ﷲ ہر جگہ موجود ہے دلائل اور تمام اشکالات اعتراضات کا جواب
نمبر {01} سبوحیت و قدوسیت
حق تعالی جل شانہ تمام نقائص اور عیوب سے اور حدوث کے نشانوں سے اورمخلوقات کے مشابہت سے اور مماثلت سے پاک اور منزہ ہے اور وہ خداوند بے مثل و مانند ہے جوہر اور عرض ہونے سے مبرا اور صورت اور شکل و جسم اورجسمانیت سے معرا ہے اور جواہر اور اجسام اور اعراض کی صفات اور لوازم سےمبرا ہے [لیس کمثله شئ وهو السميع البصير] - [سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون] اور اصطلاح میں اس کا نام سبوحیت و قدوسیت ہے اور بالفاط دیگر تسبیح و تقدیس ہے.
نمبر {02} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے
نمبر {۰۱} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے کوئی شي اس کے مثل اور برابرنہیں "لیس کمثله شئ" اور کوئی چیز خدا تعالی کے ہمسر نہیں [لم یکن له کفوا احد] - [ھل تعلم له سمیا] اس لئے کہ خدا قدیم اور ازلی ہے تو ممکن اور حادث کے مشابہ کیسے ہوسکتا ہے - اگر بالفرض خدا کا مخلوق کے مشابہ ہونا جائز ہو تو پھر مخلوق کے احکام کا خالق پر جاری ہونا بھی ممکن ہوگا - الغرض نہ خدا مخلوق کے مشابہ ہے اور نہ مخلوق خدا کے مشابہ ہے یہ ناممکن ہے کہ قدیم کی کوئی صفت حادث میں اور حادث کی کوئی صفت قدیم میں پائی جائے اس لئے الله تعالی ہر قسم کے تغیر و تبدل سے پاک ہے - اس لئے کہ تغیر و تبدل ممکن کی صفت اور خاصیت ہے.
نمبر {۰۲} الله تعالی نہ جسم ہے اور نہ جوہر ہے اور نہ عرض ہے - وہ ان سبچیزوں سے پاک اور منزہ ہے
نمبر {03} خدا تعالی جسم نہیں
نمبر {۰۱} جسم تو اس لئے نہیں کہ جسم بہت سے اجزاء سے مرکب ہوتا ہے اورجو مرکب ہوتا ہے اس کی تحلیل اور تفریق اور تقسیم بھی ممکن ہوتی ہے - اورترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم الله تعالی کی بارگاہ سے بہت دور ہے.
نمبر {۰۲} نیز ترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم حدوث کے لوازم میں سے ہے جو قدم اور ازلیت کے منافی ہے.
نمبر {۰۳} نیز جسم طویل اور عریض اور عمیق ہوتا ہوتا ہے اور الله تعالی طول و عرض اور عمق سے پاک اور منزہ ہے.
نمبر {۰۴} نیز جو چیز اجزاء سے مل کر بنتی ہے اول تو وہ اپنی ترکیب میں اجزاء کی محتاج ہوتی ہے اور احتیاج اور خدائی کا جمع ہونا عقلا محال ہے - اور پھر مرکب اپنی بقاء میں اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور الله احتیاج سے منزہ ہے.
نمبر {۰۵} نیز اجزاء کا وجود ، مرکب اور مجموعہ کے وجود سے مقدم ہوتا ہےاور مجموعہ مرکب موخر ہوتا ہے- پس اگر [معاذالله] خدا تعالی کو جسم مرکب مانا جائے تو خدا تعالی کا اپنی اجزاء ترکیبیہ سے مؤخر ہونا لازم آئے گا
جو اس کی ازلیت اور اولیت اور قدم کے منافی ہے.
نمبر {۰۶} نیز اگر صانع عالم کا جسم ہونا ممکن ہو تو شمن و قمر کا خدا ہونا بھی ممکن ہوگا اور جیسے نصاری حضرت مسیح کے جسم کو خدا اور معبود مانتے ہیں اور بندہ اپنے اوتاروں کو خدا کہتے ہیں تو پھر یہ بھی جائز اور ممکن ہونا اور کرامیہ کہتے ہیں کہ حق تعالی جسم ہے مگر دیگر اجسام کی طرح نہیں اور اہل سنت کے نزدیک حق تعالی پر جسم کا اطلاق درست نہیں.
نمبر {04} خدا کے لئے باپ اور بیٹا ہونا محال اور ناممکن ہے
جب یہ ثابت ہوگیا کہ خدا تعالی کا جسم ہونا ناممکن اور محال ہے تو ثابت ہوگیا کہ خدا نہ کسی کا باپ ہوسکتا ہے اور نہ بیٹا ہوسکتا ہے کیونکہ توالد اور تناسل خاصہ جسمانیت کا ہے اور الله تعالی جسمانیت سے پاک اور منزہ ہے نیز توالد اور تناسل محتاجگی کی دلیل ہے - جیسے اولاد اپنے پیدا ہونے میں ماں باپ کی محتاج ہے - ایسے ہی ماں باپ اپنی خدمت گزاری میں اور نسل کے باقی رہنے میں اولاد کے محتاج ہیں اور الله تعالی احتیاج سے منزہ ہے نیز اولاد ماں باپ کی ہم جنس ہوا کرتی ہے سو اگر کوئی خدا کا بیٹا ہوگا تو خدا کی وحدانیت ختم ہوجائے گی جو ابھی دلائل سے ثابت ہوچکی ہے.
