعانت بغیر اللہ

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مسئلہ استعانت بغیر اللہ
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
استعانت بغیر اللہ کی چند صورتیں ہیں:
[۱]: کسی بھی غیر خدا کو بالذات قادر ماننا یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اس میں ذاتی طور پر قدرت و طاقت ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے،فریقین کے ہاں یہ بالاتفاق شرک ہے۔
[۲]: کسی بھی غیر خدا سے ظاہری استعانت کرنا، یعنی جو عادتا ًانسان کے بس میں ہوتا ہے مثلاً روپیہ، پیسہ ،کپڑا، وغیرہ یا دعا دینا۔یہ چیزیں اگر کسی سے مانگی جائیں تو یہ فریقین کے ہاں بالاتفاق درست ہے۔
اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ انسان جیسے عادتاً سنتا ہے، ویسے اس کو پکار کر اس سے یہ استعانت کرنا درست ہے۔ اب انسان عادتاً تو قریب سے سنتا ہے مگر دور سے نہیں سنتا۔ لہذاکوئی آدمی کسی کو دور سے سننے والا سمجھ لے تو یہ بھی درست نہیں ہوگا۔
[۳]: کسی غیر خدا کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اس کو خدا نے تمام اختیار دے دیے ہیں اور وہ جو چاہے کرسکتا ہے ،ہر قسم کی مرادیں ہر جگہ سے اس سے مانگنی چاہییں۔ تو یہ بات مختلف فیہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ صورت بھی ناجائز ہے جب کہ فریق مخالف کے نزدیک جائز ہے۔
اہلِ بدعت کی چند اصولی غلطیاں:
(1): آج کل اہل بدعت کہتے ہیں کہ ہم بھی ان سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں مگر پکارتے ہر جگہ سے ہیں۔
جواباً گزارش ہے کہ استشفاع یا دعاؤں کی درخواست تو درست ہے مگر آپ کا ہر جگہ سے ان کو پکارنا درست نہیں اس لیے کہ ان کا ہر جگہ سے سن لینا چونکہ عادتاً ان کی قدرت و طاقت میں نہیں۔
(2): جن آیات میں دعا، یدعو، تدعو وغیرہ کے الفاظ ہیں اہل بدعت ان کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ ان کا معنی تو ”عبادت“ کرنا ہے اور ہم تو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتے۔
جواباً گذارش ہے کہ یہ مختلف فیہ استمداد بھی چونکہ خاصہ خداوندی ہے اس لیے یہ بھی تو عبادت ہے ، لہذا اگر ان آیات کا معنیٰ(جو آگے آرہی ہیں )عبادت بھی لو تو بھی یہ تمہارے خلاف ہے۔
نیز حدیث طیبہ میں دعا کو بھی عبادت قرار دیا گیا ہے۔
(ترمذی ج2ص173، ابن ماجہ ص280)
دوسری جگہ ہے :
اشرف العبادۃ الدعاء .
(الادب المفرد ص105)
چونکہ دعا بھی عبادت ہے اس لیے مفسرین نے دعا، یدعو، تدعو وغیرہ کا معنی عبادت کیا ہے اور یہ ہمارے خلاف نہیں ہے۔
(3): اہل بدعت کہتے ہیں کہ "ہم بزرگوں کو مستقل اور قادر بالذات تو نہیں مانتے جو شرک ہو"
تو جوابا گذارش ہے کہ کفار خدا کی عظمت و جلال کے قائل ہونے کے باوجود شرکاء کی عبادت اس لیے نہیں کرتے تھے کہ وہ ان کو قادر بالذات سمجھتے تھے بلکہ وہ بھی خدا کی عطا سے ان کو طاقتور اور قادر سمجھتے تھے اور کہتے تھے:
لا شریک لک الا شریکا ہو لک تملکہ وما ملک.
