Showing posts with label مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف:*. Show all posts
Showing posts with label مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف:*. Show all posts

Tuesday, 29 December 2020

محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کثرت روایت کا سبب

 محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ


کثرت روایت کا سبب:


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث کثرت سے بیان کرتے تھے تو بعض لوگوں نے کہا:کہ ابوہریرہ تو کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے [جبکہ مہاجر اور انصار ان حدیثوں کو بیان نہیں کرتے] تو آپ نے ان لوگوں کو یہ جواب دیا:


میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں ۔میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا ۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی نہیں بھولا۔


(صحیح بخاری ،حدیث 7354 )


حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں اللہ کا ذکرکر رہے تھے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ۔پھر فرمایا اپنا کام جاری رکھو ۔حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے دعا کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دعا پر آمین کہی۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی:


انی اسئلک مثل ما سال صاحباک واسالک علما لاینسی


کہ اے اللہ میں اس چیز کا بھی سوال کرتا ہوں جس کا میرے ساتھیوں نے کیا اور مزید مجھے ایسا علم عطافرما جو کبھی نہ بھولے ۔


فقال رسول اللہ آمین فقلنا یارسول اللہ ونحن نسالک علما لاینسی فقال سبقکم بھا الغلام الدوسی"


(الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص522)


تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین فرمائی۔ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم بھی ایسے علم کا اللہ سے سوال کرتے ہیں جو کبھی نہ بھولے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوسی[اشارہ ابو ہریرہ کی طرف] تم دونوں سے سبقت لے گیا۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتحان:


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعة کو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعة کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔


(سیر اعلام النبلاء ج3ص522)


حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:


لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع


(الاصابۃ ج4ص2391)


مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔


سفر آخرت کے وقت حالت:


آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا:


من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ ( زادراہ کم ہے سفر طویل ہے ۔)


تعداد مرویات:


کل روایات 5374ہیں،جن میں سے326متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ۔ جو روایات صرف بخاری میں ہیں ان کی تعداد 93اور جوصرف مسلم میں ہیں وہ98 ہیں۔


(سیر اعلام النبلاء ج3ص534)


مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں سے چند روایات:


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:مجھ پر درود بھیجو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ پر پہنچایا جاتا ہے۔


(سنن ابی داؤد: ج1 ص295)


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد کا اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھناسنت ہے۔


(الاوسط للامام المندر:ج3ص94،سنن الدارقطنی:ج1 ص288، مؤطاامام مالک ص۶۹ ، موطا امام محمد ص۹۵)


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے جہری نماز جس میں امام بلند آواز سے قرأت کرتاہے ،سے فارغ ہوئے تو مڑکرفرمایا: تم میں سے کس نے میرے پیچھے قرآن مجید پڑھا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا میں نے یارسول اللہ! آپ نے فرمایا:’’ میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ کیوں قرآن کا جھگڑاہورہا ہے ؟ اس کے بعدلوگ رسول اللہ کے ساتھ نماز میں قرآن مجید پڑھنے سے رک گئے ۔


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور دوسری رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور معوذت

Friday, 27 November 2020

رسول پاکﷺ کے بعد سب سے افضل صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ ہیں

 

رسول پاکﷺ کے بعد سب سے افضل صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ ہیں


  حدیث شریف: حضرت عمرو رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاکﷺ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اﷲ عنہم اجمعین ہیں (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107)

  حدیث شریف: ابوالبختری طائی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول پاکﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا، میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر اور وہی آپ کے وصال کے بعد آپ کی اُمّت کے والی یعنی خلیفہ ہوں گے اور وہی اُمّت میں سب سے افضل اور سب سے بڑھ کر نرم دل ہیں (ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 73)


 حدیث شریف: حضرت محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے (فرماتے ہیں) کہ میں نے اپنے باپ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے عرض کی کہ رسول پاکﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر، میں نے عرض کی، پھر کون؟ فرمایا حضرت عمر رضی اﷲ عنہما (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،حدیث 3671، جلد 2، ص 522)

 حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری امت میں میرے بعد سب سے بہتر شخص ابوبکر ہیں، پھر عمر (ابن عساکر)


 حدیث شریف: حضرت ابو حجیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے گھر میں داخل ہوا۔ میں نے عرض کی اے رسول اﷲﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخص! تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا اے ابو حجیفہ! کیا تجھے بتائوں کہ رسول اﷲﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر، اے ابو حجیفہ! تجھ پر افسوس ہے، میری محبت اور ابوبکر کی دشمنی کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتی اور نہ میری دشمنی اور ابوبکر و عمر کی محبت کسی مومن کے دل میں جمع ہوسکتی ہے (المعجم الاوسط للطبرانی من اسمہ علی، حدیث 3920، جلد 3، ص 79)


 حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر عرض کی کہ اے اﷲ کے رسول! ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر فرمایئے۔ارشاد فرمایا کہ نہیں! اﷲتعالیٰ اسے تم پر خلیفہ مقرر فرمادے گا جو تم میں سب سے بہتر ہوگا پھر اﷲ تعالیٰ نے ہم میں سے سب سے بہتر ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو جانا، جنہیں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا (دارقطنی، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 290-289)