نمبر {05} خدا تعالی عرض نہیں
نمبر {۰۱} اور خدا تعالی کا عرض ہونا اس لئے محال ہے کہ عرض وہ شئے ہے کہجو قائم بالغیر ہو اور اپنے وجود میں دوسرے کی محتاج ہو اور دوسرے کے سہارے سے موجود ہو اور یہ بات خدا تعالی کے لئے ناممکن ہے اس لئے الله تعالی تو قیوم ہے تمام کائنات کے وجود کو قائم رکھنے والا اور ان کی ہستی کو تھامنے والا ہے تمام عالم اسی کے سہارے سے قائم ہے اس لئے اس کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں - سہارے کی ضرورت تو محتاج کو ہوتی ہے - اور وہ صمد ہے یعنی وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اسی کے محتاج ہیں.
نمبر {۰۲} نیز حق تعالی غنی مطلق ہے کسی امر میں کسی چیز کا محتاج نہیں اور عرض اپنے وجود میں محل کا محتاج ہوتا ہے.
نمبر {۰۳} نیز عرض کا وجود پائیدار نہیں ہوتا اور الله تعالی تو واجب البقاء اور دائم الوجود اور مستحیل العدم ہے ہے جیسا کہ کلام پاک میں ہے [کل من علیها فان ، ویبقی وجه ربك ذوالجلال والاکرام] - {سورۃ الرحمن : آیت نمبر 26 تا 27 پارہ 27]
نمبر {۰۴} نیز اعراض ہر وقت بدلتے رہتے ہیں اور حق تعالی کی ذات و صفات میں تغیر و تبدل کو کہیں راہ نہیں.
نمبر {06} الله تعالی جوہر نہیں
نمبر {۰۱} اور الله تعالی جوہر اس لئے نہیں ہوسکتا کہ جوہر کے معنی اصل شئے کے ہیں یعنی جو کسی چیز کی اصل ہو اور جواہر فردہ ان اجزاء لطیفہ کو کہتے ہیں جن سے جسم مرکب ہو اور وہ اجزاء جسم کی اصل ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ بات الله تعالی کے لئے محال ہے کہ وہ کسی جسم وغیرہ کا جوہر اور اصل اور جز بنے.
نمبر {۰۲} نیز جواہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس پر حرکت اور سکون وارد اورطاری ہوسکے اورلون اور طعم یعنی رنگت اور مزہ کے ساتھ موصوف ہو اور یہسب چیزیں حادث ہیں اور جواہر کے لوازم ہیں اور ظاہر ہے کہ جو چیز حوادث سے خالی نہ ہوسکتی ہو وہ بھی ضرور حادث ہوگی تو جب یہ حوادث جوہر کے لئے لازم ہوں گے تو لامحالہ جوہر بھی حادث ہوگا پس معلوم ہوا کہ الله تعالی جوہر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ حوادث اور تغیرات سے پاک اور منزہ ہے.
نمبر {07} خدا تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں
نمبر {۰۱} نیز الله تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں - اس لئے کہ صورت اور شکل تو جسم کی ہوتی ہے اور الله تعالی تو صورتوں اور شکلوں کا خالق ہے -"ھو الله خالق الباری المصور".
نمبر {۰۲} نیز صورتیں اور شکلیں حادث میں بدلتی رہتی ہیں.
نمبر {۰۳} نیز جس چیز کے لئے صورت اور شکل ہوتی ہے وہ محدود اور متناہیہوتی ہے ، اور الله تعالی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اور خدا کے لئے کوئی حد اور نہایت نہیں.
نمبر {08} خدا تعالی کے لئے کوئی مکان اور زمان اور جہت اور سمت نہیں
نیز حق تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی زمان ہے اور نہ اس کے لئے کوئی سمت اور جہت ہے کیونکہ وہ غیر محدود ہے اور مکان اور جہت محدود کے لئے ہوتے ہیں اور مکان اور زمان مکین کو احاطہ کئے ہوئے اور گھیرے ہوئے ہوتے ہیں - اور الله تعالی ہی سب کو محیط ہے - زمین و زمان اور کون و مکان سے اسی کے مخلوق ہیں اور اس کے احاطہ قدرت میں ہیں ، "کان الله ولم یکن شیء غیرہ"یعنی ازل میں صرف خدا تعالی تھا اور اس کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی - اسی نے اپنی قدرت سے زمین اور مکین اور مکان کو پیدا کیا جس طرح وہ مکان اور زمان کے پیدا کرنے سے پہلے بغیر مکان اور بغیر جہت کے تھا اب بھی اسی شان سے ہے جس شان سے وہ پہلے تھا "ھو الآن کما کان" نیز جہات امور اضافیہ اور نسبیہ میں سے ہیں مثلآ فوق اور تحت اور یمین اور شمال یے سب چیزیں حادث ہیں نسبت کے بدلنے سے ان میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے - ایک شئے کسی اعتبار سے فوق ہے اور کسی کے اعتبار سے تحت ہے پس یہ کیسے ممکن ہے کہ حق تعالی ازل میں کسی جہت یا سمت کے ساتھ مخصوص ہو - جہت اور سمت حادث کے لئے ہوتی ہے ازلی کے لئے نہیں ہوتی پس ثابت ہوا کہ الله تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی جہت ہے اور نہ کوئی سمت ہے مکان اور جہت اور سمت تو محدود اور متناہی کے لئے ہوتی ہے اور الله تعالی کے لئے نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی نہایت ہے.
