Showing posts with label نماز وتر کے دلائل. Show all posts
Showing posts with label نماز وتر کے دلائل. Show all posts

Thursday, 25 October 2018

آپ وتر کیسے پڑهیں

آپ وتر کیسے پڑهیں

🌻 *ازافادات متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گهمن صاحب*
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
🌸 *🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸
 💐وتر کی کیفیت یہ ہے کہ وتر کو دو تشہد اور ایک سلام سے ادا کیا جائے۔اس پر احادیث صحیحہ مرفوعہ، آثار صحابہ و اجماع امت موجود ہیں۔

 ☘نوٹ : احادیث میں نماز وتر کو مغرب کی طرح اد اکرنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا نماز وتر دو قعدوں اور ایک سلام سے ادا کی جائے گی فرق  اتنا ہے کہ وتر کی تینوں رکعتوں میں قراءة  فاتحہ اور سورة ہوگی تیسری رکعت میں قنوت وتر اور رفع الیدین ہوگا۔

 🌺 *احادیث مرفوعہ اور کیفیتِ وتر*

1⃣: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ہے:

 🍀کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بثلاث یقرء فی الاولیٰ بسبح اسم ربک الاعلیٰ وفی الرکعۃ الثانیۃ بقل یا ایہا الکافرون وفی الثالثۃ بقل ہو اللہ احد ولا یسلم الا فی آخرہن۔
( سنن نسائی ج1ص248)

🌷 ترجمہ:آپ علیہ السلام تین رکعات وتر پڑھتے تھے پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلیٰ  اور دوسری رکعت میں قل یا ایہا الکافرون اور تیسری رکعت میں قل ہو اللہ احد پڑھتے تھے اور صرف آخری رکعت میں سلام پھیرتے تھے۔
2⃣: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرفوع روایت:ثم اوتر بثلاث لا یفصل فیہن ۔
(مسند احمد ج6ص156 رقم 25101)

 🌴ترجمہ: آپ علیہ السلام  تین رکعت وترایک سلام سے  پڑھتے  تھے ۔

3⃣: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرفوع حدیث ہے: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یوتر بثلاث لا یسلم الا فی آخرهن-
 (مستدرک حاکم ج 1 ص 608)

 🌻ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر پڑھتے تھے اور آخر میں سلام پھیرتے تھے۔

 🚫نوٹ : اس کے بعد امام حاکم فرماتے ہیں: وھذا وتر امیر المومنین عمر بن خطاب وعنہ اخذہ اہل المدینہ۔

 یہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے وتر ہیں  اور ان سے اہل مدینہ نے یہی عمل لیا ہے۔

4⃣: عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ  قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم  لا فصل فی الوتر-
(جامع المسانید ج1ص402)

 💐ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں آپ علیہ السلام نے فرمایا وتر میں (سلام کا)فاصلہ نہیں ہے۔

💐 *احادیث مرفوعہ اور کیفیت وتر*

5⃣: عن عائشۃرضی اللہ عنہا قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  لا یسلم فی الرکعتین الاولیین من الوتر۔
 (مستدرک حاکم ج1ص607 کتاب الوتر)

 🍀ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔

6⃣: عن عبداللہ قال ارسلت امی لیلۃلتبیت عند النبی منتظر کیف یوتر فباتت عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم  فصلی ما شاء اللہ ان یصلی حتی اذا کان آخر اللیل واراد الوتر ۔۔۔۔الخ
 (الاستیعاب لابن عبدالبر ص934 رقم 742)

  🌷ترجمہ: حضرت عبداللہ  بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ کو بھیجا کہ آپ علیہ السلام کے گھر رات گزاریں اور دیکھیں کہ آپ علیہ السلام وتر کس طرح پڑھتے ہیں چنانچہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے ہاں رات گزاری پس آپ علیہ السلام نے رات میں جتنا اللہ کو منظور ہوا  نماز پڑھی جب رات کا آخری حصہ ہوا آپ علیہ السلام  نے وتر پڑھنے کا ارادہ کیا تو پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں قل یا ایہا الکافرون پڑھی پھر قعدہ کیا۔ پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو گئے اور تیسری رکعت میں (سورة قل ھوا للہ احد) پڑھی یہاں تک کہ جب اس  سے فارغ ہوئے تو تکبیر کہی دعائے قنوت پڑھی اور جو اللہ کو منظور تھا دعائیں کی اورتکبیر کہی  رکوع کیا -

