Showing posts with label اللّه کہاں ہے. Show all posts
Showing posts with label اللّه کہاں ہے. Show all posts

Wednesday, 8 March 2023

اللہ کہاں ہے ؟

 اللہ کہاں ہے ؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سلفی : اللہ کہاں ہے ؟


 سلفی : اللہ فی السماء ( دیکھو ہم حدیث کے مطابق جواب دیتے ہیں حدیث جاریہ اشاعرہ ماتریدیہ حدیث کے بجائے اللہ موجود بلا مکان کے لفظ سے جواب دیتے ہیں ) 


تو  : اللہ آسمان یعنی مخلوق میں ہے ؟


سلفی : نہیں ۔ ( تاویل کی طرف بھاگتے ہوئے ) فی بمعنی علی ہے یعنی آسمان پر ہے اور فی اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے ظرفیت کے معنی پر 


تو آسمان کدھر ہے ؟ آسمان تو عرش کے نیچے ہے 


یعنی اللہ عرش کے نیچے ہے ؟


سلفی :نہیں ( دوسری تاویل کی طرف بھاگتے ہوئے ) بلکہ آسمان سے مراد عرش ہے 


تو اللہ عرش کے اوپر کسی مکان میں ہے ؟ 

یہ مکان خود اللہ ہے یا غیر اللہ خود اللہ تو نہیں ہوسکتا اور اگر غیر اللہ ہو تو اللہ خالق کل شئ 

اللہ نے ہی اس کو پیدا کیا ہے 


آپ نے پھر اللہ کو مخلوق میں مان لیا 


سلفی : نہیں ( تیسری تاویل کرتے ہوئے ) بلکہ وہ مکان عدمی ہے یعنی سرے سے کوئی موجود شے ہی نہیں  


یعنی مکان ہے ہی نہیں ؟


سلفی : ہاں وہ کوئی چیز ہے ہی نہیں 


یعنی : اللہ جس چیز میں یا جس چیز پر ہے وہ کچھ ہے ہی نہیں لیس بشئ ہے 


سلفی : جی 


تو پھر آپ کا عقیدہ یہ بن گیا

کہ اللہ لیس فی شئ۔ ۔۔۔


آپ اولا  فی السماء سے علی السماء کو بھاگے 


السماء سے عرش کی طرف بھاگے 


اور عرش سے بھی مکان عدمی کی طرف بھاگے ۔۔ 


جبکہ آپ  حدیث کے مطابق جواب دینا چاہتے تھے لیکن وہاں فی السماء ہے جبکہ آپ کا عقیدہ یہ بن گیا کہ 


اللہ لیس فی شئ۔    اور السماء تو کوئی موجود شئ ہے نا 


اور جب فی السماء کا مطلب آپ کے ہاں آخر کار 

فی مکان عدمی بنتا ہے اور یہ  مکان ہے ہی نہیں 

تو خود بخود لیس فی مکان کے مفہوم میں ہوا


تو پھر اشاعرہ جب اللہ موجود بلا مکان کہتے ہیں تو اسی کی طرف آپ واپس بھاگ کر آگئے 


نتیجہ :


یا تو آپ کا جواب حدیث کے مطابق نہیں 


اور یا اللہ فی السماء اور اللہ موجود بلا مکان دونوں ہم معنی ہیں 


فی السماء یا علی العرش کہنے سے مقصد یہ نہیں کہ عرش کے اوپر کسی جگہ میں اللہ ٹھہرا ہوا ہے اور عرش کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اس کی ذات وہیں سے شروع اور اختتام پذیر ہوتی ہے 


بلکہ مقصود یہ ہے کہ رب العالمین کی ذات مخلوقات اور مکانات میں نہیں 


مکانات کا سلسلہ عرش سے فرش تک ہے 


اور چونکہ اللہ تعالیٰ تمام مکانات کا خالق ہے اور وہ خود کوئی مکانی شے نہیں ہے 


اس لیے مکانات سے تنزیہ کے لیے ہم اللہ کو فوق العرش کہتے ہیں یعنی عرش اور ما تحت العرش تمام مکانات میں استقرار سے منزہ اور پاک  ہے 


جبکہ مجسمہ کا عقیدہ یہ کہ فوق العرش فوقیت مکانی کے اعتبار سے ہے یعنی اللہ کی ذات عرش کے محاذات اور قرب و جوار میں ہے 


عرش کے زیادہ قریب ہے 


عرش کے ساتھ فاصلہ کم باقی اشیاء سے زیادہ ہے 


کیونکہ اس کی ذات کے لیے نہایات و اطراف اور حدود ہیں جو عرش پر آکر ختم ہوجاتے ہیں ۔۔۔


و رب العرش فوق العرش لکن 


بلا وصف التمکن و اتصال

Monday, 30 May 2022

غیر مقلد سے صفات الٰہیہ کے بارے میں ایک مکالمہ

 غیر مقلد سے صفات الٰہیہ کے بارے میں ایک مکالمہ:

🔥غ م:اللہ عرش پہ بالذات ہے۔تاویل کرنے والا استوا کا منکر ہے۔ہمیں ظاہری معنی لینے چاہئیں۔

💖اہلسنت:اور معیت کے بارے میں تمھارا کیا عقیدہ ہے؟

🔥غ م:معیت کے بارے میں ظاہری معنی نہیں لینے چاہئیں بلکہ علم و قدرت کی تاویل کرنی چاہئیے😂

💖اہلسنت دوغلی پالیسی۔ڈبل سٹنڈرڈ اور منافقت پہ مسکرا اٹھا۔

______________________________

💖اہلسنت:اچھا یہ بتاؤ اللہ عرش پہ بیٹھا ہے جیسا کہ تمھارے کئی علماء کہتے ہیں؟

🔥غ م:نہیں!اللہ بیٹھا نہیں ہے بلکہ عرش سے تھوڑا اوپر بلند ہے

💖اہلسنت:یعنی عرش کے اوپر معلق ہے!!اچھا یہ بتاؤ تمھارے عقیدے کے مطابق اللہ عرش کے تھوڑے اوپر سے شروع ہوتا ہے۔اب جو چیز شروع ہوتی ہے وہ ختم بھی کہیں ہوتی ہے۔اب starting point تم نے بتا دیا۔ہمت کر کے ending point بھی بتا دو

غیر مقلد بوکھلا گیا

🔥غ م:ہم اللہ کی ذات کو بلا کیف مانتے ہیں۔ہم کیفیت میں نہیں جاتے

💖اہلسنت:یہ جو تم نے کہا کہ اللہ عرش کے تھوڑا اوپر ہے۔یعنی تھوڑا اوپر سے شروع ہو رہا ہے۔کیا یہ کیفیت نہیں؟

🔥غ م:ہمارے مولویوں نے تو یہی بتایا ہے کہ یہ کیفیت نہیں😂

اہلسنت پھر مسکرا اٹھا

______________________________

💖اہلسنت:حدیث میں آتا ہے اللہ رات کے آخری پہر آسمان دنیا پہ نزول کرتا ہے۔نزول کو تم حقیقی مانتے ہو۔صفات میں تم تاویل کے قائل نہیں۔اب بتاؤ کہ جب اللہ آسمان دنیا پہ آ گیا تو عرش پہ کون ہوتا ہے؟

🔥غیر مقلد سٹپٹا گیا

💖اہلسنت:اچھا یہ بتاؤ دنیا کے مختلف حصوں میں رات کا آخری پہر مختلف اوقات میں آتا ہے تو کیا اللہ کی بھاگ دوڑ اوپر نیچے جاری رہتی ہے؟

🔥غیر مقلد کی حالت کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

🔥غ م:ہم اللہ کو بلا کیف اوپر اور آسمان دنیا پہ مانتے ہیں۔

💖اہلسنت:کاہے کا بلا کیف!!ایک لفظ رٹ لیا۔کیفیت بھی متعین کرتے جاؤ اور بلا کیف بھی کہتے جاؤ۔

غ م:اور بلا کیف کیسے ہو گا۔اور تمھارا عقیدہ کیا ہے؟

💖اہلسنت:اللہ تعالی فرماتے ہیں

لیس کمثله شیء۔یعنی اللہ کسی کی مثل نہیں۔

اللہ مادے کی تمام صفات سے مبرا ہے کیوں کہ مادہ مخلوق ہے اور خالق کبھی بھی مخلوق جیسا نہیں ہو سکتا۔اب مادے کی صفات کیا ہیں👇

🩸مادہ کا جسم ہوتا ہے۔شکل ہوتی ہے

🩸وزن ہوتا ہے۔حدود اربعہ ہوتا ہے

🩸جہت ہوتی ہے

🩸مادہ کی ایک Occupying space ہوتی ہے۔یعنی جو جگہ اس نے گھیری ہے۔اسے مکان کہتے ہیں

