🚫۔۔۔۔۔قسط۔۔۔دوم ۔۔۔۔۔🚫
محترم ناظرین !
#Sahi_Deen
نامی ایک جاہل احمق بےشرم اور مکار قسم کا انسان ہے اس جاہلوں کے سردار نے فقہ حنفی پر کچھ اعتراضات کیے ہے انکا جواب ہم قسط وار دے رہے ہے تاکہ عوام کو پتہ چلے کس طرح یہ فتنہ پر ور لوگ بولی بالی عوام کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہے پہلے اعتراض کا جواب ہو چکا ہے اب آج دوسرا اعتراض اور اسکا جواب ملہذا فرمایے جو حضرات اس کو پہلی بار پڑھ رہے ہے وہ پہلی قسط سے پڑھے
دوسرا اعتراض 👇👇
👈جو عورتیں ہمیشہ کیلئیے حرام ہیں اُن سے نکاح کرکے اور حلال جان کر صحبت کرے تو حد نہیں۔ابوحنیفہ
📝(درالمختار- کتاب الحدود- باب وطی الزی یوجب الحد و مالا یوجیہ۔ جلد2۔ صفحہ472)🙀
🚫🚫🚫الجواب 👇👇👇
اس اعتراض کے کئی جواب ہیں۔
👈جواب نمبر1:
شریعت نے زانی کے لیے جو حد مقرر کی ہے وہ رجم (سنگسار) یا جَلد (کوڑے) ہے۔ کسی بھی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ جو شخص محرمات ابدیہ (ہمیشہ کے لیے حرام) سے نکاح کر کے وطی کرے اس کو رجم کیا جائے یا کوڑے مارے جائیں۔ اس لیے امام اعظم ابو حنیفہ نے ایسے شخص کے لیے یہ حد (رجم یا جلد) نہیں فرمائی۔ امام اعظم ابو حنیفہ کے اس مسئلہ کو اگر یہ جاہلوں kکا سردار حدیث کے خلاف سمجھتا ہیں تو ان پر لازم ہے کہ کوئی ایسی حدیث نقل کریں جس میں ایسے شخص کے لیے حد آئی ہو۔ البتہ احادیث میں قتل کا حکم آیا ہے جس سے امام اعظم ابو حنیفہ کا مسلک و مذہب ہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ قتل کرنا یا مال ضبط کرنا زنا کی ان دونوں حدوں سے کوئی حد نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں ایسے شخص کو جو بھی سزا دی جائے کم ہے لہٰذا حاکم اس کو سخت سے سخت سزا دے فتح القدیر کے اندر تصریح ہے کہ
الا ترٰی ان ابا حنیفۃ الزم عقوبۃ باشد ما یکون وانما لم ثبت عقوبۃ ہی الحد فعرف انہ زنا محض عندہ الا ان فیہ شبہۃ
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امام ابوحنیفہ اس کے لیے سخت سے سخت سزا تجویز کرتے ہیں؟ (البتہ نکاح کے سبب) حد ثابت نہیں۔ پس وہ اس کو زنا ہی سمجھتے ہیں مگر نکاح کے سبب اس میں شبہ پیدا ہو گیا۔
اس لیے حد مقرر رجم یا جلد اس سے ساقط ہو گئی اس عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر کوئی سزا ہی نہیں۔ بلکہ اسے سخت سزا دی جائے گی قتل کی صورت میں۔
👈جواب نمبر2:
طحاوی ج2 ص73 میں ہے سوتیلی ماں سے نکاح کی وجہ سے مرتد ہو گیا، کیونکہ اس نے حرام کو حلال سمجھا، لہٰذا اس پر ارتداد کی سزا نافذ ہو گی اور یہ صرف عقدِ نکاح ہی سے نافذ ہو جائے گی، اس کے لیے مباشرت شرط نہیں اور اگر اس نے یہ نکاح حرام سمجھ کر کیا تو مباشرت و وطی کی صورت میں حد نافذ ہو گی، اسی طرح محرم سے بلا نکاح وطی کی تو بھی حد نافذ ہو گی یہی امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کا مذہب ہے۔
محترم!
