Tuesday, 19 January 2021

عثمان بن محمد القری پر غیرثابت جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ "


 اخبار الفقہاء والمحدثین کی ترک رفع الیدین والی صحیح حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ

_______________( محمد نعمان " نوشہرہ سرینگر " )

قسط (۴) " عثمان بن محمد القری پر غیرثابت جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ "


اگر اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع الیدین کی حدیث کی سند میں عثمان بن محمد القری ہی تسلیم کرلیا جائے تب بھی وہ حدیث صحیح کی صحیح ہی رہتی ہے کیونکہ عثمان بن محمح القری بھی ایک ثقہ راوی ہے اور اس کی توثیق ہم پچھلی قسط میں نقل کرچکے ہیں اور اس پر جرح کا رد بھی لکھ چکے ہیں الحمدللہ۔ اب اس غیرثابت جرح پر رد کے سلسلے میں مزید کچھ باتیں عرض کررہا ہوں بغور ملاحظہ فرمائیں۔


پچھلی قسط میں احقر عرض کرچکا ہے کہ القری پر امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی نقل کردہ جرح کا مدار مجہول العین ، مجہول الاسم اور غیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی نے اخبرنی بذاک تو فرمایا ہے ( تاریخ علماء الاندلس / ج : ١ / ص : ٣٩٩ ) مگر اس خبر دینے والے کا نام ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ کون ہے؟ اور اصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی اور روایت عندالجمہور حجت نہیں ہوتی ( مقدمہ مسلم للنووی صفحہ ۱۷ وغیرہ )۔ خود امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں لہذا ان کا آپس میں لقاء اور سماع ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ان کا لقاء ثابت کردے !!! بقول علامہ ذہبی دامت فیوضہم العالیہ کے کہ یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین اور مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر غیرمقلدین میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمه الله کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ و ثقہ عند الجمهور ثابت کردے۔

اب اگر کوئی شخص کہے کہ القری پر جرح کرنے والا امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کے نزدیک ثقہ ہے جیسا کہ تاریخ اندلس میں اخبرني بذالک من اثق بہ کے الفاظ موجود ہیں۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ جب چوٹی کے امام حافظ ناقد جیسے امام شعبہ رحمہ اللہ ، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ، امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کی تعديل و توثیق معروف الاسم راوی جابر بن یزید الجعفی کے متعلق قابل قبول نہیں حالانکہ انہوں نے ما رایت اورع في الحديث منه ، صدوق في الحديث ، اوثق الناس ، اصدق الناس جیسے الفاظ سے اس کی تعدیل و توثیق کی ہے ( تہذیب التہذیب )

تو پھر اکیلے امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی توثیق غیر معروف مجہول الاسم مجهول العین راوی کے متعلق کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے جس کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں!! 

 

______تحقیقی جواب کے بعد ایک الزامی جواب بھی احقر نے لکھا تھا وہ بھی پیشِ خدمت ہے۔ ( کذب بمعنی خطا )

            غیرمقلدین کے محقق العصر جناب ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں : علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں فاما قول الشعبی الحارث کذابًا فمحمول علی انہ عنی بالکذاب الخطا۔۔۔ الخ ( السیر : 4 / 153 ) رہا امام شعبی کا قول کہ حارث کذاب ہے تو یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے کذب سے خطا مراد لی ہے۔ شیخ ابوغدہؒ نے علامہ الیمانی کی الروض الباسم ( ج 1 ص 82 ) کے حوالے سے لکھا ہے : ان لفظ کذاب قد یطلقہا کثیر من المتعنتین فی الجرح علی من یھم و یخطی فی حدیثہ۔۔۔ الخ ( حاشیۃ الرفع والتکمیل ص 168 ) کہ بہت سے متشددین جرح میں راوی کے حدیث میں وہم و خطا پر کذاب کا اطلاق کرتے ہیں۔ 

دیکھئے ارشاد الحق اثری کی کتاب : ( تنقیح الکلام / ص : 246 )  

اس اقتباس میں ارشاد الحق اثری صاحب شیخ ابوغدہ ؒاور حافظ ذھبیؒ کے فرامین نقل کرکے کذاب کی جرح کو خطا پر محمول کررہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ یہاں بھی عثمان بن محمد القری پر امام ابن الفرضی کی نقل کردہ کذاب کی جرح کو صرف وہم یا خطا پر محمول کرلیا جائے بشرطیکہ وہ جرح پہلے ثابت ہو۔


خلاصہ کلام کہ عثمان بن محمد القری پر ابن الفرضی کی نقل کردہ جرح ثابت نہیں


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment