Showing posts with label تکبیرات عیدین. Show all posts
Showing posts with label تکبیرات عیدین. Show all posts

Wednesday, 5 June 2019

ہم نماز عیدین اور وتر میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں اور پنجگانہ فرض نمازوں میں رفع یدین کیوں نہیں کرتے*

*ہم  نماز عیدین اور وتر میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں اور پنجگانہ فرض نمازوں میں رفع یدین کیوں نہیں کرتے*

🌹 *جواب1⃣*

عیدین اور وتر کے رفع یدین پر امت کا اجماع ھے۔اور پنجگانہ  فرض نماز کے رفع یدین پر امت کا اجماع نہیں ھے۔بلکہ وہ منسوخ ھے۔(منسوخ ہونے کے دلائل دیکھیے صحیح مسلم۔سنن ترمذی،سنن ابوداود،سنن نسائی،مسند حمیدی،مصنف ابی عوانہ،اخبار الفقہا والمحدثیں،وغیرہ)

*عیدین اور وتر کے رفع یدین پر اجماع کے دلائل*

📝 *دلیل نمبر1:*

وَاتَّفَقُوْا عَلٰی رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی التَّکْبِیْرَاتِ۔

(مرقاۃ المفاتیح لعلی القاری: ج 3ص495 باب صلاۃ العیدین رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ:  ص63)

*ترجمہ: فقہاء کرام کا عیدین کی تکبیرات کے رفع یدین پر اتفاق ہے۔*

📝 *دلیل نمبر2:*

وَاَجْمَعُوْاعَلٰی اَنَّہُ یُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِی تَکْبِیْرِ الْقُنُوْتِ وَ تَکْبِیْرَاتِ الْعِیْدَیْنِ. (بدائع الصنائع للکاسانی: ج1ص484 ، رفع الیدین فی الصلوۃ)

*ترجمہ: فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتروں میں قنوت کی تکبیر اور عیدین کی تکبیرات کے وقت رفع یدین کیا جائے۔*

فائدہ: پنجگانہ نمازوں میں رکوع کو جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا منسوخ اور ممنوع اور عیدین میں کیا جانے والا رفع یدین مشروع اور لازم ہے.

🌹 *جواب2⃣* 
ہمارا رفع یدین ذکر والا ھے اور فریق مخالف کا بغیر ذکر والا۔
ارشاد خداوندی ہے:

🌼 القرآن - سورۃ نمبر 20 طه
آیت نمبر 14

 *وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكۡرِىۡ ۞*

🌷 *ترجمہ:اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔*

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم اس رفع یدین کے قائل ہیں جو ذکر کے ساتھ کیا جاتا ھے۔
 رکوع اور سجدہ میں جانے کے لئے ہم ذکر یعنی تکبیر پڑھتے ہیں۔تو اس تکبیر کو تکبیر انتقال کہا جاتا ھے(منتقل ہونے کے لئے)۔اور جس  رفع یدین کے ہم قائل ہیں جیسے وتر اور عیدین میں کیا جاتا ھے۔تو وہاں تکبیر انتقال کا رفع یدین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ ہم وہاں رفع یدین کے ساتھ الگ سے ذکر تکبیر کہتے ہیں۔تاکہ ہمارا رفع یدین زکر والا ہو۔اور لامذہب جو پنجگانہ فرض نماز میں رفع یدین کرتے ہیں وہ بغیر ذکر کے ہوتا ھے۔کیونکہ وہاں لامذہب جو تکبیر پڑھتے ہیں وہ تکبیر منتقل ہونے کے لئے ہوتی ھے نہ کہ رفع یدین کے لئے۔اس طرح ان کا رفع یدین بغیر زکر ادا ہوتا ھے۔

قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے:

🌼 وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔

🌷 *ترجمہ:اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔*

تو نماز کا وہ عمل جو خود ذکر یا مقرون بالذکر (ذکر سے ملا ہوا) ہو تو اس آیت کی رو سے مطلوب ہو گا اور اگروہ عمل خود ذکر یا مقرون بالذکر نہ ہو توغیر مطلوب اور قابلِ ترک ہو گا۔عیدین والے رفع یدین کے ساتھ ذکر یعنی اللہ اکبر ملا ہوتا ہے اس لیے یہ مطلوبِ شریعت ہے اور پنجگانہ نمازوں والے مذکورہ رفع یدین میں خالی حرکت ہوتی ہے ذکر نہیں ہوتا، اس لیے یہ غیر مطلوب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔

