Showing posts with label ملحدوں کارد. Show all posts
Showing posts with label ملحدوں کارد. Show all posts

Saturday, 4 November 2023

’’اعتراض: قرآن کی دو آیتیں کھجور کے پتوں پر لکھی ہوئی تھیں …میری بکری آئی اور انہیں کھا گئی۔‘

’اعتراض: قرآن کی دو آیتیں کھجور کے پتوں پر لکھی ہوئی تھیں …میری بکری آئی اور انہیں کھا گئی۔‘‘

اس کے بعد ڈاکٹر شبیر رقمطراز ہیں:


’’حالانکہ اللہ فرماتا ہے یہ قرآن میں نے نازل کیا ہے اور میں ہی اس کا محافظ ہوں۔‘‘


(اسلام کے مجرم صفحہ 77)


ازالہ:۔


الحمدللہ مصنف نے خود ہی اس روایت کا جواب دیدیا ہے جب اللہ ہی محافظ ہے تو مصنف کو فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟فکر تو وہاں ہو جہاں اللہ محافظ نہ ہو!


دوسری بات یہ عرض کرتا چلوں کہ آخر یہ کونسی آیات تھیں جن کو بکری کھاگئی؟یہ آیات رضاعت اور رجم کی تھیں اور ان دونوں آیات کی تلاوت منسوخ ہوچکی تھی،لیکن حکم منسوخ نہیں ہوا۔


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:


مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا

( [سورہ البقرہ،آیت106.] )

’’جب بھی کسی آیت کو منسوخ کرتے یا بھلا دیتے تو اس جیسی یا اس سے بہتر آیت لاتے(بھی)ہیں۔‘‘


معلوم ہوا کہ اللہ کسی آیت کو منسوخ بھی کرتا ہے اور اسے لوگوں کے ذہنوں سے بھلا بھی دیتا ہے۔یقینا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جو صحیفہ موجود تھا وہ منسوخ شدہ تھا،کیونکہ ناسخ نسخہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حفظ تھا۔


لہٰذا اگر بکری نے کھا بھی لیا تو اس میں کوئی حرج نہ تھااور نہ ہی دین پرکوئی حرج آیا۔اگر آپ کہیں گے حرج آیا ہے تو آپ اس کی اب دلیل دیں۔

قرآن مجید کے محفوظ اور غیرمبدل ہونے پر مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات


قرآن مجید کے محفوظ اور غیرمبدل ہونے پر مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات 



قرآن کو تین مرتبہ جمع کیا کیا ہے۔ 



۱؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کتابت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا ، اور تمام سورتوں اور آیتوں کو مرتب کرکے اپنی اپنی جگہ لکھ دیا گیا، امام بخاری روایت کرتے ہیں؛ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے میری طرف پیغام بھیجا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کو لکھتے تھے، لہٰذا اب تم قرآن مجید کو جمع کرو (حوالہ؛ صحیح بخاری ج ۲ ص ۷۴۶ ط۔ نورمحمد اصح المطابع کراچی)۔


 

سو ہڈیوں پر، پتھروں پر اور کپڑوں کے ٹکڑوں پر قرآن مجید کو لکھا گیا لیکن یہ تمام اجزا متفرق تھے اور کسی کتابی شکل میں مجتمع اور مدون نہیں تھے۔ 



۲؛ حضرت ابوبکر کے عہد میں لغتِ قریش کے مطابق قرآن مجید کا ایک مجموعہ کتاب یا مصحف کی شکل میں مرتب کرلیا گیا، لیکن مسلمانوں کو اپنی لغات کے مطابق قرآن مجید پڑھنے کی اجازت تھی۔ 



۳؛ حضرت عثمان کے عہد میں اسی نسخہ قرآن کی نقول تیار کی گئیں جو حضرت ابوبکر کے زمانہ میں لغتِ قریش پر مرتب کیا گیا تھا، اور تمام اسلامی شہروں میں اسی کی نقول ارسال کی گئیں اور باقی تمام نسخوں کو دھلوا کر جلوا دیا گیا۔ 



عہد رسالت سے لیکر آج تک تمام امت مسلمہ کے پاس یہی قرآن مجید ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوئی، مستشرقین اور غیرمسلم محققین نے قرآن مجید کے محفوظ اور غیرمبدل ہونے پر کئی اعتراضات کئے ہیں جن میں سے بعض اعتراضات تو بالکل سطحی اور بے وزن ہیں جو مطلقاً لائق التفات نہیں ہیں، ہم چونکہ بلاوجہ طوالت سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں اسلیئے ہم صرف ان اعتراضات کے جوابات لکھ رہے ہیں جن کی بہرحال کوئی نہ کوئی بنیاد ہے۔ 



پہلا اعتراض یہ ہے کہ پیغمبر اسلام سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مجید محفوظ نہیں تھا تو بعد والوں کو کیسے محفوظ رہے گا، اس کی سند یہ ہے: 



امام بخاری روایت کرتے ہیں؛ 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں ایک شخص کو قرآن مجید کی ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا، تو آپ نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحمت فرمائے، اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلادی جو مجھے فلاں فلاں سورت سے بھلا دی گئی تھی۔ (صحیح بخاری ج ۲ ص ۷۵۳) 



جواب


 

اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی کسی حکمت کو پیدا کرنے کے لیئے کسی چیز کی طرف سے وقتی طور پر نبی کریم ﷺ کی توجہ ہٹا دیتا ہے اور بعد میں آپ کو پھر اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ کسی چیز کو بھول جاتے ہیں، پھر کسی سے سن کر یا کسی اور سبب سے ان کو وہ چیز یاد آجاتی ہے، اس سے قرآن مجید کے محفوظ اور غیرمبدل ہونے پر کیا زد پڑتی ہے، اس حدیث کا منشاٗ صرف اتنا ہے کہ کسی چیز سے وقتی طور پر توجہ کا ہٹ جانا منصب نبوت کے خلاف نہیں ہے، اس شخص کے حفظ کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیتوں کو حفظ کرلیا تھا، پھر وحی لکھنے والوں سے اس آیت کو لکھوادیا تھا، اور مسلمانوں کو اس آیت کی تبلیغ فرمادی تھی اور انہوں نے آپ سے سن کر ان آیتوں کو یاد کرلیا تھا۔  



دوسرا اعتراض؛ یہ ہے کہ چند آیتوں کو حضرت عائشہ (رض) کی بکری کھا گئی تھی اسلیئے وہ ضائع ہوگئیں اس کی دلیل یہ حدیث بتائی جاتی ہے؛ 



امام احمد روایت کرتے ہیں؛ 

نبی ﷺ کی زوجہ حضرت ام المومنین عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رجم کی آیت نازل کی گئی اور بالغ آدمی کو دس چسکیاں دودھ پلانے سے رضاعت کی آیت نازل کی گئی، یہ آیتیں ایک پتے پر لکھی ہوئی تھیں جو میرے گھرمیں میرے تکیہ کے نیچے رکھا ہوا تھا، جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو ہم آپ کی تیمارداری میں مشغول ہوگئے اور ایک چوپایہ گھر میں داخل ہوا اور اس پتے کو کھا گیا۔ (مسند احمد ج ۶ ص ۲۶۹ ط۔ مکتب اسلامی بیروت)۔ 



جواب؛


 

اس کا جواب یہ ہے کہ آیت رجم اور دس چسکیوں سے رضاعت کے ثبوت کی آیت منسوخ التلاوت ہے، خود حضرت عائشہ (رض) بھی اسکے منسوخ ہونے کی قائل ہیں، نیز اس کا ثبوت محض خبر واحد ہے تواتر سے نہیں ہے اور قرآن اس مجموعہ کلام کا نام ہے جو ہم تک تواتر سے پہنچا ہے، لہٰذا ان آیتوں کے ضائع ہونے سے قرآن مجید کے محفوظ ہونے پر کوئی اشکال نہیں ہے۔ 



تیسرا اعتراض؛ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) معوذتین (یعنی سورہ الفلق، سورہ الناس) کو قرآن مجید کی دو سورتیں نہیں مانتے تھے، اور اسکا ثبوت ان احادیث سے ہے: 



امام احمد روایت کرتے ہیں:  

عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اپنے مصاحف سے معوذتین کو کھرچ دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ دونوں اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام میں سے نہیں ہیں۔ (مسند احمد ج ۵ ص ۱۲۹، ۱۳۰ مکتب اسلامی بیروت)۔


 

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے، امام احمد کی سند صحیح ہے اور امام طبرانی کی سند ثقہ ہے۔ (مجمع الزوائد ج ۷ ص ۱۴۹ دارالکتاب العربی بیروت)۔ 



امام طبرانی روایت کرتے ہیں؛ 



عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) معوذتین کو کھرچ دیتے تھے، اور کہتے تھے کہ جو اس میں نہیں ، اس کو تم کیوں زیادہ کرتے ہو؟ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود نے کہا: انہوں نے قرآن مجید میں اس کو خلط کردیا جو اس میں نہیں ہے، تیسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود نے کہا: یہ دونوں کتاب اللہ سے نہیں ہیں، چوتھی روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود نے کہا: جو قرآن میں نہیں اسکو قرآن کے ساتھ خلط نہ کرو، یہ دونوں پناہ طلب کرنے کی دعائیں ہیں اور نبی ﷺ نےا ن دعاوں کے ذریعے پناہ طلب کی ہے ۔ (المعجم الکبیر ج ۹ ص ۲۳۵ دار احیا التراث العربی بیروت)۔


جواب 



اس اشکال کے جواب میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں؛ 



علامہ نووی نے اسکے جواب میں شرح المہذب میں لکھا ہے کہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ معوذتین اور سورہ فاتحہ قرآن مجید میں شامل ہیں اور جو شخص ان میں سے کسی چیز کا بھی انکار کرے وہ کافر ہے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار منقول ہے وہ نقل باطل ہے اور روایت صحیح نہیں ہے۔ شیخ ابومحمد بن حزم نے بھی (محلیٰ) میں اس روایت کو جھوٹ قرار دیا ہے۔ امام رازی نے بھی تفسیر کبیر میں اس نقل کو جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے۔ حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ روایات صحیح ہوں تو ان کی توجیہ یہ ہے کہ ہرچند کے حضرت ابن مسعود کے نزدیک معوذتین کا قرآن ہونا ثابت تھا لیکن ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے معوذتین کا قرآن مجید میں لکھوانا ثابت نہیں تھا (اگرچہ دوسرے صحابہ کے نزدیک لکھوانا بھی ثابت تھا) اسلیئے حضرت ابن مسعود (رض) معوذتین کے لکھنے پر رد فرماتے تھے۔ امام رازی نے یہ جواب دیا ہے کہ فی نفسہ اگرچہ معوذتین کا قرآن ہونا متواتر ہے لیکن حضرت ابن مسعود (رض) کے نزدیک یہ متواتر نہیں ہے۔ 



فتح الباری ج ۸ ص ۴۴۲، ۴۴۳ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور 



علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ شرح مواقف میں ہے قرآن مجید کی بعض سورتوں میں جو بعض صحابہ کا اختلاف منقول ہے وہ اخبار آحاد سے منقول ہے اور ان سورتوں کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہے اور آحاد میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ تواتر کے مزاحم ہوسکیں اور نہ ظن ، یقین کے معارض ہوسکتا ہے۔ (بحوالہ روح المعانی ج ۳ ص ۲۷۹ داراحیا التراث العربی بیروت) 



اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ نے حافظ الہیثمی سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے یا ثقہ ہے، اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ نقل باطل ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ صرف سند کے صحیح ہونے سے حدیث کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ حدیث کی سند صحیح ہو اور اسکے متن میں کوئی علت خفیہ قادحہ ہو اور وہ حدیث معلل ہو یا اس میں شذوذ ہو اور وہ حدیث شاذ ہو اور یہ دونوں امر صحت حدیث کے منافی ہیں۔ یہ حدیثِ شاذ اسلیئے ہے کہ یہ زیادہ صحیح راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔  



امام مسلم روایت کرتے ہیں: حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آج رات مجھ پر ایسی آیات نازل کی گئی ہیں جن کی مثل نہیں دیکھی گئی (قل اعوذ برب الناس) اور (قل اعوذ برب الفلق) (بحوالہ صحیح مسلم ج ۱ ص ۲۷۲) 



اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے بحوالہ جامع ترمذی ص ۴۸۵ 



اور عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث میں خفیہ علت یہ ہے کہ یہ تواتر اور اجماع مسلمین کے خلاف ہے ، لہٰذا یہ حدیثِ شاذ یا معلل ہے، اسلیئے یہ حدیث غیرصحیح اور غیر معتبر ہے اور لائقِ استدلال نہیں ہے۔ 



