Showing posts with label جاوید غامدی اور منکرین فقہ کا جواب. Show all posts
Showing posts with label جاوید غامدی اور منکرین فقہ کا جواب. Show all posts

Tuesday, 4 May 2021

FITNA E GHAMIDIYAT KE AQAID PAR EK NAZAR

 Alert Alert Alert ❗ 


*FITNA E GHAMIDIYAT KE AQAID PAR EK NAZAR…* 


MILLAT-E-ISLAMIYA KE KHILAF YAHOOD WA NASARA KI EK NAYI SAZISH.


Maujooda daur khatarnak fitno ka daur ka, ek fitna khatam nahi hota ki dusra paida ho jata hai. Is daur mein har musalman ko apne iman ki salamti ki hifazat ke liye koshsh aur dua karna chaiye, kyunki iman hai to sab kuch hai. Sahib E Iman deen wa Duniya ki har ne’amat se mala mal hoga jabki naqis iman wale ki ibadat fizool aur duniya wa akhirat bekar hai. is waqt Qadyani lanati fitna Alam E Islam ko naqabil talafi nuqsan pahuncha raha hai. aise mein yahood wa hanood ki mali sarparasti mein parwan chadhne wala ek naya FITNA GHAMDIYA bhi paida ho gaya chuka hai. is FITNE ka bani Javed Ghamidi hai jo Model Town, Lahor, Pakistan mein apna ek idara chala raha hai. Wo zaheen aur shatir hone ke sath sath talbees wa amezish aur ek he bat ki kayi tadleele karne ka khoob mahir hai. Fitna Ghamidiya, Islam ke khilaf ek bhayanak sazish hai jiska QALA QAMA har musalman ka farz hai.


Aaiye ek nazar Ghamidi Lanati ke AQAID par dalte hain.


1. Murtad ke liye aur Gustakh-e-Rasool (SAWW) ke liye qatal ki saza nahi hai. (Burhan Safa 140, Taba’a Chaharrum June 2006).


2. Hadhrat Isa A.S. wafat pa chuke hain, wo qurbe qayamat mein dobarah duniya mein nahi ayenge. (Meezan Hissa Awwal Safa 2,23,24 – Taba 1885)


3. Tasawwuf Zalalat wa Gumrahi hai. (Burhan safa 156).


4. Roz E Qayamat Huzoor Nabi-e-Kareem SAWW, ALLAH ke samne kisi ki bhi Shafat na kar sakenge. (Meezan Safa 146 to 149).


5. Huzoor Nabi-e-Kareem SAWW ki rohlat ke ba’ad kisi shakhs ko kafir qarar nahi diya ja sakta. (Mahanama Ashraq December 2000 Safa 54 – 55).

Iska matlab ye hau ki Qadyani kafir nahi hain. (Nauzubillah).


6. Sharabnoshi par koi sharayi saza nahi hai. (Burhan safa 138 taba’a chaharrum June 2006)


7. Sunnat sirf 27 Amal ka naam hai (Meezan safa 10 to 65 taba’a doyem April 2002).

In 27 amal ki fehrist (list) mein Darhi, Wazu, Tayammum, Talaq, Namaz Eidain, Namaz e Janaza, Namaz e Juma waghairah shamil nahi hai.


8. Hadees se koi Islami aqeeda ya Amal sabit nahi hota hai. (Meezan safa 64, taba’a Doyem April 2002).


9. Zina ki saza RAJM ghalat hai. (Meezan safa 299, 300 taba’a dom, April 2002).


10.  Sunnat se murad Rasoolullah SAWW ke aqwal, Af’aal ya Taqfeerat nahi balki isse murad Deen-e-Ibrahimi ki riwayat hain. (Meezan 14,46).


11.  Namaz ki halat mein Arabi duao ke alawah doosri zabano mein bhi dua aur tasbeeh ki ja sakti hai. (Meezan safa 293).


12.  Hajj aur Eidul Azha ke mauq’a par ki jane wali qurbani nafli ibadat hai, ye farz wa wajib nahi. (Meezan safa 204).


13.  Zakat ka nisab muqarrar nahi hai. (Qanoon Ibadat safa 119 taba’a April 2005).


14.  Ghair Muslim bhi musalmano ke waris ho sakte hain. (Meezan safa 171 taba’a dom, April 2002).


15.  Aurat ke liye dupatta ya Burqa waghairah sharayi hukm nahi. (Mahnama Ashraq, May 2002 safa 47).


16. Khane ki sirf 4 cheeze haram hai, khoon, murder, duwar ka gosht aur ghairullah ke nam ka zabeeha. (Meezan safa 311, taba’a dom, April 2002).


