چھٹاالزام: حسن بصریؒ کی طرف منسوب حج کامضمون
خطیب بغدادی ؒ اور عریب بن سعد قرطبی نے بیان کیا ہے کہ وزیرحامدبن العباس کے پاس روزانہ دفترکے دفترحلّاج کے اصحاب (اورمریدوں کے گھر) سےلائےجاتےتھے(جن میں حلّاج کے خطوط) اورکتابیں ہوتی تھیں۔ ایک دن وزیرحامد کے سامنے حلّاج کی ایک کتاب پڑھی جارہی تھی، جس میں یہ مضمون تھا کہ: "اگر کوئی شخص حج کاارادہ رکھتا ہواورقدرت نہ رکھتاہووہ اپنے گھرمیں سے ایک کمرہ مربع (عبادت کے لئے) مخصوص کرلے اوراس کوپاک صاف رکھے، کسی قسم کی نجاست وہاں نہ پہنچ سکے، نہ اس کے سواکوئی دوسراوہاں جائے۔ سب کواس کمرےسےروک دے۔ پھرایام حج میں اس گھرکاطواف کرےجیساکہ خانہ کعبہ کاطواف کرتے ہیں اورجومناسک مکہ میں اداکیئے جاتے ہیں سب بجالائے۔ جب یہ کرچکے توتیس یتیموں کوجمع کرکے اس گھرکےسامنے اپنی ہمت وقدرت کےموافق کھاناکھلائےاوربذات خودان کی خدمت کرےجب وہ کھانے سےفارغ ہوکرہاتھ دھولیں توہرایک کوایک ایک عمدہ کپڑے پہنائے۔ پھرہرایک کوسات درہم یاتین درہم دے، (ابوالقاسم بن زبخی کوشک ہے) یہ عمل اس کے لئے حج کاقائم مقام ہوگا"۔
جس وقت یہ کتاب پڑھی جارہی تھی وزیرحامد بن العباس کی مجلس میں قاضی ابوعمروقاضی ابوالحسین ابن الاشنائی اور ابوجعفربن بہلول قاضی اورعلماء وشہودکی ایک جماعت موجودتھی۔ قاضی ابوعمرنےحلّاج کی طرف متوجہ ہوکرفرمایاکہ یہ مضمون تجھے کہاں سے پہنچا؟ کہا! حسن بصری کی کتاب الاخلاص سے، قاضی ابوعمرنے کہا، اے حلال الدم! توجھوٹ کہتاہے، ہم نے مکہ میں حسن بصری کی کتاب الاخلاص سنی ہےاس میں تویہ مضمون نہیں تھا۔ پس قاضی ابوعمر کی زبان سے یاحلال الدم نکلناتھاکہ وزیرحامدنے اس لفظ کوپکڑلیااورکہااس لفظ کولکھ دیجئے۔ قاضی ابوعمرحلّاج سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھ کراس بات کو ٹالنے لگےمگرحامد اس بات کے لکھنے کامطالبہ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ حامد نے دوات اپنے آگے سے بڑھاکرقاضی کے سامنے رکھ دی اورکاغذ منگاکراس کے حوالے کردیااور بہت سختی کے ساتھ اس بات کے لکھنے کا مطالبہ کیاجس کے بعد قاضی مخالفت نہ کرسکا اورابن منصورؒ کےجوازِقتل کافتویٰ لکھ دیا۔ ان کے بعددوسرے علماءنےبھی اس پردستخط کردیئے، پھرخلیفہ نے بھی علماءکے فتوے پرقتل کی اجازت دے دی۔ (تاریخ مدینۃ السلام، خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۷)
حلّاج نے جب یہ صورت دیکھی توکہاکہ: ’’میری پشت (شرعاً) ممنوع ومحفوظ ہے (یعنی مجھے سزا ئے تازیانہ بھی نہیں دی جاسکتی) اورمیراخون بہانا حرام ہے، تم کو ہرگز یہ جائزنہیں کہ گھڑگھڑا کہ میرے جوازقتل کا فتویٰ دو، حالانکہ میرااعتقاد اسلام (کےموافق) ہے، میرامذہب سنت ہے، اور میں حضرت صدیق اکبرؓ، اور حضرت عمرؓوعثمانؓ وحضرت علیؓ وطلحہؓ وزبیرؓ وسعدؓوسعیدؓاورعبدالرحمٰن بن عوفؓ اورابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲعنہم کی تفضیل کا قائل ہوں اور سنت (کے بیان) میں میری کتابیں کتب فروشوں کے پاس موجود ہیں۔ پس میرے خون کے معاملہ میں اﷲسے ڈرو۔ اﷲسے ڈرو‘‘۔
وہ بارباراسی بات کودہراتے رہے اورلوگ برابردستخط کررہے، یہاں تک کہ حسب منشاء فتوے کی تکمیل کرلی گئی تویہ لوگ مجلس میں اُٹھ کھڑے ہوئے اورحلّاج کواسی جگہ بھیج دیا گیاجہاں وہ پہلے قیدتھے۔ (تاریخ مدینۃ السلام، خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۸)
جواب:
جواب:
قارئین کرام! آپ نے دیکھا کہ وزیرحامد العباس نے قاضی ابوعمرسے کس طرح زبردستی فتوےپردستخط کروایا۔ قاضی ابوعمرکی زبان سے ایک لفظ کیانکل گیاوزیرکے نزدیک آیت وحدیث ہوگیا حالانکہ قاضی اپنی بات کو ٹالناچاہتےتھےمگروزیرنےخودکاغذاوردوات آگےکرکےفتویٰ لکھنے پر اصرارکیااورمجبورہوکرقاضی نے جواز قتل کا فتویٰ لکھ ڈالا۔
حسین بن منصورحلّاجؒ کی کتاب میں رقم مسئلہ (ایام حج میں کسی گھرکا طواف کرنا) کی شرعی حیثیت اورحسن بصریؒ کی طرف نسبت کی وجہ
