کیا مردے کی طرف روح لوٹائی جاتی ہے؟
” حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ کیلئے نکلے اور قبرستان میں پہنچے لیکن ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی آپﷺ بھی وہاں جلوہ افروز ہوئے اور ہم بھی آپﷺ کے پاس ہی بیٹھ گئے آپ نے (ایک طویل حدیث میں) مومن اور کافر کی وفات کا تذکرہ فرمایا اس میں مومن کے بارے میں یہ ارشاد مذکور ہے کہ :
”مومن کی روح کو پھر (مرنے کے بعد) ساتوں آسمان پر پہنچا دیا جاتا ہے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ میرے بندے کا نام علیین میں درج کر دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی میں ان کو لوٹاؤنگا اور اسی سے دوسری مرتبہ نکالوں گا پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ”من ربك“ تمہارا رب کون ہے۔۔۔ الخ“
اور اسی حدیث میں کافر کے بارے میں یہ الفاظ مذکور ہیں کہ
”آسمانوں کے دروازے اس کیلئے نہیں کھلتے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اس کی کارگذاری اور نام وغیرہ سجین میں لکھ دو جو ساتویں زمین میں ہے پھر اسکی روح وہاں سے پھینکی جاتی ہے پھر آپؐ نے ارشاد خدا وندی پڑھا کہ جو شخص اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرتا ہے پس گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اس کو پرندے اچک کر لے گئے یا ہوا نے گہرے گڑھے میں ڈال دیا۔ اور پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ”من ربك“ تیرا رب کون ہے ۔۔۔ الخ“
امام حاکمؒ اس روایت کی متعدد اسانید نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِالْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو وَزَاذَانَ أَبِي عُمَرَ الْكِنْدِيِّ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ فَوَائِدُ كَثِيرَةٌ لِأَهْلِ السُّنَّةِ وَقَمْعٌ لِلْمُبْتَدِعَةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِطُولِهِ، وَلَهُ شَوَاهِدُ عَلَى شَرْطِهِمَا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى صِحَّتِهِ» .
”یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔(اگے فرماتے ہیں) اس حدیث میں اہل سنت کے لئے کئی فوائد اور اہل بدعت کے عقائد کے قلع قمع کا خاصا ثبوت موجود ہے“۔
[المستدرك على الصحيحين : کتاب الإيمان :أَمَا حَدِيثُ مَعْمَر]
(بحوالہ تسكین الصدور صفحہ ۱۱۱ : شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ )
