مسلہ تقلید،تقلید شخصی اور تقلید مطلق اور شبہات کا جواب
بسم اللّه الرحمٰن الرحیم
یہ جھمی نام نہاد جاہل احمق لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے
اسکی اب حالت خراب ہو چکی ہے اب بچارے کی عزت تو کچھ بچی نہیں ہے میری پوسٹ کا جواب دینے سے قاصر رہا ہے یہ جھمی جاہل احمق
پوسٹ کی لنک جسکا جواب اس بےشرم سے بن نہیں پایا
اسکی اچھی خاصی چھترول کے لئے اس لنک پر کلک کرے
👇👇👇👇
https://aalimuqamhaideobandwale.blogspot.com/2020/04/blog-post_20.html
کھسیانی بلّی کھمبا نو چے کے مصداق علمائے غیر مقلدین نفس مسئلہ میں زیادہ دیر بحث نہیں کر سکتے تو اپنی جان بچانے کے لئے اِدھر اُدھر کی بکواس شروع کر دیتے ہیں ۔
اب بیچارہ کہاں کہاں بھاگ جاتا ہے میری پوسٹ کی کراس دے کر اسکی پہلی لائن کا جواب بھی نہیں دیا عجیب قسم کی جہالت ہے
اب یہ جہمی احمق بھاگ گیا ہے مسلہ تقلید پر لگتا ہے پچھلی چھترول کے بعد اس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے میری پوسٹ کو کس لئے کراس دیا اس جاہل نے سمجھ نہیں آیا نا اسکا جوا ب لکھا نا کچھ تو کراس کیوں 🤔🤔
غیرمقلدین کے ایک مولوی ڈاکٹر بہاوالدین صاحب نے ایک بات لکھی ہے آج غیرمقلد پر پوری فٹ آتی ہے ” ہاں بعض عوام کالانعام گروہ اہل حدیث میں ایسے بھی ہیں جو اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ ان کو لامذہب بد مذہب ضال منصل جو کچھ کہو زیبا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں۔ کسی سے کوئی حدیث سن کر یا کسی اردو مترجم کتاب میں دیکھ کر نہ صرف اس کے ظاہری معنی کے موافق عمل کرنے پر صبر و اکتفا کرتے ہیں۔ بلکہ اس میں اپنی خواہش نفس کے موافق استنباط و اجتہاد بھی شروع کر دیتے ہیں۔ جس میں وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ (تاریخ اہل حدیث ص164)
اس پر بھی اسکی ایسی چھترول کر دی جائے گی اسکی نسلیں بھی یاد کرے گی
اس جاہل احمق نے عنوان قائم کیا ہے
👈تقلید شرک اور مقلد مشرک کیوں !
اس عنوان کو ثابت کرنے میں اس کو چاہے تھا قرآن حدیث پیش کرے لیکن انکا لولا لنگڑا فرقہ قرآن حدیث سے خالی ہے بس لہٰذا صرف دو چار بھونگی مار دی گیی اس کی پوسٹ میں اور کہا یہ لو بھونگی والا جواب چپکا دیا اسکی پوسٹ کا جائزہ پوانٹ ٹو پوانٹ لیا جائے گا ان شاء اللّه
👈پھر یہ جاہلوں کا سردار لکھتا ہے
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
🚫تقلید چار اقسام کی ہیں:
’تقلید مطلق‘‘ یعنی عام
تقلید شخصی یعنی ایک ہی عالم کی بات پر ہمیشہ عمل کرے
ایک ہی عالم کی بات کا ماننا وجوب شرعی سمجے
چہارم اس عالم یا مجتہد کے فتوے کے مقابلے قرآن و حدیث کی نصوص کو چھوڑ دے
تقلید مطلق سے مراد یہ ہے کہ مسائل و احکام کی تحقیق میں انسان کسی ایک فقیہ کا پابند ہوکر نہ رہ جائے؛ بلکہ مختلف مسائل میں مختلف اصحاب علم سے فائدہ اٹھائے یعنی کسی خاص مکتبہ فکر کی قید سے بالاتر ہوکر۔
اسی تقلید مطلق کے بارے میں مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے فرمایا: پچیس برس کے تجربہ سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور تقلید مطلق کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو ہی سلام کر بیٹھتے ہیں۔(اشاعۃ السنۃ،صفحہ 88، جلد 11)
👈👈👈الجواب . جناب احمق جاہل جی نے یہاں تقلید کی چار قسم بتلا دی اور پھر کہا انکا بٹالوی صاحب تقلید مطلق کا قائل تھا اور انکا حوالہ بھی نقل کیا
تو جاہل جی جو اپنے تقلید مطلق کی تعریف لکھی ہے پھلے اسکو قرآن حدیث سے ثابت کرو کیوں کہ آپ کے وہاں امتی کے قول حجت نہیں
اور اپنے بقول آپ اور آپ کے بٹالوی صاحب تقلید مطلق کے قائل ہے یہ تقلید مطلق اپنے کس آیت یا کس حدیث سے ثابت کی ہے اسکا حوالہ عنایات کرے
اب آپ تقلید مطلق کے قائل ہے اس لئے حوالہ نقل کیا تو آپ کے فرقے میں مجتہد مطلق کون کون ہے انکا نام درج کرے بقول بٹالوی صاحب کے جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور تقلید مطلق کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو ہی سلام کر بیٹھتے ہیں تو آپ ثابت کرے آپ اس چیز کو اپکا فرقہ اس تقلید مطلق کو مانتا ہے حوالاجات پیش کرے
👈پھر جاہلوں کا سردار آگے لکھتا ہے
👇👇👇👇👇👇
🚫مولانا کا یہاں تقلید مطلق کے حوالے سے جو موقف ہے وہ یہ کے اب ہر عام شخص خود سے اجتہاد استنباد یا استدلال تو نہیں کرسکتا سو لہاذا اگر ایسا شخص کسی مسلئہ میں رہنمائی کے لئے کسی عالم دین کی طرف رجوع کرتا ہے تو یہ تقلید مطق ہے جو کے درحقیقت اتباع ہی ہے۔
👈👈👈👈الجواب ۔ تو جو تعریف اپنی تقلید مطلق کی لکھی ہے اس کو کس آیت کس حدیث سے نکلا گیا ہے اسکا حوالہ دیا جائے اور تو اور تقلید کی تعریف یہی ہے
بنیادی بات یہ ہے کہ ائمہ کرام نے جس تقلید کی مذمت کی ہے وہ تقلید مذموم ہے۔
تقلید شخصی کیاہے کسی ایک شخص کی ہریر بات کو مانناخواہ وہ صحیح کہے یاغلط ۔ اس کی علماء نے عمومی طورپر مذمت کی ہے۔
لیکن کیافی الواقع جو تقلید رائج ہے وہ تقلید شخصی ہے۔
یہ تقلید شخصی ہے ہی نہیں یہ تقلید حکمی ہے یعنی ایک مکتب فکر کی تقلید ۔ اس میں کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ دلائل کے لحاظ سے مکتب فکر سے وابستہ افراد کی تقلید کی جاتی ہے۔
کسی ایک مکتبہ فکر کی پیروی شعروادب فلسفہ اوردنیا کے تمام علوم میں رائج ہے۔ ہرشخص کسی نہ کسی ایک مکتبہ فکر سے تعلق رکھتاہے۔
تواگردنیا کے کچھ لوگ فقہیات میں کسی ایک مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں تواس کو شرک کہناکیسے درست ہوگا!
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تقلید جو رائج ہے وہ تقلید عام یعنی مطلق اورتقلید شخصی کے درمیان ایک معتدل شاہراہ ہے۔
نہ تقلید عام جیسی وسعت کہ پوری دنیا میں جس کی رائے موافق ہو اختیار کرلو
اورنہ تقلید شخصی جیسی تنگی کہ صرف ایک شخص کی تمام آراء کے سامنے فکر ونظر کو سپرد کرو
یہ ان دونوں کے درمیان ایک معتدل راہ ہے اوراسی میں انشاء اللہ خیرہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل علم کیلئے اجتہاد فی المسائل کو کبھی برانہیں سمجھاگیابشرطیکہ وہ اس کے اہل ہوں
شاہ ولی اللہ نے بہت سارے مسائل میں احناف سے ہٹ کر اپنی رائے رکھی اس کو کوبھی کسی دیوبندی عالم نے برانہیں سمجھا
اسی طرح ان کے اخلاف واحفاد میں امام ابوحنیفہ سے ہٹ کر الگ رائے رکھنے والے تھے لیکن اس پر نکیر نہیں ہوئی
اصل چیز جوبنائے اختلاف ہے وہ یہ کہ ہرعام وخاص کو ترک تقلید کی دعوت دی جائے
حالانکہ تقلید توایسی چیز ہے کہ بسااوقات مجتہدین کو بھی اس سے مفر نہیں ہوتا امام شافعی کہتے ہیں کہ قلت ھذا تقلیدا لعطاء بن ابی رباح کہ میں نے اس مسئلے میں ایساجوکہاہے تو وہ عطاء بن ابی رباح کی تقلید میں کہاہے
چو نکہ ا غیر مقلدین عرف اہل حدیث ہر بات قر آن وحد یث سے کہنے اور سب آیتو ں اور سب
حد یثوں پر عمل کر نے کے دعوید ار ہیں ۔لہٰذ اہم کسی غیر مقلّد سلفی اثر ی وغیرہ کاقو ل بھی پیش کر یں گے تو اس کو قر آن وحدیث ہو نے کی بنا پر غیر مقلّد ین سر جھکا کر قبو ل کر یں گے ۔اور اپنی جماعت کے کسی فر د عالم وغیر عالم کی بات پر سر جھکا نے کی بجائے رد اور انکار کر یں گے تو سمجھا جائے گا کہ قرآن وحد یث کاانکار کیا ۔اورقر آن وحد یث کاانکار کر نے والا بدعتی فاسق وفاجر اور جہنمی ہو تاہے
👈👈👈👈پھر جاہلوں کا سردار اجھل آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇👇
🚫یاد رہیں برصغیر کے مقلدین اس تقلید مطلق کو لوگوں کے سامنے بیان کرکے دھوکا دیکر تقلید شخصی کی جال میں پھنساتے ہیں اور دھوکا دیتے ہیں کے دیکھوں تقلید کو علماء نے جائز کہا ہے 🚫
👈👈👈👈الجواب ۔تقلید کے مسئلہ میں جب جان گلے میں اٹکتی ہے تو تقلید کی تعریف میں کیڑیے نکالنے لگتے ہیں ۔اوپر اس جاہل نے تقلید مطلق کو اتبا ع لکھا بلا دلیل یعنی یہ اس پوسٹ میں اتنی تقلید کر گیا حد نہیں ہے
غیر مقلد ین حقیقت میں نہ تقلید کر تے ہیں نہ اتباع کر تے ہیں ۔مگر بعض لو گ ان میں سے اتباع کر نے کے مد عی ہیں لہٰذ ا’’اتباع ‘‘ کی حقیقت قر آن و حد یث کی روشنی میں واضح کی جائے گی تقلید اور اتباع کے درمیان وہ فر ق کر تے ہیں ان کے مزعو مہ اور مو ہو مہ فرق کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا ۔تہذ یب و اخلاق ۔شر م و حیا اور دین وایمان کو کس کس طر ح انھو ں نے شر مند ہ کیا ہے ۔
قر آن کے ترجمہ و تفسیر میں جس قدربے ایمانی ان کے علماء کر تے ہیں اس کے بھی نمو نے آپ دیکھیں گے ۔مقلد علماء وائمہ کی کتابو ں میں تقلید کی تعر یفیں درج ہیں وہ ان کے غلط معنی ومطلب بیان کر تے ہیں ۔ان کا ٹھیک ٹھیک حساب لیا جائے گا ۔اللہ حسن تو فیق عطا کر ے۔
👈👈👈پھر جاہلوں کے سردار نے آگے لکھا ہہے 👇👇👇
