ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪﮐﺴﯽ ﻓﺮﻗﮯ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﺰﻟﯿﻞ ﯾﺎﺍ ِﻧﮩﯿﮟ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﻡ ؒ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔
Monday, 30 January 2023
Monday, 14 June 2021
فرقہ اہلحدیث کا علم غیب
نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب میں ذکر کرتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کا احسان ہے کہ قبر میں میت کو انعام اور عذب ملنے کا اطلاع مجھے دیا جاتا ہے ۔۔۔
فرقہ اہلحدیث کا علم غیب
غیرمقلدوں! کیا یہ اپ حضرات کے اصطلاح کے مطابق علم غیب تو نہیں ہے ؟؟؟؟؟
Monday, 17 May 2021
صفت عالم الغیب جو اللہ کی صفت ھے کو ثابت کرنے کے لئے ایسی احادیث پیش کرتے ہیں جن احادیث سے بظاہر معلوم ہوتا ھے کہ اس چیز کا علم حضور ص کو خود بخود سے ھے
بریلوی حضرات حضور ص کے لئے صفت عالم الغیب جو اللہ کی صفت ھے کو ثابت کرنے کے لئے ایسی احادیث پیش کرتے ہیں جن احادیث سے بظاہر معلوم ہوتا ھے کہ اس چیز کا علم حضور ص کو خود بخود سے ھے۔۔
حالانکہ اللہ تعالی نے دو ٹوک قرآن میں فرمایا کہ:حضور ص خود سے بات نہیں کرتا ہیں اور نہ ہی اپنی خواہش سے بات کرتے ہیں بلکہ جو کچھ فرماتے ہیں یہ تو سراسر اللہ کی طرف سے وحی ھے۔جو ان کی طرف اتاری جاتی ھے
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی ۔(3)
ترجمہ۔نہ اپنی نفسانی خواہش سے کوئی بات کرتے ہیں ،
اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی(4)
یہ تو وحی ہے جو اُن پر اُتاری جاتی ہے ۔
سورہ نجم آیت 3/4
دیکھیے اس آیت کے مختلف تراجم و تفاسیر۔۔۔تفسیر مدارک۔۔۔تفسیر نسفی۔آسان تفسیر۔۔۔۔۔تفسیر مظہری۔۔۔کنزالایمان مع خزائن العرفان۔۔۔احمد رضا خان مع مولانا نعیم الدین۔۔وغیرہ
___________________
اصولی بات ۔۔اب اگر کوئی رضا خانی یہ کہے کہ وحی کے ذریعے علم کو بھی حضور ص کے لئے علم غیب ہی کہا جائےگا تو یہ غلط ھے کیونکہ علم غیب کا شرعی مطلب ہی یہ ھے کہ وہ علم جس کے متعلق اللہ نے کسی کو اطلاع نہ دی ہو۔۔اور نہ ہی انسانی حواس اس کا تدراک کر سکے۔۔وہی علم غیب کہلاتا ھے۔۔
اس کے علاؤہ قرآن نے جس علم کو حضور ص کی طرف نسبت کی ھے۔اسے قرآن نے اطلاع غیب۔اظہار غیب ۔انباء غیب کہا ھے۔نہ کہ علم غیب۔۔قران میں اللہ نے اپنی طرف جہاں بھی علم کی نسبت کی وہا علم غیب کا اطلاق کیا ھے۔
(دیکھیے علم غیب کی تعریف۔۔۔بحوالہ مطالعہ بریلویت جلد 5 ص289..👇👇
1..تفسیر مدارک۔سورہ نمل۔۔ایت 65
2..تفسیر ابن کثیر جلد 1 ص 41
3..تنویر القیاس جلد 2.ص 192
4..تفسیر ابن جریر۔جکد 29 ص 69
5.فقہ لغتہ۔ص 1
6.۔المفردات
7..تفسیر کبیر جلد 1
8..المغرب جلد 2 ص 83
9..تفسیر بیضاوی۔
10..شرح عقائد ص 122
تلک عشرہ کاملہ۔۔اس کے علاؤہ بھی بہت سارے حوالہ جات ہیں۔۔یہاں اتنے کافی ہیں۔
بریلوی کتب کے حوالہ جات👇
اطلاع علی الغیب کو علم غیب نہیں کہا جاتا ھے۔
1..جاءالحق صفحہ 97 مفتی یار خان نعیمی.
2.غایت المامول فی علم الرسول صفحہ۔347۔۔فیض احمد اویسی۔۔
3..اعلان کلمتہ اللہ۔۔صفحہ۔230.پیر مہر علی شاہ۔
Monday, 30 November 2020
عالم الغیب کون
………………………………………..
عالم الغیب میں دوالفاظ استعمال ہوئے ہیں پہلا عالم اور دوسرا غیب، عالم جاننے والے کو کہتے ہیں اور غیب کے معنی چھپی ہوئی چیز اور وہ چیز جو آئندہ ہونے والی ہے ۔
اب اگر کسی شخص میں یہ صفت ہوکہ وہ بغیر کسی دوسرے کی مدد کے یعنی اسے کوئی نہ بتائے اور وہ خود صرف اپنے علم سے یہ جان لے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے یا اس کے پاس ایسا علم ہوکہ چھپی ہوئی چیزیں اس کے سامنے بغیر کسی کی مدد کے ظاہر ہوجائیں تو ایسا شخص عالم الغیب کہلائے گا اب ہم ایسا شخص مخلوق میں اگر تلاش کریں تو شاید ایسا شخص ہمیں کوئی بھی نہ ملے گا جو یہ کہے کہ میرے پاس ایک ایسا علم ہے ایک ایسی قوت ہے کہ مجھے کوئی نہیں بتاتااور میں جانتا ہوں جوکچھ چھپا ہوا ہے اور جو کچھ ظاہر ہے اور میں جانتا ہوں جوکچھ ہوچکا ہے اور جو آئندہ ہونے والا ہے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ دعویٰ تو صرف اﷲسبحانہ وتعالیٰ کاہے .
لہٰذا یہ ثابت ہوجائے گا کہ اﷲ تعالیٰ ہی دراصل عالم الغیب ہے اﷲتعالیٰ نے اپنے عالم الغیب ہونے کی قرآن مجید میں کئی جگہ دلیلیں فرمائی ہیں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میں ہی عالم الغیب ہوں میرے علاوہ کوئی بھی غیب نہیں جانتا ۔بِسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم
(1) أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُون.
ترجمہ : َکہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے..الانعام 6:50
(2) وَعِندَهُ ۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِى ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ۬ فِى ظُلُمَـٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ۬ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍ۬ مُّبِينٍ۬ .
ترجمہ : اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے.(الانعام :59)
(3) وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُ ۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَڪَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُون .
ترجمہ : َاور اﷲ ہی کے لئے ہے غیب آسمانوں کا اور زمین کا اور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام معاملات سو اسی کی عبادت کرواور بھروسہ رکھو اسی پر اور نہیں ہے تیرا رب کچھ بے خبر ان کاموں سے جو تم کرتے ہو۔ (ھود١٢٣)
(4) قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُون .
ترجمہ : َاے نبی ! ان سے کہو نہیں جانتا جو بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں ،غیب کو سوائے اﷲکے اور نہیں جانتے وہ تو یہ بھی کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ (النمل:٦٥)
(5) وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَآ أَمۡرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمۡحِ ٱلۡبَصَرِ أَوۡ هُوَ أَقۡرَبُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ ڪُلِّ شَىۡءٍ۬ قَدِير.
ترجمہ : ٌ۬اور اﷲ ہی کے لیے خاص ہے پوشیدہ حقائق کا علم (جو ہیں )آسمانوں اور زمین میں اور نہیں ہے قیامت کا معاملہ مگر مانند آنکھ جھپکنے کہ بلکہ وہ اس سے بھی جلد تر ہے ۔بے شک اﷲہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (النحل:٧٧)
(6) قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِى نَفۡعً۬ا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَڪۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُۚ إِنۡ أَنَا۟ إِلَّا نَذِيرٌ۬ وَبَشِيرٌ۬ لِّقَوۡمٍ۬ يُؤۡمِنُون .
ترجمہ : َکہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔ (سورۃ اعراف:١٨٨)۔۔۔
ان تمام آیتوں کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ غیب کا علم صرف اﷲہی کے خاص ہے اس کے علاوہ کسی کے پاس یہ علم نہیں کہ وہ چھپی ہوئی چیزوں کو جان لے ۔
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔
١: شکم مادر میں کیا ہے ۔
٢: کل کیا ہوگا۔
٣: بارش کب ہوگی۔
٤: جاندار کس سرزمین پرمرے گا ۔
٥: قیامت کب آئے گی۔(صحیح البخاری جلد سوم صفحہ ٧٦٢/ح٢٢١٦)
اس حدیث اور قرآنی آیات سے ثابت ہوتاہے کہ علم غیب خاص صفت الٰہی ہے اﷲتعالیٰ اپنی صفات وربوبیت کسی کو بھی عطا نہیں فرماتاﷲتعالیٰ ہی ازل سے ابد تک کے تمام حالات کو جانتا ہے اور وہی اس کائنات کے نظام کو اپنے علم اور تدبیر سے چلارہاہے ، اس کام میں کوئی ایک بھی اس کاشریک نہیں اور اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں
tafseer amma ayesha salam allah alaiha ilm gaib par
tafseer amma ayesha salam allah alaiha
تیسری بات: اور جس نے کہا کہ نبی کریمﷺ اس بات کی خبر دے سکتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے (یعنی رسول کریمﷺ غیب جانتے ہیں) تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ ٦٥ ﴾ ۔۔۔ النملکہ ’’کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘
اسی روایت میں اضافہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر نبی کریمﷺ نے کوئی آیت کریمہ چھپانی ہوتی تو وہ یہ آیت کریمہ چھپا لیتے: ﴿ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ ٣٧ ﴾ ۔۔۔ الأحزاب کہ ’’(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے۔‘‘
اسی مسلم کی روایت سے اگلی روایت میں ہے کہ سیدنا مسروقؓ نے سیدہ عائشہ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریمﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: سبحان اللہ! تم نے جو کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ (یعنی اللہ کے خوف سے!! یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں دیکھ سکے؟)
نبی کریمﷺ نے کسے دیکھا تھا؟ کیا اس بارے میں نبی کریمﷺ کی اپنی بات فیصل نہیں؟؟؟
صحیح آیت کریمہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے:
﴿ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ٨ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ٩ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ١٠ ﴾ ۔۔۔ سورة النجم
پھر وہ نزدیک ہوا اور اُتر آیا (8) پس وه دو کمانوں کے بقدر فاصلہ ره گیا بلکہ اس سے بھی کم (9) پس اس نے اس کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی (10)
اس آیت کریمہ کا مفہوم کیا ہے؟؟؟ کون نزدیک آیا؟ کس کس میں دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی نزدیک کا فاصلہ باقی رہ گیا؟ کس نے کس کے بندے کو وحی پہنچائی؟؟؟
اس سب سوالوں کا جواب نبی کریمﷺ اور ان کے صحابہ کرامؓ کی زبانی ہی لیجئے:
صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ سیدنا مسروقؓ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیات کریمہ: ﴿ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ٨ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ٩ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ١٠ ﴾ ۔۔۔ سورة النجم کا معنیٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: إنما ذاك جبريل! كان يأتيه في صورة الرجال، وإنه أتاه هذه المرة في صورته التي هي صورته فسد أفق السماء کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، عام طور پر وہ نبی کریمﷺ کے پاس آدمی کی صورت میں آتے تھے، اس مرتبہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس اپنی اصل (فرشتوں والی) صورت میں آئے تھے اور انہوں آسمان کا افق گھیر رکھا تھا۔‘‘
صحیح مسلم میں لمبی حدیث ہے کہ
سیدنا مسروقؓ روایت کرتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: تین باتیں جس نے کہیں اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولا۔
میں نے عرض کیا: کونسی تین باتیں؟ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا:
پہلی بات: جس نے کہا کہ محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔
سیدنا مسروقؓ نے عرض کیا کہ اے ام المؤمنین، ذرا غور کیجئے! جلدی نہ کریں! کیا اللہ نے نہیں فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ٢٣ ﴾ ۔۔۔ التكوير ’’اور البتہ اس نے اسے آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔‘‘ اور ﴿ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ١٣ ﴾ ۔۔۔ النجم ’’اور البتہ تحقیق اس نے اسے ایک مرتبہ اور بھی دیکھا۔‘‘
