ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪﮐﺴﯽ ﻓﺮﻗﮯ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﺰﻟﯿﻞ ﯾﺎﺍ ِﻧﮩﯿﮟ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﻡ ؒ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔
Tuesday, 19 September 2023
Sunday, 6 November 2022
*دفاع ابی حنیفہؒ ، ثقاہت ابی حنیفہؒ ، مناقب ابی حنیفہ رحمہ اللہ
دفاع ابی حنیفہؒ ، ثقاہت ابی حنیفہؒ ، مناقب ابی حنیفہ رحمہ اللہ پورے دو سو سکین پیجز
لنک پر کلک کرے اور ڈوونلوڈ کرے
https://drive.google.com/file/d/1eq48wCR6aN7tBfgWcZT0KzuZNZO3NEta/view?usp=drivesdk
Wednesday, 15 December 2021
Tuesday, 9 November 2021
Friday, 4 June 2021
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور تحقیق
عن ابی ایوب الانصاری رضی الله عنه، ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان، ثم اتبعه ستا من شوال كان كصیام الدهر
(رواه مسلم ، كتاب الصیام ، رقم الحدیث 1164)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی مانند ہے۔‘‘
فوائد الحسنة بعشر امثالها (ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہے) کے مطابق ایک مہینے (رمضان) کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں، اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھ لئے جائیں جنھیں شش عید روزے کہا جاتا ہے تو یہ دو مہینے کے برابر ہوگئے یوں گویا پورے سال کے روزوں کا مستحق ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے پورے سال کے روزے رکھے اور جس کا یہ مستقل معمول ہوجائے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری وہ اللہ کے ہاں ہمیشہ روزہ رکھنے والا شمار ہوگا۔
اس اعتبار سے یہ شش عید روزے بڑی اہمیت رکھتے ہیں گو ان کی حیثیت نفلی روزوں ہی کی ہے۔ یہ روزے متواتر رکھ لیے جائیں یا ناغہ کرکے، دونوں طرح جائز ہیں، تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے رمضان کے فرضی روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں، ان کیلئے ضروری ہے کہ پہلے وہ فرضی روزوں کی قضا دیں اور اس کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے رکھیں۔
شوال کے چھ روزوں کی بابت: علامہ قاسم بن قطلوبغا کی تحقیق (۲)
مالکیہ کے صحیح مذہب کی تفصیل: چونکہ ان روزوں کی نفی کے بارے میں سب سے زیادہ پیش کی جانی والی دلیل امام مالک کا قول ہے‘ اس لئے مالکیہ کی معتبر کتابوں سے اس بارے میں وہ تصریحات بھی پیش کی جاتی ہیں جن سے ان کا مذہب‘ جمہور کے مذہب کے قریب نظر آتا ہے اور امام مالک کے قول کی صحیح تشریح بھی ہوجاتی ہے۔
1:- سب سے پہلے شرح زرقانی کی عبارت ذکر کرتے ہیں جس میں ”موطأ“ والی ان کی روایت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
”یحییٰ کہتے ہیں کہ: میں نے عید الفطر کے بعد چھ روزوں کے بارے میں امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے اہل علم وفقہ (اور اہل اجتہاد) میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی سلف میں سے (جن حضرات کو میں نے نہیں پایا‘ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبار تابعین رحمہم اللہ) کسی سے کوئی روایت پہنچی، چنانچہ اہل علم اس کو پسند نہیں کرتے تھے، اور ان کو اس کے بدعت بن جانے اور بے علم لوگوں کا رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو ملانے کا اندیشہ تھا۔“
مطرف فرماتے ہیں کہ: امام مالک نے اس مذکورہ وجہ کی بنیاد پر ان روزوں کو مکروہ سمجھا تھا، ورنہ جو شخص صرف فضیلت کے حصول کی نیت سے یہ روزے رکھے تو اس کے لئے کراہت نہیں‘ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے‘ پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور روزے رکھے تو یہ پورا سال روزے رکھنے کی طرح ہے“۔
قاضی عیاض فرماتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے اور چھ روزوں سے ایک سال کا حساب پورا ہوجاتاہے‘ جیساکہ نسائی نے روایت کیا ہے۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ امام مالک نے اس وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیا کہ کہیں جاہل لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں، البتہ شریعت (کے بیان کردہ فضیلت) کی بناء پر یہ روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔
نیز کہا گیا ہے کہ امام مالک کو (متعلقہ) حدیث نہیں پہنچ سکی یا (پہنچی تو صحیح مگر) ان کے نزدیک (استدلال کے درجہ میں) ثابت نہ ہوسکی یا اہل مدینہ کا عمل اس کے برعکس تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے عید کے دن کے ساتھ ملا کر رکھنے کو مکروہ سمجھا ہو‘ چنانچہ اگر مہینہ کے درمیان میں رکھے تو پھر کوئی کراہت نہیں اور ان کے قول ”ستة ایام بعد الفطر من رمضان“ کا ظاہری معنی بھی یہی بنتا ہےاور ابو عمر (ابن عبد البر) فرماتے ہیں کہ: امام مالک بچ بچ کر چلنے والے دین کے معاملہ میں نہایت احتیاط برتنے والے آدمی تھے‘ اور روزہ ویسے تو ایک نیک عمل ہے مگر (یہاں) اس کا رکھنا بھی اچھا نہیں سمجھا (کیونکہ) بے علم لوگوں کی کوتاہی کا اندیشہ تھا‘ جیساکہ خود بیان کیا ہے۔
امام مالک کے نزدیک (متعلقہ) حدیث ثابت نہ ہوسکنے (حالانکہ صحیح مسلم میں موجود ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں سعد بن سعید راوی ہیں جس کو امام احمد نے ضعیف کہا ہے،
اور نسائی نے کہا کہ: لیس بالقوی
اور ابن سعد نے کہا: ثقة قلیل الحدیث
اور ابن عیینہ وغیرہ نے کہا: کہ یہ حدیث ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ پر موقوف ہے‘ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ یہ ان کی اپنی رائے ہو‘ کیونکہ ایک نیکی تو ویسے بھی دس کے بدلے میں ہے تو اس حدیث کی دو علتیں ہوئیں : ایک اس کے راوی میں اختلاف ہونا ‘ دوسری موقوف کہا جانا (انتہی) (۱۴)
2:- ابن رشد نے ”بدایة المجتہد“ میں لکھا ہے:
”بہرحال شوال کے چھ روزے کے بارے میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے پورے سال روزے رکھے“۔
مگر امام مالک نے اس کو مکروہ کہا ہے‘ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ان کو اس بات کا خوف تھا کہ کہیں عام لوگ رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو جوڑ نہ دیں اور یا اس وجہ سے کہ ان کو متعلقہ حدیث نہیں پہنچ سکی، یا یہ حدیث ہی ان کے نزدیک استدلال کے درجہ کو نہیں پہنچ پاتی اور یہی (توجیہ) زیادہ واضح ہے۔“ (۱۵)
3:- علامہ ابن شاش المتوفی: ۶۱۶ھ نے ”عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة“ میں لکھا ہے:
”صحیح روایت میں شوال کے چھ روزوں کا ذکر آیا ہے، مگر امام مالک کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ کہیں جاہل لوگ فرائض کے ساتھ غیر فرض کو شامل نہ کر بیٹھیں، تحدید کی کراہت میں ان کے اصل کے مطابق، چنانچہ ان دنوں کے علاوہ ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھا ہے، کیونکہ اس سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے یعنی ان چھ دنوں اور رمضان کے روزوں کے ثواب کا کئی گنا ہوجانا یہاں تک کہ ایک سال کی تعداد کو پہنچ جائیں، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور چھ روزے دو مہینوں کے برابر، تو یہ ایک سال کے روزے ہوگئے“۔
