ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪﮐﺴﯽ ﻓﺮﻗﮯ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﺰﻟﯿﻞ ﯾﺎﺍ ِﻧﮩﯿﮟ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﻡ ؒ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔
Saturday, 16 September 2023
Thursday, 7 September 2023
Wednesday, 30 August 2023
پتھروں سے استنجاء کرنا اور فقہ حنفی پر اعتراض کا جواب
پتھروں سے استنجاء کرنا۔۔
غیر مقلد فاروق الرحمٰن یزدانی صاحب کہتے ہیں
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کرنے کا طریقہ ۔بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ
ترجمہ
حضرت سلمان نے فرمایا کہ ہم کو آپ ﷺ نے پیشاب و پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے یا ہم استنجا کریں تین سے کم پتھروں کے ساتھ یا گوبر یا ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرمایا۔
صحیح مسلم۔ 606
غیر مقلد صاحب اس حدیث کو نقل کرکے بیان کرتے ہیں حدیث پیغمبر ﷺ کس قدر واضح ہے۔مگر فقہ حنفی اُسے نہیں مانتی۔ چناچہ فقہ حنفیہ فرماتے ہیں ۔وليس فيه عدد مسنون یعنی پتھروں کی تعداد کوئی مسنون نہیں ہے بلکہ اگر کوئی چاہئے تو ایک بھی استعمال کر سکتا ہے۔ ہدایہ ج ۱ صفحہ ۷۴
غیر مقلد عالم صاحب آگے تحریر فرماتے ہیں کہ ۔قارئین آپ یہ نہ سمجھیں کے شاید احناف کو حدیث کا پتہ نہیں چلا ۔۔ 📚احناف کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف صفحہ ۲۶۲ اہل حدیث ۔
الجواب قارئین کرام غیر مقلد ایک ایسا واحد فرقہ ہے جو اپنی تحقیق سے جاھل بنا ہے۔۔
الحمدللہ عزوجل احناف کے پاس استنجاء کے استعمال
کے ایک پتھر کی دلیل ہے ۔ بُخاری شریف میں ہے
جی ہاں یہ وہی بُخاری ہے جیسے پڑھ کے غیر مقلد کو بخار تو آگیا لیکِن بُخاری نہیں آئی۔۔
چناچہ حدیث نقل کرتا ہوں۔۔
ابوہریرہ ؓ سے سنا، وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد (یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی) سے کرے۔صحیح بخاری161
لیجئے صحیح حدیث آگئی اب۔ امام ابو حنیفہ رح کے پاس صحیح حدیث موجود ہے۔۔۔
لیکن مسئلہ غیر مقلد کا بگڑ گیا امام بُخاری رح نے
صحیح مسلم کے اور غیر مقلد خلاف روایت بیان کردی کیا غیر مقلد بُخاری شریف کو چھوڑے گا?
غیر مقلد کہتے ہیں کہ تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہیں ہوتا ۔ حدیث ملاحظہ ہو۔
دوسری حدیث
جامع ترمذی
کتاب: طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
باب: دو پتھروں سے استنجا کرنا
حدیث نمبر: 17
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ ناپاک ہے
لیجئے خود نبی کریم ﷺ نے دو پتھروں سے بھی استنجاء کر کے بتا دیا ۔ اگر تین پتھروں سے ہی سنّت ہوتا۔۔ تو نبی ﷺ حضرت ابن مسعود رض سے فرماتے
ایک ڈھیلا اور ڈھونڈ کر لاؤ۔ دو ڈھیلے سے استنجاء نہیں ہوتا۔ہے۔ تیسری حدیث
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی پتھر بڑا ہو اور اس کے مختلف کنارے ہوں تو اس کے دوسرے کنارے سے استنجاء کرنا جائز ہے۔ابن ابی شیبہ 1668
غور کریں یہاں بھی ایک پتھر کا ذکر ہے۔ امام ابو حنیفہ رح قول کی اس حدیث سے تائید ہوتی ہے۔
۔۔۔
سلمہ بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو سنن نسائی 43
غیر مقلدوں امام ابو حنیفہ رح سے بغض چھوڑ دو۔
آخرت برباد نہ کرو۔۔ کیوں کے امام اعظم ابو حنیفہ رح کا کُچھ نہیں بگڑ تُم لوگو سے ۔
خود اہل حدیث کے عالم ابوصہیب محمد داؤد ارشد لکھتے ہیں
حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے زہد، ورع، تقوی، تقدس، طہارت، آخرت کے مرتبہ اور ثواب ودرجات میں کسی طرح کا نقصان نہیں آسکتا۔"
اہل حدیث اور اہل تقلیدص 82۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُتّے کے جھوٹے برتن کو پاک کرنے کے لئے سات بار دھونے کے لیے فرمایا ہے
غیر مقلد کہتے ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُتّے کے جھوٹے برتن کو پاک کرنے کے لئے سات بار دھونے کے لیے فرمایا ہے۔
مگر احناف حنفی کہتے ہیں نہیں تین بار دھو لو تب بھی پاک ہو جائے گا ۔۔ جواب۔
حدیث میں
ہے کہ
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا کتوں کے بارے میں یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو آدمی اسے تین مرتبہ (شاید یہ الفاظ ہیں:) پانچ مرتبہ یا شاید (یہ الفاظ ہیں:) سات مرتبہ دھولے۔سنن دار قطنی189
غور کریں ۔
الفاظ (۳) بار دھونے کے بھی ہیں (۵) بار دھونے کے بھی ہیں (۷) مرتبہ دھونے کے بھی ہیں۔
بُخاری شریف میں ہے
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے (کچھ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھو لو (تو پاک ہوجائے گا) ۔
صحیح بخاری172
دیکھیں حضرت ابو ہریرہ رض یہاں پر صرف سات مرتبہ دھونے کا ذکر کیا ہے۔۔
جب کے آپ نے تین بار اور پانچ بار اور سات بار دھونے کا بھی ذکر کیا ہے۔۔۔۔۔۔
دوسری روایت۔
حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ جب اس میں کتا منہ ڈال جائے یہ ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ
صحیح مسلم 651۔
یہاں صحابی رسول حضرت ابو ہریرہ رض نے سات بار دھونے سے پہلے ۔ایک بار مٹّی سے دھونے کا بھی ذکر کیا ہے۔۔ الغرض اب آٹھویں بار ہوا۔۔۔۔۔
تیسری روایت۔۔
حضرت عبداللہ، ابن مغفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا پھر فرمایا ان لوگوں کو کیا ضرورت ہے اور کیا حال ہے کتوں کا، پھر شکاری کتے اور بکریوں کی نگرانی کے لئے کتے کی اجازت دے دی اور فرمایا جب کتابرتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ اس کو مانجھو۔صحیح مسلم 653
غور کریں ۔ حضرت ابو ہریرہ رض کی روایت میں پہلی بار مٹّی سے دھونے کا ذکر ہے۔
اور حضرت عبداللہ، ابن مغفل کی روایت میں سات کے
بار یعنی آٹھویں مرتبہ مٹّی سے دھونے کا ذکر ہے۔
جب کے دونوں حدیث صحیح مسلم کی ہیں دونوں صحیح ہیں۔ کیا کوئی غیر مقلد بتا سکتا ہے۔
وُہ پہلی مرتبہ مٹّی سے دھوتا ہے یہ پھر ساتویں بار کے بعد آٹھویں بار میں مٹّی سے دھوتا ہے ?