*جاری احناف میڈیا سروس*

🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻

Monday, 3 June 2019

عید نماز اور دعا قنوت کے رفیع الیدین پر اشکال کا جواب

اشکال: غیرمقلدین حضرات حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲ عنہ کی حدیث سے رفع یدین کی منسوخیت کے ثبوت پر یہ اشکال بھی کرتے ہیں،’’کہ اس حدیث کے حکم سے تو نمازِعیدین میں کہی جانےوالی (۶) زائد تکبیرات کے رفع یدین اور نمازِوترمیں دعاءِ قنوت سے پہلےکیا جانے والا رفع یدین بھی منسوخ ہوجاتا ہے تو پھر حنفی حضرات ان نمازوں میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟‘‘۔
جواب: میری اس بات سے تو تمام غیرمقلدین حضرات بھی اتفاق کریں گے کہ حضرت جابررضی اﷲ عنہ کی یہ حدیث نمازِ پنجگانہ کے بارے میں ہے کسی خاص نماز (یعنی نمازِعیدین یانمازِوتر) کے بارے میں نہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمام محدثین نے اس حدیث کو باب الصلاۃ میں رقم کیا ہے باب الصلاۃ العیدین یا باب الصلاۃ الوتر میں نہیں۔لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اکرمﷺ نے یہ حکم نمازِ پیجگانہ (یعنی پانچ فرض نمازوں کےساتھ پڑھی جانی والی نمازوں) کے بارے میں ہےکسی خاص نماز (یعنی نمازِعیدین یا نمازِ وتر) کے بارے میں نہیں۔
دوسری بات یہ کہ احناف نمازمیں جن مواقعوں (یعنی رکوع میں جاتےوقت، رکوع سے اٹھتےوقت، سجدے میں جاتےاوراٹھتے وقت، دونوں سجدوں کے درمیان، دوسری رکعت کے شروع میں، تیسری رکعت کے شروع میں اور سلام پھیرتے وقت) کے رفع یدین کو منسوخ مانتے ہیں ان تمام مواقعوں پر رسول اﷲﷺ سے رفع یدین کرنا بھی ثابت ہےاورنہ کرنابھی ثابت ہےجبکہ اس کے برعکس نمازِ عیدین اور نمازِ وتر میں جن مواقعوں پر احناف رفع یدین کرتے ہیں ان مواقعوں پر رسول اﷲﷺ سے رفع یدین کرنے کی دلیل تو ملتی ہے لیکن نہ کرنے کی نہیں ملتی۔ اسی لئے ہم (احناف) ان مواقعوں پر رفع یدین کرتے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ نمازِ عیدین میںنہ اذان دی جاتی ہے اور نہ اقامت (تکبیر)کہی جاتی ہےاوراس کے پڑھنے کا طریقہ بھی عام نمازوں سے مختلف ہے لہٰذا اس کو نمازِ پنجگانہ سے مشابہت دینااوراس کے حکم کا اطلاق کرناعقل سے بالاترہے۔
چوتھی بات یہ کہ ہم (احناف) نمازِ عیدین اور نمازِوتر میں جن مقامات پر رفع یدین کرنے کے قائل ہیں وہ نمازِ پنجگانہ میں کیئےجانے والے رفع یدین کے مقامات سے بالکل الگ ہیں ۔ لہٰذااگر ہم نمازِ عیدین اور نمازِوتر میں ان مقامات پر رفع یدین کے قائل ہوتے جن مقامات پرمنسوخ سمجھتے ہیں تو اعتراض کی صورت بنتی تھی لیکن جب ہم ان نمازوں میں بھی ان مقامات پر رفع یدین کے قائل نہیں تو پھر اعتراض کس بات کا؟
غیرمقلدین حضرات کے اس اشکال پر ہمارا بھی حق بنتاہے کہ ہم بھی کچھ اشکال پیش کریں۔ غیرمقلدین حضرات جو وترکی تیسری رکعت میں بعدازرکوع رفع یدین کرنےکے بجائے عام دعاکی طرح ہاتھ اٹھاکردعائے قنوت پڑھتے ہیں، کیا اس عمل کے بارے میں زبیرعلی زئی صاحب یا کسی غیرمقلد کے پاس کوئی ایک صحیح صریح مرفوع حدیث ہے؟ اگرہے تو ذراپیش فرمائیں ورنہ اس قسم کے سطحی اعتراضات سے گریز فرمائیں۔
دعاء ِقنوت میں رفع یدین کرنا صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، فتاویٰ علمائے حدیث
دعاء قنوت میں رفع یدین کرنا صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے چنانچہ اسود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعائے قنوت میں سینہ تک اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے تھے اور ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں ہمارے ساتھ دعاء قنوت پڑھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں بازو ظاہر ہو جاتے اور خلاص سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس کو دیکھا کہ نماز فجر کی دعاء قنوت میں اپنے بازو آسمان کی طرف لمبے کرتے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ماہِ رمضان میں دعاء قنوت کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور ابو قلابہ اور مکحول بھی رمضان شریف کے قنوت میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اورابراہیم سے قنوت وتر سے مروی ہے کہ وہ قرأۃ سے فارغ ہوکر تکبیر کہتے اور ہاتھ اٹھاتے پھر دعائے قنوت پڑھتے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرتے اور روایت ہے وکیع سے وہ روایت کرتا ہے محل سے وہ ابراہیم سے کہ ابراہیم نے محل کو کہا کہ قنوت وتر میں یوں کہا کرو اور وکیع نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے قریب تک اٹھا کربتلایا اور کہا کہ پھر چھوڑ دیوے ہاتھ اپنے عمر بن عبدالعزیز نے نماز صبح میں دعاء قنوت کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور سفیان سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کو دوست رکھتے تھے کہ وتر کی تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھ کر پھر تکبیر کہے اوردونوں ہاتھ اٹھاوے پھر دعائے قنوت پڑھے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ قنوت میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاوے کہا ہاں مجھے یہ پسند آتا ہے۔ ابوداؤد نے کہا کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا اسی طرح شیخ احمد بن علی المقریزے کی کتاب مختصر قیام اللیل میں ہے اور ابو مسعود اور ابوہریرہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی ان قاریوں کے بارے میں جو معونہ کے کنوئیں میں مارے گئے قنوت وتر میں دونوں ہاتھوں کااٹھانا مروی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تحقیق میں نے رسول اللہﷺ کو ان لوگوں پر جنہوں نے قاریوں کو قتل کیا تھا ہاتھ اٹھا کر بد دعاء کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسے ہی بیہقی کی کتاب مسمیٰ معرفت میں ہے۔ حررہ عبدالجبار العزنوی عفی عنہ (فتاویٰ غزنویہ: ص ۵۱)(فتاویٰ علمائے حدیث : جلد ۴ ،ص ۲۸۳)

