Thursday, 18 June 2020

تحقیق مسئلہ وحدۃ الوجود

تحقیق مسئلہ وحدۃ الوجود
حسین بن منصورحلّاجؒ کے حالات کو جاننے کے لئے سب سے پہلے مسئلہ وحدۃالوجودکی حقیقت کو واضح کرنا ہوگا جسکے غلط عنوان سے مخالفین اسلام نے ایک شور برپاکیااور عام اور لاعلم مسلمانوں کو بہت بہکایا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ ابن منصورحلّاجؒ اور ابن عربیؒ کواس مسئلے میں بہت زیادہ بدنام کیا جاتا ہے۔ کبھی کہاجاتا ہے کہ وہ خالق ومخلوق میں اتحاد مانتے ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ مخلوق میں خدا کے حلول کے قائل ہیں، اور اس مغالطہ کا اصل منشاء مسئلہ وحدۃالوجودکی حقیقت سے بیخبری ہے۔ اس لئے مختصراًعرض ہے کہ یہ مسئلہ نہ مقاصد تصوف سے ہے، نہ مقامات سلوک میں اسکا شمارہے۔ چنانچہ سلف میں اس کامفصل تذکرہ تحریراً یا تقریراً نہ تھا، صرف ابہام کے درجہ میں کہیں کہیں اس کے آثار کا ظہور ہوجاتا تھا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ معنون تھا، عنوان نہ تھا، پھر خلف میں اس کا عنوان ظاہر ہوا، اور مختلف تعبیرات سے ظاہرہوا۔ اسی لئے بعض لوگ غلطی میں پڑگئے اور دوسروں کو مغالطہ دینے لگے۔
اس مسئلہ کی حقیقت معلوم کرنے سے پہلے یہ امر اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیئے کہ اسلام کے تمام فرقے اﷲتعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین اور اتفاق رکھتے ہیں۔ اسلام میں توحید کی جیسی سادہ، بے تکلف اور صاف تعلیم ہے۔ جس کی نظیرکوئی مذہب پیش نہیں کرسکتا۔ محققین کے نزدیک اسلام کی سرعت اشاعت کا بڑاسبب یہی ہے کہ توحیدکی تعلیم جیسی اسلام میں ہے کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ خصوصیت کے ساتھ صوفیہ کرام سب سے زیادہ عقیدۂ توحید کے علمبردارہیں کیونکہ دوسروں کے نزدیک تو یہ مسئلہ محض عقلی ونقلی ہے۔ مگرصوفیہ کرامؒ کے نزدیک کشفی اور بدیہی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیہ کرامؒ کے کلام میں توحید کا ذکر دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ پس ان کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو توحیداسلامی کے خلاف یاکسی درجے میں بھی اس کے منافی ہو بہت بڑا ظلم ہے۔ حضرات صوفیہ نے غلبۂ حال میں جن مختلف عنوانات سے اپنے ذوق کو تعبیرکرنا چاہا۔ بعض لوگوں نے اس کے سمجھنے میں غلطی کی اور غلطی کے ازالہ کا جو طریقہ تھا ان کے اس کلام کی طرف رجوع کیا جاتا جو حالتِ صحومیں انھوں نے فرمایاہے، اس سے کام نہیں لیا گیا۔
وحدۃ الوجودکا صحیح مطلب
امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیریؒ (متوفی: ۴۶۵)لکھتے ہیں: ’’کہاجاتاہےکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جوافعال ہوتے دیکھتے ہیں، واقعات ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جن پرحقیقت کھل جاتی ہے تووہ اﷲکے سواہرچیزکومحسوس کرنے سے عاری ہوجاتے ہیں چنانچہ وہ اپنے دل میں سب کوباطنی طورپرایک ہی جگہ اکھٹے دیکھتے ہیں اورجب انہی چیزوں کودنیامیں دیکھتے ہیں توہرچیزکاایک الگ وجودنظرآرہاہوتاہے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۷)
عقیدۂ وحدۃالوجودبزبان حضرت جنیدبغدادیؒ: ’’حضرت جنیدؒسےکسی نے توحیدکے بارے میں پوچھاتوفرمایاکہ میں نے کسی شاعرسےاس بارے میں یہ سناتھا۔
"میرےدل میں ایک آرزوگنگنانے لگی (کہ توحیدکیاہے؟) تومیں نے بھی یہی گنگناناشروع کردیاچنانچہ جہاں وہ (توحیدسےواقف) تھے، ہم بھی وہاں تھےاورجب وہ وہاں تھے ہم بھی اسی وقت میں تھے۔"
یہ سن کراس قائل نے پوچھاکہ قرآن وحدیث ختم ہوگئے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، موحدایک ادنیٰ اورآسان طریقے سےبھی توحیدکابلندمقام تلاش کرلیتاہے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۸)