اگر آٹھویں بار میں دھوتا ہے۔ پھر تو پہلی مرتبہ مٹّی سے دھونے والی حدیث کی مخالفت کر بیٹھا ۔اور اگر
پہلی مرتبہ مٹّی سے دھوتا ہے تو آٹھویں مرتبہ مٹّی سے دھونے والی حدیث کی مخالفت کر بیٹھا ۔
اور اگر صحیح بخاری172 مطابق صرف سات بار دھوتا ہے۔ تو غیر مقلد مسلم شریف کی دونوں حدیثوں کی مخالفت کر بیٹھا۔۔
اور اگر بُخاری شریف کی سات مرتبہ دھونے والی پر۔عمل کرتا ہے ۔سنن دار قطنی189
والی حدیث کی مخالفت کر بیٹھا ۔ جس میں تین اور پانچ اور سات کا ذکر ہے یعنی سات مرتبہ دھونے پر عمل کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول
(۳) بار دھونے کے بھی ہیں (۵) بار دھونے کے بھی ہیں (۷) مرتبہ دھونے کے بھی ہیں۔
تو غیر مقلد ( تین پانچ ) کے مخالفت کر بیٹھا ۔
سب سے پہلے تو ایک بات غیر مقلد کو یاد دلاتا چلتا ہوں۔۔ غیر مقلدین کے عالم حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی صاحب کہتے ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ۔
صحابہ کرام نے براہِ راست رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم حاصل کی تھی ۔وہ نزول وحی کے شاہد اوّل تھے اُن کی ایمانی اور روحانی تربیت میں اطاعت کا جذبہ پوری طرح ودلعیت رکھا گیا تھا لہٰذا یہ تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ایک صحابی بھی۔اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مخرف ہوا اور اُس نے کتاب و سنت کے مقابلہ میں اپنی راۓ يا اپنے سے کسی بڑے صحابی کی رائے کو ترجیح دی ہو۔ 📚 کتاب احناف کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف صفحہ 29 اہل حدیث ۔۔۔
قارئین کرام آپ کو علم ہو گیا ہوگا صحابہ کرام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنی راۓ کو ترجیح نہیں دیتے تھے جیسا کے غیر مقلد عالم صاحب ابھی بیان کر چکے ہیں۔
رہا اب سوال کُتّے کے جھوٹے کو تین بار دھونے کا۔
تو حضرت ابو ہریرہ رض کا اس پر کیا فتویٰ ہے۔
چناچہ ملاحظہ کریں ۔۔۔۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: اگر کوئی کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو آدمی اس میں موجود پانی کو بہا دے اور اس برتن کو تین مرتبہ دھولے۔سنن دار قطنی 193 حضرت ابو ہریرہ رض نے تعلیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی تھی۔
اوپر آپ حدیث پڑھ کے بھی آئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کُتّے کے جھوٹے کو پاک کرنے کے لیے
تین مرتبہ دھونے کا بھی ارشاد فرمایا ہے اور اس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رض ہی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رض شاگرد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابو ہریرہ رض کا کُتّے کے جھوٹے برتن کو دھونے کا فتویٰ تین بار دھونے کا ہے
امام ابو حنیفہ رح۔ صحابہ کرام کے شاگرد ہیں
تو اُنہونے بھی یہی فتویٰ نقل فرمایا ہے تین بار دھونے کا۔۔ لیکِن غیر مقلد انگریز سرکار سے Allot.