Monday, 27 August 2018

عید کی نماذ میں رفع یدین اور غیر مقلدین کا رد

🌐 *عید کی نماذ میں رفع یدین اور غیر مقلدین کا رد
▫▫▫▫▫▫▫▫▫▫▫

 یہ اشکال ہی باطل

کہتا جاتا ھے یہ دیکھو احناف پورے سال رفع یدین کو منسوخ کہتے تھے
 لیکن آج عید کی نماز میں بار بار رفع یدین کرتے تھے یہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

     🌾🌾🌾

          *🎈 جواب*

🌱🌱🌱
احناف دیوبندی  اہل سنت واجماعت والے  جو عیدین کی زائد تکبیروں میں رفع یدین کرتے ہیں اس پر پوری امت کا اجماع ھے اور اس  رفع یدین میں عمل تواتر تسلسل اور دوام موجود ھے آج تک کسی ایک مسلمان نے کیا بلکہ دشمن اسلام بدعات والے یا  والہاد نے بھی اس رفع یدین کا انکار نہیں کیا ھے

اگر کیا ھے تو ثابت کرو
ورنہ تم جو رفع یدین کرتے ہمیشہ کرتے ہو عمل تواتر دوام اور تسلسل کے ساتھ کرتے ہو تو  رسول اللہ ۔ ۔سے  اس  رفع یدین پر صرف اور صرف ایک روایت ۔ثابت کرو کہ رسول اللہ ۔ ۔ نے ہمیشہ رفع یدین کی ہو با عمل تواتر دوام اور تسلسل ثابت ہو  ورنہ عوام الناس کو گمرہ نہ کرو