کہ تیرا کوئی شریک نہیں مگروہ جس کو تو نے خود شریک ٹھہرایا ہے اور اس کا تو مالک ہے وہ مالک نہیں ہے ۔
باقی اگر کوئی یہ کہے کہ "وہ تو دور دراز سے نہیں پکارتے تھے بلکہ ان مورتیوں سے جاکر مانگتے تھے تو ہمارا مسئلہ اور ہے اور ان کا مسئلہ اور تھا۔ "
تو گزارش ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اور مولوی احمد سعید کاظمی نے تو صاف مانا ہے کہ:
”وہ مشرکین مکہ بڑے بڑے امور میں تو خدا کو ہی مالک و مختار سمجھتے تھے اور چھوٹے چھوٹے کاموں میں کہتے تھے کہ خدا نے ان کو اختیارات دیے ہیں یعنی ان نیک لوگوں کو مختار بنایا ہے اور وہ ان لوگوں سے مدد بھی مانگتے تھے اور وہ ان مورتیوں اور پتھروں کو ان کی توجہ کا قبلہ سمجھتے تھے۔
(دیکھیے اعلاء کلمۃ اللہ، مقالات کاظمی وغیرہا )
اور تفصیل سے یہ بات شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے بھی لکھی ہے۔
معلوم ہوا کہ وہ ان مورتیوں اور پتھروں کو توجہ کے لیے قبلہ قرار دیتے تھے ان کو پوجتے نہ تھے۔ ہاں جہلاء نے سب کچھ انہی مورتیوں کو سمجھ لیا ورنہ ان میں بڑے لوگ وہی عقیدہ رکھتے تھے جو عرض کیا جا چکا ہے۔ جب صرف ان نیک لوگوں کی توجہ کا ذریعہ ان بتوں کو سمجھتے تھے تو پھر جب وہ اولاد، رزق، بارش، شفاء وغیرہ مانگتے تھے تو سمجھتے تھے کہ وہ اپنی اپنی جگہ مدفون ہیں مگر ہماری باتیں، گذارش ،عرضیاں، درخواستیں، بیان بھی سنتے ہیں اور وہیں سے مدد بھی کرتے ہیں۔
تو بتائیں کہ ان مشرکین نے ان بتوں کو ہر جگہ سے سننے اور دیکھنے والا مانا یا نہیں؟ بتا ؤ! تو اب تمہارا اور ان کا کیا فرق رہ گیا؟
الٰہ کا معنی
”اِلٰہٌ“ کا وہ معنی جس میں مشرکین کو بڑا اختلاف تھا قرآن کریم اور حدیث شریف کی رو سے بیان کیا جاتا ہے جس میں زمانہ سابق و حال کے مشرک اور زمانہ قدیم وجدیدکے جاہل مبتلاء تھے اور ہیں۔ اور تکالیف کے وقت غیر اللہ کو" الہ" سمجھتے تھے اور اب بھی سمجھتے ہیں کیونکہ اگر یہ معنی کھول کر نہ بیان کیا جائے تو نہ عبادت خدا تعالیٰ کے لیے مخصوص ہوسکے گی اور نہ توحید و شرک کا مفہوم سمجھ آسکے گا اور قرآن کریم پرا یمان اور یقین رکھنے کے باوجود عقیدہ نامکمل رہے گا، ہر ایسی سمجھ والا زبان سے لا الہ الا اللہ تو کہتا رہے گا مگر سینکڑوں کو ”الہ “بناتا رہے گا، وہ زبانی یہ دعوی تو ضرور کرے گا کہ میں اللہ کے علاوہ کسی کو رب نہیں سمجھتا لیکن بایں ہمہ اس نے بہتوں کو"اربابا من دون اللہ"بنا رکھا ہوگا۔ وہ پوری نیک نیتی سے کہے گا کہ میں اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتا مگر پھر بھی بہت سے معبودوں کی عبادت میں مشغول رہے گا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ.
(سورۃ النمل:62)
بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اورتکلیف دور کر دیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ، کیا ( پھر بھی تم کہتے ہو کہ ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر یہ بیان فرمایا ہے کہ مجبور اور بے کس کی پکار کو سننا اور اس کی مدد کرنا اور اس کی تکلیف دور کرنا الہ کا کام ہے۔ گویا فریاد رس اور تکلیف کو دور کرنے والا "الہ" ہوتا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی الہ نہیں ہے، حضرت یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں دعا کی تو یہ فرمایا:
لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ.
( سورۃ الانبیاء آیت87)
کوئی الہ نہیں مگر صرف تو۔
مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! نہ تیرے بغیر کوئی فریاد رس ہے اور نہ تکلیف دور کرنے والا ہے اور نہ کوئی حاجت روا ہے اور نہ کوئی مشکل کشا ہے۔
آیات قرآنیہ
قرآن کریم کی چند آیات پیش کی جاتی ہیں کہ مشرکین غیر اللہ کو فریاد رس اور تکلیف دور کرنے والا سمجھ کر پکارتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مشرکین کی (دعا یدعو کے الفاظ کو سامنے رکھ کر) تردید فرمائی ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو وہ نہ نفع کے مالک ہیں ،نہ ضرر کے اور نہ ہی ان کو تمہاری تکلیفوں اور مصیبتوں کی اطلاع ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو یہ حکم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کسی کو نہ پکارو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
1: إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَاباً وَلَوْ اجْتَمَعُوا لَهُ.
(سورۃ الحج :73)
ترجمہ: تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو ، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے ، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکھٹے ہو جائیں ۔
2: قُلْ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَوَاتِ وَلا فِي الأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ.
