اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ
_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )
قسط (٢) " عثمان بن محمد کا تعین "
#نوٹ : اس اعتراض کے سلسلے میں آج تک کی ہم تک پہنچنے والی کسی بھی مطبوع تحریر میں اتنی منقح گفتگو نہیں کی گئی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع الیدین کی صحیح اور صریح حدیث پر منکرین حدیث بشکل غیرمقلدین کا سب سے بڑا اور مرکزی اعتراض یہ ہے کہ اس کے راوی عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ہے۔
چنانچہ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں ؛ اس کے راوی عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ہے۔ بغیر کسی دلیل کے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک مراد لینا غلط ہے۔ اس ابن مدرک سے محمد بن حارث القیروانی کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ عثمان بن محمد سے مراد یہاں یہی ( ابن خشیش ) کذاب ہے۔ ( نورالعینین ص ۲۰٦ )
الجواب :
پہلی گزارش تو یہ ہے کہ اٰل غیرمقلدیت ذرا سوچے کہ اگر بقول علی زئی صاحب کے اس روایت میں محمد بن عثمان کا تعین ثابت نہیں ہے اور ملاقات کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک القبری مراد لینا غلط ہے تو پھر آپ کے علی زئی نے یہاں عثمان بن محمد بن خشیش کیسے مراد لے لیا بغیر کسی ثبوت کے ؟ جب ملاقات کے ثبوت کے بغیر عثمان بن محمد القبری مراد لینا غلط ہے تو ملاقات کے ثبوت کے بغیر ہی عثمان بن محمد بن خشیش مراد لینا کیسے درست ہوگیا ؟ نیز جب آپ کے نزدیک عثمان بن محمد کا تعین سرے سے ثابت ہی نہیں تو پھر علی زئی نے اسے ابن خشیش کیوں بنا ڈال ؟ اس نے یہ بلا دلیل تعین کیوں کیا ؟ اور آج کل تو آپ لوگ اس عثمان بن محمد کو القری بنائیں پھرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ آپ کے علی زئی نے اسے ابن خشیش کیسے بنا دیا تھا ؟
اب آئے اصل کلام کی طرف
اخبار الفقہاء والمحدثین کے مصنف امام محمد بن حارث القیروانی رحمۃ اللہ علیہ نے بذات خود اپنی اسی کتاب میں عثمان بن محمد کا تعین کر رکھا ہے لیکن اس میں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اخبار الفقہاء والمحدثین کے ایک مطبوعہ نسخے میں عثمان بن محمد القبری لکھا ہے اور دوسرے مطبوعہ نسخے میں عثمان بن محمد القری لکھا ہے اور دونوں نسخے بیروت لبنان سے شائع شدہ ہیں۔
چنانچہ اس کتاب کے صفحہ ۱۰۳ اور ۱۰۵ پر ایک نسخے میں القبری لکھا ہے اور دوسرے میں القری لکھا ہے جن کا احقر نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے اور عنقریب ہم القبری والے مطبوعہ نسخے کا سکین بھی نشر کردینگے ان شاء اللہ۔
اب غیرمقلدین اس صحیح حدیث سے اپنی جان چھڑانے کیلئے اخبار الفقہاء والمحدثین کا وہ نسخہ جس میں القری کا لفظ ہے لیکر جگہ جگہ بنا کسی واضح ثابت قرینے کے خود ہی یہ کہتے اور لکھتے پھر رہے ہیں کہ قیروانی کا استاد عثمان بن محمد القبری نہیں بلکہ القری ہے اور اس پر امام ابن الفرضی نے اپنی کتاب " تاریخ علماء الاندلس " میں کذاب کی جرح نقل کررکھی ہے لہذا یہ روایت گئی۔
جواب :
( 1) پہلی بات یہ کہ اگر ایک مطبوعہ نسخے میں القری کا لفظ ہے تو اسی کتاب کے دوسرے مطبوعہ نسخے میں القبری کا لفظ بھی موجود ہے کمامر۔
