Wednesday, 6 January 2021

غیرمقلدین حضرات اللہ کے ہر جگہ نہ ہونے پر اجماع امت کہتے ہے

 غیرمقلدین حضرات اللہ کے ہر جگہ نہ ہونے پر اجماع امت کہتے ہے،


تو جناب غیرمقلدین کی خدمت میں گزارش ہے کہ:
بھائی ہمارے ہاں عقائد میں اجماع کے منکر کو تو کافر کہتے ہیں آپ کے ہاں عقائد میں اجماع کے منکر کو کیا کہتے ہیں؟؟؟؟

اگر 
آپ کے ہاں بھی عقائد میں اجماع کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ تو جناب آپ کے گھر کے اجماع کا انکار آپ کے گھر کےتقریبا دس علماء کر چکے ہیں، جن میں شیخ الاسلام، شیخ الکل بھی شامل ہیں، تو کیا خیال ہے یہ سارے علماء کافر نہ ہوگئے ہونگے۔





فتاوی ثنائیہ کی تو تاویلیں کرنے کی بہت کوشش کی گئی، اگرچہ وہ کسی کام نہ آئیں، لیکن تفسیر ثنائی میں جو عقیدہ بیان ہوا ہے اس میں تو کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے


ہم نے فتاوی ثنائیہ سے، فتاوی نذیریہ سے اور فتاوی علمائے حدیث سے جو دلائل جناب کی خدمت میں پیش کئے ہیںن وہ کتاب العقائد میں سے ہی پیش کئے ہیں۔

یہ تینوں کتابیں غیرمقلدین کے ہاں ایک سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔





صفات باری تعالٰی سے متعلق عربی حوالہ کا مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کے قالم سے مترجم اقتباس ملاحظہ فرمایئے:۔ ”خدا کی جن صفات کو سلف صالحین نے ظاہر پر جاری رکھا ہے جیسی کہ قرآن و حدیث میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک صفت استواء ہے۔ کتاب و سنت کی دلیلیں اس میں بہت ہیں۔ جیسا ہم استواء اور اس جہت میں ہونے کے متعلق کہتے ہیں اسی طرح ہم آیات معیت وھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمٌ وغیرہ میں کہتے ہیں۔ یعنی ہم ایسی آیات میں وہی کہتے ہیں جیسا قرآن میں آیا ہے کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے ہم اس کی تاویل میں تکلیف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں کہ اس سے مراد علم ہے کیونکہ یہ ایک تاویل ہے جو مذاہب خلف کے مخالف ہے۔ اور صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے بھی بالکل خلاف ہے۔ جب تو سلامتی کے راستہ پر پہنچ گیا۔ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے تو اس سے آگے نہ گزر“۔(رسالہ التحف فی مذاہب السلف ص۴۳) مولانا ثناء اللہ غیرمقلد مذکورہ حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس عبارت کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ امام شوکانی نہ تو استواء کی تاویل کرتے ہیں اور نہ معیت خداوندی کی تاویل کے قائل ہیں بلکہ ہر قسم کی تاویل پر صحابہ اور سلف صالحین کے مذاہب کے خلاف بتاتے ہیں، یعنی ان کے نزدیک ھو معکم کی تاویل علم کے ساتھ کرنے والے مذاہب سلف کے ایسے ہی مخالف ہیں جیسا وہ لوگ جو استواء علی العرش کی تاویل کرتے ہیں“۔(مظالم روپڑی ص۱۳)
نواب صدیق حسن خان صاحب (م ۱۸۹۰) جن کے متعلق مولانا ثناہ اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ: ”ہندوستان کے نامور سلفی اہل حدیث مصنف میں سے مولانا نواب صدیق حسن صاحب بھوپالی مشہور ترین ہیں۔(مظالم روپڑی ص۱۳) نواب صاحب موصوف کا اس مسئلہ میں مولانا ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد کے قلم سے ایک مترجم اقتباس ملاحظہ فرمایئے: ”ہمارے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ استواء علی العرش اور اللہ کا آسمان پر ہونا اور مخلوق سے بائن ہونا اور اس کا قرب اور معیت اور جو بھی صفات آئی ہیں کیفیت بتانے اور علم و قدرت کےساتھ تاویل کرنے کے بغیر ظاہر پر جا ری ہیں۔ کیونکہ تاویل کرنے کی کوئی دلیل شرعی وارد نہیں ہوئی“۔(کتاب الجوائز والصلات ص۲۶۲) مولانا امرتسری صاحب اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت قاضی شوکانی کی عبارت سے بھی واضح تر ہے۔ مطلب اس کا وہی ہے کہ خدا تعالٰی جیسا کہ عرش پر ہے ویسا ہی زمین پر ہے ۔ رہا یہ امر کہ کیسے ہے۔ سو یہ سوال کیفیت سے ہے جو حوالہ بخدا ہے۔(مظالم روپڑی ص۱۳) اسی طرح مولانا امرتسری نے جماعت غیرمقلدین کے وکیل اعظم مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب (جنہوں نے انگریز یہ اہلحدیث نام آلارٹ کروایا) کی تائید سے علامہ محمد بن علی شوکانی سے بھی یہی عقیدہ نقل کیا ہے۔(مظالم روپڑی ص۱۲) خود مولانا امرتسری غیرمقلدین اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”میں خدا کی صفت قرب معیت کو اور اللہ تعالٰی کا آسمانوں اور زمینوں میں ہونا بلا تاویل یقین کرتا ہوں “۔ (مظالم روپڑی ص۱۱)


عقیدہ کو باطل باور کرکے علمائے دیوبند کو اس کا الزام دے رہے ہیں۔

اب جس عقیدہ کو یہ اکابرین غیرمقلدین حق کہہ کر اس پر جمے ہوئے ہیں اور کو سلف صالحین کا مسلک قرار دے رہے ہیں، غیرمقلدین اس شکو ہمارے سارے غلط بھی سہی مگر لو تم ہی اب بتاؤ کس کا قصور تھا



👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
حدیث نزول کے بارے میں عبدالرحمن مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں کہ 
قَوْلُهُ (يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ) قَدِ اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى النُّزُولِ عَلَى أَقْوَالٍ فَمِنْهُمْ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَحَقِيقَتِهِ وَهُمُ الْمُشَبِّهَةُ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ قَوْلِهِمْ۔ [تحفة الأحوذي (2/ 524)]
یعنی
نزول کے بارے میں کئی اقوال کا اختلاف ہے بعض نے اسے اپنے ظاہر اور حقیقت پر حمل کیا ہے اور یہی لوگ مشبہہ ہیں اللہ عزوجل ان کی باتوں سے پاک ہے۔

=

=👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
فرقہ اہل حدیث کا اقرار کہ اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرمانا ظاہر اور حقیقی نزول نہیں بلکہ ایسا کہنا مشبہہ (گمراہ فرقہ مجسمہ) کا قول ہے۔ (توفیق الباری ص 56)

جب اللہ تعالٰی کا نزول الی سماء ظاہر پر اور حقیقت پر محمول نہیں ہو سکتا تو عرش استویٰ کیسے ظاہر اور حقیقت پر محمول ہو سکتا ہے؟


پس ثابت ہوا کہ عرش استویٰ اور نزول الی سماء دونوں حق ہیں لیکن ظاہری اور حقیقی طور پر بلکل نہیں جو کرتے ہیں وہ بلا شبہ مجسمہ ہیں۔






============
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
اعتراض:
ابوزید ضمیر صاحب، امام احمد بن حنبلؒ کا قول پیش کرتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور مخلوق سے الگ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي]

جواب-1: غیر مقلدین کے نزدیک یہ کتاب "شرح أصول اعتقاد أهل السنة" ان کے مصنف اللالكائيؒ(المتوفیٰ ۴۱۸ھہ) سے ثابت ہی نہیں ہے۔