🚫علماء کرام نے جس تقلید کو جائز کہا ہے وہ درحیقت یہی تقلید مطلق ہے جس کے دیوبندی مقلد منکر ہیں اور تقلید شخصی کے قائل
👈👈👈👈الجواب ۔جھوٹوں پر اللہ کی لعنت
دیکھنایہ ہے کہ فی الواقع دلائل کے لحاظ سے جوتقلید رائج ہے وہ تقلید شخصی ہے یاتقلید حکمی
👈👈👈👈پھر جاہل میاں نے بہت بھونگی مار ڈالی کیا جہالت ہے لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫تقلید مطلق کے بارے میں اکابرین دیوبند کیا فرماتے ہیں اور اس کے بعد ہم علماء دیوبند سے ہی تقلید مطلق کا انکار اور تقلید شخصی کا قائل ہونا ثابت کرتے ہیں
تقلید مطلق کی تعریف تقی عثمانی دیوبندی کی اس وضاحت سے بخوبی ہوتی ہے: ابتداء میں صرف تقلید مطلق ہی تھی جو کوئی جس کی چاہتا تقلید کر لیتا تھا۔(درس ترمذی، جلد اول، صفحہ 121)
👈👈👈👈الجواب ۔ پہلی بات اس جاہل نے یہاں بھی مفتی تقی عثمانی صاحب kکی تقلید کی ہے یعنی انسے ادار مانگ کر تقلید مطلق کی تعریف لکھی ہے تو یہ یہاں بھی مشرک ہو چکا ہے اسکے بقول
👈👈👈👈پھر جاہل آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇👇
🚫اپنی ایک اور تصنیف میں تقی عثمانی صاحب تقلید مطلق کی تعریف ایسے کرتے ہیں: پھر اس تقلید کی بھی دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ کہ تقلید کے لئے کسی خاص امام و مجتہد کو معین نہ کیا جائے، بلکہ اگر ایک مسئلہ میں ایک عالم کا مسلک اختیار کیا گیا ہے تو دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی رائے قبول کرلی جائے اس کو ’’تقلید مطلق‘‘ یا ’’تقلید عام‘‘ یا ’’تقلید غیر شخصی‘‘ کہتے ہیں۔(تقلید کی شرعی حیثیت،صفحہ15)
پھر آگے چل تقی عثمانی دیوبندی تقلید شخصی کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: اور دوسری صورت یہ ہے کہ تقلید کے لئے کسی ایک مجتہد عالم کو اختیار کیا جائے، اور ہر مسئلہ میں اسی کا قول اختیار کیا جائے، اسے ’’تقلید شخصی‘‘ کہا جاتا ہے۔(تقلید کی شرعی حیثیت،صفحہ15)
👈👈👈👈👈الجواب ۔اس سے آگے مفتی صاحب نے قرآن سے دلائل دئے ہے اس سے اپکا کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا ہے
اور تقلید کی وہی تعر یف قابل قبو ل ہو گی جو تقلید کی غر ض و غایت کے مو افق و مطابق ہو مخالف نہ ہو
تقلید کی غر ض و غایت :۔قر آن و حد یث پر صحیح صحیح عمل کر نا اور جہاں تک ہو سکے قر آن و حد یث کا
حکم معلو م کر نے میں احتیا ط کر نا ۔اور اپنی رائے اور اپنے قیاس سے قر آن وحد یث کی تفسیر کر نے کی بجائے اسلاف کی تفسیر و تشریح حد یث پر عمل کر نا ۔اور کسی مدّعی (خود ساختہ مفسر و محد ث )کو اپنا امام نہ بنالے اس بار ے میں بہت زیادہ احتیاط اور اجتہاد کر نا ۔
غیر مقلدوں کی حالت عجیب ہے وہ تقلید فی الد رایت یعنی اماموں کی فقہ میں تقلید کو توتقلید کہتے ہیں اور اس پر فتنہ و فساد مچارکھا ہے باقی تقلید کو تقلید نہیں کہتے اور اس میں بری طر ح مبتلا ہیں یہ دھاند لی ہے
👈👈👈👈👈👈پھر آگے لکھتا ہے
👇👇👇👇
🚫 جیون حنفی لکھتے ہیں: اس بات پر اجماع ہے کہ صرف چار وں اماموں کی اتباع کی جائے گی۔(تفسیرات الاحمدی،صفحہ 566)
اس عبارت میں تقلید کے لئے صرف چار اماموں کا تعین و تخصیص ہی تقلید شخصی کی مثال ہے۔یاد رہے کہ ان چاروں میں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی کی تقلید آل تقلید کے ہاں ضروری اور واجب ہے ۔جیسے خلیل احمد سہانپوری لکھتے ہیں: اس زمانے میں نہایت ضروری ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید کی جائے بلکہ واجب ہے۔(المہند علی المفند،صفحہ38)
تقلید کی ہر دو اقسام کی تعریف کے تعین پر فریقین کے اتفاق سے یہ تفصیل سامنے آئی کہ ائمہ اربعہ میں سے صرف ایک امام کی تقلید، تقلید شخصی ہے اور ائمہ اربعہ یا ان کے علاوہ ائمہ میں سے کسی مخصوص امام کا تعین کئے بغیر بلادلیل جس سے جو چاہا مسئلہ لے لینا اور اس پر عمل کرنا تقلید مطلق ہے۔
👈👈👈👈👈الجواب ۔تقلید کو شرک کفر کہنےوالے نے اب تک بہت شرک اور کفر کر دیا ہے جبکہ اس میں اس جاہل کا زور صرف اس بات پر ہے کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں تقلید مطلق اور تقلید شخصی , اور یہ تقلید شخصی کو ناجائز جبکہ تقلید مطلق کو جائز سمجھتا ہہے اس کوئی دلیل نہیں دی گیئی صرف ہوائی فائرنگ کی ہے
اور یہ بھی بٹالوی کی تقلید میں اس پر نا کوئی قرآن میں آیت اور نا کو حدیث پیش کی ا ور جس تقلید کو حرام یا ناجائز شرک کہتا ہہے اس پر نا قرآن نا ہی حدیث پیش کیا بس جھوٹوں kکو گن مشین چلا رہا ہے ایسے بھی لوگ اس دنیا میں پائے بھی جاتے ہیں یا محض فرضی بات ہے ؟
👈👈👈👈👈پھر جاہلوں کا سردار آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫بۃ الأصول میں لکھا ہے:((وَالتَّقْلِیْدُ لَا یَجُوْزُ کُلُّہُ مُفْضٍ إِلَی الشِّرْکِ بَعْضُہُ)) [’’تقلید مکمل طور پر جائز نہیں بعض تقلید شرک کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘]مولانا محمد سرفراز خاں صفدر اپنی کتاب ’’ الکلام المفید ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’قارئین کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسئلہ تقلید کی نزاکت کے پیش نظر ٹھنڈے دل سے ساری کتاب کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کریں ، چند حوالوں کو یا کسی ایک ہی بحث کو پلے نہ باندھ لیں کیونکہ تقلید کی بعض قسمیں خالص شرک و بدعت او ر ناجائز ہیں ، ان کو جائز کہنے والا اور ان پر عامل کب فلاح پا سکتا ہے۔‘‘(ص:۲۰)
حیا ت لے کے چلو، کا ئینا ت لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو🚫
👈👈الجواب ۔
جس کی فطر ت بری ہے کر ے گا بر ا*
اور اس کے سو اکیا کر ے گا بھلا
جاہل بات کو سمجھتا ہی نہیں تقلید کی دو قسمیں ہے تقلید محمود اور تقلید مذموم جس کو مولانا محمد سرفراز صاحب برا کہا ہہے وہ ہم برا ہی مانتے ہے یعنی تقلید مذموم
👈👈👈👈👈👈پھر اگے لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کی بالا عبارت مقلدین تعصب اور بغض رکھنے والوں کے لئے نہایت پرکشش ہے اسی لئے اس مرغوب حوالے کو غالی مقلدین کی جانب سے تقلید کی اہمیت اور ترک تقلید کے نقصان میں بکثرت نقل کیا جاتا ہے
جیسے
01۔ پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی کی کتاب تجلیات صفدر،جلد اول کے صفحہ 615 پر
02۔ یوسف لدھیانوی دیوبندی کی کتاب اختلاف امت صراط مستقیم کے صفحہ 30پر
03۔ صوفی منقار شاہ دیوبندی کی کتاب وھابیوں کا مکر و فریب کے صفحہ 62 پر
04۔ ابو بلال جھنگوی کی کتاب تحفہ اہل حدیث کی ہر جلد کے آخری ٹائٹل پر
05۔ سیدفخر الدین احمد دیوبندی کی کتاب رفع یدین صحیح بخاری میں پیش کردہ دلائل کی روشنی میں کے صفحہ نمبر 5 پر
06۔ صوفی محمد اقبال قریشی دیوبندی کی کتاب ھدیہ اھلحدیث کے صفحہ 239 پر
07۔ مولانا محمد شفیع دیوبندی کی کتاب مجالس حکیم الامت کے صفحہ 242 پر
08۔ سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب الکلام المفیدفی اثابت التقلید کے صفحہ 183پر
09۔ محمد زید مظاہری ندوی دیوبندی کی کتاب اجتہاد و تقلید کا آخری فیصلہ کے صفحہ 104 پر
10۔ رشید احمد گنگوہی دیوبندی کی کتاب سبیل السدادمیں🚫
👈👈👈👈الجواب ۔دارالعلوم دیوبند کے موجودہ شیخ الحدیث مولانا سعید پالن پوری کا بھی موقف یہی ہے کہ موجودہ تقلید شخصی نہیں حکمی ہے۔ ہاں اس کو شروع سے ہی تقلید شخصی کہاگیاہے اس لئے یہی نام زیادہ مشہور ہوگیاہے۔
لیکن ظاہر سی بات ہے کہ لامشاحۃ فی الاصطلاح ۔اصلی چیز تو حقیقت ہے ۔ وہ ہمیں دیکھناہے کہ تقلید شخصی ہے یاتقلید حکمی ہے۔
👈👈👈👈پھر جاہل جی آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇
مندر جہ بالا تفصیل سے تقلید شخصی اور تقلید مطلق کا فرق واضح ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کی زیر بحث عبارت ابوحنیفہ کی اندھی تقلید کے دعویداروں کے سراسر خلاف جاتی ہے کیونکہ ان مقلدین کے ہاں مطلق تقلید حرام اور موجب گمراہی جبکہ تقلید شخصی واجب ہے۔ اب مخالفین کے اپنے مستند علماء کی عبارات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو بٹالوی مرحوم کی عبارت کو اپنے حق میں اور مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں وہ تقلید شخصی اور تقلید مطلق کو کیا حیثیت و اہمیت دیتے ہیں اور تقلید کی ان دو اقسام میں سے کون سی تقلید ان کے ہاں صحیح اور کونسی غلط بلکہ موسبب فتنہ و گمراہی ہے
👈👈👈👈👈الجواب ۔آپ کے بٹالوی کے اگر مان بھی لی جائے تو تقلیدشخصی کوترک کرنے کےنقصانات پیدا ہو گے :
ووجهه انه لو جاز اتباع أي مذهب شاء لا فضى إلى ان يلتقط رخص المذاهب متبعا هواه ويتخير بين التحليل والتحريم والوجوب والجواز وذلك يؤدى إلى انحلال ربقة التكليف بخلاف العصر الاول فانه لم تكن المذاهب الوافية بأحكام الحوادث مهذبة وعرفت: فعلى هذا يلزمه ان يجتهد في اختيار مذهب يقلده على التعيين.