*✍ انور بلوچ

Wednesday, 8 August 2018

ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕِ ﻋﯿﺪﯾﻦ ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﺍﻻﺿﺤﯽٰ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﮨﮯ ﺟﻮﭼﮫ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ

ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕِ ﻋﯿﺪﯾﻦ
ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﺍﻻﺿﺤﯽٰ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﮨﮯ ﺟﻮﭼﮫ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺛﻨﺎﺀ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍٔﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﻦ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﮧ ﮐﺮﺭﮐﻮﻉ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺗﮑﺒﯿﺮِ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺛﻨﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺘﺼﻞ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﺍﺗﺼﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺒﯿﺮِ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﭼﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﭼﺎﺭ۔ﮔﻮﯾﺎ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔
ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺒﯿﺮِ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ، ﺗﯿﻦ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭﺭﮐﻮﻉ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮﭼﺎﺭﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﻮ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﭼﮫ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
:1 ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻘَﺎﺳِﻢِ ﺍَﺑِﯽْ ﻋَﺒْﺪِﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨِﯽْ ﺑَﻌْﺾُ ﺍَﺻْﺤَﺎﺏ ﺭَﺳُﻮْﻝِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﺻَﻠّٰﯽ ﺑِﻨَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﯽُّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋِﯿْﺪٍ ﻓَﮑَﺒَّﺮَ ﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﻭَﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﺛُﻢَّ ﺍَﻗْﺒَﻞَ ﻋَﻠَﯿْﻨَﺎ ﺑِﻮَﺟْﮭِﮧٖ ﺣِﯿْﻦَ ﺍﻧْﺼَﺮَﻑَ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﻟَﺎﺗَﻨْﺴَﻮْﺍ ﮐَﺘَﮑْﺒِﯿْﺮِ ﺍﻟْﺠَﻨَﺎﺋِﺰِ ﻭَﺍَﺷَﺎﺭَ ﺑِﺎَﺻَﺎﺑِﻌِﮧٖ ﻭَﻗَﺒَﺾَ ﺍِﺑْﮭَﺎﻣَﮧٗ۔
‏( ﺷﺮﺡ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﻻٓﺛﺎﺭ ﺝ 2 ﺹ 371 ﺑﺎﺏ ﺻﻠﻮۃ ﺍﻟﻌﯿﺪﯾﻦ ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﻗﺎﺳﻢ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﭼﺎﺭ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺐ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮐﺮﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ‏( ﭼﺎﺭ ‏) ﮨﯿﮟ۔ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔
:2 ﻋَﻦْ ﻣَﮑْﺤُﻮْﻝٍ ﻗَﺎﻝَ ﺍَﺧْﺒَﺮَﻧِﯽْ ﺍَﺑُﻮْ ﻋَﺎﺋِﺸَۃَ ﺟَﻠِﯿْﺲٌ ﻟِّﺎَﺑِﯽْ ﮨُﺮَﯾْﺮَۃَ : ﺍَﻥَّ ﺳَﻌِﯿْﺪَ ﺑْﻦَ ﺍﻟْﻌَﺎﺹ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﺳَﺎَٔﻝَ ﺍَﺑَﺎﻣُﻮْﺳٰﯽ ﺍﻟْﺎَﺷْﻌَﺮِﯼَّ ﻭَﺣُﺬَﯾْﻔَۃَ ﺑْﻦَ ﺍﻟْﯿَﻤَﺎﻥِ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮭُﻤَﺎ ﮐَﯿْﻒَ ﮐَﺎﻥَ ﺭَﺳُﻮْﻝُ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺎَﺿْﺤٰﯽ ﻭَﺍﻟْﻔِﻄْﺮِ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﺍَﺑُﻮْ ﻣُﻮْﺳﯽٰ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﮐَﺎﻥَ ﯾُﮑَﺒِّﺮُﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﺗَﮑْﺒِﯿْﺮَۃً ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﺠَﻨَﺎﺋِﺰِ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﺣُﺬَﯾْﻔَۃُ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﺻَﺪَﻕَ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﺍَﺑُﻮْﻣُﻮْﺳﯽٰ ﮐَﺬٰﻟِﮏَ ﮐُﻨْﺖُ ﺍُﮐَﺒِّﺮُ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺒَﺼْﺮَۃِ ﺣَﯿْﺚُ ﮐُﻨْﺖُ ﻋَﻠَﯿْﮭِﻢْ۔
‏( ﺳﻨﻦ ﺍﺑﯽ ﺩﺍﻭٔﺩ ﺝ 1 ﺹ 170 ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺘﮑﺒﯿﺮ ﻓﯽ ﺍﻟﻌﯿﺪﯾﻦ ،ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼٰ ﻟﻠﺒﯿﮩﻘﯽ ﺝ 3 ﺹ 289 ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﻣﮑﺤﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﮐﮯ ﮨﻤﻨﺸﯿﻦ ﺍﺑﻮ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﯿﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ ﺑﻦ ﯾﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ : ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﯿﺪﺍﻻﺿﺤﯽٰ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪﺍﻟﻔﻄﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ؟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ،ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ‏( ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏) ﺳﭻ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﺼﺮ ﮦ ﮐﺎ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
:3 ﻋَﻦْ ﻋَﻠْﻘَﻤَۃَ ﻭَﺍﻟْﺎَﺳَﻮَﺩِ ﺑْﻦِ ﯾَﺰِﯾْﺪَ ﻗَﺎﻟَﺎ ﮐَﺎﻥَ ﺍﺑْﻦُ ﻣَﺴْﻌُﻮْﺩٍ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﺟﺎَﻟِﺴًﺎ ﻭَﻋِﻨْﺪَﮦٗ ﺣُﺬَﯾْﻔَۃُ ﻭَﺍَﺑُﻮْﻣُﻮْﺳَﯽٰ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮭُﻤَﺎ ﻓَﺴَﺎٔﻟَﮭُﻢْ ﺳَﻌِﯿْﺪُ ﺑْﻦُ ﺍﻟْﻌَﺎﺹ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﻋَﻦِ ﺍﻟﺘَّﮑْﺒِﯿْﺮِ ﻓِﯽ ﺍﻟﺼَّﻠٰﻮۃِ ﯾَﻮْﻡَ ﺍﻟْﻔِﻄْﺮِ ﻭَﺍﻟْﺎٔﺿْﺤٰﯽ ﻓَﺠَﻌَﻞَ ﮬٰﺬَﺍ ﯾَﻘُﻮْﻝُ : ﺳَﻞْ ﮬٰﺬَﺍ ﻭَ ﮬٰﺬَﺍ ﯾَﻘُﻮْﻝُ : ﺳَﻞْ ﮬٰﺬَﺍ ﺣَﺘّٰﯽ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﮧٗ ﺣُﺬَﯾْﻔَۃُ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﺳَﻞْ ﮬٰﺬَﺍ ﻟِﻌَﺒْﺪِﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺑْﻦِ ﻣَﺴْﻌُﻮْﺩٍ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﻓَﺴَﺎٔﻟَﮧٗ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﺍﺑْﻦُ ﻣَﺴْﻌُﻮْﺩٍ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﺛُﻢَّ ﯾَﻘْﺮَﺍٔ ﺛُﻢَّ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﻓَﯿَﺮْﮐَﻊُ ﺛُﻢَّ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﻓِﯽ ﺍﻟﺜَّﺎﻧِﯿَۃِ ﻓَﯿَﻘْﺮَﺍٔﺛُﻢَّ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﺑَﻌْﺪَ ﺍﻟْﻘِﺮَﺍﺋَۃِ۔