ان روزوں کے لئے شوال کو مقرر کرنے کی بنیاد مکلف کے لئے آسانی پیدا کرنے پر ہے، کیونکہ اس کو روزہ رکھنے کی عادت ہوگئی ہے ‘ مذکورہ وقت کے ساتھ اس کے حکم کو خاص کرنا مقصود نہیں، لامحالہ اگر کوئی عشرہ ذی الحجہ کے دوران رکھے گا، جبکہ اس میں روزہ رکھنے کی بھی فضیلت آئی ہے، تو بہت ہی بہتر ہوگا، کیونکہ مقصود یہاں بھی حاصل ہوتا ہے، ساتھ میں اس عشرہ کی فضیلت بھی حاصل ہوگی اور امام مالک کو جس چیز کا اندیشہ تھا‘ اس سے بھی حفاظت رہے گی۔“ (۱۶)
4:- امام قرافی المتوفی: ۶۸۴ھ نے ”الذخیرة“ میں لکھا ہے:”صحیح مسلم میں ہے ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ اور رکھے تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے‘ امام مالک شوال کے علاوہ کسی اور مہینے میں ان روزوں کے رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں‘ اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں جاہل لوگ ان کو رمضان کے ساتھ ہی شامل نہ کردیں اور جہاں تک شوال کی بات ہے تو شریعت نے صرف مکلف کی آسانی کی خاطر اس کی تعیین کی ہے‘ کیونکہ یہ مہینہ رمضان کے قریب ہے‘ ورنہ مقصد تو دوسرے مہینہ میں بھی حاصل ہوجاتا ہے ‘ لہذا دونوں مصلحتوں کی خاطر تاخیر مشروع ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”فکانما صام الدہر“ کا معنی یہ ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے‘ تو ایک مہینہ دس مہینوں کے اور چھ روزے ساٹھ دن کے برابر ہوگئے تو یہ ایک سال کا حساب ہوگیا اور جب سالہا سال اس طرح کرے گا تو گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔
سوال: تشبیہ میں مساوات یا مقاربہ شرط ہوتا ہے اور یہاں تو کوئی نہیں ‘ اس وجہ سے کہ یہ روزہ صوم الدہر کا عشر ہے اور کسی چیز کے عشر اور کل میں کوئی مقاربہ نہیں ہوتا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ: مذکورہ تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ گویا صوم الدہر رکھ لیا‘ اگر کسی دوسری امت میں سے ہوتا۔ کیونکہ ہمارا ایک مہینہ ہم سے پہلی امتوں کے دس مہینوں کے برابر ہے اور ہمارے چھ روز ان کے دو مہینوں کے برابر ہیں، لہذا ہر اعتبار سے مساوات پائی گئی۔
تنبیہ: یہ ثواب مختلف الاجر ہے، اس طرح کہ اس میں سے پانچ سدس تو مرتبہ کے اعتبار سے بڑے درجہ میں ہے، کیونکہ وہ واجب کے باب میں سے ہے اور ایک سدس نفل کا ثواب ہے۔
فائدہ: روایت میں ”بست“ کے الفاظ ہیں تذکیر کے ساتھ اصل کی رعایت کی خاطر ”بستة“ نہیں فرمایا‘ جبکہ عدد میں مذکر کے لئے تانیث ضروری ہے‘ کیونکہ عرب لوگ لیلی کو سبقت کی وجہ سے ایام پر غلبہ دیتے ہیں‘ جیساکہ آپ کہتے ہیں: ”لعشر مضین من الشہر“۔ (۱۷)
دور اخیر کے محقق عبد العزیز بن صدیق العماری نے بھی ”شرح العثماویة“ میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس مسئلے میں متکلم فیہ روایت کا سہارا لینے والوں کی خوب خبر لی ہے‘ کیونکہ اس باب کی روایات تواتر کی حدود کو چھورہی ہیں۔ موصوف کا ان روایات پر تفصیلی کام کرنے کا بھی ارادہ تھا (۱۸) اگر وہ یہ کر چکے ہوں تو پھر بزعم خویش محققین کے لئے گنجائش نہیں چھوڑی ہوگی۔ اس باب کے دیگر موضوعات کو مستقل رسالہ لکھنے تک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ
حوالہ جات اور مآخذ:
۱۴- شرح الزرقانی ۲/۱۹۰ ۱۵- بدایة المجتہد لابن رشد الحفید ۱/۳۰۸ ۱۶- عقد الجواہر الثمینة فی مذہب عالم المدینة لابن شاش المالکی ۱/۳۶۹ طبع دار العرب الاسلامی بیروت ۱۷- الذخیرة للقرافی المتوفی: ۶۸۴ھ ۲/۵۳۰ طبع: دار الغرب الاسلامی بیروت ۱۸- اتحاف ذوی الہمم العالیة بشرح العثماویة ص:۱۵۵-۱۵۷ ابو الیسر عبد العزیز بن صدیق الغماری طبع دار البشائر الاسلامیة ۱۴۲۲ھ
.......