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اس امت میں سب سے پہلے نبی کریمﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا: « إنما هو جبريل. لم أره على صورته التي خلق عليها غير هاتين المرتين. رأيته منهبطا من السماء. سادا عظم خلقه ما بين السماء إلى الأرض » کہ ’’وہ تو جبریل تھے، میں نے جبریل کو ان کی اصل صورت جس پر انہیں پیدا کیا گیا ان دو مرتبہ کے علاوہ نہیں دیکھا، میں نے انہیں آسمان سے اُترتے دیکھا اس حال میں کہ اپنی عظیم خلقت وجسامت سے انہوں نے زمین وآسمان کے درمیان جگہ کو پُر کیا ہوا تھا۔‘‘
پھر سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ تم نے فرمانِ باری تعالیٰ نہیں سنا: ﴿ لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ١٠٣ ﴾ ۔۔۔ الأنعام کہ ’’ اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہوسکتی اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے۔‘‘ (103) اور کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟: ﴿ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ٥١ ﴾ ۔۔۔ الشوریٰ کہ ’’ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت والا ہے۔‘‘ (51)
مسئلہ علم غیب پر چند مغالطے اور اُن کی وضاحتیں
مسئلہ علم غیب پر چند مغالطے اور اُن کی وضاحتیں
الحمد اللہ رب العالمین والصلوة والسلام علی خاتم النبین صلیٰ اللہ علیہ وسلم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطاءنہیں،اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں ،نہ تو کلی علم غیب پر مطلع ہیں ۔
قرآن اور حدیث میں متعدد مقامات پر یہ مسئلہ صراحت سے واضح ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو کلی علم غیب نہ تھا ۔
اور ساتھ ہی اس کی تائید میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین،حضرات تابعین کرام ،تبع تابعین کرام ،محدثین کرام ،مفسرین کرام ،فقہائے کرام رحمھم اللہ کے واضح اور صاف صاف اقوال بھی موجود ہیں ۔
لیکن ان تما م ٹھوس حقائق کے باوجود ایک مخصوص طبقہ کا دعویٰ ہے کہ ”جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کوابتدائے آفرنیش سے الی یوم القیامةاور پھر دخول جنت اور جہنم تک کے کلی علم غیب(یعنی شروع سے لے کر آخر تک ذرے ذرے کا علم) عطا ءکیا گیا“
باالفاظ دیگر ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے جب سے اس کائنات کو پیدا فرمایا اورزمین اور آسمان بنایا اس وقت سے لے کر۔۔۔۔۔ کائنات کے اختتام تک ۔۔۔۔ یعنی جب قیامت آجائے گی اور زمین اور آسمان ختم ہوجائیں گے ۔۔۔۔ اس وقت تک زمین اور آسمان میں جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ہونے والاہے۔۔۔۔ اور جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے۔۔۔۔چاہے وہ زمین میں انٹارکٹیکا کا انتہائی برفانی علاقہ ہو(اور انتہائی برفانی علاقے میں موجود کوئی معمولی سا برف کا ذرہ ہویا کوئی مخلوق ہو)۔۔۔۔یا افریقہ کے انتہائی گھنے جنگلات ہوں (اور ان گھنے جنگلات کے کسی بھی کونے میں باریک سے باریک کوئی کیڑا ہو)۔۔۔ ۔۔یا عرب کے وسیع و عریض صحرا ہوں(اور ان صحرا کے کسی کونے میں پڑا معمولی سا ریت کا ذرہ ہویا کوئی مخلوق ہو)۔۔۔۔۔۔ یا دنیا کے ہزاروںمیل پھیلے ہوئے طویل سمندر ہوں(اور ان وسیع اور عریض سمندر کے بیچ پانی کا معمولی سا قطرہ ہو یا بیچ سمندر کوئی بھی مخلوق ہو)۔۔۔۔۔۔یا سمندر کی انتہائی گہرائیاں ہوں(اور ان انتہائی گہرائیوں میں کوئی چھوٹی سی چھوٹی مخلوق ہو)۔۔۔۔۔یا زمین کی انتہائی گہرائیاں ہوں(اور ان گہرائیوں میں موجود ایسی باریک مخلوق ہو جن کو انسانی آنکھ بھی نہ دیکھ سکے )۔۔۔۔۔یا آسمانوں کی ہزاروں سال کی مسافت دور آسمانوں میں جتنی بھی مخلوقات ہیں حتی کہ ذرہ برابر کی بھی کوئی بھی مخلوق ہو۔۔۔۔ان تمام ذرے ذروں کا علم عطاءکیا گیا؟؟؟
ہوسکتا ہے ہماری یہ بات اس مخصوص طبقہ کے بہت سے پیرو کاروں کے لئے بھی حیرت انگیز انکشاف لگے .... لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس مخصوص طبقہ کے اکابرین اپنے دلائل سے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں... جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی
آئیے ہم اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں
فریق مخالف بھی بظاہر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ”عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے “
لیکن دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے لے کر الی یوم القیامتہ اور اس کے بعد دخول جنت اور نار تک کے ذرے ذرے کا علم غیب جانتے ہیں“
یعنی فریق مخالف نے ایک طرف یہ عقیدہ بیان کیا کہ ”غیب کا جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے “دوسری طرف ”نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی غیب کا جاننے والا مانا“
اور اس عقیدے کے مخالفین کے اعتراضات اور اپنے پیرو کاروں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اور شک و شبہات کو دور کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرتے ہیں اس کی مختصر تفصیل حاضر ہے ۔
(1) غیب کا جاننا ثابت کرنے کے لئے قرآن پاک سے غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش فرمائیں اور موقف پیش کیا کہ غیب عطا ءکیا گیا۔
(2)غیب جاننے کی نفی کی آیات مبارکہ اور احادیث پاک کے جواب میں یہ دلیل پیش کی کہ مراد ذاتی غیب کی نفی ہے نہ کہ عطائی غیب کی نفی ہے ۔
پھر جب فریق مخالف کا یہ موقف سامنے آیا کہ” نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا کلی علم غیب جانتے ہیں“تو اس موقعہ پر بے شمار سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ۔سب سے پہلا سوال تو یہ تھا کہ قرآن پاک سے کیا دلیل ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کا کلی علم غیب جانتے ہیں؟
(3)فریق مخالف نے ایک طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن پاک میں ہر ہر ذرے ذرے کا مفصل بیان موجود ہے اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کوتدریجاً علم غیب عطا ءفرمایا گیا اور جس وقت قرآن کی آخری آیت نازل ہوئی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا علم مکمل ہوگیا تھا( اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کا کلی علم غیب جانتے ہیں )
اس کے ساتھ ہی فریق مخالف کے سامنے یہ مسئلہ بھی آیا کہ قرآن پاک میں جن مواقع پر” ہر چیز کا روشن بیان “یا” ذرہ ذرہ چیزکا روشن بےان “یا”سب کچھ بیان فرمادیا“یا”ہرخشک اور تر کابیان“ کے ارشادات میں لوح محفوظ کا بھی بیان ہے۔
(4)تو فریق مخالف نے موقف پیش کیا کہ جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہے وہ سب کچھ قرآن پاک میں موجودہے۔(تاکہ فریق مخالف اپنے موقف کا دفاع کرسکے کہ قرآن پاک میں ہر ہر ذرے کا روشن اور مفصل بیان ہے اور قرآن پاک میں ذرے ذرے کی تفصیل موجود ہے)
(5)کہیں حدیث پاک سے استدلال کی کوشش کی گئی کہ ”ایک ہی خطبہ میں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے آفرینش سے لے کر الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا بیان فرمایا“ (اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانتے ہیں )
(6) کہیں حدیث پاک ”فتجلیٰ لی کل شئی وعرفت “ سے استدلال کیا گیا کہ زمین اور آسمان کی ہر چیز روشن ہوگئی (اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانتے ہیں )
(7) کہیں حدیث پاک ”سلونی عما شئتم “سے استدلال کی گیا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہوا ” جو چاہو پوچھ لو“(اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانتے ہیں )
اس موضوع پر اگر کوئی دلیل نہ بھی پیش کی جائے اور صرف فریق مخالف کے دلائل کے یہ مختلف مختلف ٹکڑے پیش کئے جائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح ”کلی علم غیب جاننے“ کے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے کتنے جتن کئے ہیں ؟تودوستوں ”حق “اور ”باطل “میں تمیز کرنے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کے ذرے ذرے کا کلی غیب ثابت کرنے کے لئے مختلف مختلف باتوں کو جوڑ جوڑ کر اپنا موقف درست نہیں ثابت کیا جاتا
بلکہ ملاحظہ فرمائیں کہ زمینوں اور آسمانوں کا کلی غیب جاننے کا بیان قرآن پاک میں کتنے مختصر الفاظ ،سادہ ،جامع اور وضاحت والا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ الخ الکھف 26 پارہ 15
(ترجمہ:اسی کو معلوم ہیں سب غیب(چھپی باتیں) آسمانوں کی اور زمین کی ،کیا خوب ہے وہ دیکھنے والااور سننے ولا)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علامہ جلال الدین محلی(المتوفی 864ھ)اور علامہ ابو السعود محمد بن محمد العمادی(المتوفی 982ھ)اورعلامہ نسفی اور علامہ خازن لکھتے ہیں:
”یعنی اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کے باشندوں کے حالات سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے ،اور بس وہ تنہا ان کو جاننے ولا ہے“
(تفسیرجلالین ص 184)(ابو السعود ج 6 ص 58)(تفسیر مدارک ج 3 ص 9 )(تفسیرخازن ج 6 ص 169)
اور جب فریق مخالف کے سامنے سب سے اہم سوال سامنے آیا(جس سے فریق مخالف کے پیروکاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں ہم غلطی پر تو نہیں ؟) کہ فریق مخالف اور اس کے پیروکار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کے ذرے ذرے غیب صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے اور فریق مخالف نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ذرے ذرے غیب کا علم ثابت کرتا ہے ۔تو یہ علم الٰہی کی برابری ہے؟
ملاحظہ فرمائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح اپنے پیروکاروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ؟
(8)فریق مخالف نے دلیل پیش کی کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے علم کو علم الہٰی سے کوئی نسبت نہیں۔کلی علم غیب کا مطلب یہ نہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کا علم ہے وہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو سب حاصل ہے ۔بلکہ مخلوقات اور لوح محفوظ کے کل علوم حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہیں ،اور اللہ تعالیٰ کاعلم لوح محفوظ پر منحصر نہیں ہے بلکہ کروڑوں الوح بھی اللہ تعالیٰ کے علوم غیر متناہیہ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔“
یعنی ایک طرف نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب (عملی اعتبار سے۔۔۔۔۔جبکہ لفظی اطلاق کو یہ حضرات بھی درست نہیں سمجھتے) بھی ثابت کیا گیا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کا دفاع بھی کرنے کی کوشش کی گئی کہ فریق مخالف اللہ تعالیٰ کے کل علوم نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ثابت نہیں کرتے اس لئے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ذرے ذرے کاکلی علم غیب ثابت کرنے سے برابری نہیں ۔
(9)اوراسی طرح فریق مخالف نے اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب مانتے ہےں“
(10)اور فریق مخالف نے اپنے پیروکاروں کے ذہنوں سے ہر طرح کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے اور اپنے پیروکاروں کو اپنے پیش کئے ہوئے موقف پربالکل مطمئن کرکے اوراپنے دلائل پرمخالفین کی وضاحتوں پر کسی بھی قسم کے غور و فکریا سوچنے سمجھنے سے دور رکھنے کے لئے سب سے زبردست مغالطہ یہ پیش کیا کہ ”یہ امت شرک نہیں کرسکتی“(یعنی اب تم لوگ ہمارے پیش کئے گئے تمام( اختلافی) عقیدوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لا سکتے ہو)
یہ ایسا حربہ ہے کہ جس سے فریق مخالف کے پیروکار آنکھیں بند کر کے اپنے علماءکی طرف سے پیش کیا ہوا ہر عقیدہ من و عن قبول کرلیتے ہیں ۔
اور کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ عمل کرنا یہ نہ کرنا ہمارا اپنا اختیار ہے چلو کبھی دیگر علماءکرام کا موقف بھی سن لیا جائے ۔
اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ کبھی کبھی کسی واقعہ کا %99.99 ہوجانے کے یقین کے باوجود اس یقین کے بر خلاف واقعہ رونما ہوجاتا ہے یا ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا وہ چاہے بت پرست ہو ۔۔۔یایہود ہو۔۔۔ یا نصاریٰ ہو ۔۔۔۔یا قادیانی ہو ۔۔۔۔منکر حدیث ہو ۔ ۔۔۔۔۔ دنیا کا ہر مذہب والا اپنے آپ کو سیدھی راہ پر ہی سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔اور باقی سب کو گمراہ سمجھتا ہے ۔۔۔۔اور دنیا کا ہر مذہب والے کا پاس اپنے مذہب کو سچا ثابت کر نے کے لئے بے شمار دلائل اور جوازبھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ جن سے ایک طرف وہ اپنے پیرو کاروں کو مطمئن کرتے ہیں ۔۔۔۔ تو دوسری طرف اپنے مخالفین کی طرف سے پیش کئے گئے اعتراضات اور دلائل کے جوابات دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔لیکن کیوں کہ جھوٹ مٹنے کے لئے ہی ہے اس لئے جب حق سامنے آتا ہے تو آخر کار ایک موقعہ ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں دنیا کے ہر باطل مذہب والے کو لاجواب ہونا پڑتا ہی ہے ۔۔۔۔ جس کے بعددنیا کے ہر باطل مذہب والے کو اپنے اپنے نام نہاد عقائد کے تحفظ اور بقاءکے لئے بالآخر ”ضد اور ہٹ دھرمی“ کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے ۔۔۔۔جس کا یقینا کوئی علاج اور جواب نہیں ہوتا ۔۔۔۔اور ایسے مواقعہ پر۔۔۔۔اورضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آنے والوں کے لئے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہوتے ہیں ۔
اس چھوٹی سی تمہید باندھنے کا مقصد صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ایک تویہ کہ محض کسی کا صراط مستقیم پر ہونے کے دعوے کرنا حق پر ہونے کی دلیل نہیں ۔۔۔۔دوسری بات یہ کہ اپنے مخالفین کے اعتراضات اور دلائل کے محض زبانی کلامی جوابات دے دینا بھی حق پر ہونے کی دلیل نہیں ۔۔۔۔۔بلکہ غیر جانبدارہو کر فریقین کے دلائل میں سے وزنی اور ٹھوس دلائل کا تعین کر کے ہی حق اور باطل کی پہچان کی جاسکتی ہے ۔۔۔۔ساتھ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرنا چاہیے ۔۔۔۔کیوں کہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔
عمل کرنا یا نہ کرنا یہ سب کا اپنا اپنا اختیار ہے ۔کوئی کسی کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا ۔لیکن اپنے مخالفین کی بات ضرور سن لینی چاہیے ۔ہوسکتا ہے کہ کوئی اچھی بات آپ کے علم میں آجائے۔یا ہوسکتا ہے کہ مخالف کی بات سن کر آپ مخالف کی کوئی غلط فہمی دور فرمادیں۔
ہم اپنی بات شروع کرنے سے پہلے جو ہمارے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ان تمام حضرات سے ایک درخواست کرنا چاہیں گے کہ ہماری وضاحتوں میں ہماری غلطیوں کی نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کر لیں ۔لیکن اگر ہماری وضاحتوں میں سچائی مل جائے اور آپ کا ضمیر گواہی دے کہ ہماری پیش کی ہوئی وضاحتیں درست ہیں تو ”حق “قبول کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہ کیجیے گا۔ یاد رکھیے کہ کامیابی اپنے موقف کی جیت میں نہیں بلکہ کامیابی تو اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے احکامات میں ہے۔ دعا فرمایے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطاءفرمائے ۔آمین
ان شاء اللہ اگلی پوسٹوں میں ہم ترتیب وار فریق مخالف کے دلائل کی مختصر وضاحتیں بھی پیش کرنے کی کوشش کریں گے
آپ تمام بھائیوں سے دعاوں کی خصوصی درخواست ہے
علم غیب پر چند مغالطے قسط دوم
علم غیب پر چند مغالطے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح اور صاف صاف فرمان کہ”غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا“ :
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ الخ النمل 65 پارہ 20
(ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا ،اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھا کھڑے کئے جائیں گے )
علامہ بغوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
یہ آیت مشرکین کے بار ے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا۔(معالم التنزیل جلد 5 صفحہ 128)
اور یہی شان نزول تفسیر جلالین صفحہ 321،مدارک جلد2 صفحہ 167،اور جامع البیان صفحہ 321 وغیرہ میں مذکور ہے۔
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حکم دےتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی ،غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں ۔ مزید لکھتے ہیں کہ یہاں استثناءمنقطع ہے ،یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی انسان ،جن ،فرشتہ غیب داں نہیں۔(تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 372)
علامہ خازن رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”مطلب آیت کا یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ ہی کو علم غیب ہے اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی اور ان کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کئے جائیں گے یعنی جو مخلوق کہ آسمانوں میں ہے اور وہ فرشتے ہیں اور جو زمین میں ہیں یعنی بنی آدم (اور جنات وغیرہ)ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے علم کے ساتھ متفرد ہے“(یعنی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) (تفسیر خازن جلد 5 صفحہ125)
قاضی ثنا ءاللہ الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”اے محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجیے کہ غیب بجز اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتے وہ جو آسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے ،اور جو زمین میں ہیں یعنی جن اور انسان اور انہی انسانوں میں حضرات انبیا ءکرام علیہم الصلوةوالسلام بھی ہیں“(تفسیر مظہری جلد 7 صفحہ 126)
غیب پر مطلع ہونا ، انباءغیب اور غیب جاننے کا فرق
اس موضوع کا یہ نقطہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔ کیوں کہ یہ نقطہ ہی سمجھنے کی غلط فہمی علم غیب پر اختلافات کی بنیاد ہے ۔اور فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں اسی نقطہ پر رکھی گئیں ہیں۔اس لئے آپ تمام دوستوں سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے ۔
اب یہاں ہم سب سے پہلے فریق مخالف کی طرف سے پیش کی ہوئی غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ الخ اٰٰل عمران 179 پارہ 4
(ترجمہ:اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر ،لیکن ہاں جس کو خود چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں ،اُن کو منتخب فرمالیتا ہے)
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦﴾ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ الخ جن 26،27 پارہ 29
(ترجمہ :۔ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے،سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو ، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے)
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔( ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ الخ یوسف 102 پارہ 13
(ترجمہ:یہ غیب کی خبریں ہیں جو وحی کر رہے ہیں ہم تمہاری طرف )
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا الخ ھود 49 پارہ 12
(ترجمہ:یہ خبریں ہیں غیب کی جو ہم وحی کر رہے ہیں تمہاری طرف (اے نبی)نہیں جانتے تھے یہ باتیں تم اور نہ تمہاری قوم اس سے پہلے)
اوپر بیان کی گئیں غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ میں آپ نوٹ فرمائیں کہ ایک موقعہ پر بھی بیان نہیں کہ ”اللہ کے رسول غیب جانتے ہیں “ بلکہ ’مطلع کیا گیا“یا” غیب کی خبریں وحی کی گئیں“ کا بیان ہے۔
یہ بہت ہی خاص بات ہے ،آپ لوگ اپنے ذہن میں رکھیں ان شاءاللہ آگے مزید وضاحت آئے گی۔
اب یہاں نیچے والی آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں کہ غیب کی نفی میں واضح طور پر ”غیب جاننے کی نفی “ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ الخ النمل 65 پارہ 20
(ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا)
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔( قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ الخ الاعراف 188 پارہ 9
(ترجمہ: کہہ دو کہ میں نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لئے بھی نہ کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا ،مگر یہ کہ چاہے اللہ ،اور ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کر لیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کوئی نقصان)
ہم یہاں آیات مبارکہ کی تفاسیراس لئے پیش نہیں کر رہے ہیں کیو ں کہ ہمارا مقصد اس وقت صرف غیب کے اثبات اور غیب میں نفی میں آیات مبارکہ میں اس فرق کو واضح کر نا ہے کہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں“
اوردلیل میں جو آیات مبارکہ پیش فرماتے ہیں ان میں غیب پر مطلع ہونا یا انباءغیب کا بیان ہے۔
اب آجائیں فریق مخالف کے کچھ اعتراضات کی طرف۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ ”مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ،یا نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا ،یا فقہاءکرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیوں کہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں ،اور اختلاف تو ”جمیع کان وما یکون (یعنی جو ہوچکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے) “پر ہے۔تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوی کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ ایک بات کا بھی علم مانا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔
یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے ۔
یہاں پہلے تو” بعض غیب “ کا مفہوم سمجھیں ۔ اور یہ بات سمجھیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا“ سے کیا مراد ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ )البقرة 3 پارہ 1
(ترجمہ:جو لوگ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ (تفسیر طبری 1/335)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔(تفسیر طبری 1/235))
حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔(تفسیر طبری 1/235)
ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔(تفسیر طبری 1/235)
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ زبان سے،دل سے،عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر ،اس کی کتابوں پر ،اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے،اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے ۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لےنے کو۔
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں ،اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہوسکتے ہیں
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر،فرشتوں پر،کتابوں پر رسولوں پر ،قیامت پر،جنت دوزخ پر،اللہ سے ملاقات پر،مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔
قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔(تفسیر طبری1/236)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ ،وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
ابو ذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔
عطاءابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان لانے والا ہے ۔
اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔اس لئے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے ،ان سب پر ایمان لاناواجب ہے۔
میرے بھائیوں دوستوں بزرگوں !
