ساتواں الزام:زندیقوں جیساکلام
خطیب بغدادیؒ نے محمدبن حسین نیشاپوری کے واسطہ سے ابوبکربن غالب سے روایت کیاہےکہ انہوں نے اپنے بعض دوستوں سے سناکہ جب حسین بن منصورکے قتل کاارادہ کیاگیاتوعلماءوفقہاءکوجمع کرکے ابن منصورکوبادشاہ (وقت خلیفہ مقتدرباﷲ) کے سامنے حاضرکیاگیا۔ علماء نے ان سے کہاکہ آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرناہے، ابن منصورنے کہا، پوچھو، علماءنے کہا، برہان کسے کہتےہیں؟ ابن منصورنے جواب دیا، برہان ان شواہد(دلائل) کوکہتے ہیں جواہل اخلاص کی صورتوں میں اﷲتعالیٰ پیداکردیتے ہیں۔ جنکی طرف لوگوں کے قلوب کوجاذب قبول کشش کرتاہے (یعنی ان کی صورت دیکھ کرقلوب ان کی طرف جاذب باطنی کی وجہ سے کشش ہوتی ہے۔ جیساکہ حدیث میں ان ہی حضرات کے متعلق واردہے ’’اذارأواذکرﷲ‘‘ کہ ان کی صورت دیکھ کرخدایاد آتاہے)۔ سب لوگوں نے بالاتفاق کہا، یہ توزندیقوں جیساکلام ہے۔ پھربادشاہ کوان کے قتل کامشورہ دیا۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۰۷)
جواب:
جواب:
اس روایت کے بارے میں ہمیں خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ واقعہ بیان کرکےخودخطیب بغدادیؒ کوتنبہ ہواہےکہ اس جواب میں توکفروزندقہ کی کوئی بات نہیں تھی۔ خطیب بغدادیؒ فرماتے ہیں: ’’قُلْتُ: قد أحال هذا الحاكي عَنِ الفقهاء بأن هذا كلام أهل الزندقة، وهو رجل مجهول، وقوله غير مقبول، وإنما أوجب الفقهاء قتله بأمر آخر‘‘۔ ’’اس جواب میں تو کفروزندقہ کی کوئی بات نہیں تھی۔ اس قصہ کے راوی نے جو فقہاء کے فتوے کا حوالہ اس بات پرکیاہے، یہ راوی مجہول ہے، اس کی بات قابل قبول نہیں، بلکہ فقہاء نے دوسری وجہ سے اس کا قتل ضروری قراردیا تھا‘‘۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۰۷)
حقیقت یہ ہے کہ خطیب بغدادیؒ نے جتنے بھی اسباب کفر بیان کئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی راوی ضعیف یا مجہول یامجروح ضرور موجودہے۔ پھر ہرسبب کو الگ الگ دیکھاجائے تو ایک سبب بھی ایسا نہیں ملتاجس کو موجب قتل قراردیاجاسکے۔ اس لئے بظاہرابن خلکان ہی کا قول صحیح ہے کہ ابن منصورؒ کاقتل کسی ایسے سبب سے نہیں ہواجو(فی الواقع) موجب قتل ہو۔ بلکہ جیسااوپرمعلوم ہوچکا ہے کہ وزیرحامدالعباس کی ضد اور زبردستی کی وجہ سے یہ واقع رونما ہوا

No comments:
Post a Comment