17. Mauseequi aur Gana Bajana jayez hai. (Mahnama Ashraq, March 2004 – safa 8,19).


To ye rahe ghamidi lanati sb. ke mukhtasaran aqaid, inhone sirf kuch cheezo ka he inkar nahi kiya balki hadees ka inkar bhi kiya hai, sunnat ka inkar bhi kiya, sahrayi ahkamat ka bhi inkar kar diya, ab ye janab Lanatullahi Alahi sirf Kafir he nahi balki Murtad aur Wajibul Qatal bhi hue. 


Shakal par dekhiye to lanat baras rahi hai aur sahib lanatullahi alaihi baithe hain Quran ki tafseer ke liye, aur afsos to aise jahilo par hain jo aisi gadhe, bewakoof aur ghaleez qism ke aqaid rakhne walo ko bhi follow kar rahe hain, unki bat man rahe hain, aur usse badh ka raise badbakhto ka difa kar rahe hain.


Is janwar se jitna ho sake bache, aur iske radd ke liye Maulana Ilyas Ghumman Sb. ka bayan sune.


Allah aise jahilo ko ya to hidayat de ya maut de.

Wednesday, 20 January 2021

ہم جنس پرستی اور غامدی صاحب کا عجیب سا موقف

 

ہم جنس پرستی اور غامدی صاحب کا عجیب سا موقف

ابوبکر قدوسی

جرمنی کے ایک نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ [dw ، اردو ] پر جاوید احمد غامدی صاحب کا برونائی میں سزاؤں کے حوالے سے انٹرویو نشر ہوا ہے –

انٹرویو سننے کے لائق ہے – غامدی صاحب بلاشبہ ” جرات ” کا مظاہرہ کرتے ہوے پہلی بار اس حد تک سامنے آئے ..اس "بہادری ” پر بہرحال وہ مبارک باد کے مستحق ہیں –

سوال برونائی میں ہم جنس پرستی کی سخت سزاء یعنی سنگساری بارے تھا کہ اسلام اس سزاء بارے کیا کہتا ہے –

اس کے جواب میں غامدی صاحب نے جو نرم نرم اسلوب اختیار کیا اس کا منطقی نتیجہ یہی نکل رہا تھا کہ یہ کوئی ایسا جرم نہیں تھا کہ سنگساری کی سزاء دی جاتی -ان کا کہنا تھا کہ سنگساری کی سزاء محض فقہا کی ذاتی رائے ہے قران و سنت میں ایسی کوئی سزاء بیان نہیں ہوئی …

رجم سے انکار ان صاحب کا ، اور ان کے استاد صاحب کا پرانا موقف ہے ، لیکن آج غامدی صاحب نے مزید اضافہ فرمایا کہتے ہیں :

"بدرکاری کی سزاء قران میں سو کوڑے ہے اور وہ بھی انتہائی سزاء ہے یعنی جب جرم اپنے ہری درجے میں ہو جائے اور مجرم کسی رعایت ا مستحق نہ ہو تو اسے وہ سزاء دی آتی ہے ، یہ سزاء [ سنگساری ] فقہ کی بعض کتابوں میں موجود ہے لیکن قران و سنت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے "

دوستو ! میں غامدی صاحب کو ہمیشہ احترام سے مخاطب کرتا ہوں کہ موصوف خاصے نستعلیق آدمی ہیں ، لیکن آج :

رکھیو غالب اس تلخ نوائی میں مجھے معاف

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

غامدی صاحب آپ سنت کو حدیث سے الگ کر کے جو طلسم ہوشربا بناتے ہیں ، کیا وہ حق اور سچ بیان کرنے سے بھی محروم کر دیتا ہے ؟ کیا حدیث میں ایسے دو تین واقعات موجود نہیں جن میں زنا کی سزاء خود نبی کریم نے نافذ کی ؟

گو آپ لوگوں کا اس کے اسباب بارے نکتہ نظر فرق ہے کہ وہ سزاء زنا کے سبب نہیں تھی بلکہ فتنے کے سبب تھی ..لیکن اس اختلاف سے قطع نظر یہ کہنا کہ یہ محض ایک فقہی معاملہ ہے ، دروغ گوئی نہیں ہے ؟

دوستو ! آگے چلیے پچھلے طلسم ہوش ربا کو آپ بھول جائیں گے ..جرمن چینل کے صحافی نے سوال کیا کہ ہم جنس پرستی کو قوم لوط کی طرف کیوں منسوب کیا جاتا ہے …اس پر ہمارے عہد کے "تخلیقی ” محقق ارشاد فرماتے ہیں کہ :

” قوم لوط میں یہ مرض حد سے گذر گیا تھا ، لیکن ان پر عذاب کیوں آیا اس لیے آیا کہ اللہ کا پیغمبر ان کی طرف بھیجا گیا ، اور اللہ کا پیغمبر براہ راست کسی قوم کو دعوت دیتا ہے اور وہ انکار کر دیتی ہے تو اس کو اللہ تعالی دنیا این سزاء دیتے ہیں اس کا خاص اس جرم سے تعلق نہیں ہے "