ذرا غور فرمایئے کہ مسئلہ کی تین صورتیں ہیں:
اول محرمات میں سے کسی کے ساتھ نکاح کیا، اگر حلال اور جائز سمجھ کر کیا تو کافر و مرتد ہو گیا، لہٰذا اس پر ارتداد کی شرعی سزا نافذ ہو گی اور اگر نکاح حرام و ناجائز سمجھ کر کیا تو اس کے لیے شرعاً کوئی حد مقرر نہیں ہے، البتہ قاضی اپنی مرضی سے جو سزا تجویز کر لے وہ دی جائے گی اور یہ قتل بھی ہوسکتی ہے۔
دوم نکاح کے بعد اگر اس نے وطی و مباشرت بھی کر لی تو تعزیراً اس کو قتل کیا جائے گا یا قاضی جو سزا دے۔
سوم بغیر نکاح کے اگر کسی نے محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کر لیا تو اس پر بھی زنا کی حد جاری ہو گی۔
👈جواب نمبر3:
باقی رہا مسئلہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے لیے قتل کی سزا کا حکم دیا ہے تو اس کے بارے میں قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس نے فعل حرام کو حلال سمجھا جو کفر کے لوازمات میں سے ہے، اس لیے اسے قتل کیا گیا۔
نیل الاوطار ج7 ص122
گویا یہ قتل کی سزا حد نہیں بلکہ ارتداد کی سزا تھی۔ امام حافظ ابن الہمام الحنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ قتل کی سزا بطور سیاست و تعزیر تھی۔
فتح القدیر ص148
اس سے صاف ظاہر ہے کہ اختلاف قتل کی سزا میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ یہ قتل کی سزا حد ہے یا تعزیر؟ در مختار ج3 ص179 میں ہے اسے تعزیراً قتل کیا جائے گا۔ عالمگیری ج2 ص148 میں ہے‘ اسے عبرت ناک سزا دی جائے گی، طحاوی ج2 ص97 میں ہے یہ زنا سے بڑا گناہ ہے:
ولٰکن یجب فیہ التعزیر والعقوبۃ البلیغۃ
اس پر تعزیراً سخت ترین سزا واجب ہے۔
حافظ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کہا: ماں بیٹی وغیرہ سے نکاح جائز ہے وہ کافر، مرتد اور واجب القتل ہے۔
فتح القدیر ج5 ص42، طحاوی ج2 ص96
👈جواب نمبر4:
🚫آپ کے نامور بزرگ نواب نور الحسن خان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زنا کی بیٹی سے نکاح جائز ہے۔
عرف الجادی ص113
🚫سردار اہل حدیث ثناء اﷲ امرتسری فرماتے ہیں کہ دادی کے ساتھ پوتے کا نکاح جائز ہے اس کی حرمت منصوص نہیں۔
اخبارِ اہل حدیث رمضان 1388ھ بحوالہ معین الفقہ ص95
محترم!
ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے تو نہ اس نکاح کو جائز قرار دیا، نہ اس کی حرمت منصوصہ سے انکار کیا اور نہ اس کی سزا سے انکار کیا، صرف اس سزا کا نام حد کی بجائے تعزیر رکھ دیا تو آپ نے آسمان سر اپر اٹھا لیا، لیکن یہاں تو سب کچھ قرآن و حدیث کے نام پر ہو رہا ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ وضاحت فرما دیجیے۔
😎ﺑﺲ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﺪﻫﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﻩ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﻨﯽ ﻫﻮﺗﻮ ﻭﻩ ﻓﺮﻗﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﺍﻫﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻋﻮﺍﻡ
ﻭﺧﻮﺍﺹ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﻟﮯ ، ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻫﻮﺗﺎ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺿﺪ ﻭﺗﻌﺼﺐ ﻭﺍﻧﺪﻫﯽ
ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﻬﯿﻼﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻫﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﯾﮧ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﮯ ﮐﮧ ﻓﻼﮞ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﻫﮯ
، ﺍﺏ ﺍﮔﺮﺍﺱ ﺟﺎﻫﻞ ﺷﯿﺦ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻇﺎﻫﺮﮐﺮﺑﻬﯽ ﺩﮮ ، ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺟﺎﻫﻞ ﺷﯿﺦ
ﮐﯽ ﺩﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻬﻮﮌﺗﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺰﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﻭﻗﺎﻝ ﯾﮩﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﻫﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﺒﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮍﺍ ﭘﮑﺎ
ﻫﮯ ، ﺁﺧﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺿﺪ ﻭﺟﮩﺎﻟﺖ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻫﮯ ؟؟
اللّه تعالیٰ امت کو اس گمراہ فتنے سے حفاظت فرمایے
آمین
محترم ناظرین !