ایک اور توجیہ یہ کی گئی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار اسوقت کیا تھا جب انہیں ان کے قرآن ہونے کا علم نہیں ہوا تھا اور جب ان کو ان کے قرآن ہونے کا علم ہوگیا اور تواتر اور اجماع سے ان کا قرآن ہونا ثابت ہوگیا تو حضرت ابن مسعود (رض) بھی معوذتین کے قرآن ہونے پر ایمان لے آئے، اور اسکی دلیل یہ ہے کہ عاصم کی قراٗت از زرعہ از ابن مسعود ہے اور اس میں سورہ فاتحہ بھی ہے اور معوذتین بھی ہیں، اور یہ چیز سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن مسعود (رض) سے ثابت ہے۔  



حضرت ابن مسعود نے جسطرح معوذتین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھا تھا اسی طرح انہوں نے سورہ فاتحہ کو بھی اپنے مصحف میں نہیں لکھا تھا اور اسکی وجہ یہ تھی کہ سورہ فاتحہ کا ان کے نزدیک قرآن ہونا اسقدر جلی اور واضح تھا کہ اس کو لکھ کر محفوظ کرنے کی ان کے نزدیک ضرورت نہیں تھی، کیونکہ سورہ فاتحہ کو ہرنماز میں پڑھا جاتا ہے، سو اسطرح کی توجیہ معوذتین کے متعلق بھی کی جاسکتی ہے، تاہم قطعی اور یقینی بات یہ ہے کہ سورہ فاتحہ اور معوذتین کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہے اور حضرت ابن مسعود (رض) کا انکار خبر واحد سے ثابت ہے اور خبر واحد خبر تواتر کے مزاحم نہیں ہوسکتی۔ 



چوتھا اعتراض: یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے اپنے مصحف میں دعائے قنوت (اللھم انا نستعینک ونسغفرک الخ) بھی لکھی ہوئی تھی اور اسک نام سورہ خلع اور سورہ حفد رکھا تھا اور موجودہ قرآن میں یہ سورت نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں کمی بیشی ہوئی ہے۔  



حافظ الہیثمی بیان کرتے ہیں کہ ہم کو امیہ بن عبداللہ بن خالد نے خراسان میں نماز پڑھائی اور دو سورتوں میں سے (انا نسعینک) پڑھا ، اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اسکے رجال صحیح ہیں۔ (حوالہ ۔ مجمع الزوائد ج ۷ ص ۱۵۷ دارالکتاب العربی) 



حافظ سیوطی لکھتے ہیں؛ 

حضرت ابن مسعود (رض) کے مصحف میں ایک سوبارہ سورتیں تھیں کیونکہ انہوں نے معوذتین کو نہیں لکھا، اور حضرت ابی بن کعب کے مصحف میں ایکسو سولہ سورتیں ہیں کیونکہ انہوں نے قرآن مجید کے آخر میں دو سورتیں حفد اور خلع لکھی ہیں۔ 



امام ابوعبید نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے اپنے مصحف میں فاتحۃ الکتاب، معوذتین اور (قنوت) لکھا۔ حضرت ابن مسعود نے ان کو ترک کردیا اور حضرت عثمان نے ان میں سے فاتحۃ الکتاب اور معوذتین کو لکھا (الاتقان ج ۱ ص ۶۵ سہیل اکیڈمی لاھور) 



حافظ سیوطی نے اپنی تفسیر کے آخر میں سورۃ الخلع اور سورہ الحفد سے متعلق روایات جمع کی ہیں (الدر المنثور ج ۶ ص ۴۲۰، ۴۲۱ مکتبہ آیۃ اللہ العظمیٰ ایران) 



جواب؛ 



ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کے اس مجموعہ کلام کا نام ہے جو تواتر سے ثابت ہے اور سورہ خلع اور سورہ حفد اخبارِ آحاد سے ثابت ہیں لہٰذا یہ قرآن نہیں ہیں اور حضرت ابی بن کعب کی طرف سے توجیہ یہ ہے کہ وہ ان کو بہ طورِ قنوت اور دعا کے اپنے مصحف میں لکھتے تھے بہ اعتبارِ قرآن کے نہیں لکھتے تھے


جاری

وسوسہ:آیت بکری کھاگئی اس لیے قرآن نامکمل ہے

 وسوسہ:آیت بکری کھاگئی اس لیے قرآن نامکمل ہے



3 مختلف جوابات 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب نمبر 1۔👇👇👇👇

مستشرقین الزام دھرتے ہیں کہ قرآن کی کچھ آیات ضائع ہو گئی تھیں کیونکہ ان کو بکری کھا گئی تھی __! آئیے اس روایت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور سچ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔! روایت یوں ہے : ”

حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ ” آیت رجم اور دس بار دودھ پلانے سے رضاعت کبیر ثابت ہونے پر (قرآن مجید میں) آیات نازل ہوئی تھیں۔ یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پر لکھی ہوئی میرے بستر پر پڑی تھیں۔ جب رسول اللّٰه کی وفات ہوئی اور ہم آپ کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہو گئے تو ایک بکری آئی اور اس کاغذ کو کھا گئی۔”

(سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب رضاع الکبیر، حدیث:۱۹۴۴، مسند احمد:۶/۲۲۹، مسند ابی یعلیٰ:۴۵۸۷،۴۵۸۸)

روایت کی صداقت:

جب بھی کوئی روایت بیان کی جاتی ہے تو سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ روایت مستند بھی ہے یا نہیں۔ بلاشبہ اس روایت میں بھی کچھ کمیاں موجود ہیں

سنن ابن ماجہ میں بیان کی گئی اس روایات میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہیں جو اس روایت کو لفظ “عن” سے شروع کرتے ہیں جو کہ کسی روایت کو بیان کرنے کا مبہم طریقہ ہے اور روایت کو ضعیف کر دیتا ہے اگر یہ ایسا راوی استعمال کرے جو تدلس( خلا کو پر کرنا) کی وجہ سے مشہور ہو محمد بن اسحاق بلاشبہ ایسے ہی راوی ہیں، مدلس کی روایت اس وقت مقبول ہوتی ہے جب وہ اپنے سے اوپر کی سماعت کی تصریح کر دے۔ اگر وہ صیغہ (عن) سے روایت کریں گے تو روایت مقبول نہ ہوگی کیونکہ وہ جس سے روایت کررہے ہیں اسکا نام نہیں لے رہے ۔لہذا اس مخصوص سند کی خامی کی بنا پر ابن ماجہ کی اوپر بیان کی گئی روایت ضیعف اور غیر مستند ہے اور اس میں اور بھی مسائل ہیں جو نیچے بیان کیے جا رہے ہیں ۔ یہ بات مولانا تقی عثمانی کی تصنیف تکملہ فتح الملحم 1، دار الاحیا التوراث العربی، بیروت /69 پر بھی واضح بیان کی گئی ہے۔

یہی روایت مسند احمد میں بھی اسی سند سے لیکن ذیادہ واضح ہے یعنی اس میں ابن ماجہ کی روایت کی طرح کا کوئی نقص نہیں ہےلیکن ان سے ابن ماجہ والی روایت پر تنقید کے مزید دروازے کھلتے ہیں کیونکہ ان بہت سے راویوں نے حضرت عائشہ سے رضاعت کی روایت بیان کی ہے لیکن کسی نے بھی ان الفاظ کا استعمال نہیں کیا جو اس روایت میں دیے گئے ہیں (بکری کے کھانے کا کوئی ذکر نہیں ہے) حالانکہ وہ راوی محمد بن اسحاق سے زیادہ قابل بھروسہ اور بااصول ہیں۔لہذا اس حقیقت کے تناظر میں یہ الفاظ صرف اور صرف محمد بن اسحاق سے ہی روایت کیے گئے ہیں اور دوسرے مستند اور بااصول راویوں سے منفرد ہیں ۔محدثین نے اس روایت کو محمد بن اسحاق کے تفرد اور مخالفت ثقات کے سبب مردود قرار دیا ہے ۔ ۔ شیخ شعیب ارنوط نے مسند احمد کی ترتیب میں اسے ضعیف گردانا ہے __!(مسند احمد، 6/269، حدیث 26359)

اگراس روایت کو مستند بھی سمجھ لیا جائے تب بھی یہ روایت قرآن کے مکمل طور پر محفوظ ہونے کو چیلنج نہیں کر سکتی ۔ مزید شواہد درج ذیل ہیں

1. اس روایت کے مطابق رضاعت کے ساتھ رجم کی آیات بھی ضائع ہو گئی تھیں لیکن دوسری روایات کے مطابق رجم کی آیات کو آپﷺ نے قرآن میں لکھنے سے منع فرما دیا تھا کہ یہ آیات قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔ درج ذیل روایات اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں

(ا). کثیر بن سلط کی روایت میں مذکور ہے کہ زید بن ثابت نے فرمایا “میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انہیں سنگسار کر دو” یہ ان کر عَمر نے کہا ” جب ایسا بیان کیا گیا تو میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسے لکھنے کی عرض کی لیکن آپﷺ نے ناپسند فرمایا __! (مستدرک الحاکم، حدیث 8184, حاکم نے اسے صحیح کہا ہے

(ب)اس آیت کے متعلق کثیر بن سلط فرماتے ہیں کہ وہ، حضرت زید بن حارث اور مروان بن حکم گفتگو کر رہے تھے کہ اس آیت کو قرآن میں شامل کیوں نہیں کیا گیا اور حضرت عمر بن خطاب وہاں موجود تھے اور ان کی گفتگو سن کے انہوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں اور کہا کہ میں اللہ کے پیغمبرﷺ کے پاس آیا اور عرض کی :” سنگسار کرنے کی آیت کو لکھنے کی اجازت دیں” آپﷺ نے فرمایا ” میں ایسا نہیں کر سکتا” (سنن البیہقی 8/211، سنن الکبرا نسائی حدیث 7148) البانی نے (صحیحہ 6/412 میں لکھا ہے کہ بیہقی نے اس کی سند پر نشان لگایا ہے۔

اگر یہ ضائع ہوجانے والی متنازعہ آیات قرآن کا حصہ ہوتیں تو آپ ﷺ کو انہیں قرآن میں لکھنے سے کون روک سکتا تھا اور آپﷺ انہیں قرآن میں لکھنے کو ناپسند کیوں فرماتے ؟ بلاشبہ یہ قرآن کا حصہ نہیں تھی اور اسی وجہ سے آپﷺ نے اس آیت کو قرآن میں لکھنے کو ناپسند فرمایا ۔ رجم کی آیت کے متعلق تفصیلی تحقیق یہاں دیکھیے۔

http://ilhaad.com/2016/10/myth-of-qurans-lost-verse-about-stoning/

2. دوسری مبینہ گم شدہ آیت بالغ کی دس دفعہ رضاعت کے متعلق تھی لیکن اس معاملہ میں بھی دوسری مستند روایات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی تھی اور دلچسپ بات یہ کہ یہ روایات بھی حضرت عائشہ سے مروی ہیں __!صحیح مسلم میں ہے

حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ ”اللّٰه نے قرآن میں پہلے یہ نازل کیا تھا کہ دس رضعات سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ (دس بار دودھ پینے سے)۔ پھر اسے پانچ رضعات سے منسوخ کر دیا گیا۔ اور جب رسول اللّٰه کی وفات ہوئی تو یہ الفاظ قرآن میں قراءت کئے جا رہے تھے۔“ (صحیح المسلم : 2634)

یہ روایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ دس دفعہ رضاعت والی آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ اس معاملے اور صحیح مسلم کی اس روایت کے متعلق مزید تفصیلی تحقیق یہاں

http://ilhaad.com/2016/10/exposing-lie-of-qurans-lost-verse-about-breastfeeding/

 دیکھیے ۔

چنانچہ اس بات کو جان لینے کے بعد بھی کہ یہ آیات کبھی بھی قرآن کا حصہ نہیں تھیں’ اگر ہم ان روایات کو صحیح مان لیں تو بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت عائشہ نے ان آیات کو محض تاریخی ریکارڈ کی خاطر اپنے پاس سنبھال کے رکھا تھا۔لہذا اگر بکری اس کو کھا بھی گئی تو بھی قرآن کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوا

مزید قرآن کی مکمل تدوین کے ادوار ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حضرت عثمان تک ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ زندہ رہیں،ان کی اپنی ایک مستند حیثیت تھی ، اگر ان کے خیال میں ان سے ایسی کوئی آیت ضائع ہوئی ہوتی تو وہ صحابہ کرام کو ضرور مطلع فرماتیں، ہمارے پاس حضرت عثمان کی قرآن کے جمع کرنے کے لیے حضرت عائشہ سے سپیشل مشاورت اور ان کے پاس موجود ریکارڈ سے کراس چیک کرنے کے شواہد بھی موجود ہیں (ابن شبہ، تاریخ المدینہ، صفحہ 997) اس سب کے باوجود انہوں نے اس مسئلہ کو نہیں اٹھا یا ۔ مزید قرآن کی تدوین کے وقت صحابہ کے اپنے مصاحف اور سینکڑوں حفاظ موجود تھے ، اگر حضرت عائشہ کے پاس سے بکری یہ آیت کھاگئی تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ یہ کسی اور کے پاس بھی لکھی ہوئی نہیں تھی یا کسی کو یاد بھی نہیں تھی ۔ یہ سب ہمارے اس نتیجے کو مضبوط کرتا ہے کہ اگر ابن ماجہ کی اس روایت کو مستند بھی مان لیا جائے تو بھی قرآن کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوا ۔ بحوالا الحاد ڈاٹ کام 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇👇 جواب نمبر 2👇👇


(محمد حسین میمن)

سنن ابن ماجہ میں ایک حدیث موجود ہے جس سے کئی حضرات کو غلط فہمی ہوئی اور وہ اسی غلط فہمی کی وجہ سے انکار حدیث کی طرف مائل ہوئے۔ کیونکہ منکرین حدیث کا شیوہ بالکل عیسائیوں کی طرح ہے کہ وہ بھی قرآن مجید میں تشکیک پیدا کر کے عامۃ الناس کو اسلام سے ورغلاتے ہیں۔ بعین یہی طرز عمل منکرین حدیث کا ہے وہ بھی کتب احادیث سے احادیث کو آڑ بنا کر دین سے دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ احادیثِ صحیحہ سو فیصد قرآن مجید کی طرح ہدایت کی ضامن ہیں۔ امی عائشہ  کے بارے میں یہ روایت معروف ہے جس کا ذکر سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب رضاعة الکبیر میں ہے ۔ اس حدیث کے مرکزی راوی ''محمد بن اسحاق'' ہیں۔ 


رضاعت کبیر کے سلسلہ میں تین اسناد سے احادیث موجود ہیں۔ 


ایک سند یہ ہے


''من طریق محمد بن اسحاق ، عن عبداللہ بن ابی بکر عن عمرة عن عائشة''

یہ روایت ابن ماجہ رقم ۱۹۴۴، ابو یعلی ، رقم ۴۵۸۸،۴۵۸۷ میں ہے۔


دوسری روایت


''عن عبداللہ ابن ابی بکر، عن عمرة بنت عبدالرحمن عن عائشة''

یہ روایت امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں ۱۷۸۰ پر رقم کی ہے۔


تیسری روایت


''عن عبدالرحمن بن القاسم عن ابیہ عن عائشة''

صحیح مسلم ، رقم ۳۶۰۰ میں۔


پہلی سند والی حدیث جس میں محمد بن اسحاق ہیں وہ ابن ماجہ میں درج ہے۔

حدثنا ابو سلمة یحیی بن خلف ، حدثنا عبدالاعلی عن محمد بن اسحاق عن عبداللہ بن ابی بکر عن عمرة عن عائشة رضی اللہ عنہا، قالت: لقد نزلت اٰیة الرجم ، ورضاعة الکبیر عشراً ولقد کان فی صحیفة تحت سریری فلما مات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتشا غلنا بموتہ دخل داجن فاکلھم

(سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، رقم: ۱۹۴۴)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رجم کی آیت اور بڑی عمر کے لڑکے کو دس بار دودھ پلانے کے مسئلے پر مشتمل آیت نازل ہوئی تھی۔ یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پر لکھی ہوئی میرے بستر پر پڑی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہم آپ کے کفن و دفن وغیرہ میں مشغول ہوگئے، ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔


دوسری حدیث میں جس میں عبداللہ بن ابی بکر ہیں وہ یہ ہے 

اما م مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں

''عن عبداللہ بن ابی بکر عن عمرة بنت عبدالرحمن عن عائشة، قالت کان فیما انزل من القرآن عشر رفعات معلوماتٍ یحرّمن ثم نسخن بخمس معلومات، فتوفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھن فیما یقرا من القرآن''

موطا امام مالک، رقم: ۱۷۸۰، مسند الشافعی، ۲۱/۲، اسحاق بن راھویہ، رقم: ۱۰۰۷، صحیح مسلم، ۱۴۵۲، ابو داؤد، رقم: ۲۰۶۲، سنن الترمذی، رقم: ۱۱۵۰، سنن النسائی، رقم: ۳۳۰۷، الدارمی، رقم: ۲۱۷۰، والطحاوی، مشکل الاٰثار، رقم: ۲۰۶۳، ابن حبان شرح، رقم: ۴۲۲۱، سنن الکبری للبیھقی، ۴۵۴/۷

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا پہلے قرآن مجید میں یہ اترا تھا کہ دس بار دودھ پلائے تو حرمت ثابت ہوگی پھر منسوخ ہوگیا اور پانچ بار پلانا ٹھہرا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور لوگ اس کو قرآن میں پڑھتے تھے۔ ( یہ لفظ کہ لوگ اس کو قرآن میں پڑھتے تھے یہ زبردست وہم ہے جس کی تحقیق ہم آگے بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ)


تیسری روایت جس میں عبدالرحمن بن قاسم ہے وہ یہ ہے

وحدثنا عمرو الناقد وابن ابی عمر قالا حدثنا سفیان بن عیینة عن عبدالرحمن بن قاسم عن ابیہ عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت: جاءت سھلة بنت سھیل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی ارای فی وجہ ابی حذیفة من دخول سالم وھو حلیفہ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ''ارضعیة'' قالت کیف ارضعہ وھو رجل کبیر فتبسم رسول اللہ وقال قد علمت انہ رجل کبیر۔ ثم جاءت فقالت: ما رایت فی وجہ ابی حذیفة شیئا اکرھہ


سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سالم میرے پاس آتا ہے تو مجھے اپنے شوہر ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر آتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دودھ پلا دے۔ سہلہ نے کہا کہ کیسے؟ حالانکہ وہ نوجوان آدمی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ جوان ہے(ابن سعد نے بیان کیا کہ سہلہ پیالے میں اپنا دودھ ڈالتی اور سالم نے اسے پانچ دفعہ پیا۔ (الزرقانی، ج۳، ص۲۱۶)۔ (پھر دودھ پلانے کے بعد) سہلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی ہیں کہ میں نے اپنے خاوند حذیفہ کے چہرے پر اس کے بعد ناگواری نہیں دیکھی۔


یہ تینوں احادیث آپ کے سامنے ہیں ، دو حدیثوں میں بکری کے کھانے کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس میں عبدالرحمن بن قاسم ہیں اور عبداللہ بن ابی بکر ہیں، مگر جس روایت کو محمد بن اسحاق نے نقل کی ہے۔ اس مین بکری کے کھانے کا ذکر موجود ہے۔ اور مزید یہ کہ تینوں روایتیں امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت کی گئی ہیں۔


دراصل محمد بن اسحاق صدوق ہیں، مگر وہ تدلیس میں بھی مشہور ہیں اور مدلس کی روایت اس وقت مقبول ہوتی ہے جب وہ اپنے سے اوپر کی سماعت کی تصریح کر دے۔ اگر وہ صیغہ (عن) سے روایت کریں گے تو روایت مقبول نہ ہوگی مگر ابن ماجہ کی حدیث حسن درجہ کی ہے اور وہاں سماعت کی تصریح موجود ہے۔ مگر محمد بن اسحاق اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو جس روایت میں بکری کے کھانے کا ذکر ہے اس میں محمد بن اسحاق، عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں جب کہ امام مالک رحمہ اللہ نے جب اپنی مؤطا میں روایت نقل کی تو وہاں محمد بن اسحاق ہیں مگر وہاں عبداللہ بن ابی بکر ہیں، اور وہاں وہ کچھ اور روایت کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ جس سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ابن اسحاق بیان کرنے میں منفرد ہیں۔


امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا 

''ابن اسحاق اذا تفرد لحدیث تقبلہ؟ قال لا ''

جب ابن اسحاق کسی حدیث میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول کی جائے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا نہیں۔ 


لہٰذا ابن اسحاق اس روایت میں منفرد ہیں اور وہ خصوصاً احکام میں حجت نہیں ہیں۔

''ان ابن اسحاق لیس بحجة فی الاحکام''

حتی کہ امام احمد رحمہ اللہ نے یہاں تک ان کے بارے میں فرمایا کہ

''واللہ انی رایتہ یحدث عن جماعة بالحدیث الواحد ولا یفصل کلام ذامن ذا''

(تہذیب الکمال، ج۲۴، ص۴۳۲)


اللہ کی قسم میں نے ابن اسحاق کو جماعت سے ایک حدیث بیان کرتے دیکھا مگر وہ بیان نہ کرتے کہ وہ جو نقل کرتے ہیں کن کن کا کلام ہے۔


مزید ایک دلیل آپ کے سامنے رکھتا ہوں ، جس سے واضح طور پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ روایت بیان کرنے میں ابن اسحاق منفرد ہیں اور ان کی یہ روایت مقبول نہیں ۔ مگر اس دلیل سے قبل ایک خدشہ آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔


عبداللہ بن یوسف الجدیح فرماتے ہیں اور مجھ اس بات کا خوف ہے کہ ممکن ہے ابن اسحاق نے ایک روایت کو دوسری روایت میں داخل کیا ہو کیوں کہ بکری کا واقعہ کا ذکر تو واقعہ افق میں موجود ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ اتنی (بھولی) اور کمسن لڑکی ہیں کہ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں۔ پلی ہوئی بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔ 


(صحیح البخاری، کتاب المغازی، رقم: ۴۱۴۱، المقدمات الاساسیة، ص۱۷۵)


یہ خدشہ اسی سلسلہ کی کڑی معلوم ہوتی اور مذید اس روایت کی غیر مقبولیت کا اندازہ مسلم کی حدیث سے بھی ہوتا ہے جن کی راویہ خود امی عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں۔


امام مسلم رحمہ اللہ صحیح مسلم میں فرماتے ہیں

''قالت ام سلمة لعائشة رضی اللہ عنہا إ نّہ یدخل علیک الغلام الأ یفع الذی ما احب علی۔۔۔''

ام سلمہ نے عائشہ سے کہا کہ آپ کے پاس غلام ایفع (ایسا لڑکا جو جوانی کے قریب ہو) آتا ہے جس کو میں پسند نہیں کرتی کہ میرے پاس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم کو رسول کی پیروی اچھی نہیں اور حالانکہ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول سالم میرے پاس آتا ہے اور وہ جوان مرد ہے۔ اور ابو حذیفہ اس کا آنا نا پسند کرتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کو دودھ پلا دو کہ وہ تمہارے پاس آیا کرے۔

(صحیح مسلم، ج۲، رقم۳۶۰۳)


اس حدیث سے واضح ہوا کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا رضاعت کبیر کے مسئلے پر قائل تھیں مگر ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس پر قائل نہ تھیں، بلکہ صحیح مسلم میں یہاں تک موجو دہے کہ


''ابی سائر ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یدخلن علیھن احدا بتلک الرضاعة۔۔''


(صحیح مسلم، ج۲، ص۳۱۶، رقم۱۴۵۴)

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن نے انکار کیا کہ ان کے پاس کوئی آئے اس رضاعت کبیر کی وجہ سے۔''


غور طلب بات ہے کہ امی عائشہ اور حفصہ  کے علاوہ باقی کوئی بھی اس رضاعت کا قائل نہیں اور دلیل کے طور پر امی عائشہ ، سالم والی حدیث ہی پیش کر رہی تھیں ۔ اگر قرآن مجید میں رضاعت کبیر کی کوئی آیت موجود ہوتی تو کیا عائشہ اس کو پیش نہ کرتیں؟؟


یعنی اگر وہ آیت ہوتی جس کو ابن ماجہ نے نکالا بطریق ابن اسحاق کے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کبھی بھی انکار نہ کرتیں، بلکہ وہ اپنے معاملات اور آراء سے رجوع کرتیں قرآن مجید کی آیت کے بعد اور پھر تمام ازواج مطہرات کا انکار آیت ہونے کے باوجود چہ معنی دارد؟


غور فرمائیں۔ یہیں سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ابن اسحاق اپنی روایت میں منفرد ہیں اور امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اگر کوئی ایسی آیت ہوتی تو آپ ضرور پیش کرتیں۔


