Thursday, 18 June 2020

شہید حسین بن منصور حلّاج رحمہ اﷲتعالیٰ پرلگائے گئے الزامات کا جواب

تیسراالزام: سحر(جادو) کی تعلیم وتعلم
خطیب بغدادیؒ نے ابن باکویہ شیرازی کے واسطہ سے ابوالحسن بن ابوتوبہ سے روایت کیا ہے کہ اس نے علی بن احمدحاسب سے سناوہ اپنے باپ سے روایت کرتاہےکہ۔ کوئی ان کو قبول کرتا ہے اور کوئی رد کرتا ہےکہ مجھے معتضدنے ہندوستان کچھ باتیں معلوم کرنے کے لئے بھیجا، جن پر وہ مطلع ہوناچاہتاتھا، میرے ساتھ کشتی میں ایک شخص تھا جس کا نام حسین بن منصورتھا۔ اس کی معاشرت بہت اچھی اورصحبت بہت پاکیزہ تھی۔ جب ہم کشتی سےکنارہ پراترےاورمزدوروں نے سامان اتارناشروع کیاتو میں نے اس (حسین بن منصور) سے پوچھا، تم یہاں کس لئے آئے ہو؟ کہاجادوسیکھنے آیاہوں تاکہ مخلوق کواﷲتعالیٰ کی طرف دعوت دوں۔ اسی کنارہ پرایک جھونپڑی تھی جس میں ایک بہت بوڑھاآدمی رہتاتھا۔ حسین بن منصورنےاس سے کہا، تمہارےیہاں کوئی شخص جادوکاجاننے والاہے؟ (اس کے جواب میں) بڈھے نے سوت کی انٹی نکالی اوراس کاایک کنارہ حسین بن منصورکے ہاتھ میں دے کرانٹی کوہوامیں پھینک دیا، تواس کاایک لمباتاربن گیا۔ اس کے بعد بڈھااس تارپرچڑھ گیا، پھراترآیااورابن منصورسےکہا، تم اسی کوچاہتے ہو؟ پھر مجھ میں اوران میں جدائی ہوگئی۔ اسکے بعدمیں نے بغدادہی میں ان کو دیکھا۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۲۹۷-۲۹۸)
جواب:
۱۔ اس روایت کی سند میں بھی وہی ابن باکویہ شیرازی راوی موجودہے جومحدثین کے نزدیک غیرثقہ ہے۔ (لسان المیزان: ج۷، ص۲۵۲)
۲۔ دوسراراوی علی بن احمدشروانی ہےجس نے حلّاجؒ کی حکایات کو جمع کیاتھا۔ اس کے متعلق محدثین فرماتے ہیں کہ ’’کذاب اشر‘‘ یعنی بہت جھوٹاشیخی بازہے۔ (لسان المیزان: ج۵، ص ۴۹۹)
۳۔ اور اس (علی بن احمدشروانی )کاباپ مجہول ہے کیونکہ کتب اسماع الرجال میں اس کاکہیں ذکرنہیں ملتا۔
شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ (متوفی ۱۸۱؁ھ) فرماتے ہیں کہ: ’’الإسناد من الدین، ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء‘‘۔ ’’سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا‘‘۔ (مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: ۳۲ و سندہ صحیح)
یہ روایت بھی کسی بھی طرح قابل قبول و قابل اعتماد نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیر حامد العباس نے جب ابن منصورؒ کو ناحق قتل کیا تو اپنے اس اقدام کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اپنے ہمنواؤں کے ذریعہ اس قسم کے قصہ مشہورکروادیئےتاکہ عوام اس سے باغی نہ ہوجائے۔
الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری نے تاریخ الطبری میں اس واقعہ کو ا بن منصورؒ کے اصحاب سے دوسرے الفاظ میں یوں نقل کیا ہے کہ: ’’میں ابن منصورکے ساتھ ایک سال تک مکہ میں رہاکیونکہ وہ حجاج عراق کی واپسی پرمکہ ہی میں مقیم ہوگئےتھے۔ تومجھ سےفرمایا، اگرتم اپنے وطن کوواپس جاناچاہتے ہوتولوٹ جاؤکیونکہ میں تویہاں سے ہندوستان کاقصد کررہاہوں۔ راوی کہتاہےکہ حلّاج کوسیاحت اورسفرکابہت شوق تھا۔ چنانچہ وہ ہندوستان کے ارادہ سے سمندرمیں سفرکرنے لگے۔ میں بھی ہندوستان تک ان کے ساتھ رہا۔ جب وہ ہندوستان پہنچے توان کوایک عورت کاپتہ دیاگیا، وہ اس کے پاس گئے، اس سے باتیں کیں، اس نے دوسرےدن آنے کوکہا۔ چنانچہ اگلے دن میں اورابن منصوردونوں ساحل سمندرپرپہنچے ۔ (وہ عورت بھی آئی) اوراس عورت کے ہاتھ میں لپٹاہواسوت تھا۔ جس میں کمندکی طرح گرہیں لگی ہوئی تھیں۔ تواس نے کچھ پڑھ کردم کیااورتاگےکےاوپرچرھنے لگی۔ وہ تاگے پرپاؤں رکھ کرچڑھتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ ہماری نگاہوں سے غائب ہوگئی۔ یہ دیکھ کرحلّاج واپس ہوئے اور کہا، میں اسی عورت کی وجہ سے ہندوستان آیاتھا‘‘۔ (تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۸۳)
