Tuesday, 12 January 2021

قرآن مجیدسے رفع الیدین کی منسوخیت کی پہلی دلیل

 قرآن مجیدسے رفع الیدین کی منسوخیت کی پہلی دلیل

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ‘‘۔ (سورۃ المؤمنون:۱،۲)
ترجمہ:تحقیق وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے،جو اپنی نمازوں کو خشوع وخضوع سے ادا کرتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت امام حسن بصریؒ تابعی بیان کرتے ہیں: ’’خاشعون الذین لایرفعون ایدیھم فی الصلوٰۃ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ‘‘ ۔(تفسیر سمر قندی :ج۲،ص۴۰۸)
ترجمہ:خشوع وخضوع کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نماز کی ابتداء میں صرف ایک بار رفع یدین کرتے ہیں۔
یعنی بار بار رفع یدین کرنا نماز میں خشوع وخضوع کے منافی ہے، اس لیئے صرف ایک بار شروع میں ہی رفع یدین کرنا چاہیئے۔ اس کے بعد رکوع وسجود کے وقت رفع یدین کرنا درست نہیں سوائے تکبیر اولیٰ کے۔
اسی آیت کے بیان میں امام بیہقی علیہ الرحمۃ نماز میں خشوع و خضوع کا باب رقم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیما: قال اللہ جل ثناؤہ،قد افلح المؤمنون الذین ھم فی صلوٰتھم خاشعون…عن جابر بن سمرۃ…قال دخل علینا رسول اللہا ونحن رافعی ایدینا فی الصلوٰۃ فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوٰۃ‘‘۔ (السنن الکبریٰ: ج۲، جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیما،ص۲۸۰،۲۷۹)
ترجمہ:’’نماز میں خشوع وخضوع کرنے کا بیان۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تحقیق وہ ایماندار فلاح پاگئے جو اپنی نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب رسول اﷲﷺ ہماری طرف تشریف لائے۔ (ہم نماز پڑھ رہے تھے) فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں شمس قبیلے کے شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نماز میں سکون سے رہا کرو ‘‘۔
سورۃ المؤمنون کی تفسیر پر جلیل القدر تابعی حضرت حسن بصریؒ کا بیان اور امام بیہقی ؒ کااسی آیت  کی وضاحت میں حضرت جابر بن سمرۃؓ کی حدیث بیان کرنا رفع الیدین کی منسوخیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
غیرمقلدین حضرات حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث پراحناف  (دیوبند)کے جید علماءشیخ الہند جناب انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب نیل الفرقدین، حضرت محمود الحسن دیوبندیؒ  کی کتاب تقاریر شیخ الہنداور حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی کتاب درس ترمذی کےحوالےپیش کرتے ہوئے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ  ’’حضرت جابربن سمرۃ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث رفع عندالسلام ہی سے متعلق  ہے‘‘۔ غیرمقلدین حضرات کی یہ بات بالکل غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ صحیح مسلم میں حضرت جابربن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے اس باب میں دو احادیث رقم ہیں، ایک حدیث میں سلام کے رفع یدین کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں سلام کا کوئی ذکر نہیں، لہٰذاشیخ الہندجناب انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت محمود الحسن دیوبندیؒ اور حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے اقوال اس حدیث کے بارے میں ہیں جس میں سلام کا ذکر ہے، دوسری حدیث کے بارے میں نہیں جس کو امام بیہقیؒ نے سورۃ المؤمنوں  کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ دونوں احادیث کی سنداور متن ملاحضہ فرمائیں۔
