بسم اللّه الرحمٰن الرحیم
عصر حاضر میں غیر مقلدین حضرات اجماع امت کے برخلاف تقلید کے موضوع پر عام لوگوں میں جو شک وشبہات پیدا کررہے ایسے ہی کچھ اقوال میرے پاس کسی محترم ساتھی نے پونچھا دئے ہم انکا تحقیقی جائزہ لے گے ان شاء اللّه
اہل سنت کا ۹۵ فیصد سے زیادہ طبقہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کی تقلید کے مسئلہ پر متفق چلا آرہا ہے۔ اور چاروں ائمہ کی تقلید قرآن وحدیث کی اتباع ہی ہے۔ جس طرح آج ہم ۱۴۰۰ سال گزرنے کے بعد بھی قرآن وحدیث کو ہی شریعت اسلامیہ کے دو اہم ماخذ مانتے ہیں، اسی طرح ان ائمہ نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں ہی احکام ومسائل بیان فرمائے ہیں۔ قرآن وحدیث کے پیغام کو ہی دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میں ان ائمہ نے اپنی جان ومال ووقت کی عظیم قربانیاں دیں۔
ان دنوں غیر مقلدین حضرات امام ابوحنیفہؒ اور علماء احناف کی قرآن وحدیث پر مبنی رائے کواس طرح لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ اور علماء احناف یہ کہہ رہے ہیں جبکہ قرآن وحدیث کا فیصلہ یہ ہے، حالانکہ امام ابوحنیفہ ؒ اور علماء احناف کے دلائل توریت یا زبوریا انجیل یا رامائن یا گیتا سے نہیں لئے گئے ہیں بلکہ انہوں نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں ہی احکام ومسائل بیان فرمائے ہیں اور وہ اپنے زمانے میں علم وعمل کے درخشاں ستارہ تھے
پوسٹ لمبی نہ ہو اب ان اعتراضات کو زیر بحث لایا جارہا ہے جو عام طور سے تقلید پر کیے جا تے ہیں، منکرین تقلید کے اعتراضات کے جوابات ملاحظہ فرمانے سے پہلے ایک اصولی بات ذہن نشیں کر لیں:
تقلید کی دو قسمیں ہیں: تقلید مشروع و تقلید غیر مشروع۔ تقلید مشروع ایسے مسائل اجتہادیہ میں ہو تی ہے جن میں شرعاً اجتہاد کو دخل ہے اور جنہیں ایسے ائمہ دین نے قرآن و حدیث سے استنباط کیا ہو جو پوری طرح علمی و فقہی حیثیت سے اجتہاد کے اہل ہو ں اور جن کا تقوی اور صدق و اخلاص بھی شک و شبہ سے بالا تر ہو اور ان کی یہ صفات اجتہاد فی الدین اور استنباط مسائلِ شرعیہ کی اہلیت امت کے سوادِ اعظم کے نزدیک مسلم ہوں ، بس تقلید کرنے والے اس طرح کے مسائل میں ائمہ کرام پر غایتِ اعتماد کی بنا پر ان کی تقلید کر تے ہیں اور در حقیقت یہی وہ تقلید ہے جو مستحسن بلکہ واجب ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث سے، اکابر امت کے عمل سے اور فقہاء محدثین کے اقوال سے ثابت ہے اور روز روشن کی طرح عیاں ہے جیسا کہ اس پر سیر حاصل بحث ہو چکی ہے۔ تقلید غیر مشروع اس کا نا م ہے کہ ایسے مسائل میں کسی کا اتباع کیا جا ئے جو منصوص ہیں اور جن میں شرعاً اجتہاد کا دخل نہیں یا ان کا استنباط کرنے والا اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتا، مثلاً وہ دیندار یا سرے سے مسلمان ہی نہیں یا علم کے اس مرتبہ پر فائز نہیں جو اجتہاد کے لیے ضروری ہے، اس لیے اس طرح کی تقلید غلط بلکہ حرام ہے۔