ایں جہاں محدود آں خود بیحد است
اس کی ہستی سمت اور جہت اور مکان اور زمان کی حدود اور قیود سے پاک ہےلہذا خدا تعالی کے متعلق یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ وہ کہاں ہے اور کب سے ہے اس لئے کہ وہ مکان اور زمان سب سے سابق اور مقدم ہے - مکان اور زمان سب اسی کی مخلوق ہے ، وہ تو لامکان اور لازمان ہے - اس کی ہستی مکان اور زمان پر موقوف نہیں بلکہ زمان اور مکان کی ہستی اس کے ارادہ پر موقوف ہے - مشبہ اور مجسمہ یہ کہتے ہیں کہ الله تعالی کے لئے جہت ہے اور جہت فوق میں ہے اور الله تعالی عرش پر متمکن ہے "سبحانه وتعالی عما یصفون".
نمبر {09} صفات متشابہات جیسے استواء علی العرش وغیرہ کی تحقیق
علماء اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ براہین قطعیہ اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ الله تعالی مخلوق کی مشابہت اور مماثلت سے اور کمیت اور کیفیت اور مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے لہذا جن آیات اور احادیث میں حق جل شانہ کی ہستی کو آسمان یا عرش کی طرف منسوب کیا ہے ان کا یہ مطلب نہیں کہ آسمان اور عرش الله کا مکان اور مستقر ہے بلکہ ان سے الله جل شانہ کی شان رفعت اور علو اور عظمت اور کبریائی کو بیان کرنا مقصود ہے اس لئے کہ مخلوقات میں سب سے بلند عرش عظیم ہے - ورنہ عرش سے لے کر فرش تک سارا عالم اس کے سامنے ایک ذرہ بے مقدار ہے وہ اس ذرہ میں کیسے سماسکتا ہے - سب اسی کی مخلوق ہے اور مخلوق اور حادث کی کیا مجال کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے.
پر تو حسنت نہ گنجد در زمین و آسمان
در حریم سینہ حیرانم کہ چوں جاکردہ
خدا تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ عرش پر یا کسی جسم پر متمکن اور مستقر ہو جس طرح بادشاہ کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہے - خدا تعالی کی نسبت ایسا کہنا جائز نہیں اس لئے کہ خدا تعالی کوئی مقداری نہیں کیونکہ کسی جسم پر وہی چیز متمکن ہوسکتی ہے کہ جو ذی مقدار ہو اور اس سے بڑی ہو یا چھوٹی ہو یا اس کے برابر ہو اور یہ کمی بیشی بارگاہ خداوندی میں محال ہے - عقلآ یہ ممکن نہیں کہ کوئی جسم مخلوق جیسے مثلآ عرش کہ وہ اپنے خالق کو اپنے اوپر اٹھاسکے اور پھر فرشتے اس جسم کو [عرش کو] اپنے کاندھوں پر اٹھائیں کما قال تعالی"ویحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية" ترجمہ "اور آپ کے پروردگا کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے" سورۃ الحاقہ : آیت 17 پارہ 19.