۱۔  حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاَةِ‏"۔‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ‏"‏ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ‏"‏۔‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏"أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا‏"‏۔‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ ‏"يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ‏"۔’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب رسول اﷲﷺ ہماری طرف تشریف لائے۔ (ہم نماز پڑھ رہے تھے) فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں شمس قبیلے کے شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نماز میں سکون سے رہا کرو‘‘۔  (صحیح مسلم، جلد نمبر ۲، کتاب الصلاۃ، باب الأَمْرِ بَالسُّكُونِ فِي الصَّلاَةِ، رقم الحدیث ۹۶۸)
۲۔  وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ، يَعْنِي الْقَزَّازَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلاَ يُومِئْ بِيَدِهِ‏"۔’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اﷲﷺ کے ساتھ جب ہم نمازپڑھتےتونماز کے ختم پر دائیں بائیں السلام علیکم ورحمۃ اﷲکہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ ملاحضہ فرماکر جناب رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔تمہیں یہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہا کرو‘‘۔(صحیح مسلم، جلد نمبر ۲، کتاب الصلاۃ، باب عَنِ الإِشَارَةِ بِالْيَدِ وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلاَمِ وَإِتْمَامِ الصُّفُوفِ الأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالأَمْرِ بِالاِجْتِمَاعِ، رقم الحدیث ۹۷۰)
چونکہ دونوں احادیث میں ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ‘‘کا فقرہ آگیا ہے جس کی وجہ سے حضرات کا ذہن اس طرف منتقل ہوگیا ہے کہ یہ دونوں احادیث ایک ہی واقع سے متعلق ہیں، لیکن جو شخص ان دو حدیثوں کے سیاق و سباق پرغورکرے گا تو اسے یقیناً یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی کہ یہ دونوں احادیث الگ الگ واقعہ سے متعلق ہیں اور ان دونوں کا مضمون ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں احادیث کی سند اور متن میں زمین و آسمان کا فرق ہے، لہٰذا ان دونوں احادیث کوایک کہنا اور دونوں احادیث سے ایک ہی مسئلہ اخذ کرنا عقل سے بالاتر ہے۔ دونوں احادیث میں فرق ملاحضہ فرمائیں:
۱۔ پہلی حدیث میں ہے کہ ہم اپنی نماز میں مشغول تھے کہ رسول اﷲﷺ تشریف لائے اور دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲﷺ کے ساتھ جب ہم نمازپڑھتے۔
۲۔ پہلی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲﷺنے صحابہ کرامؓ کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھااور اس پر نکیرفرمائی اور دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرامؓ سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں ہاتھ اٹھاکراشارہ کرتے تھے جس پر رسول اﷲﷺ نے نکیرفرمائی۔
۳۔ پہلی حدیث میں آپﷺ نے نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم فرمایااور دوسری حدیث میں آپﷺ نے دائیں بائیں ہاتھ اٹھاکر اشارہ کرنے سے منع فرمایا۔
۴۔ دونوں احادیث الگ الگ سندوں سے مذکورہیں۔ اس لئے دونوں حدیثوں کو جن کا الگ الگ مخرج ہے۔ الگ الگ واقعہ ہے۔ الگ الگ حکم ہے، ایک ہی واقعہ سے متعلق کہہ کر دل کو تسلی دینا کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔
مزید اس حدیث مبارکہ پر جو یہ اشکال کیا جاتاہے کہ اس حدیث کے بارے میں محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ حدیث تشہد کے بارے ہے۔یہ اشکال بالکل غلط ہے،کیونکہ کسی محدث کا کسی حدیث کو کسی باب کے تحت نقل کرنا، یہ محدث کی اپنی ذاتی رائے اور تحقیق ہے۔جس سے اختلاف کیا جاسکتاہے۔اس کا یہ معنیٰ نہیں ہوتا کہ اس حدیث کا وہی مطلب نکلتاہے جووہ محدث بیان کررہا ہے،بعض مرتبہ ایک محدث کسی روایت کو ایک باب کے تحت نقل کرتا ہے اور دوسرا محدث اسی حدیث کوکسی دوسرے عنوان کے تحت لکھتا ہے یہ بات علم حدیث کے ایک عام طالب علم سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ یہی بات حدیث مذکورہ کے متعلق بھی ہے۔ کیونکہ اس حدیث (جابر بن سمرۃ رضی اﷲ عنہ والی روایت) کو اگر بعض محدثین نے تشہد وغیرہ کے باب میں نقل کیا ہے توکیا ہوا کئی دوسرے محدثین نے اسے خشوع وخضوع، نمازمیں سکون اور حرکت نہ کرنے کے عنوان کے تحت بھی نقل کیا ہےاور اسے رفع یدین نہ کرنے کی بھی دلیل بنایا ہے۔مثلاً:
۱۔ امام بخاری ؒومسلم ؒکے استاذامام ابن ابی شیبہؒ نے اسے ’’من کرہ رفع الیدین فی الدعا‘‘کے تحت لکھا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ: ج۲،ص۳۷۰، طبع ملتان)
۲۔ امام سراجؒ نے اسے ’’باب فی السکون فی الصلوٰۃ‘‘ میں نقل کیا ہے۔(مسند سراج :ص ۲۴۳،۲۴۲)
۳۔ امام بیہقیؒ نے اسے ’’جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیہما‘‘ کے تحت ’’باب الخشوع فی الصلوٰۃ‘‘ میں درج کیا ہے۔ (سنن کبریٰ :ج۲،ص۲۷۹)
۴۔ امام ابوعوانہؒ نے اسے’’بیان النھی عن الاختصار فی الصلوٰۃ وایجاب الانتصاب والسکون فی الصلوٰۃ الا لصاحب العذر‘‘کے تحت لکھا ہے۔(مسند ابی عوانہ:ج۲،ص۸۵)
۵۔ غیرمقلد عالم امام شوکانیؒ نے اسے رفع یدین نہ کرنے کی روایات میں نقل کیا ہے۔ (نیل الاوطار :ج۲، ص۱۸۴،باب رفع الیدین وبیان صفتہ ومواضعہ)
۶۔ امام بخاریؒ کی طرف منسوب کتاب’’جزء رفع الیدین‘‘سے ثابت ہے کہ اسے ’’رفع یدین‘‘ نہ کرنے کی دلیل اس دور میں بھی بنایا گیا تھا۔ (ملاحظہ ہو: ص۳۲،طبع گرجاکھی کتب خانہ گوجرانوالہ)
۷۔ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اس روایت کو رفع یدین نہ کرنے کی روایات میں ذکر کرکے اس چیز کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے زمانے یا اس سے بھی قبل کے لوگوں نے اس روایت سے رفع یدین نہ کرنا مراد لیا ہے۔(تلخیص الحبیر: ج۱،ص۲۲۱)
۸۔ علامہ نوویؒ کے عمل سے بھی یہ بات ظاہر ہے۔(ملاحظہ ہو: المجمو ع شرح المہذب ،ج۳،ص؛ السندھی علی النسائی ج۱،ص۱۷۶)
۹۔ امام ابن حبان ؒنے اس حدیث کو ’’ذکر مایستحب للمصلی رفع الیدین عند قیامہ من الرکعتین من صلوٰ تہ‘‘میں درج کیا ہے۔ (صحیح ابن حبان :ج۴ ،ص۱۷۸)
اگر بالفرض دونوں مواقعوں کی احادیث  کو ایک تسلیم کرلیا جائے تب بھی سلام کے وقت کے رفع یدین پر دیگر مواقع  کے رفع یدین کو قیاس کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جب سلام کے وقت رفع یدین نماز کے مُنافی ہے اور سکون کو ختم کرنے والا ہے تو دوسرےمواقع میں رفع دیدین کا حال بھی یہی ہوگا، لہٰذاسب کا ایک ہی حکم ہوگا، اس لئے یہ روایت علاوہ دیگرقرائن کے نسخ کی واضح دلیل ہے۔
غیرمقلدین حضرات کے اشکالات کے جوابات
پہلااشکال: غیرمقلدین حضرات حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲ عنہ کی حدیث سے رفع یدین کی منسوخیت کے ثبوت پر یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ، ’’اس حدیث کے حکم سے تو دیگرمقامات کےرفع یدین سمیت تکبیر اولیٰ کا رفع یدین بھی منسوخ ہوجاتا ہےکیونکہ رسول اﷲﷺ نے نماز میں سکون سے رہنے کا حکم دیا ہےاور رفع یدین کرنے سے منع فرمایا ہے، تو پھر حنفی حضرات تکبیر اولیٰ کا رفع یدین کیوں کرتے ہیں‘‘؟
جواب: تمام غیرمقلدین حضرات سے گزارش ہے کہ وہ حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیں۔رسول اﷲﷺ نے حکم فرمایاکہ’’نماز میں سکون سے رہا کرو‘‘یعنی نماز کے اندرسکون سے رہنے کا حکم ہے جبکہ جس وقت نمازی تکبیر اولیٰ کہتے ہوئے رفع یدین کر رہا ہوتا ہے اس وقت وہ نماز میں داخل ہی نہیں ہوا ہوتا۔  جب تک کہ نمازی اﷲاکبر کا حرف ’ر‘ زبان سے ادا نہیں کرلیتا، تب تک وہ نماز میں داخل نہیں ہوتااور تب تک اس پر دیگرحلال اشیاءحرام نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ تکبیراولیٰ کا رفع یدین اس حکم میں داخل نہیں کیونکہ وہ نماز کے اندر والے رفع یدین میں نہیں بلکہ نماز کے باہر والے رفع یدین میں آتا ہے۔اس کی دلیل ہمیں ذیل میں پیش  کردہ حدیث سے ملتی ہے۔
’’حدثنا عثمان بن ابی شیبة ثنا وکیع عن سفیان عن ابی عقیل عن علی قال قال رسول ﷲﷺۖ مفتاح الصلوة اطہور و تحریمھا التکبیرو تحلیلھا التسلیم‘‘۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے رو ا یت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرما یا: ’’نماز کی کلید صرف وضو ہے اور اس کا تحریمہ صرف اللہ اکبر کہنا ہے اور نماز سے صرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ ہی سے نکلا جاسکتا ہے‘‘۔(ابوداؤد: جلد ١، صفحہ٢٧٩، حدیث٦١٤، باب فی تحریم الصلوة و تحلیلھا) (ابن ماجہ: جلد ١، صفحہ ١٨١، باب فی مفتاح الصلوة الطھور) (صحیح الترمذی: جلد ١، صفحہ١٨٠، باب ماجاء فی تحریم الصلا ة وتحلیلھا)
دوسرااشکال: غیرمقلدین حضرات حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲ عنہ کی حدیث سے رفع یدین کی منسوخیت کے ثبوت پر یہ اشکال بھی کرتے ہیں،’’کہ اس حدیث کے حکم سے تو نمازِعیدین میں کہی جانےوالی (۶) زائد تکبیرات کے رفع یدین اور نمازِوترمیں دعاءِ قنوت سے پہلےکیا جانے والا رفع یدین بھی منسوخ ہوجاتا ہے تو پھر حنفی حضرات ان نمازوں میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟‘‘۔
جواب: میری اس بات سے تو تمام غیرمقلدین حضرات بھی اتفاق کریں گے کہ حضرت جابررضی اﷲ عنہ کی یہ حدیث نمازِ پنجگانہ کے بارے میں ہے کسی خاص نماز (یعنی نمازِعیدین یانمازِوتر) کے بارے میں نہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمام محدثین نے اس حدیث کو باب الصلاۃ میں رقم کیا ہے باب الصلاۃ العیدین یا باب الصلاۃ الوتر میں نہیں۔لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اکرمﷺ نے یہ حکم نمازِ پیجگانہ (یعنی پانچ فرض نمازوں کےساتھ پڑھی جانی والی نمازوں) کے بارے میں ہےکسی خاص نماز (یعنی نمازِعیدین یا نمازِ وتر) کے بارے میں نہیں۔
دوسری بات یہ کہ احناف نمازمیں جن مواقعوں (یعنی رکوع میں جاتےوقت، رکوع سے اٹھتےوقت، سجدے میں جاتےاوراٹھتے وقت، دونوں سجدوں کے درمیان، دوسری رکعت کے شروع میں، تیسری رکعت کے شروع میں اور سلام پھیرتے وقت) کے رفع یدین کو منسوخ مانتے ہیں ان تمام مواقعوں پر رسول اﷲﷺ سے رفع یدین کرنا بھی ثابت ہےاورنہ کرنابھی ثابت ہےجبکہ اس کے برعکس نمازِ عیدین اور نمازِ وتر میں جن مواقعوں پر احناف رفع یدین کرتے ہیں ان مواقعوں پر رسول اﷲﷺ سے رفع یدین کرنے کی دلیل تو ملتی ہے لیکن نہ کرنے کی نہیں ملتی۔ اسی لئے ہم (احناف) ان مواقعوں پر رفع یدین کرتے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ نمازِ عیدین میںنہ اذان دی جاتی ہے اور نہ اقامت (تکبیر)کہی جاتی ہےاوراس کے پڑھنے کا طریقہ بھی عام نمازوں سے مختلف ہے لہٰذا اس کو نمازِ پنجگانہ سے مشابہت دینااوراس کے حکم کا اطلاق کرناعقل سے بالاترہے۔
