Showing posts with label 🚫بریلویت کا رد 🚫. Show all posts
Showing posts with label 🚫بریلویت کا رد 🚫. Show all posts

Thursday, 21 November 2024

انگلی پر نجاست لگ جائے تو تین دفعہ چاٹ کر پاک کیا جاسکتا ہے فتاوی رضویہ

 انگلی پر نجاست لگ جائے تو تین دفعہ چاٹ کر پاک کیا جاسکتا ہے فتاوی رضویہ قدیم۔جلد دوم ص 83 جدید جلد چہارم نواب احمد رضا خان بریلوی اعلی حضرت فاضل بریلوی ۔۔۔۔۔ مفتی عبد الواحد قریشی پر اعتراض کرنے والے ہمیشہ کی طرح اپنے گھر کا گند بھول گئے ۔۔۔۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔۔




Saturday, 12 October 2024

نذر و نیاز کیلئے کچھ نہیں تو اگر ہم میاں بیوی ایک دوسرے کا "بنیت صالحہ فرج ذکر " ٹٹولے بلکہ ٹٹولتے ہی رہیں اس کے بعد جو ڈھیروں اجر و ثواب ہمیں ملے گا کیا یہ ثواب ہم اعلی حضرت فاضل بریلوی کی روح پر فتوح کو "ایصال ثواب" کرسکتے ہیں؟

ایک غریب بریلوی بھائ کا سوال میرے پاس اعلی حضرت کی بارگاہ میں پیش کرنے کیلئے نذر و نیاز کیلئے کچھ نہیں تو اگر ہم میاں بیوی ایک دوسرے کا "بنیت صالحہ فرج ذکر " ٹٹولے بلکہ ٹٹولتے ہی رہیں اس کے بعد جو ڈھیروں اجر و ثواب ہمیں ملے گا کیا یہ ثواب ہم اعلی حضرت فاضل بریلوی کی روح پر فتوح کو "ایصال ثواب" کرسکتے ہیں؟

کیونکہ اعلی حضرت نے اپنی کتاب احکام شریعت حصہ دوم ص 245 پر ثواب کمانے کا ایک دعوت اسلامی کی اصطلاح میں "مدنی طریقہ " یہ بھی بتایا ہے ۔

نوٹ: ہم کوئ اعتراض نہیں کررہے ہیں اس لئے جواب میں یہ تقریر جھاڑنے کی ضرورت نہیں کہ فلاں فلاں کتاب میں بھی لکھا ہوا ہے کیونکہ خود خان صاحب کہتے ہیں کتاب کا مستند ہونا اور بات ہے اس کی ہر بات کا مستند ہونا اور بات ہے ۔۔۔ ہم تو اعلیٰ حضرت کے اس مسلئہ کو سامنے رکھ کر عاجزانہ سوال کررہے ہیں لہذا

جو سوال کیا گیا ہے بس اس کا جواب دیا جائے۔

طالب دعا ساجد خان نقشبندی



Tuesday, 4 June 2024

کیا المہند" فاضل بریلوی کی وفات کے بعد شائع ہوئی

 *"المہند" کی اشاعت کے متعلق رضا خانی سعد حنفی کے ڈھول کا پول اور اتمام حجت*


✍️ ابو سعد لئیق رحمانی


  قارئین کرام! ہم نے کل یا پرسوں "المہند" کی اشاعت کے متعلق سعد حنفی کے ایک جھوٹ کی قلعی کھولنے کے لیے موصوف کے سامنے آئینہ رکھا تھا۔ آج جناب نے بجائے اپنا منہ اس آئینے میں دیکھنے اور اپنی اصلاح کرنے کے، مماتیوں کے جھوٹے برتن میں منہ ڈال دیا ہے۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ عزت تو آتی جاتی ہے بس آدمی کو ڈھیٹ ہونا چاہئے، سعد حنفی نے اس بار ایسا ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کیا ہے کہ موصوف ہمارے نزدیک "نوبل پرائز براے ڈھیٹ پن" کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ آئیے موصوف کے اس کارنامۂ ڈھیٹ پن کا زرا تفصیل سے جائزہ لیں۔ 

موصوف کا جھوٹ یہ تھا کہ 

"المہند" فاضل بریلوی کی وفات کے بعد شائع ہوئی... الخ"

ہم نے اس جھوٹ کی قلعی کھولنے کے لئے میثم عباس رضوی کا حوالہ دے کر ثابت کیا تھا کہ المہند فاضل بریلوی کی حیات میں ہی شائع ہوئی تھی، اب موصوف کو چاہئے تھا اپنے جھوٹ سے توبہ کرے، مگر بجائے توبہ کرنے کے موصوف نے اپنے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے کسی متعصب و بدبودار مماتی مولوی کا حوالہ پیش کردیا۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ محض اپنے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے موصوف نے انتہائی متعصب اور کذاب مماتی کا سہارا لیا اور یہ بھی تعجب ہے کہ محض اس مماتی کے کہنے پر اتنا اعتماد کرلیا کہ اپنے ہی علماء کو لات مارنے پر اتر آیا۔ توبہ توبہ 