حدیث شریف: ہمدانی سے باکمال روایت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اپنے وصال کے وقت مجھے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر، ان کے بعد عمر، ان کے بعد عثمان خلیفہ ہے۔ بعض روایات میں یہ لفظ ہے کہ پھر انہیں خلافت ملے گی


(ابن شاہین، فضائل الصدیق لملا علی قاری، ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 5، ص189)


 اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ جو مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ پر فضیلت دے گا، اسے بہتان کی سزا میں درے لگائوں گا اور اس کی گواہی ساکت ہوجائے گی یعنی قبول نہیں ہوگی (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36097، جلد 13،ص 6/7)



  حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما سے افضل بتاتے ہیں۔ آئندہ جو مجھے ان سے افضل بتائے گا وہ بہتان باز ہے۔ اسے وہی سزا ملے گی جو بہتان لگانے والوں کی ہے (تاریخ دمشق، جلد 30، ص 382)

2= ابن شہاب عبداﷲ بن کثیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ہم سے محبت اور ہماری جماعت سے ہونے کا دعویٰ کریں گے، مگر وہ اﷲ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے شریر ہوں گے جوکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کو گالیاں دیں گے (ابن عساکر، کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36098)


  حضرت ابراہیم نخعی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ کو خبر پہنچی کہ عبداﷲ بن اسود حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کی توہین کرتا ہے تو آپ نے اسے بلوایا، تلوار منگوائی اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا پھر اس کے بارے میں سفارش کی گئی تو آپ نے اسے تنبیہ کی کہ جس شہر میں رہوں، آئندہ تو وہاں نہیں رہے گا، پھر اسے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیا (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36151)

سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی

 حدیث شریف: حضرت ابو الدرداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ابوبکر اور عمر سے افضل کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب۔ ایک روایت میں ہے کہ انبیاء و رسل کے بعد ابوبکر اور عمر سے زیادہ افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے۔ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ کی حدیث میں بھی ہے کہ حضورﷺ نے انہیں فرمایا اﷲ کی قسم! آپ سے افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے (مسند عبدبن حمید، حدیث 212، ص 101، ابو نعیم، طبرانی)

 حدیث شریف: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ انبیاء و رسل میں سے کسی کو بھی ابوبکر سے افضل کوئی ساتھی نصیب نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ سورۂ یٰسین میں بیان ہونے والے جن انبیاء کرام علیہم السلام کے جس شہید ساتھی کا ذکر ہے، وہ بھی ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے افضل نہ تھا (حاکم، ابن عساکر)



 حدیث شریف: حضرت اسعد بن زراہ رضی اﷲ عنہ آقا کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک روح القدس جبریل امین نے مجھے خبر دی کہ آپﷺ کی امت میں آپﷺ کے بعد افضل ابوبکر ہیں (طبرانی المعجم الاوسط، حدیث 6448، جلد 5، ص 18)



  حدیث شریف: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ نبیوں اور رسولوں کے سوا زمین وآسمان کی اگلی اورپچھلی مخلوق میں سب سے افضل ابوبکر ہیں (حاکم ،الکامل لابن عدی، حدیث 368، جلد 2،ص 180)

  حدیث شریف: حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ کی موجودگی میں ہم کہتے تھے کہ سب سے افضل ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان اور پھر علی ہیں (صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 3655،جلد 2، ص 451)

 حدیث شریف: حضرت انس رضی اﷲ عنہ اور حصرت سہل سعد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ ابوبکر کی محبت اور ان کا شکر میرے ہر امتی پر واجب ہے (ابن عساکر، تاریخ دمشق، حدیث 174، جلد 30، ص 141)

 حدیث شریف: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میری امت میں جتنے لوگ ابوبکر اور عمر کی محبت کے سبب جنت میں جائیں گے، اتنے لاالہ الا اﷲ کہنے کے سبب نہ جائیں گے (زوائد الزہد لعبداﷲ بن احمد، الصواعق المحرقہ)


خلافتِ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ

حدیث شریف: سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں ’’رسول پاکﷺ نے اپنی علالت کے دوران مجھے ہدایت کی کہ اپنے والد ابوبکر رضی اﷲ عنہ اور اپنے بھائی کو میری پاس بلوائو تاکہ میں انہیں کوئی تحریر لکھ دوں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کوئی اور شخص (خلافت کا) آرزو مند ہوسکتا ہے اور یہ کہہ سکتا ہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حق دار ہوں۔ حالانکہ اﷲ تعالیٰ اور اہل ایمان صرف ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو (خلیفہ کے طور) پر قبول کریں گے (مسلم شریف، جلد سوم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث6057، ص 298، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

حدیث شریف: نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں ایک عورت آئی اور اس عورت نے آپﷺ نے کسی چیز کے متعلق کلام کیا تو رسول پاکﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ دوبارہ آئے۔ اس عورت نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ مجھے خبر دیں۔ اگر میں آپﷺ کی بارگاہ میں آئوں اور آپﷺ کو نہ پائوں گویا کہ اس عورت کی مراد حضورﷺ کا وصال ظاہری تھا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا اگر تو آئے اور مجھے نہ پائے تو پھر ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آجانا (بخاری شریف، جلد سوم، کتاب الاحکام، حدیث 2084، ص 935، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

