Showing posts with label تراویح کے ضروری مسائل. Show all posts
Showing posts with label تراویح کے ضروری مسائل. Show all posts

Tuesday, 22 June 2021

تراویح کی رکعات کا مسئلہ

 تراویح کی رکعات کا مسئلہ:

سوال : نماز تراویح کی رکعات کتنی ہیں ؟

جواب:

تراویح کی 20 رکعات ہیں ، چند احادیث درج ذیل ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ•

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص284 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ. المعجم الکبیر للطبرانی ج5ص433 رقم 11934، المنتخب من مسند عبد بن حميد ص218 رقم 653)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعت (تراویح) اور وتر پڑھتے تھے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ•

(تاريخ جرجان للسہمی ص317، فی نسخۃ 142)

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی صلی اللہ علیہ و سلم رمضان میں ایک رات تشریف لائے اورلوگوں کوچار(فرض)بیس رکعت(تراویح) اورتین وترپڑھائے۔

عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَمَرَ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِاللَّیْلِ فِیْ رَمْضَانَ … …فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً•

(مسند أحمد بن منيع بحوالہ اتحاف الخیرۃ المہرۃ ج2 ص424)

ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھاؤں…… تو میں نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانُوا يَقُومُونَ عَلٰى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَكَانُوا يَقْرَءُونَ بِالْمِئِينِ ، وَكَانُوا يَتَوَكَّؤنَ عَلَى عُصِيِّهِمْ فِى عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ مِنْ شِدَّةِ الْقِيَامِ•

(السنن الكبرى للبیھقی ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ)

ترجمہ: حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں(صحابہ کرام باجماعت)بیس رکعت تراویح پڑھاکرتے تھے اورقاری صاحب سو سوآیات والی سورتیں پڑھتے تھے اورلوگ لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورمیں لاٹھیوں کاسہارالیتے۔

عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ اَمَرَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْقِیَامِ فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ اَنْ یُّصَلِیَّ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُرَاوِحَ مَابَیْنَ کُلِّ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ•

(مسند الامام زیدص158)

ترجمہ: امام زیدرحمہ اللہ اپنے والد امام زین العابدین رحمہ اللہ سے وہ اپنے والد حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس امام کورمضان میں تراویح پڑھانے کاحکم دیا تھا اسے فرمایاکہ وہ لوگوں کوبیس رکعات پڑھائے، ہر دورکعت پر سلام پھیرے، ہرچاررکعت کے بعد آرام کا اتنا وقفہ دے کہ حاجت والافارغ ہوکر وضوکرلے اوریہ کہ سب سے آخر میں وتر پڑھائے۔

حضرت زید بن وھب فرماتے ہیں:

کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُصَلِّیْ بِنَا فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ فَیَنْصَرِفُ وَ عَلَیْہِ لَیْلٌ، قَالَ الْاَعْمَشُ:کَانَ یُصَلِّیْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ•

(قیام اللیل للمروزی ص157)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رمضان میں ہمیں تراویح پڑھاتے تھے اور گھر لوٹ جاتے توابھی رات باقی ہوتی تھی۔حدیث کےراوی امام اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ بیس رکعت تراویح اورتین رکعت وترپڑھتے تھے۔

اجماع امت:

1: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

اَجْمَعَ الصَّحَابَۃُ عَلٰی اَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً•

(مرقاۃ المفاتیح: ج3ص346 باب قیام شہر رمضان- الفصل الثالث)

ترجمہ: تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعات ہے۔

2: محدث علامہ ابوزکریا یحیی بن شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اِعْلَمْ اَنَّ صَلَاۃَ التَّرَاوِیْحَ سُنَّۃٌ بِاتِّفَاقِ الْعُلَمَاءِ وَھِیَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً •

(کتاب الاذکارص226 باب اذکار صلاۃ التراویح)

ترجمہ: نماز تراویح باتفاق علماء سنت ہے اوریہ بیس رکعتیں ہیں۔

Saturday, 15 June 2019

تراویح کے ضروری مسائل

تراویح اور اس کے ضروری مسائل
 مفتی محمود حسن گنگوہی

مسئلہ:1…کُل تراویح حنفیہ کے نزدیک بیس رکعت ہیں اوران کو جماعت سے پڑھنا سنت ہے، اگر تمام اہل محلہ تراویح چھوڑ دیں تو سب ترکِ سنت کے وبال میں گرفتار ہوں گے ۔( کبیری)

مسئلہ:2 … گھر پر تراویح کی جماعت کرنے سے بھی فضیلت حاصل ہوجائے گی لیکن مسجد میں پڑھنے کا جو ستائیس درجہ ثواب ہے وہ نہیں ملے گا۔ ( کبیری)

مسئلہ:3 … تراویح کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہے(لہذا عشاء کی جماعت سے پہلے جائز نہیں) اور جس مسجد میں عشاء کی جماعت نہیں ہوئی وہاں پر تراویح کو بھی جماعت سے پڑھنا درست نہیں۔ (کبیری)

مسئلہ:4 … ایک شخص تراویح پڑھ چکا امام بن کر یا مقتدی ہو کر، اب اسی شب میں اس کو امام بن کر تراویح پڑھنا درست نہیں، البتہ دوسری مسجد میں اگر تراویح کی جماعت ہورہی ہو تو وہاں (بنیتِ نفل ) شریک ہونا بلا کراہت جائز ہے ۔( کبیری)

مسئلہ:5 … ایک امام کے پیچھے فرض اور دوسرے کے پیچھے تراویح اور وتر پڑھنا بھی جائز ہے۔ ( کبیری)

مسئلہ:6 … کسی مسجد میں ایک مرتبہ تراویح کی جماعت ہوچکی تو دوسری مرتبہ اُسی شب میں وہاں تراویح کی جماعت جائز نہیں لیکن تنہا تنہا پڑھنا درست ہے۔ (بحر)

مسئلہ:7 … نابالغ کو تراویح کے لیے امام بنانا درست نہیں۔ (کبیری)۔ البتہ اگر وہ نابالغوں کی امامت کرے تو جائز ہے۔ (خانیہ)۔

مسئلہ:8 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف غلط پڑھتا ہو تو دوسری مسجد میں تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(عالم گیری )

مسئلہ:9 … اجرت مقرر کر کے امام کو تراویح کے لیے بُلانا مکروہ ہے۔ (عالم گیری )

مسئلہ:10 … ہر ترویحہ پر یعنی چار رکعت پڑھ کر اتنی ہی دیر یعنی چار رکعت کے موافق جلسہٴ استراحت مستحب ہے، (اسی طرح پانچویں ترویحہ کے بعد وتر سے پہلے بھی جلسہ مستحب ہے، لیکن اگر مقتدیوں پر اس سے گرانی ہو تو نہ بیٹھے، (عالم گیری) اور اتنی دیر تک اختیار ہے کہ تسبیح ، قرآن شریف، نفلیں جو دل چاہے پڑھتا رہے، اہلِ مکہ کا معمول طواف کرنے اور دو رکعت نفل پڑھنے کا ہے اور اہلِ مدینہ کا معمول چار رکعت پڑھنے کا ۔( کبیری) اور یہ دعا بھی منقول ہے:
”سبحان ذي الملک والملکوت، سبحان ذي العزة والعظمة والقدرة والکبریاء و الجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح، قدوس، رب الملائکة والروح، لاإلہ إلا الله، نستغفر الله نسألک الجنة، و نعوذ بک من النار“․ (شامي)

مسئلہ :11 … دس رکعت پر جلسہٴ استراحت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (کبیری)

مسئلہ:12 … ہر شفعہ کے بعد دو رکعت علیحدہ علیحدہ پڑھنا بدعت ہے۔(کبیری)

مسئلہ:13 … کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت پہونچا کہ تراویح کی جماعت شروع ہوگئی تھی تو اس کو چاہیے کہ پہلے فرض اور سنتیں پڑھے اس کے بعد تراویح میں شریک ہو اور چُھوٹی ہوئی تراویح دو ترویحوں کے درمیان جلسہ کے وقت پوری کرلے، اگر موقعے نہ ملے تو وتروں کے بعد پڑھے اور وتروں یا تراویح کی جماعت چھوڑ کر تنہا نہ پڑھے۔(کبیری)

مسئلہ:14 … اگر بعد میں معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے عشاء کے فرض صحیح نہیں ہوئے، مثلاً: امام نے بغیر وضو پڑھائے یا کوئی رکن چھوڑ دیا تو فرضوں کے ساتھ تراویح کا بھی اعادہ کرنا چاہیے، اگر چہ یہاں وہ وجہ موجود نہ ہو۔ (کبیری)

مسئلہ:15 … قیامِ لیلِ رمضان یا تراویح یا سنتِ وقت یا صلوة امام کی نیت کرنے سے تراویح ادا ہوجائیں گی۔ (خانیہ)

مسئلہ:16 … مطلقاً نماز یا نوافل کی نیت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ (خانیہ)

مسئلہ:17 … اگر کسی نے عشا کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں اور امامِ تراویح کے پیچھے سنتِ عشاء کی نیت کر کے اقتدا کیا، تو یہ جائز ہے ۔(خانیہ)

مسئلہ:18 … اگر امام دوسرا یا تیسرا شفعہ پڑھ رہا ہے اور کسی مقتدی نے اس کے پیچھے پہلے شفعہ کی نیت کی، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (خانیہ)

مسئلہ:19 … اگر تراویح کسی وجہ سے فوت ہوجائیں تو ان کی قضاء نہیں، نہ جماعت کے ساتھ، نہ بغیر جماعت کے، اگرکسی نے قضاء کی تو تراویح نہ ہونگی ،بلکہ نفلیں ہونگی۔ (بحر)

مسئلہ:20 … اگر یاد آیا کہ گذشتہ شب کوئی شفعہ تراویح کا فوت ہوگیا یا فاسد ہوگیا تھا تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ تراویح کی نیت سے قضاء کرنا مکروہ ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:21 … اگر امام نے دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا، بلکہ چار پڑھ کر قعدہ کیا تو یہ اخیر کی د ورکعت شمار ہوں گی۔(کبیری)

مسئلہ:22 … اگر وتر پڑھنے کے بعد یاد آیا، ایک شفعہ مثلاً رہ گیا، تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ:23 … اگر بعد میں یاد آیا کہ ایک مرتبہ صرف ایک ہی رکعت پڑھی گئی اور شفعہ پورا نہیں ہوا اور کل تراویح انیس ہوتی ہیں تو دو رکعت اَور پڑھ لی جائے، یعنی صرف شفعہ فاسدہ کا اعادہ ہوگا اور اس کے بعد کی تمام تراویح کا اعادہ نہ ہوگا۔ (کبیری)

مسئلہ:24 … جب شفعہٴ فاسدہ کا اعادہ کیا جائے تو اس میں جس قدر قرآن شریف پڑھا تھا، اس کا بھی اعادہ کرنا چاہیے تاکہ تمام