(المجموع شرح المہذب ج1ص499،498 فصل۔ فی آداب المستفتی وصفتہ و احکامہ)
اب اگرتقلیدمطلق کادروازہ کھول دیاجائےاورلوگ مجتہدین کے ایسے ایسے مسائل تلاش کرکے ان کی تقلید شروع کردیں تو اس کانتیجہ بلاشبہ وہی ہوگاجسے علامہ نووی رحمہ اللہ نےشرعی احکام کی پابندیوں کے بالکل اٹھ جانےسے تعبیرکیاہے۔جیسے
یہ بات غلط ہے پہلے اگر چار مذہب تھے تو ائمہ اربعہ کے مذاہب کو چھوڑنے کے بعد چار سے بھی زیادہ مذہب بن جائیں گے اور مزید اختلافات آجائیں گے جن میں اصولی بھی ہوں گے۔
اب ذرہ ہم چند مثالیں غیرمقلدین کے گھر سے دیں گے کہ انہیں نے کیا لوٹایا ہے اللہ اور رسول کی طرف
🕵 ۱۔منی پاک یا نا پاک
مولوی ابو الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں”منی پاک ہے۔۔۔۔۔ اور کھانے کے متعلق دو قول ہیں“۔ (فقہ محمدیہ صفحہ 41)
حافظ زبیر علی زئی صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں ”ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ منی ناپاک ، پلید اور نجس ہے“۔(فتاویٰ علمیہ صفحہ 210)
غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب اپنے امام شوکانی صاحب غیرمقلد کے حوالے سے لکھتے ہیں ”یعنی صواب یہ ہے کہ منی نجس ہے“۔ اور اگے حاشیہ میں لکھتے ہیں”صحیح یہ ہے کہ منی نا پاک ہے“۔ (فتاویٰ نذیریہ جلد1 ص335)
🕵 ۲۔ رکوع میں ملنے سے رکعات ہو گی یا نہیں
حافظ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں ”جو شخص رکوع میں مل جائے اور وہ فاتحہ نہ پڑھ سکےتو اس کی وہ رکعات نہیں ہو گی“۔ (فتاویٰ علمیہ صفحہ 373)
جبکہ مفتی عبد الستار صاحب غیر مقلد رکوع میں ملنے والے مقتدی کو رکعت پانے والا شمار کرتے ہیں ۔ (فتاویٰ ستاریہ ج1 ص52)
🕵 ۳۔ ننگے سر نماز کا حکم
آج کل ہر ایک جاہل غیرمقلد نہ صرف ننگے سر نماز کا قائل ہے بلکہ اس طرح نماز پڑھنے کو سنت بھی سمجھتا ہے۔
جبکہ ان کے بڑے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں ” ننگے سر نماز کو سنت کہنا بلکل غلط ہے یہ فعل سنت سے ثابت نہیں“۔(فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص 523)
🕵 ۴۔ عصر کے بعد نفل پڑھنے کا مسئلہ
غیرمقلدین کے پروفیسر عبداللہ بہاولپوری صاحب لکھتے ہیں ”حضور ﷺ سے جو عصر کے بعد نفل پڑھنا ثابت ہے وہ آپ کا خاصہ ہے ‘ وہ ہمارے لیے نہیں“۔(رسائل بہاولپوری ص134)
جبکہ غیرمقلدین کے حافظ عبدالمنان نور پوری صاحب عصر کے بعد نفل پڑھنے پر پورا زور دے رہے ہیں۔ (مقالات نور پوری صفحہ 311)
🕵 ۵۔ آذان عثمانی
غیرمقلدین کے خطیب الہند مولوی جونا گھڑی صاحب لکھتے ہیں ”(یہ آذان) صریح بدعت ہے کسی طرح جائز نہیں“(العیاذ باللہ)۔(فتاویٰ علمائے حدیث ج2 ص 106)
غیرمقلدین کے شیخ السلام مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں ” یہ آذان سنت خلفاء ہے اس کو گمراہی اور ضلالت کہنا بالکل غلو ہے۔ جمہور صحابہ پر حملے کرنا اورر بڑی جرأت ہے“۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص435)
فرقہ اہلحدیث کے محدث العصر محب اللہ شاہ صاحب راشدی صاحب لکھتے ہیں:
ہمارے نزدیک آذان عثمانی پر صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے اور اجماع حجت ہے۔ (مقالات راشدیہ ج1 ص 271)
محب اللہ شاہ راشدی صاحب غیرمقلد نے نہ صرف آذان عثمانی کو حجت ثابت کیا ہے بلکہ اس پر کیئے جانے والے آج کل کے وکٹورینوں کے اعتراضات کے بھی جوابات دیئے ہیں۔ ملاحظہ ہو (مقالات راشدیہ ج 1 ص 248 تا 272)
🕵 ۶۔ جرابوں پر مسح
غیرمقلدین کے ایک شیخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد صاحب لکھتے ہیں ”جرابوں پر مسح جائز ہے“۔
(فتاویٰ اصحاب الحدیث ج1 ص 66)
غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب لکھتے ہیں”جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے“۔(فتاویٰ نذیریہ ج1 ص 327)
🕵 ۷۔ مال تجارت میں زکوۃ
فرقہ اہل حدیث کےشیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب جو کہ مرزئیوں کے پیچھے بھی نماز پڑھا کرتے تھے خود فرقہ اہل حدیث نے اس کا اقرار کیا ہے دیکھئے (فیصلہ مکہ) یہ ان کے شیخ صاحب
مال تجارت میں زکوۃ کو واجب کہتے ہیں۔ (فتاویٰ علمائے اہل حدیث ج7 ص84)
زبیر علی زئی صاحب مال تجارت پر زکوۃ فرض ہے کو اجماعی مسئلہ کہتے ہیں۔ (تحقیقی مقالات ج5 ص114)
اور اجماع سے نکلنے والے کو اللہ نے جہنمی قرار دیا ہے ۔(النسا ء 115)
دوسری طرف فرقہ اہل حدیث کے مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب فرماتے ہیں:
مال تجارت میں زکوۃ نہیں ۔(بدور الاہلہ ص 102)
گویا کہ نواب صدیق حسن خان اس فرقے کے مجدد جو کافی عرصے تک غیرمقلدیت کی وکالت کرتے رہے اور جو ان پر اعتماد کرتے رہے سب اجماع کے منکر بدعتی اور جہنمی تھے۔
🕵 ۸۔ قربانی تین دن یا چار دن
غیرمقلدین کے امام شوکانی صاحب لکھتے ہیں”چار دن قربانی والا موقف راجح ہے“ (نیل الاوطار جلد 5 صفحہ 149)
غیرمقلدین کے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں ”قول راجح یہ ہے کہ قربانی کے صرف 3 دن ہیں“۔ (علمی مقالات صفحہ 219)
(تبصرہ : اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں ائمہ اربعہؒ میں سے ہی کسی ایک کی تقلید کا پابند رہا جائے)
🕵 ۹۔ رکوع کے بعد ہاتھ کھلے چھوڑنے ہیں یا باندھنے ہیں
عبد المنان نورپوری صاحب ایک سوال
” کیا رکوع کے بعد ہاتھ دوبارہ باندھنے چاہیں“؟ کے جواب میں فرماتے ہیں ” نبیﷺ سے ثابت نہیں“۔ (قرآن و سنت کی روشنی میں احکام و مسائل ج 2 ص 238)
مگر اسی فرقے کے شیخ العرب والعجم بدیع الدین راشدی صاحب نے ”رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا“ نام کے رسالے کے علاوہ دس اور رسالے لکھے ہیں کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا سنت ہے۔
ان میں سے کسی بات صحیح ہے اور کسی غلط ؟کس کی تحقیق معتبر ہے اور کس کی غیر معتبر؟ بندہ ان میں کس پر اعتماد کرے؟ کیا قرآن حدیث اتنی مشکل ہے انکا یہ مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا ؟ صاف ظاہر ہے کہ عوام کو یہ لوگ فقہاء سے ہٹا کر قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کے بہانے صرف اپنے پیچھے لگاتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
🕵 ۱۰۔ گھوڑے کی قربانی
”ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی اہل حدیث نے گھوڑے کی قربانی کا فتویٰ نہیں دیا“ ۔ (تحفہ حنفیہ ص 303)
”گھوڑے کی قربانی بھی سنت ہے“۔ (فتاویٰ ستاریہ ج1 ص 146)
گائے اونٹ ،بھیڑ ،بکری ، اور گھوڑے کے علاوہ قربانی سنت اور ثابت نہیں ۔ (فتاویٰ علمائے حدیث ج 3 ص56)
یہ چند حوالے دئے ہے حوالے بے شمار ہے پوسٹ لمبی hہو رہی ہے iاس لئے بس کیا اب کس کس کی مانے گے مطلق کے قائل لوگ جاہل
یہ تمام باتیں کافی ہیں غیرمقلدین کا عمل بالحدیث اور صرف قرآن حدیث کے جھوٹے نعرے اور دعوے کی پول کھولنے کیلئے۔ اور یہ لوگ ائمہ اربعہؒ کی تقلید سے نکال کر صرف اپنے جاہل مولویوں کی تحقیق کے پیچھے لگاتے ہیں اور خود بھی اسی پر چلتے ہیں۔ اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں ائمہ اربعہؒ میں سے ہی کسی ایک کی تقلید کا پابند رہا جائے۔
غیرمقلد عوام کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ انکے علماء ائمہ اربعہؒ کی تقلید سے ہٹا کر کوئی اللہ رسول کی طرف نہیں لے جاتے بلکہ اپنی اپنی تحقیقی کے پیچھے آپ لوگوں کو چلا رہے ہیں۔
پھر آگے جاہلوں کا سردار لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫اب ہم تقلید شخصی کے حوالے سے دیوبند سے کچھ بیان کرتے ہیں
پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی تقلید شخصی کی ضرورت اور تقلید مطلق کے نقصان کی وضاحت میں رقم طراز ہیں: علماء نے تقلید شخصی کو واجب قرار دیا ہے کیونکہ اگر عامی آدمی کو اس کی اجازت دی جائے کہ اس کو اختیار ہے کہ کسی امام کے مذہب کو لے کر وہ اس پر عمل کر لے تو اس صورت میں رخصت اور آسانی تلاش کرے گا ۔اس کا دل چاہے گا تو ایک چیز کو حلال کہے گا اور کبھی خیال بدل گیا تو وہ اسی کو حرام کہے گا کیونکہ ائمہ اربعہ میں بعض احکام میں حلت و حرمت کا اختلاف ہے۔(تجلیات صفدر، جلد اول، صفحہ 655)
👈👈👈الجواب ۔یہی بات
مورخ اسلام علامہ ابن خلدون ؒ(المتوفی 808 ھ)لکھتے ہیں:
جب مرتبہ اجتہاد تک پہنچنا رک گیا اور اس کا بھی خطرہ تھا کہ اجتہاد نا اہلوں اور ان لوگوں کے قبضہ میں چلاجائےگا جن کی رائے اور دین پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا بڑے بڑے علماء نے اجتہاد سے عجز اور درماندگی کا اعلان کردیا اور لوگوں کو ان چاروں ائمہ کی تقلید پر لگادیا ہر شخص جس کی وہ تقلیدکرتاہے اس کے ساتھ رہے۔اور لوگوں کو اس سے خبردار کیا کہ وہ ائمہ کی تقلید بدل بدل کر نہ کریں یہ تو دین سے کھیلنا ہوجائے گا اس کے سواکوئی صورت ہی نہیں کہ انہی ائمہ اربعہ کے مذاہب آگے نقل کیے جائیں۔
(مقدمہ ابن خلدون باب 6 فصل 7 ص 448 مصر)
تو بھونگی ابن خلدون پر بھی کچھ زبان درازی کر دو یہاں زبان گلے میں اٹک جائے گی
👈پھر جاہل آگے لکھتا ہے
🚫اقتباس:
امین اوکاڑوی دیوبندی کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ مقلدین کے ہاں تقلید مطلق سراسر گمراہی ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی آل تقلید کی ستم ظریفی اوردھوکہ دہی ملاحظہ فرمائیں کہ بٹالوی رحمہ اللہ کی جو عبارت براہ راست خود ان کے تقلیدی مذہب کے خلاف تھی اسی عبارت کو کس دیدہ دلیری سے انہوں نے اپنے مخالفین یعنی تقلید نہ کرنے والوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے🚫