🩸مادے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے

🩸جب منتقل کر دیا تو یہ پہلی والی جگہ پہ نہیں ہوتا

اب سوچو کیا تم مادے کی یہ تمام صفات اللہ میں نہیں مان رہے

🔥غیر مقلد سوچ میں پڑ گیا۔اسے احساس ہوا کہ کیسے اسے قرآن و حدیث کے نام پہ بیوقوف بنا کے مجسمی عقیدے کی طرف لے جایا جا رہا ہے

Wednesday, 6 January 2021

غیرمقلدین حضرات اللہ کے ہر جگہ نہ ہونے پر اجماع امت کہتے ہے

 غیرمقلدین حضرات اللہ کے ہر جگہ نہ ہونے پر اجماع امت کہتے ہے،


تو جناب غیرمقلدین کی خدمت میں گزارش ہے کہ:
بھائی ہمارے ہاں عقائد میں اجماع کے منکر کو تو کافر کہتے ہیں آپ کے ہاں عقائد میں اجماع کے منکر کو کیا کہتے ہیں؟؟؟؟

اگر 
آپ کے ہاں بھی عقائد میں اجماع کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ تو جناب آپ کے گھر کے اجماع کا انکار آپ کے گھر کےتقریبا دس علماء کر چکے ہیں، جن میں شیخ الاسلام، شیخ الکل بھی شامل ہیں، تو کیا خیال ہے یہ سارے علماء کافر نہ ہوگئے ہونگے۔





فتاوی ثنائیہ کی تو تاویلیں کرنے کی بہت کوشش کی گئی، اگرچہ وہ کسی کام نہ آئیں، لیکن تفسیر ثنائی میں جو عقیدہ بیان ہوا ہے اس میں تو کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے


ہم نے فتاوی ثنائیہ سے، فتاوی نذیریہ سے اور فتاوی علمائے حدیث سے جو دلائل جناب کی خدمت میں پیش کئے ہیںن وہ کتاب العقائد میں سے ہی پیش کئے ہیں۔

یہ تینوں کتابیں غیرمقلدین کے ہاں ایک سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔





صفات باری تعالٰی سے متعلق عربی حوالہ کا مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کے قالم سے مترجم اقتباس ملاحظہ فرمایئے:۔ ”خدا کی جن صفات کو سلف صالحین نے ظاہر پر جاری رکھا ہے جیسی کہ قرآن و حدیث میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک صفت استواء ہے۔ کتاب و سنت کی دلیلیں اس میں بہت ہیں۔ جیسا ہم استواء اور اس جہت میں ہونے کے متعلق کہتے ہیں اسی طرح ہم آیات معیت وھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمٌ وغیرہ میں کہتے ہیں۔ یعنی ہم ایسی آیات میں وہی کہتے ہیں جیسا قرآن میں آیا ہے کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے ہم اس کی تاویل میں تکلیف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں کہ اس سے مراد علم ہے کیونکہ یہ ایک تاویل ہے جو مذاہب خلف کے مخالف ہے۔ اور صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے بھی بالکل خلاف ہے۔ جب تو سلامتی کے راستہ پر پہنچ گیا۔ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے تو اس سے آگے نہ گزر“۔(رسالہ التحف فی مذاہب السلف ص۴۳) مولانا ثناء اللہ غیرمقلد مذکورہ حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس عبارت کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ امام شوکانی نہ تو استواء کی تاویل کرتے ہیں اور نہ معیت خداوندی کی تاویل کے قائل ہیں بلکہ ہر قسم کی تاویل پر صحابہ اور سلف صالحین کے مذاہب کے خلاف بتاتے ہیں، یعنی ان کے نزدیک ھو معکم کی تاویل علم کے ساتھ کرنے والے مذاہب سلف کے ایسے ہی مخالف ہیں جیسا وہ لوگ جو استواء علی العرش کی تاویل کرتے ہیں“۔(مظالم روپڑی ص۱۳)
نواب صدیق حسن خان صاحب (م ۱۸۹۰) جن کے متعلق مولانا ثناہ اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ: ”ہندوستان کے نامور سلفی اہل حدیث مصنف میں سے مولانا نواب صدیق حسن صاحب بھوپالی مشہور ترین ہیں۔(مظالم روپڑی ص۱۳) نواب صاحب موصوف کا اس مسئلہ میں مولانا ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد کے قلم سے ایک مترجم اقتباس ملاحظہ فرمایئے: ”ہمارے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ استواء علی العرش اور اللہ کا آسمان پر ہونا اور مخلوق سے بائن ہونا اور اس کا قرب اور معیت اور جو بھی صفات آئی ہیں کیفیت بتانے اور علم و قدرت کےساتھ تاویل کرنے کے بغیر ظاہر پر جا ری ہیں۔ کیونکہ تاویل کرنے کی کوئی دلیل شرعی وارد نہیں ہوئی“۔(کتاب الجوائز والصلات ص۲۶۲) مولانا امرتسری صاحب اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت قاضی شوکانی کی عبارت سے بھی واضح تر ہے۔ مطلب اس کا وہی ہے کہ خدا تعالٰی جیسا کہ عرش پر ہے ویسا ہی زمین پر ہے ۔ رہا یہ امر کہ کیسے ہے۔ سو یہ سوال کیفیت سے ہے جو حوالہ بخدا ہے۔(مظالم روپڑی ص۱۳) اسی طرح مولانا امرتسری نے جماعت غیرمقلدین کے وکیل اعظم مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب (جنہوں نے انگریز یہ اہلحدیث نام آلارٹ کروایا) کی تائید سے علامہ محمد بن علی شوکانی سے بھی یہی عقیدہ نقل کیا ہے۔(مظالم روپڑی ص۱۲) خود مولانا امرتسری غیرمقلدین اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”میں خدا کی صفت قرب معیت کو اور اللہ تعالٰی کا آسمانوں اور زمینوں میں ہونا بلا تاویل یقین کرتا ہوں “۔ (مظالم روپڑی ص۱۱)


عقیدہ کو باطل باور کرکے علمائے دیوبند کو اس کا الزام دے رہے ہیں۔

اب جس عقیدہ کو یہ اکابرین غیرمقلدین حق کہہ کر اس پر جمے ہوئے ہیں اور کو سلف صالحین کا مسلک قرار دے رہے ہیں، غیرمقلدین اس شکو ہمارے سارے غلط بھی سہی مگر لو تم ہی اب بتاؤ کس کا قصور تھا



👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
حدیث نزول کے بارے میں عبدالرحمن مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں کہ 
قَوْلُهُ (يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ) قَدِ اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى النُّزُولِ عَلَى أَقْوَالٍ فَمِنْهُمْ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَحَقِيقَتِهِ وَهُمُ الْمُشَبِّهَةُ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ قَوْلِهِمْ۔ [تحفة الأحوذي (2/ 524)]
یعنی
نزول کے بارے میں کئی اقوال کا اختلاف ہے بعض نے اسے اپنے ظاہر اور حقیقت پر حمل کیا ہے اور یہی لوگ مشبہہ ہیں اللہ عزوجل ان کی باتوں سے پاک ہے۔

=

=👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
فرقہ اہل حدیث کا اقرار کہ اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرمانا ظاہر اور حقیقی نزول نہیں بلکہ ایسا کہنا مشبہہ (گمراہ فرقہ مجسمہ) کا قول ہے۔ (توفیق الباری ص 56)

جب اللہ تعالٰی کا نزول الی سماء ظاہر پر اور حقیقت پر محمول نہیں ہو سکتا تو عرش استویٰ کیسے ظاہر اور حقیقت پر محمول ہو سکتا ہے؟


پس ثابت ہوا کہ عرش استویٰ اور نزول الی سماء دونوں حق ہیں لیکن ظاہری اور حقیقی طور پر بلکل نہیں جو کرتے ہیں وہ بلا شبہ مجسمہ ہیں۔






============
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
اعتراض:
ابوزید ضمیر صاحب، امام احمد بن حنبلؒ کا قول پیش کرتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور مخلوق سے الگ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي]

جواب-1: غیر مقلدین کے نزدیک یہ کتاب "شرح أصول اعتقاد أهل السنة" ان کے مصنف اللالكائيؒ(المتوفیٰ ۴۱۸ھہ) سے ثابت ہی نہیں ہے۔

چنانچہ شیخ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
شرح أصول اعتقاد أهل السنة کے نام سے اللكائيؒ سے منسوب کتاب، باسند صحیح ثابت ہی نہیں ہے۔

