Showing posts with label مختلف مضمون رد میں. Show all posts
Showing posts with label مختلف مضمون رد میں. Show all posts

Thursday, 27 September 2018

مولانا وحید الدین خان کے عقائد کیسے ہیں؟

Indiaسوال # 58697
مولانا وحید الدین خان کے عقائد کیسے ہیں؟ کیا وہ اہل سنت الجماعت سے خارج ہیں؟ میں نے ان کی ساری کتابیں پڑھ لی ہیں، میں الرسالہ کا قاری ہوں، وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اسوة حسنہ ہے ، نہ کہ اسوة کاملہ ، ان کی ایک کتاب قیامت کا الآرام جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ عیسی (علیہ السلام) اور امام مہدی ایک شخص ہیں، ایسی بہت سی باتیں ہیں جو کہ خلاف عقیدہ اہل سنت و الجماعت کے خلاف ہیں۔ کتاب کا حوالہ میں یہاں نہیں دے سکتا ۔ براہ کرم، اس پرروشنی ڈالیں۔
Published on: May 16, 2015 جواب # 58697
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 921-942/L=7/1436-U

وحید الدین خان کے بہت سے عقائد ونظریات جمہور اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں، مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر اگر کوئی شتم کرے تو مولانا کے نزدیک وہ قتل نہیں کیا جائے گا جب کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایسا شخص واجب القتل ہے، تقلید سے راہِ فرار اختیار کرنا، فقہائے کرام پر بے جا تنقید وتعریض کرنا، قرآن کریم کی من پسند تشریحات کرنا اور جہاد والی آیات واحادیث کی غلط تاویلیں کرنا ان کا مشغلہ ہے، پوری امت مسلمہ کا یہ حتمی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہراعتبار سے بلا کسی استثناء کے انسانیت کے لیے آخری نمونہ ہے جس سے صرف نظر قطعا روا نہیں ہے، نیز سیدنا حضرت عیسی علی نبینا علیہ الصلاة والسلام کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ تشریف لانے کے متعلق قرآن کریم اور احادیث شریف میں واضح نصوص موجود ہیں، اسی طرح دجال اور یاجوج ماجوج کے متعلق بھی ایسی بے غبار تفصیلات موجود ہیں جن میں شبہ کرنے یا جن کو محض تمثیل قرار دینے کی گنجائش نہیں ہے۔ وحید الدین خان کا سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع ونزول کا انکار، علامات قیامت کے بارے میں بے بنیاد شکوک وشبہات کا اظہار کرنا بلاشبہ زیغ وضلال اور کھلی ہوئی گمراہی ہے، اس لیے وحید الدین خان کی کتابوں کو پڑھنے اور ان کے لٹریچوں کو پھیلانے سے احتراز ضروری ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/False-Sects/58697

Tuesday, 28 August 2018

GAIR MUQALLIDEEN KE AKSAR AETRAZAT KE JAWABAT


غیر مقلدین کے اکثر اعتراضات کے جوابات

کسی مسئلہ پر کوئی INFORMATION چاہئے ہو تو
 یہاں سے لیجئے۔
سب سے پہلے یہ بلاگ لیجئے اس میں
1۔مسئلہ طلاق ثلاثہ غیرمقلدین کے تمام چھوٹے بڑے دلائل کے جوابات،
2۔غیرمقلدین کے قران حدیث کے خلاف مسائل ،
3۔قرأ‌ت خلف الامام ،
4۔فرقہ اہل حدیث کی تاریخی حقیقت ان کی کتب کی روشنی میں،
5۔مسئلہ تقلید مجتہد،
6۔ اور مرزئی قادیانی لعین کا مذہب و مسلک مجود ہے
http://ahlehadeesaurangrez.blogspot.com/
صفات باری تعالٰی پر جو جو آج مسائل ہیں اس کے متعلق آپ یہاں ملاحظہ کیجئے:
http://salafiexpose.blogspot.com/باقی
غیرمقلدین پر پوسٹ
لفظ "اہل_حدیث" قدیم اور جدید اصطلاح میں
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/11/blog-post_21.html
دور جدید کے وکٹورین اہل حدیث کی حقیقت ان کی کتب سے
http://raahedaleel.blogspot.com/…/…/victorian-ahlhadees.html
صحابہ کرامؓ کے بارے میں جدید فرقہ اہلحدیث اور ان کے علماء کا نقطۂ نظر
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/04/blog-post_23.html