عقلآ یہ بات محال ہے کہ کوئی مخلوق فرشتہ ہو یا جسم ہو وہ اپنے خالق کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے - خالق کی قدرت کو تھامے ہوئے ہے- مخلوق میں قدرت نہیں کہ وہ خالق کو اٹھاسکے اور تھام سکے اور جن آیات میں الله تعالی کی شان علو اور فوقیت کا ذکر آیا ہے ان سے علو مرتبہ اور فوقیت قہر و غلبہ مراد ہے اور مکانی فوقیت مراد نہیں ، کما قال تعالی "وھو القاھر فوق عبادہ" - "وھو العلی الکبیر" "وله المثل الاعلی اور جیسے "وفوق کل ذی علم علیم" اور انا فوقھم قاھرون" میں فوقیت مرتبہ اور فوقیت قہر اور غلبہ مراد ہے - اور جن آیات اور احادیث میں الله تعالی کے قرب اور بعد کا ذکر آیا ہے - اس سے مسافت کے اعتبار سے قرب اور بعد مراد نہیں ، بلکہ معنوی قرب اور بعد مراد ہے اور نزول خداوندی سے نزول رحمت یا خدا تعالی کا بندوں کی طرف متوجہ ہونا مراد ہے ،[معاذ الله] خدا کا بلندی سے پستی کی طرف اترنا مراد نہیں اور دعاء کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا اس لئے نہیں کہ آسمان ، الله تعالی کا مکان ہے بلکہ اس لئے ہے کہ آسمان قبلہ دعاء ہے جیسا کہ خانہ کعبہ قبلہ نماز ہے - خانہ کعبہ کو جو بیت الله کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ الله تعالی کی عبادت کا گھر ہے اور [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ خانہ کعبہ الله تعالی کا مکان ہے اور اس کے رہنے کی جگہ ہے - سمت قبلہ عابدین کی عبادت کے لئے مقرر کی گئی - [معاذالله] معبود کی سمت نہیں پس جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے ویسے ہی آسمان دعاء کا قبلہ ہے اور دونوں صورتوں میں الله تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر یا آسمان کے اندر متمکن ہو ، خلاصہ کلام یہ کہ ان اوصاف کو اوصاف تسبیحی کہتے ہیں اور اوصاف تنزیہی اور اوصاف جلال بھیکہتے ہیں اور علم و قدرت اور سمیع و بصر جیسے اوصاف کو اوصاف تحمیدی اوراوصاف جمال کہتے ہیں.
نمبر {10} کیا عرش خدا سے بڑا ہے؟
رئیس المناظرین ، متکلم اسلام ، وکیل احناف ، ترجمان اہلسنت حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ میں مکہ سے مدینہ جا رہا تھا ۔ راستہ میں غیرمقلدین شرارتیں کر رہے تھے ، بس میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ روضہ پاک کی زیارت کی نیت نہ کرنا مسجد نبوی کی نیت کرنا ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا : یہ آپ کو گمراہ کررہے ہیں آپ روضہ پاک کی ہی نیت کریں مسجد میں تو جانا ہی جانا ہے ۔ وہ حضرات مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله کی طرف دیکھنے لگے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ لوگ مکہ سے مدینہ کیوں جاتے ہیں ایک لاکھ کا ثواب چھوڑ کر پچاس ہزار کا ثواب لینے کے لئے؟ یہ کوئی عقل مندی تو نہیں کہ اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کو حاصل کیا جائے وہ بھی اتنا لمبا سفر کرکے اور اتنے پیسے لگا کر ، یہ اتنا نقصان کیوں کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ وہاں کوئی ایسی چیز ضرور ہے جو بیت الله میں بھی نہیں ہے ، جس کی شان بیت الله سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ وہ خاک پاک جو جسد اطہر سے مس کر رہی ہے وہ درجہ میں عرش اعظم اور بیت الله دونوں سے بڑھ کر ہے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا :کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا سے مصطفی ﷺکے مکان کو بلند کردیا ہے اس لئے کہ خدا لامکان ہے ، اگر خدا کا مکان ہوتا تو ہم اسے مصطفیٰ ﷺ کے مکان سے اعلیٰ سمجھتے ، لیکن چونکہ خدا لامکان ہے اس لئے جتنے مکان والے ہیں ان میں سب سے زیادہ شان مصطفیﷺ کے مکان کی ہے ۔ ایک غیرمقلد جلدی سے بولا "الرحمٰن علی العرش استویٰ" الله کا بھی مکان ہے عرش اعظم - حضرت محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے جواب ميں فرمایا : آپ کو مکان ، مکین کا معنی بھی آتا ہے؟ مکان ہمیشہ مکین سے بڑا ہوتا ہے اسی لئے تو آدمی اس کے اندر بیٹھتا ہے ۔ کیا عرش خدا تعالیٰ سے بڑا ہے اور وہ خدا کو گھیرے ہوئے ہے؟ غیرمقلد نے کہا : بے شک عرش بڑا ہے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا : پھر تو نماز کے شروع میں ’’الله اکبر‘‘ کیوں کہتا ہے ’’العرش اکبر‘‘ کیوں نہیں کہتا؟ جب تو الله اکبر سے نماز شروع کرتا ہے پھر تو بڑا بے ایمان ہے کہ تجھے الله سے بھی بڑی چیز مل گئی ہے پھر بھی تو الله اکبر ہی کہتا ہے ۔ وہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا.
