Showing posts with label عقیدہ ثواب وعذاب قبر. Show all posts
Showing posts with label عقیدہ ثواب وعذاب قبر. Show all posts

Saturday, 2 May 2020

عقیدہ ثواب وعذاب قبر

عقیدہ ثواب وعذاب قبر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سماع صلوٰۃ و سلام
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
عقیدہ اہل السنت و الجماعت:
اہل السنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اوردیگر انبیاء کرام علیہم السلام وفات ظاہری کے بعد اپنی قبروں میں بتعلقِ روح زندہ ہیں، ان کے اجسادِ مقدسہ بعینہ محفوظ ہیں،صرف یہ ہے کہ احکام شرعیہ کے وہ مکلّف نہیں ہیں لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور روضہ اقدس پر جو درود پڑھاجائے اسے بلاواسطہ سنتے ہیں اور اگر دور سے پڑھا جائے تو فرشتے ان کی خدمت میں پہنچا دیتے ہیں۔
اہل بدعت کا نظریہ:
منکرین سماع النبی صلی اللہ علیہ و سلم کا موقف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں [معاذاللہ]، صلوۃ وسلام کا سماع نہیں فرماتے،یہ عقیدہ شرکیہ عقیدہ ہے،اس کے دلائل من گھڑت ہیں، یہ عقیدہ شیعہ کا ہے، اس عقیدہ کے قائلین شرک کے کھیت کے دہقان ہیں وغیرہ وغیرہ۔ قارئین کی خدمت میں ان کی بعض عبارات ملاحظہ ہوں۔
1: فرقہ مماتیت اپنے بعض عقائد منظر عام پر لائے اور جماعتی لیٹر پیڈ پر یہ عقائد لکھ کر شائع کیے۔ سید ضیاء اللہ بخاری صاحب نے ان عقائد کی تصدیق بھی کی۔ ان عقائد میں یہ درج ہے کہ:
عقیدہ(2)آپ صلی اللہ علیہ وسلم عندالقبر صلوۃ وسلام کا سماع نہیں فرماتے جو سماع کا قائل ہے وہ بےایمان کافر اور مشرک ہے(عند القبر صلوۃ وسلام کے سماع کی جتنی بھی احادیث ہیں وہ سب کی سب جعلی اور موضوع ہیں)
تمام عقائد قرآن وسنت کے مطابق ہیں۔ [دستخط] ضیاء اللہ
(نوٹ:اس کی ایک کاپی ہمارے پاس محفوظ ہے:از ناقل)
2: محمد عطاء اللہ بندیالوی صاحب (مماتی) عقیدہ حیاۃ وسماع النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قائلین کے بارے میں لکھتے ہیں:
٭ ”حیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم، سماع موتیٰ اور بزرگوں کے وسیلے جیسے موضوعات پر دلائل دے کر الٹا شرک کے کھیت کے دہقان بنے ہوئے ہیں۔“
(شرک کیا ہے: ص4)
٭ امام الانبیاء علیہم السلام کے ذمہ یہ جھوٹ لگایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میری قبر پر سلام کہیں گے تو میں اس کا جواب دوں گا۔
(کیا مردے سنتے ہیں: ص37)
٭ امام الانبیاء علیہم السلام قبر منور پر آنے والوں کے سلام کو نہیں سنتے۔
(کیا مردے سنتے ہیں: ص39)
3: مولوی اللہ بخش صاحب (مماتی)لکھتے ہیں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا درود وسلام عند القبر سننا وجواب دینا یہ قصّہ من گھڑت ہے۔
(دعوۃ الرشاد: ص8 مؤلف مولوی اللہ بخش ، مؤید عنایت اللہ شاہ گجراتی)
4: فتاویٰ اصحاب الحدیث میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے درود و سلام کو سنتے نہیں ہیں۔
(ج2 ص62)
ایک دوسرے مقام پر ہے:بہرحال رسول اللہ صلی اللہ ہمارے درود و سلام کو براہ راست ہم سے نہیں سنتے ہیں۔
(ج2 ص63)
دلائل اہل السنۃ والجماعۃ از قرآن مجید
پہلی آیت:
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ.
(البقرۃ :154)
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے گئے اُن کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں ان کی زندگی کا احساس نہیں ہوتا۔
تفسیر:
[۱]: مفتی بغدادعلامہ محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (1270ھ) ایک مقام پر حیات الشہداء کا ذکر کرتے ہوئے حیاۃ الانبیاء کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
وهي فوق حياة الشهداء بكثير وحياة نبينا صلى الله عليه وسلم أكمل وأتم من حياة سائرهم عليهم السلام ••• إن تلك الحياة في القبر وإن كانت يترتب عليها بعض ما يترتب على الحياة في الدنيا المعروفة لنا من الصلاة والأذان والإقامة ورد السلام المسموع ونحو ذلك إلا أنها لا يترتب عليها كل ما يمكن أن يترتب على تلك الحياة المعروفة•
(روح المعانی :ج22ص38 تحت قولہ تعالیٰ: ما کان محمد ابا احد من رجالکم)