لیجئے پڑھیے اور سر دھنیے ..اتنا تو پرسکون ماحول تو سوال کرنے والے نے بھی نہ چاہا تھا جو ہمارے محترم اسے مشرف بن کے عنایت کیے جا رہے ہیں اس نے محض یہ پوچھا کہ م جنس پرستی کو قوم لوط کی طرف کیوں منسوب کیا جاتا ہے ..اور جناب نے یہ بھی بتا دیا کہ ان عذاب آنے کی وجہ یہ جرم نہ تھا – حالانکہ جب ان پر عذاب آیا تو اتمام حجت کے لیے اللہ نے فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں اس بستی لوط علیہ السلام کے مہمان بناء کے بھیجا اور مہمانوں کی آمد کی خبر سن کے ہوس کے مارے نبی محترم کے گھر آن لگے ، نبی لوط نے ان کی منتیں کیں کہ قوم کی بیٹیاں موجود ہیں ان ے نکاح کرو اور فائدہ اٹھاؤ لیکن وہ بدبخت برائی پر تلے بیٹھے تھے ، حلال ع کو عادت ہی نہ رہی تھی – ان کو معلوم نہ تھا کہ یہ خوبصورت نوجوان نہیں بلکہ ان پر اللہ کی حجت ہے تو تمام ہوئی …اور اسی سبب ان پر عذاب آ گیا ..اندازہ کیجئے کہ قران کیا کہہ رہا ے اور غامدی صاحب کس طرح ان پر عذاب کے اس بنیادی سبب کو محض ایک ہلکے درجے کا گناہ بنا کے پیش کر رہے ہیں ..مقصد صرف یہ ہے کہ اہل مغرب خوش ہو جائیں –

” دینے ” فروختند چہ ارزاں فروختند

اگلا سوال تو اس سے بھی بڑھ کے تھا اور جواب بھی ہمیں نہال ہی کر گیا کہ

ہم پہ گذری سو گذری مگر شب ہجراں

ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے

سوال تھا ،

"اچھا غامدی صاحب ایک اور بھی معاملہ پایا جاتا ہے کہ لوگ گناہ اور جرم کو ملا دیتے ہیں ، چونکہ جو گناہ ہے وہ تو یقیناّ خدا اور انسان کے باہمی ربط کا معاملہ ہے ،لیکن جو جرم ہے ، جو فرد معاشرے کے خلاف کرتا ہے اور اس کو سزا معاشرہ دیتا ہے ، آپ ان دونن ٹرمنالوجیز کو کیسے لیتے ہیں "

اچھا احباب ذرا سوال کی گہرائی پر غور کیجئے کہ جو سوچ سمجھ کے بنایا گیا تھا ..ظاہر ہے گفتگو ہم جنس پرستی کے حوالے سے ہو رہی تھی سو سوال بھی اسی پس منظر میں تھا …ار پوچھنے والے کا واضح مقصد تھا کہ بالجبر زنا تو جرم ہوتا ہے کیونکہ اس سے دوسرے فرد کے حق اور آزادی پر زد آتی ہے لیکن رضامندی سے کیا گیا زنا اگر گناہ بھی ہو تو کسی کو کیا حق کے اس کی سزا دے …یہی نکتہ برونائی کے قوانین کے خلاف بیان کیا جا رہا ہے – یہاں غامدی صاحب پھر شہنشاہ جہانگیر بن کے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سارا ہندستان دے آئے ..اور اینکر سے جھٹ اتفاق کرتے ہوے یہ بھول گئے کہ انٹرویو کے شروع میں ہی جناب بتا آئے تھے کہ زنا کی قرانی سزا سو کوڑے ہے …فرماتے ہیں :

” جی بالکل ٹھیک ہے یہ بات جرم کی سزا دینے کا حق معاشرے کو ہے اور جرم کی تعریف یہ ہے کہ کسی کی حق تلفی ہو رہی ہو اور کسی دوسرے کے جان مال یا عزت کے خلاف کوئی کام کیا جائے تو قران میں جو سزائیں بیان کی ہیں وہ سب اسی نوعیت کی ہیں اس میں گناہ پر کوئی سزا نہیں بیان کی گئی جب کوئی چیز جرم بن جاتی ہے ، مثلا چوری ہے اور قتل ہے اسی طرح کی چیزوں کی سزائیں بیان کی گئی ہیں تو جرم کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ دوسرے کی حق تلفی کا باعث بنے یا اس کی جان مال ، عزت ابرو کے خلاف کسی اقدام کی صورت اختیار کر لے اس وقت وہ جرم بنتا ہے اس وقت ریاست کو سزا دینے کا حق حاصل ہوتا ہے گناہوں پر سزا دینا اللہ کا کام ہے "