شوال کے چھ روزوں
کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراض کا جواب
باطل نے ہر دور میں عوام کو اہلِ حق سے دور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے؛تقریروتحریر کے ذریعے اہلِ حق کی عبارات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کی۔
ان دنوں موبائل کے ذریعہ ایک میسج عام کیا جارہا ہےکہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔
اس کی ایک مثال یوں دی کہ حدیث مبارکہ میں ہے:
جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو سال بھر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔دوسری طرف فتاویٰ عالمگیریہ کے ایک مسئلہ سے تقابل کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے۔
الحواب..........
یہ بات بالکل غلط ہے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب یہاں تک کہ اسی فتاویٰ عالمگیریہ میں بھی شوال کے 6 روزوں کو مستحب کہا گیا۔باقی جہاں ان کو مکروہ کہا گیا ہے وہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم خاص صورتوں کے متعلق ہے۔
جیسے اگر کوئی شخص ایک روزہ عید کے دن رکھے اور پانچ بعد میں تو یہ مکروہ ہے۔
اسی طرح جو شخص ان روزوں کو رمضان کی طرح فرض سمجھے تو یہ فرض سمجھ کر رکھنا مکروہ ہے۔
اگر کوئی شخص عیدالفطر کے دن کو چھوڑ کر رمضان کی طرح فرض سمجھے بغیر شوال کے 6 روزے رکھے تو یہ مستحب ہے۔
احناف کے نزدیک راجح یہی قول ہے۔
چند تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
1: وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ۔۔۔۔ وَتُسْتَحَبُّ السِّتَّةُ مُتَفَرِّقَةً كُلَّ أُسْبُوعٍ يَوْمَانِ۔۔۔۔۔۔۔ وَيُكْرَهُ صَوْمُ الْوِصَالِ وهو أَنْ يَصُومَ السَّنَةَ كُلَّهَا وَلَا يُفْطِرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيِّ عنها وإذا أَفْطَرَ في الْأَيَّامِ الْمَنْهِيَّةِ الْمُخْتَارُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ
(فتاوی عالمگیری ج1ص221کتاب الصوم باب فیمایکرہ للصائم ومالا یکرہ)
حاصل عبارت: شوال کے چھ روزوں کے بارے میں دو قول ہیں۔
1:مکروہ،
2:مستحب
اگر کوئی شخص عید کے دن بھی روزہ رکھے تو یہ مکروہ ہے اور اگر عید کا دن چھوڑ کر بعد میں رکھے تو مستحب ہے۔
2: وندب تفريق صوم الست من شوال ولا يكره التتابع على المختار خلافا للثاني۔۔۔ والاتباع المكروه أن يصوم الفطر وخمسة بعده فلو أفطر لم يكره بل يستحب ويسن
(رد المحتار ج 3 ص 485 ،486 کتاب الصوم: مطلب فی صوم الست من شوال)
اس عبارت کا حاصل بھی وہی ہے کہ شوال کے روزے مستحب ہیں لیکن اگر کوئی عید کے دن سے شروع کرے تو مکروہ ہے۔
3: یہی بات بدائع الصنائع میں بھی مذکورہ ہے۔ [ ج2ص215کتاب الصوم الصیام فی الایام المکروہۃ]
Saturday, 15 May 2021
اعتراض: سات اعضاء پرسجدہ کرنے کا مسئلہ⭕
فقہ حنفی میں سجدے کا طریقہ اور غیر مقلدین کا دھوکہ و فریب
غیر مقلدین نےاحناف کے سجدہ کے طریقہ پہ اعتراض کیا کہ احناف کے نزدیک سجدہ ناک یا پیشانی کسی ایک کے بھی رکھنے میں سے بھی ہو جائے گا لیکن یہ حوالہ بھی دیتے ہوئے غیر مقلدین نے اپنی عادت کے مطابق خیانت کی اور ادھورا حوالہ نقل کیا۔