🌴 *قول رسول آثار صحابہ اور کیفیت وتر*

 🌹عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم  صلوة المغرب وتر النہار فاوتروا صلاۃ اللیل ۔
 (مصنف عبدالرزاق ج2ص401 )

 🎄ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ  نبی علیہ السلام  نے فرمایا مغرب کی نماز دن کی وتر ہیں تو رات کی وتر بھی پڑھا کرو۔

 🚫نوٹ : یعنی جیسے مغرب کی نماز دو تشہد ایک سلام کے ساتھ ہے ایسے ہی وتر کی نماز بھی دو تشہد اور ایک سلام سے ہوگی ۔

 💐: عن عقبۃ بن مسلم قال سالت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عن الوتر فقال اتعرف وتر النہار قلت نعم صلوٰۃ المغرب قال صدقت او احسنت ۔
 (طحاوی ج1ص197 باب الوتر )

 🍀ترجمہ: حضرت عقبہ بن مسلم فرماتے ہیں میں نے وتر کے بارے میں حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ تو انہوں نے فرمایا کیا دن کے وتر جانتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں !مغرب کی نماز۔ انہوں نے فرمایا تو نے سچ کہا یا احسنت فرمایا، تو نے اچھا کہا۔

🌷 *اجماعِ امت اورکیفیت وتر*🌷

1⃣: عن الحسن  قال اجمع المسلمون علی ان الوتر ثلاث لا یسلم الا فی آخرهن.
( مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص194 رقم 177)

 🌺ترجمہ: اہل اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعات ہیں ان کی صرف آخری رکعت میں سلام ہے۔

2⃣: قد اجمعوا ان الوتر ثلاث لا یسلم الا فی آخرهن ۔
 (طحاوی ج1ص207 باب الوتر )

 🌹ترجمہ: اس بات پر اجماع کیا ہے کہ وتر تین رکعات ایک سلام کے ساتھ ہیں
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
✍ *

Saturday, 20 October 2018

*part 2* ایک رکعت وتر کا تحقیقی جائزہ

🔴 *part 2*

 ایک رکعت وتر کا تحقیقی جائزہ

🌟 *ازافادات : متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گهمن*
▪▪▪▪▪▪▪▪
🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸
🌺 یہ ضمیمہ ہے یعنی پہلے پارٹ سے متصل ہے

🌴 *خلاصہ کلام :*
روایت بالا (جوکہ پہلے پارٹ میں گزری) میں وتر سے پہلے اور بعد کے نوافل کو ملا کر ذکر کردیا گیا، جس کی وجہ سے اشکال پیدا ہوا ہے حالانکہ سائل کا سوال صلوٰۃ اللیل کے بارے میں نہیں بلکہ وتر کے بارے میں تھا، اسی لیے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صلوٰۃ اللیل کی رکعات کو تو اجمالا بیان فرمایا اور ان رکعات میں سے جو رکعات وتر کی تھیں ان کی تفصیل بیان فرمائی کہ آٹھویں رکعت پر جو وتر کی دوسری رکعت تھی قعدہ فرماتے تھے مگر سلام نہیں پھیرتے تھے اور نویں رکعت پر جو وتر کی تیسری رکعت تھی، سلام پھیرتے تھے۔

🌹 *تنبیہ:* صحیح مسلم میں امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا جو یہ ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں پڑھتے تھے ان میں نہیں بیٹھتے تھے مگر آٹھویں رکعت میں پس ذکر و حمد اور دعا کے بعد اٹھ جاتے تھے اور سلام نہیں پھیرتے تھے بلکہ نویں رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔
( صحیح مسلم ج1ص256)

🌼 اس روایت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان آٹھ رکعتوں میں قعدہ ہوتا ہی نہیں تھا۔ کیوں کہ یہ مضمون خود امی عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی احادیث کے خلاف ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آٹھویں رکعت پر بغیر سلام کے جو قعدہ فرماتے تھے، پہلی رکعتوں میں اس طرح کا قعدہ نہیں فرماتے تھے بلکہ ما قبل کی رکعتوں میں ہر دوگانہ پر سلام پھیرتے تھے۔

💐 مذکورہ بالا تفصیل سے سعد بن ہشام کی مختلف روایات میں تطبیق ہوجاتی ہے ان میں اب کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا، اگر ایک ہی راوی کی روایت ایک ہی سند مختلف الفاظ میں مروی ہو تو اس کو مختلف واقعات پر محمول کر کے یہ سمجھ لینا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسا کرتے ہوں گے، اور کبھی ایسا کرتے ہوں گے یہ طرز فکر درست نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک واقعہ کی مختلف تعبیرات ہیں، ایک ہی واقعہ کو نقل کرنے والے جب مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں نقل کردیں تو وہ متعدد واقعات نہیں بن جاتے۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

*part 1* ایک رکعت وتر کا تحقیقی جائزہ

🔴 *part 1*
ایک رکعت وتر کا تحقیقی جائزہ

🌟﷾ *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گهمن*
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸 🔸
🌼 غیر مقلدین ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں اور دلیل کے طور پر چند احادیث پیش کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کے مؤقف کی حقیقت کیا ہے ؟

*دلیل نمبر1⃣:* حدیث عائشہ بروایت سعد بن ہشام :
حضرت سعد بن ہشام انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا :
*أنبئيني عن وتر رسول الله {صلى الله عليه وسلم} فقالت كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله متى شاء أن يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضأ ويصلي تسع ركعات لا يجلس فيها إلا في الثامنة۔۔۔۔ الخ*
(صحیح مسلم ج1ص256)

🌻 *ترجمہ:* مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتلائیے، فرمایا: ہم آپ کے لیے مسواک اور پانی تیار کر رکھتے تھے، رات کے کسی حصہ میں اللہ تعالی آپ کو بیدار کرتے تو آپ مسواک کرتے، وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، پس اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، حمد و ثناء کرتے، دعا مانگتے، پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سن جاتا، پھر سلام کے بعد دورکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پس یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئی، پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہوگئے اور بدن بھاری ہوگیا، تو سات رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔
اور دو رکعتیں اس طرح پڑھتے تھے جس طرح پہلے پڑھا کرتے تھے پس یہ کل نوکعتیں ہوئیں۔

💐 *طرز استدلال:*
پہلے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نو رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر قعدہ فرماتے تھے اور نویں رکعت پر سلام پھیرتے تھے، اور آخری زمانے میں سات وتر پڑھتے تھے، ان میں چھٹی رکعت پر بغیر سلام قعدہ کرتے اور ساتویں رکعت پر سلام پھیرتے تھے معلوم ہوا کہ وتر ایک رکعت ہے۔

        🌹 *جواب....*🌹
قارئین کرام !آپ نے غیر مقلدین کی دلیل دیکھ لی اور ان کا طرز استدلال بھی ملاحظہ کر لیا۔ اب آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں

💦 :مذکورہ حدیث اسی سند سے سنن نسائی ج1ص248،
 موطا امام محمد ص151
 طحاوی شریف ج1ص137
 مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص295
 دار قطنی ج1 ص175
اور بیہقی ج3ص31 پر ان الفاظ سے مروی ہے:
*کان النبی صلی اللہ علیہ و سلم لا یسلم فی رکعتی الوتر*

🌷 *ترجمہ:* آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم وتر کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔

🌺 اور مستدرک حاکم ج1ص304 میں یہی حدیث ان الفاظ سے ہے:
*کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بثلاث لا یسلم الا فی آخرهن

🍀 *ترجمہ* آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے او رصرف ان کے آخر میں سلام پھیرا کرتے تھے۔

🌴 مسند احمد ج6ص156 میں سعد بن ہشام کی یہی حدیث ان الفاظ میں ہے:
*ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلی العشاء دخل المنزل ثم صلی رکعتین ثم صلی بعدہما رکعتین اطول منہما ثم اوتر بثلاث لا یفصل بینہن ثم صلی رکعتین وھو جالس۔*

🎄 *ترجمہ:* رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عشاء سے فارغ ہوکر گھر میں تشریف لاتے تو پہلے دو رکعتیں پڑھتے پھر دو رکعتیں ان سے طویل پڑھتے پھر تین رکعتیں (وتر) پڑھتے ایسے طور پر کہ ان کے درمیان سلام کا فاصلہ نہیں کرتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