(سورۃ السباء:22)
ترجمہ: (اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہو کہ " پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کے سوا خدا سمجھا ہوا ہے وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان وزمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے ۔"
3: قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِي اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِي اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ.
(سورۃ الزمر:38)
ترجمہ: (ان سے) کہو کہ :" ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن (بتوں) کو پکارتے ہو ، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کر لے تو کیا یہ اس کے پہنچائے ہوئے نقصان کو دور کر سکتے ہیں ؟ یا اگر اللہ مجھ پر مہر بانی فرمانا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو دور کر سکتے ہیں ؟ کہو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
4: قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنْ الأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوَاتِ اِئْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ.
(سورۃ الاحقاف:4)
ترجمہ: تم ان سے کہو کہ :"کیا تم نے ان چیزوں پر کبھی غور کیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین کی کون سی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمان ( کی تخلیق) میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ میرے پاس کوئی ایسی کتاب لاؤ جو قرآن سے پہلے کی ہو یا پھر کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو ، اگر تم واقعی سچے ہو۔
5: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (13) إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ.
(سورۃ الفاطر: 13، 14)
ترجمہ: اور اسے چھوڑ کر جن(جھوٹے خداؤں) کو تم پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سنیں گے ہی نہیں ، اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔ اور قیامت کے دن وہ خود تمہارے شرک کی تردید کریں گے۔ اور جس ذات کو تمام باتوں کی خبر ہے ،اس کے برابر تمہیں کوئی اور صحیح بات نہیں بتائے گا۔
ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شرک یہ بتلایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارا کرتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ غیر اللہ تکوینی امور (تکلیف سے نجات دینے اور مہربانی کرنے) میں ایک ذرہ کے بھی مالک نہیں ہیں اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کےعلاوہ دوسری مخلوق کو مشکل کشا جان کر پکارتے ہیں تو وہ ان کی بات کو نہ سن سکتے ہیں اور نہ ان کو اس کی کچھ خبر ہے قیامت تک پکارو وہ کچھ نہیں کرسکتے اور اگر بالفرض وہ تمہاری تکلیف کو سن بھی لیں تو تمہاری مدد کو نہیں پہنچ سکتے اور تمہارے شرک (یعنی پکارنے) کا قیامت کو صاف انکار کریں گے اور یہ ساری باتیں بتلانے والا وہ ہے جس سے کوئی بات چھپی ڈھکی نہیں۔ اسی آخری آیت میں اس قسم کے پکارنے پر "شرک" کا لفظ بولا گیا ہے۔ بلکہ ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
ذَلِكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِنْ يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ.
(سورۃ غافر:12)
ترجمہ: (جواب دیا جائےگا کہ : ) تمہاری یہ حالت اس لیے ہے کہ جب اللہ کو تنہا پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتےتھے اور اگر اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرا یا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے۔ اب تو فیصلہ اللہ ہی کا ہے جس کی شان بہت اونچی، جس کی ذات بہت بڑی ہے ۔
اس آیت میں اکیلے خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نافع اور ضار جان کر پکارنا شرک قرار دیا گیا۔
وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لا يَعْلَمُ فِي السَّمَوَاتِ وَلا فِي الأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ.
(سورۃ یونس :18)
ترجمہ: اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت خداؤں) کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں ، نہ ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں (اے پیغمبر ! ان سے ) کہو کہ :"کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دے رہے ہو جس کاکوئی وجود اللہ کے علم میں نہیں ہے ، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں ؟"(حقیقت یہ ہے کہ ) اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک اور کہیں بالا وبرتر ہے ۔
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ (40) بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(سورۃ الانعام آیت40، 41)
ترجمہ ( ان کافروں ) سے کہو :" اگر تم سچے ہو تو ذرا یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے ، یا تم پر قیامت ٹوٹ پڑے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ بلکہ اسی کو پکارو گے ، پھر جس پریشانی کے لیے تم نے اسے پکارا ہے ، اگر وہ چاہے گا تو اسے دور کر دے گا اور جن (دیوتاؤں) کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ( اس وقت ) ان کو بھول جاؤ گے ۔
فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ.
(سورۃ العنکبوت:65)
ترجمہ: چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے پھر جب وہ انہیں بچاکر خشکی پر لے آتا ہے تو فوراً شرک کرنے لگتے ہیں ۔
احادیث مبارکہ
1: عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا ، حَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ. زاد فی روایۃ ثابت البنانی مرسلا: «حتى يسأَلَه المِلْحَ ، وحتى يسأله شِسْعَهُ إذا انْقَطَعَ».