ہوئے لوگ صرف امام ابو حنیفہ رح پر ہی بھونکتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ ساتھ امام مالکؒ کا فتوی بھی تین مرتبہ دھونے کا ہی ہے جس کا اعتراف فتاوی علمائے حدیث میں موجود ہے۔فتاوی علمائے حدیث،1/25 ۔۔
ہمت کریں اور ذرا اپنی زبانوں کو یہاں کھولیں۔۔۔
Saturday, 26 August 2023
فقہ حنفی پر غیر مقلدین کو جواب
غیر مقلد کا اعتراض ۔
سب سے پہلے احناف کا موقف رکھتا ہوں آپ کے سامنے
مسجد میں بلا ضرورت جنازہ کی نماز پڑھنا مکروہ ہے مرغوب الادلۃ۔جلد 4 صفحہ 117
غیر مقلد کی دلیل
حدیث پاک:- نبی کریم ﷺ نے بیضاء کے لڑکے سہیل رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھایا۔
(صحیح مسلم/ ترمذی)
غیر مقلد اس حدیث کو دلیل بنا کر احناف کے بارے میں کہتا ہے
یاد رہے۔ ان کے یہاں مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے (علم الفقہ ص۳۴۹ / در مختار کشف الاسرار/ الحمایۃ شرح شرح وقایہ)
غیر مقلد نے لکھا ہے احناف کا رسول ﷺ سے اختلاف۔
الجواب یاد رہے اس موقف میں امام اعظم ابو حنیفہ ؒ اکیلے نہیں ہیں
چناچہ امام ترمذی رح کہتے ہیں کہ امام شافعی رح کا بیان ہے کہ مالک رح کہتے ہیں: میت پر نماز جنازہ مسجد میں نہیں پڑھی جائے گی، ترمذی شریف 1033
امام مالک ؒ فرماتے ہیں میں جنازہ کے مسجد میں رکھے جانے کو مکروہ سمجھتا ہوں ہاں اگر نماز جنازہ کے لیے مسجد کے قریب جنازہ رکھا جائے تو پھر اس شخص کے لیے نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جو مسجد میں ہو اور نماز جنازہ پڑھانے والے امام کی اتباع میں نماز جنازہ پڑھے یہ بھی اُس وقت ہے مسجد کے باہر کی جگہ جنازہ پڑھنے والوں کی وجہ سے تنگ ہو جائے📚 مرغوب الادلۃ جلد 4 صفحہ 118 امام محمد رح کہتے ہیں ۔مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ ہمیں ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت پہنچی ہے۔ جنازگاہ مدینہ میں مسجد سے الگ تھی۔ اور یہ وہی جگہ تھی جہاں آپ ﷺ جنازہ پڑھاتے تھے۔موطا امام محمد 312 امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں آپ ﷺ کی سنّت اور آپ ﷺ کا طریقہ نماز جنازہ مسجد سے باہر پڑھنا ہے 📚مرغوب الادلۃ جلد 4 صفحہ 118
حضرات ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی ‘ اسی دن جس دن ان کا انتقال ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے اللہ سے مغفرت چاہو۔
اور ابن شہاب سے یوں بھی روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے عیدگاہ میں صف بندی کرائی پھر صحیح بخاری 1327 یہاں غور کریں نبی ﷺ نماز کے لیے مسجد کے بجائے عید گاہ تشریف لے گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا یہود نبی کریم ﷺ کے حضور میں اپنے ہم مذہب ایک مرد اور عورت کا، جنہوں نے زنا کیا تھا، مقدمہ لے کر آئے۔ نبی کریم ﷺ کے حکم سے مسجد کے نزدیک نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس انہیں سنگسار کردیا گیا۔
صحیح بخاری 1329 معلوم ہوا نماز جنازہ کی جگہ مسجد سے باہر تھی۔
نوٹ۔۔۔۔ ایک بات کا خیال رکھے غیر مقلد نے یہ بھی کہا تھا
صاحب ھدایہ نے دیکھا کہ مسجد میں نماز نہ پڑھنے کے سلسلے میں کوئی روایت نہیں ہے اس طرح تو ہماری بے عزتی ہو جائے گی چلو ایک کام کرتے ہیں ایک حدیث گڑھ دیتے ہیں
چنانچہ صاحب ھدایہ اپنا باطل کمال دکھاتے ہوئے لکھتے ہیں: لقول النبي ﷺ من صلى على جنازة فى المسجد فلا أجر له (یہ حدیث دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے)
لو جی نماز جنازہ مسجد میں پڑھوگے تو اس کو نیکی نہیں ملیگی۔ ایک قیراط سے صفر پر آ جاؤگے الجواب یہ گڑھی ہوئی بات نہیں ہے چناچہ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ اجر نہیں۔ سنن ابن ماجہ 1517
Thursday, 10 August 2023
𝗙𝗔𝗝𝗥 𝗞𝗘 𝟮 𝗥𝗔𝗞𝗔𝗧 𝗦𝗨𝗡𝗡𝗔𝗧 𝗡𝗔𝗠𝗔𝗭𝗢𝗡 𝗞𝗔 𝗡𝗔𝗕𝗜 𝗞𝗔 𝗛𝗨𝗞𝗨𝗠 𝗔𝗨𝗥 𝗦𝗔𝗛𝗔𝗕𝗔 𝗘 𝗜𝗞𝗥𝗔𝗔𝗠 𝗞𝗔 𝗔𝗠𝗔𝗟
𝗙𝗔𝗝𝗥 𝗞𝗘 𝟮 𝗥𝗔𝗞𝗔𝗧 𝗦𝗨𝗡𝗡𝗔𝗧 𝗡𝗔𝗠𝗔𝗭𝗢𝗡 𝗞𝗔 𝗡𝗔𝗕𝗜 𝗞𝗔 𝗛𝗨𝗞𝗨𝗠 𝗔𝗨𝗥 𝗦𝗔𝗛𝗔𝗕𝗔 𝗘 𝗜𝗞𝗥𝗔𝗔𝗠 𝗞𝗔 𝗔𝗠𝗔𝗟
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
صحابہ کرام کا عمل ہے کہ اگر سنت سے لیٹ ہوجاتے تھے تو جلدی سے سنت پہلے پڑھ لیتے تھے اب دیکھا جائے تو ہم صحابہ کے عمل کو چھوڑ کر آل وکٹوریہ کے فہم کو نہیں پکڑ سکتے
1)Hazrat Ayesha Rz.a. Farmati Hai Ki Rasoolullah Sallallahu Alayhi Wasallam Kisi Nafl Ki Itni Pabandi Nahi Farmate The Jitni Fajr Ki 2 Rak’ato Ki Karte The.【Sahih Bukhari Jild 1 Page 158, Sahih Muslim Jild 1 Page 251】