👈الجواب ۔صرف مولانا امین صفدر اکاڑوی علیہ رحمہ کی عبارت سے نہیں بلکہ ابن خلدون علیہ رحمہ کی عبارت سے بھی جو اوپر گزر گیی اور بھی دیگر حوالے ہے
اور بٹالوی کی ویسے کونسی بات قرآن حدیث کے بعینی ہے جاہل
اور تقلید شخصی کا ثبوت صرف ترے اس جاہل بٹالوی سے کسی نے نہیں ثابت کیا بلکہ
جناب رسول اللہ ﷺ جب تک موجود رہے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے مسائل کے حل کے لیے درِ رسول ﷺ پر حاضر ہوجاتے وہاں سے انہیں مسائل کا حل مل جاتا۔
وفات سے کچھ عرصہ قبل آپ علیہ السلام نے اپنی امت کو ارشاد فرمایا: ’’میں نہیں جانتا کہ میں کب تک تم میں زندہ رہوں گا۔لہٰذا (فاقتدوابالذین من بعدی ابی بکرو عمر) تم میرے بعد ابو بکر ؓاور عمرؓ کی اقتداء کرنا۔‘‘
(ترمذی۔ابنِ ماجہ۔مستدرک)
اس امر کی تعمیل میں لوگ آقا علیہ السلام کی رحلت شریفہ کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آنے لگے۔جب کہ صحابہؓ کرام میں اجلہ صحابہ ؓ کی ایک معتد بہ تعداد منصب اجتہاد کو پہنچی ہوئی تھی جنہیں آقا علیہ السلام کے علم کا وافر حصہ ازبر تھا وہ لوگوں کو نئے پیش آمدہ مسائل کا حل بتایا کرتے تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب شریعت کے تمام مسائل مدون اور مرتب نہیں ہوئے تھے اس لیے کسی ایک عالم کی اتباع کا اس درجے اہتمام نہیں تھاکہ اس کے سوا دوسرے عالم سے رجوع جائز نہ ہو، بلکہ لوگ کسی ایک عالم سے رجوع کرتے تو کبھی دوسرے سے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی عالم کے تقویٰ ، تبحرِ علمی اوراس پر اعتمادِ خاص کی وجہ سے لوگ اسی سے ہی تمام یا اکثر مسائل میں رجوع کرتے ، اس کے ہوتے ہوئے دوسرے سے رجوع مناسب نہ سمجھتے۔ اور اس سے اس مسئلے کی دلیل بھی طلب نہیں کرتے تھے بس تقویٰ اور تبحرِ علمی پر ہی اعتماد کرتےتھے اور یہی اصطلاح میں تقلید کامطلب ہےکہ ’’مجتہد کے قول پر بغیر مطالبۂ دلیل عمل کرنا اس حسنِ ظن کے ساتھ کہ وہ قرآن و سنت سے ماخوذ اور مطابق ہے۔
اس نوعیت کی ایک روایت امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے’’اہلِ مدینہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کیا کہ ’’کیا جب عورت حیض میں مبتلا ہوجائے تو اس کے لیے طواف زیارت کے بعد طواف ِ وداع چھوڑ کر اپنے وطن جانا جائز ہے؟‘‘جواب میں سیدنا ابن ِ عباس ؓ نے جواز کا قول فرمایا جس پر لوگ کہنے لگے ہم آپ کی بات لے کر سیدنا زید ؓ کی بات نہیں چھوڑ سکتے کیوں کہ وہ فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے طوافِ وداع چھوڑ کروطن جانا جائز نہیں۔اس کی وجہ حضرت زید رضی اللہ عنہ پر ان کا زیادہ اعتماد تھاتبھی سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے فتوے پر توجہ نہ دی پھر جب سیدنا زید ؓ تک حدیثِ صفیہ ؓ پہنچی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا۔یہ اس بات کی مثال تھی کہ لوگ اپنے اعتماد والے عالم پر دیگر علماء کی نسبت زیادہ رجوع کرتے تھےاور اس کے فتاویٰ کو دوسرے علماء کے فتاویٰ پر ترجیح دیتے تھے۔
یہ سب اس وقت تھا جب مذاہب مدون نہ تھے۔ ان کے اصول وضع نہیں ہوئے تھے۔اس لیے لوگ کسی خاص فقہ کے پابند بھی نہ تھے۔بس بعض تو مختلف علماء سے جہاں موقع ملتا رجوع کرلیا کرتے اور بعض اپنے معتمد علیہ فقیہ کے فتاویٰ پر انحصار کرتے۔خیرالقرون کے زمانے میں فقہاء مجتہدین کی کمی نہ تھی، وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے جو بلادِ اسلامیہ میں پھیلے ہوئے تھے۔لیکن جو مقبولیت اللہ کی طرف سے فقہائے اربعہ امام ابوحنیفہ ،امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کو حاصل ہوئی وہ کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
سب سے پہلے جدید پیش آمدہ مسائل کی تدوین کی طرف سیدنا ابوحنیفہ رحمہ اللہ متوجہ ہوئے انہوں نے باقاعدہ قرآن و سنت میں غور و خوض کر کے فقہ کے اصول مرتب فرمائےاور یوں سلسلہ چل نکلا اور وقت گزرنے کے ساتھ چار فقہ متعارف ہوگئیں جنہیں لوگوں میں قبولیتِ تامہ حاصل ہوئی۔جب کہ باقی فقہاء کو وہ مقام اور مقبولیت نصیب نہ ہوسکی یہاں تک کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا یاکہیں کسی کتاب میں ان فقہاء کا کوئی ایک آدھ قول مل جاتا ہے۔جب کہ مدون اور مرتب صورت میں ان چار فقہوں کو شہرت حاصل ہوگئی۔ جن کا ماخذ صرف اور صرف قرآن و سنت تھا نہ کہ خواہشاتِ و ہوائے نفس کی اتباع ، جن سے یہ فقہاء ماوراء تھے۔فقہائے اربعہ اور ان کے متبعین اہلِ علم نے اس میں انسانی زندگی سے متعلق تمام گوشوں سے متعلق مسائل حل فرما کر امت سے استنباط و استخراج کا بوجھ اتار دیا اور صحیح منہج امت کو دے گئے۔
یہ چاروں فقہ عالمِ اسلام میں رائج ہوگئیں۔ ان کے مرتب اور مدون ہونے کے بعد انتظامی طور پر لوگ کسی ایک فقہ جن پر ان کا اعتماد تھا عمل پیرا ہوگئے اور اپنی زندگی میں پیش آمدہ تمام مسائل کے حل کے لیے اس فقہ کے ماہر علماء سے رجوع کرنے لگے۔عالم اسلام کے تمام اہل علم کا ان مذاہبِ اربعہ کی حقانیت پر اجماع ہوگیا۔ در اصل یہی اہل السنت والجماعت کا اصلی مصداق ہیں جن سے روگردانی کرنا نجات یافتہ طبقےاہل السنت والجماعت سے باہر ہونا ہے۔
ان میں واقع ہونے والا آپس میں فقہی اختلاف در اصل احادیث مبارکہ اور اقوال و اعمال صحابہؓ کے اختلاف کی وجہ سے رونما ہوا۔ ہر فقیہ نے دلائل کی بنیاد پر ایک جانب کو راجح قرار دے کر دوسری جانب کو مرجوح قرار دیا۔ ان میں سے کسی کو بھی قرآن و سنت کی مخالفت کرنے اور خواہشات پر عمل کرنے والا نہیں کہا جاسکتا۔ جسے بنیاد بنا کر یار لوگوں نے ان چاروں فقہ کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اسے قرآن و سنت سے مخالف اور گمراہی کا موجب بنا کرپیش کیا (معاذاللہ) اور تقلید کے خلاف مکمل محاذ آرائی قائم کرلی اور امت کے متواتر و متوارث طریقے کے خلاف ایک الگ راہ اختیار کرکے خود کو مجتہد سمجھنے لگے۔یاد رکھیے کہ غیر مجتہد پر چاروں فقہ میں سے کسی ایک فقہ کی تقلید لازم ہے اور یہ لزوم و وجوب کسی شرعی و قطعی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ انتظامی طور پر ہے جیسا کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’سوہم تقلیدِ شخصی کو فی نفسہٖ فرض یا واجب نہیں کہتے ، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ تقلید شخصی میں دین کا انتظام ہے اور ترکِ تقلید میں بے انتظامی ہے۔‘‘(خطبات حکیم الامت ؒ: ج:۶ ص: ۱۷۲ )
چنانچہ صحیح مسلم کے عظیم شارح علامہ نووی ؒ نے اپنی کتاب ’’ المجموع شرح المہذب ، مقدمہ ، فصل فی آداب المستفتی ( ۱؍ ۵۵ ) ‘‘ میں لکھا ہےکہ ’’ اگر لوگوں کے لیے اپنی چاہت کے مذاہب پر عمل کو جائز قرار دیا جائے تو اس سے یہ خرابی پیدا ہوگی کہ وہ ان مذاہب اربعہ کے رخصت اور آسانی والی مسائل کو چن کر عمل کرنے لگیں گے جو کہ خواہشات کی اتباع ہے نہ کہ شریعت کی۔ ‘‘
اسی وجہ سے علمائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں’’ غیر مجتہد کے لیے ان چار مذاہبِ فقہیہ میں سے ایک کی تقلیداس طور پر واجب ہے کہ اس کے سوا پھر دوسرےمذہب کی تقلید نہ کرے۔‘‘ اور یہ وجوب انتظاما ہے۔اللہ تعالی خواہشات کی اتباع سے محفوظ فرما کر اپنے دین کی اتباع کرنے کی اور امت کے سوادِ اعظم کے ساتھ چمٹے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
نوٹ ۔ اسکے عنوان کے تحت یہ بھی مشرک ثابت ہوا وہ اس لئے تقلید چاہے مطلق ہو یا شخصی
حکم ایک ہی ہے اسکے بقول یہ مطلق کا قائل ہے اس لئے یہ بھی مشرک 😂
اللّه تعالیٰ ان جیسے جاہلوں احمقوں اور جھوٹے کزانوں سے امت کی حفاظت کرے
آمین
بسم اللّه الرحمٰن الرحیم
یہ جھمی نام نہاد جاہل احمق لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے
اسکی اب حالت خراب ہو چکی ہے اب بچارے کی عزت تو کچھ بچی نہیں ہے میری پوسٹ کا جواب دینے سے قاصر رہا ہے یہ جھمی جاہل احمق
پوسٹ کی لنک جسکا جواب اس بےشرم سے بن نہیں پایا
اسکی اچھی خاصی چھترول کے لئے اس لنک پر کلک کرے
👇👇👇👇
https://aalimuqamhaideobandwale.blogspot.com/2020/04/blog-post_20.html
کھسیانی بلّی کھمبا نو چے کے مصداق علمائے غیر مقلدین نفس مسئلہ میں زیادہ دیر بحث نہیں کر سکتے تو اپنی جان بچانے کے لئے اِدھر اُدھر کی بکواس شروع کر دیتے ہیں ۔
اب بیچارہ کہاں کہاں بھاگ جاتا ہے میری پوسٹ کی کراس دے کر اسکی پہلی لائن کا جواب بھی نہیں دیا عجیب قسم کی جہالت ہے
اب یہ جہمی احمق بھاگ گیا ہے مسلہ تقلید پر لگتا ہے پچھلی چھترول کے بعد اس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے میری پوسٹ کو کس لئے کراس دیا اس جاہل نے سمجھ نہیں آیا نا اسکا جوا ب لکھا نا کچھ تو کراس کیوں 🤔🤔
غیرمقلدین کے ایک مولوی ڈاکٹر بہاوالدین صاحب نے ایک بات لکھی ہے آج غیرمقلد پر پوری فٹ آتی ہے ” ہاں بعض عوام کالانعام گروہ اہل حدیث میں ایسے بھی ہیں جو اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ ان کو لامذہب بد مذہب ضال منصل جو کچھ کہو زیبا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں۔ کسی سے کوئی حدیث سن کر یا کسی اردو مترجم کتاب میں دیکھ کر نہ صرف اس کے ظاہری معنی کے موافق عمل کرنے پر صبر و اکتفا کرتے ہیں۔ بلکہ اس میں اپنی خواہش نفس کے موافق استنباط و اجتہاد بھی شروع کر دیتے ہیں۔ جس میں وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ (تاریخ اہل حدیث ص164)
اس پر بھی اسکی ایسی چھترول کر دی جائے گی اسکی نسلیں بھی یاد کرے گی
اس جاہل احمق نے عنوان قائم کیا ہے
👈تقلید شرک اور مقلد مشرک کیوں !