        💧 *ملحوظہ......:💧*
یہ ایک ہی راوی کی روایت کے مختلف الفاظ ہیں، ان تمام طرق و الفاظ کو جمع کرنے سے درج ذیل امور واضح ہوجاتےہیں:

1⃣: سعد بن ہشام کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل گیارہ رکعتیں ادا کرتے تھے، جن میں وتر اور وتر کے بعد کے دو نفل بھی شامل تھے۔

2⃣: ہر دو رکعت پر قعدہ کرتے تھے۔

3⃣: ان میں تین رکعتیں وتر کی ہوتی تھیں۔

4⃣: وتر کی دو رکعتوں پر قعدہ کرتے تھے، مگر سلام نہیں پھیرتے تھے۔

5⃣: وتر کے بعد بیٹھ کر دو نفل پڑھتے تھے۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

Friday, 28 September 2018

WITAR KI NAMAAZ KE AKHIRI RAKAT ME DUA E QUNOOT SE PEHLE RAFULYADAIN KARNE KI DALIL….

Assalamu alaikum Wr Wb

WITAR KI NAMAAZ KE AKHIRI RAKAT ME DUA E QUNOOT SE PEHLE RAFULYADAIN KARNE KI DALIL….

Iss Mazmoon ke dalil se pehle me batlana chata hu ke Sahaba Raz Ka Fail Aur Qaul Hum Ahle Sunnat Wal Jammat Chahe Woh Hanabela ho, Shawafia ho, Malikiya Ho Ya Hanafia Ho Hujjat Hoti He…

Aur Sahaba Raz Mese Zada Afzal Abu Bakr Umar Usman Aur Ali Raz Ke Baad Hazrat Abdullah Bin Masood Raz Ka Fail Ya Qaul Hai Hum Ahnaf Ke Nazdeek Iski Wajah Yeh He Ke Rasoolullah S.A.W Ka Farman.. Aur Hamari Hanfi Fiqh Puri Ki Puri Hazrat Ibn Masood Raz Ke fail Ya amal Ya Hadees Par Mabni He Aur Kyu Na Ho Jisko Allah Ke Nabi S.A.W Pasand Farma Le Unko Ham Bhi Pasand Karte He…

Lehaza Muqqam E Abdullah Bin Masood Imamul Ambiya Rasul ullah S.A.W Ki Zubani…

1) Rasool ullah S.A.W Farmate He Ke “jis cheez ko tumhare liye Ibn Masood Raz pasand Karte He Me Ispar Raazi Hu..
(Hakim jild 3 Safa 319)

* Imam Hakim Rah Ne Sahih Kaha..
* Imam Zehbi Ne Bhi Sahih Kaha..
* Shaikh Naseeruddin Albani Ne Sanad Ko Sahi Kaha..
(Silsilatul Hadees Sahiha Raqam#1225)
* Shaikh Muhammad Awwama Rah Ne Bhi Hadees Ko Sahih Kaha
(Hasiyyah Musannaf Ibn Abi Shaiba 17/193)

2) Rasool ullah S.A.W Ne Farmaya- “Ibn Masood Raz Ke Farman Ko Mazbooti Ke Sath Pakdo”
(Isko Riwayat kiya he Tirmizi, Musnad Ahmad Aur Tahawi Me)

* Shoaib Arnaut Rah Farmate He Hadees Sahih He
(Hasiyya SharhMushkil Aasar Raqam#1224)

Lehaza In Do Marfoo Riwayato Se Pata Chala Ke Ibn Masood Raz Ka Qaul Wa Amal Hujjat He Deen Me Jesse Sahaba Ki Shaan E Mubarak He Lekin Tarjeeh Ibn Masood Ko He Rasul Ullah S.A.W Ke taraf Se..

Ab Asal Masle Pe Ate He Ke Ham Ahnaf Qunut Ke Takber Me Rafal Yadain Kyu Karte He??