حدیث پاک: حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول پاکﷺ کا وصال شریف ہوا تو انصار نے کہا کہ ہم میں سے ایک صاحب کو امام ہونا چاہئے اور مہاجرین میں سے ایک امیر۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے دریافت کیا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ حضور پرنورﷺ نے جناب ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا تھا۔ تم میں کون ایسا شخص ہے کہ جو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے مقدم ہونے پر راضی ہو۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے فرمایا کہ ہم اس بات سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم جناب ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے مقدم ہوں (سنن نسائی، کتاب الامۃ، حدیث 780، ص 238، مطبوعہ فرید بک لاہور)

سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ کرام علیہم الرضوان کی بناء پر انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد افضل الناس ہیں۔ علماء اہلسنت کا اس امر پر اجماع ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ تمام بنی نوع انسان میں افضل ترین انسان ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ اسوۂ رسولﷺ کے بہترین نمونہ ہیں۔ امام بن جوزی علیہ الرحمہ کے بقول آیت شریفہ ’’وسیجنبھا الاتقی الذی‘‘ الخ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی شان میں نازل ہوئی۔ آیت مذکورہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو اتقی یعنی سب سے زیادہ پرہیزگار فرمایا گیا ہے۔

مولیٰ علی و حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما نے ان کی خلافتیں تسلیم کیں اور علویت کی شرط نے تو مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ کو بھی خلیفہ ہونے سے خارج کردیا۔ مولیٰ علوی کیسے ہوسکتی ہیں۔ رہی عصمت تو انبیاء و ملائکہ کا خاصہ ہے جس کو ہم پہلے بیان کر آئے۔ امام کا معصوم ہونا روافض کا مذہب ہے۔ (بہار شریعت حصہ اول، ص 239، امامت کا بیان، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی،)



عن أبي يحيٰي حکيم ابن سعد قال سمعت عليّا رضي الله عنه يحلف : للّٰه أنزل اسم أبي بکر من 
السّماء ’’الصّدّيق‘‘.
حضرت ابو یحییٰ حکیم بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب’’الصدیق‘‘ آسمان سے اُتارا گیا۔
طبراني، المعجم الکبير، 1، 55 رقم : 14
ھيثمي نے’ مجمع الزوائد ( 9، 41)‘ میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں

بخاري، التاريخ الکبير، 1 : 99، رقم : 277
شيباني، الآحاد والمثاني، 1 : 70، رقم : 6
عسقلاني، فتح الباري، 7 : 9
زرقاني، شرح الزرقاني علي مؤطا، 1 : 90
ابن جوزي، صفة الصفوه 1 : 236
                       
مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 10 : 96
محب طبري، الرياض النضره، 1 : 407
 
عن قتادة : أنّ أنس بن مالک رضي الله عنه حدّثهم : أنّ النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم صعد أحدا، وأبوبکر وعمر وعثمان، فرجف بهم، فقال : ’’اثبت أحد، فانّما عليک نبيّ و صدّيق، وشهيدان

 حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حديث بیان کی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، اچانک پہاڑ اُن کے باعث (جوش مسرت سے) جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

بخاري، الصحيح، 3 : 1344، کتاب المناقب، رقم : 3472
 بخاري، الصحيح، 3 : 1348، رقم : 3483
  ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 624، رقم : 3697
 بوداؤد، السنن، 4 : 212، رقم : 4651
نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 43، رقم : 8135
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 112، رقم : 12127
ابن حبان، الصحيح، 15 : 280، رقم : 6865
ابن حبان، الصحيح، 15 : 336، رقم : 6908
ابويعليٰ، المسند، 5 : 338، رقم : 2964
ابويعليٰ، المسند، 5 : 454، رقم : 3171
ابويعليٰ، المسند، 5 : 466، رقم : 3196




نبی علیہ السلام نے فرمایا:
(خیر القرون قرنی)(مسند البزار، رقم: ٤٠٧)
اب یہ جو قرنی کا لفظ ہے۔اسکا ایک ایک حرف ہر خلیفہ کے نام کا آخری حرف ہے۔صدیق کی "ق" عمر کی "ر" عثمان کا "ن" علی کی "ی"۔۔قرنی کا لفظ ہی بتارہا ہے۔










حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيٍّ وَهُوَ ابْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَرَوَی سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ابْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مَوْلًی لِرِبْعِيٍّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ وَکَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا ذَکَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ وَرَوَی هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ هِلَالٍ مَوْلَی رِبْعِيٍّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ سَالِمٌ الْأَنْعُمِيُّ کُوفِيٌّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیری کرو۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ سفیان ثوری اسے عبد الملک بن عمیر وہ ربعی کے مولیٰ وہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ پھر احمد بن منیع اور کئی حضرات بھی سفیان بن عیینہ اور وہ عبد الملک بن عمیر سے یہ حدیث اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔ سفیان بن عیینہ اس حدیث میں کبھی تدلیس بھی کرتے تھے۔ چنانچہ کبھی زائدہ کے واسطے سے عبد الملک سے اور کبھی بلا واسطہ ان سے نقل کرتے تھے۔ ابراہیم بن سعد بھی سفیان ثوری وہ عبد الملک بن عمیر سے وہ ربعی کے مولیٰ ہلال وہ ربعی وہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔

ترمذی3861  مناقب کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَائِ الْمُرَادِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيکُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي وَأَشَارَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ کب تک میں تم لوگوں میں ہوں۔ لہذا میرے بعد تم ابوبکر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اور عمر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی پیروی کرنا۔
جامع ترمذی3862 مناقب کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا کُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں انبیاء و مرسلین کے علاوہ جنت کے تمام ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار ہیں۔ اے علی ! ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) تم انہیں اس کی خبر نہ دینا۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

3864مناقب کا بیان مناقب کا بیان 


حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ ذَکَرَ دَاوُدُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا کُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے۔ اے علی ! ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) تم انہیں مت بتانا۔

مناقب کا بیان جامع ترمذی 3865

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَکْرٍ يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَمَا إِنَّکَ إِنْ قُلْتَ ذَاکَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ عَلَی رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاکَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام انسانوں سے بہتر ! انہوں نے فرمایا تم اس طرح کہہ رہے ہو حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند قوی نہیں اس باب میں حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔

3883مناقب کا بیان مناقب کا بیان











محمد بن علی بن محمد بن سہل المعروف بہ ابن الامام کہتے ہیں
سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ جِرِیْرٍ الطَّبْرِيَّ الْفَقِیْہَ، وَہُوَ یُکَلِّمُ الْمَعْرُوْفَ بِاِبْنِ صِالِحِ الْـأَعْلَمِ، وَجَرٰی ذِکْرُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَجَرٰی خِطَابٌ، فَقَالَ لَہٗ مُحَمَّدُ بْنُ جِرِیْرٍ : مَنْ قَالَ : إِنَّ أَبَا بِکْرٍ وَعُمَرَ لَیْسَا بِإِمِامَيْ ہُدًی، أَیشْ ہُوَ ؟ قَالَ : مُبْتَدِعٌ، فَقَالَ لَہُ الطَّبْرِيُّ إِنْکَارًا عَلَیْہِ : مُبْتَدِعٌ، مُبْتَدِعٌ، ہٰذَا یُقْتَلُ، مَنْ قَالَ : إِنَّ أَبَا بِکْرٍ وَّعُمَرَ لَیْسَا إِمَامَيْ ہُدًی یُّقْتَلُ، یُقْتَلُ ۔
’’میں نے امام ابو جعفر، محمد بن جریر، طبری،فقیہ رحمہ اللہ کو امام ابن صالح اعلم سے سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سنا۔بات جاری رہی،امام محمد بن جریر رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا:جو شخص کہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ائمہ ہدیٰ نہیں ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟انہوں نے جواب دیا: وہ بدعتی ہے۔اس پر امام طبری رحمہ اللہ نے ان کی بات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: وہ بدعتی توہے ہی، واجب القتل بھی ہے۔پھرفرمایا:جو کہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ائمہ ہدیٰ نہیں،اسے قتل کر دیا جائے،اسے قتل کر دیا جائے۔‘‘
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 200/52، 201، وسندہٗ صحیحٌ)


امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں :
فَأَفْضَلُ أَصْحَابِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصِّدِّیقُ أَبُو بَکْرٍ رَّضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، ثُمَّ الْفَارُوقُ بَعْدَہٗ عُمَرُ، ثُمَّ ذُو النُّورَیْنِ عُثْمَانُ ابْنُ عَفَّانَ، ثُمَّ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ وَإِمَامُ الْمُتَّقِینَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِینَ ۔
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سب سے فضیلت والے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ان کے بعد عمر فاروق کا مرتبہ ہے۔پھر سیدنا عثمان بن عفان ذوالنورین کا اور پھر امیر المومنین اور امام المتقین سیدنا علی بن ابو طالب]کا درجہ ہے۔‘‘
(صریح السنۃ، ص : 23)






Thursday, 26 November 2020

amma aisha ka ilmi maqam aur sahaba ka aml

 

amma aisha ka ilmi maqam aur sahaba ka aml



حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَائَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُئُوسَهُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَائَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُئُوسَهُنَّ أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُئُوسَهُنَّ لَقَدْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ وَلَا أَزِيدُ عَلَی أَنْ أُفْرِغَ عَلَی رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ
سیدہ عائشہ صدیقہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عورتوں کو غسل کے وقت سروں کو کھولنے کا حکم دیتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو غسل کے وقت اپنے سروں کو کھولنے کا حکم دیتے ہیں اور ان کو سروں کے منڈانے ہی کا حکم کیوں نہیں کر دیتے حالانکہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے اور میں اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالنے سے زیادہ کچھ بھی نہیں کرتی تھی۔
651
مسلم حیض کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ اخْتَلَفَ فِي ذَلِکَ رَهْطٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّونَ لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنْ الدَّفْقِ أَوْ مِنْ الْمَائِ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ بَلْ إِذَا خَالَطَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی فَأَنَا أَشْفِيکُمْ مِنْ ذَلِکَ فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِي فَقُلْتُ لَهَا يَا أُمَّاهْ أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَيْئٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيکِ فَقَالَتْ لَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا کُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّکَ الَّتِي وَلَدَتْکَ فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّکَ قُلْتُ فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ قَالَتْ عَلَی الْخَبِيرِ سَقَطْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین وانصار کی جماعت کا اس بارے میں اختلاف ہوا انصار صحابہ نے کہا ٹپکنے یا پانی کے علاوہ غسل واجب نہیں ہوتا اور مہاجرین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا کہ عضوین کے ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں تمہاری اس معاملہ میں تسلی ابھی کروا دیتا ہوں میں کھڑا ہوا حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت طلب کی مجھے اجازت دی گئی تو میں نے کہا اے میری ماں یا مومنین کی ماں میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے شرم آتی ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تو مجھ سے اس بات کے پوچھنے میں شرم نہ کر جو تو اپنی حقیقی والدہ سے پوچھنے والا ہے جس کے پیٹ سے تو پیدا ہوا ہے میں بھی تو تیری ماں ہو میں نے عرض کیا غسل کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تو نے یہ مسئلہ پوری خبر رکھنے والی سے پوچھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب آدمی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے اور دونوں شرمگاہیں مل جائیں تو تحقیق غسل واجب ہوگیا۔