چنانچہ شیخ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
شرح أصول اعتقاد أهل السنة کے نام سے اللكائيؒ سے منسوب کتاب، باسند صحیح ثابت ہی نہیں ہے۔

لہذا، اس غیرثابت کتاب سے اصول میں استدلال صحیح نہیں ہے۔
[مشہور واقعات کی حقیقت:45]

====
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
جواب-2: یہ روایت بےسند ہے، کیونکہ اس روایت کی امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھ)نے اپنے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھ)کے درمیان کوئی سند ذکر نہیں کی۔ کیونکہ دونوں کا زمانہ بہت دور وجدا تھا اور نہ درمیان میں کوئی صحیح سند کا واسطہ ثابت نہیں۔ لہذا یہ سند منقطع ہے اور روایت مردود۔

شرح أصول اعتقاد أهل السنة میں جو عبارت ہے وہ درج ذیل ہے:

(حديث مقطوع) وَرَوَى يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ ، أَنَّهُ قِيلَ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ : اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ عَلَى عَرْشِهِ ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ ، وَقُدْرَتِهِ ، وَعِلْمِهِ ، فِي كُلِّ مَكَانٍ ؟ . قَالَ : نَعَمْ , عَلَى الْعَرْشِ ، وَعِلْمُهُ لا يَخْلُو مِنْهُ مَكَانٌ .
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي » ذكر رجال من أهل المدينة من الطبقة الثانية من التابعين ... » قَوْلُ أم سلمة ۔۔۔ رقم الحديث: 532]
شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة » باب جماع توحيد الله عز وجل وصفاته وأسمائه » سياق ما روي في قوله تعالى " الرحمن على العرش استوى " ۔۔۔الجزء الثالث، ص: 445، رقم الحديث: 674]

ترجمہ: امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھ)فرماتے ہیں کہ روایت ہے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھ) سے کہ احمد بن حنبلؒ سے کہا گیا کہ: کیا اللہ تعالیٰ سات(۷)آسمانوں کے اوپر ہے، عرش سے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، اور اس کی قدرت وعلم ہر جگہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ عرش پر ہر، اور اس کے علم سے کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔









=👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھہ)کے بعد امام موفق الدين ابن قدامة(541-620ھ)نے بھی یہی بات نقل کردی، لیکن انہوں نے بھی اپنے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھہ)کے درمیان کی، کوئی سند نقل نہیں کی۔
[اثبٰاتُ صِفةِ العُلُوّ:1/167]

👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇???????????
اور امام ابن قدامۃ کی ولادت 541 ھ میں ہوئی ہے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ کی وفات 253 ھ میں ہوئی ہے۔[الاعلام:4/67]

👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇??????????
لہٰذا، یہ سند بھی منقطع اور روایت مردود ہے۔
=
اسی طرح یہی روایت امام ذہبیؒ(المتوفیٰ 748ھ)کی کتاب[العلو للعلي الغفار،للذهبي:1/176]میں بھی موجود ہے، لیکن وہاں بھی (امام ذہبیؒ سے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ کے) درمیان کی کوئی سند موجود نہیں ہے، بلکہ انہوں نے بھی براہِ راست یعنی بلاواسطہ سند کے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھہ)کا قول نقل کر رہے ہیں۔ جو انہوں نے ان سے نہ خود سنا اور نہ ہی ان سے سننے والوں کے واسطہ(سند)سے نقل کیا۔ لہٰذا یہ سند بھی منقطع اور روایت مردود ہے۔



=
بعض لوگ امام ابوبکر الخلالؒ(المتوفیٰ 311ھ)کی کتاب،[کتاب السنۃ]کا حوالہ دے رہے ہیں کہ اس میں یہ روایت موجود ہے لیکن اس میں یہ روایت موجود نہیں

No comments:

Post a Comment