اہلحدیث یا شیعہ
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/10/blog-post_6651.htmlوکٹورین اہل_حدیث کے عقائد و مسائل میں باہمی اختلافات:
raahedaleel.blogspot.com/2012/11/ikhtilafaatahlhadees.html
اہلُ الرّائے (علماۓ فقہ) اور اہل الحدیث (علماۓ حدیث) کا مقام و فرق
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/06/blog-post_2.html
غیر مقلدین کا امام بخاری سے اختلاف:
http://raahedaleel.blogspot.com/…/imam-bukhari-ra-se-gher-m…http://raahedaleel.blogspot.com/…/imam-bukhari-ra-se-gher-m…
اصول_محدثین : ضعیف حدیث "تلقی بالقبول" کے سبب صحیح کا حکم رکھتی ہے.
http://raahedaleel.blogspot.com/…/usoolmuhaddiseen-zaeef-ha…
علامہ وحید الزمان کا اہل حدیث ہونا اہل حدیث کی کتابوں سے
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/05/blog-post_6688.html
غیر مقلدین کی سیاہ ستہ
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/11/6.html
اہلِ حدیث کے مولانا محمد جونا گڑھی کی "فقہ ائمہ اربعہ" پر تفسیر ابن کثیر کے ترجمہ میں خیانت کا ثبوت
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/10/blog-post_16.html
اصولِ جرح و تعدیل
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/09/blog-post_26.html
دلیل اور اقسامِ دلیل
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/03/blog-post_1.html
ناسخ و منسوخ کا بیان
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/03/blog-post_5641.html
حدیث و سنّت میں فرق
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/07/blog-post_07.html
اسلام اور راۓ
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/05/blog-post_17.html
قرآن و سنّت کے بعد اجماع و اجتہاد (قیاس)، شریعت کے بنیادی مآخذ کیوں ؟؟؟
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/05/blog-post_08.html
جائز و ناجائز اتباع و تقلید
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/09/blog-post_2770.html
نماز میں زیرناف ہاتھ باندھنے کے مضبوط دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/…/nimaz-me-naaf-ke-niche-ha…
پہلی تکبیر (تحریمہ) کے سوا نماز میں (اندر) رفع یدین نہ کرنے کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/…/shuru-nimaz-ke-siwa-nimaz…
ہم نماز میں امام کے پیچھے قرأت (فاتحہ وغیرہ) کیوں نہیں کرتے ؟؟؟
http://raahedaleel.blogspot.com/…/hum-nimaz-me-imam-ke-pich…
آمین آھستہ کہنے کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/09/blog-post.html
رفع السبابة - شہادت کی انگلی کا اٹھانا
http://raahedaleel.blogspot.com/2015/04/blog-post.html
مشہور دعاۓ قنوت كا ثبوت
http://raahedaleel.blogspot.com/2015/04/blog-post_25.html
مرد اور عورت کی نماز میں فرق کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/06/blog-post_4493.html
نمازِ وتر- اہمیت، تعدادِ رکعت اور پڑھنے کا طریقہ
http://raahedaleel.blogspot.com/…/nimazwitr-ki-ahmiyat-tada…
بیس (٢٠) رکعت تراویح کے ثبوت
http://raahedaleel.blogspot.com/…/20-rakaat-taraweeh-ke-sub…
نمازِ عید کی زائد چھہ تکبیرات کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/10/blog-post_5164.html
دو ہاتھ سے مصافحہ کرنے کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2015/04/blog-post_16.html
مسئلہ ٣ طلاق کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/09/blog-post_10.html
مکہ مدینہ والوں سے غیرمقلدین نام نہاد اہل حدیث(نفسی) کے اختلافات
http://raahedaleel.blogspot.com/…/makka-madina-walon-se-ghe…
قرآن سے ایصالِ ثواب کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/03/blog-post_18.html
الله کہاں ہے؟ عرش پر، آسمان پر يا ...
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/allah-kahan-he.html
عقیدہ حیات النبیؐ کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/05/blog-post_48.html
جائز و ناجائز توسل بالذات
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/10/blog-post_15.html

Thursday, 16 August 2018

KYA EK FAMILY KI TARAF SE EK QURBANI KAFI HAI ۔۔۔۔۔۔????*

KYA EK FAMILY KI TARAF SE EK QURBANI KAFI HAI ۔۔۔۔۔۔????*🎬 *Very Important Special Speech* 🎬


*Topic* 👉🏻 *KYA EK FAMILY KI TARAF SE EK QURBANI KAFI HAI ۔۔۔۔۔۔????*

*GHAIRMUQALLIDEEN KI HADIS KA JAWAB ILMI WO TAHQEEQI*

👤By : Hazrat Maulana Abdul Lateef Safdar Sahab DB.
     

Must💻Watch Complete Video ♻Share to all ✅Sabscribe

👇👇👇👇👇👇

https://youtu.be/UYo9v_Rxz1w
https://youtu.be/UYo9v_Rxz1w
👆👆👆👆👆👆

📹بہت اہم بیان📹

🎥قربانی کے تعلق سے بیان🎥

*عنوان* :-👈🏻 *کیا ایک خاندان کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے۔۔۔۔؟؟؟؟*
*غیر مقلدین کی دلیل کا علمی و تحقیقی جواب*

 👤حضرت مولانا عبداللطیف صفدر صاحب دامت برکاتہم

ضرور دیکھیں،🖥 خوب شئیر کریں♻ اور✅ سبسکرائب کریں

ﺩﻭ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ … ﭼﺎﺭ ﺣﻤﻠﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ

ﺩﻭ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ … ﭼﺎﺭ ﺣﻤﻠﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ! ﻣﺘﮑﻠﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﺣﻔﻈﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﮦ ﺳﻨﺪﮪ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﻗﺎﺗﻼﻧﮧ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼ ﻉ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ،ﺟﺒﮑﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ‏( ۲ ‏) ﺩﻭ ﮔﻮ ﻟﯿﺎ ﮞ ﻟﮕﯿﮟ ‏( ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺷﻔﺎﯾﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﻨﺎﺭ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ‏) ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻨﻮ ﺍﻥ ﻣﺬﮐﻮﺭﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮩﯿﮞﺒﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ’’ ﺣﻤﻠﮧ ‘‘ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﺁﺋﯿﮯ ! ﺫﺭﺍ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﻓﺮﻗﮧ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ’’ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ‘‘ ﺷﻤﺎﺭﮦ ﻧﻤﺒﺮ۶۷ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﮧ ۵ ﭘﮧ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ :’’ ﮔﮭﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﻭﯾﺞِ ﺍﮐﺎﺫﯾﺐ : ﺩﻭ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ‘‘ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﺜﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﮬﺎ ﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ :
٭ﺑﯿﺮ ﺯﻃﻦ ﮨﻨﺪﯼ٭ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺎﮐﻢ٭ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮨﺒﯽ ٭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎ ﺱ ﮔﮭﻤﻦ
ﻟﯿﮑﻦ !’’ ﺟﺴﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮ ﻥ ﭼﮑﮭﮯ ‘‘ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺎ ﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻗﺎﺗﻼﻧﮧ ﺣﻤﻠﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻗﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﮬﺎ ﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺎ ۔ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﺵ ﮐﺮﺗﺎﭼﻠﻮﮞ ﮐﮧ ’’ ﺣﻤﻠﮯ ‘‘ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻣﺘﮑﻠﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮﻻﻧﺎﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﮐﯽ ﻣﺎﯾﮧ ﻧﺎﺯ ﻧﺼﻨﯿﻒ ’’ ﻓﺮ ﻗﮧ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﭘﺎ ﮎ ﻭﮨﻨﺪ ﮐﺎ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﺟﺎ ﺋﺰﮦ ‘‘ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺘﺎ ﺏ ﻧﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﻃﻞ ﮐﮯ ﺧﺮﻣﻦ ﭘﮧ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮔﺮﺍﺋﯽ ﮨﯿﮞﺎﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪﯾﺖ ﺳﮯ ﮈﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺴﺮﺍﺍﯾﮉﯾﺸﻦ ﭼﮭﭙﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ ۔ﮐﺘﺎﺏ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺩﺭ ﺝ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﮨﻨﺪ ﻭﺳﺘﺎ ﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺍ ﺟﮧ ﻧﮯ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﷺ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮞﺰﻧﺠﺒﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺑﮭﯿﺠﺎ …‘‘ ﺍﺱ ﻋﺒﺎ ﺭﺕ ﻣﯿﮟ ’’ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ‘‘ ﻣﯿﮞﺘﯿﻦ ﺣﮑﻢ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ : ‏( ۱ ‏)