(مشکوۃ المصابیح: کتاب الدعوات)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک اپنے پروردگار سے تمام حاجتیں ضرور طلب کرے یہاں تک کہ اگر جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے (تو وہ بھی اللہ ہی سے طلب کرے) ثابت البنانی کی مرسل روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں :یہاں تک کہ نمک بھی اللہ ہی سے طلب کرے۔
2: عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال بینما انا ردیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اذ قال لی یا غلام! احفظ اللہ یحفظک احفظ اللہ تجدہ امامک فاذا سالت فاسئل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ جف القلم بما ہو کائن.
(فتوح الغیب مقالہ نمبر42)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے بچے! تو حقوق اللہ کی حفاظت کر، اللہ تعالیٰ تیری حفاظت فرمائے گا، تو خیالات و معاملات میں اللہ تعالیٰ کا لحاظ رکھ، تو اسے اپنے پاس محسوس کرے گا پس سمجھ لے کہ جب بھی کوئی چیز مانگنا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا اور جب (کسی مشکل میں پھنس جاؤ اور) مدد مانگنی ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا اور جو کچھ ہونا ہے وہ لکھا جاچکا ہے اور قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے ۔
بریلوی دعویٰ
1:حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کی حاجت روائی فرماسکتے ہیں ،دنیا آخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں۔
(فتاویٰ افریقہ ص112، فتاویٰ رضویہ ج21ص309)
2:اپنے مقبول انسانوں کے سپرد بھی عالم کا انتظام کیا اور ان کو اختیارات خصوصی عطاء فرمائے۔ (جاء الحق ص97 دوسرا باب: اولیاء سے مدد بانگنے کا عقلی ثبوت)
بریلویوں کے”دلائل“ کا جائزہ
غیر اللہ سے مدد مانگنے کے ثبوت پر بریلوی حضرات جن آیات کو دلیل بناتے ہیں ، ان کا تجزیہ پیش خدمت ہے ۔
[1]: وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ.
(سورۃ البقرۃ:23)
ترجمہ: اور اللہ کے سوا اپنے سارے حمایتیوں کو بلالو۔
الجواب:
یہ تو خدا تعالی کافروں سے کہہ رہا ہے کہ تم خدا کے علاوہ جن کو اپنا کار ساز سمجھتے تھے ان کو بلالو، اگر رضا خانی بھی انہی میں سے ہیں تو بڑے شوق سے بلائیں ورنہ یہ تمہاری دلیل نہیں بن سکتی۔
[2]: قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ.
(سورۃ آل عمران:52)
ترجمہ: مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ کون کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مدد گار ہوں۔
الجواب:
یہ مدد جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے مانگی ہے یہ وہ ہے جو بالاتفاق جائز ہے یعنی استمداد کی دوسری قسم یعنی اسباب کے ساتھ مدد مانگنا یا وہ مدد مانگنا جو انسانی طاقت و بس میں ہے۔ مثلا روٹی، پانی، روپیہ، پیسہ وغیرہ مانگنا۔ تو یہاں سیدنا عیسی علیہ السلام بھی اپنے حواریوں سے ظاہری مدد مانگ رہے ہیں نہ کہ اختلافی مدد مانگ رہے ہیں۔
اس سے اگر بریلوی یہی مطلب لیں تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عیسی علیہ السلام تو مشکل کشا نہیں، بلکہ ان کے امتی مشکل کشا ہیں۔
[3]: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.
(سورۃ المائدۃ:2)
ترجمہ: نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو ۔
الجواب:
ہم بڑی جرأت و دلیری سے کہتے ہیں کہ 14صدیوں کے کسی معتبر مفسر نے اس آیت سے اختلافی استمداد ثابت نہیں کی، غیر اللہ کو مختار ِکل سمجھ کر ہر جگہ سے پکارنا، جو ہمارے اور تمہارے درمیان اختلافی امر ہے وہ تو اس سے ثابت نہیں ہورہا ۔
[4]: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ.
(سورۃ البقرۃ: 45)
اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔
الجواب:
اگر یہ لوگ اپنی تفسیر ضیاء القرآن ہی پڑھ لیتے تو بات ان کی سمجھ میں آجاتی ۔قرآن یہ بات کہہ رہا ہے کہ نماز اور صبر کے ذریعے اللہ سے مدد مانگو۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ”نماز اور صبر غیر خدا ہیں“ تو عرض ہے کہ یہاں ”ب“ سبب اور ذریعہ بتانے کے لیے آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو نماز اور صبر کے ذریعے سے ۔
[5]: هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ
(سورۃ الانفال :62)
ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے۔
الجواب:
اللہ کریم نے یہاں پر ایک اُس مدد کا ذکر کیا ہے جو چھپی ہوئی تھی اور دوسری مسلمانوں کے ذریعے اس مدد کا ذکر کیا ہے جو ظاہری اور نظر آنے والی تھی۔ یہ دونوں مددیں اللہ کی طرف سے ہیں، اگر اللہ کریم کسی کو کسی کام کے لیے استعمال فرما لے تو اس سے وہ مشکل کشا نہیں بن جاتا، جیسے پانی کو خدا نے ہر زندہ کے پیدا کرنے کے لیے سبب بنایا ہے، تو پانی کو کیا کوئی مشکل کشا سمجھتا ہے؟ اسی طرح اصحاب فیل کو تباہ کرنے کے لیے خدا نے ذریعہ بنایا پرندوں اور کنکریوں کو۔ کیا بریلوی اسی لیے ہر پتھر کو پوجتے اور چومتے ہیں ؟ القصہ خدا نے جیسے ان کو بطور سبب ظاہر کیا ان کو بھی کیا، جیسے ان کو کوئی مشکل کشا نہیں سمجھتا ایسے ہی وہ بھی نہیں۔
[6]: إِنَّمَا وَلِيُّكُمْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ.
