امام شافعی کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللّه کی قبر پر دو رکعت نماز پڑھنا اور اللّه سے دعا کرنا اور ضرورت کا پورا ہونا
اعتراض
زبیر زائی کا اعتراض اس میں ایک راوی ہے عمر بن اسحاق
بن ابراھیم اسکے حالات نہیں ملے
جواب
دراصل وہ راوی عمر بن اسحاق بن ابراہیم نہیں بلکہ عمرو بن اسحاق بن ابراہیم ہے اور ثقہ ہے
اعتراض
اسکی سند میں جو نام ہے وہ عمرو نہیں ہے عمر ہے
جواب
لیکن عمر بن اسحاق بن ابراہیم نام کا راوی اسماء الرجال کی کتاب میں نہیں...
دوسری بات عمرو بن اسحاق بن ابراہیم یہ اسی علاقہ اور اسی زمانہ کا راوی ہے
تیسری بات خود البانی کا کہنا ہے کہ احتمال یہ ہے کہ یہ عمرو بن اسحاق بن ابراہیم ہے...
ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ راوی کا صحیح نام عمرو بن اسحاق بن ابراہیم ہے... اور اوپر کے راوی سے یا لکھنے والے سے شاید غلطی ہو گئی ہے
اعتراض
زبیر علی زئی کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ ابن حجر مکی رحمتہ اللہ علیہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن عمر بن اسحاق بن ابراھیم کی توثیق پر سکوت اختیار کیا ہے
جواب
زبیر علی زئی سے کوئی پوچھے کیا امام ابن حجر مکی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ صرف صحیح یا حسن درجہ کے اقوال امام ابوحنیفہ کے مناقب میں لائیں گے؟
یا وہ دیگر سندوں پر تو کلام کرتے ہیں لیکن یہاں چپ چاپ آگے نکل گئے؟
جب یہ طریقہ ہی نہیں امام ابن حجر کا تو اعتراض باطل ہے
البانی کے اعتراض کا جواب
دیکھیں جہاں تک بات ہے کہ عمرو بن اسحاق بن ابراہیم مجہول ہے تو یہ البانی صاحب کو حوالہ نہیں ملا ہوگا لیکن امام ابو حامد کبیر اور امام سمعاني نے انکو محدث عصر کہا ہے اس كے علاوه عمرو بن اسحاق بن ابراہیم سے امام حاکم نے اپنی مستدرک میں سے روایت لئے اور اس کو شیخین کی شرط پر صحیح بولا
اور ان کی موافقت کرتے ہوئے امام ذھبی نے بھی سند کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے... مطلب یہ ہے کہ یہ راوی جو ہے ثقہ ہے
دوسری بات اہم نکتہ یہ ہے کہ علی بن میمون سے ان کی ملاقات ہوئی بھی ہو یا نہیں ہوئی ہو ایسا البانی کا کہنا یہ بات بھی ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ہے
اس کی میں آپ کو کچھ وجہ بتا دوں کہ ایک تو یہ کہ امام یحییٰ ابن معین اور امام شافعی دونوں ایک ہی وقت کے ہے
اور یہ جو راوی ہے عمرو بن اسحاق بن ابراہیم یہ اس ٹائم کا ہیں اسی زمانے کا ہے اور ان ہی لوگوں کے بیچ کا ہے
اس میں وہ امام شافعی کے شاگرد سے تو روایت ذکر کر رہا ہے اور اسی طرح یہ امام ابن معین کے شاگرد اور انہیں طبقے کے لوگوں سے روایت کرتا ہے
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ عمرو بن اسحاق بن ابراہیم ہے اور سند اور راوی دونوں ثقہ ہیں
البانی کے اعتراض کا جواب
دیکھیں جہاں تک بات ہے کہ عمرو بن اسحاق بن ابراہیم مجہول ہے تو یہ البانی صاحب کو حوالہ نہیں ملا ہوگا لیکن امام ابو حامد کبیر اور امام سمعاني نے انکو محدث عصر کہا ہے اس كے علاوه عمرو بن اسحاق بن ابراہیم سے امام حاکم نے اپنی مستدرک میں سے روایت لئے اور اس کو شیخین کی شرط پر صحیح بولا
اور ان کی موافقت کرتے ہوئے امام ذھبی نے بھی سند کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے... مطلب یہ ہے کہ یہ راوی جو ہے ثقہ ہے
دوسری بات اہم نکتہ یہ ہے کہ علی بن میمون سے ان کی ملاقات ہوئی بھی ہو یا نہیں ہوئی ہو ایسا البانی کا کہنا یہ بات بھی ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ہے
اس کی میں آپ کو کچھ وجہ بتا دوں کہ ایک تو یہ کہ امام یحییٰ ابن معین اور امام شافعی دونوں ایک ہی وقت کے ہے
اور یہ جو راوی ہے عمرو بن اسحاق بن ابراہیم یہ اس ٹائم کا ہیں اسی زمانے کا ہے اور ان ہی لوگوں کے بیچ کا ہے
اس میں وہ امام شافعی کے شاگرد سے تو روایت ذکر کر رہا ہے اور اسی طرح یہ امام ابن معین کے شاگرد اور انہیں طبقے کے لوگوں سے روایت کرتا ہے
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ عمرو بن اسحاق بن ابراہیم ہے اور سند اور راوی دونوں ثقہ ہیں

No comments:
Post a Comment