ابن منصورکا عقیدہ توحید اور کلمہ أنا الحق کی توجہیہ
امام ابوالقاسم القشیریؒ (متوفی ۴۶۵ھ) اپنی کتاب رسالۃ القشیریۃمیں روایت نقل کرتے ہیں کہ: ’’ہم کو شیخ ابوعبدالرحمٰن سلمیؒ نے خبردی کہ میں نے محمد بن غالب سے سناکہ انہوں نے ابو نصراحمدابن سعیدالاسفنجابی سے سناکہ حسین بن منصورنے فرمایاکہ اﷲتعالیٰ نے ہرچیزکے لئے حدوث لازم کردیا ہےکیونکہ قدیم ہونا اس کے لئے مخصوص ہے۔ پس جس چیز کاظہورجسم سے ہے اس کے لئے عرض لازم ہےاورجوچیزآلات واسباب سے مجتمع ہوئی ہے اس کی قوتیں اس کو تھامے ہوئے ہیں (یعنی وہ ان قوتوں کی محتاج ہے)اورجس چیزکوایک وقت مجتمع کرتاہےدوسراوقت اسکو متفرق کردیتاہےجسکواس کا غیرقائم کرتاہے۔ اس کو دوسرے کی احتیاج ہے جس پروہم کی دسترس ہوسکتی ہے، تصویرخیالی اس تک پہنچ سکتی ہے۔
اورجس کومحل اور مکان اپنے اندرلئے ہوئے ہےاس کوکیفیت مکانی محیط ہے جوکسی جنس کے تحت میں ہےاس کے لئے مکیف اورممیّزہونا لازم ہے۔ کیونکہ جنس کے تحت میں انواع ہوتی ہیں اورہرنوع دوسری نوع سے کسی فصل کے ذریعہ ممتازہوتی ہے۔ اﷲتعالیٰ پرنہ کوئی مکان قوق سایہ فگن ہے، نہ کوئی مکان تحت اس کواٹھائےہوئےہے، کوئی حداس کے سامنےنہیں اور کوئی قریب ونزدیک اس کامزاحم نہیں (یعنی اسکے نزدیک کوئی نہیں جو مزاحمت کااستعمال ہوسکے) نہ کوئی اس کواپنے پیچھے لے سکتاہےنہ سامنے ہوکراس کومحدودکرسکتاہے، نہ اولیّت نے اس کو ظاہرکیانہ بعدیت نے اس کی نفی کی، نہ لفظ کل نے اس کواپنے اندرلیا (کیونکہ نہ وہ کسی کل کا جزوہے نہ کلی کافردہے) نہ لفظ کان نے اس کو ایجادکیانہ لیس نے اس کومفقودکیا (یعنی جب یہ کہاجاتاہے کہ اﷲتعالیٰ ایساہےاورایسانہیں ہے تویہ مطلب نہیں کہ تمہارے بیان کے بعدوہ ایساہوگیااورتمہاری تزیہ کے بعدوہ ایسا نہیں رہا، بلکہ جن صفاتِ کمال سے وہ موصوف ہے ہمیشہ سے موصوف ہے اور جن عیوب سے وہ منزہ ہے ہمیشہ سے منزہ ہے)۔
اس کے وصف کے لئے کوئی تعبیرنہیں (اورجوتعبیرہے بھی وہ ناقص ہے) اسکے فعل کی کوئی علت نہیں، اسکے وجودکی کوئی نہایت نہیں (نہ ماضی میں نہ مستقبل میں کیونکہ وہ ازلی بھی ہے اور ابدی بھی)۔
وہ اپنی مخلوق کے احوال (وکیفیات)سے منزہ ہے اس کو اپنی مخلوق سے کسی قسم کا امتزاج (واختلاط) نہیں، نہ اس کے فعل میں آلات واسباب کی احتیاج، وہ اپنی قدامت کے سبب مخلوق سے الگ ہے، جیسامخلوق اپنے حدوث کے سبب اس سےالگ ہے (پس خالق مخلوق کے اندرنہ حلول کرسکتاہےنہ اس کے ساتھ متحدہوسکتاہے)۔
اگرتم کہوکہ وہ کب ہوا؟ تو اس کاوجودوقت (اورزمانہ سے) سابق ہےاگرتم ھوکہو(یعنی اس کی طرف ھویاوہ کہہ کراشارہ کرو) توہااورواؤاسی کے پیداکیئے ہوئے ہیں اور مخلوق سےخالق پراشارہ نہیں ہوسکتامحض یاد کے درجے ہیں یاتمام تصورہوسکتاہے۔ اگرتم کہووہ کہاں ہے؟ تو ہرمکان سے اس کاوجودمقدم ہے، حرف اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں)۔
اوراس کا وجودہی خوداس کا مثبت ہےاوراس کی معرفت یہ ہے کہ اس کوواحدجانو۔ اور توحیدیہ ہےکہ مخلوق سے اس کو ممتاز (اورالگ) سمجھو، جوکچھ وہم کے تصورمیں آتاہے وہ اس کے غیرکاہے۔
اور جوچیزاس (کےپیداکرنے) سے پیداہوئی وہ اس میں کیونکرحلول کرسکتی ہےکیونکہ حال ومحل میں اتحادہوتاہےاورحادث قدیم کے ساتھ متحدنہیں ہوسکتا، اور جس چیزکواس نے نشوونمادیا اس کی طرف کیونکرپہنچ سکتی ہے۔ آنکھیں اپنےاندراس کو نہیں لے سکتیں اور گمان اس کے پاس تک نہیں پہنچ سکتا۔
اس کا قرب یہ ہے کہ مکرم بناوے، اوربعدیہ ہےکہ ذلیل کردے۔
اسکی بلندی چڑھائی کے ساتھ نہیں، اس کاآنا بدون انتقال کےہے۔
وہ اوّل بھی ہے اور آخربھی، ظاہربھی ہےاور باطن بھی ہے، قریب بھی ہےاوربعید بھی، اسکی مثال مثل کوئی شئےنہیں، وہی سننے والادیکھنے والاہے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۲۷-۲۸)
’’حسین بن منصورؒ اﷲتعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہاریوں فرماتے ہیں کہ: محبوب سے تمہاری محبت یہ ہے کہ اس کے سامنے اپنے تمام اوصاف بالائے طاق رکھ دو‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۵۲۳)
مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’محمد بن احمداصفہانیؒ نے بتایاکہ ایک شخص حضرت حسین بن منصورؒکے قریب آکھڑاہوااورکہنے لگا، وہ حق کون ہے جس کی طرف صوفیہ اشارہ کرتے رہتے ہیں؟ فرمایاجوسب کوبنادینے والاہے مگراسے بنانے والاکوئی نہیں جسے اس کی علت قراردیاجائے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۶)
خطیب بغدادیؒ نے ابوالطیب محمدبن الفرخان کے حوالے سے روایت کیاہےکہ: ’’میں نے حسین بن منصورسے سناوہ فرماتے تھے کہ اولین وآخرین کے علوم کاخلاصہ چارباتوں میں ہے۔ (۱) رب جلیل کی محبت (۲) متاع قلیل (یعنی دنیا) سے نفرت (۳) کتاب منزل کااتباع (۴) تغیّرحال کاخوف‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۲)
یہ ہے حسین بن منصورؒکاعقیدۂ توحیدجسکا ہرلفظ کتاب و سنت اورمذہب سلف صالحین کی پُرشوکت تفسیرہے۔ جس میں صاف تصریح ہے کہ مخلوق کو اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کااختلاط وامتزاج نہیں ہوسکتا، نہ حلولاًنہ اتحاداً۔’’حسین بن منصورؒ اﷲتعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہاریوں فرماتے ہیں کہ: محبوب سے تمہاری محبت یہ ہے کہ اس کے سامنے اپنے تمام اوصاف بالائے طاق رکھ دو‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۵۲۳)
مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں کہ:
چون "انا الحق" گفت شیخ و پیش بُرد پس گلوی جمله کوران را فشرد
جب شیخ نے اناالحق کہااورآگے بڑھ گئے توتمام اندھوں کے گلے کودبادیا
بود انا الحق در لب منصور نور بود انا الله در لب فرعون زور
’’اناالحق‘‘ منصورکے لب پرنورتھا ’’میں خداہوں‘‘فرعون کے لب پر جھوٹ تھا
آن انا منصور، رارحمت بُدہ ایں انا فرعون،را لعنت بُدہ
وہ انامنصورکےلئے(باعث)رحمت تھا یہ انافرعون کے لئے (موجب)لعنت تھا
گفت فرعونے "انا الحق"، گشت پست گفت منصورے "انا الحق" و برَست
کسی فرعون نے اناالحق کہاوہ پست ہوا کسی منصورنے اناالحق کہاوہ بالاہے
آن انا را لعنه الله، در عقب ویں انا را رحمه الله، اے محب
اس اناکے لئے اﷲتعالیٰ کی لعنت درپےہے اوریہ انااےدوست! اﷲکی رحمت ہے
