Showing posts with label غیر مقلدین کی خانہ تلاشی. Show all posts
Showing posts with label غیر مقلدین کی خانہ تلاشی. Show all posts

Monday, 15 June 2020

غیرمقلدین کے چیلنجس

غیر مقلدوں کی خانہ تلاشی 
غیرمقلدین کے چیلنجس
اس ملک میں جس طرح قرآن او رنبیﷺ کی سنت اہل سنت  والجماعت احناف کے ذریعے پہنچے، اسی طرح نبی اکرمﷺ والی نماز بھی اس ملک میں احناف ہی لائے ان کی محنت سے کروڑوں لوگ مومن اورنمازی بنے اور نماز کےبارے میں تقریباً بارہ سو سال تک اس ملک میں کوئی جھگڑا نہ تھا، اس ملک میں تقریباً ایک ہزار سال تک فقہ حنفی بطور اسلامی  قانون نافذ  رہی جب انگریز ی حکومت قائم ہوئی تو ایک فرقہ غیرمقلدین کا پیدا ہوا جس نے اہل سنت  کے ایمان اورنماز کو غلط قرار دیا اوراس ملک میں پہلی مرتبہ مذہبی منافرت اور فتنہ کا بیج بویا،آئے دن مناظروں کے چیلنج شروع کردیے،اہل سنت والجماعت  دنیا بھر میں قادیانی فتنہ، رفض ،اہل شرک وبدعت اورمنکرین حدیث کے فتنوں کے تعاقب میں مصروف تھے کہ ان فتنوں سے اہل سنت کا ایمان محفوظ کیا جائے اور یہ فرقہ ان سب کو چھوڑ کر اہل سنت کو مناظروں کا چیلنج  دیتا تھا  ؛چنانچہ مجبوراً ان کے چیلنج کو قبول کرکے مناظرے کئے گئے ،مناظروں میں شکست کے بعد  پھر انعامی چیلنج کے اشتہاروں سے  عوام میں فتنہ پھیلانا  شروع کیا۔ 
ہندوستان میں فقہ حنفی والی حکومت ختم ہوئی اور انگریز کا دور آیا تو جہاد کو حرام قراردینے کے لئے مرزا قادیانی کو مسیح موعود کا دعوی  کرناپڑا اورمسیح کی کرسی خالی کرانے کے لئے اصلی مسیح علیہ السلام کی حیات کا انکار کردیا ،علمائے اسلام نے قرآن پاک کی کئی آیات اوراحادیث مشہورہ سے حیات مسیح کو ثابت کردیا جس کا جواب مرزا قادیانی کے پاس کوئی نہیں تھا اب اسے فکر ہوئی کہ یہ آیات اوراحادیث پڑھ کر لوگ میرے عقیدہ سے برگشتہ بھی ہوجائیں گے اورمجھے  قرآن اوراحادیث کا منکر بھی کہیں گے  اس کے بعد عام مسلمان میری بات بھی نہیں سنیں گے، اس نے سوچا کہ جس حربے  میں پہلے کفار نے معجزات کی عظمت کو کم کیا تھا  اورفرمائشی معجزہ نہ دکھائے جانے پر شور مچادیا تھا کہ کوئی معجزہ ہوا ہی نہیں میں بھی کوئی فرمائشی دلیل مانگ لوں  اور فرمائش پوری نہ ہونے پر یہی شور مچادوں گا  کہ قرآن وحدیث میں حیات مسیح پر سرے سے کوئی دلیل ہے ہی نہیں چنانچہ ایک عبارت اس نے خود بنائی کہ اگر کوئی شخص قرآن یا ایک ہی حدیث صحیح  میں یہ الفاظ دکھادے کہ عیسی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے،جس میں آسمان کا لفظ ہوتو  میں ہزار روپیہ انعام دوں گا وغیرہ،یہ چیلنج شائع ہونا تھا کہ مرزائیوں نے آسمان سرپر اٹھالیا کے مسلمانوں کے پاس قرآن وحدیث کی کوئی دلیل نہیں  مسلمان دلائل بیان کرنے لگتے توشور مچاتے کہ یہ الفاظ جن کا مطالبہ مرزا صاحب نے کیا ہے دکھادو اورایک ہزار روپیہ انعام لےلو اس دھوکے میں کتنے مرزائی مبتلا ہوگئے مرزا قادیانی نے جن آیات اوراحادیث متواترہ کا انکار کیاتھا وہ بات بھی دبادی کہ بس اورآیتوں حدیثوں کی ضرورت نہیں بس یہ الفاظ جن کا مطالبہ مرزا نے کیا ہے دکھادو۔
