Wednesday, 13 January 2021

اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ


 اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ

_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )

قسط (٣) " عثمان بن محمد القری بھی ایک ثقہ راوی ہے "


اگر اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع الیدین کی حدیث کی سند میں عثمان بن محمد القری ہی تسلیم کرلیا جائے تب بھی وہ حدیث صحیح کی صحیح ہی رہتی ہے کیونکہ عثمان بن محمح القری بھی ایک ثقہ راوی ہے الحمدللہ


عثمان بن محمد القری کی توثیق


(1) امام قیروانی رحمہ اللہ نے زیر بحث روایت کو شاذ ( مقبول ) لکھا ہے ( اخبار الفقہاء / ص : ٢١٦ ) جو کہ قیروانی کے نزدیک سند میں موجود عثمان بن محمد کے ثقہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔


( 2 ) امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے شروع میں ہی اپنی کتاب میں مذکور لوگوں کے بارے میں لکھا ہے : فقہاء الاندلس و علماءھم ۔۔۔۔ و اہل العنایة منہم ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣١ ) اور پھر ان میں عثمان بن محمد القری کا ترجمہ بھی ذکر کیا ہے

(٢) اور پھر آگے چل کر القری کیلئے مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیں : " و کان علمہ الذی ینسب الیہ و یغلب علیہ التنجیم ، وقد الف کتابا فی فقہاء الاندلس اخذ عنہ وقرء علیہ ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٨ ، ٣٩٩ ) یہ الفاظ بھی القری کی فقاہت اور فضیلتِ علم کو ثابت کرتے ہیں۔

اور اصول ہے کہ راوی کی عدالت نیکی اور نیک شہرت سے ثابت ہوجاتی ہے۔ ( الباعث الحثيث للحافظ ابن کثیر صفحہ / ٨٨ )


القری پر جرح کا جواب

اب جہاں تک بات ہے القری پر امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی نقل کردہ جرح کی جوکہ غیرمقلدین پیش کرتے رہتے ہیں تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس جرح کا مدار مجہول العین ، مجہول الاسم اور غیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی نے اخبرنی بذاک تو فرمایا ہے ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٩ ) مگر اس خبر دینے والے کا نام ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ کون ہے؟ اور اصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی اور روایت عندالجمہور حجت نہیں ہوتی ( مقدمہ مسلم للنووی صفحہ ۱۷ وغیرہ )۔ خود امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں لہذا ان کا آپس میں لقاء اور سماع ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان کا لقاء ثابت کردے !!! بقول علامہ ذہبی دامت فیوضہم العالیہ کے کہ یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین اور مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر غیرمقلدین میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمه الله کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ و ثقہ عند الجمهور ثابت کردے۔

______اس تحقیقی جواب کے بعد ایک الزامی جواب بھی پیشِ خدمت ہے۔ ( کذب بمعنی خطا )

            غیرمقلدین کے محقق العصر جناب ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں : علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں فاما قول الشعبی الحارث کذابًا فمحمول علی انہ عنی بالکذاب الخطا۔۔۔ الخ ( السیر : 4 / 153 ) رہا امام شعبی کا قول کہ حارث کذاب ہے تو یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے کذب سے خطا مراد لی ہے۔ شیخ ابوغدہؒ نے علامہ الیمانی کی الروض الباسم ( ج 1 ص 82 ) کے حوالے سے لکھا ہے : ان لفظ کذاب قد یطلقہا کثیر من المتعنتین فی الجرح علی من یھم و یخطی فی حدیثہ۔۔۔ الخ ( حاشیۃ الرفع والتکمیل ص 168 ) کہ بہت سے متشددین جرح میں راوی کے حدیث میں وہم و خطا پر کذاب کا اطلاق کرتے ہیں۔ 

دیکھئے ارشاد الحق اثری کی کتاب : ( تنقیح الکلام / ص : 246 )  

اس اقتباس میں ارشاد الحق اثری صاحب شیخ ابوغدہ ؒاور حافظ ذھبیؒ کے فرامین نقل کرکے کذاب کی جرح کو خطا پر محمول کررہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ یہاں بھی عثمان بن محمد القری پر امام ابن الفرضی کی نقل کردہ کذاب کی جرح کو صرف وہم یا خطا پر محمول کرلیا جائے بشرطیکہ وہ جرح پہلے ثابت ہو۔


خلاصہ کلام کہ عثمان بن محمد القری بھی ایک ثقہ راوی ہے اور الحمدللہ یہ حدیث ایک صحیح حدیث ہے الحمدللہ


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment