Showing posts with label بہشتی زیور پر اعتراضات کا جواب. Show all posts
Showing posts with label بہشتی زیور پر اعتراضات کا جواب. Show all posts

Friday, 5 June 2020

بہشتی زیور کے ایک وظیفہ پر غیر مقلدین و رضاخانیوں کے اعتراض کا منہ توڑ جواب

بہشتی زیور کے ایک وظیفہ پر غیر مقلدین و رضاخانیوں
کے اعتراض کا منہ توڑ جواب
مولانا ساجد خان نقشبندی
اعتراض : بہشتی زیور میں مولانا اشر ف علی تھانوی صاحب نے لکھا یہ آیت ایک پرچہ پر لکھ کر پاک کپڑے میں لپیٹ کر عورت کے بائیں ران میں باندھے یا شیرینی پر پڑھ کر اس کو کھلاوے انشاء اللہ تعالی بچہ آسانی سے پیدا ہوگا آیت اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَ حُقَّتْ وَ اِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَ تَخَلَّتْ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَ حُقَّتْ ۔ ( بہشتی زیور ،ص۶۴۲ حصہ نہم)
جواب :



اس سلسلے میں ایک اصولی بات یاد رکھیں کہ عورت کی زندگی میں وضع حمل سب سے دشوار ترین و تکلیف دہ عمل ہوتا ہے بعض اوقات تو اس کی شدت و تکلیف سے عورت کی جان بھی چلی جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ میں ہے خود راقم جس مسجد میں خدمات سرانجام دے رہا ہے اس علاقے میں پچھلے سال ایک عورت بچے کی ولادت کے دوران شہید ہوئی اور اگلے دن نومولود بھی وفات پاگیا اسی طرح راقم کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا کہ میری گھر والی کو سات (۷) ماہ کا حمل تھا ایک دم سے طبعیت خراب ہوئی ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ آپریشن کرکے بچے کو زندہ نکالا جاسکتا ہے مگر ماں کے مرجانے کا قوی امکان ہے اس لئے اگر ماں کو بچانا ہے تو بچہ ضائع کرنا ہوگا جس پر میں نے کہا اللہ اولاد اور دے دیگا اور بچہ ضائع کرنا پڑا۔ غرض یہ دو واقعات تو خود اس راقم کے مشاہدے میں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت اس وقت موت و حیات کی کیفیت میں ہوتی ہے لہذا یہ حالت ’’حالت اضطراری ‘‘پر محمول کی جائے گی اور حالت اضطراری میں بہت ممنوع بلکہ حرام قطعی بھی مخصوص وقت کیلئے جائز ہوجاتی ہیں، ایسی حالت میں تو خنزیر کھانے اور شراب پینے تک کی بھی گنجائش ہے چنانچہ یہ وظیفہ بھی اسی حالت پر محمول ہے پھر اس میں گستاخی تب ہوتی جب اس کی ناپاکی میں تلوث ہونے کا خوف ہوتا جبکہ اسے کپڑے میں لپیٹ کر باندھنے کی تاکید کی جارہی ہے بہرحال چونکہ یہ حالت ایک اضطراری حالت ہے اس لئے اگر ماہر باشرع عالم دین اس کی اجازت دے دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور حضرت حکیم الامت مولاناشرف علی صاحب تھانویؒ کے علم و تقوی میں بھلا کیا شک و شبہ ہوسکتاہے؟۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے :
اِذَا عُسِرَ عَلَی الْمَرْاأۃِ وِلَادَتُھَا خُذْ اِنآءً نَظِیْفاً فَاکْتُبْ عَلَیْہٖ کَأَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ (الاحقاف ۳۵) اِلَی آخِرِ الآیَۃِ وَ کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَھَا لَمْ یَلْبَسُوْا (النازعات ۴۶)اِلَی آخِرِالآیَۃِ لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃ’‘ لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ (یوسف ۱۱۱)اِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ یُغْسَلُ وَ تُسْقَی الْمَرْاَۃُمِنْہُ وَ یُنْضَحُ عَلَی بَطْنِھَا وَ فِیْ وَجْھِھَا