   حالانکہ بریلوی علامہ پیر مظفر شاہ قادری کی جانب سے شائع کی گئی کتاب میں لکھا ہے کہ : 

   ”حضور سیّد عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا فرمان ہے

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ"

  اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ ہر سنی سنائی بات بیان کرنے والا بھی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتا اور اُسے جھوٹا قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ وہ خود اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں کررہا، بلکہ بلا تحقیق دوسروں کی باتیں نقل کر رہا ہے۔

ایک دوسری روایت میں تو صریحاً 

"كفى به إنما أن يحدث بكل ما سمع "

کے الفاظ موجود ہیں، جس میں بلا تحقیق باتیں نقل کرنے والے کو گناہ گار ٹھہرایا گیا ہے“۔ (کشف القناع : ج ۱ ص ۲۳۷)


   ہوسکتا ہے موصوف مزید ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ "ہم نے مماتی کا حوالہ الزامی طور پر پیش کیا تھا" تو نقد جواب عرض ہے کہ آپ کی جماعت کے مفتی عبدالمجید سعیدی فرماتے ہیں کہ:

   ”ہم پر اس کا قول حجت ہوسکتا ہے جو ہمارے مسلک کا ہو اس لیے قول آپ اسی کا لائیں جو ہمارے لئے حجت ہو“ (مناظرہ مسئلہ رفع یدین : ص ۲۳)

  لہزا مماتی ہمارے مسلک کے نہیں تو ان کا قول ہم پر کیسے حجت ہوسکتا ہے؟ اور پھر یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ "المہند" کی اشاعت فاضل بریلوی کی حیات میں ہی ہوئی تھی پھر اصول بھی یہ ہے کہ حقیقت کے خلاف کسی کی بھی بات قبول نہیں کی جاتی خود فاضل بریلوی لکھتے ہیں کہ : 

   ”آپ کو معلوم ہے کہ یہ بات نقل کے خلاف ہے اور منقول کے خلاف کوئی بحث قابل قبول نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ وہ بحث خود بھی درست نہ ہو“ (فتاویٰ رضویہ : ج ۷ ص ۵۵۱)

منقول کے خلاف کوئی بحث قابل قبول نہیں، اور منقول تو یہی ہے کہ "المہند" فاضل بریلوی کی حیات میں شائع ہوئی پھر اس منقول کے خلاف بحث کیونکر قابل قبول ہوسکتی ہے۔؟ اگر پھر بھی موصوف بضد ہو اور ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرے اور کہے کہ میں نے مماتی کا حوالہ الزاماً پیش کیا ہے، تو مزید عرض ہے کہ آپ کے گھر کی کتاب میں لکھا ہے کہ :


”تحقیق کے میدان میں الزامی حوالہ جات مردود اور فضول ہیں“۔ (ترک رفع الیدین علمی و تحقیقی دستاویز : ص ۱۶۲)

  تو موصوف کا حوالہ فضول و مردود قرار پایا لہزا موصوف سے گزارش ہے کہ ایسے مردود اور فضول کام سے باز آئیں اور "المہند"  کی اشاعت کے متعلق اپنے بڑے بھائی جناب میثم عباس رضوی کا یہ طویل اقتباس ایک مرتبہ اور ملاحظہ فرمائیں، موصوف لکھتے ہیں کہ : 


"(1) خلیفہ اعلیٰ حضرت صدرالافاضل فخرالاماثل حضرت علامہ مولانا سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی نے (المهند“ کی اشاعت کے بعد تیسرے سال یعنی ۱۳۳۲ھ میں) ”التحقيقات لدفع التلبيسات“ کے نام سے المہند کا ر لکھ دیا تھا۔ 

(۲) خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا حاجی لعل خان نے بھی ۱۳۳۴ھ میں شائع ہونے والی اپنی کتاب تاریخ وہابیہ و دیوبندیہ میں المھند کا رد کیا تھا۔ 

(۳) اعلیٰ حضرت کے ایک اور خلیفہ، محدث عظم ہند، حضرت علامہ مولانا سید محمد اشرفی الجیلانی کچھوچھوی نے بھی اعلیٰ حضرت کی حیات مبارکہ میں ”اتمام حجت“ کے نام سے المهند‘ کا رد لکھ کر ۱۹۲۰ ء میں شائع کر دیا تھا۔

 (۴) اسی طرح حضرت علامہ مولانا مولوی ریاست علی خان شاہجہانپوری نے بھی اعلی حضرت کی حیات مبارکہ میں ”المہند“ کے رد میں التحقيقات لدفع التحریفات کے نام سے کتاب لکھی تھی، یہ کتاب ۱۹۱۹ء میں شائع ہو گئی تھی ۔