1) SANAD
Imam Abi Shaiba- Abdul Rahim Al Muharibi Zaida- Lais Bin Abi Sulaim- Abdur Rahman Bin Aswad- Aswad Bin Yazid- Abdullah Bin Masood Rdh. Witr
Ki Teesri Rakaat Me Qirat Ke
Baad Allahuakbar Kehkar
(Takbeer E Tehrima Ki Tarah)
Haat Utaate Aur Duaaye
Qunoot Padhte Aur Phir
Takbeer Kehkar Ruku Me
Jaate. (Mussanaf Ibn Abi Shaiba Jild 2 Hd.no-7027,7028, Juz E Rafe-Yadain :
Safa 24,28,Raqm-163
Aasaar Us Sunan :
Safa 328)

* Yehi Riwayat Imam Bukhari Ne Apni Sanad Se Juzz rafaya dain Me Aur Imam Abdur Razzaq Rah Ne Musanaf Abdur Razzaq 4/325 Me Hasan Sanad Ke Sath Naqal Kiya He.

2) Hazrat Ali Rdh., Ibn
Omer Rdh. Aur Baraa Rdh. Se
Bhi Yahi Amal Saabit Hai.
(At-Ta’aliqun Hasan : Safa
327)

3) Hazrat Umar Raz Se Bhi Marvi He Ke Witar Ke Qunut Ke Takbeer Me Vo Rafayadain Karte The..
( Juzzul Rafulyadain Raqam 23, Baihaqi Jild 3)
* Shaikh Albani Rah Ne Sanad Ko Sahi Kaha
( Dekhiye Irwaul Ghalil)
* Shaikh Ibn Bazz Rah Ne Bhi Sahih Kaha He..
(Majmua Fatawa Ibn Bazz)

4) Ibraheem Naqhai Tabain He Farmate He 7 Maqaam Par Hatho Ko Uthaya Jaye( Rafayadain Kiya Jaye) jismese Ek Unhone WITR KE QUNUT KE PEHLE TAKBEER bhi Shamil He..
(Musanaff Ibn Abi Shaiba Jild 2 Hd.no-7029,
Sharh Ma’anail Asaar lil Tahavi rah)

* Iski Sanad Ko Imam Nemwi Ne Sahi Kaha He..
(Aasarus Sunan Safa 210)

Lehaza Hum Rafa Yadain Tab He Karte He Jab Hadees Wa Asaar Se Sabit Ho Tark Na Hua Ho..

AITERAAZ…

Ghair Muqallideen Ka Ek Iskal Yeh He Ke Hum Ahnaf Qunoot Ke Takbeer Ke Dauraan Hath Uthakar Dua Kyu Nahi Mangte Kyuki Qunut Ek Dua He Aur Dua Hath Utha Kar Mange Jayegi…

JAWAAB..

Hum Ahnaf Sunnat Ko Zada Pasand Karte He Na Ke Raaye Ko…
Kisi Bhi Marfu Hadees Ya Asaar E Sahaba Raz Se Hath Utha Kar Dua Karna Sabit Nahi Lehaza Pehle Aplog Hath Uthakar Dua Karneki Sahih Sharah Hadees Dikhayein…

JAWAB DUWWAM

Iska Aur ek Jawab Yeh He Ke Rasul ullah Saw Ne Kabhi Bhi namaaz Ke Dauraan Apne Hath Utha Kar Dua Nahi Kiya He Haan Jab Namaaz Khatam Hojati Tab Karte Iski Dalil Mulaiza Ho..

Hazrat Abdullah Bin Zubair Raz Ne Ek Shakhs Ko Dekha ke vo Apne Hath Ko Uthaye Huye Namaaz Khatam Honese Pehle Dua Kar Raha Tha, Jab Uski Namaaz Khatam Hui Toh Abdullah Bin Zubair Raz Uske Pass Tasreef Farma Huye Aur Farmane Lage Beshaq!! Rasool ullah S.A.W Sirf Namaaz Ke Khatam Honeke Baad Apne Hatho Ko Uthate Aur Dua Mangte The..
(Majmua Zawaaid 1/169
Imam Haismi Rah Se Hadees Ko Sahih Qarar Diya He)

Umeed He Ke Dalilo Se Rabbta Honeke Baad Ghair Muqallideen Hampar ungli Uthaneki Galati Nahi Karenge…

Jazak Allah…

Monday, 17 September 2018

وتر کی تیسری رکعت میں قرأت سے فارغ ہوکر تکبیر کہنا اور رفع یدین کرنا احادیث صحیحہ سے