جہاں تک تعلق اس حدیث کے ٹکڑے کا جس کو ذکر امام مالک نے فرمایا کہ امی عائشہ فرماتی ہیں


''فتوفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھن فیما یقراٴ من القرآن''

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ اس کو (یعنی اس آیت کو جس میں دس بار رضاعت کو منسوخ کرکے پانچ مرتبہ رضاعت کے حکم کو نافذ کیا گیا) پڑھتے تھے۔


(المؤطا ، رقم: ۱۷۸۰)


یہ الفاظ جو مؤطا سے نقل کیے ہیں غیر محفوظ ہیں ۔ کیونکہ ان کے علاوہ جو دو ثقہ راویوں نے جن الفاظ کو ذکر فرمایا ہے ان الفاظ میں یہ نہیں ہیں، جن کا ذکر مؤطا کے راوی عبداللہ بن ابی بکر کر رہے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ اس (آیت) کو پڑھتے تھے۔


ایک اور نقطہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ عبداللہ بن ابی بکر سے زیادہ ثقہ وہ راوی ہیں جو ان الفاظ کو ذکر نہیں کر رہے۔


ان میں سے ایک قاسم بن محمد بن ابی بکر ہیں۔


ان کی روایت کو امام الطحاوی نے شرح مشکل الاثار رقم ۲۰۶۳ میں 


بطریق حماد بن سلمة، عن عبدالرحمن بن القاسم ، عن ابیہ عن عمرة عن عائشہ: قال کان مما نزل من القرآن


سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو کچھ نازل فرمایا پھر اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی اس میں یہ بھی تھا کہ دس بار دودھ پلانے یا پانچ بار دودھ پلانے ہی سے محرم کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔


(سنن ابن ماجہ کتاب النکاح، رقم ۱۹۴۲، شرح مشکل الآثار ۴۵۶۵۱)


مذکورہ بالا روایت میں شک کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ دس بار یا پانچ بار مگر صحیح مسلم کی حدیث سے واضح ہے کہ پانچ بار دودھ پلانے کا حکم نازل ہوا تھا۔


اس نکتہ کو بھی مد نظر رکھنا بے حد ضروری ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات کی تلاوت منسوخ ہوگئی اور حکم باقی رہا۔


تلاوت منسوخ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ انہیں قرآن مجید میں نہ لکھا جائے نہ ہی نماز میں تلاوت کی جائے اور اس قسم کے مسائل میں اس کا حکم قرآن کا نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود اس مذکورہ حکم پر عمل ہوگا کیونکہ اس کا حکم سنت میں ہے۔


دوسرے ''یحییٰ بن سعید الانصاری'' ہیں۔


ان کی روایت بطریق عن عمرة عن عائشہ قالت: انزل فی القرآن عشر رضاعات معلومات ثم انزل خمس رضاعات۔


(مسلم ۱۰۷۵، مسند الشافعی ۲۱/۱)

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دس بار رضاعتِ معلومات کا حکم اتارا پھر پانچ مرتبہ کا۔


یہ دونوں ثقہ حافظ انہوں نے وہ الفاظ نہیں نقل فرمائے جن الفاظ کو عبداللہ بن ابی بکر نے نقل کیے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ اس کو قرآن سے پڑھتے تھے۔


امام الزرقانی مؤطا کی شرح میں رقمطراز ہیں 


ووکذا قول عائشة رضی اللہ عنہا وھی ما یتلی من القرآن ای من القرآن المنسوخ فلا ارادت من القرآن الثابت لا شتھر عن غیرھا من الصحابة کما اشتھر سائر القرآن والذا قال: مالک رحمہ اللہ ولیس العمل علی ھذا 


(شرح الزرقانی، ۳،ص۳۲۱۹)

یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمانا کہ یہ آیت قرآن سے پڑھی جاتی تھی اگر یہ ثابت ہوتی تو ان کے علاوہ باقی صحابہ کے درمیان بھی یہ آیت مشہور ہوتی جس طرح مکمل قرآن مشہور تھا صحابہ میں۔ اسی لیے امام مالک نے فرمایا کہ اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔


یعنی یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ایک آیت ہو قرآن میں اور اس کی تلاوت بھی ہو رہی ہو اور آج وہ ہمارے سامنے نہ ہو اور اگر یہ آیت ہوتی تو آج بھی نمازوں میں اس کی تلاوت ہوتی نہ ہی یہ صحابہ کرام کے دور میں لکھی گئی اور نہ ہی تابعین نے اس کی تلاوت کی جن پر کچھ ذکر کیا ہو۔


لہٰذا یہ الفاظ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تلاوت ہوتی رہی غیر محفوظ ہیں۔ امام طحاوی نے بھی ان الفاظ کو غیر محفوظ گردانا ہے۔


(دیکھیے شرح مشکل الآثار للطحاوی، ج۵،ص۳۱۳،)


جواب نمبر 3👇👇

مزید کچھ محفوظ فورم سے 

کیا قرآن کی کچھ آیات بکری کھا گئی- تحقیق درکار ہے 


محمّد بن اسحاق بن یسار وہ راوی ہے جو عائشہ رضی الله تعالی عنہا پر الزام لگاتا ہے کہ قرآن کی کچھ آیات بکری کھا گئی اس میں اس کا تفرد ہے. ان کے لئے ثقه سے لے کر دجال تک کے الفاظ ملتے ہیں اور شیعت سے بھی ان کی سوچ پراگندہ ہے


سنن ابن ماجہ کی روایت ہے


حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَقَدْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَاعَةُ الْكَبِيرِ عَشْرًا، وَلَقَدْ كَانَ فِي صَحِيفَةٍ تَحْتَ سَرِيرِي، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَتَشَاغَلْنَا بِمَوْتِهِ، دَخَلَ دَاجِنٌ فَأَكَلَهَا.


ام المومنین عائشہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت ہے رجم کی آیت اتری اور بڑے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی اور یہ دونوں آیتیں ایک صحیفہ پر لکھی تھیں میرے بستر کے تلے جب نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے بکری آئی اور وہ صحیفہ کھا گئی


شعیب الأرنؤوط تحقیق میں لکھتے ہیں


لا يصح، تفرد به محمَّد بن إسحاق -وهو المطلبي- وفي متنه نكارة. عبد الله بن أبي بكر: هو ابن محمَّد بن عمرو بن حزم.


وأخرجه أحمد (٢٦٣١٦)، وأبو يعلى (٤٥٨٧)، والطبراني في “الأوسط” (٧٨٠٥)، والدارقطني (٤٣٧٦) من طريق محمَّد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، بهذا الإسناد.


صحیح نہیں اس میں محمد بن إسحاق (بن يسار بن خيار المديني أبو بكر أبو عبد الله) کا تفرد ہے اور وہ المطلبي ہے اور اس روایت کے متن میں نکارت ہے. عبد الله بن أبي بكر، وہ ابن محمَّد بن عمرو بن حزم ہیں اور اس روایت کی تخریج احمد (٢٦٣١٦)، اور أبو يعلى (٤٥٨٧)، اورالطبراني نے “الأوسط” (٧٨٠٥)، اور الدارقطني (٤٣٧٦) نے محمَّد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بکر کے طرق سے کی ہے


الزمخشري (المتوفى: 538هـ) کتاب الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل میں لکھتے ہیں


وأمّا ما يحكى: أن تلك الزيادة كانت في صحيفة في بيت عائشة رضى الله عنها فأكلتها الداجن فمن تأليفات الملاحدة والروافض


اور یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اضافہ ایک صحیفے میں عائشہ رضی الله تعالی عنہا کے گھر میں تھا اور اس کو بکری کھا گئی تو یہ ملاحدہ اور روافض کی تالیف ہے


الذہبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں امام محدثین یحییٰ بن سعید القطان ، محمد بن اسحاق سے روایت نہیں کرتے تھے


وقال ابْن معين: كَانَ يحيى القطَّان لا يَرْضَى ابْن إِسْحَاق، ولا يروي عَنْهُ.

ترتیب : ناصر رانا

رجم کی آیت کے گم ہوجانے کا مفروضہ – تحقیقی جائزہ

 

عیسائی مبلغین اور اسلام مخالف مستشرقین وملحدین کی طرف سے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ رجم کی آیات پہلے موجود تھیں لیکن محفوظ نا رہ سکی اس لیے آج کا موجودہ قرآن ان سے محروم رہ گیا۔اس دعوی کے ثبوت میں مندرجہ ذیل حدیث من مانی تشریح کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

إنّ اللّٰہ بعث محمّدا صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بالحقّ وأنزل علیہ الکتاب، فکان ممّا أنزل اللّٰہ آیۃ الرجم، فقرأناہا وعقلناہا ووعیناہا، رجم رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ورجمنا بعدہ، فأخشی إن طال بالناس زمان أن یقول قائل : واللّٰہ ما نجد آیۃ الرجم فی کتاب اللّٰہ، فیضلّوا بترک فریضۃ أنزلہا اللّٰہ، والرجم فی کتاب اللّٰہ حقّ علی من زنی إذا أحصن من الرجال والنسائ، إذا قامت البیّنۃ أو کان الحبل أو الاعتراف، ثمّ إنّا کنّا نقرأ فیما نقرأ من کتاب اللّٰہ أن لّا ترغبوا عن آبائکم، فإنّہ کفر بکم أن ترغبوا عن آبائکم، أو إنّ کفرا بکم أن ترغبوا عن آبائکم ۔ (صحیح بخاری ۸: ۲۶ ـ صحیح مسلم ۵: ۱۱۶ ـ مسند احمد ۱: ۴۷ .)


 ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے جو وحی آپ پر نازل کی تھی ، اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (شادی شدہ زانیوں کو)رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی ایسا کیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اللہ کی قسم ! ہمیں کتاب اللہ میں رجم والی آیت نہیں ملی اور یوں وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں شادی شدہ زانی مرد و عورت پر رجم ثابت ہے جب کوئی دلیل قائم ہو جائے یا (کنواری عورت) حاملہ ہو جائے یا زانی خود اعتراف کر لے۔ پھر ہم کتاب اللہ کے جس حصے کو پڑھ کرتے تھے ، اس میں یہ بھی پڑھتے تھے کہ تم اپنے آباء سے اعراض نہ کروکیونکہ اپنے آباء سے اعراض کفریہ کام ہے۔(صحیح بخاری )


ان اسلام مخالف عناصر کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک یا دو روایات اٹھا کر ان سےنکالے گئے اپنی مرضی کے مطالب کی بنیاد بالکل الٹ کہانی گھڑ لیتے ہیں اس بات کو جانے بغیر کہ اسلامی روایات کا خزانہ بہت وسیع ہے اور وہ کسی بھی من پسند تشریح کرنے والے کا پردہ آرام سے چاک کر سکتا ہے __! آئیے اس مسئلے کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں __!