‏( ۱ ‏) ﺍﻟﮑﺎﻣﻞ ﻻﺑﻦ ﻋﺪﯼ ﺝ۱ﺹ۱۷۸۸،ﻣﯿﺰﺍﻥ ﻟﺬﮨﺒﯽ ﺝ۳ﺹ۲۴۷ ‏)
ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﺟﺪﻋﺎﻥ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﮯ ۔ ‏( ۲ ‏)
‏( ۲ ‏( ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻟﻨﺒﻮۃ ﺝ۱ ﺹ ۳۲،۳۳ ﻣﯿﺰﺍﻥ ﻟﺬﮨﺒﯽ ﺝ۱ﺹ ۴۲۷،ﻣﺴﺘﺪﺭﮎ ﺣﺎﮐﻢ ﻣﻊ ﺍﻟﺘﻠﺨﯿﺺ ﺝ۱ﺹ۶۶۶ ﺍﻻﺳﻤﺎﺀ ﻭﺍﻟﺼﻔﺎﺕ ﺝ۲ ﺹ ۱۶۰ ،ﺍﻟﮑﻔﺎﯾﮧ ﺹ۱۳۴،ﺍﻟﺘﺮﻏﯿﺐ ﻭﺍﻟﺘﺮﮨﯿﺐ ﺹ۲۹۰ ﻓﺘﺢ ﺍﻟﻤﻐﯿﺚ ﺹ ۱۲۰ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﻋﻤﺮ ﻭ ﺑﻦ ﺣﮑﺎﻡ ،ﺟﻤﮩﻮﺭ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺿﻌﯿﻒ ﻭﻣﺠﺮﻭﺡ ﮨﮯ ۔
‏( ۳ ‏)
‏( ۳ ‏) ﻣﺴﺘﺪﺭﮎ ﻟﻠﺤﺎﮐﻢ ﺝ۲ﺹ۱۵۰ﺭﻗﻢ۱۹۰
ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﻨﮑﺮ ﮨﮯ۔
ﻧﻤﺒﺮ ﻭﺍﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ ﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ :
1 ۔ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﺟﺪﻋﺎﻥ ‏( ﺍﻟﻤﺘﻮﻓﯽ ۱۳۱ﮪ ‏) ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﺎ ﺭﺍﻭﯼ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ۔
2 ۔ﻋﻤﺮ ﻭﺑﻦ ﺣﮑﺎ ﻡ ﮐﮯ ﺑﺎ ﺭﮮ ﺍﺑﻦ ﻋﺪﯼؒ ﮐﯽ ﺗﺼﺮﯾﺢ ﻣﻮ ﺟﻮ ﺩﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ
ﯾﮩﺎﮞ ’’ ﻃﺎﻋﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﻮﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﻣﮩﺪﯼؒ ،ﺍﻣﺎﻡ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺍﻟﻘﻄﺎﻥؒ، ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞؒ،ﺍﻣﺎﻡ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﻨﺒﺮﯼؒ ،ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺎﮐﻢؒ ،ﺍﻣﺎﻡ ﺑﯿﮩﻘﯽ ؒﻭﻏﯿﺮﮦ
ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮﻗﻄﻌﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺗﻔﺴﯿﺮ ،ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻋﻤﺎﻝ ،ﺛﻮﺍﺏ ﻭﻋﻘﺎﺏ ﻣﺒﺎﺣﺎﺕ ،ﺩﻋﻮﺍﺕ ،ﻣﻐﺎﺯﯼ ﻭﺳﯿﺮ ﺍﻭﺭﺗﺮﻏﯿﺐ ﻭﺗﺮﮨﯿﺐ ،ﺗﺸﺪﯾﺪ ﻭﺗﺮﺧﯿﺺ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﺎﮨﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﯿﺮ ﻭﻣﻐﺎﺯﯼ
‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺗﺎ ﺭﯾﺦ ‏) ﻣﯿﮟ ﺗﺴﺎﮨﻞ ﮨﮯ ۔
3 ۔ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﻣﺎﻡِ ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎﮨﮯ۔
ﮨﺎ ﮞ ! ﺍﮔﺮ ﺍﻣﺎﻡِ ﺣﺎﮐﻢ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﮐﺬﺏ ﮐﯽ ﺗﺮﻭﯾﺞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺎﮐﻢ ؒﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ ’’ ﺣﺎﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﻭﯾﺞ ﺍﮐﺎﺫﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﮟ
ﺑﮩﺮ ﺣﺎﻝ ! ﺣﻀﺮ ﺕ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎ ﺱ ﭘﺮﯾﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡِ ﻣﺤﺾ ﮨﮯ ،ﺟﺲ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ’’ ﮔﻮ ﺯِ ﺷﺘﺮ ‘‘ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺩﻭﺟﮭﻮﭦ : ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ
ﻣﺘﮑﻠﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮ ﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎ ﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﺣﻔﻈﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺟﺲ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺣﺪﯾﺚِ ﺍﺑﯽ ﺳﻌﯿﺪ ﺍﻟﺨﺪﺭﯼ ؓ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺮ ﻓﻮ ﻉ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ ’’ ﺍﮬﺪﯼ ﻣﻠﮏ ﺍﻟﮭﻨﺪ … ﺍﻟﺤﺪﯾﺜﺠﺒﮑﮧ ’’ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ‘‘ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎ ﺑﻖ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮨﺒﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻨﮑﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ۔
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ! ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮨﺒﯽ ؒﮐﯽ ﻣﯿﺰﺍﻥ ﺍﻻ ﻋﺘﺪﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﺝ۳ﺹ۲۴۷ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ :’’ ﺍﮬﺪﯼ ﻣﻠﮏ ﺍﻟﺮﻭﻡ ﺍﻟﯽ ﺭﺳﻮﻝﷺ … ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﻗﻠﺖ ﮬﺬﺍ ﻣﻨﮑﺮ ﻣﻦ ﻭﺟﻮ ﮦ ‘‘ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﻭﻡ ﮐﮯ ﺑﺎ ﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﯽ ﻃﺮ ﻑ ﺑﮭﯿﺠﺎ … ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎ ﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮨﺒﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﺌﯽ ﻭﺟﻮ ﮦ ﺳﮯ ’’ ﻣﻨﮑﺮ ‘‘ ﮨﮯ۔
’’ ﮨﻨﺪ ‘‘ ﺍﻭﺭ ’’ ﺭﻭﻡ ‘‘ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺳﻠﻄﻨﯿﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎﮐﮯ ﻧﻘﺸﮯ
( world map ‏) ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﺎ ﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻓﺮ ﻣﺎﻟﯽ ﺟﺎ ﺗﯽ ﮐﮧ ’’ ﺭﻭﻡ ‘‘ ﺍﻟﮓ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ’’ ﮨﻨﺪ ‘‘ ﺍﻟﮓ۔ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮ ﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ۔ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﺍﻥ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﮐﻮ ’’ ﺭﻭﻡ ‘‘ ﺍﻭﺭ ’’ ﮨﻨﺪ ‘‘ ﮐﺎﻓﺮﻕ ﺑﺘﻼﺩﯾﮞﺘﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺧﻔﺖ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﭻ ﺳﮑﯿﮟ۔ﺍﺱ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎﮐﮧ ’’ ﮬﺬﺍ ﻣﻨﮑﺮ ‘‘ ﮐﯽ ﺟﺮ ﺡ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮨﺒﯽ ﻧﮯ ’’ ﺍﮬﺪﯼ ﻣﻠﮏ ﺍﻟﺮﻭﻡ ‘‘ ﭘﺮﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻣﺘﮑﻠﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﮦ ’’ ﺍﮬﺪﯼ ﻣﻠﮏ ﺍﻟﮩﻨﺪ ‘‘ ﭘﺮ ۔ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻧﮕﺎ ﺭﻧﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺑﯿﺮﺯﻃﻦ ﺍﻟﮭﻨﺪﯼ ؒ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﮔﮭﻤﻦ ﺯﯾﺪ ﺠﺪﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﺎ ﺭﯾﺨﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﺎ ﻋﺖ ﺻﺤﺎ ﺑﮧ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﻌﺾ ﮨﻨﺪﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺜﻼ ﺣﻀﺮ ﺕ ﺑﯿﺮﺯﻃﻦ ﺍﻟﮭﻨﺪﯼ … ﻗﺎ ﺭﺋﯿﻦ ! ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪﮐﺎ ﮔﮭﭩﯿﺎﺟﻤﻠﮧ ﻣﻼ ﺣﻈﮧ ﻓﺮ ﻣﺎﺋﯿﮟ،ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﭼﮭﭩﯽ ﺻﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺭﻃﻦ ﯾﺎ ﺭﺗﻦ ﮨﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺻﺤﺎ ﺑﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﻗﻄﻌﺎًﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ،ﺑﻠﮑﮧ ﺣﺎ ﻓﻆ ﺫﮨﺒﯽؒ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺭﺗﻦ ‘‘ ﺷﯿﺦ ﺩﺟﺎ ﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﮭﭩﯽ ﺻﺪﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻇﺎ ﮨﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎ ﺑﯽ ﮨﻮ ﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﯿﺎ۔