 (۵) انوار آفتاب صداقت پر اعلیٰ حضرت کی تقریظ موجود ہے۔ اس کتاب میں بھی المهند“ کا رد کیا گیا ہے۔ جس کا عنوان "رسالہ التَّصْدِيقَاتُ لِدَفْعِ التَّلْبِيسَات المعروف بمهند مؤلفہ مولوی خلیل احمد صاحب کی حقیقت اور اُس کے فرضی و جعلی ہونے کی کیفیت ہے۔ س وضاحت سے معلوم ہوا کہ سیدی اعلی حضرت کی حیاتِ مبارکہ میں ہی آپ کے متعلقین میں ۵ شخصیات (جن میں تین آپ کے خلفا تھے) نے المہند کا رد لکھ دیا تھا“ (المہند اور اعلی حضرت: ص 242-243)"


    اس طویل اقتباس میں میثم عباس صاحب یہ ثابت کررہے ہیں کہ "المہند" کا رد اعلی حضرت کی حیات میں ہی کیا جا چکا تھا، جبکہ سعد حنفی اس پر مصر ہے کہ "المہند" اعلی حضرت کے مرنے کے بعد شائع ہوئی، اب ہمارا سوال یہ ہے کہ جب "المہند" اعلی حضرت کی حیات میں شائع نہیں ہوئی تو اس وقت اس کا رد کیسے لکھا گیا۔؟ اگر سعد حنفی سچا ہے تو کیا ہم یہ مان لیں کہ میثم عباس اور دیگر بریلوی علماء جھوٹے، کذاب، مکار ہیں۔؟؟؟ 


*آخری گزارش:*

 ہم سعد حنفی کو انتہائی لاڈ اور سنجیدگی سے سمجھا رہے ہیں کہ وہ ایسے بے تکے اور جھوٹے حوالے دینے سے باز آجائے، ورنہ پھر *"حسام الحرمین"* کے خلاف مفتی خلیل بدایونی، ڈاکٹر طاہرالقادری و علماء جامعہ اشرفیہ مبارکپور سمیت سینکڑوں حوالے پیش کرنے کے ہم بھی مجاز ہوں گے۔!!!












Sunday, 19 May 2024

رضا خانیوں کا گھر بدفعلیوں سے بھرا پڑا ہوا

 #Barailviyat kai Liyai #Zalzala 

*رضاخانی بدعتی کھٹمل اسرار کشمیری کا علماء دیوبند پر اعتراض کا مدلل و محقق جواب

 رضا خانیوں کا گھر بدفعلیوں سے بھرا پڑا ہوا ھ


👇


ناظرین !

یہ مثل مشہور ہے کہ جو جیسا ہوتا ہے دوسروں کو بھی ویسا ہی سمجتا ہے چونکہ ان برائلر رضا خانی کے یہاں اور انکے مدرسو میں یہی  سب کچھ ہوتا ہے جسکا اقرار خود رضاخانی حکیم الامت کو ہے چنانچہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں


*’’ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧﻭﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩ ﺑﮯ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻭﺍلےﺑﭽﮯﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮍﮬﺘﮯﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻁ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﻧﺘﯿﺠﮯﺑﮭﯽ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ(لواطت کرتے ہیں)* ‘‘ ۔ 😏

📗ﺟﺎﺀﺍﻟﺤﻖ ،ﺹ۲۱۱




اب یہ اپنے گھر کی کارستانی اور گندگی کو  ہمارے صف اول کے اکابرین اولیاء کا ملین پر کرنا یہ رضا خانیوں کی  اسی گندگی میں پلنے کا جیتا جاگتا نمونہ ہے 

قارئین! 

 جواب دینے سے پہلے ہم وہ پورا واقعہ نقل کردیتے ہیں تاکہ آپ پر رضاخانی گندی ذہنیت وتربیت کا نمونہ با لکل عیاں ہو جائے 👇


*ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی سے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ۔ یہاں ذرا سا لیٹ جاؤ* ۔

 *ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼﺷﺮﻣﺎﺳﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺑﮩﺖﺍﺩﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﺖ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻥﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﺷﻖ ﺻﺎﺩﻕ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻠﺐﮐﻮ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺩﯾﺎﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮨﺮ ﭼﻨﺪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺎﮞﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﺣﻀﺮ ﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮒﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﺩﻭ*۔

📗 ﺍﺭﻭﺍﺡ ﺛﻼﺛﮧ ،ﺹ 289



قارئین ! یہ پورا واقعہ پڑھیں

اول عام لوگوں کے سامنے واقعہ ہے جہاں اس خباثت کی کوئی گنجائش نہیں 

دوسرا کہیں اس واقعہ میں بدفعلی کا ذکر نہیں اور نہ صبح قیامت تک کوئی زندہ مردہ رضاخانی اس واقعہ میں بدفعلی ثابت کرسکتا ہے ۔👀

یہاں تو سینہ پر ہاتھ صرف ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے 🤔

پیر اپنے مرید سے بڑا چھوٹے سے محبت و شفقت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں 