اس عنوان کو ثابت کرنے میں اس کو چاہے تھا قرآن حدیث پیش کرے لیکن انکا لولا لنگڑا فرقہ قرآن حدیث سے خالی ہے بس لہٰذا صرف دو چار بھونگی مار دی گیی اس کی پوسٹ میں اور کہا یہ لو بھونگی والا جواب چپکا دیا اسکی پوسٹ کا جائزہ پوانٹ ٹو پوانٹ لیا جائے گا ان شاء اللّه
👈پھر یہ جاہلوں کا سردار لکھتا ہے
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
🚫تقلید چار اقسام کی ہیں:
’تقلید مطلق‘‘ یعنی عام
تقلید شخصی یعنی ایک ہی عالم کی بات پر ہمیشہ عمل کرے
ایک ہی عالم کی بات کا ماننا وجوب شرعی سمجے
چہارم اس عالم یا مجتہد کے فتوے کے مقابلے قرآن و حدیث کی نصوص کو چھوڑ دے
تقلید مطلق سے مراد یہ ہے کہ مسائل و احکام کی تحقیق میں انسان کسی ایک فقیہ کا پابند ہوکر نہ رہ جائے؛ بلکہ مختلف مسائل میں مختلف اصحاب علم سے فائدہ اٹھائے یعنی کسی خاص مکتبہ فکر کی قید سے بالاتر ہوکر۔
اسی تقلید مطلق کے بارے میں مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے فرمایا: پچیس برس کے تجربہ سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور تقلید مطلق کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو ہی سلام کر بیٹھتے ہیں۔(اشاعۃ السنۃ،صفحہ 88، جلد 11)
👈👈👈الجواب . جناب احمق جاہل جی نے یہاں تقلید کی چار قسم بتلا دی اور پھر کہا انکا بٹالوی صاحب تقلید مطلق کا قائل تھا اور انکا حوالہ بھی نقل کیا
تو جاہل جی جو اپنے تقلید مطلق کی تعریف لکھی ہے پھلے اسکو قرآن حدیث سے ثابت کرو کیوں کہ آپ کے وہاں امتی کے قول حجت نہیں
اور اپنے بقول آپ اور آپ کے بٹالوی صاحب تقلید مطلق کے قائل ہے یہ تقلید مطلق اپنے کس آیت یا کس حدیث سے ثابت کی ہے اسکا حوالہ عنایات کرے
اب آپ تقلید مطلق کے قائل ہے اس لئے حوالہ نقل کیا تو آپ کے فرقے میں مجتہد مطلق کون کون ہے انکا نام درج کرے بقول بٹالوی صاحب کے جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور تقلید مطلق کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو ہی سلام کر بیٹھتے ہیں تو آپ ثابت کرے آپ اس چیز کو اپکا فرقہ اس تقلید مطلق کو مانتا ہے حوالاجات پیش کرے
👈پھر جاہلوں کا سردار آگے لکھتا ہے
👇👇👇👇👇👇
🚫مولانا کا یہاں تقلید مطلق کے حوالے سے جو موقف ہے وہ یہ کے اب ہر عام شخص خود سے اجتہاد استنباد یا استدلال تو نہیں کرسکتا سو لہاذا اگر ایسا شخص کسی مسلئہ میں رہنمائی کے لئے کسی عالم دین کی طرف رجوع کرتا ہے تو یہ تقلید مطق ہے جو کے درحقیقت اتباع ہی ہے۔
👈👈👈👈الجواب ۔ تو جو تعریف اپنی تقلید مطلق کی لکھی ہے اس کو کس آیت کس حدیث سے نکلا گیا ہے اسکا حوالہ دیا جائے اور تو اور تقلید کی تعریف یہی ہے
بنیادی بات یہ ہے کہ ائمہ کرام نے جس تقلید کی مذمت کی ہے وہ تقلید مذموم ہے۔
تقلید شخصی کیاہے کسی ایک شخص کی ہریر بات کو مانناخواہ وہ صحیح کہے یاغلط ۔ اس کی علماء نے عمومی طورپر مذمت کی ہے۔
لیکن کیافی الواقع جو تقلید رائج ہے وہ تقلید شخصی ہے۔
یہ تقلید شخصی ہے ہی نہیں یہ تقلید حکمی ہے یعنی ایک مکتب فکر کی تقلید ۔ اس میں کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ دلائل کے لحاظ سے مکتب فکر سے وابستہ افراد کی تقلید کی جاتی ہے۔
کسی ایک مکتبہ فکر کی پیروی شعروادب فلسفہ اوردنیا کے تمام علوم میں رائج ہے۔ ہرشخص کسی نہ کسی ایک مکتبہ فکر سے تعلق رکھتاہے۔
تواگردنیا کے کچھ لوگ فقہیات میں کسی ایک مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں تواس کو شرک کہناکیسے درست ہوگا!
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تقلید جو رائج ہے وہ تقلید عام یعنی مطلق اورتقلید شخصی کے درمیان ایک معتدل شاہراہ ہے۔
نہ تقلید عام جیسی وسعت کہ پوری دنیا میں جس کی رائے موافق ہو اختیار کرلو
اورنہ تقلید شخصی جیسی تنگی کہ صرف ایک شخص کی تمام آراء کے سامنے فکر ونظر کو سپرد کرو
یہ ان دونوں کے درمیان ایک معتدل راہ ہے اوراسی میں انشاء اللہ خیرہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل علم کیلئے اجتہاد فی المسائل کو کبھی برانہیں سمجھاگیابشرطیکہ وہ اس کے اہل ہوں
شاہ ولی اللہ نے بہت سارے مسائل میں احناف سے ہٹ کر اپنی رائے رکھی اس کو کوبھی کسی دیوبندی عالم نے برانہیں سمجھا
اسی طرح ان کے اخلاف واحفاد میں امام ابوحنیفہ سے ہٹ کر الگ رائے رکھنے والے تھے لیکن اس پر نکیر نہیں ہوئی
اصل چیز جوبنائے اختلاف ہے وہ یہ کہ ہرعام وخاص کو ترک تقلید کی دعوت دی جائے
حالانکہ تقلید توایسی چیز ہے کہ بسااوقات مجتہدین کو بھی اس سے مفر نہیں ہوتا امام شافعی کہتے ہیں کہ قلت ھذا تقلیدا لعطاء بن ابی رباح کہ میں نے اس مسئلے میں ایساجوکہاہے تو وہ عطاء بن ابی رباح کی تقلید میں کہاہے
چو نکہ ا غیر مقلدین عرف اہل حدیث ہر بات قر آن وحد یث سے کہنے اور سب آیتو ں اور سب
حد یثوں پر عمل کر نے کے دعوید ار ہیں ۔لہٰذ اہم کسی غیر مقلّد سلفی اثر ی وغیرہ کاقو ل بھی پیش کر یں گے تو اس کو قر آن وحدیث ہو نے کی بنا پر غیر مقلّد ین سر جھکا کر قبو ل کر یں گے ۔اور اپنی جماعت کے کسی فر د عالم وغیر عالم کی بات پر سر جھکا نے کی بجائے رد اور انکار کر یں گے تو سمجھا جائے گا کہ قرآن وحد یث کاانکار کیا ۔اورقر آن وحد یث کاانکار کر نے والا بدعتی فاسق وفاجر اور جہنمی ہو تاہے
👈👈👈👈پھر جاہلوں کا سردار اجھل آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇👇
🚫یاد رہیں برصغیر کے مقلدین اس تقلید مطلق کو لوگوں کے سامنے بیان کرکے دھوکا دیکر تقلید شخصی کی جال میں پھنساتے ہیں اور دھوکا دیتے ہیں کے دیکھوں تقلید کو علماء نے جائز کہا ہے 🚫
👈👈👈👈الجواب ۔تقلید کے مسئلہ میں جب جان گلے میں اٹکتی ہے تو تقلید کی تعریف میں کیڑیے نکالنے لگتے ہیں ۔اوپر اس جاہل نے تقلید مطلق کو اتبا ع لکھا بلا دلیل یعنی یہ اس پوسٹ میں اتنی تقلید کر گیا حد نہیں ہے
غیر مقلد ین حقیقت میں نہ تقلید کر تے ہیں نہ اتباع کر تے ہیں ۔مگر بعض لو گ ان میں سے اتباع کر نے کے مد عی ہیں لہٰذ ا’’اتباع ‘‘ کی حقیقت قر آن و حد یث کی روشنی میں واضح کی جائے گی تقلید اور اتباع کے درمیان وہ فر ق کر تے ہیں ان کے مزعو مہ اور مو ہو مہ فرق کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا ۔تہذ یب و اخلاق ۔شر م و حیا اور دین وایمان کو کس کس طر ح انھو ں نے شر مند ہ کیا ہے ۔
قر آن کے ترجمہ و تفسیر میں جس قدربے ایمانی ان کے علماء کر تے ہیں اس کے بھی نمو نے آپ دیکھیں گے ۔مقلد علماء وائمہ کی کتابو ں میں تقلید کی تعر یفیں درج ہیں وہ ان کے غلط معنی ومطلب بیان کر تے ہیں ۔ان کا ٹھیک ٹھیک حساب لیا جائے گا ۔اللہ حسن تو فیق عطا کر ے۔
👈👈👈پھر جاہلوں کے سردار نے آگے لکھا ہہے 👇👇👇
🚫علماء کرام نے جس تقلید کو جائز کہا ہے وہ درحیقت یہی تقلید مطلق ہے جس کے دیوبندی مقلد منکر ہیں اور تقلید شخصی کے قائل
👈👈👈👈الجواب ۔جھوٹوں پر اللہ کی لعنت
دیکھنایہ ہے کہ فی الواقع دلائل کے لحاظ سے جوتقلید رائج ہے وہ تقلید شخصی ہے یاتقلید حکمی
👈👈👈👈پھر جاہل میاں نے بہت بھونگی مار ڈالی کیا جہالت ہے لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫تقلید مطلق کے بارے میں اکابرین دیوبند کیا فرماتے ہیں اور اس کے بعد ہم علماء دیوبند سے ہی تقلید مطلق کا انکار اور تقلید شخصی کا قائل ہونا ثابت کرتے ہیں
تقلید مطلق کی تعریف تقی عثمانی دیوبندی کی اس وضاحت سے بخوبی ہوتی ہے: ابتداء میں صرف تقلید مطلق ہی تھی جو کوئی جس کی چاہتا تقلید کر لیتا تھا۔(درس ترمذی، جلد اول، صفحہ 121)
👈👈👈👈الجواب ۔ پہلی بات اس جاہل نے یہاں بھی مفتی تقی عثمانی صاحب kکی تقلید کی ہے یعنی انسے ادار مانگ کر تقلید مطلق کی تعریف لکھی ہے تو یہ یہاں بھی مشرک ہو چکا ہے اسکے بقول