(کنز العمال ،ج10،ص27،رقم الحدیث 28377، کتاب الطب الباب الثانی ، تعسیر الولادۃ، ادارہ تالیفات اشرفیہ لاہور)
جب کسی عورت پر بچہ جننے میں سختی ہو تو ایک صاحب برتن لیکر اس پر کانھم یوم یرون ما یوعدون آخر آیت تک ( سورۃ الاحقاف آیت ۳۵)اور کانھم یو یرونھا آخر تک (سورۃ النازعات ۴۶)اور لقد کان فی قصصھم آخر آیت تک (سورہ یوسف ۱۱۱)لکھ لے پھر اس میں پانی ڈال کر گھول لے اور وہ پانی عورت کو پلائے اور اس کے پیٹ اور چہرے پر چھڑکے ۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے توقرآن کی آیت کو کپڑے میں لپیٹنے کا قول کیا تھا یہاں تو قرآن کی آیات کو چھڑکنے کا قول وہ بھی صحابی رسول ﷺ سے نقل کیا جا رہا ہے اس پر بھی کسی کو کوئی فتوی لگانے کی جرات ہوگی ؟
خود معترضین نے اس وظیفہ کو جائز لکھا
غیر مقلدین کا حوالہ
نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :
’’برائے درد زہ
’’جس عورت کو درد زہ ہوا سکے کیلئے ایک پرچہ کاغذ پر یہ آیت لکھے والقت ما فیھا او تخلت و اذنت لربھا و حقت اھیا اشراھیا اور اس پرچہ کو پاک کپڑے میں لپیٹے اور اس عورت کی بائیں ران میں باندھے تو وہ جلد جنے گی‘‘۔
(الدآء والدوآء ،ص125،مکتبۃ التوحید دہلی )
اب انصاف و دیانت کا تقاضہ یہی ہے کہ نواب صاحب پر بھی فتوی لگایا جائے اگر غیر مقلدین حضرات اس کے جواب میں کہیں کہ ہم نواب صاحب کے مقلد نہیں تو ہم نے بھی آپ کو ان کی تقلید کی دعوت نہیں دی ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح آپ حضرت حکیم الامت ؒ کے مقلد نہیں ہیں مگر انہیں فتووں سے نواز ا اسی طرح آئیندہ جب بھی کسی جلسہ کسی کتاب میں اس وظیفہ پر فتوی لگائیں تو ساتھ ہی نواب صاحب کی اس کتاب کا حوالہ دے کر انہیں بھی انہی فتووں سے نوازیں تاکہ پوری دنیا پر آپ کی دیانت و انصاف پسندی واضح ہوجائے ۔
رضاخانی حضرات
بریلوی مناظر اعظم نظام الدین ملتانی لکھتے ہیں :
’’دردزہ کیلئے
اس آیت کریمہ کو لکھ کر پارچہ میں لپیٹ کر اس کی بائیں ران پر باندھنے سے انشاء اللہ تعالی لڑکا بہت جلد اور آسانی سے پیدا ہوگا والقت مافیھا و تخلت و اذنت لربھا و حقت اھبا و اشراھیا ‘‘۔
(فتاوی انوار شریعت ،ج۲،ص۴۳۹،سنی دارالاشاعت فیصل آباد)
اس فتوے کو بریلوی مفتی غلام سرور قادری استاذ الحدیث والتفسیر جامعہ رضویہ لاہور کے حاشیہ کے ساتھ ’’فتاوی نظامیہ ‘‘ کے نام سے اشاعت القرآن پبلی کیشنز لاہور کی طرف سے شائع کیا گیا مگر اس میں سے اس وظیفہ کو نکال دیا گیا ہے ،
شرم ۔۔۔شرم ۔۔۔شرم۔۔۔
بریلوی کتب میں تحریفات پر راقم کا لاجواب قسط وار مضمون ’’بریلوی علماء یہود کے نقش قدم پر ‘‘مجلہ نورسنت کراچی میں ملاحظہ فرمائیں ۔
ایک نظر ادھر بھی
یہی نواب صدیق حسن خان صاحب احتلام روکنے کا وظیفہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں :
اگر داہنی ران پر آدم اور بائیں ران پر حواء لکھے گا تو یہی احتلام سے بچا رہے گا‘‘۔
(الداء والدواء ،ص۱۷۹)
استغفر اللہ ! کسی غیر مقلد میں دم ہے کہ اس وظیفہ پر بھی کوئی فتوی لگائے ؟
جمعیت علماء پاکستان کے صدر صاحبزاد ابو الخبیرز بیر حیدر آبادی کے متعلق بریلوی شیخ الحدیث نعیمیہ کراچی غلام رسول سعیدی لکھتا ہے :
’’اعضاء کی پیوند کاری کے جواز کو ثابت کرنے کیلئے صاحبزادہ صاحب نے فقہ کے اس جزئیہ سے بھی استدلا ل کیا ہے کہ جس شخص کو نکسیر آئے اور خون بند نہ ہوتا ہو تو وہ اپنے خون سے اپنی پیشانی پر قرآن کریم سے کچھ لکھ سکتا ہے اگر پیشاب سے لکھنے میں شفاء ہوتو اس سے بھی لکھ سکتا ہے چنانچہ اپنے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
شریعت اسلامیہ میں انسانی جان کی قدر و قیمت اور کس قدر اس کو اہمیت حاصل ہے ۔۔ ؟ اس کا اندازہ اس سے لگائے کہ کلام اللہ یعنی قرآن پاک کی عظمت و حرمت عام آدمی کی عظمت و حرمت سے کہیں زیادہ ہے جس کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ جنبی کو اس کا پڑھنا اور بے وضو آدمی کو اس کا ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں لیکن اگر اس کے مقابلے میں انسانی جان بچانے کی بات آجائے تو ترجیح انسانی جان کو ہی دی جائے گی اس سلسلہ میں فقہاء کے بیان کردہ اس کو مسئلہ کو ملاحظہ فرمائے ۔۔۔
اور جس کو نکسیر آئے اور خون بند نہ ہو تا ہو تو اگروہ اپنے خون سے اپنی پیشانی پر قرآن سے کچھ لکھنا چاہے تو ابوبکر کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے ان سے پوچھا گیا کہ اگر پیشاب سے قرآن کا کچھ حصہ لکھا جائے تو اس کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اس میں اس کی شفاء ہے تو ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
(جدید طبی مسائل کا شرعی حکم ،ص55،54)
(بحوالہ ،تبیان القرآن ،ج9،ص184رید بک سٹال لاہور و حقائق شرح صحیح مسلم و دقائق تبیان القرآن ،ص104,105،فرید بک سٹال لاہور )
استغفر اللہ ! اب ہے کسی رضاخانی میں یہ جرات کے اپنے اتنے بڑے مولوی کو بھی اتنی سنگین بات لکھنے پر قرآن کی توہین کے الزام میں جہنم واصل کرے ؟
دیدہ باید
**********
ضروری اعلان
الحمد للہ راقم نے یہ پختہ ارادہ کیا ہوا کہ جب تک جان میں جان ہے مسلک دیوبند پر کاربند رہوں گا اور اکابر علماء دیوبند اللہ کے سچے ولیوں کا دفاع کرتا رہوں گا اگر آپ کے ذہن میں بھی اولیاء دیوبند کے متعلق کوئی اشکال یا اعتراض ہو تو ترجمان احناف کے دفتر ارسال کردیں انشاء اللہ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں اس کا جواب دوں۔ساجد۔

Saturday, 1 September 2018

BEHESHTI ZEVER PER AYTERAAZ KA JAWAB

BEHESHTI ZEVER PER AYTERAAZ KA JAWAB
Bismillah Hir-rahmaan nir-raheem
Firqah E naam Nihaad Ahele Hadees!!Ka Behesti Zever per Ayteraz aur uska jawab
Firqah E naam Nihaad Ahele Hadees Mukhtaser Tarruf
Qari’een Ikraam!! Ap jante hain ki Firqah e naam nihaad Ahele Hadees ki Bad’iyaanati ko, ke wo ulama e Haq per ayteraaz kerte hain Bager kisi ser pair ke!!