وتر کی تیسری رکعت میں قرأت  سے فارغ ہوکر تکبیر کہنا اور رفع یدین کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔1: عن ابی عثمان قال کان عمر یرفع یدیہ فی القنوت ۔ )جزء رفع الیدین مترجم ص346( ترجمہ: ابو عثمان کہتےہیں حضرت عمر قنوت کے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔2: عن عبداللہ انہ کان یقرء فی آخر رکعۃ من الوتر قل ہو اللہ احد ثم یرفع یدیہ ویقنت قبل الرکعۃ ۔ )جزء رفع الیدین مترجم ص346(ترجمہ: حضرت عبداللہ  بن مسعود رضی اللہ عنہ وتر کی آخری رکعت میں قل ہوا للہ احدپڑھتے تھے پھر رفع الیدین کرتے اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔3: عن الاسود عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  انہ کان  یرفع یدیہ فی قنوت الوتر ۔ )مصنف ابن ابی شیبہ ج4ص531(ترجمہ: حضرت اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ وتر میں قنوت کے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔فائدہ: خود غیر مقلدین کے علماء کرام بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کے متعلق کوئی صحیح روایت نہیں ہے۔1: صحیح حدیث سے صراحۃ ہاتھ اٹھا کر یا باندھ کر قنوت پڑھنے کا ثبوت نہیں ملتا ۔ )فتاویٰ علماء حدیث ج3ص206(2: دعا قنوت وتر میں  ہاتھ اٹھانے کے متعلق کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے ۔ )نماز نبوی ص237( 3: بعض صحابہ کرام سے وتروں میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بارے میں ضعیف آثار بھی ملتے ہیں بہتر یہ ہے کہ قنوت وتر میں ہاتھ نہ اٹھائے جائیں ۔ )حاشیہ صلوۃ الرسول ص297