تاریخ بغداداورتاریخ طبری کی دونوں روایات میں درج ذیل اختلافات واضح ہوتے ہیں:
۱۔ پہلی روایت میں بوڑھے کا ذکرہے جبکہ دوسری روایت میں عورت کا ذکرہے۔
۲۔ پہلی روایت میں جادوسیکھنے کا ذکرہے جبکہ دوسری روایت میں جادو کا نام ونشان تک نہیں۔
۳۔ پہلی روایت میں بوڑھے شخص نے پہلی ہی ملاقات میں تاگے پرچڑھ کراپناکمال دکھایاجبکہ دوسری روایت میں عورت نے اگلے دن کی ملاقات میں اپناکمال دکھایا۔ ان اختلافات سے بھی روایت کاضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پہلی روایت کی سند ابن باکویہ شیرازی، علی بن احمدشروانی اور اس کے باپ کی وجہ سے سخت ضعیف ہے، اور دونوں روایات کا اختلاف اسے اور بھی ضعیف ثابت کرتاہے۔ بالفرض اگریہ سندجرح سے سالم مان لی جائے توبھی روایت میں اس بات کی بھی تصریح ہے کہ’’حسين بن مَنْصُور، وكان حسن العشرة طيب الصحبة‘‘اور یہ وہ صفت ہےجوساحروں میں نہیں پائی جاتی۔ ساحرتو نہایت غلیظ، گندے اور ناپاک ہوتے ہیں۔ انکوحسن معاشرت وپاکیزگی سےکیا تعلق۔ اسکےبعدان کایہ قول کہ’’وأدعو الخلق إِلَى اللَّه تعالى‘‘اس الزام کاردہےکیونکہ جادوگر لوگوں کواﷲکی طرف نہیں بلکہ شیطان کی طرف دعوت دیتےہیں۔
خطیب بغدادیؒ نے اس مضمون کو دوسری سندسے بھی ابوعندالرحمٰن سلمی کے واسطہ سے مزین سےروایت کیاہے: ’’وہ کہتے ہیں، میں نے حسین بن منصورکوایک سفرمیں دیکھا، پوچھاکہاں جاتے ہو، کہاہندوستان، (وہاں) سحرسیکھوں گااوراس کے ذریعہ مخلوق کو اﷲکی طرف دعوت دوں گا‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۸)
اس روایت کی سند میں علی بن محمد بن مزین صوفی اور ابوعبدالرحمٰن السلمی صوفی ہیں، تو سند میں بجز اسماعیل بن احمدحیری شیخ الخطیب کے اور کوئی محل نظرنہیں۔ انساب سمعانی میں ان کا بہت مختصر تذکرہ ملتا ہےجبکہ جرح و تعدیل کچھ مذکورنہیں۔ اگراس سندکوجرح سے سالم مان لیاجائے تو پھر ابوعبدالرحمٰن السلمی صوفی کی ان تمام روایات کو بھی صحیح تسلیم کرنا پڑےگاجن سے حسین بن منصورحلّاجؒ کاتوحیدپرست، ولی اﷲ، صاحب کرامت اوربے قصورہونا ثابت ہوتاہے۔
بالفرض اگراس روایت کو بھی صحیح تسلیم کرلیا جائے توبھی ابن منصورؒ کے اس قول سے کہ میں جادو سیکھنے آیا ہوں، سحر حرام پرمحمول کرنا درست نہیں، بلکہ سحرحلال پرمحمول کرنا لازم ہے۔ جس کا قرینہ اسی روایت میں ان کایہ قول ہے کہ ’’وأدعو الخلق إِلَى اللَّه تعالى‘‘ تاکہ اﷲکی طرف لوگوں کو دین کی دعوت دوں۔ اورظاہر ہے کہ دعوت اﷲ سحر حرام نہیں ہوسکتی اور نہ ساحروں کو دعوت الی اﷲسے کچھ تعلق ہے۔ لغۃً ہرمؤثرعجیب کو سحرکہاجاتا ہے،چنانچہ صحیح بخاری میں ہے۔ "‏إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ـ أَوْ ـ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ"۔ ’’رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں یا یہ فرمایا کہ بعض تقریر جادو ہوتی ہیں‘‘۔ (صحیح البخاری: ج ۷، كتاب الطب، باب مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، رقم الحدیث۵۷۶۷)
اس لئے یاتو ابن منصورؒ کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان کے اصحاب تصرف سے ملنے آیا ہوں، تاکہ خودبھی قوت تصرف حاصل کروں اور لوگوں کو اس کے ذریعہ اﷲکے دین کی طرف دعوت دوں۔ اس لئےکہ تیسری صدی ہجری میں ہندوستان کے اندراولیاءاﷲاوراصحاب تصرف کاموجود ہونا یقینی طورثابت ہے کیونکہ اس وقت اطراف سندھ میں اسلامی حکومتیں قائم ہوچکی تھیں۔

No comments:

Post a Comment