2) Hazrat Abu Hurairah Rz.a. Se Marwi Hai Ke Rasoolullah Sallallahu Alayhi Wasallam Ne Farmaya Ki Fajr Ki 2 Rak’at Ko Na Chhodo Khwah Tumhe Ghode Raund Daalein.【Sunan Abi Dawood Jild 1 Page 186, Sharah Mu’aaniul Aasaar Jild 1 Page 209】
3)Abdullah Bin Abi Musa Farmate Hain Ke Hazrat Abdullah Bin Masood Rz.a. Hamare Paas Tashreef Laye Jabki Imam Namaz Padha Raha Tha, To Aap Ne Satoon (Pillar) Ki Oat ()Mein 2 Rak’at Padhi, Aap Ne Fajr Ki Sunnate Nahi Padhi Thi.【Musannaf Abdul Razzaq Jild 2 Page 294】
4) Hazrat Abu Darda Rz.a. Se Riwayat Hai Ki Aap Farmaya Karte The Ki Haan Allah KiQasam Agar Main Ase Waqt Mein (Masjid Mein) Dakhil Hon Jabke Log Jamat Mein Hon To Main Masjid Ke Satoono Mein Se Kisi Satoon Ke Peechhe Ja Kar Fajr Ki 2 Rak’at Ada Karunga, Un Ko Kaamil Tareeqe Se Ada Karunga, Aur Unko Kaamil Karne Mein Jaldi Na Karunga, Phir Jaa Kar Logo Ke Sath Namaz Mein Shamil Ho Jaunga.【Musannaf Abdul Razzaq Jild 2 Page 294】
5) Hazrat Abdullah Ibn Umar Rz.a. Ke Baare Mein Marwi Hai Ke:-Aap Ek Baar Aaye Jab Ke Log Namaz Mein The, To Aapne Masjid Ke Ek Kone (Corner) Mein 2 Rak’ate Padhi (Phir Jamat Mein ShamilHue) Phir Dusri Martaba Aaye Aur Unke Sath Jamat Mein Shareek Ho Gaye Aur 2 Rak’ate Na Padhi.【Musannaf Ibn Abi Shaiba Jild 4 Page 393-394】
6) Hazrat Hasan Basri Rh.a. Farmate Hain Ki Jab Tum Masjid Mein Aise Waqt Mein Dakhil Ho Ki Imam Namaz Mein Ho Aur Tumne Fajr Ki Sunnate Na Padhi Hon To Pehle Sunnate Padho, Phir Imam Ke Sath Shareek Ho Jao.【Musannaf Abdul Razzaq Jild 2 Page 295】
Monday, 30 January 2023
Monday, 16 January 2023
Fiqa Hanafi ke masail ko sex kehne walo ko jawab
MEETHA SHARMEELA AAL-E-HADEES NADEEM (from MUMBAI)
Aal-e-Hadees FIQH HANAFI se Logon ko NAFRAT dilaane ke liye mukhtalif TAREEQE apnaate hain..
(1):.. Aal-e-Hadees, Fiqh Hanafi se Aise Masaa'il pesh karte hain Jis ko sun kar Kisi Insaan ko SHARM mahsoos hoti ho. Phir in Masaa'il ko GANDE MASAA'IL aur KAMASUTRA ke alqaab se nawaazte hain.
JAWAAB:
Aise Masaail Jin me SHARM mahsoos hoti ho is baare me Rasoolallah (sallallahu alaihi wa sallam) ne Hamaari rahnumaayi farmaayi hai...
Khuzaymah bin Saabit (raziallahu anhu) ne farmaaya ke, Rasoolallah (sallallahu alaihi wa sallam) ne farmaaya: BESHAKK, ALLAH HAQQ BAAT KAHNE SE NAHI SHARMAATA aur Ye 3 martabah farmaaya aur kaha: AURTO'N KI DUBAR ME SOHBAT MAT KARO.
حدثنا احمد بن عبدة ، انبانا عبد الواحد بن زياد ، عن حجاج بن ارطاة ، عن عمرو بن شعيب ، عن عبد الله بن هرمي ، عن خزيمة بن ثابت ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن الله لا يستحيي من الحق ثلاث مرات لا تاتوا النساء في ادبارهن".
[Sunan Ibn Maajah, Hadees no. 1924]
Doosri Sanado'n se bhi Ye Hadees marwi hai...
Ummul Mu'mineen, Umm-e-Salamah (raziallahu anha) se riwaayat hai ke wo farmaati hain: Umm-e-Sulaym (raziallahu anha), Nabi (sallallahu alaihi wa sallam) ki Khidmat me haazir hui'n aur arz kiya keh, Ya Rasoolallah (sallallahu alaihi wa sallam)! ALLAH HAQQ BAAT KAHNE SE NAHI SHARMAATA, KYA AHTELAAM SE AURAT PER BHI GHUSL ZAROORI HAI..? Nabi (sallallahu alaihi wa sallam) ne farmaaya: (HAAN) JAB PAANI DEKH LE (Ya'ni Kapde wagherah per Mani ka asar dekh le).
To Umm-e-salamah (raziallahu anha) ne APNA CHAHRAH CHHUPA LIYA (sharm ki wajah se) aur poocha: YA RASOOLALLAH (sallallahu alaihi wa sallam)! KYA AURAT KO BHI AHTELAAM HOTA HAI..?
To farmaaya: HAAN! TERA DAAHINA HAATH KHAAK AALOOD (mitti me mila hua) HO, PHIR KYON US KA BACHHA US KE MUSHAABE PAIDA HOTA HAI..?
حدثنا محمد بن سلام، قال: اخبرنا ابو معاوية، قال: حدثنا هشام، عن ابيه، عن زينب ابنة ام سلمة، عن ام سلمة، قالت: جاءت ام سليم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله،" إن الله لا يستحيي من الحق، فهل على المراة من غسل إذا احتلمت؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: إذا رات الماء، فغطت ام سلمة تعني وجهها، وقالت: يا رسول الله، اوتحتلم المراة؟ قال: نعم، تربت يمينك فبم يشبهها ولدها".