رہایہ سوال کہ اپنے گھرکے کمرہ کابیت اﷲکی طرح طواف کرناکب جائزہےاوراس بات کو حسن بصریؒ کاقول کیونکرسمجھ لیاگیا؟ جواب یہ ہے کہ بیت اﷲکے سواکسی گھر کوبیت اﷲکےبرابرسمجھناتوحرام ہے۔ مگرتشبہ بالبیت حرام نہیں۔ جنانچہ حضرت عبداﷲبن عباسؓ سے بصرہ میں تعریف منقول ہےاورامام احمدبن حنبلؒ اس کے جواز کے قائل ہیں جسکاحاصل یہ ہے کہ عرفہ کے دن تمام بلادکے مسلمان اپنے اپنے شہرسےباہرجاکرمیدان میں وقوف کریں اوردن بھردعااورمناجات میں مشغول رہیں۔ گویا اہل عرفات کے ساتھ تشبہ کریں۔ سوممکن ہے کہ ابن منصورنے بھی اسی تشبہ پرمحمول کرکےحسن بصری کی طرف اس قول کو منسوب سمجھ لیاہو، جسکا قرینہ یہ ہے کہ یہ صورت اس شخص کے لئے بیان کی گئی ہے جوحج سے عاجزہو۔ اگربالفرض یہ تسلیم کربھی لیاجائے کہ ابن منصورکایہ عقیدہ تھاکہ کوئی جگہ طواف وغیرہ کے لئے مطلقاً بیت اﷲکے برابرہوسکتی ہے توبھی یہ ابن منصورکی ایک علمی غلطی سمجھی جاسکتی تھی، کفراورتکفیرسے اس کا ہرگزکوئی تعلق نہیں بنتاکیونکہ کسی مکان سے صورۃ ًبیت اﷲجیسامعاملہ کرنا کفرنہیں۔ بہت سے بہت بدعت اور گناہ ہی ہوسکتاہے، جبکہ نیت طواف شرعی کی ہواوراگرطواف شرعی کی نیت نہ ہومحض صورت طواف کی ہوتوبدعت اورگناہ بھی نہیں۔ حضرت جابربن عبداﷲرضی اﷲعنہ سے مروی ہے’’فطاف حول اعظمہ ثلثا‘‘ (رواۃالبخاری)۔ طواف کالفظ اس حدیث میں بھی ہے اوررسول اﷲﷺسے صورت طواف کا صدور بھی ہوامگرطواف لغوی تھاطواف شرعی نہ تھا۔اسی طرح حسین بن منصورؒ کے معاملے میں بھی یہ احتمال ہے کہ طواف سے طواف عبادت مراد نہ ہوبلکہ طواف لغوی مراد ہو۔ اورکسی عمل کوثواب یاحصول برکات میں حج کاقائم مقام سمجھنابھی کفرنہیں۔ بعض احادیث میں صبح کی نمازکےبعدطلوع شمس تک اسی جگہ بیٹھ کرمشغول ذکررہنے اوراس کے بعددورکعت بوقت اشراق پڑھنے کاثواب حج وعمرہ کے برابرواردہے۔ اگرابن منصورنے کسی سے اس عمل کاثواب بھی حج کے برابرسناہوجوانہوں نے حسن بصریؒ کی کتاب میں غلط طورپردیکھاتھاتواس سے کفرلازم نہیں آسکتا۔ اگراس بات سے بالیقین کفرلازم آتاتوقاضی ابوعمرفتویٰ کفرسے اسقدرپہلوتہی نہ کرتےکہ وزیرحامدکوالحاج واصرارواحبارکی نوبت نہ آتی۔
وزیر حامد العباس نے جب حسین بن منصورحلّاجؒ کے قتل کا فتویٰ قاضی ابو عمرسے زبردستی لکھوایا تو اس فیصلے پرحسین بن منصورحلّاجؒ نے کن الفاظ کے ساتھ احتجاج کیا۔ خطیب بغدادی ؒکی زبانی ملاحضہ فرمائیں:
حسین بن منصورحلّاجؒ نے کہاکہ ’’میراخون بہانا حرام ہے، تم کو ہرگز یہ جائزنہیں کہ میرے جوازقتل کا فتویٰ دو، حالانکہ میرااعتقاد اسلام ہے، میرامذہب سنت ہے، اور میں حضرت صدیق اکبرؓ، اور حضرت عمرؓوعثمانؓ وحضرت علیؓ وطلحہؓ وزبیرؓ وسعدؓوسعیدؓاورعبدالرحمٰن بن عوفؓ اورابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲعنہم کی تفضیل کا قائل ہوں اور سنت (کے بیان) میں میری کتابیں کتب فروشوں کے پاس موجود ہیں۔ پس میرے خون کے معاملہ میں اﷲسے ڈرو۔ اﷲسے ڈرو‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۸)
میں تمام مسلمان بھائیوں اوربہنوں سےسوال کرتا ہوں کہ کیا یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے ہوسکتے ہیں جوخدائی کا دعویدار ہویا پھرکافروزندیق ہو؟ ہرگزنہیں۔ یہ ہے ابن منصورؒکی بےگناہی کاواضح ثبوت۔
میں تمام مسلمان بھائیوں اوربہنوں سےسوال کرتا ہوں کہ کیا یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے ہوسکتے ہیں جوخدائی کا دعویدار ہویا پھرکافروزندیق ہو؟ ہرگزنہیں۔ یہ ہے ابن منصورؒکی بےگناہی کاواضح ثبوت۔
وزیر حامد العباس نے حسین بن منصورحلّاجؒ کے قتل کا فتویٰ قاضی ابو عمرسے زبردستی حاصل کیاتھا۔ مشہورمورخ ابن اثیرکی شہادت:
’’حافظ محدث ابن اثیرکامل فرماتے ہیں کہ اسی سال ۳۰۹ھ میں حسین بن منصورحلّاج صوفی قتل کئے گئے، جلائے گئے۔ ان کاابتدائی حال یہ تھاکہ زہدوتصوف اورکرامات ظاہرکرتے، جاڑوں میں میوہ گرمی میں گرمی کاجاڑوں میں لوگوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ہوامیں ہاتھ لمبا کرکے دراہم سے بھراہواواپس لاتےجن پرقل ھواﷲاحدلکھی ہوئی تھی۔ ان کووہ دراہم قدرت کہتےتھے۔ لوگ جوکچھ کھاتے پیتے، گھروں میں جوکام کرتےسب بتلادیتے، دلوں کی باتوں کوکھول کربیان کردیتے۔ بہت لوگ ان کی وجہ سے فتنہ میں مبتلاہوگئےاور حلول کا اعتقادکربیٹھے۔
عرض ان کے بارے میں لوگوں نے اسی طرح مختلف باتیں کہیں۔ جیساعیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بعض کہتے کہ ان میں خدائی کاایک حصہ حلول کرآیاہے۔ بعض انہیں کوخداکہنے لگے، بعض کہتے ہیں کہ وہ ولی اﷲہیں۔ اورجوخوارق ان سے ظاہرہوتے وہ کرامات ہیں جوبزرگوں سے ظاہرہواکرتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں شعبدہ بازحیلہ گر، ساحروکذاب وکاہن ہیں، جن ان کے تابع ہیں وہی بے وقت میوہ لاتے ہیں۔