[علمی معرکے اور مجلسی لطیفے: صفحہ نمبر 82 تا 83، از : حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه اللہ]
=======================
بری یا گندی جگہوں پر اللہ کی ذات و صفات کا تصور:
فرقہ سلفیہ لامذہبیہ ایک عقلی ڈھکوسلہ ضرور دیتے ہیں کہ
اگر اللہ ہر جگہ ہے تو پھر کیا اللہ گندی جگہوں پر بھی ہے بیت الخلا میں بھی ہے؟
حالانکہ یہ اعتراض تب بنے جب کوئی اللہ کی ذات کیلئے حلول (مکس) یا اتحاد (جڑ) کا قائل ہو جیسا کہ جہمیہ ہیں جو کہ حلول اور اتحاد کے قائل ہیں انہیں تو ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں مگر جو اس کا قائل نہیں اس پر یہ اعتراض نہیں پڑتا اب ہم تو یہ کہتے نہیں کہ اللہ مخلوق میں مکس ہو گیا ہے یا اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔کیونکہ اللہ اس سے پاک ہے اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔
لیکن یہ فرقہ چونکہ اللہ کی ذات کو ایسا ہی حقیر سمجھتا ہے کہ اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد ہو جائے گا اس لئے یہ اعتراض پھر ہم پر کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ انہی پر جاتا ہے نزول الی السماء کے وقت اللہ کی ذات کا سب سے نچلے آسمان پر مانتے ہیں ساتھ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی ذات مخلوق کے پاس ہو تو حلول اور اتحاد کے سوا کوئی راستہ نہیں اسلئے یہ فرقہ یہاں حلولی جہمی ہوجاتا ہے۔
یاد رہے دنیا کی چاہے گندی اور بری سے بری جگہ ہی کیوں نہ ہو وہ جہنم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور جہنم کے متعلق خود نبیﷺ فرماتے ہیں وہاں اللہ تعالٰی قیامت کے روز اپنا قدم اس میں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ ، تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ » بَاب الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ ... رقم الحديث: 6196(6661)]
حضرت انس بن مالک (رض) بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا دوزخ لگاتار یہی کہتی رہے گی ھل من مزید یعنی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو پھر دوزخ کہے گی تیری عزت کی قسم بس اور اس کا ایک حصہ سمٹ کر دوسرے حصے سے مل جائے گا۔
لامذہبیہ اللہ کی ان صفات کو اللہ کی شان کے لائق نہیں چھوڑتے بلکہ وہ انہیں اس کی ذات کے جز اعضا تصور کرتے ہیں۔
اور ان لامذہبیہ کے نزدیک اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد لازم آئے گا۔
اب ان کے اس عقیدے سے یہ بات لازم آتی ہے کہ یہ اس وقت جہنم میں اللہ کی ذات کو حلول کے ساتھ مانیں یا اتحاد کے ساتھ اب یہ بتائیں کہ جہنم میں یہ کس کے ساتھ مانیں گے حلول کے ساتھ یا اتحاد کے ساتھ؟
ہمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ یہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا علم ہر جگہ ہے اب ہم ان سے پوچھتے ہیں اگر اللہ کی صفت علم ہر جگہ ہے تو کیا اللہ کی یہ صفت بیت الخلا میں بھی ہے؟
کلام اللہ قرآن مجید اللہ کی صفت ہے جو کہ حافظ کے دل میں محفوظ ہوتی ہے کیا جب حافظ بیت الخلا جاتا ہے تو کیا وہ اللہ کی صفت کو ساتھ لے کر جاتا ہے؟
بنی آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے
نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ»
ہر دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے چاہیں تو اسے سیدھا فرما دیں اور چاہیں تو ٹیڑھا کر دیں
(سنن ابن ماجہ ج 1 حدیث نمبر 199)
ایک اور حدیث ہے
«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»
تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم ج 4 حدیث نمبر 2657)
سلفیوں کے ایک مولوی خلیل ہراس نے لکھا ہے کہ اللہ کی انگلیاں اس کے ہاتھ کا جز ہیں۔
خليل هراس كتاب التوحيد لابن حزيمه پر اپني تعليقات ميں لكهتے ہيں
ص63 :
القبض إنما يكون باليد حقيقة لا بالنعمة .
فإن قالوا : إن الباء هنا للسببية أي بسبب إرادته الإنعام .
قلنا لهم : وبماذا قبض ؟؟ فإن القبض محتاج إلى آلة فلا مناص لهم لو أنصفوا أنفسهم .. )) اهـ !