[Saheeh Bukhaari, Hadees no. 130]
In do Ahaadees se Ye baat saabit ho gayi ke Jo Masaa'il SHARM waale ma'loom hote hain un me Sharmaana nahi Chaahye balke Khul kar poochne se hi Un ka hal ma'loom hoga aur Aap Yaha'n dekh sakte hain ke Anas (raziallahu anhu) ki waalidah Umm-e-Sulaym (raziallahu anha) Jo ek Aurat ho kar bhi Nabi (sallallahu alaihi wa sallam) se Ye Mas'la pooch rahi hain...
Aur Ba'z Mard Sahaaba aise bhi the ke Nabi (sallallahu alaihi wa sallam) se Koi Mas'la poochne sharmaate the to Kisi doosre ke zarye' se poochte...
Lihaaza, FIQH HANAFI me agar aise Masaa'il hain Jis me SHARM mahsoos hoti ho to is me Koi harj nahi hai.. Kaafir aur Munkireen-e-Hadees bhi to Ahaadees ki Kutab se Sharmeele Masaa'il bayaan kar ke AHAADEES ka Mazaaq banaate hain...
..................................
(2):.. Aal-e-Hadees, FIQH HANAFI se Jo Masaa'il pesh karte hain, Un ke baare me Hanafiyo'n se kahte hain ke is Mas'la per AMAL kar ke dikhaao...
JAWAAB:
Sab se pehle Ye baat Jaan lete hain ke, MAS'LA ka ma'na hota hai SAWAAL Ya kahiye, DEENI/DUNYAWI CHEEZO'N KE MUT'ALLIQ HAR WO BAAT JIS KE BAARE ME SAWAAL KIYA JAAYE...
Ek hota hai SAWAAL aur ek hota hai JAWAAB...
Humein JAWAAB per AMAL karna hai Ya JAWAAB ko Tasleem karna hai laikin Aal-e-Hadees Aap ki Yu'n PHIRKI leta hai ke, Aap se SAWAAL PER AMAL KARNE KA MUTALBAH KARTA HAI...
Maslan:
Abdullah bin Abbas (raziallahu anhu) ne ek Mas'la batlaaya: AGAR KOI JAANWAR SE BADKAARI KARE, US PER KOI HADD NAHI HAI..
حدثنا احمد بن يونس، ان شريكا، وابا الاحوص، وابا بكر بن عياش، حدثوهم عن عاصم، عن ابي رزين، عن ابن عباس، قال:" ليس على الذي ياتي البهيمة حد
[Sunan Abu Dawood, Hadees no. 4465]
Is me SAWAAL Ye hai ke, AGAR KOI JAANWAR KE SAATH SOHBAT KARE TO US PER ZINA KI HADD LAGEGI YA NAHI LAGEGI...?
To JAWAAB hai ke, HADD NAHI LAGEGI...
Ab Koi Aal-e-Hadees Ye kahega ke, Abdullah bin Abbas (raziallahu anhu) to Logo'n ko JANWAR SE BADKAARI karne per ubhaar rahe hain. (Naoozu billah min zaalik)
Ya Phir Koi MUNKIR-E-HADEES pooch le ke, Is Hadees per AMAL kar ke dikhaao to Kitne Aal-e-Hadees Tyayaar honge ke JAANWAR SE BADKAARI karein...?
Humei'n to JAWAAB se matlab hai ke, HADD NAHI LAGEGI aur Hum is JAWAAB ko Tasleem kar lenge...
Chalo ek aur MAS'LA pesh karte hain...
Abdullah bin Abbas (raziallahu anhu) ne farmaaya: AGAR KOI APNI SAALI SE ZINA KARE TO US KI BIWI US PER HARAAM NA HOGI
وقال عكرمة: عن ابن عباس: إذا زنى باخت امراته، لم تحرم عليه امراته
Abdullah bin Abbas (raziallahu anhu) ne farmaaya: AGAR KISI NE APNI SAAS SE ZINA KIYA TO US KI BIWI US PER HARAAM NA HOGI aur Abu Nasr ne Ibn Abbas (raziallahu anhu) se riwaayat ki hai ke, BIWI HARAAM HO JAAYEGI aur Ye nahi ma'loom ke Abu Nasr ne Ibn Abbas (raziallahu anhu) see suna hai ya nahi aur Imran bin Hussain, Jabir bin Zayd, Hasan Basri aur Ba'z Ahl-e-Iraq (rahimahumullah) se ye marwi hai ke, BIWI HARAAM HO JAAYEGI...
وقال عكرمة: عن ابن عباس: إذا زنى بها لم تحرم عليه امراته، ويذكر عن ابي نصر، ان ابن عباس حرمه، وابو نصر هذا لم يعرف بسماعه من ابن عباس، ويروى عن عمران بن حصين، وجابر بن زيد، والحسن، وبعض اهل العراق تحرم عليه
[Saheeh Bukhaari, Hadees no. 5105]
Yaha'n MAS'LA hai, AGAR KOI APNI SAAS/SAALI SE ZINA KARE TO BIWI HARAAM HOGI YA NAHI HOGI..?
Aur Ibn Abbas (raziallahu anhu) se dono tarah riwaayat hai ke HARAAM HOGI Jaisa ke Hanafi is ko maante hain aur HARAAM NAHI HOGI Jaisa ke Aal-e-Hadees is ko maante hain...
Ab Koi Aal-e-Hadees se kahe ke BIWI ke bhi MAZE aur saath me SAAS/SAALI ke bhi maze, Tumhaari to 5 Ungliya'n GHEE me hai to Kaisa rahega...?
Kya Aal-e-Hadees, Apni BIWI ke saath saath SAAS/SAALI ke maze bhi lete hain..?
Choonke Ye Aal-e-Hadees ki FIQH ka Mas'la hai to wo ab MAS'LA per AMAL ki baat nahi karega balke MAS'LA KE JAWAAB per AMAL ki baat karega...
Laikin agar FIQH HANAFI me is tarah ka Koi Mas'la aa Jaaye to Aal-e-Hadees JAWAAB ko Chhod kar MAS'LA per AMAL karne ke liye kahega...