ان کے قتل کاسبب یہ ہواکہ جب بغدادواپس آئے تووزیرحامدبن عباس کوخبرپہنچی کہ حلّاج نے ایک جماعت کوزندہ کیاہے، مردوں کو جلاتاہے، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اورجوچاہتاہے حاضرکرتےہیں۔ اس نے خلیفہ کے چشم خدم کوبہلالیاہے۔ نصرحاجب اس کی طرف مائل ہے۔ حامدنے خلیفہ مقتدرباﷲسے درخواست کی کہ حلّاج اور اس کی جماعت کواس کےحوالے کردے۔ نصرحاجب نے اس درخواست کوٹالناچاہاتووزیرنےاصرارکیاچنانچہ مقتدرنے حلّاج کواس کے حوالہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے حلّاج اوراس کے ایک آدمی کوجوسمری نام سے مشہورتھااوردوسروں کوبھی گرفتارکیا۔ لوگوں نے کہا، یہ اس کو خداکہتے ہیں۔ حامد نے ان سے گفتگوکی تواقرارکرلیاکہ واقعی وہ سچ مچ ان کے نزدیک خداہے، مردوں کو زندہ کرتاہے۔
حلّاج کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تو اس نے اس سے انکارکیااورکہااعوذباﷲمیں خدائی اورنبوت کا دعویٰ کیوں کرتا میں تو ایک معمولی آدمی ہوں اﷲعزوجل کی عبادت کرتا ہوں۔
حامد نے قاضی ابوعمروقاضی ابوجعفربن بہلول اور بڑےبڑے فقہاءاورشہودکوجمع کرکے ان سے فتویٰ پوچھا۔ سب نے کہاجب تک ہمارے سامنے اس کی کوئی بات پایۂ ثبوت کونہ پہنچ جائےجوموجب قتل ہواس وقت تک اس کے متعلق فتویٰ نہیں دیاجاسکتااورلوگوں نے جن باتوں کادعویٰ ان کی طرف منسوب کیاہےبدون بینہ یااقرارکے قبول نہیں کی جاسکتیں۔ حامدان کو اپنی مجلس میں برابرطلب کرتااورگفتگوکرتاتھامگران سے کوئی بات ایسی ظاہرنہ ہوئی تھی جوشرعاًناپسندیدہ ہو۔ ایک مدت دراز اسی حال میں گزرگئی اور حامدان کے بارے میں (تلاش جرم کےلئے) کوشش کرتارہا۔ حامد کے ساتھ حلّاج کو بہت واقعات پیش آئے جن کی تفصیل بہت طویل ہے۔
بلآخروزیرکو ان کی ایک کتاب ملی جس میں لکھا تھاکہ انسان جب حج کاارادہ کرے اورقدرت نہ پائے الخ۔ جب یہ مضمون وزیرکے سامنے پڑھاگیاتو قاضی ابوعمرنے حلّاج سے پوچھا، یہ مضمون تم کو کہاں سے ملا؟ کہا، حسن بصری کی کتاب الاخلاص سے، قاضی نے کہااے حلال الدم توجھوٹاہے۔ بس ان کی زبان سے حلال الدم نکلنا تھاکہ وزیرنے سن لیااورکہا، یہ بات لکھ دیجئے، قاضی ابوعمرنے اس کوٹالناچاہامگروزیرنے مجبورکیا۔ تو انہوں نے (مجبورہوکر) حلّاج کے خون حلال ہونے کا فتویٰ لکھ دیا۔ ان کے بعددوسرے فقہاءوعلماءنے بھی اس پردستخط کردیئے۔
حلّاج نے جب یہ بات سنی توفرمایاتم کو میراخون (بہانا)جائزنہیں۔ جب کہ میرااعتقاد اسلام ہے اورمذہب سنت (کےموافق) اس بارہ میں میری بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ میرے خون کے معاملہ میں اﷲسے ڈرو اﷲسے ڈرو۔ اس پرلوگ منتشرہوگئے‘‘۔ (الکامل فی التاریخ الا ابن اثیر: ج۵، ص۶۷۰-۶۷۳)
وزیر حامد العباس نے حسین بن منصورحلّاجؒ کے قتل کا فتویٰ قاضی ابو عمرسے زبردستی حاصل کیاتھا۔ مشہورمورخ ابن خلکان کی شہادت:
وزیر حامد العباس نے حسین بن منصورحلّاجؒ کے قتل کا فتویٰ قاضی ابو عمرسے زبردستی حاصل کیاتھا۔ مشہورمورخ ابن خلکان کی شہادت:
’’قاضی ابن خلکان نے (اپنی تاریخ میں) لکھ ہے کہ ابن منصورکےقتل کاسبب کوئی ایسی بات نہ تھی جوشرعاًموجب قتل ہو۔ صرف وزیرنے ان کے خلاف مقدمہ بنالیاتھا۔ جب ان کو مجلس قضاء میں باربارطلب کیاگیاتوان پرکوئی ایسی بات ثابت نہیں ہوئی جوخلاف شریعت ہو۔ اس وقت وزیرنے اپنی جماعت سےکہاکہ ابن منصورکی لکھی ہوئی کچھ کتابیں بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا، ہاں موجودہیں۔ پھرانہوں نے بتلایا کہ اس کی ایک کتاب میں یہ مضمون ملاہےکہ جب انسان حج سے عاجزہوجائے تواپنے گھرکے کمرے کوپاک صاف کرکے خوشبومیں بسائے، اس کا طواف کرے تویہ عمل بیت اﷲکے مثل ہوگا۔ واﷲاعلم۔ یہ قول ان کی طرف منسوب کرناصحیح تھایانہیں؟ اس پر قاضی نے ان کو طلب کیا اور کہاکہ یہ کتاب تمہاری تصنیف کردہ ہے؟ کہا، ہاں۔ پھرپوچھا، تم نے اس کے مضامین کو کہاں سے لیا؟ کہاحسن بصری سے۔ اورحلّاج کو یہ معلوم نہ تھاکہ لوگوں نے اس میں کچھ اپنی طرف سے بھی ملادیا ہے۔ توقاضی نے کہا، اے حلال الدم! توُ توجھوٹاہے۔ حسن بصری کی کتابوں میں اس قسم کی کوئی بات نہیں۔ جیسے ہی قاضی کے منہ سے حلال الدم کالفظ نکلا، وزیرنےفوراًاس کو پکڑلیااورکہا، یہ اس کی فرع ہے کہ تم نے اس کے کفرکاحکم دے دیاہے (کیونکہ مسلمان یاتوکفرسے حلال الدم ہوتاہے یازنابعدالاحصان سے، یا قتل ناحق سےاوریہاں زنااورقتل کاکوئی قصہ نہیں، تو بجزکفروارتدادکے اورکوئی سبب حلال الدم ہونے کانہیں ہوسکتا) اورقاضی سے کہا، کہ تکفیرکافتویٰ اپنے دستخط سے لکھ دو۔ قاضی نے اس سے بچنے کی کوشش کی مگروزیرنے اس کو مجبورکیا، چنانچہ قاضی نے (مجبورہوکر) لکھ دیا، اس پرعم لوگ وزیرسے بگڑگئےاوراسے اپنی جان کا خطرہ ہوگیاتو خلیفہ نے گفتگو کی اور بارگاہ خلافت سے ابن منصور کوایک ہزادکوڑے لگائے جانےاورہاتھ پیرکاٹے جانے اورسولی دیئے جانے کاحکم حاصل کرلیا‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ الامام عبدالوھاب الشعرانی: ج۱، ص۳۴)