احباب ذرا غور سے پڑھیے جناب کا جواب ..کس طرح ہم جنس پرستی کو ” ریلیف ” دیا جا رہا ہے – سوال کرنے والے نے اسی ریلیف کو حاصل کرنے کو جم اور گناہ کو الگ الگ کرنا چاہا جو ہمارے صاحب نے جھٹ کر دیا – اب سوال یہ ہے کہ جناب نے جرم کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے اگر دو ہم جنس پرست افراد باہم رضامندی سے یا کوئی کنواری لڑکی لڑکا بھی باہم رضامندی سے زنا کرتے ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ، کسی کے حق پر کی ڈاکا …اگر وہ جنسی عمل اس عہد سے کرتے ہیں کہ باہم شادی بھی کر لیں گے تو کسی اور کی حق تلفی کا کوئی امکان بھی ختم ہو گیا – لیکن اس تعریف کے مطابق چونکہ یہ محض گناہ ہے سو ریاست سزا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتی ..لیکن غامدی صاحب واقعی بھول گئے کہ ابھی پچھلے منٹ میں وہ زنا کی کسی انتہائی صورت میں سو کوڑوں کی سزا کا ذکر کر چکے تھے …..تو حضور وہ زنا کس صورت میں جرم بنتا ہے اور قابل سزا ہوتا ہے ؟

"عام عام ” سا اور ” سادہ سادہ ” سا زنا تو ہوا گناہ کہ جس کی کوئی سزا دینے کی ریاست مختار ہی نہیں 

جاوید غامدی کے عقائد”

 

جاوید غامدی کے عقائد”

1…. عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔

[میزان، علامات قیامت، ص:178،طبع 2014]

2…. قیامت کے قریب کوئی مہدی نہیں آئے گا۔

[میزان، علامات قیامت، ص:177،طبع مئی2014]

3….(مرزا غلام احمد قادیانی) غلام احمد پرویز سمیت کوئی بھی کافر نہیں، کسی بھی امتی کو کسی کی تکفیر کا حق نہیں ہے۔ [اشراق،اکتوبر2008،ص:67]

4…. حدیث سے دین میں کسی عمل یا عقیدے کا اضافہ بالکل نہیں ہوسکتا۔[میزان، ص:15]

5….سنتوں کی کل تعداد صرف 27 ہے۔[میزان،ص:14]

6….ڈاڑھی سنت اور دین کا حصہ نہیں ۔

[مقامات، ص:138،طبع نومبر2008]

7….اجماع دین میں بدعت کا اضافہ ہے۔

[اشراق، اکتوبر2011،ص:2]

8….مرتد کی شرعی سزا نبی کریم ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھی۔ [اشراق، اگست2008،ص:95]

9…. رجم اور شراب نوشی کی شرعی سزا حد نہیں۔[برہان،ص:35 تا 146،طبع فروری 2009]

10…. اسلام میں ”فساد فی الارض“ اور ”قتل نفس“کے علاوہ کسی بھی جرم کی سزا قتل نہیں ہوسکتی.

۔[برہان، ص:146،طبع فروری 2009]

11….قرآن پاک کی صرف ایک قرآت ہے، باقی قراءتیں عجم کا فتنہ ہیں۔[میزان،ص:32،طبع اپریل2002..

بحوالہ تحفہ غامدی از مفتی عبدالواحد مدظلہم]

12…. فقہاءکی آراءکو اپنے علم وعقل کی روشنی میں پرکھاجائےگا۔

[سوال وجواب، ہٹس 727، 19جون 2009]

13….ہرآدمی کو اجتہادکاحق ہے۔ اجتہاد کی اہلیت کی کوئی شرائط متعین نہیں، جو سمجھے کہ اسے تفقہ فی الدین حاصل ہے وہ اجتہاد کرسکتا ہے۔

[سوال وجواب،ہٹس 612،تاریخ اشاعت:10 مارچ 2009]

14….نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بعد غلبہ دین کی خاطر (اقدامی)جہاد ہمیشہ کے لیے ختم ہے۔ [اشراق، اپریل2011، ص:2]

15….تصوف عالم گیر ضلالت اور اسلام سے متوازن ایک الگ دین ہے۔ [برہان، ص:181، طبع 2009]

16…. حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ باغی اور یزید بہت متحمل مزاج اور عادل بادشاہ تھا۔ واقعۂ کربلا سوفیصد افسانہ ہے۔

[بحوالہ غامدیت کیا ہے؟ از مولاناعبدالرحیم چاریاری]