پس اگرایسے شخص کی زبان سے اگرکسی وقت ’’أنا الحق‘‘ نکل گیاہوتواس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتاکہ وہ اپنے آپ کو خداکہتاتھا۔ کیونکہ انسان کا حادث ہونا ظاہراوریقینی ہے۔ اور ابن منصورؒکے عقیدہ میں وہ خود اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ حادث محتاج قدیم سے متحد نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا چندضعیف روایات کی بنیاد پران پرلگائے گئے اس الزام کو صحیح تسلیم کرلیاجائے توبھی اس قول کی تاویل ضروری ہے۔ ابن منصورؒ کے عقیدۂ توحید کو مدنظررکھتے ہوئے ان کے اس قول کی صحیح تاویل یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت ابن منصورؒ کی زبان کلام حق کی ترجمان تھی۔ ان کی زبان سے اسی طرح ’’أنا الحق‘‘ نکلاتھاجیساکہ شجرۂ موسیٰ سے’’اِنّی أَ نا اللہ ربُّ العالمین‘‘کی آواز آئی تھی۔ ظاہر ہے کہ درخت نے اپنے کو اللہ رب العالمین نہیں کہا تھا، بلکہ اس وقت وہ کلام الہی کا ترجمان تھا۔ اسی طرح ابنِ منصور کے متعلق بھی خیال کیا جا سکتا ہے اور غلبہ حالات و واردات میں بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ عارف کی زبان سے اللہ تعالیٰ تکلم فرماتے ہیں، جس کو سالکین اصحابِ حال سمجھ سکتے ہیں۔ پس یہ تو مسلم ہو سکتا ہے کہ ابنِ منصور کی زبان سے ’’أنا الحق‘‘ نکلا ہو،مگر یہ مسلم نہیں کہ ابن منصور نے خود’’أنا الحق‘‘ کہا تھا۔
صحیح مسلم کی درج ذیل حدیث سے بھی اس بات کی واضح دلیل ملتی ہے کہ عشق الٰہی وغلبہ محبت سے سرشارہوکرکسی مسلمان کی زبان سےغیردانستہ طورپرکبھی ایسے کلمات نکل جاتے ہیں لیکن اسکا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ وہ مسلمان اپنے آپ کو خداسمجھنے اورکہنے لگاہو۔ ممکن ہے حسین بن منصورؒ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آیاہولہٰذا ان کے اس کلام کی تاویل نہایت ضروری ہےجوکہ ہم نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کی۔
’’حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَعَمُّهُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلاَةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ۔ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ"‘‘۔ ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے (جبکہ وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے) اُس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنی خوشی تم میں سے کسی مسافر کو اپنے اُس (سواری کے) اونٹ کے مل جانے سے ہوتی ہے جس پر وہ چٹیل بیابان میں سفر کررہا ہو، اُسی پر اس کے کھانے پینے کا سامان بندھا ہو اور (اتفاق سے) وہ اونٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے اور وہ (اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے) مایوس ہوجائے اور اسی مایوسی کے عالم میں (تھکا ہارا بھوکا پیاسا) کسی درخت کے سایہ کے نیچے لیٹ جائے اور اسی حالت میں (اس کی آنکھ لگ جائے اور جب آنکھ کھلے تو) اچانک اس اونٹ کو اپنے پاس کھڑا ہوا پائے اور (جلدی سے) اس کی نکیل پکڑ لے اور خوشی کے جوش میں (زبان اس کے قابو میں نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی غرض سے) کہنے لگے! اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ (خوشی کے مارے اسے پتہ بھی نہ چلے کہ میں کیا کہہ گیا)۔ )صحیح مسلم: کتاب التوبہ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا، رقم الحدیث ۶۹۶۰)













No comments:
Post a Comment