ہم جنس پرستی اور غامدی صاحب کا عجیب سا موقف
ہم جنس پرستی اور غامدی صاحب کا عجیب سا موقف
ابوبکر قدوسی
جرمنی کے ایک نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ [dw ، اردو ] پر جاوید احمد غامدی صاحب کا برونائی میں سزاؤں کے حوالے سے انٹرویو نشر ہوا ہے –
انٹرویو سننے کے لائق ہے – غامدی صاحب بلاشبہ ” جرات ” کا مظاہرہ کرتے ہوے پہلی بار اس حد تک سامنے آئے ..اس "بہادری ” پر بہرحال وہ مبارک باد کے مستحق ہیں –
سوال برونائی میں ہم جنس پرستی کی سخت سزاء یعنی سنگساری بارے تھا کہ اسلام اس سزاء بارے کیا کہتا ہے –
اس کے جواب میں غامدی صاحب نے جو نرم نرم اسلوب اختیار کیا اس کا منطقی نتیجہ یہی نکل رہا تھا کہ یہ کوئی ایسا جرم نہیں تھا کہ سنگساری کی سزاء دی جاتی -ان کا کہنا تھا کہ سنگساری کی سزاء محض فقہا کی ذاتی رائے ہے قران و سنت میں ایسی کوئی سزاء بیان نہیں ہوئی …
رجم سے انکار ان صاحب کا ، اور ان کے استاد صاحب کا پرانا موقف ہے ، لیکن آج غامدی صاحب نے مزید اضافہ فرمایا کہتے ہیں :
"بدرکاری کی سزاء قران میں سو کوڑے ہے اور وہ بھی انتہائی سزاء ہے یعنی جب جرم اپنے ہری درجے میں ہو جائے اور مجرم کسی رعایت ا مستحق نہ ہو تو اسے وہ سزاء دی آتی ہے ، یہ سزاء [ سنگساری ] فقہ کی بعض کتابوں میں موجود ہے لیکن قران و سنت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے "
دوستو ! میں غامدی صاحب کو ہمیشہ احترام سے مخاطب کرتا ہوں کہ موصوف خاصے نستعلیق آدمی ہیں ، لیکن آج :
رکھیو غالب اس تلخ نوائی میں مجھے معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے
غامدی صاحب آپ سنت کو حدیث سے الگ کر کے جو طلسم ہوشربا بناتے ہیں ، کیا وہ حق اور سچ بیان کرنے سے بھی محروم کر دیتا ہے ؟ کیا حدیث میں ایسے دو تین واقعات موجود نہیں جن میں زنا کی سزاء خود نبی کریم نے نافذ کی ؟
گو آپ لوگوں کا اس کے اسباب بارے نکتہ نظر فرق ہے کہ وہ سزاء زنا کے سبب نہیں تھی بلکہ فتنے کے سبب تھی ..لیکن اس اختلاف سے قطع نظر یہ کہنا کہ یہ محض ایک فقہی معاملہ ہے ، دروغ گوئی نہیں ہے ؟
دوستو ! آگے چلیے پچھلے طلسم ہوش ربا کو آپ بھول جائیں گے ..جرمن چینل کے صحافی نے سوال کیا کہ ہم جنس پرستی کو قوم لوط کی طرف کیوں منسوب کیا جاتا ہے …اس پر ہمارے عہد کے "تخلیقی ” محقق ارشاد فرماتے ہیں کہ :
” قوم لوط میں یہ مرض حد سے گذر گیا تھا ، لیکن ان پر عذاب کیوں آیا اس لیے آیا کہ اللہ کا پیغمبر ان کی طرف بھیجا گیا ، اور اللہ کا پیغمبر براہ راست کسی قوم کو دعوت دیتا ہے اور وہ انکار کر دیتی ہے تو اس کو اللہ تعالی دنیا این سزاء دیتے ہیں اس کا خاص اس جرم سے تعلق نہیں ہے "
لیجئے پڑھیے اور سر دھنیے ..اتنا تو پرسکون ماحول تو سوال کرنے والے نے بھی نہ چاہا تھا جو ہمارے محترم اسے مشرف بن کے عنایت کیے جا رہے ہیں اس نے محض یہ پوچھا کہ م جنس پرستی کو قوم لوط کی طرف کیوں منسوب کیا جاتا ہے ..اور جناب نے یہ بھی بتا دیا کہ ان عذاب آنے کی وجہ یہ جرم نہ تھا – حالانکہ جب ان پر عذاب آیا تو اتمام حجت کے لیے اللہ نے فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں اس بستی لوط علیہ السلام کے مہمان بناء کے بھیجا اور مہمانوں کی آمد کی خبر سن کے ہوس کے مارے نبی محترم کے گھر آن لگے ، نبی لوط نے ان کی منتیں کیں کہ قوم کی بیٹیاں موجود ہیں ان ے نکاح کرو اور فائدہ اٹھاؤ لیکن وہ بدبخت برائی پر تلے بیٹھے تھے ، حلال ع کو عادت ہی نہ رہی تھی – ان کو معلوم نہ تھا کہ یہ خوبصورت نوجوان نہیں بلکہ ان پر اللہ کی حجت ہے تو تمام ہوئی …اور اسی سبب ان پر عذاب آ گیا ..اندازہ کیجئے کہ قران کیا کہہ رہا ے اور غامدی صاحب کس طرح ان پر عذاب کے اس بنیادی سبب کو محض ایک ہلکے درجے کا گناہ بنا کے پیش کر رہے ہیں ..مقصد صرف یہ ہے کہ اہل مغرب خوش ہو جائیں –