خليل هراس الله كي صفت "يد " كو نعمت كے معني ميں مؤول كرنے پر رد كرتے هوئے لكهتا ہے :
”كہ قبض يعني پكڑنا حقيقة هاتھ سے ہوتا ہے نہكه نعمت سے ، اگر كوئي کہے کہ باء سبب كے لیئے ، يعني الله نے نعمت كرنے كے ارادے سے (ایسا کیا )تو هم كہتے ہيں : كه پهر وه پكڑتا كس چيز سے هے ،كيونكه قبض اور پكڑنا كسي آلے كا محتاج هے تو ان كے ليے خلاصي كا كوئي راسته نهيں هے اگر يه لوگ اپنے ساته انصاف كريں“
ياد رهے كہ جناب كي يہ گفتگو الله سبحانه وتعالي كے هاته اور پكڑنے كے بارےہے ، يهاں الله كے پكڑنے كو بهي كسي "آلے يا اوزار يا محتاج " كها پس ان
كے هاں الله كي صفت يد الله تعالي كے ليے پكڑنے كا آله هے اور الله كا پكڑنا اسي هاته كا محتاج هے نعوذبالله ،، الله الصمد
دوسري جگه ارشاد فرماتے ہيں اسي التوحيد كے تعليقات ميں :
ويقول 89 :
(( ومن أثبت الأصابع لله فكيف ينفي عنه اليد والأصابع جزء من اليد ؟؟!! )) اهـ
ترجمه : اور جس نے الله كے ليے انگليوں كا اثبات كيا وه كس طرح الله سے هاته كي نفي كرتا هے حالانكه انگلياں هاته هي كا جزء هے (نعوذبالله)
يهاں الله تعالي كي انگليوں كو اس كے هاته كا جزء كها ، كسي آيت يا حديث مبارك ميں يه بات همارے علم ميں نهيں كه الله كي انگلياں اس كے هاته كا جزء هيں۔
اب یمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ کیا آدمی جب بیت الخلا جاتا ہے تو کیا اللہ کی انگلیوں کو باہر چھوڑ کر جاتا ہے؟ دوسرا یہ کہ اللہ کی ذات کو آپ لوگ صرف عرش کے اوپر ٹھہراتے ہیں اب اللہ کی ذات اوپر اور اس کا ہاتھ اور انگلیں نیچے ؟
یہ اعتراض خود فرقہ اہل حدیث پر جاتا ہے۔
1
فرقہ اہل حدیث کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی
لکھتے ہیں
”ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا اور ہر چیز کی ہر وقت خبر رکھنا خاص ذات وحدہ لاشریک لہ باری تعالٰی کے واسطے ہے“۔
(فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 6)
2
فرقہ اہلحدیث کے شیخ السلام ثناء اللہ امرتسری الجہمی
لکھتے ہیں
” اللہ بذات خود اور بعلم خود ہر چیز اور ہر کام پر حاضر ہے“۔
(تفسیر ثنائی ص 347 )
3
محقق اہلحدیث قاضی شوکانی الجہمی
لکھتے ہیں
وكما نقول هذا الاستواء والكون في تلك الجهة فكنا نقول في مثل قوله تعالي وهو معكم اينما كنتم ۔۔۔۔۔ ولا نتكلف بتاويل ذالك كما يتكلف غيرنا بان المراد بهذا الكون المعنيت هوكن العلم و عليتهفان هزا شعبة من شعب التاويل تخالف مذاهب السلف و تبائن ماكان عليهه الصحابة و تابعوهم رضوان اللہ عليهم اجمعين
ترجمہ
”جیسا ہم استواء اور جہت فوق کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں ویسا ہی ان اقوال خدا وندی هو معكم وغيرہ ”وہ تمہارے ساتھ“ ہے کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔۔ ہم اس کی تاویل علم کے ساتھ یا نصرت کے ساتھ کرنے میں تکلف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ ساتھ ہونے سے اس کا علم مراد ہے کیونکہ یہ بھی تاویل کی ایک شاخ ہے جو مذہب صحابہ ؓ و تابعین وغیرہ سلف کے خلاف ہے “
(التحف ص 16 بحوالہ فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 202)
ان کے بارے میں کیا خیال ہے آج کے لامذہبوں کا ؟
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی چاہے اچھے سے اچھی یا بری سے بری تمام مخلوقات کا خالق ہے لیکن یہ گواہی دینے کے بعد اس کی شان گھٹانے کی غرض سے اس کی ہر ہر مخلوق کے متعلق یہ پوچھے کہ کیا اس کا بھی اللہ خالق ہے اس کا بھی اللہ خالق ہے درست نہیں۔
یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ”اللہ اکبر“ اللہ سب سے بڑا ہے مگر یہ اقرار کرنے کے بعد کوئی احمق کہے کہ کیا اللہ میرے ہاتھ سے بڑا ہے میری انگلیوں سے بڑا ہے کیا فلاں چیز سے فلاں جانور سے بھی بڑا ہے قطعاً درست نہیں۔ ان سب کا ایک ہی جواب ہے کہہ دو کہ اللہ سب سے بڑا ہے بس۔
بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے ؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کا جسم ہی نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی بھی نہیں ۔اللہ کریم دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔
نوٹ :
اللہ کو ہر جگہ کہنے سے ہماری مراد اللہ کیلئے کسی جگہ کا اثبات کرنا نہیں بلکہ کسی بھی جگہ کے مقرر کرنے کی نفی کرنی ہے۔