مسلم حیض کا بیان688


 

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
محمد بن حاتم، بہز، وہب، عبداللہ بن طاس، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج کے طلوع اور سورج کے غروب ہونے کے وقت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
   1830
فضائل قرآن کا بیان
مسلم 

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِکَ
حسن حلوانی، عبدالرزاق، معمر، ابن طاس، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو۔
1831
فضائل قرآن کا بیان
 مسلم
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ کُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ الرَّکْعَتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ
حرملہ بن یحیی تجیبی، عبداللہ بن وہب، ابن الحارث، بکیر، کریب حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں ان سے پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پڑھتی ہیں اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر اس نماز سے منع کرتا تھا کریب نے کہا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا جنہوں نے مجھے بھیجا ان کا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ تو ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھ تو میں واپس ان کی طرف گیا اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرمان کی خبر دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لوٹا دیا وہی پیغام دے کر جو پیغام دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیجا تھا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی چند عورتیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے ایک باندی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا میں نے اس سے کہا کہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑی رہنا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان دو رکعتوں کے بارے میں منع کرتے ہوئے سنا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر اگر ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے کھڑی رہنا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس باندی نے ایسے ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو وہ پیچھے ہوگئی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابوامیہ کی بیٹی تو نے عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی عبدالقیس کے کچھ لوگ ان کی قوم میں سے اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے جس میں مشغولیت کی وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں ان کو میں نے پڑھا ہے۔
1832
فضائل قرآن کا بیان
 مسلم

 حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَثْبَتَهَا قَالَ يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ قَالَ إِسْمَعِيلُ تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا
یحیی بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، ایوب، ابن جعفر، ابن ابی حرملہ، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پڑھنا بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز کے بعد پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے پڑھتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز بھی پڑھتے تھے اس پر دوام فرماتے۔
1833
فضائل قرآن کا بیان
 مسلم

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
زہیر بن حرب، جریر، ابن نمیر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔
1834
فضائل قرآن کا بیان
 مسلم


حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَاتَانِ مَا تَرَکَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ح ، علی بن حجر، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر میں دو نمازیں کبھی چھوڑیں نہ باطناً نہ ظاہراً فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔
1835
فضائل قرآن کا بیان
 مسلم

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلَاثٌ مَنْ تَکَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَی اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ لَا تُدْرِکُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِکُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ وَکُنْتُ مُتَّکِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلَا تُعْجِلِينِي أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ قَالَتْ أَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا ذَاکَ جِبْرِيلُ مَا رَأَيْتُهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا کَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَی اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ يَا أَيُّهَا الرَّسُولَ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَی اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ يُکْنَی أَبَا عَائِشَةَ وَهُوَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَذَا کَانَ اسْمُهُ فِي الدِّيوَانِ
مسروق کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا کہ انہوں نے فرمایا اے ابو عائشہ(یہ مسروق کی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بات بھی کی اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (شب معراج میں) اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے تو وہ اللہ پر جھٹ باندھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 6۔ الانعام : 103) (اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے اور وہ نہایت باریک بین خبردار ہے )۔ پھر فرماتا ہے (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَا ي ِ حِجَابٍ ) 42۔ الشوری : 51) (یعنی کوئی بشر اس (یعنی اللہ تعالی) سے وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے ہی سے بات کر سکتا ہے) راوی کہتے ہیں کہ میں تکیہ لگائے بیٹھا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا اور عرض کیا اے ام المومنین مجھے مہلت دیجئے اور جلدی نہ کیجئے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی (اور اس نے اس کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے۔ النجم۔ آیت)۔ نیز فرمایا (وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ) 81۔ التکویر : 23) (اور بیشک انہوں (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح دیکھا)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا اللہ کی قسم میں نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل تھے۔ میں نے انہیں ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ان کے جسم نے آسمان و زمین کے درمیان پوری جگہ کو گھیر لیا ہے (2) اور جس نے سوچا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی نازل کی ہوئی چیز میں سے کوئی چیز چھپالی اس نے بھی اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( يٰ اَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّ غْ مَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ) 5۔ المائدہ : 67) (اے رسول جو آپ کے رب نے آپ پر نازل کیا ہے اسے پورا پہنچا دیجئے)۔ (3) اور جس نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کل کے متعلق جانتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے اس نے بھی اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ) 27۔ النمل : 65) (اللہ تعالیٰ کے علاوہ زمین و آسمان میں کوئی علم نہیں جانتا) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور مسروق بن اجدع کی کنیت ابوعائشہ ہے۔