(یہ قول امام ابوحنیفہؒ کا ہے اور صاحبین کے نزدیک بنا عذرصرف ناک پہ سجدہ کرنا جائز نہیں) اور اس قول سے اگے لکھا ہے کہ'' امام ابو حنیفہؒ کا ایک قول صاحبین ؒ کے قول کے موافق ہے یعنی کہ صرف ناک پہ سجدہ جائز نہیں ''جس کو غیر مقلد نقل نہیں کرتے۔
سب سے پہلی بات کہ احناف کے نزدیک ناک اور پیشانی دونوں پہ سجدہ کرنا چاہیے اور امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک کسی ایک کے رکھنے سے سجدہ ہو جائے گا اس کی دلیل بھی احادیث سے ہےکہ کچھ احادیث میں صرف چہرہ رکھنے سےسجدہ ہو جائے گا چاہے پیشانی رکھے یا ناک ۔
اور امام ابو حنیفہؒ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ صرف ناک پہ سجدہ کرنا جائز نہیں ہے اور احناف کا مفتی بہ قول صاحبینؒ کا ہی ہے اور اسی پہ احناف کا عمل ہے لیکن غیرمقلدین نے اپنی عادت کے مطابق آدھا حوالہ نقل کیا اور امام ابو حنیفہؒ کا صاحبینؒ کے مواقف قول نقل ہی نہیں کیا۔
غلام خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ، محسن اقبال
⭕اعتراض: سات اعضاء پرسجدہ کرنے کا مسئلہ⭕
رجسٹرڈ غیرمقلدین سلفی لکھتے ہیں:
اسلام میں سجدے کا طریقہ
أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ عَلَی الْجَبْہَۃِ وَأَشَارَ بِیَدِہِ عَلَی أَنْفِہِ وَالْیَدَیْنِ وَالرُّکْبَتَیْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَیْنِ وَلَا نَکْفِتَ الثِّیَابَ وَالشَّعْرَ
بخاری رقم: 812
مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں پیشانی پر اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا دونوں ہاتھوں پر دونوں گھٹنوں پر اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر اور یہ کہ کپڑے اور بال نہ سمیٹوں۔
فقہ حنفی میں سجدے کا طریقہ
سوچیے یہ حکم دینے والا رب کے علاوہ بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ اﷲ تعالیٰ کے اس حکم پر احناف کس طرح عمل کرتے ہیں ملاحظہ فرمایئے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ولو ترک وضع الیدین والرکبتین جازت صلاتہ بالاجماع کذا فی السراج الوہاج
1/70
اگر سجدے میں ہاتھوں اور گھٹنوں کو زمین پر رکھنا چھوڑ دے تب بھی نماز جائز ہو گی اس پر اجماع ہے۔ سوچیے کیا اس طریقے سے سجدہ کرنا ممکن بھی ہے؟
کیا فقہ حنفیہ قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے؟ ص39، 40
🔘◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️
*
❤ اعتراض کا جواب❤
ہمارا حنفی مذہب اس حدیث کے مطابق ہے جو طالب الرحمن نے تعارض ثابت کرنے کے لیے نقل کی ہے۔ عالمگیری کا مسئلہ مجبور شخص کے لیے ہے۔
حنفی مذہب میں سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ مولانا مفتی جمیل احمد نذیری حنفی لکھتے ہیں:
عبداﷲ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں، پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنوں اور دو قدموں کے کناروں اور نہ سمیٹیں ہم کپڑوں اور بالوں کو۔
بخاری ص112، مسلم ج1 ص193
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز ص193
نوٹ ہم نے صرف حدیث کا ترجمہ نقل کیا ہے عربی عبارت چھوڑ دی ہے۔
