Thursday, 18 June 2020

شہید حسین بن منصور حلّاج رحمہ اﷲتعالیٰ پرلگائے گئے الزامات کا جواب

دوسراالزام: ابن منصورکےخط کےعنوان میں ’’بسم اﷲالرحمٰن الرحیم‘‘ کی جگہ ’’من الرحمٰن الرحیم‘‘لکھا ہونا
خطیب بغدادی ؒنے اس واقعہ کوابراہیم بن محمدواعظ (یعنی ابوالقاسم نصرآبادہؒ)سے وہ ابوالقاسم رازی کے واسطہ سے وہ ابوبکربن حمشادسے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ دنیورمیں ایک شخص آیا، جس کے پاس ایک تھیلاتھا، جسے وہ رات دن میں کسی وقت بھی اپنے سے الگ نہ کرتاتھا۔ لوگوں نے اس تھیلے کی تلاشی لی تو اس میں حلّاج کا ایک خط نکلاجس کا عنوان یہ تھا ’’من الرحمٰن  الرحیم الی فلان بن فلان‘‘ یہ خط رحمٰن رحیم کی طرف سے فلاں شخص کے نام ہے۔ یہ خط بغداد بھیج دیاگیا، تو حلّاج کوبلایاگیا، ان کو دکھایاگیاتو(حلاّج نے)کہا، ہاں میراخط ہے میں نے ہی لکھا ہے۔ لوگوں نے کہا، اب تک تونبوت ہی کے مدعی تھے، خدائی کابھی دعویٰ کرنےلگے۔ (حلاّج نے)کہا، میں خدائی کا دعویٰ نہیں کرتا (دوسری روایت میں ہے کہ ابن منصورنےکہا! معاذاﷲ، میں نہ خدائی کا دعویٰ کرتاہوں، نہ نبوت کا، میں تو ایک آدمی ہوں، اﷲکی عبادت کرتا، نمازروزہ کی کثرت کرتاہوں اس کے سواکچھ نہیں جانتا)۔
پھرابن منصورنے اسی واقعہ میں اس حقیقت کو ان الفاظ سے بیان کیا ’’ما أدعي الربوبية، ولكن هذا عين الجمع عندنا، هل الكاتب إِلا اللَّه، وأنا واليد فيه آلة‘‘۔ ’’میں خدائی کا دعویٰ نہیں کرتا۔ لیکن یہ بات(جومیں نے لکھی) توہمارے نزدیک عین جمع ہے۔ اﷲکے سوالکھنے والا کون ہے، میں اور میراہاتھ تو اس میں آلہ محض کے سواکچھ نہیں‘‘۔
ابن منصورسے کہاگیاکہ اس بات میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے ابوالعباس بن عطاء، ابومحمدجریری اورابوبکرشبلی کانام لیا، اور یہ بھی کہاکہ ان میں سے دوبزرگ تو اس حقیقت کو چھپاتے ہیں، اگرصاف کہہ سکتے ہیں توابن عطاءکہہ سکتے ہیں۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۰۶)
جواب:
حسین بن منصورحلّاج رحمہ اﷲپرجب خدائی کا دعویٰ کرنے کا جھوٹاالزام لگایاگیاتو انھوں نےواضح الفاظ میں اس الزام کی نفی کرتےہوئےفرمادیاکہ: ’’میں خدائی کا دعویٰ نہیں کرتا۔ لیکن یہ بات(جومیں نے لکھی) توہمارے نزدیک عین جمع ہے۔ اﷲکے سوالکھنے والا کون ہے، میں اور میراہاتھ تو اس میں آلہ محض کے سواکچھ نہیں‘‘۔
حسین بن منصورحلّاج رحمہ اﷲکے اس کلام کا حقیقی اورصحیح مطلب حدیث قدسی میں موجود ہے:
’’حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "‏إِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَىَّ عَبْدِي بِشَىْءٍ أَحَبَّ إِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطُشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَىْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ"‏‏‘‘۔ ’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے‘‘۔ (صحیح البخاری: ج ۸، كتاب الرقاق، باب التَّوَاضُعِ، رقم الحدیث۶۵۰۲)
حسین بن منصورحلّاجؒ کے اس کلام کا حقیقی وصحیح مطلب مندرجہ بالاحدیثِ قدسی سے واضح طورپرسمجھا جاسکتا ہے جس میں اﷲتبارک وتعالیٰ خودفرماتے ہیں کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اور میرابندہ نوافل کے ذریعہ میرے اتنے قریب ہوجاتاہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ کیا کوئی شخص اﷲتبارک وتعالیٰ کے اس ارشاد کاحقیقی معنیٰ و مطلب بیان کرسکتا ہے؟ اﷲتعالیٰ کے اس ارشاد کا حقیقی معنیٰ ومطلب اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہوسکتاجو حسین بن منصورؒ کی زبان سے بیان ہوا ’’یعنی یہ بات(جومیں نے لکھی) توہمارے نزدیک عین جمع ہے۔ اﷲکے سوالکھنے والا کون ہے، میں اور میراہاتھ تو اس میں آلہ محض کے سواکچھ نہیں‘‘۔
ابن منصورؒنے اس کیفیت کا اظہارکیاہے جو اولیاءاﷲکو ریاضت ومجاہدے سے حاصل ہوتی ہے۔ جن پراﷲکی محبت کا غلبہ ہوتا ہے ان کو سوائے اﷲتعالیٰ کے کوئی چیز نظرنہیں آتی، یہ خاص کیفیت ہے جن پرگزرتی ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔حسین بن منصورؒکے کلام کا یہی مطلب ہے کہ اقوال حسنہ سب اﷲہی کی طرف سے ہیں میں تو محض آلہ اظہار ہوں۔ مجھ سے لکھوانے والا تو صرف اﷲہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خط کومنجانب اﷲ کی طرف منسوب کیا۔
حسین بن منصورحلّاج رحمہ اﷲکے اس جملے ’’ولكن هذا عين الجمع عندنا‘‘۔ ’’لیکن یہ بات(جومیں نے لکھی) توہمارے نزدیک عین جمع ہے‘‘ کو اصطلاح صوفیہ میں توحید الٰہی ’’وحدۃ الوجود‘‘ کہاجاتاہے۔ توحیدالٰہی ’’وحدۃ الوجود‘‘ کا صحیح مطلب مولاناتقی عثمانی صاحب اور مشہورغیرمقلدعالم حافظ عبداﷲمحدث روپڑی صاحب کی زبانی وضاحت سےبیان کیاجاچکاہے۔
پھر جب ان سے اس عقیدہ’’عین جمع‘‘ کے متعلق سوال کیاگیا توانھوں ابن عطاء، محمدجریری اورامام شبلی کانام لیااور یہ بھی بتادیا کہ دو بزرگ تو اس عقیدہ کوراز رکھتے ہیں اگرصاف کہہ سکتے ہیں تو وہ ابن عطاءؒہیں۔ اب دیکھنا یہ تھاکہ کیا ابن عطاءؒ نے ابن منصورؒ کی بات کی تائیدکرتےہوئےان کے اس  عقیدہ کو صحیح قراردیاکفریہ؟
چنانچہ تینوں بزرگوں (ابن عطاءؒ، محمدجریریؒ اورامام شبلیؒ)کوبلایاگیااورابن منصورؒ کی پیشن گوئی کے مطابق دوبزرگوں نے توموافقت سے انکارکیااورابن العباس بن عطاءؒ نے پوری تائیدکی۔ وزیرحامدالعباس نے کہاآپ ایسے اعتقاد کی تصویب کرتےہیں؟ اس پرحضرت ابوالعباس بن عطاءؒ نے فرمایا: ’’فَقَالَ: هذا اعتقاد صحيح، وأنا أعتقد هذا الاعتقاد، ومن لا يعتقد هذا فهو بلا اعتقاد‘‘۔ ’’یہ اعتقاد صحیح ہے، میں اس کا معتقد ہوں اور جس کا یہ اعتقاد نہ ہووہ بے اعتقادہے‘‘۔
ابن عطاءؒ کے اس جواب پر وزیرحامد العباس نے انہیں اپنے غلاموں کے ذریعہ مارنا شروع کردیاجس کے نتیجہ میں ان کے نتھنوں سے خون بہنے لگا، پھر ان کو قید میں ڈالنے کا حکم دیا۔ تو ابو العباس بن عطاءؒ نےبد دعاکی کہ اے اﷲ! اس وزیرکوقتل کراوراس کے ہاتھ پیرکٹوادے۔ اس واقعہ کے ایک ہفتہ بعد حضرت ابن عطاءؒ کاانتقال ہوگیا اوروزیرحامدبھی اسی طرح قتل کیاگیا۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۰۶-۷۰۷)
ابن عطاءؒ کا حسین بن منصورؒ کے اس عقیدہ کی مکمل تائیدکرنا اور خود کو ان کا معتقد کہنااس بات کی دلیل ہے کہ حسین بن منصورؒکااعتقادقرآن وسنت کے عین مطابق تھا۔  یہاں ابو العباس بن عطاءؒکے مختصرحالات بیان کیئے دیتے ہیں تاکہ قارئین کرام کو ان کا علمی مقام و مرتبے کا علم ہوسکے۔