یہ دیکھیں میرے پاس ابوداؤد شریف ہے 

کتاب المناسک باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے 


حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ. فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الأَعْلَى ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ شَابٌّ. فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ وَأَهْلاً يَا ابْنَ أَخِي۔۔

📕سنن ابوداؤد شریف کتاب المناسک۔حدیث نمبر 1097




*حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ہم لوگ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت حاضر ہوئے ہم لوگ جب پہونچے تو انہوں نے دریافت کیا کہ کون کون حضرات ہیں یہاں تک کہ میرا نمبر بھی آگیا میں نے کہا میں محمد بن علی بن حسین ہوں انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سرپر پھیرا اور میرا اوپر کا دامن اٹھایا پھر نیچے کا دامن اٹھایا اسکے اپنا ہاتھ میرےدونوں چھاتی کے درمیان میں  رکھا اور میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا اور کہاکہ تم کو خوشی ہو تم اپنوں میں آگئے*۔۔

ناظرین !😳

اس حدیث میں غور کریں 

 اس حدیث میں تو ارواح ثلاثہ  سے بھی خطرناک بات لکھی ہوئی ہے 👆


نمبر ایک اس حدیث میں ایک

 نو جوان یعنی جو ابھی جوان نہ  ہواہو اس کا ذکر ہے 👆😳


نمبر دو کپڑا اٹھاکر سینہ پر  ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے 😳👆


جبکہ ارواح ثلاثہ کے واقعہ میں نہ نوجوان کا ذکر ہے 🥺


نہ کپڑا اٹھانے کا ذکر ہے🧐

تو 

اگر خانقاہ گنگوہ میں ایک بڑا اپنے چھوٹے سے محبت اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے سینے پر ہاتھ رکھ دے تو بریلوی اپنی خباثتی ذہن سے گندا معنی سمجھ کر عوام کو علماء اہل سنت سے بدظن کرتے ہیں کیا ایسے خناسی کچھ مذکورہ حدیث پر بھی لب کشائی کریں گے 👆❓😏


*بریلوی حکیم الامت کا حوالہ*👀👇


 دیکھیں رضا خانی حکیم الامت لکھتے ہیں کہ

*اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے حضور نے انکو پیچھے سے گود میں لے لیا وہ حضور کو نہ دیکھے تھے بولے یہ کون ہے مجھے چھوڑ دو انہوں نے التفات کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان  لیا تو انہوں نےکی نہیں اپنی پیٹھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ سے رگڑنے لگے جب کہ حضور کو پہچان لیا* ۔

📕مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 374




مولانا رشید گنگوہی اور قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ پر ک ت ے س و ر کی طرح بھونکنے والے رضا خانی ذرا اپنے حکیم الامت کی کتاب میں مذکور اس حدیث کے بارے کیا کہیں گے یہاں بھی ارواح ثلاثہ کی عبارت سے خطرناک بات لکھی ہوئی ہے


*کہ ایک صحابی کو نبی علیہ السلام نے پیچھے سے اپنے گود میں بٹھا لیا*🧐👀

اور  اپنی بدن کو رگڑ بھی رہے ہیں 🧐

یاپھر اپنے مجدد کی طرح

 بے غیرتی کا کرتا یہاں بھی سرباز ار اٹھاکر آنکھ پر رکھ لے گا 👆😆


*بریلویوں کو اپنے گھر کی خبر نہیں*👇🙈


*آلہ تناسل کی مار بریلوی بیمار*😄😋👇


جامع کرامات اولیاء یہ کتاب ہے ترجمہ کر نے والا بریلوی ذاکر سیالوی ہے 

اسمیں ایک کرامت یوں بیان کیا گیا ہے کہ

*وہ کرامت یہ ہے کہ میں ابرہیم مذکور ایک دن حمام میں شیخ کیسا تھ گیا ہمارے ساتھ آپ کا خادم شیخ دبوسی طرابلیسی بھی تھا رشتہ میں یہ شیخ کی بیوی کا بھائی لگتا تھا حمام میں ہمارے علاوہ کوئی نہ تھا بیان کرتاہے میں نے شیخ سے ایک عجیب شروع عادت کرامت دیکھی وہ یہ کہ آپ کو ایک خادم پر کسی وجہ سےغصہ آگیا اور ارادہ کیا کہ کسی وجہ سے مناسب تادیب کی جائےشیخ نے اپنے تہبند کے نیچے ہاتھ ڈال کر دونوں ہاتھوں سے اپنا آلہ تناسل پکڑا وہ کافی لمبا ہوگیاحتی کہ کاندھوں تک اسکی لمبائی ہوگئی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ پھر اسکے ساتھ اس خادم کو مارنا شروع کردیا اور خادم تکلیف کی وجہ سے چلا رہا تھا آپنے اسے چند ضربیں لگائیں اور پھر چھوڑدیا اور آلہ تناسل دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آ گیا میں سمجھ گیا کہ خادم نے ضرور کوئی ایسا حرکت کی ہوگی جس کی وجہ سے تادیب کے لیے ایسا کیا ہے جب الحاج ابرہیم نے شیخ کی یہ کرامت کی بیان کی اس وقت شیخ بھی کھڑے تھے آپ نےمجھے فرمایا کہ اسکی بات نہ ماننا اور اس واقعہ کو سچا نہ جاننا یہ کہتے ہوئے آپنے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے آلہ تناسل کی جگہ پر رکھ دیا مجھے وہاںکچھ بھی محسوس نہ ہوا*۔۔