قرآن کی تفسیر کا بیان
ترمذی3243

Wednesday, 5 September 2018

مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف:*

,*مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف:*

*( 1 ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:*

نام :         عبداللہ
کنیت :      ابو بکر
لقب :       صدیق و عتیق
ولادت :     50 قبل ھجری
والد :        عثمان
والدہ :       سلمی
پیشہ :       تجارت و سیاست
وفات :       سن 13 ھجری
مرویات :    142

*( 2 ) حضرت عمر رضی الله عنہ:*

نام :           عمر
کنیت :        ابو عبداللہ
لقب :          فاروق
ولادت :       40 قبل ھجری
والد :          خطاب بن نفیل
والدہ :        ختمہ بنت ہشام
پیشہ :        جہاد و سیاست
وفات :       23 ھجری
مرویات :     537

*( 3 ) حضرت عثمان رضی الله عنہ:*

نام :           عثمان
کنیت :        ابو عمرو و ابو عبداللہ
لقب :          ذوالنورین
ولادت :       47 قبل ھجری
والد :          عفان
والدہ :         اروی
پیشہ :          تجارت
وفات :         35 ھجری
مرویات :       146

*( 4) حضرت علی رضی الله عنہ:*

نام :            علی رضی الله عنہ
کنیت :         ابوالحسن و ابواتراب
لقب :           اسداللہ و مرتضی
ولادت :        23 قبل نبوت
والد :            عمران , یعنی ابو طالب
والدہ :          فاطمہ
پیشہ :          جہاد
وفات :          40 ھجری
مرویات :       536

*( 5 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          خادم رسول
ولادت :       31 قبل ھجری
والد :           مسعود
والدہ :         ام عبد
پیشہ :         درس تدریس
وفات :        32 ھجری
مرویات :     848

*( 6 )حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابوالعباس
لقب :          حبرالامہ و ترجمان القرآن
ولادت :       3 قبل ھجری
والد :          عباس
والدہ :        ام الفضل
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        67 یا 68 ھجری
مرویات :     1660

*( 7 ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمن
لقب :          فقیہ امت
ولادت :       11 قبل ھجری
والد :           عمر فاروق
والدہ :         زینب بنت مظعون
پیشہ :         تدریس و خطابت
وفات :        73 یا 74 ھجری
مرویات :     2630

*( 8 ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو محمد و ابو عبدالرحمان
لقب :          کاتب حدیث و فاضل حدیث
ولادت :       7 قبل ھجری
والد :          عمرو بن عاص
والدہ :        ریطہ بنت منبہ
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       63 یا 65 ھجری
مرویات :    760

*( 9 ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ:*

نام :          جابر
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب الشجرہ
ولادت :      19 یا 20 قبل ھجری
والد :         عبداللہ بن عمرو
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        74 ھجری
مرویات :    1540

*( 10 ) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ:*

نام :            انس
کنیت :        ابو حمزہ و ابو ثمامہ
لقب :          خادم رسول
والد :          عاءل بن نضر
والدہ :        ام سلیم
پیشہ :        فتوی نویسی
وفات :        93 ھجری
مرویات :     2286

*( 11 ) حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ:*

نام :            عبدالرحمان
کنیت :        ابو ھریرہ
لقب :          فقیہ امت و حافظ حدیث
ولادت :       19 قبل ھجری
وفات :        59 ھجری
والد :          عامر بن عبدوی
پیشہ :        اشاعت حدیث
مرویات :     5374

*( 12 ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ:*

نام :            سعد
کنیت :        ابو سعید خدری
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       12 قبل ھجری
والد :          مالک بن سنان
والدہ :        انیسہ بنت ابو حارثہ
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :       74 ھجری
مرویات :    1170

*( 13 ) حضرت عائشہ رضی الله عنہا:*

نام :           عائشہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          صدیقہ
ولادت :       9 قبل ھجری
والد :          ابو بکر صديق
والدہ :        ام رومان بنت عامر
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       58  ھجری
مرویات :    2210

*( 14 ) حضرت ابو امامہ باھلی رضی الله عنہ:*

نام :           صدی
کنیت :        ابو امامہ
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       21 قبل ھجری
والد :          عجلان بن وھب
پیشہ :        جہاد
وفات :        86 ھجری
مرویات :     250

*( 15 ) حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :       ابو موسی
لقب :         حافظ حدیث
والد :         قیس بن مسلیم
والدہ :       ظبیہ بنت وھب
پیشہ :       تجارت و جہاد
وفات :      44 ھجری
مرویات :   360

*( 16 ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی الله عنہ:*

نام :          سعد
کنیت :      ابو اسحاق
لقب :        فاتح عراق
ولادت :     25 قبل ھجری
والد :        ابو وقاص
والدہ :       حمنہ بنت سفیان
پیشہ: جہاد
وفات :       55 ھجری
مرویات :     271