اس مبینہ آیت کے بارے میں حقیقت:

بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ رجم کی اس آیت کے الفاظ یہ تھے “الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ (بوڑھا اور بوڑھی جب زنا کریں تو دونوں کو ضرور رجم کر دو”۔ اور یہ منسوخ ہوگئی تھی . لیکن بہت سی روایات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کبھی قرآن کا حصہ نہیں سمجھی گئی _! لفظ “نازل” اس کے بارے میں صرف مجازی/اصطلاحی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ یہ آیت شاید یہودیوں کی کتابوں میں تھی اور یہ قرآن کی آیت کے طور پر نازل نہیں تھی. لیکن اس کا حکم چونکہ وحی سے ثابت تھا اس لیے جوں کا توں مقرر رہا ۔طبری کی تفسیر کی درج ذیل روایت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت پہلے صحیفوں کا حصہ تھی۔

ابن جریر سورہ المائدہ کی تفسیر میں یہودیوں کے سنگسار کرنے کے واقعہ کو بیان کرتے ہیں۔ “آپﷺ نے ان سے کہا “تم سے سے سب سے زیادہ قانون جاننے والا کون ہے ؟” انہوں نے کہا “عبداللہ بن سوریا” اسے بلایا گیا اور وہ آیا پس آپﷺ نے فرمایا “کیا تم ان میں سب سے زیادہ قانون جاننے والے ہو” اس نے کہا “یہودی ایسا سوچتے ہیں” آپﷺ نے اس سے کہا ” اللہ اور اللہ کی طرف سے موسیٰ کو سینا میں دی جانے والی شریعت کی رو سے (مجھے بتاؤ) کہ زانیوں کی بابت کیا حکم دیا گیا ہے” اس نے کہا ” ائے ابوالقاسمﷺ ! وہ زانیوں کو سنگساری کا حکم کرتے تھے __ وہ امیر آدمی(اگر اس نے یہ گناہ کیا ہو ) کا چہرہ کالا کر کے اسے اونٹ پر بٹھاتے اور اونٹ کی پشت کی طرف اس کا منہ کر کے اسے پتھر مار مار کر جان سے مار دیتے تھےاور یہی حال عورت کا کرتے” پھر آپﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا ” اللہ اور اللہ کی طرف سے موسیٰ کو سینا میں دی جانے والی شریعت کی بابت مجھے بتاؤ کہ تم اس قانون میں کیا پاتے ہو؟” اس نے فضول گوئی شروع کردی اور آپﷺ نے اسے اللہ اور اللہ کی طرف سے موسیٰ کو سینا پر دی جانے والی شریعت کے مطابق بتانے پر زور دیا یہاں تک کہ اس نے کہا “جب کوئی شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انہیں سنگسار کر دو” پھر آپﷺ نے فرمایا”ایسا ہی ہے __ ان کو لے جاؤ(جنہوں نے زنا کیا تھا) اور سنگسار کر دو۔(تفسیر ابن جریر الطبری 10/328 روایت11976)۔


حافظ ابن جریر طبری ؒ ( م310ھ) نے حضرت جابر بن زیند ( رضی اللہ تعالی عنہ ) سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں کے رجم کے واقعہ میں جب آنحضرت ﷺ نے قسمیں دے کر عبداللہ بن صوریا سے پوچھا: تورات میں شادی شدہ زانی کا حکم کیا ہے؟ تو اس نے یہ آیت پڑھی: ( الشیخ و الشیخۃ فارجموھما البتۃ ) اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ” فھو ذاک ” یعنی بس یہی حکم تو چاہیئے تھا۔ ” (تفسیر الطبری، تفسیر سورۃ المائدہ، آیت 42، 4/157)

عبداللہ بن سوریا یہودی کی بات سے بھی واضح ہو گیا کہ یہ آیت تورات کی آیت کے مشابہ ہے ۔اور ہم یہ احکامات کہ تورات میں مسلسل تحریف کے باوجود آج بھی بائبل میں ڈھونڈ سکتے ہے جیسا کہ Deuteronomy 22 بیان کرتی ہے۔ چونکہ اس کے مرکزی مفہوم کو اسلامی شریعت میں بھی باقی رکھا گیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے مطابق فیصلے بھی فرمائے تھے، اس لیے یہ فقرہ ایک واجب العمل حکمِ الہٰی کی طرح زبان زدعام ہوگیا۔


رجم کی روایت کا مفہوم:


 یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ وحی صرف قرآن تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ کے فرمان بھی وحی (غیر متلو) ہیں ، جیسا کہ قرآن میں ہے آپﷺ جو بھی فرماتے تھے وہ اپنی مرضی سے نہیں فرماتے تھے (53:3) ہم اوپر بیان کی جانے والی حدیث کا تجزیہ کرتے ہیں __!


کان مما انزل اللہ سے مراد:

اوپر پیش کردہ بخاری کی روایت کے شروع میں رجم کے لیے الفاظ آئے ہیں “کان مما انزل اللہ”ترجمہ:-” یہ قانون بھی ان ہی باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ نے نازل فرمایا”۔غور فرمائیے اسی روایت میں آگے ذکر ہے “اناکنا نقرا فیما نقرا من کتاب اللہ ان لا ترغبوا عن ابانکم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن ابانکم۔”ترجمہ:-“جس راہ کی چیز سمجھ کرکتاب اللہ (قرآن) کو ہم پڑھتے تھے کہ اپنے باپوں سے اعراض نہ کروکیونکہ اپنے باپوں سے اعراض تمہارے لئے کفر ہے۔”

رجم کے متعلق تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صرف “مما انزل اللہ” کہا تھا مگر یہ کہ باپوں سے اعراض کرنے کے متعلق جو الفاظ آپ نے فرمائے، اس میں تو “کنا نقرا فیما نقرا من کتاب اللہ”(یعنی ہم پڑھتے تھے اس کو اسی سلسلے میں جس سلسلہ میں قرآن پڑھتے تھے ) کے الفاظ ہیں لیکن ان الفاظ سے کبھی وہ نا سمجھا گیا جو رجم کے متعلق سمجھا گیا ہے!!۔

دراصل غلط فہمی جن الفاظ سے ہوئی وہ’ فکان فیما انزل اللہ علیہ آیۃ الرجم’ کا ٹکڑا ہے ۔ عام طور پر اس جملہ کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ آپ پر اللہ نے جو چیز (یعنی قرآن) نازل فرمائی اس میں آیت رجم بھی تھی، یعنی کان کا ترجمہ “تھی” فعل ماضی سے کرتے ہیں اور آیت سے مراد معروف قرآنی فقرہ سمجھ لیا جاتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کان جس طرح ماضی کےلئے آتا ہے ٹھیک اسی طرح کان کا استعمال حال کے لئے بھی ہوتا ہے اور آیت سے مراد جس طرح قرآنی الفاظ مراد لیے جاتے ہیں بعینہ اسی طرح حکم الہی شرعی بھی مراد لیا جاتا ہے ۔

ایک مزید روایت سے وضاحت :بیر معونہ میں حفاظ قرآن کی کافی تعداد جو دھوکہ سے شہید ہوئی تھی، حدیث میں اس قصہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :”فاخبرجبریل علیہ السلام النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہم لقوا ربہم فرضی عنہم و ارضاہم”ترجمہ:- جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ حفاظ قرآن کی یہ جماعت اپنے پروردگار سے جا کر مل گئی پس اللہ ان سے راضی ہوا اور ان لوگوں کو خدا نے خوش کر دیا۔”بعض روایات میں ہے کہ خود ان شہید ہونے والے حفاظ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا قتل ہونے سے پہلے کی تھی کہ”اللہم بلغ عنا نبینا انا قد لقیناک قد فرضینا عنک و رضیت عنا”ترجمہ: “اے اللہ ہمارے نبی کو مطلع کر دیجیئےکہ آپ سے ہم مل گئے بس ہم آپ سے راضی اور خوش ہوئے اور آپ ہم سے راضی اور خوش ہوئے۔”(صحیح مسلم جلد 13 صفحہ 49)

اس روایت کا ذکر کر کے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ہم الفاظ کو یعنی ان شہداء کی دعا کے ان الفاظ کو جن کی خبر جبریل علیہ السلام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تھی پڑھا کرتے تھے ” فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ فَكُنَّا نَقْرَأُ ” أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ” ” (بخاری، جلد:۱ صفحہ:۳۹۳) ۔ ان لفظوں کی نوعیت بھی وہی “فیما انزل من القرآن” یا “کنا نقرء فیما نقرء من کتاب اللہ” کی ہے یعنی جبریل علیہ السلام کے توسط سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ پہنچا تھا۔ معلوم ہو چکا کہ قرآن کی وحی میں تو جبریل علیہ السلام ضرور واسطہ کا کام کرتے تھے لیکن ہر وہ چیز جو جبریل علیہ السلام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تھی، اس کا قرآن ہونا ضروری نہ تھا اور یہی صورتحال ان الفاظ کی ہے۔ اور ہم احادیث سے اس رجم کے متعلق ‘آیت’ تلاش بھی کرسکتے ہیں

عجمیٰ سےروایت ہے ، وہ کہتی ہیں میں نے کہ آپﷺ کو فرماتے سنا ” اگر شادہ شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو دونوں کو سنگسار کر دو” (طبرانی کبیر حدیث 20321, ابن حجر نے اسے اپنی موافقات الخبر الخبر 2/304 میں حسن کہا ہے ۔یہی المستدرک ، حدیث 8070 میں دیکھی جاسکتی ہے۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اورامام ذہبی نے انکی تائید کی ہے


یہ آیت کبھی بھی قرآن کا حصہ نہیں تھی:


اسکے اور بھی بہت سارے ثبوت موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت کبھی قرآن کا حصہ نہیں سمجھی گئی ۔

1. کثیر بن سلط کی روایت میں مذکور ہے کہ زید بن ثابت نے فرمایا “میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انہیں سنگسار کر دو” یہ ان کر عَمر نے کہا ” جب ایسا بیان کیا گیا تو میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسے لکھنے کی عرض کی لیکن آپﷺ نے ناپسند فرمایا __! (مستدرک الحاکم، حدیث 8184, حاکم نے اسے صحیح کہا ہے

2. اس آیت کے متعلق کثیر بن سلط فرماتے ہیں کہ وہ، حضرت زید بن حارث اور مروان بن حکم گفتگو کر رہے تھے کہ اس آیت کو قرآن میں شامل کیوں نہیں کیا گیا اور حضرت عمر بن خطاب وہاں موجود تھے اور ان کی گفتگو سن کے انہوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں اور کہا کہ میں اللہ کے پیغمبرﷺ کے پاس آیا اور عرض کی :” سنگسار کرنے کی آیت کو لکھنے کی اجازت دیں” آپﷺ نے فرمایا ” میں ایسا نہیں کر سکتا” (سنن البیہقی 8/211، سنن الکبرا نسائی حدیث 7148) البانی نے (صحیحہ 6/412 میں لکھا ہے کہ بیہقی نے اس کی سند کی طرف اشارہ کیا ہے۔


اگر یہ قرآن کریم کی آیت ہوتی تو آپ ﷺ اس کو دوسری آیات کی طرح ضرور لکھواتے۔ لیکن ان دونوں واقعات میں آپ ﷺ نے ابتداء ہی سے اس کو لکھوانے سے انکار فرمایا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآنِ کریم کا جز کبھی نہیں رہے اور جن روایات میں اس کو نازل ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآنِ کریم کے جز کے طور پر نازل ہوئی تھی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی مطلع کیا گیا تھا کہ یہ آیت تورات میں موجود ہے اور مسلمانوں کے لیے اب بھی قابلِ عمل ہے۔

اسے آیت کیوں کہا جاتا ہے ؟؟؟

درحقیقت یہ پچھلی الہامی کتاب کی آیت ہے جیسا کہ اوپر طبری کی روایت میں ذکر کیا گیا، اور چونکہ اس آیت کا حکم وحی پر مبنی تھا اس لیے اسے آیت کہا جاتا ہے اور اس کے لیے “نازل شدہ” یا “وحی” کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔


کیا اب قرآن میں سنگساری کا حکم موجود ہے ؟؟؟

حضرت عمر کے الفاظ کہ’ لوگ ایسا کہہ سکتے ہیں کہ ہم رجم کی سزا قرآن میں نہیں پاتے’ یہ قرآن میں صریح بیان کے متعلق ہیں کہ قرآن میں واضح حکم موجود نہیں ورنہ قرآن مجید کے بین دفین میں سنگساری کا حکم موجود ہے ۔ ترجمہ:اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ” یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں( 5/43-44)


یہ آیات رجم کے متعلق نازل ہوئیں اور الفاظ ” اللہ کا حکم (آیت 43)” اور “جو اللہ نے وحی کیا ہے (آیت 44)” سنگساری کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں۔یہ بات کثیر، طبری اور قرطبی کی ان آیات کی تفسیر ‘ کو دیکھنے سے بالکل واضح ہو جاتی ہے.حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ شاید انہی آیات کے متعلق تھا ۔

ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ صحابہ کرام کسی امر کے آپﷺ کی احادیث سے ثابت ہونے کو بھی اتنا ہی معتبر سمجھتے تھے جتنا کہ قرآن مجید کو ۔درج زیل روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے:

“عبداللہ بن مسعود نے فرمایا” اللہ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو ٹیٹو بناتی ہیں اور ان پر بھی جو ٹیٹو بنواتی ہیں اور ان عورتوں پر بھی جو اپنے چہرے سے بال ختم کرتی ہیں اور ان پر بھی جو زیادہ خوبصورت لگنے کے لیے اپنے دانتوں میں مصنوعی خلا پیدا کرتی ہیں حالانکہ وہ اللہ کی تخلیق کو بدل رہی ہوتی ہیں ” ان کی یہ بات بنی اسد کی ایک عورت بنو یعقوب کو پہنچی تو وہ عورت آپ کے پاس آئی اور کہا ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے” عبداللہ بن مسعود نے کہا “میں کیوں نا ایسی عورتوں پر لعنت کروں جن پر اللہ کی نبیﷺ نے لعنت کی اور جن پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے” ام یعقوب نے کہا ” میں نے پورا قرآن پڑھا ہے لیکن اس میں کسی جگہ یہ نہیں دیکھا جو تم نے کہا ” آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” بلاشبہ اگر تم نے( قرآن )پڑھا ہوتا تو تمھیں معلوم پڑ جاتا۔ کیا تم نے یہ نہیں پڑھا “اور جو کچھ تمہیں اللہ کا نبی دے، اسے پکڑ لو اور جس سے روکے اسے چھوڑ دو (59.7) ” اس نے کہا ” ہاں پڑھا ہے” عبداللہ بن مسعود نی فرمایا” بے شک اللہ کی نبی ہمیں ایسی باتوں سے روکتے تھے” ( بخاری،حدیث 4507 )


اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ سنگساری کا حکم حدیث میں موجود ہے اور حضرت عمر کی بات کو اسی ضمن میں لیا جاسکتا ہے ۔


روایت میں کتاب اللہ کے الفاظ کا مطلب :


زیر تبصرہ روایت میں غلط فہمی کی سب سے بڑی وجہ ” کتاب اللہ ” کے الفاظ ہیں، کیونکہ کتاب اللہ سے قرآن مراد لیا جاتا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ قرآن و سنت میں ان الفاظ کو کسی دوسرے مفہوم کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کا کتاب اللہ کہنے سے کیا مطلب تھا؟


قرآن مجید میں ” کتاب ” کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلا ” خط ” (النمل، 27/28) ” نوشتہ تقدیر ” (ال عمران، 3/145، الانفال 8/68) ” فریضہ ” (النساء، 4/103، البقرۃ، 2/183) ” صحیفہ ” (الطور، 52/2-3) وغیرہ ۔


۔اسی طرح کتاب اللہ کے معنیٰ حکم اللہ کے بھی ہیں، اگرچہ وہ حکم قرآنِ مجید میں واضح طور پر موجود نہ بھی ہو۔ کتاب اللہ کا اطلاق جس طرح قرآن پر ہوتا ہے اسی طرح اللہ کے احکام اور فرائض پر بھی کتاب اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، بندوں پر جس قدر فرائض، خواہ وہ قرآن میں مذکور ہیں یا سنت میں، ان سب پر کتاب اللہ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہے:” یا قومِ ادخلو الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم “ترجمہ : ( اے میری قوم! اس مقدس زمیں داخل ہوجاؤ جسے اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔


یہ مفہوم خود رسول اللہ ﷺ کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے۔ صحاح ستہ میں یہ واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ ﷺ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کردیجیئے۔ اب دوسرا فریق جو پہلے سے کچھ زیادہ سمجھدار تھا، کہنے لگا کہ ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق فرمائیے اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا! اچھا بیان کر، اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص ( فریق ثانی ) کے پاس نوکر تھا اور اس نے اس شخص کی بیوی سے زنا کیا ہے۔ میں نے سو بکریاں اور ایک غلام دے کر اپنے بیٹے کو چھڑا لیا۔ اس کے بعد میں نے کئی علماء سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تیرے بیٹے کے لیے سزا سو کوٹے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس شخص کی بیوی کے لیے ” رجم ” ہے۔ نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا:” و الذی نفسی بیدہ لا قضین بینکما بکتاب اللہ جل ذکرہ، المائۃ شاۃ ولاخادم رد، و علی ابنک جلد مائۃ و تغریب عام، واغد یا انیس علی امراۃ ھٰذا، فان اعترفت فاجمھا فغدا علیھا فاعترفت، فرجمھا” (بخاری، کتاب الحدود، باب الاعتراف بالزنا، ح 6827، ص 1432)


ترجمہ: ( اس پروردگار کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کا ذکر بلند ہے، میں تم دونوں کے درمیان ” کتاب اللہ ” کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور غلام ( جو تونے دیئے ) تجھے واپس ہوں گے اور تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ، اور اے انیس (رضی اللہ تعالی عنہ ) کل صبح اس عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔ چنانچہ انیس ( رضی اللہ تعالی عنہ ) اس کے پاس گئے تو اس نے اعتراف کرلیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔ )


اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رجم کا فیصلہ حکمِ الہی کے مطابق دیا تھا، اگرچہ قرآن میں رجم کا حکم نہیں ہے، گویا حدیثِ رسول ﷺ پر ” کتاب اللہ ” کا اطلاق کرنا خود نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ لہذا حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں خطبہ دیتے ہوئے جب یہ فرمایا:


” الرجم فی کتاب اللہ حق علی من زنی اذا أحصن منن الرجال و النساء۔ ترجمہ: ( رجم کا حکم کتاب میں حق اور ثابت ہے جبکہ شادی شدہ مرد اور عورت زنا کرے ۔(بخاری ، کتاب الحدود، باب رجم الحبلی فی الزنا، ح 6830، ص 1433)


تو یہاں بھی ” کتاب اللہ” سے آپ کی مراد قرآنِ مجید نہ تھی، جیسا کہ عام طور پر مستشرقین، منکرینِ حدیث اور دیگر معترضین نے سمجھا ہے۔ بلکہ پوری شریعت بشمول حدیثِ رسول ﷺ تھی، کیونکہ صحابہ کرام ( رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ) کتاب اللہ سے پوری شریعت مراد لیا کرتے تھے اور وہ حدیثِ رسول ﷺ کو قرآن مجید سے علیحدہ کوئی چیز تسلیم نہیں کرتے تھے۔ صحابہ کرام ( رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ) کا عقیدہ اور نقطہ نظر یہ تھا کہ حضور ﷺ کی ہدایات بھی وحی الہٰی کے ہی تابع ہیں اس لیے وہ احادیث رسول ﷺ پر ” کتاب اللہ ” کا اطلاق کردیا کرتے تھے۔ اس کی نظیر ہمیں ابنِ مسعود کی اوپر پیش کردہ روایت میں بھی ملتی ہے۔ عورتوں کے بارے میں ابنِ مسعود ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی بیان کردہ اس تنبیہ اور ہدایت کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے حدیثِ رسول ﷺ پر بھی ” کتاب اللہ ” کا اطلاق کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی، کیونکہ صحابہ کرام ( رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ) حدیث اور سنتِ رسول ﷺ کو حکمِ الہٰی کا قولی اور عملی اظہار ہی سمجھتے تھے، اس واقعے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ( رضوان اللہ تعالی علیھم اجعمین ) بسا اوقات قولِ رسول ﷺ کے لیے ” کتاب اللہ ” کا لفظ استعمال کرلیا کرتے تھے۔ الغرض زیر بحث روایت میں بھی حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) نے فرمانِ رسول ﷺ کے لیے اگرچہ ” کتاب اللہ ” کا لفظ استعمال کیا، اصلاً وہ اس کو قرآن کا جز نہیں سمجھتے تھے۔

کیا حضرت عمر واقعی ایسا سوچتے تھے کہ قرآن کی کچھ آیات موجود نہیں ہیں؟؟؟


یہ واضح ہے کہ حضرت عمر ( الشیخ و الشیخۃ فارجموھا البتۃ ) والے فقرے کو قرآن کریم کا حصہ نہیں سمجھتے تھے ۔ اگر ان کے نزریک یہ فقرہ قرآن کریم کا جز ہوتا تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس کا اعلان کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی تھی، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ قرآن کریم کے حاشیےپر یہ فقرہ اس بات کے اظہار کے لیے لکھ دیں کہ زانی محصن کو رجم کرنے کا حکم منسوخ نہیں ہوا بلکہ اب بھی واجب العمل ہے، چنانچہ امام احمد بن حنبل ؒ ( م 241ھ) نے حضرت عمر ؒ ( م 23ھ) کا یہ خطبہ نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں:


ترجمہ: “اگر ایسا نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہنے لگیں کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کیا ہے تو میں اس آیت کو قرآن میں لکھوا دیتا” (مسند احمد، حدیث 151، احمد شاکر نے اسے صحیح کہا ہے)

سنن نسائی الکبری حدیث 7151 کے الفاظ کے مطابق حضرت عمر نے فرمایا: ” میں اسے لکھتا اور قرآن کے حاشیے میں شامل کر دیتا”۔۔( المسند، حدیث عمر بن الخطاب (رضی اللہ تعالی عنہ ، ح 157، 1/40)۔


اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ رجم کے حکم نہ قرآن کریم کا جز سمجھتے تھے، نہ قرآن کریم کے متن میں اس کا اضافہ کرنے کا کوئی خیال ان کے دل میں آیا تھا، بلکہ انہوں نے محض ایک تشریحی اضافے کے طور پر اس کو حاشیے پر لکھنے کا خیال مسئلہ رجم کی اہمیت جتلانے کے لیے ظاہر کیا تھا اور عمل اس پر بھی نہیں کیا، کیونکہ اس طرح طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی تھیں۔


علامہ زرقانی ؒ ( م1122ھ) اس روایت کی شرح میں لکھتے ہیں:


ترجمہ: اور جو بات بالکل واضح ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی مراد ظاہری معنیٰ نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد اس مسئلے کی اہمیت واضح کرنا اور رجم پر ابھارنا تھا، حضرت عمر کا ایہ مقصد نہیں تھا کہ الفاظ کی منسوخی کے باوجود یہ آیت باقی رہنےوالی ہے، آپ ( رضی اللہ تعالی عنہ) جیسے فقیہ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ انھوں نے الفاظ کی منسوخی کے باوجود اس آیت کو ( قرآن مجید میں ) لکھنے کا حکم دیا ہوگا۔ لہذا اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ (شرح الزرقانی علی موطأ لامام مالک، 4/193-194)۔


بہرحال حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی دور اندیشی ملاحظہ فرمائیں کہ حدِ رجم کے بارے میں آپ (رضی اللہ تعالی عنہ ) نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوا، چنانچہ امام نووی ؒ ( م676ھ ) فرماتے ہیں:


ترجمہ: حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کا یہ قول: میں ڈرتا ہوں کہ جب زمانہ زیادہ گذر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے کہ ہم رجم کو خدا کے مقرر کیئے ہوئے حکم میں نہیں پاتے، پس لوگ ایک فرض چھوڑنے پر گمراہ ہوں گے، حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کا ڈر خوارج اور ان کی موافقت کرنے والوں کے حق میں پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے۔۔(المنھاج، کتاب الحدود، باب رجم الثیب فی الزنا، 11/191)


اس روایت کو محدثین نے مختلف اسناد سے نقل کیا ہے، یہ حدیث زید بن ثابت ( رضی اللہ تعالی عنہ ( م 44ھ ))، عمر بن العاص ( رضی اللہ تعالی عنہ ( م 42ھ ))، عبدالرحمن بن عوف ( رضی اللہ تعالی عنہ ( م 32ھ)) وغیرھم سے بھی مروی ہے، ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے الفاظ قرآنی آیت کے طور پر ذکر نہیں فرماےئے۔ (السنن الکبری، کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ہو جلد الزانیین، ح 2913، 8/367)


غالب گمان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان مخصوص الفاظ ” اور جو کوئی شادہ شدہ مرد اور عورت زنا کرے، اسے سنگسار کر دو” کو قرآن کے ٹیکسٹ کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔اس بات کا ثبوت ایک اور روایت میں ہے جس میں انہوں نے فرمایا:


سائیڈ پر یا حاشیے کے طور پر داخل کرنے کی بات سے واضح ہے کہ وہ اسے آگے آنے والی نسلوں کو اسکی اہمیت بتانے کے لیے صرف تفسیر کے طور پر داخل کرنا چاہ رہے تھے ‘ انہیں اندیشہ تھا کہ لوگ اس حکم کا انکار کردیں گے ۔

اوپر بیان کی تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ رجم سے متعلق ایسی کوئی آیت قرآن کا حصہ نہیں تھی۔


علماء کا نقطہ نظر:

یہ نقطہ نظر کہ رجم کی کوئی آیت قرآن کے حصے کے طور پر نازل نہیں ہوئی تھی اور نا منسوخ کی گئی تھی ‘ ہماری گھڑی ہوئی بات نہیں ہے ۔درحقیقت یہ تحریر مفتی تقی عثمانی صاحب کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے (دیکھیے تکملہ فتح الملہم جلد 2، صفحہ 354-61)

سید مودودی رحمہ اللہ کابھی یہی نقطہ نظر ہے۔انکی طرف سے دیا گیا اک سوال کا جواب یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے.