17….مسلم وغیر مسلم اور مردوعورت کی گواہی میں فرق نہیں ہے۔ [برہان، ص:25 تا 34،طبع فروی 2009]

18…. زکوٰة کے نصاب میں ریاست کو تبدیلی کا حق حاصل ہے۔ [اشراق، جون 2008، ص:70]

19…. یہود ونصاریٰ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں، اِس کے بغیربھی اُن کی بخشش ہوجائے گی۔[ایضًا]

20….موسیقی فی نفسہ جائزہے۔

[اشراق، فروری2008،ص:69]

21….بت پرستی کے لیے بنائی جانے والی تصویر کے علاوہ ہر قسم کی تصویریں جائز ہیں۔

[اشراق،مارچ، 2009، ص:69]

22…. بیمہ جائز ہے۔ [اشراق، جون 2010، ص:2]

23….یتیم پوتا دادے کی وراثت کا حقدار ہے۔ مرنے والی کی وصیت ایک ثلث تک محدودنہیں۔ وارثوں کے حق میں بھی وصیت درست ہے[اشراق،مارچ2008، ص:63….مقامات:140،طبع نومبر2008]

24…. سور کی نجاست صرف گوشت تک محدود ہے۔ اس کے بال، ہڈیوں، کھال وغیرہ سے دیگر فوائد اٹھانا جائز ہے [اشراق،اکتوبر1998،ص:89….بحوالہ : غامدیت کیا ہے؟]

25….سنت صرف دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ اور یہ قرآن سے مقدم ہے۔ اگر کہیں قرآن کا ٹکراؤ یہود ونصاریٰ کے فکر وعمل سے ہوگا تو قرآن کے بجائے یہودونصاریٰ کے متواتر عمل کو ترجیح ہوگی ۔[میزان،ص:14،طبع2014]

26….عورت مردوں کی امامت کر اسکتی ہے۔[ماہنامہ اشراق، ص 35 تا 46،مئی2005]

27….دوپٹہ ہمارے ہاں مسلمانوں کی تہذیبی روایت ہے اس کے بارہ میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے دوپٹے کو اس لحاظ سے پیش کرنا کہ یہ شرعی حکم ہے ا س کا کوئی جواز نہیں۔

[ماہنامہ اشراق، ص 47،شمارہ مئی2002]

28….مسجد اقصی پر مسلمانوں کا نہیں اس پر صرف یہودیوں کا حق ہے۔

[ اشراق جولائی، 2003اور مئی، جون2004]

29….بغیر نیت، الفاظِ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ [اشراق،جون2008،ص:65]

نقل کردہ. ……… معین نوری

غامدی صاحب کی من گھڑت تقسیم

 

غامدی صاحب کی من گھڑت تقسیم

پورے قرآن اور مکمل ذخیرہ حدیث میں یہ کہیں بھی نہیں آیا کہ "کافرصرف وہ ہے جو حق کے واضح ہونے کے بعداس کا انکار کرے اور جو انجانے میں انکار کرے وہ کافر نہیں صرف غیرمسلم ہے”۔ اس کے برعکس پورے اسلامی ڈسکورس میں یہ ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قبول کیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص "کافر” کہلاے گا جو چاہے جان بوجھ کر حق کا انکار یا چاہے انجانے میں۔

چودہ سو سال بعد آج غامدی صاحب پیدا ہوے اور واحد انہیں محسوس ہوا کہ امت کا اجماعی شعور تو غلط ہے ،صحیح فہم دین صرف ان کا ہے۔ فرماتے ہیں کہ کافر اور غیرمسلم میں فرق ہے۔ ان کے ہاں "کافر” وہ ہے جو جان بوجھ کر کفر کرے اور "غیرمسلم” وہ ہے جو انجانے میں کفر کرے۔ ان سے پوچھئیے کہ آپ نے جو یہ تقسیم کی یہ آپ کی اپنی تراشی ہوئی ہے یا اس پر کوئی نقلی دلیل بھی موجود ہے؟

اگر غامدی صاحب کی من گھڑت تقسیم کو مان لیا جاے تو پھر دنیا میں کوئی "کافر” بچتا ہی نہیں۔ جب کوئی کافر نہ بچا تو پھر گویا وہ تمام احکام شرعی بھی معطل ہو کر رہ گئے جن کا تعلق کفار سے ہے۔ یوں قرآنی احکام صرف دور نبوی تک نافذ العمل قرار پاتے ہیں۔ غرض اس طرح اپنی اس تقسیم سے غامدی صاحب دین کو اجتماعی سے انفرادی زندگی تک محدود کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غامدی صاحب کے مذہب میں دین کی اجتماعی انسانی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں۔

جاوید احمد غامدی کے باطل عقائد ونظریات

 