اللہ تعالیٰ کی کتابیں،اللہ کے رسول، فرشتے،مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اورقیامت ،روز آخرت ،میدان محشر،اللہ سے ملاقات ، حساب کتاب ،پل صراط ،جنت ،جہنم ،یہ سب غیب کی باتیں توہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد للہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔(ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں)
” حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھینے کی کوشش کی اطلاع“(ترمذی ج 2 ص 212)
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر“(ترمذی ج 2 ص 221)
”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی“(مشکوة ج2 ص 536)
”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات“(مشکوة ج 2 ص 563)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں :
”جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ)کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا(بخاری ج 2 ص 1053)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے“(مسلم ج 2 ص127)
اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں،اللہ کے رسول، فرشتے،مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا ،روز آخرت ، میدان محشر،اللہ سے ملاقات ، حساب کتاب ،پل صراط ،جنت ،جہنم
اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں،اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تما م احادیث پاک شامل ہوجاتیں ہیں جن میں غیب کی خبروں کابیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں ،الحمد للہ ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے)
بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انبا ءغیب فرماتے ہیں ۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں ،اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔
اب آجائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف ۔
بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔
فریق مخالف حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ ”حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں“
جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباءغیب کا بیان ہے۔
اورفریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔
تو غور فرمائیں :
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔
(فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے)
صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور اسی طرح درجہ بدرجہ ائمہ کرام،بزرگان دین ،محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے
اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے ۔
ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں(جو غیب میں داخل ہیں)اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں)
تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا،غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا ؟اور آنے والے کل کیا کیا ہوگا؟
یقینا ایسا عقیدہ کوئی بھی مسلمان نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔ لہذا واضح ہوتا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں ۔۔۔۔ اور "علم غیب" (یعنی غیب جاننا) کی اصطلاح ذاتی علم غیب کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔۔۔۔ جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ ہماری بات کی تصدیق خود فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب کے اس حوالہ سے بھی ہوتی ہے ۔۔۔ احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ:
"علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جبکہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے" (ملفوضات حصہ سوم)
اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمھم اللہ نے غیر اللہ کے لئے علم غیب کا عقیدہ رکھنے والے کی تکفیر فرمائی ہے ۔
چناچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام کے لئے علم غیب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”پھر تو جان لے کہ حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے تھے مگر جتنا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو علم دے دیتا ہے اور حنفیوں نے تصریح کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے کیوں کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا معارضہ کیا کہ تو کہدے کہ جو ہستیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ غیب نہیں جانتی بجز پروردگار کے ایسا ہی مسایرہ میں ہے“(مسائرہ مع المسامرہ ج 2 ص 88 طبع مصر)(شرح فقہ اکبر ص 185 طبع کانپور)
تو واضح ہوتا ہے کہ غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ ر کھنا کفر ہے۔
جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماءکرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ” نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں “
بلکہ بزرگان دین اور علماءکرام کے اقوال میں” بعض غیب پرمطلع ہوئے “وغیرہ کے ارشادات ہیں ۔اور غیب پر مطلع ہونا ۔غیب جاننے کی دلیل نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی وفیق عطاء فرمائے آمین
اگر کسی بھائی کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی غلطی نظرآئے تو ہمیں ضرور نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں
مسئلہ علم غیب اور چند مغالطے قسط اول
مسئلہ علم غیب اور چند مغالطے
علم غیب کی دو قسمیں ذاتی اور عطائی
اب آجائیں فریق مخالف کے ایک اور اعتراض کی طرف۔
فرماتے ہیں کہ جیسے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے(ترجمہ:کہہ دے کہ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا)
اور جیسا کہ قرآن پاک میں اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ :۔ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے،سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو ، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے)
فریق مخالف فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا تو دوسری آیت مبارکہ میں اللہ کے رسولوں کے لئے غیب کا اثبات ہے تو اس کو کس زمرے میں رکھیں گے ؟
اورفرماتے ہیں کہ یہاں تعارض پیدا ہوجائے گا کہ ایک موقعہ پر ارشاد ہے کہ”اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا “اور دوسرے مقام پر غیب کا اثبات ہے۔
محترم قارئین کرام
حالانکہ تضاد ان آیات مبارکہ کو سمجھنے میں تھا جو ہم نے اوپر قرآن پاک کے ہی ارشادات سے ہی واضح کیا ہے۔ کہ غیر اللہ کے لئے غیب کے اثبات کے ارشاد میں ”مطلع ہونا“ یا”یہ انباءغیب (غیب کی خبریں) ہیں جو وحی کیں گئیں “کے ارشادات ہیں۔
جبکہ غیر اللہ کے لئے غیب کی نفی کے ارشاد میں ”اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا “کابیان ہے۔
اور جاننا اور مطلع ہونے میں کیا فرق ہے اور اس کی وضاحت بھی پیش کی ہے ۔
لیکن اگر بالفرض غیب کے اثبات کی آیات مبارکہ سے فریق مخالف کے موقف کو درست مان لیا جائے کہ”حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں“
تو تعارض تو اصل یہاں پیدا ہوتا ہے کہ
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ”زمین والوں اور آسمان والوں میں سے اللہ کے سوا کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا“
اور فریق مخالف کا دعوی ہے کہ ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں“
اوراس واضح اور صاف تعارض کوفریق مخالف یہ کہہ کر دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ”جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کے جاننے کی نفی آئی ہے اس سے مراد”ذاتی علم غیب ہے عطائی نہیں “
ملاحظہ فرمائیں اس دلیل کی حقیقت:
ہمارے اکابرین کی عبارت میں ”ذاتی “ اور ”عطائی“ کے الفاظ آئے ہیں۔
لیکن بزرگان دین کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم ”ذاتی“ طور پر اور بالاستقلال تو کل غیوب کو نہیں جانتے مگر ”عطائی“اور غیر مسقل طور پر کل مغیبات کو جانتے ہیں ۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آپ یہ بات سمجھیں کہ بزرگوں نے لفظ ”ذاتی“ کا استعمال کر کے کیا بات سمجھانے کی کوشش کی ہے ؟
ذاتی طور پر غیب جاننے سے مراد ہے کہ” از خودغیب جاننا“جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ۔
اور ’’عطائی‘‘ طور پر غیب جاننے سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ،جب تک ارض حجاز سے آگ نہ نکلے جس کی روشنی بصری کے مقام پر اونٹوں کی گردنیں نظرآنے لگیں“(بخاری ج 2 ص 1054)(مسلم ج 2 ص 393 )
یہ غیب کی خبر ہے ۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اس خبر سے مطلع فرمایا( یا اس ”غیب کی خبر“ کا علم عطا ءفرمایا)
تو یہاں بزرگوں کے قول سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ”ذاتی “طور پر (یعنی از خود)یہ غیب کی خبر نہیں جانتے بلکہ” عطائی “طور پر یہ غیب کی خبر جانتے ہیں۔
اسی طرح اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب سے جتنے غیوب کی خبروں پر مطلع فرمایا ۔۔۔۔ وہ سب عطائی ہیں یعنی جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم از خود غیب نہیں جانتے بلکہ اللہ رب العزت نے عطاء فرمایا۔
جبکہ فریق مخالف کا ”ذاتی اور عطائی“ کا استعمال اپنے دعوے”ابتدائے آفرینش سے الیٰ یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا کلی علم غیب “کے دفاع کے لئے ہے ۔
بزرگوں کا "ذاتی عطائی" کی قیود کو ملحوظ رکھنے کی وجہ قرآن پاک اور احادیث پاک میں غیب کے اثبات اور نفی کی نصوص ہیں۔
جبکہ فریق مخالف کا ”ذاتی اور عطائی “ کا استعمال غیب کی نفی کی واضح اور صریح نصوص میں تاویلات کرنے کے لئے ہے ۔
کیوں کہ فریق مخالف کا دعوی زمین و آسمان کے کلی علم غیب پر ہے ۔۔۔۔اور اس دعوی کا دفاع اُسی صورت میں ممکن ہے کہ جب قرآن و حدیث میں کسی بھی غیب کی نفی میں کی نصوص کو غیب جاننے کے اثبات میں نہ تبدیل نہ کرلیا جائے ۔
اور اس کا آسان راستہ فریق مخالف کے پاس لفظ ”ذاتی اور عطائی“ کی صورت میں موجود ہے ۔۔۔۔یعنی قرآن و حدیث یا آثار صحابہ یا بزرگان دین کے اقوال میں جہاں بھی صریح اور واضح طور پر بھی غیر اللہ کے لئے غیب کی نفی کی عبارت مل جائے ۔۔۔۔اس کے جواب میں محض ”ذاتی کی نفی“ کہہ کر آسان جواب دیا جاسکتا ہے ۔
مثال کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے :
” حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ جو کہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلمکل کی بات جانتے تھے ،اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں“
مسلم شریف ،کتاب الایمان،باب معنی قول اللہ عزوجل (ولقد رآہ نزلتہ اخریٰ )ح : 177 طول منہ (بخاری جلد 2 صفحہ 720 )(مسلم جلد 1 صفحہ 98 )(ابو عوانہ جلد1 صفحہ 154 )(بخاری جلد 2 صفحہ 1089 )(ترمذی جلد 2 صفحہ 160 )(مشکوۃ جلد 2 صفحہ 501 )
یہاں فریق مخالف کاآسان جوا ب ہوتا ہے کہ ”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ”علم غیب ذاتی کی نفی کی ہے عطائی کی نہیں“
میرے بھائیوں بزرگو اور دوستو!
فریق مخالف کے اس مغالطہ (یعنی جن مقامات پر حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب جاننے کی”نفی“ آجائے وہاں لفظ ”ذاتی “ کا استعمال کرکے اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے)پرسے پردہ اٹھا نے کے لئے ہم آپ کے سامنے ایسی صحیح احادیث پاک پیش کر رہے ہیں جن میںغیب کا ”اثبات “اور” نفی“ بھی ہے“
دیکھتے ہیں نیچے بیان کی گئی صحیح احادیث پاک کے جواب میں فریق مخالف کیا فرماتے ہیں؟؟؟
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئیں ہیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں ،اللہ ہی کے پاس ہیں علم قیامت کا اور بارش نازل کرنے کا اور مافی الرحام کا خبیر تک (جو سورہ لقمان کی آخری آیتیں ہیں)(کنز العمال ج 6 ص 106 )(مسند احمد ج2 ص 85 )(درمنشور ج5 ص 170 )(تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 454 )(امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں بسند صحیح خصائص الکبریٰ ج 2 ص 195 )(علامہ عزیزی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں قال الشیخ الحدیث صحیح (السراج المنیر ج2 ص79 )(علامہ آلوسی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں بسند صحیح (روح المعانی ج 21 ص 99 )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (المتوفی32 ھ ) فرماتے ہیں:
” تمہارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب کے خزانے عطا کئے گئے ہیں مگر یہ پانچ امورعطا نہیں کئے گئے جو سورہ لقمان کی آخر میں ہیں“(مسند احمد ج 4 ص 438 )
نیز فرماتے ہیں کہ:
”نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کا علم عطا کیا گیا ہے سوائے ان پانچ چیزوں کے (کہ ان کا علم کسی کوبھی عطا نہیں ہوا)(فتح الباری ج 1 ص 115 ۔اور ج 8 ص395 ۔جلد 13 ص 308 )(تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 454)وقال ہذا اسناد حسن و در منشور ج 5 ص 170 )
حضرت ربعی رحمتہ اللہ علیہ بن خراش (المتوفی 100ھ )سے روایت ہے :