🧐کرامات اولیاء مترجم ذاکر سیالوی ۔صفحہ 604/605





یہاں ذکر آلہ تناسل سے پٹائی بھی ہورہی ہے حتی کہ  ہاتھ۔ پکڑ ذکر آلہ تناسل کی جگہ رکھا جارہا مگر رضا خانی یہاں گونگا شیطان بناہوا 👆😋


*ران میں بوسہ زنی* 👇😃


سبع سنابل جو بریلوی کے یہاں معتبر کتاب ہے اسمیں سید محمود گیسو دراز کا واقعہ  لکھا ہے 👇

*جس وقت آپ حضرت مخدوم نصیر الدین مخدوم کی خدمت پہونچے حضرت مخدوم گھوڑے پر سوار تھے آپنے حضرت مخدوم کی ران کو بوسہ دیا مخدوم نے فرمایا اور نیچے مخدوم نے پیر کا بوسہ لیا*

📗 سبع سنابل صفحہ 158 




یہاں  مرید اپنے پیر کے ران میں بوسہ لے رہا ہے جو کہ ستر میں داخل ہے اور حضرت نانوتوی نے بوسہ بھی نہیں دیا اور ستر بھی نہیں تھا غیر ستر پر صرف ہاتھ رکھا تو یہ رضا خانی ایسا شور مچایا گویا کہ کہ انکی ہمشیرہ پر ہاتھ رکھ دیا ہو 😆


اب اس واقعہ پر بھی وہی خبیث اعتراض کریں گے یا پھر اپنے مجدد کا وہی بے غیرتی والا لمبا کرتا سرباز ار اٹھاکر آنکھوں پر پھر سے لگاکر اپنے مجدد کے اس ننگے تقوے پر یہاں بھی عمل کرتے ہوئے نظر آئیں گے😆


*گدھے سے بریلوی مولوی کی عجیب محبت*😄👇


ایک روز ایک گدھے کو  آپنے بوجھ اٹھانے ہوئے دیکھا تو اس کو دیکھ کر *آپ اس کو مٹھیاں بھرنے لگیں اور اس سے ایسی محبت کی جس طرح کسی محبوب سے (محبت) کی جاتی ہے اور فرمایا سونیا !*

*اے حسین ! تو بوجھ اٹھائے پھرتا ہے کبھی اس (گدھے )کو محبت کرتے ہوئے گردن چومنے لگتے*

📗خزینہ معرفت ۔صفحہ 142  

 



یہ تو گدھی سے عشق بازی آپنے ملاحظہ کیا اب گدھی سے بدفعلی بھی ملاحظہ کریں 😄

کیسے کیسے بریلوی اس دنیا میں پیدا ہوگئے جنہوں نے انسانیت کے وقار کو مجروح کردیا ہے🤔


*بریلوی پیر کا گدھی سے بدفعلی*👇🤓


ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺎ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﻌﺎﺭﻓﯿﻦ ﻧﻮﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺣﺴﻦ ﺷﺎﮦ

ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ :


*ﺣﻀﺮﺕ ﻏﻮﺙ ﻋﻠﯽ ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺘﯽ ﻗﺪﺱ ﺳﺮﮦ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻋﻠﯽﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻗﺼﺒﮧ ﻣﮩﻢﺳﮯ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﻮ ﻭﺁﭘﺲ ﺁﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺛﻨﺎﺋﮯ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ*۔۔۔۔۔۔

*آگے لکھتے ہیں کہﺁﺧﺮ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﮔﮍﮪ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﺮﮮ ۔ﻓﻘﯿﺮﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﻋﺸﺎﺀ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﺳﯽﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﻧﺎﺟﺐ ﮨﻢ ﺭﻭﭨﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﯾﮏ ﮔﺪﮬﯽ ﺳﮯ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨﮧﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ۔ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ* ۔۔۔۔۔

*آگے لکھتے ہیں ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻢ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻓﻘﯿﺮﺻﺎﺣﺐ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﻻﻧﺎﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﯾﺰﺻﺎﺣﺐ ﻣﺤﺪﺙ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﮯﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ۔ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺧﻀﺮ ﻭﻗﺖ ﯾﺎﺍﺑﻮ ﺍﻟﻮﻗﺖ ﺗﮭﺎ*۔

📗( ﺍﻻﻧﺴﺎﻥﻓﯽﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ،ﺹ253/254/255



ﺭﺿﺎﺧﺎﻧﯽ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟﮔﺪﮬﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺫ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﺪﻓﻌﻠﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ’’ ﺧﻀﺮ

ﻭﻗﺖ ‘‘ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﻣﻨﻮﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺧﺎﻧﻘﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺪﺑﺨﺖﺍﭘﻨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ 🤔


*رضا خانی اکابر کی پریم کہانی*👇😋


بریلویوں کے ایک  اعلی حضرت شرقپوری نے میاں رحیم اللہ کے ساتھ بستر پر ایسی پریم کہانی نبھائی کہ میاں رحیم اللہ رات کو اسی حالت میں مرگیا 😆


حدیث دلبراں بریلویوں کی کتاب ہے جو انکے ایک اعلی حضرت کی سوانح حیات پر مشتمل  ہے لکھتے ہیں کہ

*آپ انکے یہاں تشریف لے گئے اور میاں رحیم اللہ کے ساتھ بستر پر لیٹ گئے اور آپ ان سے لپٹ گئے اور خوب توجہ فرمائی اور آپ کی خصوصی توجہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ انکا قلب جاری ہوگیا اور وہ ذکر فکر میں محو ہو گئے آدھی رات میں اسی حالت میں انتقال ہو گیا*

📗 حدیث دلبراں ۔ صفحہ 178 



اب یہ دیکھیں ایک ہی چارپائی پر بریلوی اکابر رحیم اللہ کے ساتھ لیٹ بھی رہا ہے حتی کہ لپٹ بھی گیا ہے 😋

پھر بھی رضاخانی یہاں گونگا شیطان بناہوا ہے کوئی شور شرابہ نہیں  👆😄


*ارواح ثلاثہ پر ایک ضمنی  اعتراض کا جواب* 👇

ایک رضاخانی نے اس واقعہ پر یہ اعتراض کیا کہ اس کے اندر عشق بازی کرنے کا ذکر ہے جبکہ دیگر واقعات میں عشق عاشقی کا ذکر نہیں 🤓


الجواب 👇🧐

یہ بھی صریح جھوٹ ہے کہ عشق بازی کرنے کا ذکر ہے البتہ عاشق صادق کے الفاظ بطور تمثیل کے بیان ہیں اور  


 عشق عاشق کے الفاظ یہاں کمال محبت کے لیے ہے نہ کہ تیرے مجدد کی گندی ذہنیت کی عکاسی کرنے کے لئے 😋

تو کہتاہے ہم عاشق اولیاء ہیں🥲 

عاشق رسول ہیں🥲


تو تیرے اصول سے یہاں بھی تونے عشق بازی کی ہے

 👆😳😍😂😂😜😜


امید ہے کہ احمد رضا خان بریلوی کے ننگے تقوی پر عمل نہ کرنے والے رضاخانی کے لیے اتنا جواب کافی ہوگا 😄

مزید جوابات کے لیے دفاع اہل سنت دیکھیں ۔

✍️از قلم ریان ندوی حنفی چشتی🌹

Tuesday, 14 May 2024

اعتراض بریلوی بدعتی داؤدی کے چہلے کا حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کو ۶۰۰ روپے انگریز سے ملتے تھے


 


اعتراض بریلوی بدعتی داؤدی کے چہلے کا 

حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کو ۶۰۰ روپے انگریز سے ملتے تھے ملاحظۃ مکالمۃ الصدرین اس امر کی تردید خود حضرت تھانوی صاحب بھی نہ کرسکے ملاحظہ ہوالاضافات الیومیہ ص ۶۹ ج۶۔

#hilal_raza_exposing 


#جواب:یہ حوالہ بھی فریق مخالف کیلئے سود مند نہیں اس لئے کہ


(اولا) مکالمۃ الصدرین کی حقیقت واضح کی جاچکی ہے ایسی غیر مستند کتاب پر کسی دعوے کی بنیاد رکھنا ہی جہالت ہے۔

(ثانیا): اگر بالفرض اس مکالمہ کو مصدقہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی بریلوی حضرات کا یہ دعوی کے مکالمہ الصدرین میں تسلیم کیا گیا ہے کہ مولانا تھانوی ؒ انگریز سے چھ سو روپے ماہوار لیا کرتے تھے سراسر دجل اور صریح افتراء ہے کیونکہ مکالمہ میں حضرت علامہ عثمانی ؒ کی اصل عبارت اس طرح منقول ہے فرماتے ہیں کہ:

عام دستور ہے کہ جب کوئی شخص کسی سیاسی جماعت یا تحریک کا مخالف ہو تو اس قسم کی باتیں اس کے حق میں مشتہر کی جاتی ہیں۔دیکھئے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ہمارے اور آپ کے مسلم بزرگ پیشوا تھے۔ان کے متعلق بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ان کو چھ سو روپے ماہوار حکومت کی جانب سے دئے جاتے تھے۔(مکالمۃ الصدرین ص ۹)