ترجمہ: یہ حیات (جو انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے) شہداء کی حیات سے بہت اعلیٰ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تو تمام انبیاء علیہم السلام سے اکمل واتم ہے ...اس قبر کی زندگی پر اگر چہ بعض وہ امور مترتب ہوتے ہیں جو ہماری دنیا کی معروف زندگی پر مترتب ہوتے ہیں مثلاً نماز، اذان، اقامت اور سنے ہوئے سلام کا جواب لوٹانا اور اسی طرح کےدیگر امور ،مگر اس پر وہ سب امور مترتب نہیں ہوتے جو دنیا کی معروف زندگی پر مترتب ہوتے ہیں۔
[۲]: شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب فرماتے ہیں:
والذی نعتقد ان رتبۃ نبیناصلی اللہ علیہ وسلم اعلی مراتب المخلوقین علی الاطلاق وانہ صلی اللہ علیہ وسلم حی فی قبرہ حیٰوۃ مستقرۃ ابلغ من حیٰوۃ الشھدا ء المنصوص علیھا فی التنزیل اذ ھو افضل منھم بلا ریب وانہ صلی اللہ علیہ وسلم یسمع من یسلم علیہ•
(اتحاف النبلا ء : ص: 415)
ترجمہ: ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مرتبہ تمام مخلوقات سے علی الاطلاق اعلیٰ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قبر شریف میں دائمی طور پر زندہ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حیات شہداء کی حیات سے جو قرآن میں منصوص ہے،بہت بالاتر ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اُن سے بلا ریب افضل ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے روضہ اطہر میں سلام عرض کرنے والوں کا سلام خود سنتے ہیں۔
دوسری آیت :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ؁ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ؁
(سورۃ الحجرات:۲، ۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، ایسانہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ بے شک جو لوگ بارگاہ نبوت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کےلیے منتخب کر لیا ہے ، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ اس حدیث سے علماءِ امت نے یہ حکم اخذ فرمایا ہے کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام آپ کی حیات مبارکہ میں تھا، اسی طرح کا احترام و توقیر اب بھی لازم ہے۔ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیّ (زندہ) ہیں۔
(معارف القرآن تکملہ ج:7 ص487)
[۲]: علامہ ر حمت اللہ بن عبد اللہ السندھی الحنفی رحمہ اللہ (م978ھ او993ھ) فرماتے ہیں :
ثم توجہ مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعاً خاشعاً مع الذلۃ و الانکسار و الخشیۃ و الوقار والھیبۃ و الافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح فارغ القلب واضعاً یمینہ علی شمالہ مستقبلاً للوجہ الکریم مستدبراً للقبلۃ……… محترزاً عن اشغال النظر بما ہناک من الزنیۃ، متمثلاً صورتہ الکریمۃ فی خیالک، مستشعراًبانہ علیہ الصلوۃ و السلام عالماً بحضورک و قیامک و سلامک مستحضرا عظمتہ وجلالتہ و شرفہ و قدرہ صلی اللہ علیہ و سلم ثم قال مسلماً مقتصداً من غیر رفع صوت لقولہ تعالیٰ: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﴾ ولا اخفاء بحضور و حیاء•
(لباب المناسک للسندی: ص508 باب زیارۃ سید المرسلین)
ترجمہ:پھر انتہائی ادب کے ساتھ چہرہ اقدس کی طرف متوجہ ہو، تواضع، رسوائی، انکساری، خوف اور سکون کے ساتھ اور ہیبت، محتاجی، نگاہوں کو پست کئے ہوئے جوارحات کو حرکات سے بند رکھتے ہوئے، دل کو ہر بات سے اُ س مقصود کے لئے فارغ کئے ہوئے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے، چہرہ مکرم کی طرف منہ کئے ہوئے، اور قبلہ مبارکہ کی طرف پشت کئے ہوئے اور وہاں کی آرائش وتزئین سے نگاہوں کو بچاتے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارکہ کا تصور لیے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیری موجودگی ،تیرے قیام اور تیرے سلام سے باخبر ہیں،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت وجلالت بلندی قدر کو ملحوظ رکھتے ہوئے پھر سلام پیش کرے، میانہ روی سے اور آواز کو پست رکھتے ہوئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اپنی آواز کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے پست رکھو،اور بے شک جو لوگ بارگاہ نبوت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں(یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کےلیے منتخب کر لیا ہے ، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبر دست اجر بھی)، اور نہ زیادہ اخفاء کے ساتھ اور حضور قلب اور حیاء کے ساتھ سلام عرض کرے