ملکہ وکٹوریہ کی نظر کرم سے ہندوستان میں فرقہ غیرمقلدین کا ظہور ہوا انہوں نے تقریر وتحریر کےذریعے عوام میں یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ ہمارا ہر ہر مسئلہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے اورحنفیوں کےمسائل قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ، جب میدان مناظرہ میں اترے تومعاملہ بالکل برعکس نظر آیا کہ اہل سنت والجماعت احناف توقرآن وحدیث سے دلائل پیش کرتے ہیں اور غیر مقلدوں کا دامن خالی ہے ،مثلاً اہل سنت قرآن وحدیث سے فقہ کی عظمت ثابت کرتے اور غیرمقلدین فقہ کی مذمت میں نہ قرآن سناتے نہ حدیث ،مسلمان اجماع کا حجت ہونا قرآن وحدیث سے ثابت کرتے یہ ایک آیت یا ایک حدیث بھی پیش نہ کرسکتے کہ امت کااجماع گمراہی پر ہوسکتا ہے اہل سنت قرآن وحدیث سے اجتہاد کا جواز ثابت کرتے یہ ایک آیت یا حدیث بھی پیش نہ کرسکتے کہ اجتہاد کرنا شیطان کاکام ہے،اہل سنت فقیہ ومجتہد کی طرف رجوع (تقلید)کا ثبوت قرآن وحدیث سے پش کرتے یہ اجتہادی  مسائل میں مجتہد کی تقلید کا شرک اورحرام ہونا نہ کسی آیت سے ثابت کرسکتے نہ کسی حدیث سے ،اہل سنت احادیث صحیحہ سے ثابت کرتے کہ مجتہد اپنے ہر اجتہاد میں ماجور ہوتا ہے لیکن یہ مجتہدین کےخلاف بدگمانی پھیلانے اوربدزبانی کرنے کاجواز نہ کسی آیت سے دکھاسکتے نہ حدیث سے ۔
چنانچہ کفار اورمرزا قادیانی کے تجربہ سے استفادہ کرتے ہوئےغیرمقلدین نے اشتہارات کا سہارا لیا،اورجس وقت جنگ آزادی کی سزا میں مسلمان کالے پانی یاملک کی جیلوں میں قید تھے، مقدمات چل رہے تھے،  پھانسیوں کے حکم سنائے جارہے تھے اورمسلمانوں میں اتحاد واتفاق کی سخت ضرورت تھی ،ایک انعامی چیلنج کا اشتہار نہ انگریزوں کے خلاف  نہ ہندؤوں کے خلاف نہ سکھوں کے خلاف بلکہ حنفیوں کے خلاف شائع کیا،دس سوالات کا انعامی چیلنج پورے ملک میں پھیلایا ہر گھر اورہر مسجد میں لڑائی شروع کرادی اب اگر علماء اہل سنت اپنے مسائل کے دلائل پر قرآن وحدیث سناتے توان کو بالکل نہ مانتے کہ ان آیات واحادیث میں ہمارے الفاظ نہیں ۔
مناظروں میں پے درپے شکست اورعدالت میں شدید ناکامی کےبعد ان کے بعض ذمہ دار لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے،امام احمد ؒنے فرمایا تھا کہ ہم نے اہل اسلا میں سے کسی کو نہیں سنا جو یہ کہتا ہو کہ جب امام جہر سے قرأ ت کرتا ہے اور مقتدی اس کے پیچھے قرات نہ کرے تومقتدی کی نماز باطل اورفاسد ہوجاتی ہے اور فرمایا کہ یہ آنحضرتﷺ ہیں اوریہ آپﷺ کے صحابہ اور تابعین ہیں اوریہ امام مالک ہیں اہل حجاز میں اوریہ امام ثوری ہیں اہل عراق میں اور یہ امام اوزاعی ہیں اہل شام میں اور یہ امام لیث بن سعد ہیں اہل مصر میں ان میں سے کسی نے یہ نہیں لکھا کہ جب کوئی شخص نماز پڑھے اوراس کا امام جہر قرات کرے اورمقتدی خود قرات نہ کرے تواس کی نماز باطل اورفاسد ہے (مغنی ابن قدامہ۱:۶۰۶) اب یہ فرقہ بھی ان ذلت آمیز شکستوں کے بعد اس پر آگیا چنانچہ ان کے محدث اعظم مولوی محمد گوندلوی اوران کے ذمہ دار شاگرد مولوی ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں امام بخاری سے لےکر تمام محققین علمائے اہل حدیث میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو فاتحہ نہ پڑھے وہ بے نماز ہے کافرہے
(توضیح الکلام۱:۵۱۷)
جب اس جماعت کےمحقق اور ذمہ دار حضرات نے ہھتیار ڈال دئے ہیں توان غیر محقق اور غیر ذمہ دار حضرات کو بھی اب یہ اشتعال انگیز کام ختم کردینا چاہئے تھا