اللہ کی ذات کے متعلق ہمارا وہی عقیدہ ہے جو کہ تمام اہلسنت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات موجود بلا مکان و جگہ ہے جیسا تمام مخلوقات کی تخلیق سے پہلے تھی اب بھی ویسے ہی ہے (ملاحظہ ہو اشعریہ ماتریدیہ کا منہج اور فرقہ سلفیہ سے ان کا اختلاف اختلاف نمبر 2) اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔
فرقہ سلفیہ لامذہبیہ ایک عقلی ڈھکوسلہ ضرور دیتے ہیں کہ
اگر اللہ ہر جگہ ہے تو پھر کیا اللہ گندی جگہوں پر بھی ہے بیت الخلا میں بھی ہے؟
حالانکہ یہ اعتراض تب بنے جب کوئی اللہ کی ذات کیلئے حلول (مکس) یا اتحاد (جڑ) کا قائل ہو جیسا کہ جہمیہ ہیں جو کہ حلول اور اتحاد کے قائل ہیں انہیں تو ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں مگر جو اس کا قائل نہیں اس پر یہ اعتراض نہیں پڑتا اب ہم تو یہ کہتے نہیں کہ اللہ مخلوق میں مکس ہو گیا ہے یا اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔کیونکہ اللہ اس سے پاک ہے اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔
لیکن یہ فرقہ چونکہ اللہ کی ذات کو ایسا ہی حقیر سمجھتا ہے کہ اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد ہو جائے گا اس لئے یہ اعتراض پھر ہم پر کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ انہی پر جاتا ہے نزول الی السماء کے وقت اللہ کی ذات کا سب سے نچلے آسمان پر مانتے ہیں ساتھ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی ذات مخلوق کے پاس ہو تو حلول اور اتحاد کے سوا کوئی راستہ نہیں اسلئے یہ فرقہ یہاں حلولی جہمی ہوجاتا ہے۔
یاد رہے دنیا کی چاہے گندی اور بری سے بری جگہ ہی کیوں نہ ہو وہ جہنم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور جہنم کے متعلق خود نبیﷺ فرماتے ہیں وہاں اللہ تعالٰی قیامت کے روز اپنا قدم اس میں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ ، تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ » بَاب الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ ... رقم الحديث: 6196(6661)]
حضرت انس بن مالک (رض) بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا دوزخ لگاتار یہی کہتی رہے گی ھل من مزید یعنی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو پھر دوزخ کہے گی تیری عزت کی قسم بس اور اس کا ایک حصہ سمٹ کر دوسرے حصے سے مل جائے گا۔
لامذہبیہ اللہ کی ان صفات کو اللہ کی شان کے لائق نہیں چھوڑتے بلکہ وہ انہیں اس کی ذات کے جز اعضا تصور کرتے ہیں۔
اور ان لامذہبیہ کے نزدیک اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد لازم آئے گا۔
اب ان کے اس عقیدے سے یہ بات لازم آتی ہے کہ یہ اس وقت جہنم میں اللہ کی ذات کو حلول کے ساتھ مانیں یا اتحاد کے ساتھ اب یہ بتائیں کہ جہنم میں یہ کس کے ساتھ مانیں گے حلول کے ساتھ یا اتحاد کے ساتھ؟
ہمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ یہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا علم ہر جگہ ہے اب ہم ان سے پوچھتے ہیں اگر اللہ کی صفت علم ہر جگہ ہے تو کیا اللہ کی یہ صفت بیت الخلا میں بھی ہے؟
کلام اللہ قرآن مجید اللہ کی صفت ہے جو کہ حافظ کے دل میں محفوظ ہوتی ہے کیا جب حافظ بیت الخلا جاتا ہے تو کیا وہ اللہ کی صفت کو ساتھ لے کر جاتا ہے؟
بنی آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے
نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ»
ہر دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے چاہیں تو اسے سیدھا فرما دیں اور چاہیں تو ٹیڑھا کر دیں
(سنن ابن ماجہ ج 1 حدیث نمبر 199)
ایک اور حدیث ہے
«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»
تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم ج 4 حدیث نمبر 2657)
سلفیوں کے ایک مولوی خلیل ہراس نے لکھا ہے کہ اللہ کی انگلیاں اس کے ہاتھ کا جز ہیں۔
خليل هراس كتاب التوحيد لابن حزيمه پر اپني تعليقات ميں لكهتے ہيں
ص63 :
القبض إنما يكون باليد حقيقة لا بالنعمة .
فإن قالوا : إن الباء هنا للسببية أي بسبب إرادته الإنعام .
قلنا لهم : وبماذا قبض ؟؟ فإن القبض محتاج إلى آلة فلا مناص لهم لو أنصفوا أنفسهم .. )) اهـ !