(سورۃ المائدۃ:55)
ترجمہ: (مسلمانو!) تمہارے یار ومددگار اللہ اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے رہتے ہیں ۔
الجواب:
اولاً: ہمارا اختلاف تو اس بات سے ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو مختارِ کل سمجھ کر ہر جگہ سے ان کو پکارا جائےاور یہ بات تو یہاں سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔
ثانیاً: ظاہری مدد و نصرت ایک دوسرے سے مانگنا جتنی اس کی طاقت و بساط میں ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز یہ بات بھی مد نظر رہے کہ اس آیت سے ان سے پہلے 14صدیوں کے کسی بھی معتبر مفسر نے استعانت بغیر اللہ ثابت نہیں کی۔
ثالثاً: ولی کا معنی دوست بھی تو ہوسکتا ہے۔
رابعاً: اگر معنی یہ لیا جائے کہ یہ سب مددگار ہیں۔ تو پہلا خطاب صحابہ کو ہے ،صحابہ کے سب ایمان والے مددگار تھے، کیا مطلب؟ آج بھی ہر مؤمن مددگار ہے تو پھر مزارات پر کیا لینے جاتے ہو؟ کیا تم مومن نہیں؟
[7]: فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ.
(سورۃ التحریم :4)
ترجمہ: پس ان کا مددگار اللہ ہے اور جبرائیل ہیں اور نیک مسلمان ہیں اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں ۔
الجواب:
اولاً: مولیٰ کا معنیٰ دوست بھی تو ہوتا ہے۔
ثانیًا: اگر کسی بھی معتبر مفسر نے اختلافی استمداد کو اس آیت سے مراد لیا ہے تو پیش کریں۔
ثالثاً: قران و سنت کے دلائل سے ہم نے عرض کردیا کہ غیر اللہ سے استعانت جو مختلف فیہ ہے، ناجائز ہے ۔
رابعاً: رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض صحابہ کو" مولیٰ" کہا، کیا وہ حضور علیہ السلام کے مشکل کشا حاجت روا اور مددگار تھے؟
خامساً: بریلوی اپنے علماء کو "مولانا" کہتے ہیں، تو کیا وہ سب کچھ دیتے ہیں؟مشکل کشا ہیں؟حاجت روا ہیں؟ بگڑی بنانے والے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر معنی تم ہی کرو گے "دوست" تو یہاں بھی وہی معنی مراد ہوسکتا ہے۔
[8]: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا.
(سورۃ النازعات:5)
ترجمہ: قسم ہے ان فرشتوں کی جو امور کو ترتیب دینے والے ہیں۔
اللہ رب العزت نے فرشتوں کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ جب چاہیں جو کام چاہیں اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں تو جب اللہ نے فرشتوں کو اختیار دیا ہے تو ایسا اختیار نبیوں اور ولیوں کے لیے بھی ہے۔
الجواب:
اللہ ر ب العزت نے فرشتوں کو یہ جو اختیار دیا ہے یہ نہ تو دائمی اختیار ہے اور نہ ہی اختیاری طاقت ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پانی سے پیاس بجھا سکتا ہے اور پیاس بجھانے پر قادر ہے۔ جو اللہ کھانے سے پیٹ بھرنے پر قادر ہے تو وہی اللہ ان فرشتوں، نبیوں، ولیوں سے بھی اس طرح کے کام لینے پر بھی قادر ہے۔ یہی تفسیر بیضاوی والے نے بھی کی ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے پاس جو اختیار ہے یہ دائمی اور اختیار کلی ہے۔
مسئلہ استعانت پر بریلوی حضرات جن احادیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا تحقیقی جائزہ
[1]: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا پاؤں سوگیا تو انہوں نے ”یا محمداہ “ کہا۔ (کتاب الاذکار وغیرہ)
معلوم ہوا غیر اللہ سے مدد طلب کرنا جائز ہے۔
جواب:
اس کی سند میں غیاث بن ابراہیم ہے۔امام احمد فرماتے ہیں کہ متروک ہے، امام یحییٰ کہتے تھےکہ یہ آدمی ثقہ نہ تھا، جو زجانی کہتے ہیں یہ شخص جعلی حدیثیں بنایا کرتا تھا، امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ متروک ہے۔
(میزان ج2ص323)
[2]: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ جس کا مضمون یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :جب تم میں سے کوئی شخص جنگل میں سفر کررہا ہو اور تمہاری سواری کا جانور ہاتھ سے نکل جائے تو اس کو یہ کہنا چاہیے
یا عباداللہ اعینونی (وفی روایۃ) یا عباد اللہ احبسوا فان للہ فی الارض حاضرا (وفی روایۃ) یستحسبہ.