اس عبارت میں حضرت عثمانی ؒ صاف لفظوں میں اس الزام کو مخالفین کا سیاسی پروپگینڈا قرار دے رہے ہیں لیکن بریلوی حضرات کا دجل ملاحظہ فرمائیں کہ وہ پوری عبارت نقل کرنے کے بجائے صفحہ کو ایک مخصوص جگہ سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں۔فالی اللہ المشتکی۔

(ثالثا): اگر مکالمہ کے حوالے بالفرض سے اس الزام کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی اس کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔کیونکہ خود حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے اس الزام کی تردید موجود ہے ۔چنانچہ جب حکیم الامت ؒ کو جب اس الزام کا علم ہوا تو بڑا حکیمانہ جواب دیافرمایا:

اگر چھ سو روپے گورنمنٹ سے پاتا ہوں تو طمع ہے خوف نہیں اور اگر طمع کا یہ عالم ہے تو تم نو سو روپے دے کر اپنے موافق کرلو۔اگر قبول کرلوں تو صحیح وگرنہ غلط۔(الاضافات الیومیہ ص ۶۹۸ ج ۴،بحوالہ مولانا اشرف علی تھانوی اور تحریک آزادی ص۵۴)۔

جبکہ اس کے مقابلے میں فریق مخالف کے اعلحضرت کی حکومت انگریز کیلئے وفاداری کا اقرار خود انگریزوں نے کیا ہے ملاحظ ہو:

The mashrik of gorakhpor and albashir usually took note the pro-government fatwas of Ahmed raza Khan.(Separatism among india Muslims,page 268(.

انگریز مورخ سر فرانسس رابنسن کی کتاب علماء فرنگی محل اینڈ اسلامی کلچر میں مندرجہ ذیل الفاظ میں احمد رضاخان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے:

The actions of One learned man ,the very influentional Ahmed Rada Khan (1855,1921) of barielly,present our conlusion yet more Clearly....at the same time he Support the colonial Government loudly and vigorousily through world warI,and through the khilafat Movement when he opposed mahatma Gnadhi allaince with tha nationalist movement and and non-Cooperation with the british.(ulam farange Mehal and Islamic culture page )

Khan ahmed rada of bareilly 37,37 & 47,58,67 and Support for the British 196(Index ,ulma farangi mehal and Islamic Culture page 263(

جبکہ اس کے برخلاف خود انگریز مورخین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ہمارے راستے میں سب سے سخت رکاوٹ دارالعلوم دیوبند تھا ملاحظہ ہو:

The most Vital School of Ulma in india is the second Half of the initeenth Century was that centerd upon Deoband,the Darul Uloom.(The Muslims or british India,byP.Hardy page 170(

اعلی حضرت اعلی سیرت کے صفحہ ۳۳ اور اسی طرح حیات اعلی حضرت میں یہ بات موجود ہے کہ مولوی احمد رضاخان کے دادا نے گورنمنٹ کی پولیٹیکل خدمات انجام دی جس کے عوض ان کو آٹھ گاؤں جاگیر میں ملے اور ان کے ساتھ آٹھ سو فوجیوں کی بٹالین ہواکرتی تھی۔

شاہ عبد العزیز ؒ کے فتوے کے خلاف کے ہندوستان دارالحرب ہے اعلی حضرت نے ہندوستان کے دارلسلام ہونے کا فتوی دیا اس لئے کہ دارالسلام میں ج_هاد جائز نہیں۔اس کے علاوہ اس مکتبہ فکر نے آزادی کے ہر متوالے پر کفر کے فتوے لگا کر عوام کوان سے بد ظن کرنے کی کوشش کی۔۱۹۱۴ میں الدلائل القاہرہ علی الکفرۃ النیاشرہ کے نام سے فتوی شائع ہوا جس میں خان صاحب کے علاوہ کئی بریلوی علمائے کے تصدیقات موجود تھے جس میں قائد اعظم کو کاف ر کہا گیا اور مسلم لیگ سے ہر قسم کے تعاون کو حرام قرار دیا گیا۔ان کے مولوی حشمت علی نے مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری کے نام سے کتاب لکھی جس میں قائد اعظم کو کافر قرار دیا گیا۔مولوی مصطفی رضاخان نے اس زمانے میں مسلمانوں کے دلوں سے کعبہ و مدینہ کی محبت نکالنے کیلئے حج کے ساقط ہونے کا فتوی دیا اور آج بھی بریلوی برملا امام کعبہ اور مدینہ کو کافر لکھتے اور کہتے ہیں ٭مصطفی رضاخان نے ایک کتاب لکھی اس زمانہ میں جو اب نایاب ہے رسالۃ الامارہ والجہاد جس میں انگریز سے جہاد کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ یہ چند مثالیں میں نے دے دی ہے ورنہ ان کی غداریوں سے تاریخ کے صفحات آج بھی بھرے پڑے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے تاریخ آزادی میں کہیں بھی اس گروہ کا نام و نشان نہیں جس کا اعتراف خود مولوی احمد رضاخان کے سوانح نگار کرتے ہیں کہ اور اس کا الزام مورخین پر ڈالتے ہیں کہ انھوں نے محض تعصب کی وجہ سے ہمارے اعلحضرت کا ذکر کہیں نہیں کیا اور وہابی (یعنی دیوبند) کی خدمات سے ساری تاریخ کو بھر دیا۔

حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کے حوالے سے بھی آپ نے اپنی ’’مخصوص رضاخانیت‘‘ کامظاہرہ کیا ہے پوری عبارت اس طرح ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں میرے متعلق یہ مشہور کیا گیا تھا کہ چھ سو روپیہ ماہانہ گورنمنٹ سے پاتا ہے ایک شخص نے ایک ایسے ہی مدعی سے کہا کہ اس سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ یہ خوف سے متاثر نہیں لیکن طمع سے متاثر ہے بلکہ خوف سے تو گورنمنٹ ہی متاثر ہوئی چنانچہ تمھیں اور ہمیں سو روپیہ نہیں دیتی تو اب اس کا امتحان یہ ہے کہ تم نو سو روپے دیکر اپنی موافق فتوی لے لو اگر وہ قبول کرلے تو وہ بات صحیح ہے ورنہ وہ بھی جھوٹ ۔(الاضافات الیومیہ،ج۶،ص۱۰۳،ملفوظ نمبر،۸۸)

غور فرمائیں کس حکیمانہ اور بلیغ انداز میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس الزام کی تردید کررہے ہیں مگر خلیل رانا صاحب کہتے ہیں کہ نہیں وہ تو تردید نہیں بلکہ تصدیق کررہے ہیں۔۔تف ہے ایسی تحقیق پر اور ایسی دیانت پر...ہم بار بار خلیل رانا صاحب کو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حوالہ دیتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان حوالہ جات کو کل کو کوئی چیک بھی کرسکتا ہے ۔۔

اعتراض: تھا کون جو انگریز کو کہتا رحمت؟ کس نے کیا گوروں کے وظیفے پر گزارا

جواب: ارے وہی جس کی وفاداری کے گن گاتے انگریز بھی بھائی وہی جن کو سیر کرائی جاتی ہے پینٹاگون کی آج بھی

(روزنامہ وقت لاہور ۱۰ مئی ۲۰۱۰ ؁ء کی خبر کے مطابق بریلوی علماء و مشائخ کو انتہا ء پسندی کے خلاف پینٹاگون میں تربیت دی جائے گی۔)

Sunday, 5 May 2024

Razakhani Kawa toota tooti halal


قاضی شکیل احمد رضاخانی کے ساتھ ساتھ دیگر رضاخانیوں پر ایک زور دار دھماکہ 👇

    رضاخانیوں کے نزدیک کوے کے ساتھ ساتھ طوطا طوطی 😁بھی حلال

     جو جواب یہاں وہی ہماری عبارت کا سمجھ لیں





Monday, 30 January 2023

دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ایک اعتراض کا جواب


 

رضا خانی کی دنیا و آخرت برباد


 

بریلوی عقیدہ عورتوں کے ذریعے شیطان انبیا کو گھمرا کرتا ہے


 

احمد رضا خان شیطان کے نام قربان اپنی جان


 

اعلی حضرت احمد رضا خان شیطان کی محبت میں دیوانہ


 

رضاخانی شیطان سے محبّت کرتے ہے اگر اعمال پر نبوت ملتی تو شیطان کو ملنا چاہے


 

Sunday, 23 October 2022

احمد رضا کی بیت الخلاء کی مصروفیات

 احمد رضا کی بیت الخلاء کی مصروفیات:

🏀ہم اہلسنت والجماعت کی ابتدا سے تربیت کی جاتی ہے کہ جب کوئی حاجت پیش آۓ دو رکعات نماز پڑھو اور انتہائی خشوع و خضوع سے اپنے رب سے مانگو

🏀اس کے برعکس اہلبدعت کا طریقہ ہے کہ بیت الخلا میں جاؤ اور اللہ سے نہیں اللہ کے رسول سے مانگو!!

🏀ایسی دعا فورا" قبول ہو جاۓ گی



🏀زیر نظر عکس ملاحظہ فرمائیں۔احمد رضا کو پچاس روپے کی اشد ضرورت تھی۔موصوف نے فورا" بیت الخلا کا رخ کیا اور  اللہ کے رسول سے پچاس روپے کیلئے دعا مانگی اور فورا" ہی دعا قبول ہوئی  اور انہیں اکیاون روپے مل جاتے ہیں۔

🏀دیکھا آپ نے اہلسنت اور اہل بدعت کی تعلیمات کا فرق

جیسے ان کی تحریریں متعفن ویسی ہی ان کی تعلیمات متعفن

Tuesday, 19 July 2022

رضا خانی اکابر کی پریم کہانی

رضا خانی اکابر کی پریم کہانی 
کالا حضرت شرقپوری نے بستر پر ایسی پریم کہانی نبھائی کہ میاں رحیم اللّه رات کو اسی حالت میں مر گیا