لہذا، اس غیرثابت کتاب سے اصول میں استدلال صحیح نہیں ہے۔
[مشہور واقعات کی حقیقت:45]

====
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
جواب-2: یہ روایت بےسند ہے، کیونکہ اس روایت کی امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھ)نے اپنے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھ)کے درمیان کوئی سند ذکر نہیں کی۔ کیونکہ دونوں کا زمانہ بہت دور وجدا تھا اور نہ درمیان میں کوئی صحیح سند کا واسطہ ثابت نہیں۔ لہذا یہ سند منقطع ہے اور روایت مردود۔

شرح أصول اعتقاد أهل السنة میں جو عبارت ہے وہ درج ذیل ہے:

(حديث مقطوع) وَرَوَى يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ ، أَنَّهُ قِيلَ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ : اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ عَلَى عَرْشِهِ ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ ، وَقُدْرَتِهِ ، وَعِلْمِهِ ، فِي كُلِّ مَكَانٍ ؟ . قَالَ : نَعَمْ , عَلَى الْعَرْشِ ، وَعِلْمُهُ لا يَخْلُو مِنْهُ مَكَانٌ .
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي » ذكر رجال من أهل المدينة من الطبقة الثانية من التابعين ... » قَوْلُ أم سلمة ۔۔۔ رقم الحديث: 532]
شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة » باب جماع توحيد الله عز وجل وصفاته وأسمائه » سياق ما روي في قوله تعالى " الرحمن على العرش استوى " ۔۔۔الجزء الثالث، ص: 445، رقم الحديث: 674]

ترجمہ: امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھ)فرماتے ہیں کہ روایت ہے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھ) سے کہ احمد بن حنبلؒ سے کہا گیا کہ: کیا اللہ تعالیٰ سات(۷)آسمانوں کے اوپر ہے، عرش سے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، اور اس کی قدرت وعلم ہر جگہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ عرش پر ہر، اور اس کے علم سے کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔









=👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھہ)کے بعد امام موفق الدين ابن قدامة(541-620ھ)نے بھی یہی بات نقل کردی، لیکن انہوں نے بھی اپنے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھہ)کے درمیان کی، کوئی سند نقل نہیں کی۔
[اثبٰاتُ صِفةِ العُلُوّ:1/167]

👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇???????????
اور امام ابن قدامۃ کی ولادت 541 ھ میں ہوئی ہے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ کی وفات 253 ھ میں ہوئی ہے۔[الاعلام:4/67]

👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇??????????
لہٰذا، یہ سند بھی منقطع اور روایت مردود ہے۔
=
اسی طرح یہی روایت امام ذہبیؒ(المتوفیٰ 748ھ)کی کتاب[العلو للعلي الغفار،للذهبي:1/176]میں بھی موجود ہے، لیکن وہاں بھی (امام ذہبیؒ سے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ کے) درمیان کی کوئی سند موجود نہیں ہے، بلکہ انہوں نے بھی براہِ راست یعنی بلاواسطہ سند کے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھہ)کا قول نقل کر رہے ہیں۔ جو انہوں نے ان سے نہ خود سنا اور نہ ہی ان سے سننے والوں کے واسطہ(سند)سے نقل کیا۔ لہٰذا یہ سند بھی منقطع اور روایت مردود ہے۔



=
بعض لوگ امام ابوبکر الخلالؒ(المتوفیٰ 311ھ)کی کتاب،[کتاب السنۃ]کا حوالہ دے رہے ہیں کہ اس میں یہ روایت موجود ہے لیکن اس میں یہ روایت موجود نہیں

ﷲ ہر جگہ موجود ہے دلائل اور تمام اشکالات اعتراضات کا جواب

 ﷲ ہر جگہ موجود ہے دلائل اور تمام اشکالات اعتراضات کا جواب 


نمبر {01} سبوحیت و قدوسیت

حق تعالی جل شانہ تمام نقائص اور عیوب سے اور حدوث کے نشانوں سے اورمخلوقات کے مشابہت سے اور مماثلت سے پاک اور منزہ ہے اور وہ خداوند بے مثل و مانند ہے جوہر اور عرض ‎ہونے سے مبرا اور صورت اور شکل و جسم اورجسمانیت سے معرا ہے اور جواہر اور اجسام اور اعراض کی صفات اور لوازم سےمبرا ہے [‏‎لیس کمثله شئ وهو السميع البصير] - [سبحان ربك‎ رب العزۃ ‎عما یصفون] اور اصطلاح میں اس کا نام سبوحیت و قدوسیت ہے اور بالفاط دیگر تسبیح و تقدیس ہے.


نمبر {02} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے

نمبر {۰۱} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے کوئی شي اس کے مثل اور برابرنہیں "لیس کمثله شئ" اور کوئی چیز خدا تعالی کے ہمسر نہیں [لم یکن له کفوا احد] - [ھل تعلم له سمیا] اس لئے کہ خدا قدیم اور ازلی ہے تو ممکن اور حادث کے مشابہ کیسے ہوسکتا ہے - اگر بالفرض خدا کا مخلوق کے مشابہ ہونا جائز ہو تو پھر مخلوق کے احکام کا خالق پر جاری ہونا بھی ممکن ہوگا - الغرض نہ خدا مخلوق کے مشابہ ہے اور نہ مخلوق خدا کے مشابہ ہے یہ ناممکن ہے کہ قدیم کی کوئی صفت حادث میں اور حادث کی کوئی صفت قدیم میں پائی جائے اس لئے الله تعالی ہر قسم کے تغیر و تبدل سے پاک ہے - اس لئے کہ تغیر و تبدل ممکن کی صفت اور خاصیت ہے.


نمبر {۰۲} الله تعالی نہ جسم ہے اور نہ جوہر ہے اور نہ عرض ہے - وہ ان سبچیزوں سے پاک اور منزہ ہے


نمبر {03} خدا تعالی جسم نہیں

نمبر {۰۱} جسم تو اس لئے نہیں کہ جسم بہت سے اجزاء سے مرکب ہوتا ہے اورجو مرکب ہوتا ہے اس کی تحلیل اور تفریق اور تقسیم بھی ممکن ہوتی ہے - اورترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم الله تعالی کی بارگاہ سے بہت دور ہے.


نمبر {۰۲} نیز ترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم حدوث کے لوازم میں سے ہے جو قدم اور ازلیت کے منافی ہے.


نمبر {۰۳} نیز جسم طویل اور عریض اور عمیق ہوتا ہوتا ہے اور الله تعالی طول و عرض اور عمق سے پاک اور منزہ ہے.


نمبر {۰۴} نیز جو چیز اجزاء سے مل کر بنتی ہے اول تو وہ اپنی ترکیب میں اجزاء کی محتاج ہوتی ہے اور احتیاج اور خدائی کا جمع ہونا عقلا محال ہے - اور پھر مرکب اپنی بقاء میں اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور الله احتیاج سے منزہ ہے.


نمبر {۰۵} نیز اجزاء کا وجود ، مرکب اور مجموعہ کے وجود سے مقدم ہوتا ہےاور مجموعہ مرکب موخر ہوتا ہے- پس اگر [معاذالله] خدا تعالی کو جسم مرکب مانا جائے تو خدا تعالی کا اپنی اجزاء ترکیبیہ سے مؤخر ہونا لازم آئے گا
جو اس کی ازلیت اور اولیت اور قدم کے منافی ہے.


نمبر {۰۶} نیز اگر صانع عالم کا جسم ہونا ممکن ہو تو شمن و قمر کا خدا ہونا بھی ممکن ہوگا اور جیسے نصاری حضرت مسیح کے جسم کو خدا اور معبود مانتے ہیں اور بندہ اپنے اوتاروں کو خدا کہتے ہیں تو پھر یہ بھی جائز اور ممکن ہونا اور کرامیہ کہتے ہیں کہ حق تعالی جسم ہے مگر دیگر اجسام کی طرح نہیں اور اہل سنت کے نزدیک حق تعالی پر جسم کا اطلاق درست نہیں.


نمبر {04} خدا کے لئے باپ اور بیٹا ہونا محال اور ناممکن ہے

جب یہ ثابت ہوگیا کہ خدا تعالی کا جسم ہونا ناممکن اور محال ہے تو ثابت ہوگیا کہ خدا نہ کسی کا باپ ہوسکتا ہے اور نہ بیٹا ہوسکتا ہے کیونکہ توالد اور تناسل خاصہ جسمانیت کا ہے اور الله تعالی جسمانیت سے پاک اور منزہ ہے نیز توالد اور تناسل محتاجگی کی دلیل ہے - جیسے اولاد اپنے پیدا ہونے میں ماں باپ کی محتاج ہے - ایسے ہی ماں باپ اپنی خدمت گزاری میں اور نسل کے باقی رہنے میں اولاد کے محتاج ہیں اور الله تعالی احتیاج سے منزہ ہے نیز اولاد ماں باپ کی ہم جنس ہوا کرتی ہے سو اگر کوئی خدا کا بیٹا ہوگا تو خدا کی وحدانیت ختم ہوجائے گی جو ابھی دلائل سے ثابت ہوچکی ہے.