اس تفصیل پر غور کرنے کے بعد غیر مقلدوں کے تقلید کے مسئلہ پر ہر قسم کے شبہات اور اعتراضات کا اجمالی جواب نکل آتا ہے، بلکہ علماء اہل حدیث کے تمام اعتراضات اور شبہات محض ایک مغالطہ اور دھوکہ پر مبنی معلوم ہونے لگتے ہیں،کیونکہ مقلدین کے مقابلہ میں یہ لوگ دعویٰ تو کرتے ہیں تقلید مشروع ممنوع ہونے کا اور دعویٰ کے ثبوت میں دلائل وہ پیش کرتے ہیں جو تقلید غیر مشروع کے رد میں پیش کیے جا نے چاہییں ، محض تعداد اور شمار بڑھانے کے لیے دلائل تو بہت ذکر کیے جا تے ہیں، مگر ان کی حقیقت اور وزن کا اعتبار کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ وہ بہت ہی کم ہیں ، اس لیے یہاں پر چند اعتراضات ذکر کر کے جوابات تحریر کئے جارہے ہیں
👈پہلا قول
اقوا ل امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ؒ
1۔امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں ۔:
(ا)۔
حرام علي من لم يعرف دليلي ان يفتي بكلامي(میزان للشعرانی ،عقدالجید70)
’’کہ میرے قول پر فتوی دینا حرام ہے جب تک میری بات کی دلیل معلوم نہ ہو۔‘‘
✅ الجواب
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعوی کرنا کہ ائمہ مجتہدین نے مطلقا اپنی تقلید سے منع کیا تو یہ دعوی ہی باطل ہے ، کیونکہ ان میں سے کسی سے بھی یہ بات منقول نہیں ہے، اور اگر ثابت ہو بھی تو ان کے قول کی وجہ سے تقلید ترک کرنا عین تقلید ہے اور وہ تو آپ کے نزدیک ممنوع ہے تو پھر ان کے قول کی تقلید کرکے تقلید کو ترک کرنا کیونکر واجب ہوگا، لہذا ترک تقلید میں ان کے حکم کی تقلید کا حکم کرنا نقیضین کو جمع کرنا ہے اور یہ تو باطل ہے. اور اگر ائمہ کرام سے ترک تقلید کے بارے روایت ثابت بھی ہوجائے تو اس سے مراد ایسے لوگوں کے لئے تقلید کی حرمت ہے جو اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہوں.
جواب دوم : یہ کہنا کہ ائمہ مجتہدین خود اپنی تقلید سے منع کیا کرتے تھے، صحیح نہیں ہے ، کیو نکہ ائمہ کر ام لو گو ں کو جو فتوی دیاکر تے تھے ان کے فتووں میں دلائل تفصیل سے مذکور نہیں ہوتے تھے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ عملی طور پر تقلید کو جائزرکھتے تھے ، اسی طرح فقہا ء کرام سے بھی عملی طور پر تقلید ثابت ہے۔اگر امام مجتہد کسی شخص کے سوال کا جواب دیتا ہے تو امام مجتہد کا مقصد واضح ہے کہ اس نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ جواب دیا ہے، لہٰذا اس پر عمل کرو۔
جواب سوم : بعض ائمہ مجتہدین نے جہا ں پر تقلید سے منع کیا ہے وہ ان لو گوں کو منع کیاہے جو خود درجۂ اجتہاد تک پہنچے ہو ئے تھے : امام شعرانی فرماتے ہیں:’’ تقلید کی ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو پورے طور پر مجتہد ہو ، ورنہ علماء کرام تصریح کر تے ہیں کہ غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے ، تاکہ وہ اپنے دین میں گمراہ نہ ہو اور فقہاء کرام نے بھی تقلید مذموم اور غیر مشروع سے منع کیا ہے نہ کہ تقلید محمود ومشروع سے۔ (میزان الکبری ، مطبوعہ مصر، ص۸۰ ، ج ۱) صاحب الیواقیت والجواہر فرماتے ہیں:تقلید کی ممانعت مجتہد کے لیے ہے ، ورنہ غیر مجتہد پر ایک امام کی تقلید واجب ہے ، ورنہ وہ برباد و گمراہ ہو جائے گا۔ (الیواقیت،ص ۶۹، ج ۲)