(مجمع الزوائد ج10 ص133 ابن سنی ص162، حصن حصین ص163)
جواب نمبر1:
یہ روایت ایک سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کی سند میں ایک راوی معروف بن حسان ہے ۔
٭ علامہ ہیثمی لکھتے ہیں کہ یہ آدمی ضعیف ہے۔
(مجمع الزوائد ج10ص133)
٭ امام ابن عدی لکھتے ہیں: منکر الحدیث ہے۔
(میزان ج3ص183)
٭ امام ابو حاتم کہتے ہیں: مجہول ہے۔
(لسان المیزان ج6ص61)
اس روایت کی دوسری سند حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے، جس کے متعلق علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ورجالہ وثقوا علی ضعف فی بعضہم الا ان زید بن علی لم یدرک عتبۃ .
(مجمع الزوائد ج10ص132)
بعض راوی ضعیف اور کمزور ہیں اور دوسری خرابی یہ ہے کہ یزید بن علی راوی کی حضرت عتبہ سے ملاقات ثابت نہیں نہ ہی دیکھا ہے اور نہ زمانا پایا ہے۔ لہذا یہ روایت حضرات محدثین کی اصطلاح میں منقطع ہے جو کہ ضعیف ہوتی ہے۔
جواب نمبر2:
اس حدیث کے الفاظ پر ہی نگاہ ڈالنے سے معاملہ صاف ہوجاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ لفظ بھی ہیں کہ وہاں کچھ خدا تعالیٰ کے بندے حاضر ہوتے ہیں۔ وہ کون ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جنگلات میں رہتے ہیں جب تمہیں کوئی رکاوٹ پیدا ہو تو یہ کہا کرو :”اعینوا عباد اللہ “۔
(مجمع الزوائد ج10ص132 وقال رجالہ ثقات )
تو اس روایت سے مافوق الاسباب مدد طلب کرنا ثابت نہ ہوا بلکہ وہاں جو فرشتے موجود ہیں ان سے مدد طلب کی گئی ہے۔
[3]: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر جنگل میں کسی درندہ یا شیر کا خوف ہو تو” اعوذ بدانیال علیہ السلام“ کہا کرو کہ میں حضرت دانیال علیہ السلام کی پناہ چاہتا ہوں۔
(حیاۃ الحیوان ج1ص6، ابن سنی ص113)
جواب:
یہ حدیث موقوف ہونے کے ساتھ ضعیف بھی ہے کیونکہ اس میں متعدد راوی ضعیف اور کمزور ہیں جو ساقط الاعتبار ہیں۔
پہلا راوی…… عبدالعزیز بن عمران ہے، امام بخاری، ابن معین، نسائی، ترمذی، ابن حبان، ابو زرعہ وغیرہ حضرات اس کو ضعیف کہتے ہیں۔
(تہذیب ج6ص651)
دوسرا راوی…… ابن ابی حبیبہ ہے جس کا نام ابراہیم بن اسماعیل ہے۔ امام بخاری اس کو صاحب مناکیر کہتےہیں، امام نسائی، ابن معین، دار قطنی، ابوحاتم، امام حاکم، امام ترمذی، امام ابن حبان وغیرہ اس کی تضعیف کرتے ہیں۔
(میزان ج 1ص11)
تیسرا راوی…… داؤد بن حصین ہے۔ امام ابن عیینہ، ابو زرعہ، ابو حاتم، سعد بن ابراہیم اس کو مطلقاً ضعیف قرار دیتے ہیں اور امام ابن مدینی، ابو داؤد اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کی وہ حدیث جو عکرمہ سے ہو، ضعیف ہوتی ہے اور یہ روایت بھی عکرمہ سے ہے۔
(میزان ج1ص317، تہذیب ج3ص181)
[4] حضرت بلال بن الحارث المزنی نے قحط سالی میں "یا محمد اہ " کہا تھا ۔
(الکامل لابن عدی )
جواب:
اولاً: کامل ابن عدی چوتھے درجے کی کتابوں میں سے ہیں اور اس طبقہ کے بارے میں محدثین کرام کا یہ فیصلہ ہے:
ایں احادیث قابل اعتماد نیستند کہ در عقیدہ یا عملے بآنہا تمسک کردہ شود .