.................................
(3):.. Aal-e-Hadees, Mas'la ko Khaas karega Ya'ni Mukhaalif ki Maa/Bahan/Saas wagherah per fit karega aur un ki Ye Chaal isliye hoti hai ke Mukhaalif ko Ahsaas dilaaya Jaaya ke Ye Mas'la itna ganda hai ke Tu Apni Maa/Bahan per bardasht nahi kar sakta to Kyon FIQH HANAFI me bayaan kar rakha hai...
JAWAAB:
Masaa'il ko UMOOMI rakhne me Kisi ko TAKLEEF nahi hoti laikin Jab is ko KHAAS kar diya Jaaye to zaroor Takleef hoti hai...
Jaise Koi kahe ke, Allah ne Tamaam Makhlooqaat ko Paida kiya hai. Ye Kalaam Aam hai aur is me Koi Qabahat mahsoos nahi hoti...
Laikin Agar Koi is Kalaam ko Khaas kare aur Yu'n kahe ke, AALA TANASUL KA KHAALIQ, AURAT KI SHARMGAAH KA KHAALIQ, KHINZEER KA KHAALIQ ALLAH HAI (Ma'z Allah) to Ye Kalaam Be-Adabi aur Gustakhana Kalaam hai haalaanke Ye sab Haqeeqat hai...
Laikin Aal-e-Hadees, Ye karega ke in Masaa'il ko Aap ki Maa/Bahan wagherah se Khaas karega Chaahe Haqeeqat me aisa na ho aur is tarah Aap ko in Masaa'il se NAFRAT dilaane ki Koshish karega...
..................................
Dekhye Hamaara AQEEDAH hai ke DEEN USOOLAN MUKAMMAL HAI matlab Ye hai ke Qur'an wa Hadees me Ba'z Masaa'il to aise hain Jin ko sirahatan bayaan kar diya hai aur Ba'z Masaa'il to sirey se maujood hi nahi hain Laikin Jo Masaa'il maujood hain wo Hamaare liye USOOL (rule) ki haisiyat rakhte hain. Ba'z maujood Masaa'il se hi Hum USOOL akhz kar ke Naye Masaa'il ka hal nikaal sakte hain...
Jab DEEN MUKAMMAL hai to is me Har Achhe Mas'la ka hal bhi hai, Gande Mas'la ka hal bhi hai...
BUKHARI ki ek Hadees se ma'loom hota hai ke, Salman Farsi (raziallahu anhu) is baat per Fakhr karte the ke, Nabi (sallallahu alaihi wa sallam) Humein PAKHANA/PESHAB ke Masaa'il bhi batlaate the...
To Jo Cheez Hamaare liye FAKHR ka Baa'is honi Chaahye thi Us ko Aal-e-Hadees HIQAARAT ka baa'is banaane me lage hue hain....
Monday, 19 December 2022
Friday, 4 June 2021
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق
عن ابی ایوب الانصاری رضی الله عنه، ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان، ثم اتبعه ستا من شوال كان كصیام الدهر
(رواه مسلم ، كتاب الصیام ، رقم الحدیث 1164)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی مانند ہے۔‘‘
فوائد الحسنة بعشر امثالها (ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہے) کے مطابق ایک مہینے (رمضان) کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں، اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھ لئے جائیں جنھیں شش عید روزے کہا جاتا ہے تو یہ دو مہینے کے برابر ہوگئے یوں گویا پورے سال کے روزوں کا مستحق ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے پورے سال کے روزے رکھے اور جس کا یہ مستقل معمول ہوجائے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری وہ اللہ کے ہاں ہمیشہ روزہ رکھنے والا شمار ہوگا۔
اس اعتبار سے یہ شش عید روزے بڑی اہمیت رکھتے ہیں گو ان کی حیثیت نفلی روزوں ہی کی ہے۔ یہ روزے متواتر رکھ لیے جائیں یا ناغہ کرکے، دونوں طرح جائز ہیں، تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے رمضان کے فرضی روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں، ان کیلئے ضروری ہے کہ پہلے وہ فرضی روزوں کی قضا دیں اور اس کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے رکھیں۔
شوال کے چھ روزوں کی بابت: علامہ قاسم بن قطلوبغا کی تحقیق (۲)
مالکیہ کے صحیح مذہب کی تفصیل: چونکہ ان روزوں کی نفی کے بارے میں سب سے زیادہ پیش کی جانی والی دلیل امام مالک کا قول ہے‘ اس لئے مالکیہ کی معتبر کتابوں سے اس بارے میں وہ تصریحات بھی پیش کی جاتی ہیں جن سے ان کا مذہب‘ جمہور کے مذہب کے قریب نظر آتا ہے اور امام مالک کے قول کی صحیح تشریح بھی ہوجاتی ہے۔
1:- سب سے پہلے شرح زرقانی کی عبارت ذکر کرتے ہیں جس میں ”موطأ“ والی ان کی روایت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
”یحییٰ کہتے ہیں کہ: میں نے عید الفطر کے بعد چھ روزوں کے بارے میں امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے اہل علم وفقہ (اور اہل اجتہاد) میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی سلف میں سے (جن حضرات کو میں نے نہیں پایا‘ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبار تابعین رحمہم اللہ) کسی سے کوئی روایت پہنچی، چنانچہ اہل علم اس کو پسند نہیں کرتے تھے، اور ان کو اس کے بدعت بن جانے اور بے علم لوگوں کا رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو ملانے کا اندیشہ تھا۔“