*( 17 ) حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ:*

نام :           عقبہ
کنیت :        ابو حماد
لقب :          شاعر اسلام
والد :         عامر جھنی
پیشہ :        خطابت و شاعری
وفات :       58 ھجری
مرویات :     55

*( 18 ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہ:*

نام :           میمونہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          ام المومنین
ولادت :       23 یا 29 قبل ھجری
والد :          حارث بن حزن
والدہ :        ھندہ بنت حزف
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       51 ھجری
مرویات :     10

*( 19 ) حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ:*

نام :           حارث
کنیت :       ابو قتادہ
لقب :         فارس رسول الله
ولادت :      16 قبل ھجری
والد :        ربعی بن سلامہ
والدہ :       کبشہ بنت مظہر
پیشہ :       جہاد
وفات :      54 ھجری
مرویات :   170

*( 20 ) حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ:*

نام :           حذیفہ
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب سر رسول الله
والد :         حسیل یعنی یمان
والدہ :       رباب بنت کعب
پیشہ :       درس و تدریس
وفات :      36 ھجری
مرویات :   223

*( 21 ) حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ:*

نام :         سہل
کنیت :      ابو عباس
لقب :        ساعدی
ولادت :     6 قبل ھجری تقریبا
والد :        سعد بن مالک
پیشہ :      درس و تدریس
وفات :      100 ھجری
مرویات :   10 تقریبا

*( 22 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ:*

نام :           عبادہ
کنیت :        ابوالولید
لقب :          قاری القرآن
ولادت :       39 قبل ھجری
والد :          صامت انصاری
والدہ :        قرةالعین بنت عبادہ
پیشہ :        دعوت و کتابت
وفات :        34 ھجری
مرویات :     181

*( 23 ) حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ:*

کنیت :         ابو سلیمان
لقب :           بصری
ولادت :       8 قبل ھجری
والد :           جندب بن ھلال
پیشہ :         جہاد
وفات :        54 یا 58 ھجری
مرویات :     130

*( 24 ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ:*

نام :          عباس
کنیت :       ابو الفضل
لقب :         ساقی حرمین
ولادت :      56  قبل ھجری
والد :        عبدالمطلب
والدہ :       نتیلہ بنت جناب
پیشہ :       دعوت و تبلیغ
وفات :      32 ھجری
مرویات :    35

*( 25 ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ:*

نام :          زید
کنیت :       ابو خارجہ
لقب :         مفتی مدینہ
ولادت :      12 قبل ھجری
والد :         ثابت بن ضحاک
والدہ :        نوار بنت مالک
پیشہ :        قضاء و فیصلہ
وفات :       45 ھجری
مرویات :    92

*( 26 ) حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ:*

نام :           معاذ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          امام الفقہاء
ولادت :      18 قبل ھجری
والد :         جبل بن عمرو
والدہ :        ھندہ بنت سہل
پیشہ :        سیاست و یدرس و تدریس
وفات :       17 یا 18 ھجری
مرویات :     157*مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف:*

*( 1 ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:*

نام :         عبداللہ
کنیت :      ابو بکر
لقب :       صدیق و عتیق
ولادت :     50 قبل ھجری
والد :        عثمان
والدہ :       سلمی
پیشہ :       تجارت و سیاست
وفات :       سن 13 ھجری
مرویات :    142

*( 2 ) حضرت عمر رضی الله عنہ:*

نام :           عمر
کنیت :        ابو عبداللہ
لقب :          فاروق
ولادت :       40 قبل ھجری
والد :          خطاب بن نفیل
والدہ :        ختمہ بنت ہشام
پیشہ :        جہاد و سیاست
وفات :       23 ھجری
مرویات :     537

*( 3 ) حضرت عثمان رضی الله عنہ:*

نام :           عثمان
کنیت :        ابو عمرو و ابو عبداللہ
لقب :          ذوالنورین
ولادت :       47 قبل ھجری
والد :          عفان
والدہ :         اروی
پیشہ :          تجارت
وفات :         35 ھجری
مرویات :       146

*( 4) حضرت علی رضی الله عنہ:*

نام :            علی رضی الله عنہ
کنیت :         ابوالحسن و ابواتراب
لقب :           اسداللہ و مرتضی
ولادت :        23 قبل نبوت
والد :            عمران , یعنی ابو طالب
والدہ :          فاطمہ
پیشہ :          جہاد
وفات :          40 ھجری
مرویات :       536

*( 5 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          خادم رسول
ولادت :       31 قبل ھجری
والد :           مسعود
والدہ :         ام عبد
پیشہ :         درس تدریس
وفات :        32 ھجری
مرویات :     848

*( 6 )حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابوالعباس
لقب :          حبرالامہ و ترجمان القرآن
ولادت :       3 قبل ھجری
والد :          عباس
والدہ :        ام الفضل
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        67 یا 68 ھجری
مرویات :     1660

*( 7 ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمن
لقب :          فقیہ امت
ولادت :       11 قبل ھجری
والد :           عمر فاروق
والدہ :         زینب بنت مظعون
پیشہ :         تدریس و خطابت
وفات :        73 یا 74 ھجری
مرویات :     2630

*( 8 ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو محمد و ابو عبدالرحمان
لقب :          کاتب حدیث و فاضل حدیث
ولادت :       7 قبل ھجری
والد :          عمرو بن عاص
والدہ :        ریطہ بنت منبہ
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       63 یا 65 ھجری
مرویات :    760