‏( ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ ﻟﻠﻄﺒﺮﺍﻧﯽ ﺝ 4 ﺹ 593 ﺭﻗﻢ 9402 ،ﻣﺼﻨﻒ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺝ 3 ﺹ 167 ،ﺭﻗﻢ 5704 ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﻋﻠﻘﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻮﺩ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﯿﺪﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﺍﻻﺿﺤﯽٰ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﻥ ‏( ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ‏) ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ، ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽٰ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﻥ‏( ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ ‏) ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ،ﭘﮭﺮﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻧﻤﺎﺯﯼ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ‏( ﺍﯾﮏ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺯﺍﺋﺪﮦ ‏) ﮐﮩﮯ، ﭘﮭﺮ ﻗﺮﺍﺀ ﺕ ﮐﺮﮮ ،ﭘﮭﺮ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﺮﮮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﮯ، ﭘﮭﺮ ﻗﺮﺍﺀ ﺕ ﮐﺮﮮ ،ﭘﮭﺮ ﻗﺮﺍٔﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﮯ۔ ‏( ﺗﯿﻦ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺯﺍﺋﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ‏)
:4 ﻋَﻦْ ﮐُﺮْﺩُﻭْﺱٍ ﻗَﺎﻝَ : ﺍَﺭْﺳَﻞَ ﺍﻟْﻮَﻟِﯿْﺪُﺍِﻟٰﯽ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺑْﻦِ ﻣَﺴْﻌُﻮْﺩٍ َﻭ ﺣُﺬَﯾْﻔَۃَ ﻭَ ﺍَﺑِﯽْ ﻣَﺴْﻌُﻮْﺩٍ ﻭَ ﺍَﺑِﯽْ ﻣُﻮْﺳٰﯽ ﺍﻟْﺎَﺷْﻌَﺮِﯼِّ ﺑَﻌْﺪَ ﺍﻟْﻌَﺘَﻤَۃِﻓَﻘَﺎﻝَ : ﺍِﻥَّ ﮨٰﺬَﺍ ﻋِﯿْﺪُﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﯿْﻦَ،ﻓَﮑَﯿْﻒَ ﺍﻟﺼَّﻠٰﻮۃُ؟ ﻓَﻘَﺎﻟُﻮْﺍ : ﺳَﻞْ ﺍَﺑَﺎ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﻓَﺴَﺎَﻟَﮧُ ﻓَﻘَﺎﻝَ : ﯾَﻘُﻮْﻡُ ﻓَﯿُﮑَﺒِّﺮُ ﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﺛُﻢَّ ﯾَﻘْﺮَﺉُ ﺑِﻔَﺎﺗِﺤَۃِ ﺍﻟْﮑِﺘَﺎﺏِ ﻭَ ﺳُﻮْﺭَۃٍ ﻣِّﻦَ ﺍﻟْﻤُﻔَﺼَّﻞِ ﺛُﻢَّ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﻭَ ﯾَﺮْﮐَﻊُ ﻓَﺘِﻠْﮏَ ﺧَﻤْﺲٌ ﺛُﻢَّ ﯾَﻘُﻮْﻡُ ﻓَﯿَﻘْﺮَﺉُ ﺑِﻔَﺎﺗِﺤَۃِ ﺍﻟْﮑِﺘَﺎﺏِ ﻭَﺳُﻮْﺭَۃٍ ﻣِّﻦَ ﺍﻟْﻤُﻔَﺼَّﻞِ ﺛُﻢَّ ﯾُﮑَﺒِّﺮُ ﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﯾَﺮْﮐَﻊُ ﻓِﯽْ ﺍٓﺧِﺮِﮨِﻦَّ ﻓَﺘِﻠْﮏَ ﺗِﺴْﻊٌ ﻓِﯽ ﺍﻟْﻌِﯿْﺪَﯾْﻦِ ﻓَﻤَﺎ ﺍَﻧْﮑَﺮَﮦُ ﻭَﺍﺣِﺪٌ ﻣِّﻨْﮩُﻢْ۔
‏( ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ ﻟﻠﻄﺒﺮﺍﻧﯽ : ﺝ 4 ﺹ 392 ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﮐﺮﺩﻭﺱ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻭﻟﯿﺪ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ، ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺬﯾﻔﮧ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﮩﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﯿﺠﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ؟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺑﻮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ‏( ﺍﯾﮏ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕ ﺯﺍﺋﺪﮦ ‏) ﮐﮩﮯ۔ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻔﺎﺗﺤﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺼﻞ ﺳﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﺭﺕ ﭘﮍﮬﮯ، ﭘﮭﺮ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﯾﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ‏( ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ‏) ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻮﺭﺕ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺼﻞ ﺳﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﺭﺕ ﭘﮍﮬﮯ، ﭘﮭﺮ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﺍﻻﺿﺤﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﻮ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻥ ﺳﺐ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ‏[ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺯﺑﺮ ﺩﺳﺖ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ‏]