نمبر {05} خدا تعالی عرض نہیں

نمبر {۰۱} اور خدا تعالی کا عرض ہونا اس لئے محال ہے کہ عرض وہ شئے ہے کہجو قائم بالغیر ہو اور اپنے وجود میں دوسرے کی محتاج ہو اور دوسرے کے سہارے سے موجود ہو اور یہ بات خدا تعالی کے لئے ناممکن ہے اس لئے الله تعالی تو قیوم ہے تمام کائنات کے وجود کو قائم رکھنے والا اور ان کی ہستی کو تھامنے والا ہے تمام عالم اسی کے سہارے سے قائم ہے اس لئے اس کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں - سہارے کی ضرورت تو محتاج کو ہوتی ہے - اور وہ صمد ہے یعنی وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اسی کے محتاج ہیں.


نمبر {۰۲} نیز حق تعالی غنی مطلق ہے کسی امر میں کسی چیز کا محتاج نہیں اور عرض اپنے وجود میں محل کا محتاج ہوتا ہے.


نمبر {۰۳} نیز عرض کا وجود پائیدار نہیں ہوتا اور الله تعالی تو واجب البقاء اور دائم الوجود اور مستحیل العدم ہے ہے جیسا کہ کلام پاک میں ہے [کل من علیها فان ، ویبقی وجه ربك ذوالجلال والاکرام] - {سورۃ الرحمن : آیت نمبر 26 تا 27 پارہ 27]‏‎


نمبر {۰۴} نیز اعراض ہر وقت بدلتے رہتے ہیں اور حق تعالی کی ذات و صفات میں تغیر و تبدل کو کہیں راہ نہیں.


نمبر {06} الله تعالی جوہر نہیں

نمبر {۰۱} اور الله تعالی جوہر اس لئے نہیں ہوسکتا کہ جوہر کے معنی اصل شئے کے ہیں یعنی جو کسی چیز کی اصل ہو اور جواہر فردہ ان اجزاء لطیفہ کو کہتے ہیں جن سے جسم مرکب ہو اور وہ اجزاء جسم کی اصل ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ بات الله تعالی کے لئے محال ہے کہ وہ کسی جسم وغیرہ کا جوہر اور اصل اور جز بنے.


نمبر {۰۲} نیز جواہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس پر حرکت اور سکون وارد اورطاری ہوسکے اورلون اور طعم یعنی رنگت اور مزہ کے ساتھ موصوف ہو اور یہسب چیزیں حادث ہیں اور جواہر کے لوازم ہیں اور ظاہر ہے کہ جو چیز حوادث سے خالی نہ ہوسکتی ہو وہ بھی ضرور حادث ہوگی تو جب یہ حوادث جوہر کے لئے لازم ہوں گے تو لامحالہ جوہر بھی حادث ہوگا پس معلوم ہوا کہ الله تعالی جوہر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ حوادث اور تغیرات سے پاک اور منزہ ہے.


نمبر {07} خدا تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں

نمبر {۰۱} نیز الله تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں - اس لئے کہ صورت اور شکل تو جسم کی ہوتی ہے اور الله تعالی تو صورتوں اور شکلوں کا خالق ہے -"ھو الله خالق الباری المصور".


نمبر {۰۲} نیز صورتیں اور شکلیں حادث میں بدلتی رہتی ہیں.


نمبر {۰۳} نیز جس چیز کے لئے صورت اور شکل ہوتی ہے وہ محدود اور متناہیہوتی ہے ، اور الله تعالی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اور خدا کے لئے کوئی حد اور نہایت نہیں.


نمبر {08} خدا تعالی کے لئے کوئی مکان اور زمان اور جہت اور سمت نہیں

نیز حق تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی زمان ہے اور نہ اس کے لئے کوئی سمت اور جہت ہے کیونکہ وہ غیر محدود ہے اور مکان اور جہت محدود کے لئے ہوتے ہیں اور مکان اور زمان مکین کو احاطہ کئے ہوئے اور گھیرے ہوئے ہوتے ہیں - اور الله تعالی ہی سب کو محیط ہے - زمین و زمان اور کون و مکان سے اسی کے مخلوق ہیں اور اس کے احاطہ قدرت میں ہیں ، "کان الله ‎ولم یکن شیء غیرہ"یعنی ازل میں صرف خدا تعالی تھا اور اس کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی - اسی نے اپنی قدرت سے زمین اور مکین اور مکان کو پیدا کیا جس طرح وہ مکان اور زمان کے پیدا کرنے سے پہلے بغیر مکان اور بغیر جہت کے تھا اب بھی اسی شان سے ہے جس شان سے وہ پہلے تھا "ھو الآن کما کان"‎ نیز جہات امور اضافیہ اور نسبیہ میں سے ہیں مثلآ فوق اور تحت اور یمین اور شمال یے سب چیزیں حادث ہیں نسبت کے بدلنے سے ان میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے - ایک شئے کسی اعتبار سے فوق ہے اور کسی کے اعتبار سے تحت ہے پس یہ کیسے ممکن ہے کہ حق تعالی ازل میں کسی جہت یا سمت کے ساتھ مخصوص ہو - جہت اور سمت حادث کے لئے ہوتی ہے ازلی کے لئے نہیں ہوتی پس ثابت ہوا کہ الله تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی جہت ہے اور نہ کوئی سمت ہے مکان اور جہت اور سمت تو محدود اور متناہی کے لئے ہوتی ہے اور الله تعالی کے لئے نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی نہایت ہے.


ایں جہاں محدود آں خود بیحد است


اس کی ہستی سمت اور جہت اور مکان اور زمان کی حدود اور قیود سے پاک ہےلہذا خدا تعالی کے متعلق یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ وہ کہاں ہے اور کب سے ہے اس لئے کہ وہ مکان اور زمان سب سے سابق اور مقدم ہے - مکان اور زمان سب اسی کی مخلوق ہے ، وہ تو لامکان اور لازمان ہے - اس کی ہستی مکان اور زمان پر موقوف نہیں بلکہ زمان اور مکان کی ہستی اس کے ارادہ پر موقوف ہے - مشبہ اور مجسمہ یہ کہتے ہیں کہ الله تعالی کے لئے جہت ہے اور جہت فوق میں ہے اور الله تعالی عرش پر متمکن ہے "سبحانه وتعالی عما یصفون".


نمبر {09} صفات متشابہات جیسے استواء علی العرش وغیرہ کی تحقیق

علماء اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ براہین قطعیہ اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ الله تعالی مخلوق کی مشابہت اور مماثلت سے اور کمیت اور کیفیت اور مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے لہذا جن آیات اور احادیث میں حق جل شانہ کی ہستی کو آسمان یا عرش کی طرف منسوب کیا ہے ان کا یہ مطلب نہیں کہ آسمان اور عرش الله کا مکان اور مستقر ہے بلکہ ان سے الله جل شانہ کی شان رفعت اور علو اور عظمت اور کبریائی کو بیان کرنا مقصود ہے اس لئے کہ مخلوقات میں سب سے بلند عرش عظیم ہے - ورنہ عرش سے لے کر فرش تک سارا عالم اس کے سامنے ایک ذرہ بے مقدار ہے وہ اس ذرہ میں کیسے سماسکتا ہے - سب اسی کی مخلوق ہے اور مخلوق اور حادث کی کیا مجال کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے.


پر تو حسنت نہ گنجد در زمین و آسمان

در حریم سینہ حیرانم کہ چوں جاکردہ


خدا تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ عرش پر یا کسی جسم پر متمکن اور مستقر ہو جس طرح بادشاہ کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہے - خدا تعالی کی نسبت ایسا کہنا جائز نہیں اس لئے کہ خدا تعالی کوئی مقداری نہیں کیونکہ کسی جسم پر وہی چیز متمکن ہوسکتی ہے کہ جو ذی مقدار ہو اور اس سے بڑی ہو یا چھوٹی ہو یا اس کے برابر ہو اور یہ کمی بیشی بارگاہ خداوندی میں محال ہے - عقلآ یہ ممکن نہیں کہ کوئی جسم مخلوق جیسے مثلآ عرش کہ وہ اپنے خالق کو اپنے اوپر اٹھاسکے اور پھر فرشتے اس جسم کو [عرش کو] اپنے کاندھوں پر اٹھائیں کما قال تعالی"ویحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية" ترجمہ "اور آپ کے پروردگا کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے" سورۃ الحاقہ : آیت 17 پارہ 19.