چوتھی بات یہ کہ ہم (احناف) نمازِ عیدین اور نمازِوتر میں جن مقامات پر رفع یدین کرنے کے قائل ہیں وہ نمازِ پنجگانہ میں کیئےجانے والے رفع یدین کے مقامات سے بالکل الگ ہیں ۔ لہٰذااگر ہم نمازِ عیدین اور نمازِوتر میں ان مقامات پر رفع یدین کے قائل ہوتے جن مقامات پرمنسوخ سمجھتے ہیں تو اعتراض کی صورت بنتی تھی لیکن جب ہم ان نمازوں میں بھی ان مقامات پر رفع یدین کے قائل نہیں تو پھر اعتراض کس بات کا؟
غیرمقلدین حضرات کے اس اشکال پر ہمارا بھی حق بنتاہے کہ ہم بھی کچھ اشکال پیش کریں۔ غیرمقلدین حضرات جو وترکی تیسری رکعت میں بعدازرکوع رفع یدین کرنےکے بجائے عام دعاکی طرح ہاتھ اٹھاکردعائے قنوت پڑھتے ہیں، کیا اس عمل کے بارے میں زبیرعلی زئی صاحب یا کسی غیرمقلد کے پاس کوئی ایک صحیح صریح مرفوع حدیث ہے؟ اگرہے تو ذراپیش فرمائیں ورنہ اس قسم کے سطحی اعتراضات سے گریز فرمائیں۔
دعاء ِقنوت میں رفع یدین کرنا صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، فتاویٰ علمائے حدیث
دعاء قنوت میں رفع یدین کرنا صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے چنانچہ اسود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعائے قنوت میں سینہ تک اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے تھے اور ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں ہمارے ساتھ دعاء قنوت پڑھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں بازو ظاہر ہو جاتے اور خلاص سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس کو دیکھا کہ نماز فجر کی دعاء قنوت میں اپنے بازو آسمان کی طرف لمبے کرتے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ماہِ رمضان میں دعاء قنوت کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور ابو قلابہ اور مکحول بھی رمضان شریف کے قنوت میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اورابراہیم سے قنوت وتر سے مروی ہے کہ وہ قرأۃ سے فارغ ہوکر تکبیر کہتے اور ہاتھ اٹھاتے پھر دعائے قنوت پڑھتے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرتے اور روایت ہے وکیع سے وہ روایت کرتا ہے محل سے وہ ابراہیم سے کہ ابراہیم نے محل کو کہا کہ قنوت وتر میں یوں کہا کرو اور وکیع نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے قریب تک اٹھا کربتلایا اور کہا کہ پھر چھوڑ دیوے ہاتھ اپنے عمر بن عبدالعزیز نے نماز صبح میں دعاء قنوت کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور سفیان سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کو دوست رکھتے تھے کہ وتر کی تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھ کر پھر تکبیر کہے اوردونوں ہاتھ اٹھاوے پھر دعائے قنوت پڑھے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ قنوت میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاوے کہا ہاں مجھے یہ پسند آتا ہے۔ ابوداؤد نے کہا کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا اسی طرح شیخ احمد بن علی المقریزے کی کتاب مختصر قیام اللیل میں ہے اور ابو مسعود اور ابوہریرہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی ان قاریوں کے بارے میں جو معونہ کے کنوئیں میں مارے گئے قنوت وتر میں دونوں ہاتھوں کااٹھانا مروی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تحقیق میں نے رسول اللہﷺ کو ان لوگوں پر جنہوں نے قاریوں کو قتل کیا تھا ہاتھ اٹھا کر بد دعاء کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسے ہی بیہقی کی کتاب مسمیٰ معرفت میں ہے۔ حررہ عبدالجبار العزنوی عفی عنہ (فتاویٰ غزنویہ: ص ۵۱)(فتاویٰ علمائے حدیث : جلد ۴ ،ص ۲۸۳)

No comments:

Post a Comment