#Sahi_Deen
نامی ایک جاہل احمق بےشرم اور مکار قسم کا انسان ہے اس جاہلوں کے سردار نے فقہ حنفی پر کچھ اعتراضات کیے ہے انکا جواب ہم قسط وار دے رہے ہے تاکہ عوام کو پتہ چلے کس طرح یہ فتنہ پر ور لوگ بولی بالی عوام کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہے پہلے اعتراض کا جواب ہو چکا ہے اب آج دوسرا اعتراض اور اسکا جواب ملہذا فرمایے جو حضرات اس کو پہلی بار پڑھ رہے ہے وہ پہلی قسط سے پڑھے
دوسرا اعتراض 👇👇
👈جو عورتیں ہمیشہ کیلئیے حرام ہیں اُن سے نکاح کرکے اور حلال جان کر صحبت کرے تو حد نہیں۔ابوحنیفہ
📝(درالمختار- کتاب الحدود- باب وطی الزی یوجب الحد و مالا یوجیہ۔ جلد2۔ صفحہ472)🙀
🚫🚫🚫الجواب 👇👇👇
اس اعتراض کے کئی جواب ہیں۔
👈جواب نمبر1:
شریعت نے زانی کے لیے جو حد مقرر کی ہے وہ رجم (سنگسار) یا جَلد (کوڑے) ہے۔ کسی بھی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ جو شخص محرمات ابدیہ (ہمیشہ کے لیے حرام) سے نکاح کر کے وطی کرے اس کو رجم کیا جائے یا کوڑے مارے جائیں۔ اس لیے امام اعظم ابو حنیفہ نے ایسے شخص کے لیے یہ حد (رجم یا جلد) نہیں فرمائی۔ امام اعظم ابو حنیفہ کے اس مسئلہ کو اگر یہ جاہلوں kکا سردار حدیث کے خلاف سمجھتا ہیں تو ان پر لازم ہے کہ کوئی ایسی حدیث نقل کریں جس میں ایسے شخص کے لیے حد آئی ہو۔ البتہ احادیث میں قتل کا حکم آیا ہے جس سے امام اعظم ابو حنیفہ کا مسلک و مذہب ہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ قتل کرنا یا مال ضبط کرنا زنا کی ان دونوں حدوں سے کوئی حد نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں ایسے شخص کو جو بھی سزا دی جائے کم ہے لہٰذا حاکم اس کو سخت سے سخت سزا دے فتح القدیر کے اندر تصریح ہے کہ
الا ترٰی ان ابا حنیفۃ الزم عقوبۃ باشد ما یکون وانما لم ثبت عقوبۃ ہی الحد فعرف انہ زنا محض عندہ الا ان فیہ شبہۃ
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امام ابوحنیفہ اس کے لیے سخت سے سخت سزا تجویز کرتے ہیں؟ (البتہ نکاح کے سبب) حد ثابت نہیں۔ پس وہ اس کو زنا ہی سمجھتے ہیں مگر نکاح کے سبب اس میں شبہ پیدا ہو گیا۔
اس لیے حد مقرر رجم یا جلد اس سے ساقط ہو گئی اس عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر کوئی سزا ہی نہیں۔ بلکہ اسے سخت سزا دی جائے گی قتل کی صورت میں۔
👈جواب نمبر2:
طحاوی ج2 ص73 میں ہے سوتیلی ماں سے نکاح کی وجہ سے مرتد ہو گیا، کیونکہ اس نے حرام کو حلال سمجھا، لہٰذا اس پر ارتداد کی سزا نافذ ہو گی اور یہ صرف عقدِ نکاح ہی سے نافذ ہو جائے گی، اس کے لیے مباشرت شرط نہیں اور اگر اس نے یہ نکاح حرام سمجھ کر کیا تو مباشرت و وطی کی صورت میں حد نافذ ہو گی، اسی طرح محرم سے بلا نکاح وطی کی تو بھی حد نافذ ہو گی یہی امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کا مذہب ہے۔
محترم!
ذرا غور فرمایئے کہ مسئلہ کی تین صورتیں ہیں:
اول محرمات میں سے کسی کے ساتھ نکاح کیا، اگر حلال اور جائز سمجھ کر کیا تو کافر و مرتد ہو گیا، لہٰذا اس پر ارتداد کی شرعی سزا نافذ ہو گی اور اگر نکاح حرام و ناجائز سمجھ کر کیا تو اس کے لیے شرعاً کوئی حد مقرر نہیں ہے، البتہ قاضی اپنی مرضی سے جو سزا تجویز کر لے وہ دی جائے گی اور یہ قتل بھی ہوسکتی ہے۔
دوم نکاح کے بعد اگر اس نے وطی و مباشرت بھی کر لی تو تعزیراً اس کو قتل کیا جائے گا یا قاضی جو سزا دے۔
سوم بغیر نکاح کے اگر کسی نے محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کر لیا تو اس پر بھی زنا کی حد جاری ہو گی۔
👈جواب نمبر3:
باقی رہا مسئلہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے لیے قتل کی سزا کا حکم دیا ہے تو اس کے بارے میں قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس نے فعل حرام کو حلال سمجھا جو کفر کے لوازمات میں سے ہے، اس لیے اسے قتل کیا گیا۔
نیل الاوطار ج7 ص122
گویا یہ قتل کی سزا حد نہیں بلکہ ارتداد کی سزا تھی۔ امام حافظ ابن الہمام الحنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ قتل کی سزا بطور سیاست و تعزیر تھی۔
فتح القدیر ص148
اس سے صاف ظاہر ہے کہ اختلاف قتل کی سزا میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ یہ قتل کی سزا حد ہے یا تعزیر؟ در مختار ج3 ص179 میں ہے اسے تعزیراً قتل کیا جائے گا۔ عالمگیری ج2 ص148 میں ہے‘ اسے عبرت ناک سزا دی جائے گی، طحاوی ج2 ص97 میں ہے یہ زنا سے بڑا گناہ ہے:
ولٰکن یجب فیہ التعزیر والعقوبۃ البلیغۃ
اس پر تعزیراً سخت ترین سزا واجب ہے۔
حافظ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کہا: ماں بیٹی وغیرہ سے نکاح جائز ہے وہ کافر، مرتد اور واجب القتل ہے۔
فتح القدیر ج5 ص42، طحاوی ج2 ص96
👈جواب نمبر4:
🚫آپ کے نامور بزرگ نواب نور الحسن خان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زنا کی بیٹی سے نکاح جائز ہے۔
عرف الجادی ص113
🚫سردار اہل حدیث ثناء اﷲ امرتسری فرماتے ہیں کہ دادی کے ساتھ پوتے کا نکاح جائز ہے اس کی حرمت منصوص نہیں۔
اخبارِ اہل حدیث رمضان 1388ھ بحوالہ معین الفقہ ص95
محترم!
ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے تو نہ اس نکاح کو جائز قرار دیا، نہ اس کی حرمت منصوصہ سے انکار کیا اور نہ اس کی سزا سے انکار کیا، صرف اس سزا کا نام حد کی بجائے تعزیر رکھ دیا تو آپ نے آسمان سر اپر اٹھا لیا، لیکن یہاں تو سب کچھ قرآن و حدیث کے نام پر ہو رہا ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ وضاحت فرما دیجیے۔
😎ﺑﺲ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﺪﻫﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﻩ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﻨﯽ ﻫﻮﺗﻮ ﻭﻩ ﻓﺮﻗﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﺍﻫﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻋﻮﺍﻡ
ﻭﺧﻮﺍﺹ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﻟﮯ ، ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻫﻮﺗﺎ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺿﺪ ﻭﺗﻌﺼﺐ ﻭﺍﻧﺪﻫﯽ
ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﻬﯿﻼﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻫﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﯾﮧ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﮯ ﮐﮧ ﻓﻼﮞ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﻫﮯ
، ﺍﺏ ﺍﮔﺮﺍﺱ ﺟﺎﻫﻞ ﺷﯿﺦ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻇﺎﻫﺮﮐﺮﺑﻬﯽ ﺩﮮ ، ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺟﺎﻫﻞ ﺷﯿﺦ
ﮐﯽ ﺩﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻬﻮﮌﺗﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺰﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﻭﻗﺎﻝ ﯾﮩﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﻫﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﺒﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮍﺍ ﭘﮑﺎ
ﻫﮯ ، ﺁﺧﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺿﺪ ﻭﺟﮩﺎﻟﺖ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻫﮯ ؟؟
اللّه تعالیٰ امت کو اس گمراہ فتنے سے حفاظت فرمایے
آمین
No comments:
Post a Comment