Showing posts with label بیس (٢٠) رکعت تراویح اور فقہِ مالکی. Show all posts
Showing posts with label بیس (٢٠) رکعت تراویح اور فقہِ مالکی. Show all posts

Thursday, 2 July 2020

بیس (٢٠) رکعت تراویح اور فقہِ مالکی

بیس (٢٠) رکعت تراویح اور فقہِ مالکی
قاضی ابوالولید ابن رشد مالکی (متوفی ۵۹۵ھ) بدایة المجتہد میں لکھتے ہیں:
“واختلفوا فی المختار من عدد الرکعات التی یقوم بھا الناس فی رمضان فاختار مالک فی احد قولیہ وابوحنیفة والشافعی واحمد وداود القیام بعشرین رکعة سوی الوتر، وذکر ابن القاسم عن مالک انہ کان یستحسن ستًا وثلاثین رکعة والوتر ثلاث۔”(بدایة المجتہد ج:۱ ص:۱۵۶، مکتبہ علمیہ لاہور)؛

ترجمہ:…”رمضان میں کتنی رکعات پڑھنا مختار ہے؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک نے ایک قول میں اور امام ابوحنیفہ، شافعی، احمد اور داوٴد نے وتر کے علاوہ بیس رکعات کو اختیار کیا ہے، اور ابنِ قاسم نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ وہ تین وتر اور چھتیس رکعات تراویح کو پسند فرماتے تھے۔”

مختصر خلیل کے شارح علامہ شیخ احمد الدردیر المالکی (متوفی ۱۲۰۱ھ) لکھتے ہیں:

وهي ( ثلاث وعشرون ) ركعة بالشفع والوتر كما كان عليه العمل ( ثم جعلت ) في زمن عمر بن عبد العزيز ( ستا وثلاثين ) بغير الشفع والوتر لكن الذي جرى عليه العمل سلفا وخلفا الأول 
[حاشية الدسوقي على الشرح الكبير  » باب في بيان أوقات الصلاة وما يتعلق بذلك من الأحكام  » فصل في بيان حكم صلاة النافلة وما يتعلق بها ... ج : 1 ، ص: 315]
ترجمہ:…”اور تراویح، وتر سمیت 23 رکعتیں ہیں، جیسا کہ اسی کے مطابق (صحابہ و تابعین کا) عمل تھا، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں وتر کے علاوہ چھتیس کردی گئیں، لیکن جس تعداد پر سلف و خلف کا عمل ہمیشہ جاری رہا وہ اوّل ہے (یعنی بیس تراویح اور تین وتر)۔”

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْوِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ وَکَانُوْا یَتَوَکَّئُوْنَ عَلٰی عَصِیِّھِمْ فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔(سنن الکبری للبیہقی ج2ص496)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمرؓ کے دور میں رمضان شریف میں بیس رکعات (نماز تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی دو سو آیات تلاوت کرتے تھے اور حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں لوگ قیام کے (لمبا ہونے کی وجہ سے ) اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروقؓ نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعبؓ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروقؓ کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ: ج ۲ ص ۴۰۱، ج ۲۲ ص ۴۳۴)

Saturday, 2 May 2020

بیس (٢٠) رکعت تراویح اور فقہِ مالکی

بیس (٢٠) رکعت تراویح اور فقہِ مالکی
قاضی ابوالولید ابن رشد مالکی (متوفی ۵۹۵ھ) بدایة المجتہد میں لکھتے ہیں:
“واختلفوا فی المختار من عدد الرکعات التی یقوم بھا الناس فی رمضان فاختار مالک فی احد قولیہ وابوحنیفة والشافعی واحمد وداود القیام بعشرین رکعة سوی الوتر، وذکر ابن القاسم عن مالک انہ کان یستحسن ستًا وثلاثین رکعة والوتر ثلاث۔”(بدایة المجتہد ج:۱ ص:۱۵۶، مکتبہ علمیہ لاہور)؛

ترجمہ:…”رمضان میں کتنی رکعات پڑھنا مختار ہے؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک نے ایک قول میں اور امام ابوحنیفہ، شافعی، احمد اور داوٴد نے وتر کے علاوہ بیس رکعات کو اختیار کیا ہے، اور ابنِ قاسم نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ وہ تین وتر اور چھتیس رکعات تراویح کو پسند فرماتے تھے۔”

مختصر خلیل کے شارح علامہ شیخ احمد الدردیر المالکی (متوفی ۱۲۰۱ھ) لکھتے ہیں:

وهي ( ثلاث وعشرون ) ركعة بالشفع والوتر كما كان عليه العمل ( ثم جعلت ) في زمن عمر بن عبد العزيز ( ستا وثلاثين ) بغير الشفع والوتر لكن الذي جرى عليه العمل سلفا وخلفا الأول
[حاشية الدسوقي على الشرح الكبير  » باب في بيان أوقات الصلاة وما يتعلق بذلك من الأحكام  » فصل في بيان حكم صلاة النافلة وما يتعلق بها ... ج : 1 ، ص: 315]
ترجمہ:…”اور تراویح، وتر سمیت 23 رکعتیں ہیں، جیسا کہ اسی کے مطابق (صحابہ و تابعین کا) عمل تھا، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں وتر کے علاوہ چھتیس کردی گئیں، لیکن جس تعداد پر سلف و خلف کا عمل ہمیشہ جاری رہا وہ اوّل ہے (یعنی بیس تراویح اور تین وتر)۔”

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْوِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ وَکَانُوْا یَتَوَکَّئُوْنَ عَلٰی عَصِیِّھِمْ فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔(سنن الکبری للبیہقی ج2ص496)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمرؓ کے دور میں رمضان شریف میں بیس رکعات (نماز تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی دو سو آیات تلاوت کرتے تھے اور حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں لوگ قیام کے (لمبا ہونے کی وجہ سے ) اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروقؓ نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعبؓ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروقؓ کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ: ج ۲ ص ۴۰۱، ج ۲۲ ص ۴۳۴)