👈👈👈👈پھر جاہل آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇👇
🚫اپنی ایک اور تصنیف میں تقی عثمانی صاحب تقلید مطلق کی تعریف ایسے کرتے ہیں: پھر اس تقلید کی بھی دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ کہ تقلید کے لئے کسی خاص امام و مجتہد کو معین نہ کیا جائے، بلکہ اگر ایک مسئلہ میں ایک عالم کا مسلک اختیار کیا گیا ہے تو دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی رائے قبول کرلی جائے اس کو ’’تقلید مطلق‘‘ یا ’’تقلید عام‘‘ یا ’’تقلید غیر شخصی‘‘ کہتے ہیں۔(تقلید کی شرعی حیثیت،صفحہ15)
پھر آگے چل تقی عثمانی دیوبندی تقلید شخصی کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: اور دوسری صورت یہ ہے کہ تقلید کے لئے کسی ایک مجتہد عالم کو اختیار کیا جائے، اور ہر مسئلہ میں اسی کا قول اختیار کیا جائے، اسے ’’تقلید شخصی‘‘ کہا جاتا ہے۔(تقلید کی شرعی حیثیت،صفحہ15)
👈👈👈👈👈الجواب ۔اس سے آگے مفتی صاحب نے قرآن سے دلائل دئے ہے اس سے اپکا کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا ہے
اور تقلید کی وہی تعر یف قابل قبو ل ہو گی جو تقلید کی غر ض و غایت کے مو افق و مطابق ہو مخالف نہ ہو
تقلید کی غر ض و غایت :۔قر آن و حد یث پر صحیح صحیح عمل کر نا اور جہاں تک ہو سکے قر آن و حد یث کا
حکم معلو م کر نے میں احتیا ط کر نا ۔اور اپنی رائے اور اپنے قیاس سے قر آن وحد یث کی تفسیر کر نے کی بجائے اسلاف کی تفسیر و تشریح حد یث پر عمل کر نا ۔اور کسی مدّعی (خود ساختہ مفسر و محد ث )کو اپنا امام نہ بنالے اس بار ے میں بہت زیادہ احتیاط اور اجتہاد کر نا ۔
غیر مقلدوں کی حالت عجیب ہے وہ تقلید فی الد رایت یعنی اماموں کی فقہ میں تقلید کو توتقلید کہتے ہیں اور اس پر فتنہ و فساد مچارکھا ہے باقی تقلید کو تقلید نہیں کہتے اور اس میں بری طر ح مبتلا ہیں یہ دھاند لی ہے
👈👈👈👈👈👈پھر آگے لکھتا ہے
👇👇👇👇
🚫 جیون حنفی لکھتے ہیں: اس بات پر اجماع ہے کہ صرف چار وں اماموں کی اتباع کی جائے گی۔(تفسیرات الاحمدی،صفحہ 566)
اس عبارت میں تقلید کے لئے صرف چار اماموں کا تعین و تخصیص ہی تقلید شخصی کی مثال ہے۔یاد رہے کہ ان چاروں میں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی کی تقلید آل تقلید کے ہاں ضروری اور واجب ہے ۔جیسے خلیل احمد سہانپوری لکھتے ہیں: اس زمانے میں نہایت ضروری ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید کی جائے بلکہ واجب ہے۔(المہند علی المفند،صفحہ38)
تقلید کی ہر دو اقسام کی تعریف کے تعین پر فریقین کے اتفاق سے یہ تفصیل سامنے آئی کہ ائمہ اربعہ میں سے صرف ایک امام کی تقلید، تقلید شخصی ہے اور ائمہ اربعہ یا ان کے علاوہ ائمہ میں سے کسی مخصوص امام کا تعین کئے بغیر بلادلیل جس سے جو چاہا مسئلہ لے لینا اور اس پر عمل کرنا تقلید مطلق ہے۔
👈👈👈👈👈الجواب ۔تقلید کو شرک کفر کہنےوالے نے اب تک بہت شرک اور کفر کر دیا ہے جبکہ اس میں اس جاہل کا زور صرف اس بات پر ہے کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں تقلید مطلق اور تقلید شخصی , اور یہ تقلید شخصی کو ناجائز جبکہ تقلید مطلق کو جائز سمجھتا ہہے اس کوئی دلیل نہیں دی گیئی صرف ہوائی فائرنگ کی ہے
اور یہ بھی بٹالوی کی تقلید میں اس پر نا کوئی قرآن میں آیت اور نا کو حدیث پیش کی ا ور جس تقلید کو حرام یا ناجائز شرک کہتا ہہے اس پر نا قرآن نا ہی حدیث پیش کیا بس جھوٹوں kکو گن مشین چلا رہا ہے ایسے بھی لوگ اس دنیا میں پائے بھی جاتے ہیں یا محض فرضی بات ہے ؟
👈👈👈👈👈پھر جاہلوں کا سردار آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫بۃ الأصول میں لکھا ہے:((وَالتَّقْلِیْدُ لَا یَجُوْزُ کُلُّہُ مُفْضٍ إِلَی الشِّرْکِ بَعْضُہُ)) [’’تقلید مکمل طور پر جائز نہیں بعض تقلید شرک کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘]مولانا محمد سرفراز خاں صفدر اپنی کتاب ’’ الکلام المفید ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’قارئین کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسئلہ تقلید کی نزاکت کے پیش نظر ٹھنڈے دل سے ساری کتاب کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کریں ، چند حوالوں کو یا کسی ایک ہی بحث کو پلے نہ باندھ لیں کیونکہ تقلید کی بعض قسمیں خالص شرک و بدعت او ر ناجائز ہیں ، ان کو جائز کہنے والا اور ان پر عامل کب فلاح پا سکتا ہے۔‘‘(ص:۲۰)
حیا ت لے کے چلو، کا ئینا ت لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو🚫
👈👈الجواب ۔
جس کی فطر ت بری ہے کر ے گا بر ا*
اور اس کے سو اکیا کر ے گا بھلا
جاہل بات کو سمجھتا ہی نہیں تقلید کی دو قسمیں ہے تقلید محمود اور تقلید مذموم جس کو مولانا محمد سرفراز صاحب برا کہا ہہے وہ ہم برا ہی مانتے ہے یعنی تقلید مذموم
👈👈👈👈👈👈پھر اگے لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کی بالا عبارت مقلدین تعصب اور بغض رکھنے والوں کے لئے نہایت پرکشش ہے اسی لئے اس مرغوب حوالے کو غالی مقلدین کی جانب سے تقلید کی اہمیت اور ترک تقلید کے نقصان میں بکثرت نقل کیا جاتا ہے
جیسے
01۔ پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی کی کتاب تجلیات صفدر،جلد اول کے صفحہ 615 پر
02۔ یوسف لدھیانوی دیوبندی کی کتاب اختلاف امت صراط مستقیم کے صفحہ 30پر
03۔ صوفی منقار شاہ دیوبندی کی کتاب وھابیوں کا مکر و فریب کے صفحہ 62 پر
04۔ ابو بلال جھنگوی کی کتاب تحفہ اہل حدیث کی ہر جلد کے آخری ٹائٹل پر
05۔ سیدفخر الدین احمد دیوبندی کی کتاب رفع یدین صحیح بخاری میں پیش کردہ دلائل کی روشنی میں کے صفحہ نمبر 5 پر
06۔ صوفی محمد اقبال قریشی دیوبندی کی کتاب ھدیہ اھلحدیث کے صفحہ 239 پر
07۔ مولانا محمد شفیع دیوبندی کی کتاب مجالس حکیم الامت کے صفحہ 242 پر
08۔ سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب الکلام المفیدفی اثابت التقلید کے صفحہ 183پر
09۔ محمد زید مظاہری ندوی دیوبندی کی کتاب اجتہاد و تقلید کا آخری فیصلہ کے صفحہ 104 پر
10۔ رشید احمد گنگوہی دیوبندی کی کتاب سبیل السدادمیں🚫
👈👈👈👈الجواب ۔دارالعلوم دیوبند کے موجودہ شیخ الحدیث مولانا سعید پالن پوری کا بھی موقف یہی ہے کہ موجودہ تقلید شخصی نہیں حکمی ہے۔ ہاں اس کو شروع سے ہی تقلید شخصی کہاگیاہے اس لئے یہی نام زیادہ مشہور ہوگیاہے۔
لیکن ظاہر سی بات ہے کہ لامشاحۃ فی الاصطلاح ۔اصلی چیز تو حقیقت ہے ۔ وہ ہمیں دیکھناہے کہ تقلید شخصی ہے یاتقلید حکمی ہے۔
👈👈👈👈پھر جاہل جی آگے لکھتا ہے 👇👇👇👇
مندر جہ بالا تفصیل سے تقلید شخصی اور تقلید مطلق کا فرق واضح ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کی زیر بحث عبارت ابوحنیفہ کی اندھی تقلید کے دعویداروں کے سراسر خلاف جاتی ہے کیونکہ ان مقلدین کے ہاں مطلق تقلید حرام اور موجب گمراہی جبکہ تقلید شخصی واجب ہے۔ اب مخالفین کے اپنے مستند علماء کی عبارات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو بٹالوی مرحوم کی عبارت کو اپنے حق میں اور مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں وہ تقلید شخصی اور تقلید مطلق کو کیا حیثیت و اہمیت دیتے ہیں اور تقلید کی ان دو اقسام میں سے کون سی تقلید ان کے ہاں صحیح اور کونسی غلط بلکہ موسبب فتنہ و گمراہی ہے
👈👈👈👈👈الجواب ۔آپ کے بٹالوی کے اگر مان بھی لی جائے تو تقلیدشخصی کوترک کرنے کےنقصانات پیدا ہو گے :
ووجهه انه لو جاز اتباع أي مذهب شاء لا فضى إلى ان يلتقط رخص المذاهب متبعا هواه ويتخير بين التحليل والتحريم والوجوب والجواز وذلك يؤدى إلى انحلال ربقة التكليف بخلاف العصر الاول فانه لم تكن المذاهب الوافية بأحكام الحوادث مهذبة وعرفت: فعلى هذا يلزمه ان يجتهد في اختيار مذهب يقلده على التعيين.
(المجموع شرح المہذب ج1ص499،498 فصل۔ فی آداب المستفتی وصفتہ و احکامہ)
اب اگرتقلیدمطلق کادروازہ کھول دیاجائےاورلوگ مجتہدین کے ایسے ایسے مسائل تلاش کرکے ان کی تقلید شروع کردیں تو اس کانتیجہ بلاشبہ وہی ہوگاجسے علامہ نووی رحمہ اللہ نےشرعی احکام کی پابندیوں کے بالکل اٹھ جانےسے تعبیرکیاہے۔جیسے
یہ بات غلط ہے پہلے اگر چار مذہب تھے تو ائمہ اربعہ کے مذاہب کو چھوڑنے کے بعد چار سے بھی زیادہ مذہب بن جائیں گے اور مزید اختلافات آجائیں گے جن میں اصولی بھی ہوں گے۔
اب ذرہ ہم چند مثالیں غیرمقلدین کے گھر سے دیں گے کہ انہیں نے کیا لوٹایا ہے اللہ اور رسول کی طرف
🕵 ۱۔منی پاک یا نا پاک
مولوی ابو الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں”منی پاک ہے۔۔۔۔۔ اور کھانے کے متعلق دو قول ہیں“۔ (فقہ محمدیہ صفحہ 41)
حافظ زبیر علی زئی صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں ”ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ منی ناپاک ، پلید اور نجس ہے“۔(فتاویٰ علمیہ صفحہ 210)
غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب اپنے امام شوکانی صاحب غیرمقلد کے حوالے سے لکھتے ہیں ”یعنی صواب یہ ہے کہ منی نجس ہے“۔ اور اگے حاشیہ میں لکھتے ہیں”صحیح یہ ہے کہ منی نا پاک ہے“۔ (فتاویٰ نذیریہ جلد1 ص335)
🕵 ۲۔ رکوع میں ملنے سے رکعات ہو گی یا نہیں
حافظ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں ”جو شخص رکوع میں مل جائے اور وہ فاتحہ نہ پڑھ سکےتو اس کی وہ رکعات نہیں ہو گی“۔ (فتاویٰ علمیہ صفحہ 373)
جبکہ مفتی عبد الستار صاحب غیر مقلد رکوع میں ملنے والے مقتدی کو رکعت پانے والا شمار کرتے ہیں ۔ (فتاویٰ ستاریہ ج1 ص52)
🕵 ۳۔ ننگے سر نماز کا حکم
آج کل ہر ایک جاہل غیرمقلد نہ صرف ننگے سر نماز کا قائل ہے بلکہ اس طرح نماز پڑھنے کو سنت بھی سمجھتا ہے۔
جبکہ ان کے بڑے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں ” ننگے سر نماز کو سنت کہنا بلکل غلط ہے یہ فعل سنت سے ثابت نہیں“۔(فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص 523)
🕵 ۴۔ عصر کے بعد نفل پڑھنے کا مسئلہ
غیرمقلدین کے پروفیسر عبداللہ بہاولپوری صاحب لکھتے ہیں ”حضور ﷺ سے جو عصر کے بعد نفل پڑھنا ثابت ہے وہ آپ کا خاصہ ہے ‘ وہ ہمارے لیے نہیں“۔(رسائل بہاولپوری ص134)
جبکہ غیرمقلدین کے حافظ عبدالمنان نور پوری صاحب عصر کے بعد نفل پڑھنے پر پورا زور دے رہے ہیں۔ (مقالات نور پوری صفحہ 311)
🕵 ۵۔ آذان عثمانی
غیرمقلدین کے خطیب الہند مولوی جونا گھڑی صاحب لکھتے ہیں ”(یہ آذان) صریح بدعت ہے کسی طرح جائز نہیں“(العیاذ باللہ)۔(فتاویٰ علمائے حدیث ج2 ص 106)
غیرمقلدین کے شیخ السلام مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں ” یہ آذان سنت خلفاء ہے اس کو گمراہی اور ضلالت کہنا بالکل غلو ہے۔ جمہور صحابہ پر حملے کرنا اورر بڑی جرأت ہے“۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص435)
فرقہ اہلحدیث کے محدث العصر محب اللہ شاہ صاحب راشدی صاحب لکھتے ہیں:
ہمارے نزدیک آذان عثمانی پر صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے اور اجماع حجت ہے۔ (مقالات راشدیہ ج1 ص 271)
محب اللہ شاہ راشدی صاحب غیرمقلد نے نہ صرف آذان عثمانی کو حجت ثابت کیا ہے بلکہ اس پر کیئے جانے والے آج کل کے وکٹورینوں کے اعتراضات کے بھی جوابات دیئے ہیں۔ ملاحظہ ہو (مقالات راشدیہ ج 1 ص 248 تا 272)
🕵 ۶۔ جرابوں پر مسح
غیرمقلدین کے ایک شیخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد صاحب لکھتے ہیں ”جرابوں پر مسح جائز ہے“۔
(فتاویٰ اصحاب الحدیث ج1 ص 66)
غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب لکھتے ہیں”جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے“۔(فتاویٰ نذیریہ ج1 ص 327)
🕵 ۷۔ مال تجارت میں زکوۃ
فرقہ اہل حدیث کےشیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب جو کہ مرزئیوں کے پیچھے بھی نماز پڑھا کرتے تھے خود فرقہ اہل حدیث نے اس کا اقرار کیا ہے دیکھئے (فیصلہ مکہ) یہ ان کے شیخ صاحب
مال تجارت میں زکوۃ کو واجب کہتے ہیں۔ (فتاویٰ علمائے اہل حدیث ج7 ص84)
زبیر علی زئی صاحب مال تجارت پر زکوۃ فرض ہے کو اجماعی مسئلہ کہتے ہیں۔ (تحقیقی مقالات ج5 ص114)
اور اجماع سے نکلنے والے کو اللہ نے جہنمی قرار دیا ہے ۔(النسا ء 115)
دوسری طرف فرقہ اہل حدیث کے مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب فرماتے ہیں:
مال تجارت میں زکوۃ نہیں ۔(بدور الاہلہ ص 102)
گویا کہ نواب صدیق حسن خان اس فرقے کے مجدد جو کافی عرصے تک غیرمقلدیت کی وکالت کرتے رہے اور جو ان پر اعتماد کرتے رہے سب اجماع کے منکر بدعتی اور جہنمی تھے۔
🕵 ۸۔ قربانی تین دن یا چار دن
غیرمقلدین کے امام شوکانی صاحب لکھتے ہیں”چار دن قربانی والا موقف راجح ہے“ (نیل الاوطار جلد 5 صفحہ 149)
غیرمقلدین کے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں ”قول راجح یہ ہے کہ قربانی کے صرف 3 دن ہیں“۔ (علمی مقالات صفحہ 219)
(تبصرہ : اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں ائمہ اربعہؒ میں سے ہی کسی ایک کی تقلید کا پابند رہا جائے)
🕵 ۹۔ رکوع کے بعد ہاتھ کھلے چھوڑنے ہیں یا باندھنے ہیں
عبد المنان نورپوری صاحب ایک سوال
” کیا رکوع کے بعد ہاتھ دوبارہ باندھنے چاہیں“؟ کے جواب میں فرماتے ہیں ” نبیﷺ سے ثابت نہیں“۔ (قرآن و سنت کی روشنی میں احکام و مسائل ج 2 ص 238)
مگر اسی فرقے کے شیخ العرب والعجم بدیع الدین راشدی صاحب نے ”رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا“ نام کے رسالے کے علاوہ دس اور رسالے لکھے ہیں کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا سنت ہے۔
ان میں سے کسی بات صحیح ہے اور کسی غلط ؟کس کی تحقیق معتبر ہے اور کس کی غیر معتبر؟ بندہ ان میں کس پر اعتماد کرے؟ کیا قرآن حدیث اتنی مشکل ہے انکا یہ مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا ؟ صاف ظاہر ہے کہ عوام کو یہ لوگ فقہاء سے ہٹا کر قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کے بہانے صرف اپنے پیچھے لگاتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
🕵 ۱۰۔ گھوڑے کی قربانی
”ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی اہل حدیث نے گھوڑے کی قربانی کا فتویٰ نہیں دیا“ ۔ (تحفہ حنفیہ ص 303)
”گھوڑے کی قربانی بھی سنت ہے“۔ (فتاویٰ ستاریہ ج1 ص 146)
گائے اونٹ ،بھیڑ ،بکری ، اور گھوڑے کے علاوہ قربانی سنت اور ثابت نہیں ۔ (فتاویٰ علمائے حدیث ج 3 ص56)
یہ چند حوالے دئے ہے حوالے بے شمار ہے پوسٹ لمبی hہو رہی ہے iاس لئے بس کیا اب کس کس کی مانے گے مطلق کے قائل لوگ جاہل
یہ تمام باتیں کافی ہیں غیرمقلدین کا عمل بالحدیث اور صرف قرآن حدیث کے جھوٹے نعرے اور دعوے کی پول کھولنے کیلئے۔ اور یہ لوگ ائمہ اربعہؒ کی تقلید سے نکال کر صرف اپنے جاہل مولویوں کی تحقیق کے پیچھے لگاتے ہیں اور خود بھی اسی پر چلتے ہیں۔ اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں ائمہ اربعہؒ میں سے ہی کسی ایک کی تقلید کا پابند رہا جائے۔
غیرمقلد عوام کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ انکے علماء ائمہ اربعہؒ کی تقلید سے ہٹا کر کوئی اللہ رسول کی طرف نہیں لے جاتے بلکہ اپنی اپنی تحقیقی کے پیچھے آپ لوگوں کو چلا رہے ہیں۔
پھر آگے جاہلوں کا سردار لکھتا ہے 👇👇👇👇
🚫اب ہم تقلید شخصی کے حوالے سے دیوبند سے کچھ بیان کرتے ہیں
پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی تقلید شخصی کی ضرورت اور تقلید مطلق کے نقصان کی وضاحت میں رقم طراز ہیں: علماء نے تقلید شخصی کو واجب قرار دیا ہے کیونکہ اگر عامی آدمی کو اس کی اجازت دی جائے کہ اس کو اختیار ہے کہ کسی امام کے مذہب کو لے کر وہ اس پر عمل کر لے تو اس صورت میں رخصت اور آسانی تلاش کرے گا ۔اس کا دل چاہے گا تو ایک چیز کو حلال کہے گا اور کبھی خیال بدل گیا تو وہ اسی کو حرام کہے گا کیونکہ ائمہ اربعہ میں بعض احکام میں حلت و حرمت کا اختلاف ہے۔(تجلیات صفدر، جلد اول، صفحہ 655)
👈👈👈الجواب ۔یہی بات
مورخ اسلام علامہ ابن خلدون ؒ(المتوفی 808 ھ)لکھتے ہیں:
جب مرتبہ اجتہاد تک پہنچنا رک گیا اور اس کا بھی خطرہ تھا کہ اجتہاد نا اہلوں اور ان لوگوں کے قبضہ میں چلاجائےگا جن کی رائے اور دین پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا بڑے بڑے علماء نے اجتہاد سے عجز اور درماندگی کا اعلان کردیا اور لوگوں کو ان چاروں ائمہ کی تقلید پر لگادیا ہر شخص جس کی وہ تقلیدکرتاہے اس کے ساتھ رہے۔اور لوگوں کو اس سے خبردار کیا کہ وہ ائمہ کی تقلید بدل بدل کر نہ کریں یہ تو دین سے کھیلنا ہوجائے گا اس کے سواکوئی صورت ہی نہیں کہ انہی ائمہ اربعہ کے مذاہب آگے نقل کیے جائیں۔