عقلآ یہ بات محال ہے کہ کوئی مخلوق فرشتہ ہو یا جسم ہو وہ اپنے خالق کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے - خالق کی قدرت کو تھامے ہوئے ہے- مخلوق میں قدرت نہیں کہ وہ خالق کو اٹھاسکے اور تھام سکے اور جن آیات میں الله تعالی کی شان علو اور فوقیت کا ذکر آیا ہے ان سے علو مرتبہ اور فوقیت قہر و غلبہ مراد ہے اور مکانی فوقیت مراد نہیں ، کما قال تعالی "وھو القاھر فوق عبادہ" - "وھو العلی الکبیر" "وله المثل الاعلی اور جیسے "‎وفوق کل ذی علم علیم" اور انا فوقھم قاھرون" میں فوقیت مرتبہ اور فوقیت قہر اور غلبہ مراد ہے - اور جن آیات اور احادیث میں الله تعالی کے قرب اور بعد کا ذکر آیا ہے - اس سے مسافت کے اعتبار سے قرب اور بعد مراد نہیں ، بلکہ معنوی قرب اور بعد مراد ہے اور نزول خداوندی سے نزول رحمت یا خدا تعالی کا بندوں کی طرف متوجہ ہونا مراد ہے ،[معاذ الله] خدا کا بلندی سے پستی کی طرف اترنا مراد نہیں اور دعاء کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا اس لئے نہیں کہ آسمان ، الله تعالی کا مکان ہے بلکہ اس لئے ہے کہ آسمان قبلہ دعاء ہے جیسا کہ خانہ کعبہ قبلہ نماز ہے - خانہ کعبہ کو جو بیت الله کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ الله تعالی کی عبادت کا گھر ہے اور [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ خانہ کعبہ الله تعالی کا مکان ہے اور اس کے رہنے کی جگہ ہے - سمت قبلہ عابدین کی عبادت کے لئے مقرر کی گئی - [معاذالله] معبود کی سمت نہیں پس جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے ویسے ہی آسمان دعاء کا قبلہ ہے اور دونوں صورتوں میں الله تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر یا آسمان کے اندر متمکن ہو ، خلاصہ کلام یہ کہ ان اوصاف کو اوصاف تسبیحی کہتے ہیں اور اوصاف تنزیہی اور اوصاف جلال بھیکہتے ہیں اور علم و قدرت اور سمیع و بصر جیسے اوصاف کو اوصاف تحمیدی اوراوصاف جمال کہتے ہیں.




نمبر {10} کیا عرش خدا سے بڑا ہے؟

رئیس المناظرین ، متکلم اسلام ، وکیل احناف ، ترجمان اہلسنت حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ میں مکہ سے مدینہ جا رہا تھا ۔ راستہ میں غیرمقلدین شرارتیں کر رہے تھے ، بس میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ روضہ پاک کی زیارت کی نیت نہ کرنا مسجد نبوی کی نیت کرنا ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا : یہ آپ کو گمراہ کررہے ہیں آپ روضہ پاک کی ہی نیت کریں مسجد میں تو جانا ہی جانا ہے ۔ وہ حضرات مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله کی طرف دیکھنے لگے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ لوگ مکہ سے مدینہ کیوں جاتے ہیں ایک لاکھ کا ثواب چھوڑ کر پچاس ہزار کا ثواب لینے کے لئے؟ یہ کوئی عقل مندی تو نہیں کہ اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کو حاصل کیا جائے وہ بھی اتنا لمبا سفر کرکے اور اتنے پیسے لگا کر ، یہ اتنا نقصان کیوں کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ وہاں کوئی ایسی چیز ضرور ہے جو بیت الله میں بھی نہیں ہے ، جس کی شان بیت الله سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ وہ خاک پاک جو جسد اطہر سے مس کر رہی ہے وہ درجہ میں عرش اعظم اور بیت الله دونوں سے بڑھ کر ہے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا :کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا سے مصطفی کے مکان کو بلند کردیا ہے اس لئے کہ خدا لامکان ہے ، اگر خدا کا مکان ہوتا تو ہم اسے مصطفیٰ  کے مکان سے اعلیٰ سمجھتے ، لیکن چونکہ خدا لامکان ہے اس لئے جتنے مکان والے ہیں ان میں سب سے زیادہ شان مصطفی کے مکان کی ہے ۔ ایک غیرمقلد جلدی سے بولا "الرحمٰن علی العرش استویٰالله کا بھی مکان ہے عرش اعظم - حضرت محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے جواب ميں فرمایا : آپ کو مکان ، مکین کا معنی بھی آتا ہے؟ مکان ہمیشہ مکین سے بڑا ہوتا ہے اسی لئے تو آدمی اس کے اندر بیٹھتا ہے ۔ کیا عرش خدا تعالیٰ سے بڑا ہے اور وہ خدا کو گھیرے ہوئے ہے؟ غیرمقلد نے کہا : بے شک عرش بڑا ہے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا : پھر تو نماز کے شروع میں ’’الله اکبر‘‘ کیوں کہتا ہے ’’العرش اکبر‘‘ کیوں نہیں کہتا؟ جب تو الله اکبر سے نماز شروع کرتا ہے پھر تو بڑا بے ایمان ہے کہ تجھے الله سے بھی بڑی چیز مل گئی ہے پھر بھی تو الله اکبر ہی کہتا ہے ۔ وہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا.
[علمی معرکے اور مجلسی لطیفے: صفحہ نمبر 82 ‎تا 83، از : حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه اللہ]
=======================
بری یا گندی جگہوں پر اللہ کی ذات و صفات کا تصور:
فرقہ سلفیہ لامذہبیہ ایک عقلی ڈھکوسلہ ضرور دیتے ہیں کہ
اگر اللہ ہر جگہ ہے تو پھر کیا اللہ گندی جگہوں پر بھی ہے بیت الخلا میں بھی ہے؟
حالانکہ یہ اعتراض تب بنے جب کوئی اللہ کی ذات کیلئے حلول (مکس) یا اتحاد (جڑ) کا قائل ہو جیسا کہ جہمیہ ہیں جو کہ حلول اور اتحاد کے قائل ہیں انہیں تو ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں مگر جو اس کا قائل نہیں اس پر یہ اعتراض نہیں پڑتا اب ہم تو یہ کہتے نہیں کہ اللہ مخلوق میں مکس ہو گیا ہے یا اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔کیونکہ اللہ اس سے پاک ہے اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔
لیکن یہ فرقہ چونکہ اللہ کی ذات کو ایسا ہی حقیر سمجھتا ہے کہ اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد ہو جائے گا اس لئے یہ اعتراض پھر ہم پر کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ انہی پر جاتا ہے نزول الی السماء کے وقت اللہ کی ذات کا سب سے نچلے آسمان پر مانتے ہیں ساتھ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی ذات مخلوق کے پاس ہو تو حلول اور اتحاد کے سوا کوئی راستہ نہیں اسلئے یہ فرقہ یہاں حلولی جہمی ہوجاتا ہے۔
یاد رہے دنیا کی چاہے گندی اور بری سے بری جگہ ہی کیوں نہ ہو وہ جہنم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور جہنم کے متعلق خود نبیﷺ فرماتے ہیں وہاں اللہ تعالٰی قیامت کے روز اپنا قدم اس میں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ ، تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ » بَاب الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ ... رقم الحديث: 6196(6661)]
حضرت انس بن مالک (رض) بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا دوزخ لگاتار یہی کہتی رہے گی ھل من مزید یعنی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو پھر دوزخ کہے گی تیری عزت کی قسم بس اور اس کا ایک حصہ سمٹ کر دوسرے حصے سے مل جائے گا۔

لامذہبیہ اللہ کی ان صفات کو اللہ کی شان کے لائق نہیں چھوڑتے بلکہ وہ انہیں اس کی ذات کے جز اعضا تصور کرتے ہیں۔
اور ان لامذہبیہ کے نزدیک اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد لازم آئے گا۔
اب ان کے اس عقیدے سے یہ بات لازم آتی ہے کہ یہ اس وقت جہنم میں اللہ کی ذات کو حلول کے ساتھ مانیں یا اتحاد کے ساتھ اب یہ بتائیں کہ جہنم میں یہ کس کے ساتھ مانیں گے حلول کے ساتھ یا اتحاد کے ساتھ؟
ہمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ یہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا علم ہر جگہ ہے اب ہم ان سے پوچھتے ہیں اگر اللہ کی صفت علم ہر جگہ ہے تو کیا اللہ کی یہ صفت بیت الخلا میں بھی ہے؟
کلام اللہ قرآن مجید اللہ کی صفت ہے جو کہ حافظ کے دل میں محفوظ ہوتی ہے کیا جب حافظ بیت الخلا جاتا ہے تو کیا وہ اللہ کی صفت کو ساتھ لے کر جاتا ہے؟
بنی آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے
نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ»
ہر دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے چاہیں تو اسے سیدھا فرما دیں اور چاہیں تو ٹیڑھا کر دیں
(سنن ابن ماجہ ج 1 حدیث نمبر 199)
ایک اور حدیث ہے
«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»
تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم ج 4 حدیث نمبر 2657)
سلفیوں کے ایک مولوی خلیل ہراس نے لکھا ہے کہ اللہ کی انگلیاں اس کے ہاتھ کا جز ہیں۔
خليل هراس كتاب التوحيد لابن حزيمه پر اپني تعليقات ميں لكهتے ہيں
ص63 :
القبض إنما يكون باليد حقيقة لا بالنعمة . 
فإن قالوا : إن الباء هنا للسببية أي بسبب إرادته الإنعام .
قلنا لهم : وبماذا قبض ؟؟ فإن القبض محتاج إلى آلة فلا مناص لهم لو أنصفوا أنفسهم .. )) اهـ !
خليل هراس الله كي صفت "يد " كو نعمت كے معني ميں مؤول كرنے پر رد كرتے هوئے لكهتا ہے :
”كہ قبض يعني پكڑنا حقيقة هاتھ سے ہوتا ہے نہكه نعمت سے ، اگر كوئي کہے کہ باء سبب كے لیئے ، يعني الله نے نعمت كرنے كے ارادے سے (ایسا کیا )تو هم كہتے ہيں : كه پهر وه پكڑتا كس چيز سے هے ،كيونكه قبض اور پكڑنا كسي آلے كا محتاج هے تو ان كے ليے خلاصي كا كوئي راسته نهيں هے اگر يه لوگ اپنے ساته انصاف كريں“
ياد رهے كہ جناب كي يہ گفتگو الله سبحانه وتعالي كے هاته اور پكڑنے كے بارےہے ، يهاں الله كے پكڑنے كو بهي كسي "آلے يا اوزار يا محتاج " كها پس ان
كے هاں الله كي صفت يد الله تعالي كے ليے پكڑنے كا آله هے اور الله كا پكڑنا اسي هاته كا محتاج هے نعوذبالله ،، الله الصمد
دوسري جگه ارشاد فرماتے ہيں اسي التوحيد كے تعليقات ميں :
ويقول 89 :
(( ومن أثبت الأصابع لله فكيف ينفي عنه اليد والأصابع جزء من اليد ؟؟!! )) اهـ
ترجمه : اور جس نے الله كے ليے انگليوں كا اثبات كيا وه كس طرح الله سے هاته كي نفي كرتا هے حالانكه انگلياں هاته هي كا جزء هے (نعوذبالله)
يهاں الله تعالي كي انگليوں كو اس كے هاته كا جزء كها ، كسي آيت يا حديث مبارك ميں يه بات همارے علم ميں نهيں كه الله كي انگلياں اس كے هاته كا جزء هيں۔
اب یمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ کیا آدمی جب بیت الخلا جاتا ہے تو کیا اللہ کی انگلیوں کو باہر چھوڑ کر جاتا ہے؟ دوسرا یہ کہ اللہ کی ذات کو آپ لوگ صرف عرش کے اوپر ٹھہراتے ہیں اب اللہ کی ذات اوپر اور اس کا ہاتھ اور انگلیں نیچے ؟
یہ اعتراض خود فرقہ اہل حدیث پر جاتا ہے۔
1
فرقہ اہل حدیث کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی
لکھتے ہیں
”ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا اور ہر چیز کی ہر وقت خبر رکھنا خاص ذات وحدہ لاشریک لہ باری تعالٰی کے واسطے ہے“۔
(فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 6)
2
فرقہ اہلحدیث کے شیخ السلام ثناء اللہ امرتسری الجہمی
لکھتے ہیں
” اللہ بذات خود اور بعلم خود ہر چیز اور ہر کام پر حاضر ہے“۔
(تفسیر ثنائی ص 347 )
3
محقق اہلحدیث قاضی شوکانی الجہمی
لکھتے ہیں
وكما نقول هذا الاستواء والكون في تلك الجهة فكنا نقول في مثل قوله تعالي وهو معكم اينما كنتم ۔۔۔۔۔ ولا نتكلف بتاويل ذالك كما يتكلف غيرنا بان المراد بهذا الكون المعنيت هوك‍ن العلم و عليتهفان هزا شعبة من شعب التاويل تخالف مذاهب السلف و تبائن ماكان عليهه الصحابة و تابعوهم رضوان اللہ عليهم اجمعين
ترجمہ
”جیسا ہم استواء اور جہت فوق کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں ویسا ہی ان اقوال خدا وندی هو معكم وغيرہ ”وہ تمہارے ساتھ“ ہے کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔۔ ہم اس کی تاویل علم کے ساتھ یا نصرت کے ساتھ کرنے میں تکلف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ ساتھ ہونے سے اس کا علم مراد ہے کیونکہ یہ بھی تاویل کی ایک شاخ ہے جو مذہب صحابہ ؓ و تابعین وغیرہ سلف کے خلاف ہے “
(التحف ص 16 بحوالہ فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 202)
ان کے بارے میں کیا خیال ہے آج کے لامذہبوں کا ؟
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی چاہے اچھے سے اچھی یا بری سے بری تمام مخلوقات کا خالق ہے لیکن یہ گواہی دینے کے بعد اس کی شان گھٹانے کی غرض سے اس کی ہر ہر مخلوق کے متعلق یہ پوچھے کہ کیا اس کا بھی اللہ خالق ہے اس کا بھی اللہ خالق ہے درست نہیں۔
یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ”اللہ اکبر“ اللہ سب سے بڑا ہے مگر یہ اقرار کرنے کے بعد کوئی احمق کہے کہ کیا اللہ میرے ہاتھ سے بڑا ہے میری انگلیوں سے بڑا ہے کیا فلاں چیز سے فلاں جانور سے بھی بڑا ہے قطعاً درست نہیں۔ ان سب کا ایک ہی جواب ہے کہہ دو کہ اللہ سب سے بڑا ہے بس۔
بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے ؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کا جسم ہی نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی بھی نہیں ۔اللہ کریم دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔
نوٹ :
اللہ کو ہر جگہ کہنے سے ہماری مراد اللہ کیلئے کسی جگہ کا اثبات کرنا نہیں بلکہ کسی بھی جگہ کے مقرر کرنے کی نفی کرنی ہے۔

اللہ کی ذات کے متعلق ہمارا وہی عقیدہ ہے جو کہ تمام اہلسنت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات موجود بلا مکان و جگہ ہے جیسا تمام مخلوقات کی تخلیق سے پہلے تھی اب بھی ویسے ہی ہے (ملاحظہ ہو اشعریہ ماتریدیہ کا منہج اور فرقہ سلفیہ سے ان کا اختلاف اختلاف نمبر 2) اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔

کیا اللہ تعالٰی صرف عرش پر ہیں؟ الإمام الأعظم أبو حنيفة رحمہ الله فرماتے ہیں

الإمام الأعظم أبو حنيفة رحمہ الله فرماتے ہیں کہ 
ونقر بأن الله سبحانه وتعالى على العرش استوى من غير أن يكون له حاجة إليه واستقرار عليه   

ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ الله سبحانه وتعالى عرش پرمُستوی ہوا لیکن وه عرش کا محتاج نہیں اورنہ وہ عرش پر ٹھہر  گیا ہے“
 (كتاب الوصية (ص ۸۷ :سند ص۲۵   :صحیح)، ضمن مجموعة رسائل أبي حنيفة بتحقيق الكوثري (ص/ 2) ، وملا علي القاري 

في شرح الفقه الاكبر (ص/ 75) عند شرح قول الامام: ولكن يده صفته بلا كيف)