خليل هراس الله كي صفت "يد " كو نعمت كے معني ميں مؤول كرنے پر رد كرتے هوئے لكهتا ہے :
”كہ قبض يعني پكڑنا حقيقة هاتھ سے ہوتا ہے نہكه نعمت سے ، اگر كوئي کہے کہ باء سبب كے لیئے ، يعني الله نے نعمت كرنے كے ارادے سے (ایسا کیا )تو هم كہتے ہيں : كه پهر وه پكڑتا كس چيز سے هے ،كيونكه قبض اور پكڑنا كسي آلے كا محتاج هے تو ان كے ليے خلاصي كا كوئي راسته نهيں هے اگر يه لوگ اپنے ساته انصاف كريں“
ياد رهے كہ جناب كي يہ گفتگو الله سبحانه وتعالي كے هاته اور پكڑنے كے بارےہے ، يهاں الله كے پكڑنے كو بهي كسي "آلے يا اوزار يا محتاج " كها پس ان
كے هاں الله كي صفت يد الله تعالي كے ليے پكڑنے كا آله هے اور الله كا پكڑنا اسي هاته كا محتاج هے نعوذبالله ،، الله الصمد
دوسري جگه ارشاد فرماتے ہيں اسي التوحيد كے تعليقات ميں :
ويقول 89 :
(( ومن أثبت الأصابع لله فكيف ينفي عنه اليد والأصابع جزء من اليد ؟؟!! )) اهـ
ترجمه : اور جس نے الله كے ليے انگليوں كا اثبات كيا وه كس طرح الله سے هاته كي نفي كرتا هے حالانكه انگلياں هاته هي كا جزء هے (نعوذبالله)
يهاں الله تعالي كي انگليوں كو اس كے هاته كا جزء كها ، كسي آيت يا حديث مبارك ميں يه بات همارے علم ميں نهيں كه الله كي انگلياں اس كے هاته كا جزء هيں۔
اب یمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ کیا آدمی جب بیت الخلا جاتا ہے تو کیا اللہ کی انگلیوں کو باہر چھوڑ کر جاتا ہے؟ دوسرا یہ کہ اللہ کی ذات کو آپ لوگ صرف عرش کے اوپر ٹھہراتے ہیں اب اللہ کی ذات اوپر اور اس کا ہاتھ اور انگلیں نیچے ؟
یہ اعتراض خود فرقہ اہل حدیث پر جاتا ہے۔
1
فرقہ اہل حدیث کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی
لکھتے ہیں
”ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا اور ہر چیز کی ہر وقت خبر رکھنا خاص ذات وحدہ لاشریک لہ باری تعالٰی کے واسطے ہے“۔
(فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 6)
2
فرقہ اہلحدیث کے شیخ السلام ثناء اللہ امرتسری الجہمی
لکھتے ہیں
” اللہ بذات خود اور بعلم خود ہر چیز اور ہر کام پر حاضر ہے“۔
(تفسیر ثنائی ص 347 )
3
محقق اہلحدیث قاضی شوکانی الجہمی
لکھتے ہیں
وكما نقول هذا الاستواء والكون في تلك الجهة فكنا نقول في مثل قوله تعالي وهو معكم اينما كنتم ۔۔۔۔۔ ولا نتكلف بتاويل ذالك كما يتكلف غيرنا بان المراد بهذا الكون المعنيت هوكن العلم و عليتهفان هزا شعبة من شعب التاويل تخالف مذاهب السلف و تبائن ماكان عليهه الصحابة و تابعوهم رضوان اللہ عليهم اجمعين
ترجمہ
”جیسا ہم استواء اور جہت فوق کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں ویسا ہی ان اقوال خدا وندی هو معكم وغيرہ ”وہ تمہارے ساتھ“ ہے کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔۔ ہم اس کی تاویل علم کے ساتھ یا نصرت کے ساتھ کرنے میں تکلف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ ساتھ ہونے سے اس کا علم مراد ہے کیونکہ یہ بھی تاویل کی ایک شاخ ہے جو مذہب صحابہ ؓ و تابعین وغیرہ سلف کے خلاف ہے “
(التحف ص 16 بحوالہ فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 202)
ان کے بارے میں کیا خیال ہے آج کے لامذہبوں کا ؟
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی چاہے اچھے سے اچھی یا بری سے بری تمام مخلوقات کا خالق ہے لیکن یہ گواہی دینے کے بعد اس کی شان گھٹانے کی غرض سے اس کی ہر ہر مخلوق کے متعلق یہ پوچھے کہ کیا اس کا بھی اللہ خالق ہے اس کا بھی اللہ خالق ہے درست نہیں۔
یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ”اللہ اکبر“ اللہ سب سے بڑا ہے مگر یہ اقرار کرنے کے بعد کوئی احمق کہے کہ کیا اللہ میرے ہاتھ سے بڑا ہے میری انگلیوں سے بڑا ہے کیا فلاں چیز سے فلاں جانور سے بھی بڑا ہے قطعاً درست نہیں۔ ان سب کا ایک ہی جواب ہے کہہ دو کہ اللہ سب سے بڑا ہے بس۔
بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے ؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کا جسم ہی نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی بھی نہیں ۔اللہ کریم دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔
نوٹ :
اللہ کو ہر جگہ کہنے سے ہماری مراد اللہ کیلئے کسی جگہ کا اثبات کرنا نہیں بلکہ کسی بھی جگہ کے مقرر کرنے کی نفی کرنی ہے۔
اللہ کی ذات کے متعلق ہمارا وہی عقیدہ ہے جو کہ تمام اہلسنت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات موجود بلا مکان و جگہ ہے جیسا تمام مخلوقات کی تخلیق سے پہلے تھی اب بھی ویسے ہی ہے (ملاحظہ ہو اشعریہ ماتریدیہ کا منہج اور فرقہ سلفیہ سے ان کا اختلاف اختلاف نمبر 2) اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔
No comments:
Post a Comment