امام ذہبیؒ ابوالعباس بن عطاءؒکے بارے میں لکھتے ہیں: ’’پرہیزگارعبادت گزارابوالعباس احمد بن محمد بن سھل بن عطاء الأدمی البغدادی۔ روزانہ پورا قرآن ختم کرتے تھےاوررمضان المبارک میں ہردن تین بارختم کرتے تھے، اورفہم معانی قرآن کےلئےجوایک تلاوت شروع کی تھی اس میں چودہ برس کے اندرنصف قرآن تک بھی نہ پہنچے۔ حلّاج کا حال ان پرحاوی تھااور اسے صحیح قرار دیتے تھے۔ سلمی فرماتے ہیں: وہ حلّاج کی ہمایت کے سبب آزمائش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ وزیرحامد نے انہیں طلب کیااورکہا کہ آپ حلّاج کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ابن عطاءؒ نے فرمایا! تم کو اس معاملہ سے کیا واسطہ؟ تم لوگوں کا مال لوٹتے رہو اورخون بہاتے رہو۔ وزیرحامد کے حکم سے ابن عطاءؒ کے دانت توڑدیئے گئے۔ ابن عطاءؒ نے چلاتے ہوئے وزیرحامد العباس کو بد دعا دی کہ اے اﷲ! اس کے ہاتھ پیرکٹوادے۔ اس واقعہ کے ۱۴ دن بعد ابن عطاءؒ کی وفات ہوگئی اورزیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وزیرحامدبن العباس بھی قتل کیاگیا۔ قتل سے پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹے گئے۔ اس وقت لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ابوالعباس بن عطاءؒ کی بددعالگئی‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۶، ص۲۵۵)
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ’’پرہیزگارعبادت گزارابوالعباس احمد بن محمد بن سھل بن عطاء الأدمی البغدادی۔ روزانہ پورا قرآن ختم کرتے تھے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں: وہ حلّاج کے مذہب کے ہامی تھے اور اسے صحیح قرار دیتے تھے۔ سلمی فرماتے ہیں: وہ حلّاج کی ہمایت کے سبب آزمائش میں مبتلا ہوگئے تھے‘‘۔ (بیان تلبیس الجھمیۃ: ج۲، ص۱۱۰)
ابن ملقنؒ اپنی کتاب طبقات الاولیاء میں حضرت ابو العباس بن عطاءؒ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’وہ حضرت جنیدبغدادیؒ اور ابراہیم مارستانیؒ وغیرہ کی صحبت میں رہے۔ حضرت جنیدبغدادیؒ اورابو سعیدخرازکی بہت تعظیم کرتے تھے‘‘۔ (طبقات الاولیاء: ص۵۹)
خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں: ’’(ابو العباس بن عطاءؒ) اس زمانے کے ان صوفیوں میں سے تھے جوعبادات و اجتہاداورکثرت سے قرآن کا درس دیا کرتے تھے۔ انہوں نے یوسف بن موسیٰ القطان اور فضل بن زیادصاحب احمد بن حنبلؒ سے احادیث روایت کی‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۶، ص۱۶۵)
حضرت ابوالعباس بن عطاءؒ جیسے جلیل القدر بزرگ ومحدث جن کواولیاءاﷲمیں شمار کیاجاتاہے۔ انہوں نے ابن منصورؒ کی مکمل تائیدکی، ان کے حال کوصحیح قرار دیااوران کے لئے وزیرحامد کے مظالم کوبرداشت کرتے ہوئے اپنی جان تک دیدی۔
ابن منصورؒ کانبوت اورخدائی کےدعوےسےانکاراوراپنی عبدیت کااقرار، حضرت ابن عطاءؒکاابن منصورکی تائیداوران کےعقیدہ کےصحیح ہونےکااقراراوروزیرحامدالعباس کےمظالم اس بات کی واضح دلیل ہےکہ ابن منصورؒپرلگائے گئے الزامات جھوٹے تھےاوروہ بے قصورتھے۔

No comments:

Post a Comment