مطرف فرماتے ہیں کہ: امام مالک نے اس مذکورہ وجہ کی بنیاد پر ان روزوں کو مکروہ سمجھا تھا، ورنہ جو شخص صرف فضیلت کے حصول کی نیت سے یہ روزے رکھے تو اس کے لئے کراہت نہیں‘ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے‘ پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور روزے رکھے تو یہ پورا سال روزے رکھنے کی طرح ہے“۔
قاضی عیاض فرماتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے اور چھ روزوں سے ایک سال کا حساب پورا ہوجاتاہے‘ جیساکہ نسائی نے روایت کیا ہے۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ امام مالک نے اس وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیا کہ کہیں جاہل لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں، البتہ شریعت (کے بیان کردہ فضیلت) کی بناء پر یہ روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔
نیز کہا گیا ہے کہ امام مالک کو (متعلقہ) حدیث نہیں پہنچ سکی یا (پہنچی تو صحیح مگر) ان کے نزدیک (استدلال کے درجہ میں) ثابت نہ ہوسکی یا اہل مدینہ کا عمل اس کے برعکس تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے عید کے دن کے ساتھ ملا کر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہو‘ چنانچہ اگر مہینہ کے درمیان میں رکھے تو پھر کوئی کراہت نہیں اور ان کے قول ”ستة ایام بعد الفطر من رمضان“ کا ظاہری معنی بھی یہی بنتا ہےاور ابو عمر (ابن عبد البر) فرماتے ہیں کہ: امام مالک بچ بچ کر چلنے والے دین کے معاملہ میں نہایت احتیاط برتنے والے آدمی تھے‘ اور روزہ ویسے تو ایک نیک عمل ہے مگر (یہاں) اس کا رکھنا بھی اچھا نہیں سمجھا (کیونکہ) بے علم لوگوں کی کوتاہی کا اندیشہ تھا‘ جیساکہ خود بیان کیا ہے۔
امام مالک کے نزدیک (متعلقہ) حدیث ثابت نہ ہوسکنے (حالانکہ صحیح مسلم میں موجود ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں سعد بن سعید راوی ہیں جس کو امام احمد نے ضعیف کہا ہے،
اور نسائی نے کہا کہ: لیس بالقوی
اور ابن سعد نے کہا: ثقة قلیل الحدیث
اور ابن عیینہ وغیرہ نے کہا: کہ یہ حدیث ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ پر موقوف ہے‘ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ یہ ان کی اپنی رائے ہو‘ کیونکہ ایک نیکی تو ویسے بھی دس کے بدلے میں ہے تو اس حدیث کی دو علتیں ہوئیں : ایک اس کے راوی میں اختلاف ہونا ‘ دوسری موقوف کہا جانا (انتہی) (۱۴)
2:- ابن رشد نے ”بدایة المجتہد“ میں لکھا ہے:
”بہرحال شوال کے چھ روزے کے بارے میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے پورے سال روزے رکھے“۔
مگر امام مالک نے اس کو مکروہ کہا ہے‘ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ان کو اس بات کا خوف تھا کہ کہیں عام لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں اور یا اس وجہ سے کہ ان کو متعلقہ حدیث نہیں پہنچ سکی، یا یہ حدیث ہی ان کے نزدیک استدلال کے درجہ کو نہیں پہنچ پاتی اور یہی (توجیہ) زیادہ واضح ہے۔“ (۱۵)
3:- علامہ ابن شاش المتوفی: ۶۱۶ھ نے ”عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة“ میں لکھا ہے:
”صحیح روایت میں شوال کے چھ روزوں کا ذکر آیا ہے، مگر امام مالک کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ کہیں جاہل لوگ فرائض کے ساتھ غیر فرض کو شامل نہ کر بیٹھیں، تحدید کی کراہت میں ان کے اصل کے مطابق، چنانچہ ان دنوں کے علاوہ ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھا ہے، کیونکہ اس سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے یعنی ان چھ دنوں اور رمضان کے روزوں کے ثواب کا کئی گنا ہوجانا یہاں تک کہ ایک سال کی تعداد کو پہنچ جائیں، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور چھ روزے دو مہینوں کے برابر، تو یہ ایک سال کے روزے ہوگئے“۔
ان روزوں کے لئے شوال کو مقرر کرنے کی بنیاد مکلف کے لئے آسانی پیدا کرنے پر ہے، کیونکہ اس کو روزہ رکھنے کی عادت ہوگئی ہے ‘ مذکورہ وقت کے ساتھ اس کے حکم کو خاص کرنا مقصود نہیں، لامحالہ اگر کوئی عشرہ ذی الحجہ کے دوران رکھے گا، جبکہ اس میں روزہ رکھنے کی بھی فضیلت آئی ہے، تو بہت ہی بہتر ہوگا، کیونکہ مقصود یہاں بھی حاصل ہوتا ہے، ساتھ میں اس عشرہ کی فضیلت بھی حاصل ہوگی اور امام مالک کو جس چیز کا اندیشہ تھا‘ اس سے بھی حفاظت رہے گی۔“ (۱۶)
4:- امام قرافی المتوفی: ۶۸۴ھ نے ”الذخیرة“ میں لکھا ہے:”صحیح مسلم میں ہے ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے‘ امام مالک شوال کے علاوہ کسی اور مہینے میں ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں‘ اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں جاہل لوگ ان کو رمضان کے ساتھ ہی شامل نہ کردیں اور جہاں تک شوال کی بات ہے تو شریعت نے صرف مکلف کی آسانی کی خاطر اس کی تعیین کی ہے‘ کیونکہ یہ مہینہ رمضان کے قریب ہے‘ ورنہ مقصد تو دوسرے مہینہ میں بھی حاصل ہوجاتا ہے ‘ لہذا دونوں مصلحتوں کی خاطر تاخیر مشروع ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”فکانما صام الدہر“ کا معنی یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے‘ تو ایک مہینہ دس مہینوں کے اور چھ روزے ساٹھ دن کے برابر ہوگئے تو یہ ایک سال کا حساب ہوگیا اور جب سالہا سال اس طرح کرے گا تو گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔
سوال: تشبیہ میں مساوات یا مقاربہ شرط ہوتا ہے اور یہاں تو کوئی نہیں ‘ اس وجہ سے کہ یہ روزہ صوم الدہر کا عشر ہے اور کسی چیز کے عشر اور کل میں کوئی مقاربہ نہیں ہوتا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ: مذکورہ تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ گویا صوم الدہر رکھ لیا‘ اگر کسی دوسری امت میں سے ہوتا۔ کیونکہ ہمارا ایک مہینہ ہم سے پہلی امتوں کے دس مہینوں کے برابر ہے اور ہمارے چھ روز ان کے دو مہینوں کے برابر ہیں، لہذا ہر اعتبار سے مساوات پائی گئی۔
تنبیہ: یہ ثواب مختلف الاجر ہے، اس طرح کہ اس میں سے پانچ سدس تو مرتبہ کے اعتبار سے بڑے درجہ میں ہے، کیونکہ وہ واجب کے باب میں سے ہے اور ایک سدس نفل کا ثواب ہے۔
فائدہ: روایت میں ”بست“ کے الفاظ ہیں تذکیر کے ساتھ اصل کی رعایت کی خاطر ”بستة“ نہیں فرمایا‘ جبکہ عدد میں مذکر کے لئے تانیث ضروری ہے‘ کیونکہ عرب لوگ لیلی کو سبقت کی وجہ سے ایام پر غلبہ دیتے ہیں‘ جیساکہ آپ کہتے ہیں: ”لعشر مضین من الشہر“۔ (۱۷)
دور اخیر کے محقق عبد العزیز بن صدیق العماری نے بھی ”شرح العثماویة“ میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس مسئلے میں متکلم فیہ روایت کا سہارا لینے والوں کی خوب خبر لی ہے‘ کیونکہ اس باب کی روایات تواتر کی حدود کو چھورہی ہیں۔ موصوف کا ان روایات پر تفصیلی کام کرنے کا بھی ارادہ تھا (۱۸) اگر وہ یہ کر چکے ہوں تو پھر بزعم خویش محققین کے لئے گنجائش نہیں چھوڑی ہوگی۔ اس باب کے دیگر موضوعات کو مستقل رسالہ لکھنے تک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ
حوالہ جات اور مآخذ:
۱۴- شرح الزرقانی ۲/۱۹۰ ۱۵- بدایة المجتہد لابن رشد الحفید ۱/۳۰۸ ۱۶- عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة لابن شاش المالکی ۱/۳۶۹ طبع دار العرب الاسلامی بیروت ۱۷- الذخیرة للقرافی المتوفی: ۶۸۴ھ ۲/۵۳۰ طبع: دار الغرب الاسلامی بیروت ۱۸- اتحاف ذوی الہمم العالیة بشرح العثماویة ص:۱۵۵-۱۵۷ ابو الیسر عبد العزیز بن صدیق الغماری طبع دار البشائر الاسلامیة ۱۴۲۲ھ
.......
شوال کے چھ روزوں
کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراض کا جواب
باطل نے ہر دور میں عوام کو اہلِ حق سے دور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے؛تقریروتحریر کے ذریعے اہلِ حق کی عبارات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کی۔
ان دنوں موبائل کے ذریعہ ایک میسج عام کیا جارہا ہےکہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔
اس کی ایک مثال یوں دی کہ حدیث مبارکہ میں ہے:
جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو سال بھر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔دوسری طرف فتاویٰ عالمگیریہ کے ایک مسئلہ سے تقابل کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے۔
الحواب..........
یہ بات بالکل غلط ہے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب یہاں تک کہ اسی فتاویٰ عالمگیریہ میں بھی شوال کے 6 روزوں کو مستحب کہا گیا۔باقی جہاں ان کو مکروہ کہا گیا ہے وہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم خاص صورتوں کے متعلق ہے۔
جیسے اگر کوئی شخص ایک روزہ عید کے دن رکھے اور پانچ بعد میں تو یہ مکروہ ہے۔
اسی طرح جو شخص ان روزوں کو رمضان کی طرح فرض سمجھے تو یہ فرض سمجھ کر رکھنا مکروہ ہے۔
اگر کوئی شخص عیدالفطر کے دن کو چھوڑ کر رمضان کی طرح فرض سمجھے بغیر شوال کے 6 روزے رکھے تو یہ مستحب ہے۔
احناف کے نزدیک راجح یہی قول ہے۔
چند تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
1: وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ۔۔۔۔ وَتُسْتَحَبُّ السِّتَّةُ مُتَفَرِّقَةً كُلَّ أُسْبُوعٍ يَوْمَانِ۔۔۔۔۔۔۔ وَيُكْرَهُ صَوْمُ الْوِصَالِ وهو أَنْ يَصُومَ السَّنَةَ كُلَّهَا وَلَا يُفْطِرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيِّ عنها وإذا أَفْطَرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيَّةِ الْمُخْتَارُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ
(فتاوی عالمگیری ج1ص221کتاب الصوم باب فیمایکرہ للصائم ومالا یکرہ)
حاصل عبارت: شوال کے چھ روزوں کے بارے میں دو قول ہیں۔
1:مکروہ،
2:مستحب
اگر کوئی شخص عید کے دن بھی روزہ رکھے تو یہ مکروہ ہے اور اگر عید کا دن چھوڑ کر بعد میں رکھے تو مستحب ہے۔
2: وندب تفريق صوم الست من شوال ولا يكره التتابع على المختار خلافا للثاني۔۔۔ والاتباع المكروه أن يصوم الفطر وخمسة بعده فلو أفطر لم يكره بل يستحب ويسن
(رد المحتار ج 3 ص 485 ،486 کتاب الصوم: مطلب فی صوم الست من شوال)
اس عبارت کا حاصل بھی وہی ہے کہ شوال کے روزے مستحب ہیں لیکن اگر کوئی عید کے دن سے شروع کرے تو مکروہ ہے۔
3: یہی بات بدائع الصنائع میں بھی مذکورہ ہے۔ [ ج2ص215کتاب الصوم الصیام فی الایام المکروہۃ]






