*( 9 ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ:*

نام :          جابر
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب الشجرہ
ولادت :      19 یا 20 قبل ھجری
والد :         عبداللہ بن عمرو
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        74 ھجری
مرویات :    1540

*( 10 ) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ:*

نام :            انس
کنیت :        ابو حمزہ و ابو ثمامہ
لقب :          خادم رسول
والد :          عاءل بن نضر
والدہ :        ام سلیم
پیشہ :        فتوی نویسی
وفات :        93 ھجری
مرویات :     2286

*( 11 ) حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ:*

نام :            عبدالرحمان
کنیت :        ابو ھریرہ
لقب :          فقیہ امت و حافظ حدیث
ولادت :       19 قبل ھجری
وفات :        59 ھجری
والد :          عامر بن عبدوی
پیشہ :        اشاعت حدیث
مرویات :     5374

*( 12 ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ:*

نام :            سعد
کنیت :        ابو سعید خدری
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       12 قبل ھجری
والد :          مالک بن سنان
والدہ :        انیسہ بنت ابو حارثہ
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :       74 ھجری
مرویات :    1170

*( 13 ) حضرت عائشہ رضی الله عنہا:*

نام :           عائشہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          صدیقہ
ولادت :       9 قبل ھجری
والد :          ابو بکر صديق
والدہ :        ام رومان بنت عامر
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       58  ھجری
مرویات :    2210

*( 14 ) حضرت ابو امامہ باھلی رضی الله عنہ:*

نام :           صدی
کنیت :        ابو امامہ
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       21 قبل ھجری
والد :          عجلان بن وھب
پیشہ :        جہاد
وفات :        86 ھجری
مرویات :     250

*( 15 ) حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ:*

نام :           عبداللہ
کنیت :       ابو موسی
لقب :         حافظ حدیث
والد :         قیس بن مسلیم
والدہ :       ظبیہ بنت وھب
پیشہ :       تجارت و جہاد
وفات :      44 ھجری
مرویات :   360

*( 16 ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی الله عنہ:*

نام :          سعد
کنیت :      ابو اسحاق
لقب :        فاتح عراق
ولادت :     25 قبل ھجری
والد :        ابو وقاص
والدہ :       حمنہ بنت سفیان
پیشہ: جہاد
وفات :       55 ھجری
مرویات :     271

*( 17 ) حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ:*

نام :           عقبہ
کنیت :        ابو حماد
لقب :          شاعر اسلام
والد :         عامر جھنی
پیشہ :        خطابت و شاعری
وفات :       58 ھجری
مرویات :     55

*( 18 ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہ:*

نام :           میمونہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          ام المومنین
ولادت :       23 یا 29 قبل ھجری
والد :          حارث بن حزن
والدہ :        ھندہ بنت حزف
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       51 ھجری
مرویات :     10

*( 19 ) حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ:*

نام :           حارث
کنیت :       ابو قتادہ
لقب :         فارس رسول الله
ولادت :      16 قبل ھجری
والد :        ربعی بن سلامہ
والدہ :       کبشہ بنت مظہر
پیشہ :       جہاد
وفات :      54 ھجری
مرویات :   170

*( 20 ) حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ:*

نام :           حذیفہ
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب سر رسول الله
والد :         حسیل یعنی یمان
والدہ :       رباب بنت کعب
پیشہ :       درس و تدریس
وفات :      36 ھجری
مرویات :   223

*( 21 ) حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ:*

نام :         سہل
کنیت :      ابو عباس
لقب :        ساعدی
ولادت :     6 قبل ھجری تقریبا
والد :        سعد بن مالک
پیشہ :      درس و تدریس
وفات :      100 ھجری
مرویات :   10 تقریبا

*( 22 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ:*

نام :           عبادہ
کنیت :        ابوالولید
لقب :          قاری القرآن
ولادت :       39 قبل ھجری
والد :          صامت انصاری
والدہ :        قرةالعین بنت عبادہ
پیشہ :        دعوت و کتابت
وفات :        34 ھجری
مرویات :     181

*( 23 ) حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ:*

کنیت :         ابو سلیمان
لقب :           بصری
ولادت :       8 قبل ھجری
والد :           جندب بن ھلال
پیشہ :         جہاد
وفات :        54 یا 58 ھجری
مرویات :     130

*( 24 ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ:*

نام :          عباس
کنیت :       ابو الفضل
لقب :         ساقی حرمین
ولادت :      56  قبل ھجری
والد :        عبدالمطلب
والدہ :       نتیلہ بنت جناب
پیشہ :       دعوت و تبلیغ
وفات :      32 ھجری
مرویات :    35

*( 25 ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ:*

نام :          زید
کنیت :       ابو خارجہ
لقب :         مفتی مدینہ
ولادت :      12 قبل ھجری
والد :         ثابت بن ضحاک
والدہ :        نوار بنت مالک
پیشہ :        قضاء و فیصلہ
وفات :       45 ھجری
مرویات :    92

*( 26 ) حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ:*

نام :           معاذ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          امام الفقہاء
ولادت :      18 قبل ھجری
والد :         جبل بن عمرو
والدہ :        ھندہ بنت سہل
پیشہ :        سیاست و یدرس و تدریس
وفات :       17 یا 18 ھجری
مرویات :     157