ابن خلکان کا طرز بیان بتلاتاہے کہ جس وقت حج کا مضمون پڑھاجارہا تھا اس وقت ابن منصورمجلس قضامیں موجودنہ تھے، بعدمیں بلائے گئے تھے۔ اوران کوصرف کتاب دکھلاکرسوال کیاگیاکہ یہ کتاب تمہاری تصنیف کردہ ہے؟ ابن منصورنے اس کی صورت دیکھ کراقرارکرلیا۔ ان کو یہ خبرنہ تھی کہ لوگوں نے اس میں کچھ الحاق بھی کردیاہےاورچونکہ پہلے زمانے میں پریس کا وجودنہ تھا۔ کتابیں عموماً قلمی ہوتی تھیں اسلئے دشمنان اسلام کوعلماء کی کتابوں میں الحاق کابڑاموقع مل جاتا تھاکیونکہ قلم سے قلم اور خط سے خط ملادینامشکل کام نہیں۔
ابن خلکان کا طرز بیان بتلاتاہے کہ جس وقت حج کا مضمون پڑھاجارہا تھا اس وقت ابن منصورمجلس قضامیں موجودنہ تھے، بعدمیں بلائے گئے تھے۔ اوران کوصرف کتاب دکھلاکرسوال کیاگیاکہ یہ کتاب تمہاری تصنیف کردہ ہے؟ ابن منصورنے اس کی صورت دیکھ کراقرارکرلیا۔ ان کو یہ خبرنہ تھی کہ لوگوں نے اس میں کچھ الحاق بھی کردیاہےاورچونکہ پہلے زمانے میں پریس کا وجودنہ تھا۔ کتابیں عموماً قلمی ہوتی تھیں اسلئے دشمنان اسلام کوعلماء کی کتابوں میں الحاق کابڑاموقع مل جاتا تھاکیونکہ قلم سے قلم اور خط سے خط ملادینامشکل کام نہیں۔
علامہ عبدالوھاب شعرانیؒ اپنی کتابوں میں جابجالکھتے ہیں کہ لوگوں نے میری زندگی میں میری کتابوں کے اندرالحاق اورخلط کردیاتھاجسکی مجھے کچھ خبرنہ تھی۔ آج کل کے اس قدرترقی یافتہ دور میں لوگ کسی کتاب میں تحریف کردیتے ہیں تو پھر اس دور میں یہ کام کتنی آسانی سے کیاجاسکتاتھا، اس بات کا اندازہ قارئین خود لگاسکتے ہیں۔ جبکہ حسین بن منصورؒ بھی وزیرحامد کی قید میں تھے اور ان کی تمام کتابیں اورخطوط بھی وزیرحامدکے قبضہ میں تھیں تووزیرکے لئے یہ کام نہایت ہی آسان تھا کہ ابن منصورؒ کی کتاب میں تحریف کرکے مجلس قضا میں قاضی اور دیگرعلماء کے سامنے پیش کرکے جوازقتل کا فتویٰ حاصل کےسکے۔
تاریخ طبری اورتاریخ ابن خلکان کی روایت میں موافقت اس بات کی دلیل ہے کہ ابن منصورؒ کو کتاب پڑھ کرنہیں سنائی گئی تھی، صرف کتاب دکھائی گئی تھی۔
’’وزیرحامد بن عباس نے اس کی بعض کتابوں میں یہ مضمون بھی پایاکہ اگرآدمی تین دن تین رات متواترروزے رکھے اور(درمیان) میں افطار نہ کرے۔ چوتھے روز بندیا کےچندپتوں پرافطارکرےتورمضان کےروزوں کی ضرورت نہ رہے گی اوراگرکسی رات میں شروع سےصبح تک دورکعتیں پڑھے تو اسکے بعدنماز کی ضرورت نہ رہے گی۔ اوراگرکسی دن اپنی ساری مملوکات کو جواس وقت اسکے ملک میں ہوں صدقہ کردے تو(ہمیشہ کےلئے) زکوٰۃکاقائم مقام ہوجائےگااوراگرایک کمرہ بناکرچندروزے رکھےپھراس کمرہ کے گردننگاہوکرطواف کرےتواس کوحج کی ضرورت نہ رہے گی۔ اوراگرقریش کے قبرستان میں جاکرقبورشہداءکی زیارت کرےاوروہاں دس دن قیام کرکے نمازپڑھتادعاکرتا رہےاورمتواترروزے رکھے اورافطارکے وقت بجزقدرقلیل جوکی روٹی اورخالص نمک کے کچھ نہ کھائے توپھراس کوساری عمرعبادت کی ضرورت نہ رہے گی۔ وزیرنے علماءفقہاءاورقاضیوں کوجمع کیاپھرحلّاج سےپوچھاگیاکہ تم اس کتاب کوپہچانتےہو؟ کہا، ہاں یہ کتاب السنن حسن بصری کی ہے۔ حامد نے کہا کیا تم اس کتاب کےمضامین کونہیں مانتے؟ کہاکیوں نہیں یہ توایسی کتاب ہے کہ میں اﷲتعالیٰ کے ساتھ اس کے موافق معاملہ کرتاہوں۔ قاضی ابوعمرنے کہایہ توسراسراحکام اسلام کے منافی ہے۔ پھرقاضی نے اس سے کچھ اورگفتگوکی یہاں تک کہ ان کی زبان سے حلّاج کے متعلق ’’یاحلال الدم‘‘ نکل گیا۔ فقہاء نے بھی ان کی موافقت کی اوران کے قتل کافتویٰ دےدیاان کے خون کومباح کردیاگیاپھریہ سب کاروائی مقتدرباﷲکے پاس لکھ کربھیجی گئی تواس نے فرمان بھیج دیاکہ اگرقاضیوں نے حلّاج کے قتل کافتویٰ دےدیاہےتومحمد بن عبدالصمدکوتوال حاضرہواوراسکے ہزارکوڑے لگائے۔ اگراسی میں ہلاک ہوجائے توفبہاورنہ گردن ماردی جائے‘‘۔ (تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری: ج۱۱، ص۹۲)