( 2 ) یہ بات تو معلوم ہے کہ سند میں موجود عثمان بن محمد کی امام قیروانی سے ملاقات ہے جیسا کہ اخبار الفقہاء کے صفحہ ۷۸ ، ۹۷ ، ١٠٣ ، ١٠۵ ، ۱۲۲ اور ٢١۴ سے اور امام قیروانی ہی کی ایک دوسری کتاب " قضاة قرطبة " کے صفحہ ٢٨ ، ٣٠ ، ٨۵ ، ١٠٧ ، ١۴٩ اور ٢٠٩ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ القبری اور القری میں سے کس کی ملاقات کے قرائن موجود اور ثابت ہیں اور کس کی ملاقات کے نہیں ہیں۔
تو آئے دیکھتے ہیں
(١) امام عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک رحمہ اللہ کا انتقال ۳۲۰ھ میں ہے ( اخبار الفقہاء والمحدثین صفحہ ٢١٦ ، رقم : ۳۸۱ )
ابن مدرک القبری کی یہ تاریخ وفات سامنے رکھ کر یہ بات صاف طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ امام محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ المتوفی ۳٦١ھ کی ان سے ملاقات و سماع ممکن ہے اور یہ امکان ہی بقول علماءِ غیرمقلدین کے اتصالِ سند کیلئے کافی ہے۔ چنانچہ محمد گوندلوی صاحب لکھتے ہیں : باقی رہا یہ اعتراض کہ مکحول کا سماع محمود سے ثابت نہیں۔ عدم ثبوت صحت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ صحت حدیث کے لیے صرف استاد اور شاگرد کی ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہے عدم ثبوت سے نفی لازم نہیں آتی ( خیرالکلام ص ۱٦٧ )۔ اور ارشاد الحق اثری صاحب بھی لکھتے ہیں : اصول حدیث کا یہ قاعدہ ہے کہ اتصال سند کے لیے امکان القاء ہی کافی ہے جیسا کہ امام مسلم نے کہا ہے ( توضیح الکلام )۔
دوسری طرف القری کی تاریخ وفات کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں ہے لہذا وہاں امکان اور غیر امکانِ لقاء کی بحث ہی نہیں۔
الغرض جب محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ کی عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک سے ملاقات اور سماع ممکن ہے جو کہ اتصال سند کیلئے کافی وافی ہے اور القری کی تاریخ وفات کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ اس سند میں ابن مدرک کا تعین ہی مضبوط شئی ہے۔
(٢) نیز امام محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک رحمہ اللہ کا اپنی اسی کتاب میں باقاعدہ ترجمہ بیان کیا ہے جس میں ان کی تعدیل و توثیق بھی بیان فرمائی ہے اور ان کا سن وفات ۳۲۰ھ بھی جزم کے ساتھ بیان فرمایا ہے
دیکھئے : اخبار الفقہاء والمحدثین ( ص ۲١٦ رقم : ۳۸۱ )
جبکہ عثمان بن محمد القری رحمہ اللہ کا نہ کہیں ترجمہ لکھا ہے اور ناہی کوئی سن وفات کہیں لکھا ہے۔
امام محمد بن حارث رحمہ الله کا اپنی اسی کتاب میں القبری کا ترجمہ قائم کرکے اس کی مدح و ثناء بیان کرنا اور سن وفات تک کا ذکر کرنا اور القری کا کہیں پر کوئی ترجمہ نا لکھنا بھی ایک واضح قرینہ ہے کہ ابن مدرک ہی امام محمد بن حارث قیروانی کے استاد ہیں۔
( 3 ) پھر غیرمقلدین کا تاریخ علماء الاندلس کے حوالے سے یہ کہنا کہ عثمان بن محمد القری کے اساتذہ میں عبیداللہ بن یحیی کا نام موجود ہے لہذا سند میں القری ہے ناکہ القبری بھی غلط بات ہے کیونکہ یہ بات امام ابن الفرضی المتوفی ۴٠٣ھ کی ہے جس کا عثمان بن محمد القری کے ساتھ سرے سے لقاء ثابت ہی نہیں ہے۔ اگر ہے تو کوئی غیرمقلد ثابت کرکے دے من ادعی فعلیہ البیان بالبرھان۔ اور اگر مجہول راوی کی خبر پر مدار ہے تو یہ بوجہ جہالت ثابت نہیں ہوتا اور پھر اس میں بھی تاریخ علماء الاندلس میں " کان یزعم " کے الفاظ ہیں۔ کیا مجہول راوی کے محض گمان سے کوئی کسی کا استاد ثابت ہوتا ہے ؟
