پانچواں الزام:ابویعقوب اقطع کی جرح اوراسکاجواب
خطیب بغدادی ؒنے ابن باکویہ شیرازی کے واسطہ سےابوذرعہ طبری سےروایت کیاہے کہ میں نے ابویعقوب اقطع سے سناوہ کہتے تھے کہ میں نے اپنی بیٹی کوحسین بن منصورکےنکاح میں اس کاعمدہ طریقہ اوراچھا مجاہدہ دیکھ کردیدیا تھا، پھرتھوڑی مدت کے بعدمجھے معلوم ہواکہ وہ توحیلہ بازساحراورخبیث کافرہے۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۲۹۹)
جواب:
جواب:
۱۔ اس روایت کی سند میں بھی وہی ابن باکویہ شیرازی ہے جو محدثین کے نزدیک غیرثقہ ہے۔ (لسان المیزان: ج۷، ص۲۵۲)
۲۔ دوسرا راوی ابو زرعہ طبری مجہول ہے۔ کتب اسماع الرجال میں اس کے حالات کاکہیں ذکرنہیں ملتا۔
۲۔ دوسرا راوی ابو زرعہ طبری مجہول ہے۔ کتب اسماع الرجال میں اس کے حالات کاکہیں ذکرنہیں ملتا۔
۳۔ تیسرا راوی ابویعقوب اقطع بھی مجہول ہے۔ کتب اسماع الرجال میں اس کے حالات کابھی ذکرنہیں ملتا۔ لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ (متوفی ۱۸۱ھ) فرماتے ہیں کہ: ’’الإسناد من الدین، ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء‘‘۔ ’’سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا‘‘۔ (مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: ۳۲ و سندہ صحیح)
اگراس روایت کو بھی تمام علتوں کے باوجودصحیح تسلیم کرلیا جائے توبھی ابویعقوب اقطع کی جرح مبہم سے کسی ایسے شخص کو مجروح قرارنہیں دیا جاسکتاجسےبڑےبڑےاولیاءوعلماءکرامؒ نے قبول کیاہواور ان کی تائیدکی ہو۔
خطیب بغدادیؒ تاریخ بغدادمیں لکھتے ہیں کہ ابن منصورؒسےان کے شیخ اوّل عمروبن عثمان مکیؒ ناراض تھے اورناراضگی کی وجہ ابویعقوب اقطع کی لڑکی سے نکاح کرنا تھا۔ اس نکاح کی وجہ سے عمروبن عثمانؒ میں اورابو یعقوب اقطع میں اختلافات چل گئے تھے۔شیخ عمروبن عثمان مکیؒ اپنےوقت کےامام مسلّم طریقت تھےاورامام بخاری ؒسے حدیث روایت کی ہے۔ جس شخص (ابویعقوب اقطع)نے عمروبن عثمانؒ جیسے شیخ طریقت کی رعایت نہ کی وہ ابن منصورکوبرُابھلاکہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔
ایک اوراہم نکتہ یہ ہےکہ ابو یعقوب اقطع کےالفاظ ہیں کہ’’پھر تھوڑی مدت کےبعدمجھےمعلوم ہوا‘‘۔ یعنی انہوں نے جو کچھ حسین بن منصورؒکے بارے میں کہاوہ کہیں سے سن کرکہا خودسے ایسا کچھ نہیں دیکھاجوبیان کرسکتے۔
ابویعقوب اقطع کی جرح کی بہترین مثال کچھ اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ عکرمہ مولی ابن عباسؓ ونافع مولی ابن عمرؓپربعض ائمہ نے سخت جرح کی ہیں مگردوسرے علماءکی توثیق وتعدیل سے ان کو مقبول قراردیاگیا ہےاورجرح مبہم پرالتفات نہیں کیاگیا۔ بالکل یہی معاملہ ابن منصورؒ کے ساتھ بھی کرناچاہیئےکیونکہ ابن منصورؒکی توثیق وتعدیل ابراہیم بن محمدنصرآبادیؒ جیسے حافظ الحدیث و متبع سنت ، امام شبلی ؒجیسے امام طریق، ابوعبداﷲبن خفیفؒ جیسے شیخ طریقت اورابوالعباس بن عطاءؒجیسے ولی اﷲومحدث نے کررکھی ہے۔

No comments:
Post a Comment