Aur r akser dekhne main ata hai ke khud Ba’ithe Ba’ithe Ek Naya Masla Bana ne Ki Koshish her dam ulama e Ahnaaf per Bhotaan lagane ki koshish main lage rehte hain,
Ager Koi Sharab Piye ga Use Nahi Rokenge Ager koi Bed’akhlaaQ hai Use AQlaaQ wala Ho Use Bed Akhlaaqi Se Nahi Rokenge Ager koi Be’namzazi ho Use Namazi banana Ki Koshish Nahi Kerte Balke Ager Koi Sheraab Se Door Hoker Namazi Benjaaye Ro Use Khete Hain Saheb Apki Namaz Nahi Hui aur jo sheks Ager Koi Gannda Kaam Karta Ho Apne Badhoo Ke Saath Be’akhlaaqi Kerta Ho Uski Teref Inka Dehaan Nahi Jata Balki Jo Becaara Namaz Padhne Lage Uski namaz Main Khalal Dalte Hain,
Firqah E naam Nihaad Ahele Hadees ka Dawa Mula’hiza ho,
Firqah e Naam Nihaad Ahele Hadees Dawa Kerte Hain Ham Quraan O Sunnat Ki Teraf Toheed Ki Teraf dawat Dete hain,
Koi Shaks haq Ki dawat Dene Main Ikhtelaaf e Galat Ka Sahaara Nahi Leta Mager Ye Gair Muqallideen [Fazail e amal, Fiqh e Hanafi, Bheshti Zever] etc Per Ayteraaz Jo Naqal Kerte hain, Wo Andhi Taqleed Ki Buniyaad Per Kate Hain Koi Tehqeeq Nahi Kerte, Sirf Sunte Aur Ayteraaz Shuru,
Qari’een Ap hi Sonche Ki Ager Koi Shaks Kisi Masle Main Padhe Aur Use Us Baat Ka Ilm Hi Nahi. Ke Kiya wo Sahi Hai Ya Galat!
Wo Shaks Kaise Haq Ka Paigaam De’sakta Hai Jo Khud Haq Ka Inkaar Kare?
Iski missal Derje Zail Ayteraaz Ka Jawab Hai,
Firqah E naam Nihaad Ahele Hadees ka Ayteraaz
Beheshti Zever Ka Ek Masla Hai ke [Chooti Ladhki Se Ager Koi mard ne Sohbat ki, jo abhi Jawan nahi Hui to Is per Gusul Wajib Nahi]
Al-Jawab
Jhoot aur Khiy’nat ke Bager Naam Nihaaad Ahele Hadees’on ki koi baat nahi hoti,
Bheshti Zever main Likha Hai laikin adat Dilane Ke Liye Gusul Karana Chahiye!!(bheshti Zever jild 1 Safa 51)

Baaz Bhotan Lagane Walone Zina Bi Kaha !!
Ye Bata’en ke Ye Masla Quran o hadees Ke khilaaf Hai ??
To ek Hadees Pesh Ki jaati hai Bukhaari Sharee’f se
Qari’een Ikraam hadees mulahiza hun!!
Abu hurairah(raz) se Riwayat hai: nabi (allallahu alaihi wasallam) ne Farmaya jab merd aurat ke Charoo kooniyo ke beech baithe phir is per zor lagaye (koshish kare) yani jima kare to gusul wajib hogaya!! [Sahi Bukhaari Hadees / 285]
Imam e Bukhaari Is Hadees ko naqal kerne Ke Baad Farmate hain:
Imam bukhaari ne farmaya ; Gusul Karlena Bheter Hai!