( 4 ) اب اگر بالفرض سند میں عثمان بن محمد القری ہی تسلیم کرلیا جائے تب بھی اس حدیث پر کوئ اثر نہیں پڑتا کیونکہ القری پر امام ابن الفرضی کی طرف سے نقل کردہ کذاب کی جرح ثابت ہی نہیں ہے ( جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آرہی ہے ) بلکہ " فقہاء الاندلس و علماءھم ۔۔۔۔ و اہل العنایة منہم " کے الفاظ اسی امام ابن الفرضی نے اپنی کتاب میں مذکور لوگوں کے بارے میں استعمال کئے ہیں جن میں سے عثمان بن محمد القری بھی ایک عالم اور فقیہ ہیں ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣١ )۔ نیز اسی کتاب میں القری کیلئے " و کان علمہ الذی ینسب الیہ و یغلب علیہ التنجیم ، وقد الف کتابا فی فقہاء الاندلس اخذ عنہ وقرء علیہ جیسے الفاظ خود امام ابن الفرضی نے لکھے ہیں ( تارخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٨ ، ٣٩٩ ) جو کہ القری کی فقاہت اور فضیلتِ علم کو ثابت کرتے ہیں اور اصول ہے کہ راوی کی عدالت نیکی اور نیک شہرت سے ثابت ہوجاتی ہے۔ ( الباعث الحثيث للحافظ ابن کثیر صفحہ / ٨٨ )
اب جہاں تک بات ہے القری پر امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی نقل کردہ جرح کی جوکہ غیرمقلدین پیش کرتے رہتے ہیں تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس جرح کا مدار مجہول العین ، مجہول الاسم اور غیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی نے اخبرنی بذاک تو فرمایا ہے ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٩ ) مگر اس خبر دینے والے کا نام ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ کون ہے؟ اور اصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی اور روایت عند الجمہور حجت نہیں ہوتی۔ ( مقدمہ مسلم للنووی صفحہ ۱۷ وغیرہ )۔ خود امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے لہذا لقاء اور سماع کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان کا لقاء ثابت کردے !!! بقول علامہ ذہبی دامت فیوضہم العالیہ کے کہ یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین اور مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر غیرمقلدین میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمه الله کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ و ثقہ عند الجمهور ثابت کردے۔
______اس تحقیقی جواب کے بعد ایک الزامی جواب بھی پیشِ خدمت ہے۔ ( کذب بمعنی خطا )
غیرمقلدین کے محقق العصر جناب ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں : علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں فاما قول الشعبی الحارث کذابًا فمحمول علی انہ عنی بالکذاب الخطا۔۔۔ الخ ( السیر : 4 / 153 ) رہا امام شعبی کا قول کہ حارث کذاب ہے تو یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے کذب سے خطا مراد لی ہے۔ شیخ ابوغدہؒ نے علامہ الیمانی کی الروض الباسم ( ج 1 ص 82 ) کے حوالے سے لکھا ہے : ان لفظ کذاب قد یطلقہا کثیر من المتعنتین فی الجرح علی من یھم و یخطی فی حدیثہ۔۔۔ الخ ( حاشیۃ الرفع والتکمیل ص 168 ) کہ بہت سے متشددین جرح میں راوی کے حدیث میں وہم و خطا پر کذاب کا اطلاق کرتے ہیں۔
دیکھئے ارشاد الحق اثری کی کتاب : ( تنقیح الکلام / ص : 246 )
