Thursday, 18 June 2020

شہید حسین بن منصور حلّاج رحمہ اﷲتعالیٰ پرلگائے گئے الزامات (بحوالہ تاریخ بغداد و تاریخ طبری) کی اصل حقیقت قرآن وحدیث اور تاریخی شواہد کی روشنی میں

شہید حسین بن منصور حلّاج رحمہ اﷲتعالیٰ پرلگائے گئے الزامات (بحوالہ تاریخ بغداد و تاریخ طبری) کی اصل حقیقت قرآن وحدیث اور تاریخی شواہد کی روشنی میں
پہلا الزام: مثل قرآن بنانے کا دعویٰ
خطیب بغدادی نے ابن باکویہ شیرازی کے واسطہ سے ابوزرعۃ طبری سے روایت کیا ہے کہ لوگ حسین بن منصورکے متعلق اختلاف رکھتے ہیں۔ کوئی ان کو قبول کرتا ہے اور کوئی رد کرتا ہے۔ لیکن میں نے محمد بن یحییٰ رازی سے سنا کہ میں نے عمروبن عثمان کو ابن منصورپرلعنت کرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگرمیں اس پرقابو پاؤں تو اپنے ہاتھ سے قتل کردوں۔ میں نے دریافت کیا کہ حضرت شیخ کو ان کی کس بات پرغصہ آیا۔ کہا! میں نے کتاب اﷲکی ایک آیت پڑھی تو کہنے لگاکہ میں بھی اس کی مثل تالیف کرسکتاہوں۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۹)
جواب:
۱۔ اس روایت کی سند میں ابن باکویہ شیرازی ضعیف ہے اور محدثین کے نزدیک غیرثقہ راوی ہے۔ (لسان المیزان: ج۷، ص۲۵۲)
۲۔ دوسراراوی محمد بن یحییٰ رازی بھی حجت نہیں، یہ ثقات سے منکراحادیث روایت کرتا تھا۔ (لسان المیزان: ج۷، ص۵۷۸)
۳۔ تیسرا راوی ابو زرعہ طبری مجہول ہے۔ کتب اسماع الرجال میں اس کے حالات کاکہیں ذکرنہیں ملتا۔ لہٰذا یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ (متوفی ۱۸۱؁ھ) فرماتے ہیں کہ: ’’الإسناد من الدین، ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء‘‘۔ ’’سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا‘‘۔ (مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: ۳۲ و سندہ صحیح)
ایسی ضعیف روایت کی بناء پرکسی ایسے شخص کو کافروزندیق سمجھنا جن کو آئمہ طریق، اجلۂ علماء اور بڑے بڑے بزرگان دین نے اولیاء میں شمار کیا ہو۔ کم عقلی اور گمراہی کی نشانی ہے۔ اس طرح کی ضعیف روایت سے کسی شخص کوکافروزندیق کہنا شروع کردیاجائے تو پھربڑےبڑےجلیل القدرمحدثین اور ائمہ مجتہدین بھی نہ بچ پائیں گے۔

No comments:

Post a Comment