الإمامالأعظم أبو حنیفة ؒ(150ھ)فرماتے ہیں کہ
أَيْن الله تَعَالَى فَقَالَ يُقَال لَهُ كَانَ الله تَعَالَى وَلَا مَكَان قبل ان يخلق الْخلق وَكَانَ الله تَعَالَى وَلم يكن أَيْن وَلَا خلق كل شَيْء .[ الفقه الأكبر :باب الِاسْتِثْنَاء فِي الْإِيمَان (ص/161)،العالم والمتعالم (ص/57)]
 جب تم سے کوئی پوچھے  کہ اللہ (کی ذات )کہاں ہے تو اسے کہو کہ اللہ وہیں ہے جہاں  مخلوق کی تخلیق سے پہلے جب کوئی مکان نہیں تھا صرف اللہ  موجود تھا۔ اوروہی  اس وقت موجود تھا جب  مکان مخلوق نا م کی کوئی شے ہی نہیں تھی۔
یعنی امام ابو حنیفہؒ فرما رہے ہیں کہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے صرف اللہ ہی کی ذات  تھی اور  اس کے  سوا کچھ بھی نہ تھا  جیسا اللہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے تھا(یعنی موجود بلا مکان) اب بھی ویسا ہی ہے  اور یہی ہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ۔


 جو لوگ کہتے ہیں اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا ان لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب  عرش استویٰ کے بعد ہے وہاں اللہ کی ذات عرش استویٰ سے پہلے موجود نہ تھی؟
                                                                                               
 ★ وقال الإمام الحافظ الفقيه أبو جعفر أحمد بن سلامة الطحاوي الحنفي (321 ھ) في رسالته 
(متن العقيدة الطحاوية)ما نصه: "وتعالى أي الله عن الحدود والغايات والأركان والأعضاء والأدوات، لا تحويه الجهات الست كسائر المبتدعات " اهـ. 

امام الطحاوي الحنفي كبار علماء السلف میں سے ہیں اپنی کتاب (العقيدة الطحاوية) میں یہ اعلان کر رہے کہ
 ”الله تعالی ” مکان و جھت“ سے پاک ومُنزه ومُبرا ہے“
 (متن العقيدة الطحاوية صفحہ ۱۵)
یاد رہے  اللہ تعالٰی کی ذات کا کہیں انکار کرنے سے اللہ تعالٰی کیلئے جسم و جھت کا عقیدہ لازم آتا ہے اللہ جسم جھت  مکان سے بلکل پاک ہےاور اللہ تعالٰی کو موجود بلامکان ماننے سے ہی اللہ کے لئے جسم ، جھت  ، مکان اور حدود کی نفی ہوتی ہے۔
امام بيهقي رحمہ الله فرماتے ہیں کہ
وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي نَفْيِ الْمَكَانِ عَنْهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ» . وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ". وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فَوْقَهُ شَيْءٌ وَلَا دُونَهُ شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ فِي مَكَانٍ. (الأسماء والصفات للبيهقي ج۲ص۲۸۷)
ہمارے بعض اصحاب اللہ کو مکان سے پاک ثابت کرنے کیلئے نبیﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ تو (اللہ) الظاہر مطلب کوئی چیز اسکے اوپر نہیں الباطن یعنی کوئی چیز اس کے نیچے نہیں اسلئے اللہ کے اوپر کچھ نہیں اور اسکے نیچے کچھ نہیں تو اللہ مکان سے پاک ہے
فائدہ: اس سےمعلوم ہو گیا کہ اللہ کی ذات موجود بلامکان ، لامحدود    اور نہ ختم ہونے والی ہےجس سے نہ اس کے اوپر  کسی   اور شے کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ اس کے نیچے کسی شے کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ کہا جائے کہ یہاں سے اللہ کی ذات ختم ہو کر یہ چیز شروع ہوتی ہے۔اِس سے ان لوگوں کے عقیدے کی بھی نفی ہو گئی جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ صرف عرش پر ہے کیونکہ اگر کہا جائے کہ اللہ صرف عرش پر ہے تو پھر  کہنا پڑے گا کہ  اللہ کے اوپر تو کچھ نہیں لیکن نیچے عرش ہے۔
القاضي أبو بكر محمد الباقلاني المالكي الأشعريؒ (403ھ)فرماتے ہیں کہ
ولا نقول إن العرش لهء أي اللهء قرار ولا مكان، لأن الله تعالى كان ولا مكان، فلما خلق المكان لم يتغير عما كان.[ الانصاف فيما يجب اعتقاده ولا يجوز الجهل به (ص/65)]
 ہم یہ نہیں کہتے کہ عرش الله تعالی کا  ٹھہرناہے یا مکان ہے کیونکہ الله تعالی تواس وقت بھی موجود تھا جب مکان نہیں تھا ، پھرجب الله تعالی نے مکان کوپیدا کیا تووه جیسا تھا ( یعنی موجودبلامکان ) اب بھی ویسا  ہی ہے
فائدہ: اس سےمعلوم ہو گیا کہ اللہ کی ذات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی  جب اللہ تعالٰی نے کسی بھی مخلوق کو پیدا نہیں کیا تھا جب صرف اللہ ہی کی ذات موجود تھی اور اس کے سوا کوئی اور دوسری چیز موجود نہیں تھی نہ ہی کسی ایسی چیز کا تصور تھا جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا  تھی تب بھی اللہ کی ذات ویسی ہی موجود تھی پھر جب اس نے مخلوقات پیدا کیں اب بھی اس کی ذات ویسی ہی موجود ہے۔مخلوقات کو پیدا کرنے سےاللہ کی ذات  میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
اس سے اُن لوگوں کا بھی رد ہو گیا جو کہتے ہیں اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا اِن لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب ہے وہ جگہ عرش استویٰ سے پہلے اللہ کی ذات سے خالی تھی؟

أبو القاسم، ابن جزيؒ (المتوفى: 741ھ) فرماتے ہیں کہ
وَهُوَ الْآن على مَا عَلَيْهِ كَانَ.
[القوانين الفقهية ج۱ ص۵۷ الْبَاب الثَّانِي فِي صِفَات الله تَعَالَى عز شَأْنه وبهر سُلْطَانه]
 اللہ کی ذات جیسا (مخلوقات کو پیدا کرنے سے) پہلی تھی اب بھی ویسی ہی ہے

جو لوگ کہتے ہیں اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا ان لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب  عرش استویٰ کے بعد ہے وہاں اللہ کی ذات عرش استویٰ سے پہلے موجود نہ تھی؟


 عبد القاهر بن طاهر البغدادي التميميؒ(المتوفى: 429ھ) فرماتے ہیں:
أواجمعوا على انه لَا يحويه مَكَان وَلَا يجرى عَلَيْهِ زمَان خلاف قَول من زعم من الشهامية والكرامية انه مماس لعرشه.
[ الفرق بين الفرق(ص/321)]

”اس  پر اجماع ہے کہ اللہ تعالٰی کو کسی مکان نے گھیرا نہیں نہ اس پر زمان یعنی وقت کا گذر ہوتا ہے
 بخلاف اس فرقہ   ہشامیہ اور کرامیہ  کے اس قول کے کہ اللہ (صرف)عرش پر ہے۔
إمام أهل السنة أبو الحسن الأشعري (324 ھ)فرماتے ہیں:
" كان الله ولا مكان فخلق العرش والكرسي ولم يحتج إلى مكان، وهو بعد خلق المكان كما كان قبل خلقه " اهـ أي بلا مكان ومن غير احتياج إلى العرش والكرسي. نقل ذلك عنه الحافظ ابن عساكر نقلا عن القاضي أبي المعالي الجويني۔۔.[تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري(ص/150 )]
” الله تعالی موجود تھا اورمکان نہیں تھا پس عرش وكرسي کوالله تعالی نے پیدا کیا اور وه مکان کا محتاج نہیں ہے اوروه مکان کوپیدا کرنے کے بعد بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ مکان کو پیدا کرنے سے پہلے تھا “۔
مخلوق کی تخلیق سے پہلے صرف اللہ ہی کی ذات  تھی اور  اس کے  سوا کچھ بھی نہ تھا  جیسا اللہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے تھا(یعنی موجود بلا مکان) اب بھی ویسا ہی ہے  اور یہی ہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ۔

 اس سے ان  لوگوں کا بھی رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ  اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا ان لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب  عرش استویٰ کے بعد ہے وہاں اللہ کی ذات عرش استویٰ سے پہلے موجود نہ تھی؟


فرقہ مجسمہ اور مشبہہ یہ کہتے ہیں کہ عرش ایک قسم کا تخت ہے اور الله تعالی اس پر مستوی ہے یعنی اس پر مستقر اور متمکن ہے اور فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور "الرحمن علی العرش استوی" ترجمہ : بڑی رحمت والا عرش پر مستوی ہے [سورۂ طہ آیت 5 پارہ 16] کے ظاہر لفظ سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ استواء علی العرش سے عرش پر بیٹھنا مراد ہے.