(عجالہ نافعہ ص7)
ہاں اگر اصول حدیث کی رو سے اس طبقے کی کوئی حدیث سندا ًصحیح ثابت ہو تو اس کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔
ثانیاً: انہوں نے یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے روضہ اطہر پر حاضر ہوکر کہے تھے، لہذا یہ غائبانہ پکار کی مد میں نہیں ہے۔
[5]: عبدالرحمان مسعودی کی ٹوپی میں ”یا محمد یا منصور“ لکھا ہوا تھا۔
(تہذیب)
جواب:
حضرات محدثین جب ان کی روایت کو ضعیف سمجھتےہیں تو ان کا فعل کیسے حجت ہوسکتا ہے؟! علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ لکھتےہیں:
”ضعیف“
(زیلعی ص133)
اور یہ اتنے مجذوب اور بے خبر ہوگئے تھے کہ چیونٹیاں ان کے کان میں داخل ہوجاتی تھیں۔
(میزان ج2ص111)
[6]: آپ علیہ السلام معراج پر تشریف لے گئے تو موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ پر اللہ تعالیٰ سے باربار اپیل کرنے سے پچاس نمازوں کی جگہ پانچ رہ گئی تھیں ۔اس سے معلوم ہوا کہ مردے زندوں کے کام آسکتے ہیں اور ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ لہذا اگر مصیبت میں ان کو پکارا جائے تو کون سا حرج ہے؟۔
(جاء الحق ص197)
جواب:
سند کے اعتبار سے یہ روایت بالکل صحیح ہے لیکن اس سے غائبانہ امداد طلب کرنے کا جواز ثابت کرنا بالکل باطل اور حدیث میں تحریف ہے، آپ علیہ السلام نے نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مدد مانگی ہے اور نہ غائبانہ پکارا بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اپنی قوم کی حالت بیان کی اور پچاس نمازوں میں تخفیف کا مشورہ دیا۔ آپ علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو نہ غائبانہ پکارا نہ ان سے مدد مانگی بلکہ ان کے مشورہ پر اللہ پاک سے تخفیف کا مطالبہ کیا۔ اس لیے اگر آج کوئی کسی کو خواب یا بیداری میں ملے اور وہ کسی دینی یا دنیاوی معاملہ میں کوئی مشورہ دے تو اس مشورے کو مانا جاسکتا ہے، ہم اس کو شرک نہیں کہتے۔ جو چیز فریق مخالف ثابت کرنا چاہتا ہے وہ غائبانہ پکارنا ،حاضر نا ظر سمجھ کر پکارنا یا غائبانہ اس کو بطور سفارش کے پیش کرنا ہے تو اس چیز کا ثبوت اس روایت سے ہرگز نہیں ملتا، اگر جائز ہوتا تو صحابہ کرام سلف صالحین ضرور پکارتے اور اس کو بطور دلیل پیش کرتے اور قرآن کریم میں مافوق الاسباب طریق پر پکارنا نا جائز نہ ہوتا کیونکہ محال ہے کہ دو متضاد حکم اللہ تعالیٰ اور آپ علیہ السلام کی طرف پیش کیے جائیں۔
[7]: حضرت ساریہ فوج کے ساتھ نہاوند کے مقام پر دشمنوں کے ساتھ بر سر پیکار تھے کہ دشمن نے پیچھے سے حملہ کرنے کی کوشش کی حضرت عمررضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کے منبر پر یہ ارشاد فرمایا: ”یا ساریۃ الجبل الجبل“(اے ساریہ پہاڑ کی طرف دیکھو اور دشمن سے بچو) انہوں نے آواز سن لی اور جان بچالی معلوم ہوا غائب بھی مدد کرسکتا ہے۔
جواب نمبر1:
یہ روایت بیہقی ، ابو نعیم، خطیب وغیرہ نے اپنی کتابوں میں لکھی ہے اور ابو نعیم اور خطیب کی کتابیں طبقہ رابعہ کی ہیں (عجالہ نافعہ بحوالہ ص8) اور طبقہ رابعہ کے بارے میں محدثین کا نظریہ ہے کہ عقائد کے بارے میں یہ قابل قبول نہیں (عجالہ نافعہ ص7) امام بیہقی کی کتب طبقہ ثالثہ کی ہیں اس کا حکم یہ ہے کہ:
واکثر آں احادیث معمول بہ نزد فقہاء نہ شدہ اند بلکہ اجماع بر خلاف انہا منعقد گشتہ
(عجالہ نافعہ ص7)
اگر چہ یہ حدیث صحیح بھی ہو اور ظن غالب بھی یہی ہے کہ یہ حدیث سنداًصحیح ہے لیکن عقائد کے باب میں قابل قبول نہیں۔
جواب نمبر2:
پہلی بات : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز کا وہاں تک پہنچ جانا بطور کرامت کے تھا اگر آج بھی کسی غائب کو کسی کے حالات کا علم ہوجائے اور وہ آواز دے اور کوئی اس کی آواز کو سن کر اپنا بچاؤ کر لے تو صحیح ہے۔لیکن آج کے دور میں جس طرح بزرگوں کو پکارتے ہیں ان کو غائب کی طرف سے کوئی آواز بھی نہیں سنائی جاتی۔ لہذا کرامت پر ایسے واقعات کو قیاس کرنا باطل ہے۔
دوسری بات: حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی زندہ تھے اور حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ بھی، اس لیے اس پر قیاس کرتے ہوئے زندہ کا غائب مردہ سے استعانت طلب کرنا قیاس مع الفارق ہے۔
تیسری بات: حضرت ساریہ کا آواز سننے سے پہلے وہم بھی نہیں ہوگا کہ میں حضرت عمر سے استعانت طلب کروں گا۔
چوتھی بات: یہ ہے کہ اگر حضرت عمر رضی االلہ عنہ کے پاس "ما کان و ما یکون" کا علم ہوتا تو وہ ابو لؤلؤ مجوسی سے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان نہ بچالیتے؟ جو اس واقعہ کے بعد کا اور شہادت سے پہلے کا واقعہ ہے
جواب نمبر3:
اس روایت سے مدد دینے والے کا غائبانہ پکارنا ثابت ہوا ہے نہ کہ مدد طلب کرنے والے کا ۔دونوں میں بڑا فرق ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ پاک نے بیت المقدس اور نجاشی کا جنازہ سامنے کرنے کی طرح لشکر کو سامنے کردیا ہو، چنانچہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہےکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا لشکر موجود رہتا ہے ہوسکتا ہے وہ لشکر میری یہ بات ساریہ تک پہنچادے۔
(البدایہ والنہایہ ج7ص130)
اس صورت میں غائب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
[8]: حضرت راجز نے (دور سے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو مدد کے لیے" یا "سے پکارا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مدد کی، حضور نے فرمایا: راجز یستصرخنی اغثنی یا رسول اللہ یعنی یہ راجز ہے مجھ سے مدد مانگ رہا ہے اور کہتا ہے: ”اغثنی یا رسول اللہ“ کہ اللہ کے رسول میری مدد کریں۔
الجواب:
پہلی بات: فیضی صاحب نے ”نظریات صحابہ“ علماء دیوبند کی 7 عدد کتابوں کے حوالے دیے ہیں مگر کسی میں بھی "اغثنی یا رسول اللہ" نہیں۔
دوسری بات: یہ قبیلہ مسلمان نہیں تھا سوائے چند کے، اس راجز یعنی شعر کہنے والے کا نام عمرو بن صالح ہے۔ یہ اس وقت تک مسلمان نہیں تھا۔ انہوں نے جب ان پر ظلم کیا تواس نے چند اشعار کہے جن میں اپنے اوپرہونے والا ظلم اور رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حلیفانہ معاہدہ کا ذکر کیا، اور اپنی مدد کی درخواست دی۔
یہ قبیلہ بنو خذاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا، اور بنوبکر قریش کا حلیف تھا۔ انہوں نے اس قبیلہ پر حملہ کیا اور ان کے افراد کو قتل کیا، تو ان میں سے ایک فرد نے یہ بات اشعار میں کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معجزۃً اس کی خبر ہوئی اور مدد بھی وہ مانگی جو تحت الاسباب تھی یعنی حلیف ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق بنتا تھا ان کی مدد کرنا اور یہ انسانی طاقت و بس کی بات ہے۔ باقی رہی دور سے پکارنے والی بات تو وہ درست نہیں یعنی وہ ان کا اقدام اسلام میں درست نہیں۔
[9]: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو ہجرت کے موقع پر جب آپ تشریف لائے "یا رسول اللہ" کہا۔
جواب:
گذارش ہے کہ اس روایت سے ہر جگہ حاضر و ناظر سمجھ کر پکارنا تو ثابت نہ ہوا، یہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے موجود تھے۔ جب کہ ثابت یہ کرنا ہے ہر جگہ مختار کل سمجھ کر پکارنا، تو وہ اس سے نہیں ہورہا کیونکہ آپ قریب بھی تھے اور دوسرا اس میں مختار کل سمجھنا بھی ثابت نہیں ہورہا۔