مجھ سے بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاظر ہوا اور عرض کیا کہ علم میں سے کوئی ایسی چیز بھی باقی ہے جس کو آپ نہ جانتے ہوں ،حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت سی خیر کی تعلیم دی ہے اور بے شک علوم میں سے وہ بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا چناچہ پانچ باتیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں ،ان کا پورا علم بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کسی دوسرے کو نہیں “(مسند احمد )(وقال ابن کثیر ج 3 ص 455 ہذا اسناد صحیح) (در منشور ج 5 ص 170 )
ہمارا فریق مخالف سے سوال ہے کہ:
کیا یہ احادیث پاک صحیح ہیں ؟؟؟
اگریہ احادیث پاک صحیح ہیں تو ان احادیث پاک میں بیان ہوا ہے کہ(مثال کے طور پر) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ
” حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سب چیز کی چابیاں دی گئیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں“(جو سورہ لقمان کی آخری آیات ہیں)
فریق مخالف فرمائیں گے کہ ”جن پانچ چیزوں کی چابیاں عطا ءنہیں کی گئیں“ کا بیان ہے اس سے مراد ”ذاتی “ ہے ”عطائی “ نہیں۔
پھر آپ جواب دیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھے سب چیز کی چابیاں دیں گئیں ہیں “
اس سے کیا مفہوم ثابت ہوتا ہے ؟
کیا جن چیزوں کی چابیاں عطا کئے جانے کا بیان آیا ہے وہ ”ذاتی“ کے لئے ہے ؟
(جبکہ ذاتی ہونے کا فریق مخالف بھی قائل نہیں)
تو پھر ”عطائی “ کے لئے ہے ۔
(جیسا کہ ان احادیث پاک کے الفاظ سے ہی واضح ہو رہا ہے ”عطا کی گئیں“)
تو پھر ان احادیث پاک میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جن پانچ چیزوں کی چابیوں کی نفی کی ہے وہ کیا ہیں؟
تمام قارئین کرام سے درخواست ہے کہ جب آپ اس نکتہ پر غور فرمائیں گے تو ان شاءاللہ تعالیٰ بات آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ قرآن پاک اور احادیث پاک میں اللہ تعالیٰ کے سوا علم غیب جاننے کی جہاں جہاں واضح نفی ہے فریق مخالف اس” نفی“ کواپنے موقف کے” اثبات“ میں” ڈھالنے“ کے لئے لفظ ”ذاتی “ کا استعمال کرتے ہیں۔تاکہ اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے۔اور لوگوں کے ذہنوں میں سے پیدا ہونے والے سوالات کا آسان جواب دیا جاسکے ۔
فریق مخالف کا محض”ذاتی اور عطائی “ کے الفاظ کو استعمال کر کے واضح اور صاف تعارض (یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا اورفریق مخالف کا دعوی ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں)دور نہیں ہوگا۔
یہاں ہم اپنی بات ایک دفعہ پھر دہراتے ہیں کہ بزرگان دین کے اقوال میں ”عطائی طور پر“ غیب جاننے سے مراد بطور ” بعضغیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا غیب کی خبروں کا علم عطا ءہونا“ ہے۔
اور جبکہ فریق مخالف کا موقف ”عطائی طور پر“غیب جاننے سے مراد ” ابتدائے آفرینش سے الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانناعطاء“ہوتا ہے ۔
جبکہ بیشتر وہ بزرگان دین جو ذاتی اور عطائی کی قیود کو ملحوظ رکھتے ہیں وہ اپنی تصریحات میںصاف اورواضح طور پر لکھتے ہیں کہ” کلی علم غیب“ صرف خاصہ خداوندی ہے۔
لیکن افسوس کہ فریق مخالف نے بزرگان دین کے ان واضح اورصریح اقوال کو چھوڑ کر محض” ذاتی اور عطائی“ کے الفاظ کو لے کر ”ذرے ذرے کاکلی علم غیب جاننا “ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔اورجب دیکھتے ہیں کہ بزرگوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے بعض غیب پر مطلع ہونے کی اور کل غیب خاصہ خداوندی ہونے کی واضح تصریح فرمائی ہے ۔۔۔۔ اورخود یہ حضرات ”بعض کے بجائے کل غیب عطاء“کے مدعی ہیں ۔۔۔۔ تو اس تعارض کو دور کرنے کے لئے کیاتاویلات کرتے ہیں ۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی ۔
آپ تمام حضرات سے دعاﺅں کی خصوصی درخواست ہے ۔
ضروری گذارش : اگر کسی بھائی یا دوست کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کمی کوتاہی نظر آئے تو نشاندہی کی درخواست ہے تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں ۔جزاک اللہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاءفرمائے
علم غیب کے بارے میں ایک سخت ضعیف روایت
علم غیب کے بارے میں ایک سخت ضعیف روایت
اس کے بنیادی راوی ابو مہدی سعید بن سنان الشامی سخت مجروح راوی ہے۔
امام بخاری نے فرمایا: "منکر الحدیث" (کتاب الضعفاء بتحقیق زبیر علی زئی: 132 ص 48)
امام نسائی نے فرمایا: "متروک الحدیث" (کتاب الضعفاء للنسائی : 268)
امام دارقطنی نے اسے ضعفاء و متروکین میں ذکر کیا۔ (الضعفاء و المتروکون: 270)
امام ابو حاتم الرازی نے اسے ضعیف الحدیث منکر الحدیث قراردیا اور فرمایا: "اس نے ابو الزاہریہ عن کثیر بن مرہ عن ابن عمر کی سند سے تیس (30) منکر روایتیں بیان کی ہیں۔" (الجرح و التعدیل: 28/4 ت 114)
امام مسلم نے فرمایا : "منکر الحدیث" (کتاب الکنیٰ ص 109 (185) مخطوط مصور)
حافظ زہبی نے فرمایا: "متروک متھم" (المغنی فی الضعفاء 402/1 ت 2411)
حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا: "متروک" (تقریب التہذیب : 2333)
اس جم غفیر کے مقابلے میں صدقہ بن خالد سے مروی ہے کہ "اور وہ ثقہ پسندیدہ تھا۔" (الجرح والتعدیل: 28/4)
اس قول کی سند میں "صاحب لی من بنی تمیم" نامعلوم ہے اور نامعلوم کی توثیق اصول حدیث کی رو سے معتبر نہیں۔
حافظ نور الدین الہیثمی نے ابو مہدی کے بارے میں فرمایا: "وہ سخت ضعیف ہے اور بعض سے اس کی توثیق منقول ہے اور (یہ) صحیح نہیں۔ " (مجمع الزوائد 127/5)
اس روایت میں دوسری علت قادحہ یہ ہے کہ بقیہ بن ولید صدوق مدلس راوی ہیں اور یہ روایت عن سے ہے۔ اور غیر صحیحین میں مدلس کی عن والی روایت ضعیف اور مردود ہوتی ہے۔
امام بخاری نے فرمایا: "منکر الحدیث" (کتاب الضعفاء بتحقیق زبیر علی زئی: 132 ص 48)
امام نسائی نے فرمایا: "متروک الحدیث" (کتاب الضعفاء للنسائی : 268)
امام دارقطنی نے اسے ضعفاء و متروکین میں ذکر کیا۔ (الضعفاء و المتروکون: 270)
امام ابو حاتم الرازی نے اسے ضعیف الحدیث منکر الحدیث قراردیا اور فرمایا: "اس نے ابو الزاہریہ عن کثیر بن مرہ عن ابن عمر کی سند سے تیس (30) منکر روایتیں بیان کی ہیں۔" (الجرح و التعدیل: 28/4 ت 114)
امام مسلم نے فرمایا : "منکر الحدیث" (کتاب الکنیٰ ص 109 (185) مخطوط مصور)
حافظ زہبی نے فرمایا: "متروک متھم" (المغنی فی الضعفاء 402/1 ت 2411)
حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا: "متروک" (تقریب التہذیب : 2333)
اس جم غفیر کے مقابلے میں صدقہ بن خالد سے مروی ہے کہ "اور وہ ثقہ پسندیدہ تھا۔" (الجرح والتعدیل: 28/4)
اس قول کی سند میں "صاحب لی من بنی تمیم" نامعلوم ہے اور نامعلوم کی توثیق اصول حدیث کی رو سے معتبر نہیں۔
حافظ نور الدین الہیثمی نے ابو مہدی کے بارے میں فرمایا: "وہ سخت ضعیف ہے اور بعض سے اس کی توثیق منقول ہے اور (یہ) صحیح نہیں۔ " (مجمع الزوائد 127/5)
اس روایت میں دوسری علت قادحہ یہ ہے کہ بقیہ بن ولید صدوق مدلس راوی ہیں اور یہ روایت عن سے ہے۔ اور غیر صحیحین میں مدلس کی عن والی روایت ضعیف اور مردود ہوتی ہے۔
ilm gaib pe hadees se radd
ilm gaib pe hadees
حدثني إبراهيم بن موسى ، أخبرنا هشام بن يوسف ، عن معمر ، عن الزهري ، عن عمرو بن أبي سفيان الثقفي ، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية عينا ، وأمر عليهم عاصم بن ثابت ـ وهو جد عاصم بن عمر بن الخطاب ـ فانطلقوا حتى إذا كان بين عسفان ومكة ذكروا لحي من هذيل ، يقال لهم بنو لحيان ، فتبعوهم بقريب من مائة رام ، فاقتصوا آثارهم حتى أتوا منزلا نزلوه فوجدوا فيه نوى تمر تزودوه من المدينة فقالوا هذا تمر يثرب. فتبعوا آثارهم حتى لحقوهم ، فلما انتهى عاصم وأصحابه لجئوا إلى فدفد ، وجاء القوم فأحاطوا بهم ، فقالوا لكم العهد والميثاق إن نزلتم إلينا أن لا نقتل منكم رجلا. فقال عاصم أما أنا فلا أنزل في ذمة كافر ، اللهم أخبر عنا نبيك. فقاتلوهم حتى قتلوا عاصما في سبعة نفر بالنبل ، وبقي خبيب ، وزيد ورجل آخر ، فأعطوهم العهد والميثاق ، فلما أعطوهم العهد والميثاق نزلوا إليهم ، فلما استمكنوا منهم حلوا أوتار قسيهم فربطوهم بها. فقال الرجل الثالث الذي معهما هذا أول الغدر. فأبى أن يصحبهم فجرروه وعالجوه على أن يصحبهم ، فلم يفعل ، فقتلوه ، وانطلقوا بخبيب وزيد حتى باعوهما بمكة ، فاشترى خبيبا بنو الحارث بن عامر بن نوفل ، وكان خبيب هو قتل الحارث يوم بدر ، فمكث عندهم أسيرا حتى إذا أجمعوا قتله استعار موسى من بعض بنات الحارث أستحد بها فأعارته ، قالت فغفلت عن صبي لي فدرج إليه حتى أتاه ، فوضعه على فخذه ، فلما رأيته فزعت فزعة عرف ذاك مني ، وفي يده الموسى فقال أتخشين أن أقتله ما كنت لأفعل ذاك إن شاء الله. وكانت تقول ما رأيت أسيرا قط خيرا من خبيب ، لقد رأيته يأكل من قطف عنب ، وما بمكة يومئذ ثمرة ، وإنه لموثق في الحديد ، وما كان إلا رزق رزقه الله ، فخرجوا به من الحرم ، ليقتلوه فقال دعوني أصلي ركعتين. ثم انصرف إليهم فقال لولا أن تروا أن ما بي جزع من الموت ، لزدت. فكان أول من سن الركعتين عند القتل هو ، ثم قال اللهم أحصهم عددا ثم قال ما أبالي حين أقتل مسلما على أى شق كان لله مصرعي وذلك في ذات الإله وإن يشأ يبارك على أوصال شلو ممزع ثم قام إليه عقبة بن الحارث فقتله ، وبعث قريش إلى عاصم ليؤتوا بشىء من جسده يعرفونه ، وكان عاصم قتل عظيما من عظمائهم يوم بدر ، فبعث الله عليه مثل الظلة من الدبر ، فحمته من رسلهم ، فلم يقدروا منه على شىء.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں معمر بن راشد نے ، انہیں زہری نے ، انہیں عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاسوسی کے لیے ایک جماعت ( مکہ ، قریش کی خبر لانے کے لیے ) بھیجی اور اس کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا ، جو عاصم بن عمربن خطاب کے نانا ہیں ۔ یہ جماعت روانہ ہوئی اور جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچی تو قبیلہہذیل کے ایک قبیلے کو جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا ، ان کا علم ہو گیا اور قبیلہ کے تقریباً سو تیراندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے چلے ۔ آخر ایک ایسی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں صحابہ کی اس جماعت نے پڑاؤ کیا تھا ۔ وہاں ان کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو صحابہ مدینہ سے لائے تھے ۔ قبیلہ والوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجور ( کی گھٹلی ) ہے اب انہوں نے پھر تلاش شروع کی اور صحابہ کو پا لیا ۔ عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو صحابہ کی اس جماعت نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی ۔ قبیلہ والوں نے وہاں پہنچ کر ٹیلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صحابہ سے کہا کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے ۔ اس پر عاصم رضی اللہ عنہ بولے کہ میں تو کسی کافر کی حفاظت وامن میں خود کو کسی صورت میں بھی نہیں دے سکتا ۔ اے اللہ ! ہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات کی خبر اپنے نبی کو پہنچا دے ۔ چنانچہ ان صحابہ نے ان سے قتال کیا اور عاصم اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ ان کے تیر وں سے شہید ہو گئے ۔ خبیب ، زید اور ایک اور صحابی ان کے حملوں سے ا بھی محفوظ تھے ۔ قبیلہ والوں نے پھر حفاظت وامان کا یقین دلایا ۔ یہ حضرات ان کی یقین دہانی پر اتر آئے ۔ پھر جب قبیلہ والوں نے انہیں پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا تو ان کی کمان کی تانت اتار کر ان صحابہ کو انہیں سے باندھ دیا ۔ تیسرے صحابہ جو خبیب اور زید کے ساتھ تھے ، انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی غداری ہے ۔ انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ۔ پہلے تو قبیلہ والوں نے انہیں گھسیٹا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے زور لگا تے رہے لیکن جب وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے تو انہیں وہیں قتل کر دیا اور خبیب اور زید کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ، پھر انہیں مکہ میں لا کر بیچ دیا ۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو تو حارث بنعامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا ۔ وہ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قید ی کی حیثیت سے رہے ۔ جس وقت ان سب کا خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق ہو چکا تو اتفاق سے انہیں دنوں حارث کی ایک لڑکی ( زینب ) سے انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا اور انہوں نے ان کو استرہ بھی دے دیا تھا ۔ ان کا بیان تھا کہ میرا لڑکا میری غفلت میں خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا ۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا ۔ میں نے جو اسے اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی ۔ انہوں نے میری گھبراہٹ کو جان لیا ، استرہ ان کے ہاتھ میں تھا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا ، کیا تمہیں اس کا خطرہ ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا ؟ انشاءاللہ میں ہرگز ایسا نہیں کر سکتا ۔ ان کا بیان تھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر قیدی میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھاحالانکہ اس وقت مکہ میں کسی طرح کاپھل موجود نہیں تھا جبکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی تھے ، تو وہ اللہ کی بھیجی ہوئی روزی تھی ۔ پھر حارث کے بیٹے قتل کرنے کے لیے انہیں لے کر حرم کے حدود سے باہر گئے ۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو ( انہوں نے اجازت دے دی اور ) جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے فرمایا کہ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو اور زیادہ نماز پڑھتا ۔ خبیب رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص ہیں جن سے قتل سے پہلے دو رکعت نماز کا طریقہ چلا ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے لیے بددعا کی ، اے اللہ ! انہیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور یہ اشعار پڑھے ” جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر اللہ کی راہ میں مجھے قتل کیا جائے گا ۔ یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ چاہے گا تو جسم کے ایک ایک کٹے ہوئے ٹکڑے میں برکت دے گا ۔ “ پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر انہیں شہید کر دیا اور قریش نے عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کے لیے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی بھی حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک بہت بڑے ، سردارکو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج کو بادل کی طرح ان کے اوپر بھیجا اور ان بھڑوں نے ان کی لاش کو قریش کے آدمیوں سے محفوظ رکھا اور قریش کے بھیجے ہوئے یہ لوگ ( ان کے پاس نہ پھٹک سکے ) کچھ نہ کر سکے ۔