اور بعض (فرقہ جھمیہ) کہتے ہیں کہ الله تعالی ہر مکان میں (بالذات) موجود ہے اور ہر جگہ میں موجود ہے اور الله تعالی کے اس قول سے حجت پکڑتے ہیں: 


"مایکون من نجوی ثلاثة الا ھو رابعهم" [سورۃ المجادلۃ آیت 7 پارہ 28]

ترجمہ : کوئی سرگوشی تین آدمیوں کی ایسی نہیں ہوئی جس میں چوتھا وہ (الله) نہ ہو.


اور حق تعالی کے اس قول سے "ونحن اقرب الیه من حبل الورید" [سورۂ ق آیت 16 پارہ 26] 
ترجمہ : ہم انسان کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہے.


اور "ونحن اقرب الیه منکم ولکن لاتبصرون" [سورہ الواقعہ آیت 75 پارہ 27] 
ترجمہ : اور ہم اس شخص کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں.


اور "وھو الذی فی السمآء اله وفی الارض اله" [سورۂ الزخرف آیت 84 پارہ25] ترجمہ : اور وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی قابل عبادت ہے اور زمین میں بھی قابل عبادت ہے - سے دلیل لاتے ہیں.


امام ابن کثیر ، اس آیت قرآنی : اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو [سورہ الانعام :٤] کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے ، نعوذ باللہ. اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے، آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی ، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی ، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں ، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) 43۔ الزخرف:84) یعنی وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے ، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے ، اب اس آیت کا اور جملہ آیت (يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ) 6۔ الانعام:3) خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ، جانتا ہے ۔ پس یعلم متعلق ہو گا فی السموات وفی الارض کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی آیت (وھو اللہ یعلم سر کم و جھر کم فی السموات وفی الارض و یعلم ما تکسبون) ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت (وھو اللہ فی السموات) پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت (وفی الارض یعلم سر کم و جھر کم) امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف  ، ہے ۔[تفسیر ابن کثیر : سورہ الانعام ، آیت # ١]
اہل سنت کہتے ہیں کہ قران کریم میں اس قسم کی جس قدر آیتیں وارد ہوئی ہیں ان سے حق شانہ کے کمال علو اور رفعت شان کو اور اس کا احاطۂ علم و قدرت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ الله تعالی کا علم اور قدرت تمام کائنات کو محیط ہے جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے "قلب المؤمن بین اصبعین من اصابع الرحمن" ترجمہ : مؤمن کا دل خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہے سو اس سے بالاجماع متعارف اور ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں بلکہ اس سے قدرت علی التقلیب بیان کرنا ہے کہ "قلب" خدا کے اختیار میں ہے جدھر چاہے پھیردے - اور حدیث میں حجر اسور کے متعلق یہ آیا ہے "انه یمین الله فی الارض" کہ حجر اسود زمین الله کا دایاں ہاتھ ہے تو یہاں بھی بالاتفاق ظاہری معنی مراد نہیں ، بلکہ معنی مجازی مراد ہیں کہ حجر اسود کو بوسہ دینا گویا کہ الله سے مصافحہ کرنا اور اس کے دست قدرت کو بوسہ دینا ہے - جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے "ان الذین یبایعونك انما یبایعون الله" [سورۂ الفتح آیت 15 پارہ 26] ترجمہ : کہ جو لوگ نبی کریم  کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہیں گویا کہ وہ الله سے بیعت کرتے ہیں ، یہاں بھیبالاتفاق معنی مجازی مراد ہیں [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ خدا اور رسول دونوں ایک دوسرے کا عین ہیں - اسی طرح سمجھو کہ استواء علی العرش سے ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں کہ الله تعالی عرش پر بیٹھا ہوا ہے بلکہ اس سے الله کی علو شان اور رفعت مرتبہ کا بتلانا ہے - کما قال تعالی "رفیع الدرجات ذوالعرش" [سورۂ المومن آیت 15 پارہ 24] ترجمہ : وہ رفیع الدرجات ہے وہ عرش کا مالک ہے اور اسی طرح جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ الله تعالی ہر شب آسمانی دنیا پر نزول فرماتا ہے سو [معاذ الله] اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کوئی جسم ہے کہ عرش سے اتر کر آسمانی دنیا پر آتا ہے بلکہ اس خاص وقت میں اس کی رحمت کا نزول یا کسی رحمت کے فرشتے کا آسمانی دنیا پر اترنا مراد ہے اور الله تعالی کا بندہ سے قرب اور بعد باعتبار مسافت کے مراد نہیں بلکہ قرب عزت و کرامت اور بعد ذلت و اہانت مراد ہے - مطیع اور فرمانبردار بندہ الله سے بلا کیفیت اور بلا کی مسافت کے قریب ہے اور نافرمان بندہ بلا کیفیت اور بلا مسافت کے الله سے بعید ہے.


اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ الله تعالی مکان اور جہت اور سمت سے پاک اور منزہ ہے - اس لئے کہ جو چیز کسی مکان میں ہوتی ہے تو وہ محدود ہوتی ہے اور مقداری ہوتی ہے اور مکین مقدار میں اور مسافت میں ، اور مساحت میں مکان سے کم ہوتا ہے اور الله تعالی مقدار سے اور مساحت سے اور مسافت سے اور کمی اور زیادتی سے منزہ ہے اور جو چیز سمت اور جہت میں ہوتی ہے تو وہ اس سمت اور جہت میں محصور اور محدود ہوتی ہے اور الله تعالی اس سے بھی منزہ ہے - مکان اور زمان اور جہت اور سمت سب الله تعالی کی مخلوق ہے ازل میں صرف الله تعالی تھا اور اس کے سوا کوئی شے نہ تھی - نہ مکان اور نہ زمان اور نہ عرش اور کرسی اور نہ زمین اور آسمان اس نے اپنی قدرت سے عرش اور کرسی اور زمیں و آسمان کو پیدا کیا وہ خداوند قدوس ان چیزوں کے پیدا کرنے کے بعد اسی شان سے ہے کہ جس شان سے وہ مکان اور زمان اور زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے تھا - ہم اہل سنت ایمان لائے اس بات پر کہ بلا کسی تشبیہ اور تمثیل کے اور بلا کسی کمیت اور کیفیت کے اور بلا کسی مسافت اور مساحت کے رحمن کا "استواء" عرش پر حق ہے جس معنی کا الله تعالی نے ارادہ فرمایا ہے اور جو اس کی شان کے لائق ہے جس کا علم الله ہی کو ہے [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے ، ایسا ہی الله تعالی بھی عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور عرش پر مستقر اور متمکن ہے اس لئے کہ تمکن اور استقرار شان حادث اور ممکن کی ہے - مکان مکین کو محیط ہوتا ہے اور عرش تو ایک جسم عظیم نورانی ہے جو الله کا مخلوق ہے اس کی کیا مجال کہ خداوند ذوالجلال کو اٹھاسکے [معاذ الله] ، عرش خدا تعالی کو اٹھائے ہوئے نہیں بلکہ الله کا لطف اور قدرت عرش کو اٹھائے ہوئے اور تھامے ہوئے ہے.


استواء علی العرش کے ذکر سے خداوند ذوالجلال کی علو شان اور بے مثال رفعت کو بیان کرنا ہے ، اور "وھو الذی فی السمآء اله وفی الارض اله" سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ آسمان و زمیں میں سب جگہ اسی کی عبادت کی جاتی ہے اور وہی آسمان و زمیں میں متصرف ہے اور سب جگہ اسی کا حکم چلتا ہے - آسمان و زمین اس کی عبادت اور تصرف کا اور اس کی حکمرانی کا ظرف ہے معبود کا ظرف نہیں ، اور [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ عرش یا آسمان الله تعالی کا مکان ہے جس میں خدا تعالی رہتا ہے.


مجسمہ اور مشبہ نے ان آیات کا یہ مطلب سمجھا کہ عرش عظیم یا آسمان و زمین الله کا مکان اور جائے قرار ہے اور یہ نہ دیکھا کہ سارا قرآن تنزیہ اور تقدیس سے بھرا پڑا ہے کہ الله مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے اور تمام انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو ایمان تنزیہی کی دعوت دی ہے ایمان تشبیہی اور تمثیلی کی دعوت نہیں دی. [عقائد اسلام حصہ دوم صفحہ نمبر 375 تا 385؛ از : حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمه الله]