Aur zaroori hai aur hamne jo (iske Khilaaf Hadees) (usmaan(raz)aur abe bin ka’eb(raz)ki) Bayan ki to isliye k Sahaba(raz) ka is masle main Ikhtelaaf hai [Sahi Bukhaari Hadees / 285]
Qari’een Dusre Ahadees Ahele Sunn’at wal jama’et ki B Mulahiza ho!!
Zaid Bin Khalid juhaini se merwi hai Ke Unhoone Hazet e usmaan(raz) se pucha kaha bataiye Jab koi merd(soher) Apni Aurat(biwi) se Shobat Kare aur MANI NA NIKLE to Gusul Lazim Hoga ya nahi? Hazret e usmaan(raz) ne Farmaya namaz ke Wuzu ki terha Wuzu zare aur apna zaker Dhodaale hazert e usmaan ne Farmaya main ne to ye Ap(sallallahu alaihi wasallam) se Suna Hai, [Sahi Bukhaari Hadees / 286]
Zuber bin khalid juhaini ne kaha phir Main Ne Ye Masla Hazrat E ali(raz) aur Hazret e Zubair(raz) aur Hazret e Tal’ha(raz) aura be bin ka’eb(raz) pucha to Unhoone Bhi Yahi Hukm diya! [Sahi Bukhaari Hadees / 286]
Abu Ayoob ansaari se ne Ap(sallallahu alaihi wasallam) se Aisa hi suna (jaise Hazret e usmaan(raz) ne suna) [Sahi Bukhaari Hadees / 286]
Abe bin ka’eb(raz) ne Bayan kiya ke Unhoone Pucha Ya rasooullah Jab koi merd(soher) Apni aurat(biwi) se Jima Kare aur Anzal ne ho to kiya Kare?
Ap(allallahu alaihi wasallam) ne Farmaya: aurat ke Baden se jo legaya usko Dhoodale phir WUZU kerle Aur namaz Padhle, [sahi Bukhaari Hadeses / 287]
Imam e Bukhaari ne Farmaya Gusul karlene main Ziyada Ehtiyaat hai!! [sahi Bukhaari Hadeses / 287]
Aur isi Terha Ek Hadees Aur Jo Baccho K Baare main Hai Unper Kuch Wajib Nahi!!
Hazret e Aisha(Razallahuanha) se Riwayat Hai Nabi Kareem (sallallahu alaihi wasallam) ne Farmaya: teen logon se Qalam Utha liya jata hai, so’e hue se Yahan tek Ke Jaag na Jaye aur kam Umer se (na-balig) se Yahan teke Bada (balig) na Hojaye pagel se yahan tek ke alqal aye ya hoosh sambhaal’e, [Sunan Nas’I, allama albani ne Ise Sahi Kaha]
Beheshti Zever ki Ibaarat
(((Chooti Ladhki Se Ager Koi merd ne Shobat ki, jo abhi Jawan nahi Hui to Is per Gusul Wajib Nahi Hai laikin adat Dilane Ke Liye Gusul Karana Chahiye!![Bheshti Zever jild 1 Safa 51] Usmaan(raz) ki Riwayat or Baqi Sahaba Ki Riwayat se pata chala ki Gusul Wajib Nahi Mager meger Ahetiayaat ye hai ke Gusul Kerliya Jaa’e!!
Isi Liye Hakeemul ummat Hazer Molana Ashraf Ali thanwi(reh) ne Is ko Wajib Nahi Kaha!! Balki Hasiye main Liha Ahetiyaat ke Baare main goke Akser Gair-muqallideen nahi Padhte!!
Qari’een Hasiya Mulahiza hon!!
Ahetyaat Wajib Hai to Ahetiyaat ke Lafz se Ye Shuba Na ho K Shayad Wajib Na Ho, kitaabon Main isko Wajib likha hai Jisa ke Imam e Bukhaari ne Ahtyaat ko zaroori kaha!! !![Bheshti Zever jild 1 Safa 51]
Allah Ta’ala Hame Ikhtelaaf Kerne Se Phele Theqeeq kerne Ki Tofeeq ata Farmaye Ameen. [Walillah hilhamd]