علامہ آلوسی ؒ نے ابن ہمام کے بارے میں بھی لکھا ہیں کہ ان کا بھی یہی خیال تھا (روح المعانی 9/278)

الباقلانی ؒ(403ھ) نے بھی اپنی کتاب الانتصار میں اس بات کو رد کیا ہے کہ پہلے یہ آیت قرآن کا حصہ تھی اور پھر منسوخ ہو گئی ۔ شیخ شعیب ارنوط نے بھی اسے مسند احمد کی حدیث 21636 کی تشریح میں پیش کیا ہے اور اسکی تائید کی ہے۔

ہمارے نزدیک یہ تفصیل موضوع متعلق تمام اشکالات اور سوالات سے بچنے کے لیے کافی ہے ۔


حاصل کلام /خلاصہ :

یہ کہا جاتا ہے کہ رجم کا حکم قرآن کریم ہی کی ایک آیت سے ثابت ہے اور وہ آیت منسوخ التلاوۃ ہے ، جبکہ اس کا حکم باقی رکھا گیا ہے، اور وہ آیت “الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھاالبتہ” کے الفاظ سے بیان کی جاتی ہے۔ اگر اس دعوی کا تحقیقی طور پر جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جن حضرات نے اس عربی عبارت کو الفاظِ قرآن سے تعبیر کیا اورپھر ان کی منسوخیت کا قول اختیار کیا ہے اس باب میں ان سے تسامح ہوا ہے، اس باب میں وارد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی (دوسرے صحابہ سے اس باب میں جو مروی ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا، وہ اس کو آیت ِقرآنی ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ سے بادی النظر میں یہ شبہ ہوتاہے کہ روایت میں موجود اللہ کے نازل کردہ سے مراد قرآن کریم ہے، لیکن اس باب کی تمامتر روایت کا تتبع کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ الفاظ قرآن کریم میں شامل ہی نہیں تھے بلکہ ایک یہودی عالم نے رجم کی بابت سوال پر آنحضرتﷺ کے سامنے یہ الفاظ پڑھے تھے تو آپﷺ نے اس فیصلہ کو باقی رکھا تھا، یہ الفاظ تورات کے تھے۔

اس کی تائید مزید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہوا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب رجم کا حکم اترا تو میں نے آنحضرتﷺ سے عرض کی کہ رجم کی آیت لکھوا دیں لیکن نبی ﷺ اسے لکھوانے سے ناپسنددیدگی ظاہر کی، اب اگر یہ الفاظ ِقرآن ہوتے تو آنحضرتﷺ انہیں لازمی طور پر قرآن کریم میں لکھواتے ۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے رجم کے حکم کو باقی رکھا تو اس پر مجازاً نزول کا لفظ بولا گیا ، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو آیت ِ رجم لکھوانے کا مطالبہ تھا وہ بطور ِقرآن کا جزو نہیں تھا، بلکہ بطورِ تفسیری حاشیہ تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا یہ معمول تھا کہ وہ قرآن کریم کے بعض تفسیری حواشی لکھ لیا کرتے تھے، آنحضرتﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا کہ اس کو بطورِ تفسیر ی حاشیہ لکھ لیا جائے کیونکہ خدشہ یہ تھا کہ لوگ اسے قرآن کا جزو سمجھ لینگے ، یہاں یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ دوسری تفسیری حواشی کو تو لوگ قرآن کا جزو نہیں سمجھے اس میں یہ خدشہ کیوں پیدا ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہے ایک تو یہ آیت آیتِ تورات تھی، دوسرا اس کا حکم بھی باقی تھا، اس پر عمل بھی جاری تھا، اور آنحضرت ﷺ نے اسے پڑھا بھی تھا، اس سے بعد کے لوگوں غلطی میں مبتلا ہوسکتے تھے۔

اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عمر نے قرآن میں اس چیز کی زیادتی کی جو اس میں نہیں تھی تو میں یہ آیت اس کے حاشیہ پر لکھوا دیتا، اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت شروع ہی سے قرآن کا جزو نہیں تھی اور نہ ہی حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو قرآن کے جزو کے طور پر لکھوانا چاہتے تھے، صراحتہ مسند احمد کی روایت میں مروی ہے کہ وہ اس کو حاشیہ پر لکھوانا چاہتے تھے۔

جن حضرات کو جن روایات سے اس کے آیت ہونے کا شبہ ہوا ہے اگر وہ غور سے تمام روایات کا تتبع کریں توانکا نتیجہ بھی اس کے علاوہ نہیں ہوگا، جو اوپر مذکور ہوا ہے۔چنانچہ اہل ِعلم حضرات کے لئے یہ باب غوروفکر کا متقاضی ہے۔

اس بحث سے ہٹ کر ہم یہ واضح کردیں کہ سنگساری کا حکم بلاشبہ موجود اور ثابت شدہ ہے ۔ اس کے بارے میں کم و بیش 52 صحابہ کی متواتر احادیث موجود ہیں ( ریفرینس کے لیے دیکھیے تکملہ فتح الملہم “,والیم 2, صفحہ 362) اور یہ سزا قرآن کریم کی بعض آیات سے بھی ثابت ہے اگرچہ وہ صریح نہیں ہیں

حضرت ابنِ عمرؓ اور قرآن کا کثیر حصہ ضائع ہوجانے کا جھوٹ

 

اسلام اور اسکے ماخذ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا ملحدین اور عیسائی مشنریز کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے ۔ان کی غلطیوں اور غلط بیانیوں کا سالوں سے ہر فورم سے جواب دیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی وہ اسی ٹیکنیک اور تراکیب کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں ؟ انکے تعلیمی اسناد وغیرہ تو کسی شک و شبہ کے بغیر قبول کیے جاسکتے ہیں مگر انکی ذہنیت اور مقصد کا اندازہ ان کے پھیلائے جانے والے جھوٹ اور دھوکے سے باآسانی کیا جا سکتا ہے۔انکی علمی اہلیت نا قابلِ اعتبار ہے ، جہاں بھی جاتے ہیں ان کے جھوٹ اور دھوکہ دہی کی شہرت ان کا ہمیشہ پیچھا کرتی ہے ۔ ماضی کے مستشر قین سے متاثر ہوکر کچھ مخلص (مگر جاہل) اور دوسرے تباہ کن ایجنڈے کے مبلغوں میں اس بات کی شدید کمی پائی جاتی ہے کہ وہ اسلام کو اخلاص کے ساتھ غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھیں۔۔ اسلام کے متعلق اپنی نفرت کی پیاس بجھانے کی خاطر انہوں نے قرآن مجید پر بہت غیر سنجیدہ اوربے وقو فانہ حملے کیے ہیں۔ اس کام کی خاطر انہوں نے کسی بھی قسم کا مبہم بیان یا معلومات دینے سے گریز نہیں کیا جس سے قرآن کی حقانیت اور قابلِ اعتماد ہونے میں شکوک و شبہات پیدا ہوسکیں ۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ کہ ان کی زیادہ تر تحقیقات تراجم اور وضاحتوں سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ )۔ اس حقیقت کا سامنا نہ کر سکنے کہ موجودہ بائبل انسانی بہتان ہیں جنکو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے’ انہوں نے اپنی اس شرمندگی اور ہزیمت کو چھپانے کی خاطر قرآن کریم کا رُخ کر لیا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق قرآن مجید کو ہر شک و تبدیلی سے محفوظ رکھا ہوا ہے: ” ہم نے اس قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنیوالے ہیں۔” (قرآن 15:9 )
حضرت ابنِ عمرؓ کی مذکورہ روایت جو کہ علامہ سیوطی نے اپنی کتاب الاتقان فی العلوم القران میں بیان کی ہے ، نے بہت سے مستشرقین ، مبلغوں اور دیوانوں کو جوش دلایا ہے۔ جیسا کہ سام شمعون ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

ابنِ عمر اور مسئلہ ضیاعِ قرآن
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت جو حافظ السیوطی (المتوفی 911ھ) نے اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں نقل کی ہے ‘ کو دیکھ کر مستشرقین اور مشنریوں اور دوسرے متعصبین کافی جذباتی ہوئے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اس نے پورا قرآن پا لیا۔ اس نے کیسے جان لیا کہ سارا یہی تھا ذیادہ تر قرآن تو جا چکا ۔ اسے اسکے بجائے یہ کہنا چاہیے کہ میں نے وہ پایا جو محفوظ تھا ۔” (جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی، الاتقان فی علوم القرآن ، حلبی، قاہرہ 1935/1354ھ، جلد 2، ص 25)

روایت کے صحیح معنی:۔
قرآنی علوم کا طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ کئی آیات ایسی تھیں جو کہ پہلے قرآن کا حصہ تھیں اوربعد میں انہیں منسوخ کردیا گیا تھا۔ آیات کے نسخ کی حکمت و آئیڈیا پر ہم پہلے مفصل بات کر چکے ہیں۔علامہ سیوطی نے ؒ اس مذکورہ روایت کو اپنی کتاب الاتقان میں ” باب سنتالیویں -قرآن کا ناسخ اور منسوخ آیات کے بارے میں ” کے تحت ذکر کیا ہے۔[ الاتقان فی العلوم القرآن، المصریہ العامہ للکتاب، مصر 1974، جلد 3، ص 66، 82-83]
اسی طرح یہ روایت نسخ کے بات میں علامہ سیوطی کی ایک اور کتاب میں بھی آئی ہے۔[ مطارقۃ الارکان فی اعجاز القرآن، دارالکتب العلیہ، بیروت، 1988 ج 1، ص 95]
ابو عبید (المتوفی 228 ھ) کی تحقیق ‘ جہاں سے علامہ سیوطی نے اسے لیا ہے یہ اس باب کی پہلی روایت ہے جس کا عنوان ہے “قرآن کے نزول کے بعد جو آیات منسوخ ہوئیں اور مصاحف میں نہ لکھی گئیں کا بیان” ۔[ فضائل القرآن، دار ابن کثیر، دمشق، 1995 ج1، ص 320]
اس بارے میں حافظ ا بن حجر عسقلانی (المتوفی 852ھ) کی پیش کی گئی ایک روایت بہت اہم ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مطلب کی اچھی وضاحت کرتی ہے۔ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:
وقد أخرج بن الضريس من حديث بن عمر أنه كان يكره أن يقول الرجل قرأت القرآن كله ويقول إن منه قرآنا قد رفع
ابن الضریس سے روایت ہے کہ ابنِ عمر اس شخص کو نا پسند کیا کرتے تھے جو یہ کہے کہ، ‘میں نے مکمل قرآن کی تلاوت کی’۔ وہ (ابن عمر) کہا کرتے تھے کہ (حقیقت یہ ہےکہ) قرآن میں سے کچھ حصہ منسوخ ہو چکا ہے’۔ [فتح الباری، دارالمعارفہ، بیروت 1379ھ، ج 9، ص 65]
یہ بیان اس حقیقت پر مہر ثبت کرتا ہے کہ موضوع بحث روایت میں ابن عمر کا اشارہ ان آیات کے متعلق تھا جو منسوخ ہوچکی ہیں ۔
ابو بکر بن طیب الباقلانی (المتوفی 403ھ) اپنی مایہ ناز تالیف الانتصار القرآن (قرآن کے دفاع میں) اسی طرح کی ایک اور روایت نقل کرتے ہیں اور بعد میں دونوں کی مجموعی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
ونحوُ روايةِ عبدُ الله بنُ عباسِ عن أبي أنه سمعه وقد قال له رجل: “يا أبا المنذر إني قد جمعت القرآن، فقال له: ما يدريكَ لعله قد سقطَ قرآن كثير فما وُجد بعد”.
اور اسی طرح کی ایک روایت عبد اللہ بن عباس کی ہے جو ابی(بن کعب) سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے ایک شخص کو سنا جو ان سے کہہ رہا تھا ، “اے ابومنذر! بے شک میں نے تمام قرآن جمع (حفظ) کر لیا ہے۔ اس (ابی) نے اس کو کہا کہ تمہیں نہیں معلوم (کہ مکمل قرآن کیا تھا) ۔ کیونکہ قرآن کے بہت سا حصہ منسوخ ہوگیا تھا اور یہ بعد میں نہ ملا ۔ [الانتصار القرآن، دارالفتح/دار ابن حزم، عمان/بیروت 2001، ص 406]
اس کے بعد اسی کی تفصیل میں لکھتے ہیں:
“اور یہ کسی کیلئے ممکن نہیں کہ وہ دعوی کرے کہ اس نے (سب) یاد کر لیاجو کہ قرآن کے طور پر نازل ہوا _ناسخ اور منسوخ حصہ ۔ اور اس کے الفاظ’ یہ بعد میں نہ ملا ‘ ہم نے اپنے زمانے کوئی ایک شخص ایسا نہیں دیکھا جس نے وہ تمام حفظ کیا جو کہ منسوخ ہو چکا تھا اور جس کی تلاوت ترک کر دی گئی تھی۔ اور یہ سب کچھ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو کر رہنا تھا۔[ الانتصار، ص 408]