Monday, 13 August 2018

*MASLA NAMAAZ E WITR ME DUAA E QUNOOT KE WAQT RAFA YADAIN KARNE KA*

*MASLA NAMAAZ E WITR ME DUAA E QUNOOT KE WAQT RAFA YADAIN KARNE KA*
Assalaamu alaikum warahmatullahi wa barakaatuhu!
Dosto! Aap sabse pehle ye baat zahen nasheen karlen ke kabhi sawaal to hota hai tehqeeq ke liye , aur kabhi sawaal ka mansha mahez sharaarat hota hai jaisake ghair muqallideen ye sawaal kiya karte hain ke dua e qunoot me rafa yadain ke ba'd haath baandhna kis hadees se saabit hai? Ye mahez sharaarat ke liye sawaal hai aur ye dikhlaana hai ke ahnaaf bila daleel fiqhi masaayel par amal karte hain. Ghair muqallideen ki is qism ki sharaarat ki aam aadat hai, is sawaal ko sharaarat is liye keh raha hun ke ye sab ko ma'loom hai ke haalat e qiyaam me jab qiyaam ka baqa mustaqil rukn ki haisiyet se ho to musalli haath baandh kar hi khada hota hai, dua e qunoot ke liye mahez haath uthaane se waza saabiq badli nahi, jab saabiqah haalat aur waza badli nahi aur jaise pehle musalli haalat e qiyaam me tha waise hi ab bhi haalat e qiyaam hi me hai, to jis tarah haath baandh kar pehle khada tha ab bhi wo isi tarah khada rahega.
Sahaaba kiraam (rz) se Allah ke rasool (s.a.w.s) ki namaaz ka jo naqsha ahaadees ki kitaabon me pesh kiya gaya hai, usme rafa yadain ke ba'd haalat e qiyaam me waza ul uameen alashshimaal ya wazauz ziraa' alalz zira ka lafz aaya hai, jiska matlab ye hai ke Aap (s.a.w.s) jab namaaz me rafa yadain ke ba'd qiyaam farmaate to apna daahena haath baayen haath par rakhte, aap (s.a.w.s) ki namaaz ki is haalat ka bayaan ahaadees ki aam kitabo me hai, pas haalat e qiyaam me haath baandhna ek do hadees se nahi balke ahaadees e kaseera se saabit hai, aur jo baat ahaadees e kaseera se saabit ho uske baare me ye sawaal karna ke wo kis hadees se saabit hai mahez sharaarat hai, ye toh is tarah ka sawaal huwa ke koi ghair muqallideen se puchhe ke tum jo namaaz me khade ho kar kamar khujlaate ho ya sar khujlaate ho aur phir seenah par haath baandh lete ho ye kis hadees se saabit hai?
dosto se ek baat ye arz karni hai ke ham log sirf ghair muqallideen hi ko sawaalaat karne ka mauqa na den, balke unse bhi sawalaat karne ki aadat daalen.
masalan: isi masla me ghair muqallideen se sar aur kamar khujlaane wale sawaal ke ba'd darj e zel sawaal karke unse jawaab haasil karen.
(1) pehla sawaal ye hai ke ghair muqallideen dua e qunoot me haath uthha kar dua karte hain, unka ye amal kis hadees se saabit hai?
(2) dosra sawaal ye hai ke ghair muqallideen bila takbeer kahe huwe dua e qunoor me haath uthaate hain takbeer ka na kehna kis daleel se saabit hai?
(3) teesra sawaal ye hai ke ghair muqallideen dua e qunoot sirran (aahista) padhte hain ya jehran (buland awaaz se) agar sirran padhte hain to iski hadees pesh karen, aur agar jehran padhte hain to iski hadees pesh karen?
(4) chautha sawaal ye karen ke fataawa ahle hadees jild 3 safha 206 me likha hai ke dua e qunoot ruku ke ba'd padhna mustahab, bukhari shareef me ruku ke ba'd hai. Agar ghair muqallideen sachche hain to bukhari shareef me koi ek hadees bhi aisi dikhlaaen jisse ma'loom hota ho ke witr ki dua e qunoot ko huzoor (s.a.w.s) ne ruku ke ba'd padha ho?
Agar aap isi masla me ghair muqallideen se ye chand sawaalaat karlen to unki saari ahle hadeesiyet hawa ho jaayegi aur khabeesiyat saamne aa jayegi.
Yahi wajah hai ke ye Ghair muqallideen isi masla qunoot me dhoka , fareb khayaanat , sharaarat sab se kaam le rahe hain aur be sharam itne hain ke sheesha ke ghar me rehte huwe aahani deewaaron ke qasrhaaye shaahi par patthar phenkte hain.
Ab dua e qunoot me raf yadain ki daleel mulaahaza farmaayen:
(1) QAALA (ABU USMAANA): KAANA UMARA YARFA'U YADAIHI FIL QUNOOTI. ''hazrat abu usmaan farmaate hain: hazrat umar (rz) qunoot me apne dono haath uthaate the''. (juz rafa ul yadain lil bukhari safha 146 hadees no: 162, qiyaam ul lail lilmaruzi safha 230, assunan ul kubra lilbaihaqi jild 3 safha 212)
(2) ANIBNI MAS'OODIN ANNAHU KAANA YAQRA'U FEE AAKHIRI RAKA'TIM MINAL WITRI QUL HUWA-ALLAHU AHAD SUMMA YARFA'U YADAIHI FAYAQNUTU QABLAR RAKA'TI. ''hazrat abdullah bin mas'ood (rz) witr ki raka't me QUL HUWA-ALLAHU AHAD padhte the phir ruku me jaane se pehle apne dono haath uthate the''. (juz rafa' ul yadain lilbukhari safha 146, hadees no: 163, musannaf ibne abi shaiba jild 4 safha 531)
(3) hazrat abu hurairah (rz) ke baare me marwi hai
KAANA ABU HURAIRATA YARFA'U YADAIHI FEE QUNOOTIHEE FEE SHAHRI RAMZAANA. ''hazrat abu hurairah (rz) ramazaan ke maheena me dua e qunoot ke liye haath uthaate the''. (qiyaam ullail lilmaruzi safha 230, sunan e kubra baihaqi jild 3 safha 41)
NOTE: Chunki Mujhe ek bhi sareeh hadees aap (s.a.w.) se is baare me na mil saki isliye aa saar e sahaba (rz) KO pesh kiya hai, aur saahaba (rz) ka qaul o fa'l hamaare nazdeek hujjat hai aur inka ye amal bhi apni daleel ke liye kaafi hai bahamdulillah.
Wassalaam