مولاناتقی عثمانی حفظ اﷲفرماتے ہیں: ’’وحدۃ الوجود کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجودصرف ذات باری تعالیٰ کی ہے، اس کے سوا ہروجود بے ثبات، فانی اور نامکمل ہے۔ ایک تو اس لئے کہ وہ ایک نہ ایک دن فنا ہوجائے گا، دوسرے اس لئے کہ ہرشئی اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالیٰ کی محتاج ہے، لہٰذاجتنی اشیاءہمیں اس کائنات میں نظرآتی ہیں، انہیں اگرچہ وجود حاصل ہے لیکن اﷲکے وجود کے سامنے اس وجود کی کوئی حقیقت نہیں، اس لئے وہ کالعدم ہے۔
اس کی نظیریو سمجھئے جیسے دن کے وقت آسمان پرسورج کے موجود ہونے کی وجہ سے ستارے نظرنہیں آتے، وہ اگرچہ موجود ہیں، لیکن سورج کا وجود ان پر اس طرح غالب ہوجاتا ہے کہ ان کا وجود نظر نہیں آتا۔
اسی طرح جس شخص کو اﷲنے حقیقت شناس نگاہ دی ہو وہ جب اس کائنات میں اﷲتعالیٰ کے وجود کی معرفت حاصل کرتا ہےتو تمام وجود اسے ہیچ، ماند، بلکہ کالعدم نظرآتے ہیں‘‘۔ (فتاویٰ عثمانی: جلداوّل، کتاب الایمان والعقائد: ص۶۶)
’’حضرت جنیدؒنے فرمایاکہ اﷲکی توحیدبیان کرتے وقت سب سے بہترین بات جوہم کہہ سکتے ہیں، وہ ہےجسے حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲعنہ نے بیان فرمایاتھا:
"پاک ہے وہ ذات کہ جس نے اپنی مخلوق کو اپنی پہچان کاراستہ نہیں دیابلکہ اپنی ذات کی پہچان سے عاجزکردیاہے۔"
استاذابوالقاسم القشیریؒ نے فرمایاکہ حضرت صدیق اکبررضی اﷲعنہ کے فرمان کایہ مطلب ہرگزنہیں کہ اﷲتعالیٰ کی پہچان ممکن ہی نہیں کیونکہ ہرایک کویہ بات معلوم ہے کسی شئے سے عجزتبھی ہوتاہے جب وہ موجودہواورمعدوم نہ ہوجیسے ایک اپاہج اپنے عمل دخل سے بیٹھ توسکتانہیں لیکن اگروہ صحیح ہوجائے تواس میں بیٹھنے کی صفت موجودہے بالکل یونہی اﷲکاعارف یعنی اس کی پہچان کرنے والا، اس کی پہچان سے عاجزہوتاہےحالانکہ پہچان کرلینے کی صفت اس میں موجودہوتی ہےکیونکہ عارف میں معرفت ہوتوعارف ہوگالیکن صوفیہ کے ہاں انتہاءمیں معرفت کاپایاجاناضروری ہوتاہے چنانچہ ابتداءمیں کسبی معرفت اگرچہ حقیقۃًمعرفت ہی کہلاتی ہے لیکن حضرت صدیق اکبررضی اﷲعنہ نے ضروری معرفت کے مقابلے میں اسے اہمیت نہیں دی جیسے روشن سورج کے سامنے ایک جلتے چراغ کی روشنی کی حیثیت نہیں ہوتی‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۵)
مشہورغیرمقلدعالم حافظ عبداﷲمحدث روپڑی فتویٰ اہلحدیث میں توحید کی چاراقسام بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’یہ چار قسمیں توحید کی صوفیاء کے ہاں مشہور ہیں۔ اخیر کی دو وہی ہیں جن کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے یعنی توحید حالی وحدۃ الشہود ہے اور توحید الٰہی وحدۃ الوجود ہے۔ یہ اصطلاحات زیادہ تر متاخرین صوفیاء(ابن عربی وغیرہ) کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔ متقدمین کی کتب میں نہیں۔ ہاں مراد ان کی صحیح ہے، توحید ایمانی اور توحید علمی تو ظاہر ہے توحید حالی کا ذکر اس حدیث میں ہے: "ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک"۔ "یعنی خدا کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تواس کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو نہ دیکھے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے"۔
یہ حالت چونکہ اکثر طور پر ریاضیت اور مجاہدہ سے تعلق رکھتی ہے ، اس لیے یہ عقل سے سمجھنے کی شئے نہیں ہاں اس کی مثال عاشق ومعشوق سے دی جاتی ہے۔عاشق جس پر معشوق کا تخیل اتنا غالب ہوتا ہے کہ تمام اشیاء اس کی نظر میں کالعدم ہوتی ہیں‘ اگر دوسری شئے کا نقشہ اس کے سامنے آتا ہے تو محبوب کاخیال اس کے دیکھنے سے حجاب ہو جاتا ہے گویا ہر جگہ اس کو محبوب ہی محبوب نظر آتا ہے خاص کر خدا کی ذات سے کسی کو عشق ہو جائے تو چونکہ تمام اشیاء اس کے آثار اور صفات کا مظہرہیں اس لیے خدائی عاشق پر اس حالت کا زیادہ اثر ہوتا ہے یہاں تک کہ ہر شئے سے اس کو خدا نظر آتا ہے وہ شئی نظر نہیں آتی ہے جیسے شیشہ دیکھنے کے وقت چہرے پر نظر پڑتی ہے نہ کہ شیشہ پر‘‘۔ (فتاویٰ اہلحدیث: ج۲، ص۱۵۳)
مشہورغیرمقلدعالم علامہ اسماعیل سلفی فرماتےہیں: ’’مسئلہ درست تھا، اگرتعبیرناپسندتھی تو اسے بدل دیاجاتالیکن یہاں کوئی پرانابغض تھاجسے نکالناضروری سمجھاگیااورفتووں کی مشین تان دی گئی اورکفرکے انبار انڈیل دیئے گئے‘‘۔ (تحریک آزادیٔ فکر: ص۲۹)

No comments:

Post a Comment