2۔ مولانا الشیخ محمد الیاس فیصل حنفی لکھتے ہیں:
سجدہ سات اعضاء کو زمین پر لگا دینے کا نام ہے، اگر کوئی عضو بھی زمین سے بلند رہے گا تو اسی درجہ میں سجدہ ناقص شمار ہو گا۔ اعضاء سجدہ کا ذکر حدیث میں ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں، پیشانی اور آپ نے ناک کی طرف بھی اشارہ کیا۔ دونوں ہاتھوں پر اور دونوں گھٹنوں پر، دونوں پاؤں کی انگلیوں پر اور (ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ) ہم نماز میں کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔ (بخاری باب السجود علی الانف) ہم نے صرف ترجمہ نقل کیا ہے عربی نہیں لکھی۔
نماز پیمبر ص150، سنی پبلی کیشنر لاہور
3۔ مولانا مفتی محمد ارشاد قاسمی حنفی مدظلہ لکھتے ہیں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں کے ساتھ سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پیشانی کے ساتھ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی جانب اشارہ کیا (یعنی پیشانی اور ناک کو ایک عضو فرمایا) اور دونوں ہاتھوں سے اور گھٹنوں سے اور دونوں پیروں کی انگلیوں کے سروں سے اور یہ کہ کپڑے اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔
سجدہ میں 7 اعضاء کا استعمال ضروری ہے۔ پیشانی اور ناک کا شمار ایک ہی عضو میں ہے۔ ابن ماجہ نے طاؤس کا قول نقل کیا ہے کہ آپ دونوں کو ایک شمار کرتے تھے۔
ابن ماجہ ص63
سنت کے مطابق نماز پڑھیے ص67، 68
4۔ حضرت مولانا فیض احمد حنفی لکھتے ہیں:
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میں اس بات کا مامور ہوں کہ سات اعضاء پر سجدہ کروں۔ پیشانی،اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے اطراف یعنی سجدہ اس طرح کیا جائے کہ یہ سات عضو زمین پر رکھے ہوں۔
بخاری ج1، ص112، مسلم ج1 ص193، مشکوٰۃ ص83 عربی نقل نہیں کی۔
نماز مدلل ص114
5۔ مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان اختر سواتی لکھتے ہیں:
سجدہ کرتے وقت سات اعضاء کو زمین پر ٹکائے۔ دونوں گھٹنے، دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور پیشانی بمع ناک۔
ہدایہ ج1 ص70 شرح نقایہ ج1 ص78، کبیری ص321
حضرت عبداﷲ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے میں سات اعضاء (سات ہڈیوں) پر سجدہ کروں پیشانی بمع ناک، دو ہاتھ، دو گھٹنے، دو پاؤں اور یہ بھی حکم ہے کہ ہم نماز میں کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹا کریں۔
بخاری ج1 ص112، مسلم ج1 ص193
نماز مسنون کلاں ص361، ناشر مکتبہ دروس القرآن فاروق گنج گوجرانوالہ
6۔ مولانا ارشاد احمد فاروقی مدظلہ حنفی لکھتے ہیں:
ابن عباس کی روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں مامور ہوں کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور اشارہ فرمایا اپنی انگلیوں سے پیشانی ناک دونوں ہاتھوں دونوں پیروں دونوں قدم کی طرف۔
مسلم ص193 ج1، اعلاء السنن ص19 ج2
احکام و آداب طہارت وضو اور نماز ص111
قارئین کرام! ہم نے چھ کتابوں کے حوالہ جات نقل کر دئیے ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حنفی مذہب حدیث کے مطابق ہے۔ طالب الرحمن ویسے ہی اس کو مخالف حدیث بتا رہا ہے۔
عالمگیری کے مسئلہ کی وضاحت
اب ضرورت تو نہیں تھی کیونکہ حنفی مذہب تو آپ کو معلوم ہو گیا۔ لازمی بات ہے کہ یہ مسئلہ کسی مجبور کے لیے ہو گا۔ مگر ہم پہلے سجدہ کے متعلق عالمگیری سے حکم لکھتے ہیں پھر وضاحت کرتے ہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے:چوتھا باب نماز کی صفت میں۔ اس باب میں پانچ فصلیں ہیں پہلی فصل نماز کے فرضوں میں۔ پھر الگ الگ ہر فرض کا حکم لکھا ہے۔ سجدے کو فرضوں میں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اور من جملہ ان کے سجدہ ہے دوسرا سجدہ بھی مثل پہلے سجدہ کے باجماع امت فرض ہے۔ یہ زاہدی میں لکھا ہے۔
فتاویٰ عالمگیری اردو ج1 ص109
پھر سجدہ کرنے کا سنت طریقہ لکھتے ہیں:
اور سجدہ کا مکمل سنت طریقہ یہ ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں سجدہ میں لگاوے۔
پھر کچھ آگے چل کر یہ مسئلہ لکھا ہے:
حجۃ میں ہے کہ اگر سجدہ کی جگہ پر بہت سے کانٹے یا شیشے کے ٹکڑے ہوں اور وہاں سے سر اٹھا کر دوسری جگہ رکھ لے تو جائز ہے اور یہ دوسرا سجدہ نہ ہو گا بلکہ کل ایک ہی سجدہ ہو گا۔ یہ تاتار خانیہ میں لکھا ہے۔
پھر وہ مسئلہ لکھا ہے جو طالب الرحمن نے نقل کیا ہے۔ طالب الرحمن نے ترجمہ بالکل غلط کیا ہے جس سے مسئلہ کی صورت ہی بدل جاتی ہے۔ عالمگیری میں بحث چلی آ رہی ہے کانٹوں اور شیشے کی یعنی اگر سجدہ کرنے کی جگہ پر کانٹے ہوں یا شیشے کے ٹکڑے وہاں پڑے ہوں تو نمازی کیا کرے؟ ایسے نمازی کے لیے جو مجبور ہے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ وہ اگر ہاتھوں اور گھٹنوں کو نہ رکھے تو بالاجماع نماز جائز ہو گی یہ سراج الوہاج میں لکھا ہے۔ یعنی کھڑے کھڑے اشارے سے سجدہ کر لے۔
فتاویٰ عالمگیری جلد اول اردو ص109، 110
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
مزید اسلامی بیانات۔باطل فرقوں کے جوابات اور دلائل والے تفصیلی پوسٹ اور مسائل کیلئے فیس بک پیج کو لائک کیجئے
Thursday, 8 April 2021
Saturday, 3 April 2021
غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب کہ امام ابوحنیفہ رحمہ الله نے کوئ کتاب نہیں لکهی ، اور فقہ حنفی کے مسائل لوگوں نے بعد میں ان کی طرف منسوب کرلیئے هیں
*🔴غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب کہ امام ابوحنیفہ رحمہ الله نے کوئ کتاب نہیں لکهی ، اور فقہ حنفی کے مسائل لوگوں نے بعد میں ان کی طرف منسوب کرلیئے هیں؟*
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
💎 *جواب* 🔹اهل علم کے نزدیک یہ وسوسہ بهی باطل وفاسد هے ، اور تارعنکبوت سے زیاده کمزور هے ، اور یہ طعن تواعداء اسلام بهی کرتے هیں۔ 🎯منکرین حدیث کہتے هیں کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نےخود اپنی زندگی میں احادیث نہیں لکهیں لهذا احادیث کا کوئ اعتبارنہیں هے۔ اسی طرح منکرین قرآن کہتے هیں کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نےخود اپنی زندگی میں قرآن نہیں لکهوایا لہذا اس قرآن کا کوئ اعتبارنہیں هے. 🎯فرقہ اهل حدیث کے جہلاء نے یہ وسوسہ منکرین حدیث اور شیعہ سے چوری کرکے امام ابوحنیفہ رحمہ الله سے بغض کی وجہ سے یہ کہ دیا کہ انهوں نے توکوئ کتاب نہیں لکهی لہذا ان کی فقہ کا کوئ اعتبار نہیں هے ۔ ☀یاد رکهیں کسی بهی آدمی کے عالم وفاضل وثقہ وامین هونے کے لیئے کتاب کا لکهنا ضروری نہیں هے ، اسی طرح کسی مجتهد امام کی تقلید واتباع کرنے کے لیئے اس امام کا کتاب لکهنا کوئ شرط نہیں هے ، بلکہ اس امام کا علم واجتهاد محفوظ هونا ضروری هے ، اگرکتاب لکهنا ضروری هے تو خاتم الانبیاء صلی الله نے کون سی کتاب لکهی هے ؟ اسی طرح بے شمار ائمہ اور راویان حدیث هیں ، مثال کے طور پر امام بخاری اور امام مسلم کے شیوخ هیں کیا ان کی حدیث و روایت معتبر هونے کے لیئے ضروری هے کہ انهوں نے کوئ کتاب لکهی هو ؟ اگر هر امام کی بات معتبر هونے کے لیئے کتاب لکهنا ضروری قرار دیں تو پهر دین کے بہت سارے حصہ کو خیرباد کہنا پڑے گا ،
💥لہذا یہ وسوسہ پهیلانے والوں سے هم کہتے هیں کہ امام بخاری اور امام مسلم کے تمام شیوخ کی کتابیں دکهاو ورنہ ان کی احادیث کو چهوڑ دو ؟
💎 امام اعظم رحمہ الله نے توکتابیں لکهی بهی هیں ، ( الفقه الأكبر ) امام اعظم رحمہ الله کی کتاب هے جو عقائد کی کتاب هے ، « الفقه الأكبر » علم کلام وعقائد کے اولین کتب میں سے هے ، اور بہت سارے علماء ومشائخ نے اس کی شروحات لکهی هیں ، اسی طرح کتاب ( العالم والمتعلم ) بهی امام اعظم رحمہ الله کی تصنیف هے ، اسی طرح ( كتاب الآثار ) امام محمد اور امام ابویوسف کی روایت کے ساتهہ امام اعظم رحمہ الله هی کی کتاب هے ، اسی طرح امام اعظم رحمہ الله کے پندره مسانید هیں جن کو علامہ محمد بن محمود الخوارزمي نے اپنی کتاب (جامع الإمام الأعظم ) میں جمع کیا هے ، اور امام اعظم کی ان مسانید کو کبار محدثین نے جمع کیا هے ، بطور مثال امام اعظم کی چند مسانید کا ذکرکرتےهیں۔
📗1۔ جامع مسانيد الإمام الأعظم أبي حنيفة
تأليف أبي المؤيد محمد بن محمود بن محمد الخوارزمي،
مجلس دائرة المعارف حیدرآباد دکن سے 1332هـ میں طبع هوئ هے دو جلدوں میں ، پهر ، المكتبة الإسلامية ، پاکستان سے 1396هـ میں طبع هوئ ، اور اس طبع میں امام اعظم کے پندره مسانید کو جمع کردیا گیا هے ،
📗2۔ مسانيد الإمام أبي حنيفة وعدد مروياته المرفوعات والآثار =
مجلس الدعوة والتحقيق الإسلامي ، نے 1398هـ میں شائع کی هے ،
📗3 ۔ مسند الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه =
تقديم وتحقيق صفوة السقا ، مکتبه ربيع ، حلب شام 1382هـ.
میں طبع هوئ
📗4۔ مسند الإمام أبي حنيفة النعمان =
شرح ملا علي القاري، المطبع المجتبائي،
📗5۔ شرح مسند أبي حنيفة
ملا علي القاري، دار الكتب العلمية، بيروت سے 1405 هـ.
میں شائع هوئ
📗6۔ مسند الإمام أبي حنيفة
تأليف الإمام أبي نعيم أحمد بن عبد الله الأصبهاني، مكتبة الكوثر ، رياض سے 1415هـ شائع هوئ ،
📗7۔ ترتيب مسند الامام ابي حنيفة على الابواب الفقهية ،
المؤلف: السندي، محمد عابد بن أحمد
💥اس مختصرتفصیل سے فرقہ اهل حدیث میں شامل جہلاء کا یہ وسوسہ بهی کافورهوگیا کہ امام ابوحنیفہ نے کوئ کتاب نہیں لکهی ۰ 🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹 *✍
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻











































