اس اقتباس میں ارشاد الحق اثری صاحب شیخ ابوغدہ ؒاور حافظ ذھبیؒ کے فرامین نقل کرکے کذاب کی جرح کو خطا پر محمول کررہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ یہاں بھی عثمان بن محمد القری پر امام ابن الفرضی کی نقل کردہ کذاب کی جرح کو صرف وہم یا خطا پر محمول کرلیا جائے بشرطیکہ وہ جرح پہلے ثابت ہو۔
( 5 ) اب سب سے مزیدار بات اور غیرمقلدین کیلئے کبھی ختم نہ ہونے والا درد سر جو کہ ایک واضح حقیقت ہے۔ وہ یہ کہ امام قیروانی رحمہ اللہ نے زیر بحث حدیث کو خود اپنی اسی کتاب کے اسی صفحے پر شاذ لکھا ہے۔
اب بات سمجھنے کی ہے کہ عندالمحدثین شاذ کی دو تعریفیں ہیں
( ایک ) ۔۔۔۔ شاذ اس حدیث کو کہتے ہیں جسے نقل کرنے میں کوئی ثقہ راوی اکیلا ہو اور کوئی ثقہ راوی اس کی متابعت نہ کرے۔
( معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص ١١٩ ، علی زئی کا ماہنامہ الحدیث شمارہ ۵۳ ص ۴۴ وغیرہ )
ایسی شاذ حدیث صحیح اور قابل حجت ہوتی ہے کیونکہ یہ تفرد من الثقات کے قبیل سے ہے اور ثقہ و صدوق راوی کا تفرد ائمہ محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے جیسا کہ خود علی زئی نے بھی صراحت کر رکھی ہے کہ اگر ثقہ راوی منفرد ہو اور دوسروں کی مخالفت نہ کرے تو یہ شاذ بھی مقبول ہوتی ہے اور اگر اسے رد کردیا جائے تو اس قسم کی بہت سی روایتیں رد ہوجاتی ہیں اور بہت سے مسائل دلائل سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ( ماہنامہ الحدیث شمارہ ۵۳ ص ۴۵ )
( دوسری ) ۔۔۔۔ شاذ ایسی حدیث کو بھی کہا جاتا ہے جس میں کوئی ثقہ راوی دوسرے ثقات راویوں کی مخالفت کرے۔ ( معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص ۱۱۹ وغیرہ )
ایسی شاذ حدیث ضعیف و مردود ہوتی ہے۔
زیر بحث حدیث پر شاذ کی دوسری تعریف کسی طور پر بھی صادق نہیں آتی کیونکہ اس میں ثقہ راویوں کی مخالفت نہیں پائی جارہی ، ہاں البته شاذ کی پہلی تعریف اس حدیث پر صادق آتی ہے کیونکہ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو نقل کرنے میں ثقہ راوی منفرد ہے اور شاذ کی اسی پہلی تعریف کے اعتبار سے ہی امام قيروانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شاذ کہا ہے۔ اور ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ اس قسم کی شاذ حدیث صحیح اور قابل حجت ہوتی ہے۔ لہذا یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔
اب جو نقطہ یہاں سمجھنے کا ہے وہ یہ ہے کہ اگر اس حدیث کی سند میں کوئ کذاب راوی ہوتا تو پھر امام قیروانی اس کو شاذ نہیں لکھتے کیونکہ کذاب کی روایت شاذ نہیں بلکہ منکر کہلاتی ہے جبکہ وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کررہا ہو اور اگر نا بھی کرے تب بھی جس سند میں کذاب راوی موجود ہو اسے شاذ نہیں کہتے۔ امام قیروانی کا شاذ لکھنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کی سند میں کوئ بھی کذاب راوی نہیں ہے۔ اب ہم غیرمقلدین کو ان کیلئے اختیار دیتے ہیں کہ یا تو وہ اس سند میں موجود عثمان بن محمد کو ابن مدرک تسلیم کرلیں کیونکہ وہ بالاتفاق کذاب نہیں ہے یا پھر القری ہی مان لیں لیکن پھر اس سے کذاب کی غیر ثابت جرح کو ہٹالیں جو کہ لفظ شاذ سے بھی ہٹ رہی ہے اور اس صورت میں القری بھی خود بہ خود ثقہ ثابت ہوگیا۔ دونوں صورتوں میں حدیث صحیح کی صحیح رہتی ہے الحمدللہ۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment