چوتھاالزام: ابراہیم بن شیبان کی جرح اوراس کاجواب
خطیب بغدادیؒ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی کے حوالے سے ابوعلی ہمدانی کایہ قول نقل کیاہےکہ ’’میں نے ابراہیم بن شیبان سےحلّاج کے متعلق دریافت کیاتوفرمایا، جوشخص بیہودہ دعووں کاثمرہ دیکھناچاہے وہ حلّاج اور اس کےانجام کودیکھ لے۔ اس کے بعد ابراہیم نے فرمایاکہ دعاوی اورمعارضات ہمیشہ اپنے اصحاب کےحق میں منحوس ثابت ہوئے ہیں، جب سےابلیس نے اناخیرمنہ کہاتھا‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۲۹۸)
جواب:
جواب:
۱۔ یہ سند بھی اسماعیل بن احمدحیری شیخ الخطیب کے واسطہ سے ہےجومحل نظرہے۔ انساب سمعانی میں ان کا بہت مختصر تذکرہ ملتا ہےجبکہ جرح و تعدیل کچھ مذکورنہیں۔
۲۔ دوسراراوی ابو علی ہمدانی مجہول ہے کیونکہ اس کا حال بھی کتب اسماع الرجال سے معلوم نہیں ہوسکا۔
۳۔ تیسراراوی ابوعبدالرحمٰن السلمی صوفی ہے۔ اگراس سندکوبھی جرح سے سالم مان لیاجائے تو پھر ابوعبدالرحمٰن السلمی صوفی کی ان تمام روایات کو بھی صحیح تسلیم کرنا پڑےگاجن سے حسین بن منصورحلّاجؒ کاتوحیدپرست، ولی اﷲ، صاحب کرامت اوربے قصورہونا ثابت ہوتاہے۔
شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ (متوفی ۱۸۱ھ) فرماتے ہیں کہ: ’’الإسناد من الدین، ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء‘‘۔ ’’سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا‘‘۔ (مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: ۳۲ و سندہ صحیح)
اگراس روایت کی تمام علتوں کو چھوڑکراسےصحیح تسلیم کرلیا جائے توبھی ابراہیم بن شیبان کاقول مجمل و مبہم ہے کیونکہ اس میں ابن منصورؒ کے کسی دعوےکا ذکرنہیں ہےجس سے اندازہ کیاجاسکے کہ وہ دعویٰ بیہودہ تھا یا نہیں۔ ممکن ہے ان کا اشارہ دعویٰ اناالحق کی طرف ہوجو ان کے متعلق عوام میں مشہورکرادیاگیاتھا۔ اگرچہ اس دعوے کا ثبوت بھی تاریخ میں کہیں نہیں ملتا۔ دراصل اس کلمےکا عنوان بالکل غلط لیا جاتاہےورنہ دراصل یہ کلمہ ایساہی ہےجیساکہ قرآن میں’’وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ‘‘ اور حدیث میں ’’اَلْجَنَّۃُ حَقٌّ واَلنَّارُ حَقٌّ‘‘ واردہواہے۔ اس کلمہ کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ میں حق ہوں یا میں خداہوں۔ اس کلمہ کےصحیح و برحق ہونےکےدلائل آگے پیش کیئے جائیں گے۔
امام ربانی مجددالف ثانی شیخ احمدسرہندیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’اناالحق کے یہ معنیٰ ہرگزنہیں کہ میں حق اورخداہوں، بلکہ یہ مطلب ہے کہ میں نہیں ہوں صرف حق تعالیٰ موجودہےکہ جس کی بارگاہ میں تغیرذات وتبدل صفات وافعال کا کوئی گزرنہیں۔ (مکتوبات امام ربّانی[اردو]: دفتراوّل، حصّہ چہارم، ۶۴۱،ص ۱۵۱)
ابراہیم بن شیبان کے اعتراض کا جواب بزبان حسین بن منصورحلّاجؒ:
ابراہیم بن شیبان کے اعتراض کا جواب بزبان حسین بن منصورحلّاجؒ:
شیخ فریدالدین محمد عطارنیشابوریؒ(متوفی ۵۴۰تا۶۱۸) اپنی کتاب تذکرۃ الاولیاء میں نقل کرتے ہیں کہ ’’حضرت شبلی نے فرمایاکہ حسین بن منصورکو جب سولی پرچڑھایاگیاابلیس ان کے سامنے آیااور کہنے لگاکہ ایک اناینت تم سے سرزدہوئی، ایک مجھ سے۔ تم نے اناالحق کہا۔ میں نے اناخیرکہا۔ مجھے لعنت کا پھل ملا۔ اور تم کو مقعدصدق (کادرجہ ملا) اس تفاوت کی کیاوجہ؟ حلّاجؒ نے کہا۔ تونے خودی سے اناکہاتھااور میں نے خودی سے پاک ہوکر کہا۔ تفاوت اسی وجہ سے ہواکہ مجھ پررحمت ہوئی اور تجھ پرلعنت‘‘۔ (تذکرۃ الاولیاء: ص۵۱۹)



No comments:
Post a Comment