Fitna of Javed Ahmed Ghamidi

جاوید احمد غامدی کے باطل عقائد ونظریات

ہمارے زمانے میں فتنۂ انکار حدیث کی آبیاری کرنے والوں میں ایک بڑا  نام جاوید احمد غامدی صاحب کا بھی ہے 

اس شخصیت کی تلاش میں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں اس پر دینی اقدار  کے خلاف اپنی سوچ کو بطور حجت پیش کرتے ہوئے جو شخص دکھائی دے وہی حکومت کا فیضی یعنی (علامہ) جاوید غامدی ہے۔جن کا سنت کی تعریف سے لے کر قرآن حکیم تک اُمت سے اختلاف ہے اور موصوف کا دعوٰی ہے کہ چودہ سوبرس میں دین کی کو ان کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔جاوید احمد غامدی صاحب دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک عظیم فتنہ ہیں۔ خصوصی طور پر ہمارا نوجوان ، دنیاوی تعلیم یافتہ ، اردو دان طبقہ کافی حد تک اس فتنہ کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔

فی زمانہ غامدی فکر ایک مکمل مذہب کی شکل اختیار کرچکی ہے 

یہ دور حاضر کاایک تجدد پسند گروہ (Miderbusts) ہے۔ جس نے مغرب سے مرعوب و متاثر ہوکر دین اسلام کا جدید ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے الفاظ کے معانی اور دینی اصطلاحات کے مفاہیم بدلنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ بھیڑ کے روپ میں ایک بھیڑیا ہے

 

برصغیر پاک و ہند میں اس فتنے کی ابتدا سرسید احمد خان نے کی۔ پھر ان کی پیروی میں دو فکری سلسلوں نے اس فتنے کو پروان چڑھایا۔ ان میں سے ایک سلسلہ عبداﷲ چکڑالوی اور شیخ اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا جناب غلام احمد پرویز تک پہنچتا ہے۔

‎ جو لوگ بے عملى كا شكار ہوتے ہيں وہ دين اور دينى احكام كا ذكر آنے پر کسی آسانی کی تلاش میں رہتے ہيں اور كسى ايسى پناہ كى تلاش ميں ہوتے ہيں جو اس احساس سے ان كى جان چھڑا دے۔۔ ايسے ميں يہ نام نہاد سكالرز ان  كے كام آتے ہيں اور

خود بدلتے نہيں قرآں كو بدل ديتے ہيں 

دین اور اہل ِ دین سے دوری کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ نفس اور شیطان انسان پر حاوی ہوکر اسے خواہش پرست اور آزادی پسند بنادیتے ہیں۔ ایسا انسان جس چیز کو اپنی غرض، خواہش اور مشن کے لئے سد ِ راہ اور رکاوٹ خیال کرتا ہے، غلط تاویلات اور فاسد خیالات کے ذریعہ اس کا انکار کردیتا ہے۔
جن لوگوں نے اپنے عزائم اور فاسد نظریات کی ترویج میں احادیث کو رکاوٹ گردانا ، انہوں نے حجیت حدیث کا انکارکیا

 

 قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے کہ 

وما اٰتٰکم الرسول فاخذوہ ومانہٰکم عنہ فانتھوا (اعشر آیت 59، ع 7)

ترجمہ: رسول جو کچھ تمہیں دیں، اس کو لے لو، اور جس چیز سے روکیں اس سے باز رہو۔

غامدی صاحب نہ صرف منکر ِحدیث ہیں بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کے علمبردار ہیں ۔  یہ صاحب  اپنی چرب زبانی کے ذریعے اس فتنے کو ہوا دے رہے ہیں ۔ اُن کو الیکٹرانک میڈیاکی توجہ و سرپرستی حاصل ہے۔

غامدی صاحب کے منکر ِحدیث ہونے کے کئی وجوہات ہیں ۔ وہ اپنے من گھڑت اُصولِ حدیث رکھتے ہیں ۔ حدیث و سنت کی اصطلاحات کی معنوی تحریف کرتے ہیں اورہزاروں اَحادیث ِصحیحہ کی حجیت کا انکار کرتے ہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ نسل اور عوام کی ایک بڑی تعداد پہلے ہاتھ ہی یہ کہہ دیتی ہے کہ احادیث میں تو تضاد ہے۔یہی وہ پہلا خفیہ پینترا ہے جس کے ذریعے پھر بڑی چابک دستی کے ساتھ انکار حدیث کی راہ ہموار ہوجاتی ہے