4086
بخاری کتاب غزوات کے بیان میں
غزوہ رجیع کا بیان
دَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عُرْسِي، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَتَغَنَّيَانِ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَتَقُولَانِ فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ .(سنن ابن ماجہ حدیث=1897)
ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: «وفينا نبي يعلم ما في غد»
Friday, 27 November 2020
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﻔﯽ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﻔﯽ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ*
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺳﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﻔﯽ۔
* ۱ ۔ ﻗُﻞْ ﻟَﺎ ﻳَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﻦْ ﻓِﻲ ﺍﻟﺴَّﻤَﺎﻭَﺍﺕِ ﻭَﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﺍﻟْﻐَﻴْﺐَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠﮧ ۔
( ﻧﻤﻞ : ۶۵ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺁﭖ ﮐﮩﺪﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ۔
* ۲ ۔ ﻭَﻋِﻨْﺪَﻩُ ﻣَﻔَﺎﺗِﺢُ ﺍﻟْﻐَﻴْﺐِ ﻟَﺎ ﻳَﻌْﻠَﻤُﻬَﺎ ﺇِﻟَّﺎ ﻫُﻮَ ۔
( ﺍﻧﻌﺎﻡ : ۵۹ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﮐﻨﺠﯿﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ۔
* ۳ ۔ ﻗُﻞْ ﻟَﺎ ﺃَﻣْﻠِﻚُ ﻟِﻨَﻔْﺴِﻲ ﻧَﻔْﻌًﺎ ﻭَﻟَﺎ ﺿَﺮًّﺍ ﺇِﻟَّﺎ ﻣَﺎ ﺷَﺎﺀَ ﺍﻟﻠﮧ ﻭَﻟَﻮْ ﻛُﻨْﺖُ ﺃَﻋْﻠَﻢُ ﺍﻟْﻐَﻴْﺐَ ﻟَﺎﺳْﺘَﻜْﺜَﺮْﺕُ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺨَﻴْﺮِ ﻭَﻣَﺎ ﻣَﺴَّﻨِﻲَ ﺍﻟﺴُّﻮﺀُ ﺇِﻥْ ﺃَﻧَﺎ ﺇِﻟَّﺎ ﻧَﺬِﻳﺮٌ ﻭَﺑَﺸِﻴﺮٌ ﻟِﻘَﻮْﻡٍ ﻳُﺆْﻣِﻨُﻮﻥَo
( ﺍﻋﺮﺍﻑ : ۱۸۸ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺁﭖ ﮐﮩﺪﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻔﻊ ﻭ ﺿﺮﺭ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ، ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺐ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻀﺮﺕ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﺗﯽ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺤﺾ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ۔
* ۴ ۔ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻋِﻨْﺪَﻩُ ﻋِﻠْﻢُ ﺍﻟﺴَّﺎﻋَﺔِ ﻭَﻳُﻨَﺰِّﻝُ ﺍﻟْﻐَﻴْﺚَ ﻭَﻳَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﺎ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺄَﺭْﺣَﺎﻡِ ﻭَﻣَﺎ ﺗَﺪْﺭِﻱ ﻧَﻔْﺲٌ ﻣَﺎﺫَﺍ ﺗَﻜْﺴِﺐُ ﻏَﺪًﺍ ﻭَﻣَﺎ ﺗَﺪْﺭِﻱ ﻧَﻔْﺲٌ ﺑِﺄَﻱِّ ﺃَﺭْﺽٍ ﺗَﻤُﻮﺕُ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺧَﺒِﻴﺮٌ o
( ﻟﻘﻤﺎﻥ : ۳۴ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺑﮯ ﺷﮏ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﺑﺮﺳﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻞ ﮐﯿﺎ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﺟﮕﮧ ﻣﺮﮮ ﮔﺎ، ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﺧﺒﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯﺅ
* ۵ ۔ ﻳَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﺎ ﺑَﻴْﻦَ ﺃَﻳْﺪِﻳﻬِﻢْ ﻭَﻣَﺎ ﺧَﻠْﻔَﻬُﻢْ ﻭَﻟَﺎ ﻳُﺤِﻴﻄُﻮﻥَ ﺑِﻪِ ﻋِﻠْﻤًﺎ o
( ﻃٰﮧٰ : ۱۱۰ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺍﺣﺎﻃﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ۔
*ﻣﺎﺳﻮﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﻔﯽ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﺳﮯ*
ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ۔
ﺫﺧﯿﺮﮦ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ :
* ۱ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺳﮯ ﮔﺬﺭﮮ ﺗﻮ ﺁﭖﷺ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﭘﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻠﯽ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﻟﻮﻻ ﺍﻧﯽ ﺍﺧﺎﻑ ﺍﻥ ﺗﮑﻮﻥ ﻣﻦ ﺍﻟﺼﺪﻗﮧ ﻻﮐﻠﺘﮭﺎ۔
( ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ ﻭ ﮐﺬﺍ ﻣﺸﮑﻮٰۃ : ۱۶۱ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺧﻮﻑ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺻﺪﻗﮧ ﮐﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮨﻮﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ۔
* ۲ ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﺭﺑﯿﻊ ﺑﻨﺖ ﻣﻌﻮﺫ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﭽﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎﺀ ﻭ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ :
ﻭﻓﯿﻨﺎ ﻧﺒﯽ ﯾﻌﻠﻢ ﻣﺎ ﻓﯽ ﻏﺪ۔ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﺒﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺩﻋﯽ ﮬﺬﮦ ﻭ ﻗﻮﻟﯽ ﺑﺎﻟﺬﯼ ﮐﻨﺖ ﺗﻘﻮﻟﯿﻦ۔
( ﻣﺸﮑﻮٰۃ : ۲۷۱ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﻭﮨﯽ ﮐﮩﻮ ﺟﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
* ۳ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺳﻌﯿﺪ ﺧﺪﺭﯼؓ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﺭﯾﺖُ ﮬﺬﮦ ﺍﻟﻠﯿﻠۃ ﺛﻢ ﺍﻧﺴﯿﺘُﮭﺎ ﻓﺎﺗﻤﺴﻮﮬﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﻌﺸﺮ ﺍﻻﻭﺍﺧﺮ ﻭ ﺍﻟﺘﻤﺴﻮﮬﺎ ﻓﯽ ﮐﻞ ﻭﺗﺮ۔
( ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ ﻭ ﮐﺬﺍ ﻣﺸﮑﻮٰۃ : ۱۸۲ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺭﺍﺕ ﺑﺘﻼﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ، ﭘﺲ ﺗﻢ ﺁﺧﺮﯼ ﻋﺸﺮﮦ ﮐﯽ ﻃﺎﻕ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻭ۔
*ﻋﻠﻤﺎﺀِ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﮐﺎ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ*
ﻣﻼﻋﻠﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ( ﺷﺎﺭﺡ ﻣﺸﮑﻮٰۃ ) ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
* ۱ ۔ ﺍﻋﻠﻢ ﺍﻥ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻟﻢ ﯾﻌﻠﻤﻮﺍ ﺍﻟﻤﻐﯿﺒﺎﺕ ﻣﻦ ﺍﻻﺷﮭﺎﺭ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﻠﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺣﯿﺎﻧﺎً ﻭ ﺫﮐﺮ ﺍﻟﺤﻨﻔﯿۃ ﺗﺼﺮﯾﺤﺎً ﺑﺎﻟﺘﮑﻔﯿﺮ ﺑﺎﻋﺘﻘﺎﺩ ﺍﻥ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﷺ ﺍﻟﻐﯿﺐ ﻟﻤﻌﺎﺭﺿﺘﮧ ﻗﻮﻟﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ : ﻗُﻞْ ﻟَﺎ ﻳَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﻦْ ﻓِﻲ ﺍﻟﺴَّﻤَﺎﻭَﺍﺕِ ﻭَﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﺍﻟْﻐَﻴْﺐَ ﺇِﻟَّﺎ ﻟِﻠَّﻪُ ۔
( ﺷﺮﺡ ﻓﻘﮧ ﺍﮐﺒﺮ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﮐﮧ ﺑﺎﻟﯿﻘﯿﻦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻋﻠﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺪﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﻨﺎﻑ ﻧﮯ ﺻﺮﺍﺣﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﮑﻔﯿﺮ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻏﯿﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻗﻮﻝ : ﻗُﻞْ ﻟَﺎ ﻳَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﻦْ ﻓِﻲ ﺍﻟﺴَّﻤَﺎﻭَﺍﺕِ ..... ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔
* ۲ ۔ ﻟﻮ ﺗﺰﻭﺝ ﺑﺸﮭﺎﺩۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﻻ ﯾﻨﻌﻘﺪ ﺍﻟﻨﮑﺎﺡ ﻭ ﮐﻔﺮ ﻻﻋﺘﻘﺎﺩ ﺍﻧﮧﷺ ﯾﻌﻠﻢ ﺍﻟﻐﯿﺐ۔
( ﺑﺤﺮ ﺍﻟﺮﺍﺋﻖ : ۱/ ۶ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﮐﻔﺮﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻏﯿﺐ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺷﺮﺡ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﻧﺴﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ:
* ۳ ۔ ﻭﺑﺎﻟﺠﻤﻠۃ ﺍﻟﻌﻠﻢ ﺑﺎﻟﻐﯿﺐ ﮬﻮ ﺗﻔﺮِّﺩ ﺑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻻ ﺳﺒﯿﻞ ﺍﻟﯿﮧ ﻟﻠﻌﺒﺎﺩ ﺍﻻ ﺑﺎﻋﻼﻡ ﻣﻨﮧ ﺍﻭ ﺍﻟﮭﺎﻡ۔
( ﺷﺮﺡ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﻧﺴﻔﯽ : ۱۲۳ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺧﻼﺻﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﯾﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻭﺣﯽ ﯾﺎ ﺍﻟﮩﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﺩﯾﮟ۔
ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻗﺎﺿﯽ ﺧﺎﻥ ( ﻣﺘﻮﻓﯽ۵۹۲ﮪ ) ﻣﯿﮟ ﮨﮯ :
* ۴ ۔ ﻭ ﺑﻌﻀﮭﻢ ﺟﻌﻠﻮﺍ ﺫﺍﻟﮏ ﮐﻔﺮﺍً ﻻﻧﮧ ﯾﻌﺘﻘﺪ ﺍﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺﯾﻌﻠﻢ ﺍﻟﻐﯿﺐ ﻭﮬﻮ ﮐﻔﺮ۔
( ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻗﺎﺿﯽ ﺧﺎﻥ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻨﮑﺎﺡ )
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻏﯿﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﻔﺮ ﮐﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻣﺰﯾﺪ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﻓﻘﮩﺎﺀﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺗﯿﮟ ﻃﻮﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﺣﺬﻑ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﯿﮟ، ﺻﺮﻑ ﺣﻮﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎﺀ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ :
ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯼ : ۲ / ۴۱۲
ﺧﻼﺻۃ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼٰ : ۴ / ۳۵۴۔
ﻓﺼﻮﻝ ﻋﻤﺎﺩﯾﮧ : ۶۴۔ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﺑﺰﺍﺯﯾﮧ : ۳۲۵۔
ﻋﻤﺪۃ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ ﺷﺮﺡ ﺑﺨﺎﺭﯼ : ۱/ ۵۲۰ ۔ ﺍﯾﮯ ﺷﺎﻣﯽ : ۳۰۶۔ ﻣﺎﻻﺑﺪّ ﻣﻨﮧ : ۱۷۶۔ ﻭﻏﯿﺮﮦ
نصاریٰ اور روافض کا نظریہ :
انبیا کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ اسلاف امت میں کسی سے بھی ثابت نہیں ، بلکہ یہ نصاریٰ اور روافض سے ماخوذ ہے، جیسا کہ:
علامہ ، عبدالرحمن بن عبداللہ ، سہیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فَلِذٰلكَ كَانَ الْمسِيحُ عندھم يعلم الغيب، ويخبر بما فى غد، فلما كان ھٰذَا منْ مذھب النصاري الكذبة على الله، المدعين المحال
”اسی لیے نصاریٰ کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام عالم الغیب تھے اور آئندہ کی باتوں کی خبر دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور ناممکنات کا دعویٰ کرنے والے نصاریٰ کا یہ حال تھا، تو۔۔۔“
(الروض الأنف : 404/2، عمدة القاري للعيني الحنفي : 55/1)
سیدنا نوح علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ نے یوں نقل فرمایا ہے :
وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ (11-هود : 31)
”میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں فرشتہ ہوں۔“
اس آیت کی تفسیر میں امام ابوجعفر نحاس (م : 338 ھ) لکھتے ہیں :
وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ، أَخْبَرَ بِتَوَاضُعِه وَتَذَلُّلِهٖ لله جلَّ وَ عَزَّ، وانه لا يدعي ما ليس له ؛ من خزائن الله جل و عز، وھي إنعامه عليٰ مَنْ يشاءُ من عباده، انه لا يعلم الغيب ؛ لان الغيب لا يعلمه إلا الله جل و عز
وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ ”میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے آپ کے پاس نہیں ہیں، آپ ایسا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے، جس بندے پر چاہے کرے۔ یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“ (إعراب القرآن : 167/2)
علامہ ابواسحاق ابراہیم بن سری، زجاج رحمہ اللہ (241-311ھ) فرماتے ہیں :
فأعلمهم النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه لا يملك خزائِنَ الله التِي بِهَا يَرزُق وُيعْطِي، وأنه لا يعلم الْغَيْبَ فيخبِرَهُمْ بِمَا غَابَ عَنْه مِمَّا مضَى، وما سَيَكُونُ إلا بِوَحْيٍ من اللَّهِ جلَّ وعزَّ.
”نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (مشرکین) کو بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رزق و بخشش والے خزانوں کے مالک نہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ وحی کے بغیر انہیں ان واقعات کی خبر دیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں پیش آچکے تھے یا آئندہ رونما ہونے والے تھے۔“ (معاني القرآن و إعرابه : 250/2)
مشہور مفسر ، علامہ ، ابوعبداللہ ، محمد بن احمد ، قرطبی رحمہ فرماتے ہیں:
وَلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (أَخْبَرَ بِتَذَلُّلِهِ وَتَوَاضُعِهِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّهُ لَا يَدَّعِي مَا لَيْسَ لَهُ مِنْ خَزَائِنِ اللَّهِ، وهي إنعامه على من يشاء مِنْ عِبَادِهِ، وَأَنَّهُ لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ، لِأَنَّ الْغَيْبَ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) .
وَلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ ”ميں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور بے بسی کا تذکرہ کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے، جس بندے پر چاہے کرے۔ یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“ (الجامع لأحکام القرآن : 27، 26/9)
معلوم ہوا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر جو یہ فرمایا تھا :
أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ
”خبردار ! آج رات سخت آندھی چلے گی، لہٰذا کوئی بھی کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، اسے باندھ لے۔“ (صحيح البخاري : 1481، صحيح مسلم : 1392)
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آندھی آنے سے قبل ہی اس کی خبر مل گئی تھی، لیکن کوئی بھی اس خبر ملنے کی بنا پر صحابہ کرام کو عالم الغیب ثابت نہیں کرتا، تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ملنے پر عالم الغیب ثابت کرنا کیسے درست ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اور خود نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں جابجا اس بات کی صراحت فرمادی ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے، اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا
احاديثِ نبويه :
آئیے اس حوالے سے کچھ احادیث بھی ملاحظہ فرمالیں :
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ
”کل کیا ہونے والا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ ( صحيح البخاري : 7379)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے :
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نَا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي عُرْسٍ لَهُنَّ يُغَنِّينَ : … وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ
”نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کی کچھ عورتوں کے پاس سے ہوا، جو اپنی ایک شادی میں یہ گنگنارہی تھیں۔۔۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات کو جانتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کل کی بات کو سواے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔“ (المعجم الأوسط للطبراني : 3401، المعجم الصغیر للطبرانی : 343، المستدرك على الصحيحين للحاكم : 185/2، السنن الكبريٰ للبيھقي : 289/7، و سندہٗ حسنٌ)
اس حدیث و امام حاکم رحمہ اللہ نے ”امام مسلم کی شرط پر صحیح“ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
حافظ ہیثمی کہتے ہیں :
(وَرِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِيحِ) ۔ ”اس حدیث کے راوی صحیح بخاری والے ہیں۔“ ( مجمع الزوائد : 290/4
” سبحان الله في خمس من الغيب لا يعلمهن إلا هو ﴿إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (31-لقمان : 34)
”سبحان اللہ ! قیامت کا علم تو ان پانچ چیزوں میں شامل ہے، جو غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ٱیت کریمہ تلاوت فرمائی : ) ﴿إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ ( بلاشبہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ارحام میں جو کچھ ہے، وہی اسے جانتا ہے۔ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کو کیا کرے گی اور کسی کو معلوم نہیں کہ کسی زمین میں اسے موت آئے گی۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی خوب علم والا، خبر رکھنے والا ہے ) “ (مسند الإمام أحمد : 318/1، وسندہٗ حسنٌ)۔
مؤمنوں کی ماں، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ
”جو آپ کو یہ بتائے کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کل ہونے والے واقعات کو جانتے تھے، اس نے جھوٹ بولا: ہے۔“ (صحیح بخاری : 4855)۔
صحیح مسلم (177) کے یہ الفاظ ہیں :
وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ، وَاللهُ يَقُولُ : قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ(النمل : 65)۔
”جس کا یہ دعویٰ ہو کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ ہونے والی باتوں کی خبر دیتے تھے، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ (النمل : 65) ( اے نبی ! آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی ہستی، سوائے اللہ تعالیٰ کے، غیب نہیں جانتی)۔
- ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ انکم تختصمون الی ولعل بعضکم الحن بحجتہ من بعض فمن قضیت لہ بحق اخیہ شیئا بقولہ فانما اقطع لہ قطعۃ من النار فلا یاخذھا ‘‘ [صحیح البخاری :۲۴۸۲وصحیح مسلم:۳۲۳۱]
(ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا ،اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھا کھڑے کئے جائیں گے )
یہ آیت مشرکین کے بار ے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا۔(معالم التنزیل جلد 5 صفحہ 128)
اور یہی شان نزول تفسیر جلالین صفحہ 321،مدارک جلد2 صفحہ 167،اور جامع البیان صفحہ 321 وغیرہ میں مذکور ہے۔
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حکم دےتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی ،غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں ۔ مزید لکھتے ہیں کہ یہاں استثناءمنقطع ہے ،یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی انسان ،جن ،فرشتہ غیب داں نہیں۔(تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 372)
قاضی ثنا ءاللہ الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”اے محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجیے کہ غیب بجز اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتے وہ جو آسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے ،اور جو زمین میں ہیں یعنی جن اور انسان اور انہی انسانوں میں حضرات انبیا ءکرام علیہم الصلوةوالسلام بھی ہیں“(تفسیر مظہری جلد 7 صفحہ 126)
چناچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام کے لئے علم غیب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”پھر تو جان لے کہ حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے تھے مگر جتنا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو علم دے دیتا ہے اور حنفیوں نے تصریح کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے کیوں کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا معارضہ کیا کہ تو کہدے کہ جو ہستیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ غیب نہیں جانتی بجز پروردگار کے ایسا ہی مسایرہ میں ہے“(مسائرہ مع المسامرہ ج 2 ص 88 طبع مصر)(شرح فقہ اکبر ص 185 طبع کانپور)
اب ملاحظہ فرمائیں کہ حضرات مفسرین کرام رحمھم اللہ نے ”تبیانا لکل شئی “ اور اسی مضمون کی دوسری آیات کا کیا مطلب بیان فرمایا ہے :
علامہ بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’تبیانا لکل شئی یحتاج الیہ من الامر و النھی والحلال و الحرام والحدود والاحکام‘‘الخ(معالم التنزیل ج 2 ص 212)
یعنی ہر وہ چیز جس کی امر و نہی اورحلال حرام اور حدود و احکام میں جس کی ضرورت پڑتی ہو
’’تبیانا لکل شئی من امور الدین “(تفسیر بیضاوی ج 1 ص 450)
یعنی امور دین کی واضح تشریح اس میں موجود ہے
علامہ جلال الدین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
تبیانا لکل شئی یحتاج الناس الیہ من امر الشریعة الخ (جلالین ص224)
یعنی ہر وہ چیز مراد ہے جس کی لوگوں کو امر شریعت میں حاجت ہوسکتی ہے
اور امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے اسی کے قریب (تفسیر کبیر ج 20 ص 99) لکھا ہے ۔
بلکہ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اما العلوم التی لیست دینیة فلا تعلق لھا بھذہ الایة الخ (تفسیر کبیر ج 20 ص 99)
یعنی بہر حال وہ علوم جو دینی نہیں تو ان کا آیت سے کوئی تعلق نہیں
اور ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ :
تبیانا لکل شئی قال ابن مسعود بین لنا فی ھذا القراٰن کل علم و کل شئی وقال مجاھد کل حرام و حرام و قول ابن مسعود اعم و اشمل فان القراٰن اشمل علیٰ کل علم نافع من خبر ماسبق وعلم ما سیاتی وکل حلال و حرام وما الناس الیہ محتاجون فی امر دنیا ھم و دینھم و معاشھم و معادھم الخ (تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 582)
یعنی ”تبیانا لکل شئی “کا مطلب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم میں ہر علم اور ہر شئے بیان کی ہے ۔۔۔اور حضرت مجاہدرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر حلال اور حرام بیان کیا گیا ہے اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کا قول اعم اور اشمل ہے کیوں کہ قرآن کریم ہر نافع علم پر مشتمل ہے جس میں پہلے کے لوگوں کی خبریں ہیں ،اور آئیندہ آنے والے واقعات کا علم ہے اور ہر حلال حر ام کا ،اور اسی طرح لوگ اپنے دین و دنیا اور معاش معاد میں جس چیز کے محتاج ہیں اس میں یہ سب کچھ بیان کیا گیا ہے
حضرت شیخ عبد الحق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ای مما یتعلق بالدین ای کلیاتہ اوھومبالغة اقامة للاکثر مقام الکل الخ (لمعات ہامش مشکوٰة ج2 ص437 )
یعنی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس خطبہ میں دین کی ہر ضروری بات کو بیان فرمایا یا مبالغہ کے طور پر اکثرچیزوں کو ”کل“ کہا گیا
نیز لکھتے ہیں :
فلم یدع شیئا پس نگذاشت چیز یرااز قواعد مہمات دین کہ واقع میشود تاقیامت مگر آنکہ ذکر کرد آنرایا ایں مبالغہ است بگر دانیدن اکثر درحکم کل الخ (اشعتہ اللمعات ج 4 ص181 )
سو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لئے قواعد اور مہمات دین میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی جو بیان نہ فرمادی اور یا یہ مبالغہ ہے جس میں” اکثر“کو” کل“ کے معنی میں کر دیا گیا ہے
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا (المتوفاة 59 ھ)سے روایت ہے:
وہ فرماتی ہیں کہ دو فریق اپنا ایک مقدمہ لے کر جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ،آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فریقین کو مخاطب کرکے یوں ارشاد فرمایا
:
”انما انا بشر وانہ یاتینی الخصم فلعل بعضکم ان یکون ابلغ من بعض فا حسب انہ صادق فا قضی لہ بذالک فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعة من النار فلیا ءخذ ھا او لیترک
یعنی سنو میں انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں،بہت ممکن ہے کہ ایک شخص زیادہ حجت بازاور چرب زبان ہواور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کراس کے حق میں فیصلہ کردوں اور فی الواقع وہ حقدار نہ ہوتو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لئے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ اسے لے لے یا چھوڑ دے۔(بخاری ج 2 ص 1065 )(مسلم ج 2 ص 74 ) (موطا امام مالک ص 299 )(نسائی ج 2 ص 261 )(ابو داود ج 2 ص 148 )(ابن ماجہ ص 168 )(طحاوی ج 2 ص 284 )(سنن الکبریٰ ج 10 ص 143 )
یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔(بخاری کتاب الاحکام:باب من قضی لہ بحق اخیہ فلا یا خذہ ۔۔۔۔ح :7181)(مسلم کتاب الاقضیة :باب بیان ان حکم الحاکم لا بغیر باطن،ح:1713 )(ابن ماجہ ص 168 )(مسند احمد ج 2 ص 332 )
ابو داؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ(میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی) ابو داؤدکتاب القضاہ:باب فی القضا ءالقاضی اذا خطاء۔ح:3585(صحیح)
یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔(کنز العمال ج 3 ص308 )
حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 204ھ ) اس روایت کو نقل کر کے فرماتے ہیں:
فبھذا انقول وفی ھذا البیان الذی لاشکال معہ بحمداللہ تعالیٰ ونعمتہ علیٰ عالم فنقول ولی السرائر اللہ عزوجل فالحلال والحرام علیٰ مایعلمہ اللہ تبارک و تعالیٰ والحکم علیٰ ظاھر الامروافق ذٰلک السرائر وخالفھا الخ (کتاب الام ج 7 ص 37 )
”یعنی ہم اس کے قائل ہیں اور اس کے اندر ایسا واضح بیان ہے جو بحمد اللہ و احسانہ کسی عالم پر باعث اشکال نہیں ہوسکتا،سو ہم کہتے ہیں کہ رازوں اور بھیدوں کا جاننے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہے (حقیقتاً)مزید لکھتے ہیں کہ حاکم کا فیصلہ تو ظاہر پر محمول ہے یہ اندرونی بھیدوں اور رازوں کے موافق ہو یا مخالف“
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ :
وھو صواب علیٰ الظاھر ولایعلم الباطن الااللہ تعالیٰ (رسالہ فی اصول الفقہ للام الشافعی ص 69 )
یعنی مجتہد کا قیاس اور فیصلہ ظاہری امور پر مبنی ہے ،باطن کو اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی بھی نہیں جانتا
ابن حجر العسقلانی الشافعی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 852 ھ) فرماتے ہیں:
قولہ انماانا بشر ،ای کواحد من البشر فی عدم علم الغیب الخ (فتح الباری ج3 ص 139 )
”میں بشر ہوں یعنی علم غیب نہ ہونے میں دوسرے انسانی افراد کی طرح ہوں“
اور دوسرے مقام پر اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اتی بہ رداعلیٰ من زعم ان من کان رسولا فانہ یعلم کل غیب الخ (فتح الباری ج 13 ص151 )
”انما ان بشر“کا جملہ خاص طور پر ان لوگوں کے باطل خیال کی تردید کے لئے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول کو کلی علم غیب ہوتا ہے
علامہ بدر الدین محمود بن احمد العینی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 855ھ )لکھتے ہیں:
”انما انا بشر ۔یعنی کواحد منکم ولا اعلم الغیب و بواطن الامور کما ھو مقتضی الحالة البشریة وانا حکم بالظاھر الخ (عمدة القاری ج 11 ص271 )
”میں تمہاری طرح ایک بشر ہی ہوں اور میں غیب کا علم نہیں رکھتا اور تمہارے معاملات کے اندرونی احوال کو میں نہیں جانتا جیسا کہ بشریت کا تقاضا ہوتا ہے اور میں تو صرف ظاہری حال پر ہی فیصلہ دیتا ہوں
اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے دوسرے مقام پر یوں رقمطراز ہیں :
انما انا بشر ۔ای من البشر ولا ادری باطن ماتتحا کمون فیہ عندی وتختصمون فیہ لدی وانما اقضی بینکم علیٰ ظاھر ماتقولون فاذا کان الانبیاءعلیھم الصلوة والسلام لایعلمون ذٰلک فغیرجائزان یصح دعویٰ غیرھم من کاھن او منجم العلم وانما یعلم الانبیاءمن الغیب ما اعلمو بہ بوجہ من الوحی الخ (عمدة القاری ج 11 ص 411)
یعنی میں انسانوں میں سے ایک بشر ہوں اور جو مقدمات تم میرے پاس لاتے ہو تو ان کے باطن کو میں نہیں جانتا اور میں تو تمہاری ظاہری باتوں کو سن کر ہی فیصلہ کرتا ہوں ۔(علامہ عینی فرماتے ہیں ) جب حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام غیب اور باطنی امور نہیں جانتے تو نجومی اور کاہن وغیرہ کا غیب اور باطنی امور کے علم کا دعوی کیسے جائز اور صحیح ہوسکتا ہے ؟اور حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام بھی غیب کی صرف وہی باتیں جانتے ہیں جن کا بذریعہ وحی ان کو علم عطاءکیا گیا ہو۔
امام قسطلانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”انما انا بشر ۔مشارک لکم فی البشریة بالنسبہ لعلم الغیب الذی لم یطلعنی اللہ علیہ وقال ذالک توطئة لقولہ وانہ یاتینی الخصم الخ فلا اعلم باطن امرہ الخ (ارشاد الساری ج 10ص 204 )
یعنی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ”انما انا بشر “ اُن لوگوں کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول کو کل غیب کا علم ہوتا ہے حتی کہ اس پر مظلوم اور ظالم مخفی نہیں رہتے“
یہی علامہ قسطلانی رحمتہ اللہ علیہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ:
’’اتی بہ علی الرد علیٰ من زعم ان من کان رسولا یعلم الغیب فیطلع علی البواطن ولا یخفی علیہ المظلوم و نحو ذٰلک فا شاران الوضع البشری یقتضی ان لاید رک من الامور الاظواھر ھا فانہ خلق خلقا لا یسلم من قضا یا تحجبہ عن حقائق الاشیاءفاذا ترک علیٰ ماجبل علیہ من القضایا البشریة ولم یوید بالوحی السماوی طراءعلیہ ماطراءعلی سائرالبشر الخ (ارشاد الساری ج ۴ ص ۲۱۴)
یعنی انماانا بشر ۔آپ نے ان لوگوں کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کو غیب کا علم ہوتا ہے اور وہ باطن پر مطلع ہوتا ہے اور اس پر مظلوم وغیرہ مخفی نہیں رہتا ،آپ نے اس ارشاد میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وضع بشری اس کا مقتضی ہے کہ وہ صرف ظاہری امور کا ادارک کرے کیوں کہ بشر ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس کے اور حقائق اشیاءکے ادارک کے درمیان پردے حائل ہوجاتے ہیں ۔جب اس کی جبلت بشری تقاضوں پر چھوڑ دیا جائے اور وحی سماوی سے تائید نہ ہو تو اس پر باوجود رسول ہونے کے وہی کچھ طاری ہوتا ہے جو تمام انسانوں پر طاری ہوتا ہے ۔
علامہ علی بن احمد العزیزی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 1070 ھ) لکھتے ہیں:
انما انا بشر ۔ای من البشر والمراد انہ مشارک البشر فی اصل الخلفة وان زاد علیھم بالزایا التی اختص بھا فی ذاتہ قالہ ردا علی من زعم ان من کان رسولا فانہ یعلم کل غیب حتی لایخفی علیہ المظلوم الخ (السراج المنیر ج2 ص43 )
”میں انسانوں میں سے ایک انسان ہوں اور بشر ہوں مراد یہ ہے کہ آپ اصل خلقت میں انسانوں کے ساتھ شریک ہیں اگر چہ دیگر فضائل مختصہ میں وہ دوسرے انسانوں سے برتر ہیں ،اس ارشاد میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تردید فرمائی جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول کل غیب جانتے ہیں حتی کہ اُن پر مظلوم مخفی نہیں رہ سکتا
علامہ الحسین بن عبد اللہ بن محمد الطیبی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 743ھ ) لکھتے ہیں
انما انا بشر۔ان الوضع البشری یقتضی ان لایدرک من الامور الاظاہر ھا وعصمتہ انما ھو عن الذنوب فانہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم لم یکلف فیما لم ینزل فیہ الا ما کلف غیرہ وھو الاجتھاد الخ (بحوالہ انجاح الحاجہ ص 169 )
”میں تو بشر ہی ہوں اور وضع بشری اس کو نہیں چاہتی کہ وہ امور ظاہرہ کے علاوہ امور باطنہ کا بھی ادراک کرے ۔رہا آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا معصوم ہونا ،تو وہ گناہوں سے ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اُن احکام میں جن میں وحی نازل نہیں ہوئی تھی،اُسی چیز کا مکلف قرار دیا ہے جس کا دوسروں کو مکلف بنایا اور وہ اجتہاد ہے
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”ثم لیعلم انہ یحب ان ینفی ٰعنھم صفات الواجب جل مجدہ من العلم بالغیب و القدرة علیٰ خلق العالم الیٰ غیر ذٰلک ولیس ذٰلک بنقص (الیٰ ان قال بعد عدة السطر)و ان استدل بقولہ علیہ الصلوة والسلام فتجلی لی کل شئی قلنا ھو بمنزلة قولہ تعالیٰ فی التوراة تفصیلا لکل شئی والا صل فی العمومات التخصیص بما یناسب المقام ولو سلم فھذا عند وضع اللہ یدہ بین کتفیہ ثم لما سری عنہ ذٰلک فلا بُعد من ان یکون تعلیم تلک المور ثانیا فی حالة اُخری الخ“(تفہیمات الٰہیہ جلد 1 صفحہ 24،25 )
”یعنی پھر جاننا چاہیے کہ واجب ہے کہ حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام سے باری تعالیٰ کی صفات کی نفی جائے مثلاً علم غیب اور جہان کے پیدا کرنے کی قدرت وغیرہ اور اس میں کوئی تنقیص نہیں ہے (پھر کئی سطور کے بعد فرمایاکہ)اور اگر کوئی شخص آپ کے علم غیب پر ”فتجلی کل شئی “(کی حدیث )سے استدلال کرے تو ہم اس کو یوں جواب دیں گے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تورات کے بارے میں تفصیلا ً لکل شئی آیا ہے اور اصل عمومات میں مقام کے مناسب تخصیص کرنا ہے اور اگر یہ تجلی ہر ایک چیز لے لئے بھی تسلیم بھی کرلی جائے تو یہ صرف اس وقت کے لئے تھی جب کہ اللہ تعالیٰ نے دست قدرت آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھا تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے دست قدرت اٹھالیا تو یہ تجلی اور انکشاف بھی جاتا رہا سو اس میں کوئی بُعد نہیں کہ اس کے بعد دوسری حالت میں آپ کو دوبارہ ان امور کی تعلیم دی گئی ہو“
’ھذا الخمسۃ لایعلمھا ملک مقرب ولا نبی مصطفیٰ فمن ادعی انہ یعلم شیئا من ھذا فقد کفر بالقراٰن لانہ خالفہ الخ (تفسیر خازن ج 5ص183)
”یعنی یہ پانچ چیزیں وہ ہیں کہ ان کا علم نہ تو کسی مقرب فرشتہ کو ہے اور نہ جناب نبی کریم حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ،تو جو کوئی ان میں سے کسی چیز کے علم کا دعوی کرے تو اس نے قرآن کریم کا انکار کیا ،کیوں کہ اس نے اس کی مخالفت کی ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
’’لم یعلم علیٰ نبیکم صلیٰ اللہ علیہ وسلم الا الخمس من سرائر الغیب ھذہ الآیة فی اٰخر لقمان الیٰ اٰخر الاٰیة (درمنشور ج 5ص 170)
’’یعنی تمہارے نبی حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر اسرار غیب سے بس یہی پانچ چیزیں مخفی رکھیں گئیں ہیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں
ابو امامہ رضی اللہ عنہ (المتوفی 86 ھ ) سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ :
’’ان اعرابیا وقف علیٰ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم یوم بدر علیٰ ناقة لہ عشراءفقال یا محمد مافی بطن ناقتی ھذہ فقال لہ رجل من الانصار دع عنک رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم وھلم الی حتی اُخبرک وقعت انت علیھا وفی بطنھا ولد منک فاعرض عنہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ثم قال ان اللہ یحب کل حیی کریم متکرہ ویبغض کل لیئم متفحش ثم اقبل علیٰ الاعرابی فقال خمس لا یعلمھن الااللہ ان اللہ عندہ علم الساعة الآیة (درمنشور ج 5ص 170)
یعنی غزﺅہ بدر کے دن ایک اعرابی اپنے دن مہینے کی گابھن اوٹنی پر سوار ہوکر جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے محمدصلیٰ اللہ علیہ وسلم بتائیے میری اس اوٹنی کے پیٹ میں کیا ہے ؟ایک انصاری نے( طیش میں آکر)اُس سے کہا کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ہٹ کر میرے پاس آ تاکہ میں تجھے بتلاﺅں تونے اس اوٹنی سے مجامعت کی ہے اور اس کے پیٹ میں تیرا بچہ ہے ،آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اس انصاری کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر صاحب حیا اور صاحب وقار کوجو گندی باتوں سے کنارہ کشی کرتا ہو پسند کرتا ہے اور ہر کمینہ اور بدزبان کو مبعوض رکھتا ہے ،پھر حضور اقدس صلیٰ اللہ علیہ وسلم اُس اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا پانچ چیزیں وہ ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں پھر آپ نے سورہ لقمان کی یہ آخری آیت پڑھی ”ان اللہ عندہ علم الساعة “الآیة
حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں آتا ہے کہ :
’’قلت یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم عن حاجتی فلا تعجلن علی قال سل عما شئت قلت یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ھل عندک من علم الغیب فضحک لعمراللہ وھزواءسہ وعلم انی ابتغی بسقطہ فقال ضن ربک بمفاتح خمس من الغیب لایعلمن الا اللہ و اشارہ بیدہ (الحدیث ) (مستدرک ج 4ص 561 قال الحاکم صحیح الاسناد والبدایہ والنہایہ ج5 ص80)
یعنی میں نے کہا یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں آپ سے اپنی ایک حاجت کے بارے میں سوال کرتا ہوں سو آپ مجھ پر جلدی نہ کریں ،آپ نے فرمایا جو چاہتا ہے پوچھ ؟میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے پاس علم غیب ہے ؟ بخدا آپ زور سے ہنسے اور سر مبارک کو حرکت دی اور آپ کو خیال گذرا کہ شاید میں نے آپ کی منزلت کو گرانے کے درپے ہوں تو آپ نے فرمایا کہ مفاتح الغیب کو بتانے میں اللہ تعالیٰ نے رازداری سے کام لیا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ،پھر اپنے ہاتھ سے ان مفاتح الغیب کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ پانچ ہیں
حضرت مجاہد رحمہ اللہ(المتوفی 102 ھ) فرماتے ہیں :
’’وھی مفاتح الغیب التی قال اللہ تعالیٰ وعندہ مفاتح الغیب لایعلمھا الاھو الخ (ابن کثیر ج3 ص455)
”یہ پانچ چیزیں وہی مفاتح الغیب ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مفاتح الغیب کا علم صرف اللہ کو ہے اس کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا


