ﮨﻢ ﺩﻋﺎ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ،ﻭﮦ ﺩﻏﺎ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺭﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﻧﻘﻄﮯ ﻧﮯ ﻣﺤﺮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﺮ ﻡ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ
ﻗﺎﺭ ﺋﯿﻦ ! ﻣﺘﮑﻠﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎ ﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﺯﯾﺪ ﻓﻀﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﯿﺮ ﺯﻃﻦ ﺍﻟﮭﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ‏( ﺍﻻ ﺻﺎ ﺑﮧ ﻻ ﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﺝ۱ﺹ۱۹۷ ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺘﺮ ﺟﻤﮧ ۷۸۹ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ‏) ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻋﺎ ﺋﺪ ﮐﺮ ﺩﮦ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮ ﺟﻮﺩ ’’ ﺭﺗﻦ ﮨﻨﺪﯼ ‘‘ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ‏( ﺍﻻﺻﺎﺑﮧ ﻻ ﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺝ۱ﺹ۵۳۷ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﺴﺨﮧ ﻣﯿﮟ ﺝ۱ﺹ۶۰۸ﮐﮯ ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺘﺮ ﺟﻤﮧ ۲۷۶۱ ‏) ﻣﻮﺟﻮ ﺩ ﮨﮯ ۔ ’’ ﮐﺠﺎ ﻣﺸﺮ ﻕ ! ﮐﺠﺎ ﻣﻐﺮ ﺏ ‘‘ ﺟﻨﺎﺏ ﺭﺗﻦ ﮨﻨﺪﯼ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺩﺟﺎﻝ ﮐﺬﺍﺏ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ … ﻣﺘﮑﻠﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﺯﯾﺪ ﮐﺮﻣﮧ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ’’ ﺭﺗﻦ ﮨﻨﺪﯼ ‘‘ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﯿﺮ ﺯﻃﻦ ﺍﻟﮭﻨﺪﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮ ﮞ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺷﺨﺼﯿﺎ ﺕ ﮨﯿﮟ۔ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﺎ ’’ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺍﯾﻨﭧ، ﮐﮩﯿﮞﮑﺎ ﺭﻭﮌﺍ ﺑﮭﺎ ﻥ ﻣﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﻨﺒﮧ ﺟﻮ ﮌﺍ ‘‘
ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺮ ﺗﯿﻦ ﺷﮑﺎﺭ : ’’ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ‘‘ ﻧﮯ ﻣﺘﮑﻠﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﯿﺎ ﺱ ﮔﮭﻤﻦ ﭘﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎ ﯾﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﺮ ﺯﻃﻦ ﮨﻨﺪﯼ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺫﮨﺒﯽ ﮐﯽ ﻃﺮ ﻑ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﯽ ﮔﻮﯾﺎﺍﯾﮏ ﺗﯿﺮ، ﺗﯿﻦ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭼﻠﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮐﯿﺎ ﭘﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ’’ ﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺻﯿﺎ ﺩ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘‘ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺧﻮ ﺩ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺑﻦ ﺑﯿﭩﮭﯿﮟ ﮔﮯ ؟؟ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻠﯽ ﺯﺋﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻀﻤﻮ ﻥ ﻧﮕﺎ ﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﺮ ﯾﮟ ۔ﺟﻮ ﻏﯿﺮ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﮨﻮ ﮞ ﯾﺎ ﺟﮭﻮﭦ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﮨﻮ ﮞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻧﺌﯽ ﻣﺜﺎﻝ ’’ ﮔﮭﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﻭﯾﺞ ﺍﮐﺎ ﺫﯾﺐ : ﺩﻭ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ‘‘ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ … ﮨﺎ ﮞ ! ﺍﮔﺮ ﺟﻨﺎ ﺏ ﻋﻠﯽ ﺯﺋﯽ ﻧﮯ ﯾﮧ ’’ ﮐﺎ ﺭﻧﺎﻣﮧ ‘‘ ﺧﻮ ﺩ ﺍﻧﺠﺎ ﻡ ﺩﯾﺎﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺁﭖ ﺑﺘﻼﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ … ؟؟