اگر ہم نے پیغبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی حفاظت نہ کی تو معاذ اللہ ایک ایسا دور آجائے گا کہ جس میں لوگ حدیث کو یہ کہہ کر چھوڑ دیں گے کہ بھئی یہ تو ظنی علم ہے نہ معلوم درست ہے یا غلط اس لئے ہمارے لئے صرف اللہ کی کتاب ہی کافی ہے۔حفاظتِ حدیث کے متعلق میری رائے ذرا مختلف ہے کہ اسکی مطلق حفاظت تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے مگر زمانے کے ساتھ ساتھ اس مبارک مجموعہ کی حفاظت ہماری اہم ذمہ داریوں میں سے ہے اور جس طرح کہ ماضی میں اسکی کئی ایک مثالیں موجود ہیں اگر امام بخاری امام مسلم اور دیگر ائمہ کرام اسکی حفاظت کی ذمہ داری اپنے سر نہ لیتے اور ایک ایک حدیث کو تلاش کرنے کیلئے اپنا تن من اور دھن قربان نہ کرتے تو آج آپ مبادا ان بیش بہا کتب سے محروم رہتیں۔۔۔

غامدی صاحب کے نظریات باطلہ و عقائد فاسدہ

(1) قرآن کی صرف ایک ہی قرأت درست ہے، باقی سب قرأتیں عجم کا فتنہ ہیں (میزان ص 32,26,25، طبع دوم اپریل 2002)

(2) سنت قرآن سے مقدم ہے (میزان ص 52، طبع دوم اپریل 2002)

غامدی صاحب کے ہاں یہ کھلا تضاد موجود ہے کہ وہ کبھی قرآن کو سنت پر مقدم مانتے ہیں، اور کبھی سنت کو قرآن سے مقدم قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک جگہ قرآن کو ہر چیز پر مقدم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہر شخص پابندہے کہ اس (قرآن) پر کسی چیز کو مقدم نہ ٹھرائے‘‘ (میزان ص 23، طبع دوم اپریل 2002)

پھر اسی کتاب (میزان) میں آگے لکھتے ہیں کہ ’’سنت قرآن سے مقدم قرآن کے بعد نہیں‘‘ (ص 52)

یہاں غامدی صاحب نے دونوں مقامات پر حرف ’’پر‘‘ اور حرف ’’سے‘‘ کا مغالطہ دیا ہے، مگر یہ مغالطہ اس وقت صرف مغالطہ نہیں رہتا بلکہ ایک کھلا تضاد بن کر سامنے آتا ہے جب اسے اردو زبان کے درج ذیل جملوں کی روشنی میں دیکھا جائے۔

 (1) اﷲ تعالیٰ پر کسی چیز کو مقدم نہیں ٹھہرانا چاہئے۔

(2) نبیﷺ اﷲ تعالیٰ سے مقدم ہے

کیا جو شخص اردو زبان جانتاہو، مذکورہ بالا جملوں میں کھلا تضاد نہ پائے گا؟

(3) سنت صرف افعال کا نام ہے، اس کی ابتدا حضرت محمدﷺ سے نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے (میزان ص 10،65، طبع دوم)

(4) سنت صرف 27 اعمال کا نام ہے (میزان ص 10، طبع دوم)

سنتیں جب گھٹ گئیں تو دین کامل ہوگیا

غامدی کو گوہر مقصود حاصل ہوگیا

(5) ثبوت کے اعتبار سے سنت اور قرآن میں کوئی فرق نہیں۔ ان دونوں کا ثبوت اجماع اور عملی تواتر سے ہوتا ہے (میزان ص10طبع دوم)

(6) حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا (میزان ص 64 طبع دوم)

(7) دین کے مصادر و ماخذ قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیم اور قدیم صحائف ہیں (میزان ص 48 طبع دوم)

اسلام میں قرآن، سنت، اجماع اور قیاس ماخذ شریعت ہیں

(8) دین میں معروف و منکر کا تعین فطرت انسانی کرتی ہے (میزان ص 49)

(9) نبیﷺ کی رحلت کے بعد کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا (ماہنامہ اشراق، دسمبر 2000، ص 55,54)

جھوٹے نبوت کے داعی ان کے عقائد و زعم باطلہ میں غیر مسلم نہیں

(10) زکوٰۃ کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں ہے (قانون عبادات، ص 119)

(11) اسلام میں موت کی سزا صرف دوجہ ائم (قتل نض، اور فساد فی الارض) پردی جاسکتی ہے (برہان، ص 143، طبع چہارم، جون2006)

غامدی صاحب کے نزدیک مرتد اور شاتم رسول کی سزا موت نہیں ہے

(12) دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا (برہان ص 19,18، طبع چہارم)

(13) قتل خطاء میں دیت کی مقدار منصوص نہیں ہے، یہ ہر زمانے میں تبدیل کی جاسکتی ہے (برہان ص 19,18، طبع چہارم)

(14) عورت اور مرد کی دیت (Blood Momey) برابر ہوگی (برہان ص 18، طبع چہارم)