(مقدمہ ابن خلدون باب 6 فصل 7 ص 448 مصر)
تو بھونگی ابن خلدون پر بھی کچھ زبان درازی کر دو یہاں زبان گلے میں اٹک جائے گی
👈پھر جاہل آگے لکھتا ہے
🚫اقتباس:
امین اوکاڑوی دیوبندی کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ مقلدین کے ہاں تقلید مطلق سراسر گمراہی ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی آل تقلید کی ستم ظریفی اوردھوکہ دہی ملاحظہ فرمائیں کہ بٹالوی رحمہ اللہ کی جو عبارت براہ راست خود ان کے تقلیدی مذہب کے خلاف تھی اسی عبارت کو کس دیدہ دلیری سے انہوں نے اپنے مخالفین یعنی تقلید نہ کرنے والوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے🚫
👈الجواب ۔صرف مولانا امین صفدر اکاڑوی علیہ رحمہ کی عبارت سے نہیں بلکہ ابن خلدون علیہ رحمہ کی عبارت سے بھی جو اوپر گزر گیی اور بھی دیگر حوالے ہے
اور بٹالوی کی ویسے کونسی بات قرآن حدیث کے بعینی ہے جاہل
اور تقلید شخصی کا ثبوت صرف ترے اس جاہل بٹالوی سے کسی نے نہیں ثابت کیا بلکہ
جناب رسول اللہ ﷺ جب تک موجود رہے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے مسائل کے حل کے لیے درِ رسول ﷺ پر حاضر ہوجاتے وہاں سے انہیں مسائل کا حل مل جاتا۔
وفات سے کچھ عرصہ قبل آپ علیہ السلام نے اپنی امت کو ارشاد فرمایا: ’’میں نہیں جانتا کہ میں کب تک تم میں زندہ رہوں گا۔لہٰذا (فاقتدوابالذین من بعدی ابی بکرو عمر) تم میرے بعد ابو بکر ؓاور عمرؓ کی اقتداء کرنا۔‘‘
(ترمذی۔ابنِ ماجہ۔مستدرک)
اس امر کی تعمیل میں لوگ آقا علیہ السلام کی رحلت شریفہ کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آنے لگے۔جب کہ صحابہؓ کرام میں اجلہ صحابہ ؓ کی ایک معتد بہ تعداد منصب اجتہاد کو پہنچی ہوئی تھی جنہیں آقا علیہ السلام کے علم کا وافر حصہ ازبر تھا وہ لوگوں کو نئے پیش آمدہ مسائل کا حل بتایا کرتے تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب شریعت کے تمام مسائل مدون اور مرتب نہیں ہوئے تھے اس لیے کسی ایک عالم کی اتباع کا اس درجے اہتمام نہیں تھاکہ اس کے سوا دوسرے عالم سے رجوع جائز نہ ہو، بلکہ لوگ کسی ایک عالم سے رجوع کرتے تو کبھی دوسرے سے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی عالم کے تقویٰ ، تبحرِ علمی اوراس پر اعتمادِ خاص کی وجہ سے لوگ اسی سے ہی تمام یا اکثر مسائل میں رجوع کرتے ، اس کے ہوتے ہوئے دوسرے سے رجوع مناسب نہ سمجھتے۔ اور اس سے اس مسئلے کی دلیل بھی طلب نہیں کرتے تھے بس تقویٰ اور تبحرِ علمی پر ہی اعتماد کرتےتھے اور یہی اصطلاح میں تقلید کامطلب ہےکہ ’’مجتہد کے قول پر بغیر مطالبۂ دلیل عمل کرنا اس حسنِ ظن کے ساتھ کہ وہ قرآن و سنت سے ماخوذ اور مطابق ہے۔
اس نوعیت کی ایک روایت امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے’’اہلِ مدینہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کیا کہ ’’کیا جب عورت حیض میں مبتلا ہوجائے تو اس کے لیے طواف زیارت کے بعد طواف ِ وداع چھوڑ کر اپنے وطن جانا جائز ہے؟‘‘جواب میں سیدنا ابن ِ عباس ؓ نے جواز کا قول فرمایا جس پر لوگ کہنے لگے ہم آپ کی بات لے کر سیدنا زید ؓ کی بات نہیں چھوڑ سکتے کیوں کہ وہ فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے طوافِ وداع چھوڑ کروطن جانا جائز نہیں۔اس کی وجہ حضرت زید رضی اللہ عنہ پر ان کا زیادہ اعتماد تھاتبھی سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے فتوے پر توجہ نہ دی پھر جب سیدنا زید ؓ تک حدیثِ صفیہ ؓ پہنچی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا۔یہ اس بات کی مثال تھی کہ لوگ اپنے اعتماد والے عالم پر دیگر علماء کی نسبت زیادہ رجوع کرتے تھےاور اس کے فتاویٰ کو دوسرے علماء کے فتاویٰ پر ترجیح دیتے تھے۔
یہ سب اس وقت تھا جب مذاہب مدون نہ تھے۔ ان کے اصول وضع نہیں ہوئے تھے۔اس لیے لوگ کسی خاص فقہ کے پابند بھی نہ تھے۔بس بعض تو مختلف علماء سے جہاں موقع ملتا رجوع کرلیا کرتے اور بعض اپنے معتمد علیہ فقیہ کے فتاویٰ پر انحصار کرتے۔خیرالقرون کے زمانے میں فقہاء مجتہدین کی کمی نہ تھی، وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے جو بلادِ اسلامیہ میں پھیلے ہوئے تھے۔لیکن جو مقبولیت اللہ کی طرف سے فقہائے اربعہ امام ابوحنیفہ ،امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کو حاصل ہوئی وہ کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
سب سے پہلے جدید پیش آمدہ مسائل کی تدوین کی طرف سیدنا ابوحنیفہ رحمہ اللہ متوجہ ہوئے انہوں نے باقاعدہ قرآن و سنت میں غور و خوض کر کے فقہ کے اصول مرتب فرمائےاور یوں سلسلہ چل نکلا اور وقت گزرنے کے ساتھ چار فقہ متعارف ہوگئیں جنہیں لوگوں میں قبولیتِ تامہ حاصل ہوئی۔جب کہ باقی فقہاء کو وہ مقام اور مقبولیت نصیب نہ ہوسکی یہاں تک کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا یاکہیں کسی کتاب میں ان فقہاء کا کوئی ایک آدھ قول مل جاتا ہے۔جب کہ مدون اور مرتب صورت میں ان چار فقہوں کو شہرت حاصل ہوگئی۔ جن کا ماخذ صرف اور صرف قرآن و سنت تھا نہ کہ خواہشاتِ و ہوائے نفس کی اتباع ، جن سے یہ فقہاء ماوراء تھے۔فقہائے اربعہ اور ان کے متبعین اہلِ علم نے اس میں انسانی زندگی سے متعلق تمام گوشوں سے متعلق مسائل حل فرما کر امت سے استنباط و استخراج کا بوجھ اتار دیا اور صحیح منہج امت کو دے گئے۔
یہ چاروں فقہ عالمِ اسلام میں رائج ہوگئیں۔ ان کے مرتب اور مدون ہونے کے بعد انتظامی طور پر لوگ کسی ایک فقہ جن پر ان کا اعتماد تھا عمل پیرا ہوگئے اور اپنی زندگی میں پیش آمدہ تمام مسائل کے حل کے لیے اس فقہ کے ماہر علماء سے رجوع کرنے لگے۔عالم اسلام کے تمام اہل علم کا ان مذاہبِ اربعہ کی حقانیت پر اجماع ہوگیا۔ در اصل یہی اہل السنت والجماعت کا اصلی مصداق ہیں جن سے روگردانی کرنا نجات یافتہ طبقےاہل السنت والجماعت سے باہر ہونا ہے۔
ان میں واقع ہونے والا آپس میں فقہی اختلاف در اصل احادیث مبارکہ اور اقوال و اعمال صحابہؓ کے اختلاف کی وجہ سے رونما ہوا۔ ہر فقیہ نے دلائل کی بنیاد پر ایک جانب کو راجح قرار دے کر دوسری جانب کو مرجوح قرار دیا۔ ان میں سے کسی کو بھی قرآن و سنت کی مخالفت کرنے اور خواہشات پر عمل کرنے والا نہیں کہا جاسکتا۔ جسے بنیاد بنا کر یار لوگوں نے ان چاروں فقہ کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اسے قرآن و سنت سے مخالف اور گمراہی کا موجب بنا کرپیش کیا (معاذاللہ) اور تقلید کے خلاف مکمل محاذ آرائی قائم کرلی اور امت کے متواتر و متوارث طریقے کے خلاف ایک الگ راہ اختیار کرکے خود کو مجتہد سمجھنے لگے۔یاد رکھیے کہ غیر مجتہد پر چاروں فقہ میں سے کسی ایک فقہ کی تقلید لازم ہے اور یہ لزوم و وجوب کسی شرعی و قطعی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ انتظامی طور پر ہے جیسا کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’سوہم تقلیدِ شخصی کو فی نفسہٖ فرض یا واجب نہیں کہتے ، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ تقلید شخصی میں دین کا انتظام ہے اور ترکِ تقلید میں بے انتظامی ہے۔‘‘(خطبات حکیم الامت ؒ: ج:۶ ص: ۱۷۲ )
چنانچہ صحیح مسلم کے عظیم شارح علامہ نووی ؒ نے اپنی کتاب ’’ المجموع شرح المہذب ، مقدمہ ، فصل فی آداب المستفتی ( ۱؍ ۵۵ ) ‘‘ میں لکھا ہےکہ ’’ اگر لوگوں کے لیے اپنی چاہت کے مذاہب پر عمل کو جائز قرار دیا جائے تو اس سے یہ خرابی پیدا ہوگی کہ وہ ان مذاہب اربعہ کے رخصت اور آسانی والی مسائل کو چن کر عمل کرنے لگیں گے جو کہ خواہشات کی اتباع ہے نہ کہ شریعت کی۔ ‘‘
اسی وجہ سے علمائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں’’ غیر مجتہد کے لیے ان چار مذاہبِ فقہیہ میں سے ایک کی تقلیداس طور پر واجب ہے کہ اس کے سوا پھر دوسرےمذہب کی تقلید نہ کرے۔‘‘ اور یہ وجوب انتظاما ہے۔اللہ تعالی خواہشات کی اتباع سے محفوظ فرما کر اپنے دین کی اتباع کرنے کی اور امت کے سوادِ اعظم کے ساتھ چمٹے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
نوٹ ۔ اسکے عنوان کے تحت یہ بھی مشرک ثابت ہوا وہ اس لئے تقلید چاہے مطلق ہو یا شخصی
حکم ایک ہی ہے اسکے بقول یہ مطلق کا قائل ہے اس لئے یہ بھی مشرک 😂
اللّه تعالیٰ ان جیسے جاہلوں احمقوں اور جھوٹے کزانوں سے امت کی حفاظت کرے
آمین
No comments:
Post a Comment