نبی کریمﷺ کے چھوڑے ہوئے (قرآن) میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوا۔
عبدالعزیز بن الرفاعی سے روایت ہے کہ، ” میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا” کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قرآن کے سوا بھی(قرآن کا ) کچھ چھوڑا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے سوا کچھ نہیں چھوڑا جو (قرآن کے ) ان دو گتوں کے درمیان میں محفوظ ہے ۔پھر ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی یہی پوچھا ۔ انہوں نے جواب دیا ” کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو گتوں کے درمیان ( قرآن مجید کی شکل میں ) محفوظ ہے ۔”[ صحیح بخاری، کتاب 61، حدیث 537]
یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوا کیوں کہ رسول اکرمﷺ نے جو کچھ بھی اپنی امت کیلئے چھوڑا تھا وہی گتوں کے درمیان محفوظ کیا گیا تھا۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں:
”یہ باب ان( لوگوں ) کے رد میں باندھا گیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ قرآن کا بیشتر حصہ اُن کی موت کے ساتھ ضائع ہوگیا تھا جو اسے (قرآن کو) جانتے تھے”۔[ فتح الباری، ج 9، ص 65]
العینی (المتوفی855ھ) نے بھی بالکل یہی نقطہ پیش کیا ہے۔[ عمدہ القاری، داراحیا التراث العربی، بیروت، ج 20، ص 36]
شہاب الدین آلوسی ؒ(المتوفی 1270ھ) کا تبصرہ اس سارے مسئلے کو سمجھنے میں بہت مددگار ہے، لکھتے ہیں۔
“بیشک ان(اہلِ سنت) کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن میں کسی قسم کا ضیاع نہیں ہوا کیونکہ یہ (قرآن ) اسی طرح متواتر منقول ہوا ہے جس طرح ہم آج اسے دو گتوں کے درمیان پاتے ہیں ۔ ہاں (ابوبکر) صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جو حصہ تواتر سے ثابت نہیں تھا اور منسوخ ہو چکا تھا، اسکو (اصل مصحف) سے خارج کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور اسی سے متعلق ابنِ عمر کی روایت ہے جو کہ ابو عبید نے نقل کی ہے کہ، “حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: ” حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اس نے پورا قرآن پا لیا۔ اس نے کیسے جان لیا کہ سارا یہی تھا ذیادہ تر قرآن تو جا چکا ۔ اسے اسکے بجائے یہ کہنا چاہیے کہ میں نے وہ پایا جو محفوظ تھا ۔” “[ تفسیر روح المعانی، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415ھ، ج1، ص 26]
صحیح بخاری کی درج بالا حدیث مبارکہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک ابن عباس کی ہے جو بتاتی ہے “نبی کریم ﷺ نے کچھ نہیں چھوڑا سوائے (اس کے کہ) جو دو جلدوں میں ہے” اور الباقلانی کی پیش کردہ روایت میں ہم انہیں اپنے استاد ابی بن کعب کا موقف سنتے اور بیان کرتے دیکھتے ہیں جو کہ وہی جو ابن عمر کا بھی موقف ہے ۔ تمام نقاط کو آپس میں ملانے سے یہ بآسانی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ابی کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ جو قرآن نبی کریم ﷺ نے امت کیلئے چھوڑا تھا، اس کے کچھ حصے کھو گئےہیں، اور کوئی بھی شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ میں نے مکمل قرآن حفظ کر لیا ہے، اسے حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عباس مکمل طور پر اس بات سے آشنا تھے کہ ابی کا اشارہ اس کے علاوہ تھا جو کہ رسولﷺ نے امت کی ابدی رہنمائی کیلئے چھوڑا تھا (یعنی یہ منسوخ شدہ حصہ تھا)۔ اور ہم پہلے دیکھ چکے ہیں ابن حجر کی نقل کردہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت جسے وہ ابن ضریس کی اتھارٹی سے بیان کرتے ہیں واضح طور پر یہی بات بیان کرتی ہے ۔
صحیح بخاری کی روایت کے متعلق ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دو حضرات جنہوں نے قرآنی تحفظ کی گواہی دی ابنِ عباس جو کہ علی ابن ابی طالب کے چچا زاد اور محمد بن حنفیہ جو کہ علی بن ابی طالب کے صاحبزادے ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)۔ ان کی گواہی ان غالی شیعہ حضرات کی شیخی کم کرنےکیلئے کافی ہے جو کہ قرآن مجید پر قیاس آرائیوں پر مبنی الزامات لگاتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائید میں اتری آیات تبدیل کردی گئی تھیں ۔ کیا اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دو قریبی رشتہ دار اس کا ذکر کرنے میں ناکام نہیں ہو گئے۔


دو اعتراضات کا جواب۔
اس روایت کو بیان کرتے ہوئے اب ہم دو ممکنہ سوالات کی طرف آتے ہیں۔
1. ابن عمر نے منسوخ شدہ آیات کا بطور قرآن حوالہ کیوں دیا؟ (منسوخ آیات کو قرآن کیوں کہا؟)
اس بات کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہم ایک مرتبہ پھر ابن ضریس کی روایت کو دیکھتے ہیں
ابن ضریس سے روایت ہے کہ ابنِ عمر اس شخص کو نا پسند کیا کرتے تھے جو یہ کہے کہ، ‘میں نے مکمل قرآن کی تلاوت کی’۔ وہ (ابن عمر) کہا کرتے تھے کہ،'(حقیقت یہ ہےکہ) قرآن کا ایک حصہ(چند آیات) منسوخ ہو چکا ہے’۔
زیر بحث روایت پر ہماری وضاحت کی طرح یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابن عمر نے منسوخ شدہ آیات کی طرف اشارہ کیا تھا ۔ اس روایت کے آخری الفاظ سے اس سوال کی ساری اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور یہ محض ایک عبارت رہ جاتی ہے جس کی بنا پر پیش کردہ تشریح کی صحت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر سعد بن عبداللہ الحمید اپنی تحقیق سنن سعید بن منصور میں اس روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں:
“ابن عمر کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی رائے میں منسوخ شدہ آیات کو منسوخ ہونے کے بعد بھی قرآن کہا جاسکتا ہے یا (ایسا کہا جا سکتا ہے کہ) جیسے وہ پہلے کبھی تھیں “۔[ سنن سعید بن منصور، دارالصمیعی، بیروت، 1993، ج 2، ص 433]
اس کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن کلام الہٰی کے علاوہ کچھ نہیں، منسوخ شدہ آیات کو اگرچہ یاد کرنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن انکی وحی کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ، اس معاملے میں ابن عمر اور بعد کی (ہماری) نسل میں ایک نہایت اہم فرق ہے۔ چونکہ ہم تک ان آیات کی کوئی متواتر سند نہیں پہنچی ، ہم ان کی طرح سے ان منسوخ الفاظ جو کبھی قرآن کا حصہ تھے، کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے(کہ یہ قرآن ہیں)۔ ہم ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر تعلیمی مقاصد میں اسے انہی کی طرف سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن ابن عمر کیلئے صورت حال یہ نہ تھی کیونکہ انہوں نے خود رسول اکرمﷺ سے آیات سنی تھیں جنکے متعلق بعد میں بتایا گیا کہ وہ (آیات ) منسوخ ہو چکی ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے دور میں ان الفاظ کو جو قرآن کی حیثیت سے نازل ہوئے تھے لیکن بعد میں منسوخ ہوگئے تھے ‘ بہت اہمیت دیتے تھے ۔
مزید یہ ایسے معاملات میں نہایت احتیاط کی جانب اشارہ کرتی ہے جن میں ذاتی نیکی عجب میں مبتلا کرسکتی ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث سے یہ بات اور واضح ہو سکتی ہے؛
ابو بکرہ سے روایت ہے: رسول اکرمﷺنے فرمایا:” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے ، اور پورے رمضان کا قیام کیا “مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے تھے یا وہ (راوی)کہتے ہیں کہ اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا ( اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی )۔[ سنن ابو داؤد، کتاب 23، حدیث 2409]
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ جس(شخص ) نے تمام رمضان کے روزے رکھتا ہے، وہ رات کو افطار بھی کرتا ہے اور قیام اللیل کے ساتھ وہ (رات کے) پچھلے پہر کو سوتا بھی ہے، لیکن پھر بھی معمول سے ہٹ کر تربیت کیلئے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ کوئی ایسا دعوئ کرے ۔ ابن عمر کی روایت کی بھی حقیقت میں اسی حدیث سے مماثلت رکھتی ہے اوراس سے ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں اصل پیغام کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

2. کیا قرآن کا “زیادہ” حصہ منسوخ ہواتھا؟
ہم جانتے ہیں کہ اصل متن میں لفظ”قرآن کثیر” استعمال ہوا ہے اسی لیے کوئی شخص اس کا ترجمہ “قرآن کا بہت سا حصہ ” کر سکتا ہے(بہت زیادہ پر زور دیتے ہوئے)۔ ایک مشنری سام شمعون (Sam Shamoun) نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور سوال کیا ہے کہ “یہ کیسی وحی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ (نہ کہ کم ) ایسی آیات پر مشتمل ہے جو کہ منسوخ ہو چکی ہیں”؟ بظاہر یہ ایک بہت مضبوط نقطہ لگتا ہے لیکن حقیقت میں زبان کے بارے میں کم فہمی پر دلالت کرتا ہے ۔
عربی میں لفظ”کثیر” تقابلی معاملے میں ذیادہ کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ تقابلی معانی میں لفظ “کثیر ” اس چیز سے کم کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے، جس سے اس کا موازنہ کیا جارہا ہو جیسا کہ نیچے دکھایا جارہا ہے۔ یہی معاملہ ناسخ و منسوخ کے حوالے سے ہے، جو کہ ہمارے زیرِ بحث ہے۔ قرآن کا منسوخ شدہ حصہ یقینی طور پر بقیہ بچنے والے حصے سے کم ہے۔
اس بات کا ایک سادہ سا ثبوت وہ روایت ہے جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اکرمﷺ سے پوچھا کہ مجھے اپنی جائیداد میں سے کتنے حصے صدقہ کرنا چاہیے جب مجھے اندیشہ ہو کہ میں مرنے والا ہوں۔ حضرت سعد ، رسول اکرمﷺ کے ساتھ اس مکالمہ کو روایت کرتے ہیں۔
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ
“میں نے کہا ؛ ‘کیا میں اپنی دو تہائی جائیداد صدقہ کر دوں’؟ انہوں (رسولﷺ) نے کہا، ‘نہیں’۔ میں نے کہا، ‘آدھی’؟ انہوں (رسولﷺ) نے کہا، ‘نہیں’۔ اور پھر (رسول اکرمﷺ نے) فرمایا، ‘ایک تہائی، اور ایک تہائی بہت ہے’ (و الثلث کثیر)۔[ صحیح بخاری، کتاب 23، حدیث 383]
صحیح مسلم کے مترجم یہی بات اس طرح لکھتے ہیں:
“آپ (رسول اکرمﷺ) نے کہا کہ: (ہاں) ایک تہائی، اور ایک تہائی کافی ہے۔ (والثلث کثیر)”۔ [صحیح مسلم، کتاب 25، حدیث 3997]
بلاشبہ ایک تہائی باقی کی نسبت ذیادہ نہیں ہے اور کوئی بھی صاحب عقل ایسا دعوی نہیں کرسکتا ۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فقط یہ حقیقت آشکار کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کی آیات منسوخ ہوچکی تھیں اور کوئی شخص یہ دعویٰ نہ کرے کہ اس نے تمام قرآن حفظ کر لیا ہے (بشمول منسوخ آیات کے)۔ جو قرآن (نسخہ کی صورت میں ) آج ہمارے درمیان موجود ہے ، قرآن جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عطا کیا، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جمع کردہ، وہی ہے جو اللہ نے انسانیت کی اصلاح کیلئے نازل اور اسکا حکم دیا اور یہ بروز قیامت تک بغیر کسی کمی، بیشی اور تبدیلی کے موجود رہے گا۔

خلاصہ و حاصل کلام:
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں صرف قرآن کے منسوخ شدہ حصہ کی طرف اشارہ کیا ۔ابن عمر کی دوسری روایت، جسے حافظ ابن حجر نے ابن ضریس کی سند پر نقل کیا ہے’ واضح طور پر یہی مطلب بتائی ہے ۔
ابو عبید اور امام سیوطی، دونوں نے اس روایت کو ناسخ و منسوخ والے باب میں رکھا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے بھی اس بات کو اسی طرح سمجھا ۔ البقلانی اور آلوسی کا تبصرہ بھی اسی بات کے حق میں ہے۔
تقابلی معاملے میں عربی میں لفظ”کثیر” زیادہ کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