اس روایت کا طرز بیان بھی ابن خلکان کے موافق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن منصورکوکتاب کامضمون نہیں سنایاگیاصرف صورت دکھاکرسوال کیاگیاتھا کہ اس کو مانتے ہو یانہیں؟ حلّاجؒ کو ان خرافات کی خبر نہ تھی جو ان کے خلاف اس کتاب میں رقم کردیئے گئے تھے۔ اور ظاہرہے کہ ایسا اقرار جواز قتل میں ہرگزحجت نہیں جب تک مشتبہ مقامات کوتفصیل وارسناکراقرارنہ لیاجائے۔ اور ان مضامیں کاابن منصورؒ کے نزدیک غلط اورافتراءعلےاﷲہوناخودان کی زندگی کےمطالعہ سے واضح ہے۔
اس روایت کا طرز بیان بھی ابن خلکان کے موافق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن منصورکوکتاب کامضمون نہیں سنایاگیاصرف صورت دکھاکرسوال کیاگیاتھا کہ اس کو مانتے ہو یانہیں؟ حلّاجؒ کو ان خرافات کی خبر نہ تھی جو ان کے خلاف اس کتاب میں رقم کردیئے گئے تھے۔ اور ظاہرہے کہ ایسا اقرار جواز قتل میں ہرگزحجت نہیں جب تک مشتبہ مقامات کوتفصیل وارسناکراقرارنہ لیاجائے۔ اور ان مضامیں کاابن منصورؒ کے نزدیک غلط اورافتراءعلےاﷲہوناخودان کی زندگی کےمطالعہ سے واضح ہے۔
خطیب بغدادیؒ تاریخ بغداد میں ابویعقوب نہرجوری کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حسین بن منصورؒپہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں آئے تو سال بھر تک (مسجدحرام) کے صحن میں بیٹھے رہے، وضواور طواف کے سواکسی وقت اپنی جگہ سے نہ ہٹتے تھے۔ نہ بارش کی پرواہ تھی، نہ دھوپ کی، شام کے وقت ان کے واسطے مکہ کی روٹیوں میں سے ایک روٹی اور ایک کوزہ میں پانی لایا جاتاتھا تو وہ روٹی کے چار طرف ایک ایک دفعہ منہ مارتے (اورچارلقمہ کھالیتے)پانی کے دوگھونٹ پیتے۔ ایک گھونٹ کھانے سے پہلے اور ایک گھونٹ کھانے کے بعد، پھر باقی ماندہ روٹی کو کوزہ کے اوپررکھ دیتے جو ان کے پاس سے اٹھالی جاتی تھی۔(بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۶)
خطیب بغدادیؒ نےتاریخ بغداد میں ابو عبدالرحمٰن بن حسین السلمیٰ سے روایت کیاہےکہ فارس بغدادی سے میں نے سنا کہ جب حسین بن منصورحلّاجؒ کو قید کیا گیاتو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ بیڑیاں (لوہے کی) ان کے پیروں میں ڈالی گئیں اس کے باوجود بھی وہ رات دن میں ایک ہزار رکعتیں پڑھتے تھے۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۰)
قارئین کرام خوداس بات کا فیصلہ کریں کہ جوشخص مسجدحرام میں ہر وقت عبادات میں مشغول رہتا اور جیل کی سختیوں کے باوجودرات دن میں ہزار رکعتیں پڑھتاہواس کا یہ عقیدہ کیسے ہوسکتاہےکہ ’’رات میں شروع سےصبح تک دورکعتیں پڑھے تو اسکے بعدنماز کی ضرورت نہ رہےگی‘‘ یا ’’متواترروزے رکھے اورافطارکے وقت بجزقدرقلیل جوکی روٹی اورخالص نمک کے کچھ نہ کھائے توپھراس کوساری عمرعبادت کی ضرورت نہ رہےگی‘‘؟
خطیب بغدادیؒ نےتاریخ بغداد میں ابو عبدالرحمٰن بن حسین السلمیٰ سے روایت کیاہےکہ فارس بغدادی سے میں نے سنا کہ جب حسین بن منصورحلّاجؒ کو قید کیا گیاتو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ بیڑیاں (لوہے کی) ان کے پیروں میں ڈالی گئیں اس کے باوجود بھی وہ رات دن میں ایک ہزار رکعتیں پڑھتے تھے۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۰)
قارئین کرام خوداس بات کا فیصلہ کریں کہ جوشخص مسجدحرام میں ہر وقت عبادات میں مشغول رہتا اور جیل کی سختیوں کے باوجودرات دن میں ہزار رکعتیں پڑھتاہواس کا یہ عقیدہ کیسے ہوسکتاہےکہ ’’رات میں شروع سےصبح تک دورکعتیں پڑھے تو اسکے بعدنماز کی ضرورت نہ رہےگی‘‘ یا ’’متواترروزے رکھے اورافطارکے وقت بجزقدرقلیل جوکی روٹی اورخالص نمک کے کچھ نہ کھائے توپھراس کوساری عمرعبادت کی ضرورت نہ رہےگی‘‘؟
اگرحسین بن منصورؒ کے اعقائدونظریات یہی تھے جووزیرحامدنے بیان کئے تو پھروہ دن رات مسجدحرام میں عبادت میں مشغول کیوں رہتے اورقیدکی سختیوں میں بھی دن رات ہزار رکعتیں کیوں پڑھتے؟
حسین بن منصورحلّاجؒ کے قتل کا فتویٰ قرآن و حدیث کے موافق تھا یا مخالف؟
’’حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ"‘‘۔ ’’حضرت عائشہ رضی اﷲعنہاروایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲﷺنےفرمایاجہاں تک ہوسکے مسلمانوں کو حد کی سزا سے بچاؤ اگر مسلمان (ملزم) کے لئے بچاؤ کا ذرا بھی کوئی موقع نکل آئے تو اس کی راہ چھوڑ دو یعنی اس کو بری کر دو کیونکہ امام یعنی حاکم ومنصف کا معاف کرنے میں خطا کرنا، سزا دینے میں خطاکرنےسےبہترہے‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۳، كتاب الحدود عن رسول اللهﷺ، باب مَا جَاءَ فِی دَرْءِ الْحُدُودِ، رقم الحدیث۱۴۲۴)