:5 ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺒﯿﺮﺍﺕِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺍﻭﺭﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ۔ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ :
ﻓَﺎﺟْﻤَﻌُﻮْﺍ ﺍَﻣْﺮَﮬُﻢْ ﻋَﻠٰﯽ ﺍَﻥْ ﯾَﺠْﻌَﻠُﻮْﺍ ﺍﻟﺘَّﮑْﺒِﯿْﺮَ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﺠَﻨَﺎﺋِﺰِ ﻣِﺜْﻞَ ﺍﻟﺘَّﮑْﺒِﯿْﺮِ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺎَﺿْﺤﯽٰ ﻭَﺍﻟْﻔِﻄْﺮِ ﺍَﺭْﺑَﻊَ ﺗَﮑْﺒِﯿْﺮَﺍﺕ۔
‏( ﺷﺮﺡ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﻻٓﺛﺎﺭ ﺝ 1 ﺹ 319 ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺘﮑﺒﯿﺮ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺠﻨﺎﺋﺰ ﮐﻢ ﮬﻮ ؟ ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺍﻣﺮ ﭘﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻋﯿﺪﺍﻻﺿﺤﯽٰ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪﺍﻟﻔﻄﺮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ۔
:6 ﻋَﻦِ ﺍﺑْﻦِ ﻣَﺴْﻌُﻮْﺩٍ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮧُ : ﻓِﯽ ﺍﻟْﺎُﻭْﻟٰﯽ ﺧَﻤْﺲُ ﺗَﮑْﺒِﯿْﺮَﺍﺕٍ ﺑِﺘَﮑْﺒِﯿْﺮَۃِ ﺍﻟﺮَّﮐْﻌَۃِ ﻭَ ﺑِﺘَﮑْﺒِﯿْﺮَۃِ ﺍﻟْﺎِﺳْﺘِﻔْﺘَﺎﺡِ ﻭَ ﻓِﯽ ﺍﻟﺮَّﮐْﻌَۃِ ‏[ ﺍﻟْﺎُﺧْﺮٰﯼ ‏] ﺍَﺭْﺑَﻌَۃٌ ﺑِﺘَﮑْﺒِﯿْﺮَۃِ ﺍﻟﺮَّﮐْﻌَۃِ
‏( ﻣﺼﻨﻒ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺯﺍﻕ : ﺝ 3 ﺹ 166 ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ 5702 ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺘﮑﺒﯿﺮ ﻓﯽ ﺻﻠﻮۃ ﺍﻟﻌﯿﺪ ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮﭘﺎﻧﭻ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﻮﻉ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ‏[ ﺧﻼﺻﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﺋﺪ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺗﯿﻦ ﮨﮯ۔ ‏]
:7 ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺑْﻦِ ﺍﻟْﺤَﺎﺭِﺙِ ﺍَﻧَّﮧُ ﺻَﻠّٰﯽ ﺧَﻠْﻒَ ﺍﺑْﻦِ ﻋَﺒَّﺎﺱٍ ﺭَﺿِﯽَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻨْﮩُﻤَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟْﻌِﯿْﺪِ ﻓَﮑَﺒَّﺮَ ﺍَﺭْﺑَﻌًﺎ ﺛُﻢَّ ﻗَﺮَﺉَ ﺛُﻢَّ ﮐَﺒَّﺮَ ﻓَﺮَﻓَﻊَ ﺛُﻢَّ ﻗَﺎﻡَ ﻓِﯽ ﺍﻟﺜَّﺎﻧِﯿَۃِ ﻓَﻘَﺮَﺉَ ﺛُﻢَّ ﮐَﺒَّﺮَ ﺛَﻠَﺎﺛًﺎ ﺛُﻢَّ ﮐَﺒَّﺮَ ﻓَﺮَﻓَﻊَ۔
‏( ﺳﻨﻦ ﺍﻟﻄﺤﺎﻭﯼ : ﺝ 2 ﺹ 372 ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺘﮑﺒﯿﺮ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺠﻨﺎﺋﺰ ﮐﻢ ﮬﻮ ؟ ‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ﺭﺣﻤﮧ ﺍ ﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﻗﺮﺍﺀ ﺕ ﮐﯽ، ﭘﮭﺮ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍٓﭖ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﻗﺮﺍﺀ ﺕ ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﺗﯿﻦ ﺗﮑﺒﯿﺮﯾﮟ ﮐﮩﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ‏( ﭼﻮﺗﮭﯽ ‏) ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﮐﯿﺎ۔

طالب دعا
Aaqibul Islam
طالب علم