(15) مرتد کے لئے قتل کی سزا نہیں ہے (برہان، ص 40، طبع چہارم)

(16) شادی شدہ اور کنواری ماں زانی دونوں کے لئے ایک ہی سزا  100 کوڑے ہیں (میزان ص 299، 300 طبع دوم)

(17) شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں ہے (برہان ص 138، طبع چہارم)

(18) غیر مسلم بھی مسلمانوں کے وارث ہوسکتے ہیں (میزان ص 171، طبع دوم اپریل 2002)

(19) سور کی کھال اور چربی وغیرہ کی تجارت اور ان کا استعمال شریعت میں ممنوع نہیں ہے (ماہنامہ اشراق، اکتوبر 1998ء ص 79)

(20) اگر میت کی اولاد میں صرف بیٹیاں وارث ہوں تو ان کو والدین یا بیوی (یا شوہر) کے حصوں سے بچے ہوئے ترکے کا دو تہائی حصہ ملے گا، ان کو کل ترکے کا دو تہائی 2/3 نہیں ملے گا (میزان، حصہ اول ص 70، مئی 1985) (میزان ص 168، طبع دوم اپریل 2002)

(21) عورت کے لئے دوپٹہ یا اوڑھنی پہننا شرعی حکم نہیں (ماہنامہ اشراق، مئی 2002ص 47)

(22) کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں، خون، مردار، سور کا گوشت، غیر اﷲ، کے نام کا ذبیحہ (میزان ص 311 طبع دوم)

(23) بعض انبیاء کرام قتل ہوئے ہیں مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا (میزان حصہ اول، ص 21، طبع 1985)

(24) حضرت عیسٰی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں (میزان حصہ اول، 24,23,22 طبع 1985)

(25) یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی  اقوام ہیں (ماہنامہ اشراق، جنوری 1996ء ص 61)

(یاد رہے کہ یاجوج ماجوج اور دجال قرب قیامت کی نشانیاں ہیں اور یہ دونوں الگ الگ ہیں) جبکہ دجال احادیث کی رو سے یہودی شخص ہے جو بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی پیشانی پر (ک،ف،ر) لکھا ہوگا جوکہ ہر مومن شخص پڑھ کر اس کو پہچان لے گا

(26) جانداروں کی تصویریں بنانا بالکل جائز ہے (ادارہ الحورد کی کتاب ’’تصویر کا مسئلہ‘‘ ص 30)

(27) موسیقی اور گانا بجانا بھی جائز ہے (ماہنامہ اشراق، مارچ 2004 ص 19,8)

(28) عورت مردوں کی امامت کراسکتی ہے (ماہنامہ اشراق، مئی 2005، ص 35تا 46)

(29) اسلام میں جہاد و قتال کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے (میزان، ص 264، طبع دوم، اپریل 2002)

دوم اپریل 2002(30) کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور مفتوح کافروں سے جزیہ لینا جائز نہیں (میزان ص 270، طبع

 

آخر میں ہم خداوند قدوس کی بارگاہ میں دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں تادم مرگ ایمان کامل کے ساتھ رکھے،ہدایت کو ہمارا مقدر بنائے، سرکشوں، بدمذہبوں کی صحبتوں اور ان کے وار، مکرو  فریب سے ہمیشہ بچائے رکھے۔ اگر ہدایت ان کا مقدر ہے تو جلد انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرمادے ورنہ انہیں ان کے انجام بد تک پہنچائے۔


Tuesday, 17 March 2020

جاوید غامدی اور منکرین فقہ کا جواب

داڑھی رکھنا یہ دین کاکوئی حکم نہیں ہے لہٰذا اگرکوئی شخص داڑھی نہیں رکھتا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے  کہ وہ کسی فرض اور واجب کاتارک ہے یا اس نے کسی حرام یا ممنوع فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ نظریہ ہے جاوید احمد غامدی صاحب کا۔ کچھ دن سے فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پر جاوید احمد غامدی صاحب کا ایک ویڈیو کلپ  گردش میں ہےجس میں موصوف نے  داڑھی کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جو کسی طور بھی شریعت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی طرح بعض لوگ داڑھی کی لمبائی کے بارے میں بے اعتدالی کا شکار ہیں۔   متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن مدظلہ نے اپنے مضمون میں غامدی صاحب اور دیگر متجددین اور منکرین فقہ کی بے اعتدالیوں  پر علمی گرفت کی ہے۔
مضمون کی MS Word اور PDF فائل اٹیچ ہے۔ احناف میڈیا کی طرف سے  اسے شائع ، پرنٹ  اور تقسیم کرنے کی عام اجازت ہے۔ اس ای میل کو فارورڈ کرکے نیکی کے کام میں معاون بنیں۔ جزاکم اللہ خیر