رسول اﷲﷺنے خود فرمایا کہ شبہات سے حدودکودفع کرواورمسلمانوں کو حد کی سزاسے بچاؤ اگرذرابھی موقع نکل آئے تو اس کو بری کردومگریہاں سب سے بڑی حدیعنی قتل میں بھی ابن منصور ؒکو شبہہ کی بناپر بخشانہیں گیا۔حالانکہ انہوں نے خود اپنااعتقاد قرآن و سنت، صحابہؓ و ائمہ اربعہ کے موافق بتایامگر افسوس کے ان کی کسی نے نہ سنی۔
امام ابوعیسیٰ الترمذیؒ نے اس عنوان سے کہ (’’باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ إِذَا رَجَعَ‘‘ ’’اس بیان میں کہ جب کوئی مجرم اپنے بیان سے پھرجائے تواس سے حد دفع ہوجاتی ہے‘‘)مکمل باب باندھتے ہوئے حدیث نقل کی ہے کہ:
’’حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ زَنَى۔ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى۔ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى۔ فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْىُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فَرَّ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم"هَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ"۔ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا‘‘۔ ’’ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ ﷺکے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپﷺنے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسولﷺ! میں نے زنا کیا ہے، آپﷺنے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول ﷺ! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپﷺنے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک ایسے آدمی کے قریب سے گزرے جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز رضی الله عنہ کو اسی سے مارا اور لوگوں نے بھی مارا یہاں تک کہ وہ مر گئے، پھر لوگوں نے رسول اﷲﷺسے ذکر کیا کہ جب پتھر اور موت کی تکلیف انہیں محسوس ہوئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگوں نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا۔ امام ابوعیسیٰ الترمذیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی اور سندوں سے بھی مروی ہے، یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، انہوں نے اسے بطریق: عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم سےاسی طرح روایت کیا ہے‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۳، كتاب الحدود عن رسول اللهﷺ، باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ إِذَا رَجَعَ، رقم الحدیث۱۴۲۸)
رسول اﷲﷺنے خود فرمایا کہ شبہات سے حدودکودفع کرواورمسلمانوں کو حد کی سزاسے بچاؤ اگرذرابھی موقع نکل آئے تو اس کو بری کردومگریہاں سب سے بڑی حدیعنی قتل میں بھی ابن منصور ؒکو شبہہ کی بناپر بخشانہیں گیا۔حالانکہ انہوں نے خود اپنااعتقاد قرآن و سنت، صحابہؓ و ائمہ اربعہ کے موافق بتایامگر افسوس کے ان کی کسی نے نہ سنی۔
امام ابوعیسیٰ الترمذیؒ نے اس عنوان سے کہ (’’باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ إِذَا رَجَعَ‘‘ ’’اس بیان میں کہ جب کوئی مجرم اپنے بیان سے پھرجائے تواس سے حد دفع ہوجاتی ہے‘‘)مکمل باب باندھتے ہوئے حدیث نقل کی ہے کہ:
’’حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ زَنَى۔ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى۔ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى۔ فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْىُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فَرَّ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم"هَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ"۔ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا‘‘۔ ’’ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ ﷺکے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپﷺنے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسولﷺ! میں نے زنا کیا ہے، آپﷺنے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول ﷺ! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپﷺنے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک ایسے آدمی کے قریب سے گزرے جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز رضی الله عنہ کو اسی سے مارا اور لوگوں نے بھی مارا یہاں تک کہ وہ مر گئے، پھر لوگوں نے رسول اﷲﷺسے ذکر کیا کہ جب پتھر اور موت کی تکلیف انہیں محسوس ہوئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگوں نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا۔ امام ابوعیسیٰ الترمذیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی اور سندوں سے بھی مروی ہے، یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، انہوں نے اسے بطریق: عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم سےاسی طرح روایت کیا ہے‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۳، كتاب الحدود عن رسول اللهﷺ، باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ إِذَا رَجَعَ، رقم الحدیث۱۴۲۸)
کسی ضعیف روایت سے بھی یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ حسین بن منصورؒ نے اپنے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ جن روایات کی بنیاد پران پہ خدائی کے دعوے کا الزام لگایا جاتا ہے ان روایات میں خود حسین بن منصورؒ نے اپنے خداہونے کے چھوٹے الزام کا انکار کیا اور اپنے عقیدہ کو قرآن و سنت اورخلفاءِراشدین وائمہ اربعہ کے موافق بتایا۔ بالفرض اگریہ مان بھی لیا جائےکہ انہوں نے ایساکوئی دعویٰ کیاتھاتوبھی رسول اﷲﷺکے فرمان کے مطابق حسین بن منصورؒ کو شبہہ کی بنیاد پراوراپنے اقرار سے پھرجانے کی بنیاد پراس حد کو دفع کردینا چاہیئے تھا۔ مگر وزیر حامد نے قاضی ابوعمرکے ایک جملہ کو پکڑلیااورفتویٰ لکھوالیا۔ حالانکہ یہ احتمال ہونا ضروری تھا کہ شاید ویسے ہی غصہ میں زبان سے نکل گیا ہو۔ اگربالفرض قاضی نے عمداًیہ بات کہی تھی تب بھی وزیرکو خود اس پراصرار کرنے کا حق نہیں تھا، بلکہ ٹالنا واجب تھا۔مگریہاں تو معاملہ ہی برعکس تھا۔قاضی اپنی بات کو ٹالنا چاہتا تھامگروزیرنےبضدہوکرقاضی کو اپنی بات سے ہٹنے نہ دیااورفتوے پر دستخط کروالیا۔
آگے ایک مختصر جائزہ وزیرحامدبن العباس کے مظالم اور خلیفہ المقتدرباﷲابوالفضل کی کم سنی، خلافت سےمعزولی اورحکمرانی سے لاتعلقی کالیتےہیں جن کے بارے میں رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایاکہ’’امام یعنی حاکم ومنصف کا معاف کرنے میں خطا کرنا، سزا دینے میں خطاکرنےسےبہترہے‘‘۔
وزیرحامدبن العباس کےمختصرحالات کا جائزہ
الامام ہمام علامہ عصرمفسرومحدث عظیم مورخ امام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ لکھتے ہیں: ’’۳۰۸ھ میں بغدادمیں قحط اورغلہ کی کمیابی کاباعث یہ ہواتھاکہ حامدبن عباس سوادجوعراق کے بعض علاقوں کاعامل تھااس نے بغدادوالوں پربےپناہ مظالم ڈھائےتھے۔ جس کی وجہ سے رعیت میں بے چینی حدسےبڑھ گئی۔ فسادات اورغارت گردی شروع ہوگئی۔ تمام رعیت ادھرادھرمنتشرہوگئی، فسادات کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا، قیدخانے میں آگ لگادی گئی۔ جس کے نتیجہ میں تمام قیدی جیل سے فرارہوگئے‘‘۔ (تاریخ الخلفاءالامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ: اردو، ص۶۸۲)
امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: ’’وزیرحامد کے حکم سے ابن عطاءؒ کے دانت توڑدیئے گئے۔ ابن عطاءؒ نے چلاتے ہوئے وزیرحامد العباس کو بد دعا دی کہ اے اﷲ! اس کے ہاتھ پیرکٹوادے۔ اس واقعہ کے ۱۴ دن بعد ابن عطاءؒ کی وفات ہوگئی اورزیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وزیرحامدبن العباس بھی قتل کیاگیا۔ قتل سے پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹے گئے۔ اس وقت لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ابوالعباس بن عطاءؒ کی بددعالگئی‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۶، ص۲۵۵)
لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ابوالعباس کی بددعا لگئی لیکن میں کہتاہوں یہ مکافات ِعمل ہے۔ وزیرحامد بن عباس نے جس طرح بے رحمی سے حسین بن منصورحلّاجؒ کو ناحق قتل کروایا تھا، چندہی دنوں بعدبالکل اسی طرح ان ہی سزاؤں کے ساتھ اﷲپاک نے اس کوقتل کروادیا۔
امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: ’’وزیرحامد کے حکم سے ابن عطاءؒ کے دانت توڑدیئے گئے۔ ابن عطاءؒ نے چلاتے ہوئے وزیرحامد العباس کو بد دعا دی کہ اے اﷲ! اس کے ہاتھ پیرکٹوادے۔ اس واقعہ کے ۱۴ دن بعد ابن عطاءؒ کی وفات ہوگئی اورزیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وزیرحامدبن العباس بھی قتل کیاگیا۔ قتل سے پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹے گئے۔ اس وقت لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ابوالعباس بن عطاءؒ کی بددعالگئی‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۶، ص۲۵۵)
لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ابوالعباس کی بددعا لگئی لیکن میں کہتاہوں یہ مکافات ِعمل ہے۔ وزیرحامد بن عباس نے جس طرح بے رحمی سے حسین بن منصورحلّاجؒ کو ناحق قتل کروایا تھا، چندہی دنوں بعدبالکل اسی طرح ان ہی سزاؤں کے ساتھ اﷲپاک نے اس کوقتل کروادیا۔
خلیفہ المقتدرباﷲابوالفضل کےمختصرحالات کا جائزہ
امام جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ لکھتے ہیں: ’’مقتدرابھی صرف۱۳ سال کاتھاکہ اس کی تخت نشینی عمل میں آئی مقتدرسے پہلے اتنی کم سنی میں کوئی بھی (بنی عباسؒ سے) تخت سلطنت پرنہیں بیٹھاتھا۔ وزیردربارعباس بن حسین نے اس کی کم سنی کے باعث لوگوں سے استصواب کیااورخوداس کے خلع کی رائے دی اورلوگ اس بات پرمتفق بھی ہوگئےتھے کہ مقتدرکوتخت سے معزول کرکے اس کے بجائے عبداﷲبن معتزکوخلیفہ مقررکردیاجائے‘‘۔(تاریخ الخلفاءالامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ: اردو، ص۶۷۷)
’’مقتدر نے اپنی کم سنی (یااٹھتی جوانی) کے باعث تمام امورسلطنت ابوالحسن(ابن فرات)کے سپردکردیئے اورخودلہولعب میں مصروف ہوگیااس نے بہت جلدتمام خزانہ عیش وعشرت اوردادودھش میں خرچ کرڈالا‘‘۔ (تاریخ الخلفاءالامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ: اردو، ص۶۷۸)
’’ذہبی کہتے ہیں کہ مقتدرکے دورمیں اس کی کم سنی کے باعث نظام سلطنت میں زبردست خلل واقع ہوا‘‘۔ (تاریخ الخلفاءالامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ:اردو، ص۶۷۹)
’’مقتدر کاامورحکمرانی سے بے تعلقی کایہ عالم ہوگیا کہ اس سال سےشغب (مادرمقتدریعنی مقتدرکی والدہ)نے حکومت کے تمام امورکی نگرانی خودشروع کردی اورتمام امورسلطنت عورتوں کے ہاتھ میں چلے گئے۔مقتدرکی ماں ایک حاکم کی فریادیوں کی دادرسی کرنے لگی، وہ رعیت کے معاملات کوخودطے کرتی، ہرجمعہ کوباقاعدہ اجلاس کرتی، قاضیوں اورعمائدسلطنت کی موجودگی میں فرامین جاری کرنے لگی‘‘۔ (تاریخ الخلفاءالامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ:اردو، ص۶۸۲)
’’۳۱۷ھ میں مونس الحازم نے جس کالقب مظفرتھا، مقتدرپرلشکرکشی کی کیونکہ مقتدرچاہتاتھاکہ اس کوہٹاکرہارون بن غریب کوامیرالامراءکامنصب عطاکردے۔ مونس تمام لشکرکوہمراہ لے کرجس میں عمائدوامراءسلطنت بھی شامل تھےشاہی محل پرحملہ آورہواجس کے نتیجہ میں مقتدرکے خاص سپاہ (ذاتی محافظ) بھی بھاگ کھڑے ہوئے، مقتدربےیارومددگاررہ گیا۔چنانچہ اسی رات کو (۱۴محرم الحرام) مقتدراپنی والدہ، خالہ اوراپنی بیویوں کوساتھ لے کرعشاءکے بعدچھپ کرنکل گیا۔ مقتدرکی والدہ(شغب) اپنے ساتھ چھ لاکھ دینارکی رقم چھپاکرلےگئی‘‘۔ (تاریخ الخلفاءالامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکرالسیوطیؒ:اردو، ص۶۸۳)
وزیرحامدبن العباس اور خلیفہ المقتدرباﷲابوالفضل کے حالات جاننے کے بعدیہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وزیرحامدالعباس ایک ظالم شخص تھاجس نے خلیفہ المقتدرباﷲکی نااہلی کاناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے قاضی ابوعمرسے زبردستی فتویٰ حاصل کیا اوراس فتوے میں خلیفہ المقتدرباﷲ سےمزید ترمیم کرواکرحسین بن منصورؒکو۱۰۰۰کوڑے لگائے جانے اوران کے ہاتھ پاؤں کاٹے جانے کی اضافی سزاؤں کا حکم جاری کیا جس کی شریعت میں دوردورتک کوئی مثال نہیں ملتی۔
وزیرحامدبن العباس اور خلیفہ المقتدرباﷲابوالفضل کے حالات جاننے کے بعدیہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وزیرحامدالعباس ایک ظالم شخص تھاجس نے خلیفہ المقتدرباﷲکی نااہلی کاناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے قاضی ابوعمرسے زبردستی فتویٰ حاصل کیا اوراس فتوے میں خلیفہ المقتدرباﷲ سےمزید ترمیم کرواکرحسین بن منصورؒکو۱۰۰۰کوڑے لگائے جانے اوران کے ہاتھ پاؤں کاٹے جانے کی اضافی سزاؤں کا حکم جاری کیا جس کی شریعت میں دوردورتک کوئی مثال نہیں ملتی۔




















No comments:
Post a Comment