” دینے ” فروختند چہ ارزاں فروختند
اگلا سوال تو اس سے بھی بڑھ کے تھا اور جواب بھی ہمیں نہال ہی کر گیا کہ
ہم پہ گذری سو گذری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے
سوال تھا ،
"اچھا غامدی صاحب ایک اور بھی معاملہ پایا جاتا ہے کہ لوگ گناہ اور جرم کو ملا دیتے ہیں ، چونکہ جو گناہ ہے وہ تو یقیناّ خدا اور انسان کے باہمی ربط کا معاملہ ہے ،لیکن جو جرم ہے ، جو فرد معاشرے کے خلاف کرتا ہے اور اس کو سزا معاشرہ دیتا ہے ، آپ ان دونن ٹرمنالوجیز کو کیسے لیتے ہیں "
اچھا احباب ذرا سوال کی گہرائی پر غور کیجئے کہ جو سوچ سمجھ کے بنایا گیا تھا ..ظاہر ہے گفتگو ہم جنس پرستی کے حوالے سے ہو رہی تھی سو سوال بھی اسی پس منظر میں تھا …ار پوچھنے والے کا واضح مقصد تھا کہ بالجبر زنا تو جرم ہوتا ہے کیونکہ اس سے دوسرے فرد کے حق اور آزادی پر زد آتی ہے لیکن رضامندی سے کیا گیا زنا اگر گناہ بھی ہو تو کسی کو کیا حق کے اس کی سزا دے …یہی نکتہ برونائی کے قوانین کے خلاف بیان کیا جا رہا ہے – یہاں غامدی صاحب پھر شہنشاہ جہانگیر بن کے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سارا ہندستان دے آئے ..اور اینکر سے جھٹ اتفاق کرتے ہوے یہ بھول گئے کہ انٹرویو کے شروع میں ہی جناب بتا آئے تھے کہ زنا کی قرانی سزا سو کوڑے ہے …فرماتے ہیں :
” جی بالکل ٹھیک ہے یہ بات جرم کی سزا دینے کا حق معاشرے کو ہے اور جرم کی تعریف یہ ہے کہ کسی کی حق تلفی ہو رہی ہو اور کسی دوسرے کے جان مال یا عزت کے خلاف کوئی کام کیا جائے تو قران میں جو سزائیں بیان کی ہیں وہ سب اسی نوعیت کی ہیں اس میں گناہ پر کوئی سزا نہیں بیان کی گئی جب کوئی چیز جرم بن جاتی ہے ، مثلا چوری ہے اور قتل ہے اسی طرح کی چیزوں کی سزائیں بیان کی گئی ہیں تو جرم کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ دوسرے کی حق تلفی کا باعث بنے یا اس کی جان مال ، عزت ابرو کے خلاف کسی اقدام کی صورت اختیار کر لے اس وقت وہ جرم بنتا ہے اس وقت ریاست کو سزا دینے کا حق حاصل ہوتا ہے گناہوں پر سزا دینا اللہ کا کام ہے "
احباب ذرا غور سے پڑھیے جناب کا جواب ..کس طرح ہم جنس پرستی کو ” ریلیف ” دیا جا رہا ہے – سوال کرنے والے نے اسی ریلیف کو حاصل کرنے کو جم اور گناہ کو الگ الگ کرنا چاہا جو ہمارے صاحب نے جھٹ کر دیا – اب سوال یہ ہے کہ جناب نے جرم کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے اگر دو ہم جنس پرست افراد باہم رضامندی سے یا کوئی کنواری لڑکی لڑکا بھی باہم رضامندی سے زنا کرتے ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ، کسی کے حق پر کی ڈاکا …اگر وہ جنسی عمل اس عہد سے کرتے ہیں کہ باہم شادی بھی کر لیں گے تو کسی اور کی حق تلفی کا کوئی امکان بھی ختم ہو گیا – لیکن اس تعریف کے مطابق چونکہ یہ محض گناہ ہے سو ریاست سزا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتی ..لیکن غامدی صاحب واقعی بھول گئے کہ ابھی پچھلے منٹ میں وہ زنا کی کسی انتہائی صورت میں سو کوڑوں کی سزا کا ذکر کر چکے تھے …..تو حضور وہ زنا کس صورت میں جرم بنتا ہے اور قابل سزا ہوتا ہے ؟
"عام عام ” سا اور ” سادہ سادہ ” سا زنا تو ہوا گناہ کہ جس کی کوئی سزا دینے کی ریاست مختار ہی نہیں
No comments:
Post a Comment