👈دوسرا قول
ب۔
اذا قلت قولا و كتاب الله يخالفه فاتركوا قولي بكتاب الله فقيل اذا كان خبرالرسول صلي الله عليه وسلم يخالفه قال اتركوا قولي بخبرالرسول صلي الله عليه وسلم فقيل اذا كان قول الصحابة يخالفه قال اتركوا قولي يقول الصحابة
-(عقدالجید 53)
’’جب میرا قول قرآن کے خلاف ہوتو اسے چھوڑ دو۔لوگوں نے پوچھا جب آپ کا قول حدیث کے خلاف ہو ؟ فرمایا اس وقت بھی چھوڑ دو ۔پھر پوچھا جب صحابہ کے فرمان کے خلاف ہو تو ؟ کہا تب بھی چھوڑ دو۔‘‘
👈تیسرا قول
ج۔
اذا رايتم كامنا يخالف ظاهر الكتاب والسنة فاعملوا بالكتاب والسنة واضربوا بكلامنا الحائط(میزان للشعرانی ، عقدالجید 53)
’’جب دیکھو کہ ہمارے قول قرآن و حدیث کے خلاف ہیں تو قرآن و حدیث پر عمل کرو اور ہمارے اقوال کو دیوار پر دے مارو۔‘‘
✅✅✅دونوں کا الجواب
ائمہٴ اربعہ میں سے کسی کا طریقہ بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہے، یہ اعتراض اہل حدیث کی طرف سے ان کی لاعلمی کی وجہ سے ہے
، شیخ جلال الدین محلی جمع الجوامع کی شرح میں رقمطراز ہیں: "اور صحیح ترین قول یہی ہے کہ عام آدمی کا اور جو مرتبۂ اجتہاد پر فائز نہ ہو اس کا مجتہدین کے مذاہب میں سے کسی ایک خاص مذھب کی پابندی کرنا واجب ہے، چاہے وہ اس مذھب کو دوسرے مذھب کے مقابلے میں راجح سمجھتا ہو یا دوسرے مذھب کے برابر سمجھتا ہو اگرچہ واقعتا وہ مذھب اختیار کردہ مذھب کے مقابلے میں مرجوح ہی کیوں نہ ہو. لیکن برابر سمجھنے کی صورت میں اسے راجح اعتقاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے تاکہ دوسرے مذھب کے مقابلے میں اسے اختیار کرنے کی وجہ متعین ہوسکے. "
اور اسی کتاب میں خود حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام اور تا بعین عظام کے عہد زریں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کو کوئی مسئلہ در پیش ہو تا اور اس مسئلہ میں وہ خود کو ئی فیصلہ نہ کر سکتا تو وہ کسی بھی صا حبِ بصیرت عا لم کی طر ف رجوع کرتا اور اس سے دریافت کر کے عمل کرلیتا تھا۔ کیونکہ صحابہ کر ام سے لے کر چار مذاہب کے ظہورتک یہی دستور اور رواج رہا کہ کو ئی عالم مجتہد مل جا تا تو اسی کی تقلید کر لیتے تھے، کسی بھی معتبر آدمی نے اس پر نکیر نہیں کی، اگر یہ (تقلید)با طل ہوتی تو وہ حضرات اس پر ضرور نکیر فرماتے۔ (عقدالجید ، ص ۲۲)
تو کیا خود شاہ صاحب رح نے یہ قول نہیں سمجھے تھے بلکہ اچھی طرح سمجھے تھے اور آپ غیر مقلد کے پاس سمجھنے کے لئے عقل نہیں ہے
👈👈چھوتا قول
د۔امام ابوحنیفہ ؒ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے فرماتے ہیں :
اذا صح الحديث فهو مذهبي (عقدالجید)
’’صحیح حدیث ہی میرا مذہب ہے ‘‘
ماجاء عن رسول الله صلي الله عليه وسلم فعلي الراس والعين (ظفرالاماني )
✅✅✅الجواب
اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ رحمہ سے جو یہ قول نقل کیا گیا ہے : [ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذھب ہے.] اور اس طرح کی دیگر روایتیں جو دیگر ائمہ کرام سے منقول ہیں تو امام نووی نے مقدمۂ "المجموع" (1/105) میں اس کا جواب یوں ارشاد فرمایا ہے :[ہمارے مذھب کے کچھ متقدمین جب کسی مسئلے میں حدیث پاتے اور امام شافعی کا مذھب اس کے خلاف ہوتا تو حدیث پر عمل کرلیا کرتے تھے، اور اسی پر فتوی بھی دے دیتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ امام شافعی کا تو مذھب وہی ہے جو حدیث کے موافق ہو، لیکن ایسا بہت ہی شاذ و نادر ہوا، اور اسی وجہ سے امام شافعی سے یہ اصطلاح منقول ہے " فيه قول على وفق الحديث" [اس میں ایک قول حدیث کے مطابق بھی ہے.] اور امام شافعی یا دیگر نے جو یہ ارشاد فرمایا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جو بھی کوئی صحیح حدیث دیکھے تو یہ کہہ بیٹھے کہ یہی امام شافعی کا مذھب ہے، اور اس پر عمل کرنا شروع کردے ، یہ تو صرف ایسے لوگوں کے لئے ہے جو مجتہد فی المذہب یا اس کے آس پاس کے منصب پر فائز ہو جیسا کہ اس کے شرائط میں مذکور ہوا، اس کی شرط یہ ہے کہ اسے ظن غالب ہو کہ امام شافعي رحمه الله تعالیٰ اس حدیث پر مطلع نہیں ہوئے تھے، یا اس کی صحت کا انہیں علم نہیں ہو پایا، اور یہ تو اس صورت میں ممکن ہے جب امام شافعي کی ساری کتابیں مطالعہ میں آچکی ہوں یا ان سے اخذ کرنے والے ان کے متبعین کی ساری کتابیں ان کے مطالعے میں آچکی ہوں، اور یہ شرط تو بمشکل ہی کسی میں پائی جاتی ہے، واضح رہے کہ مذکورہ بالا شرطیں اس لئے رکھی گئی ہیں کیونکہ امام شافعی نے بہت ساری حدیثوں کے ظاہری معنی پر عمل کو ترک کیا تھا ، وہ ان پر مطلع تھے اور انہیں جانتے تھے لیکن ان احادیث کے بارے میں ان کے پاس تنقید ، نسخ، تخصیص یا تاویل وغیرہ پر دلائل قائم تھے. اس سلسلے میں شيخ أبو عمرو –يعني: ابن الصلاح- رحمه الله تعالیٰ رقمطراز ہیں: امام شافعی کے اس قول کے ظاہر پر عمل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے، اور ہر عام فقیہ کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ خود سے جس حدیث کو حجت سمجھے اس پر عمل کرنے لگے، اور شافعی حضرات میں سے جو اس مسلک پر چلتے تھے وہ ہیں ابو الوليد موسى بن أبي الجارود جنھیں امام شافعی رحمت اللہ علیہ کی صحبت حاصل تھی جو امام شافعی رحمت اللہ علیہ کے عمدا چھوڑے ہوۓ حدیث پر عمل کرتے تھے حالانکہ امام شافعی تو اس حدیث کی صحت کو جانتے تھے لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے ترک فرمائے تھے، اس کمی کو وہ تو جانتے تھے لیکن دیگر حضرات نہیں جاتے تھے . ابو الوليد موسى بن أبي الجارود کا کہنا تھا کہ «أَفْطَرَ الحَاجِمُ وَالمَحْجُومُ»[پچنا لگانے والا اور جسے پچنا لگایا جائے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا.]
میں کہتا ہوں امام شافعی نے بھی«أَفْطَرَ الحَاجِمُ وَالمَحْجُومُ»[پچنا لگانے والا اور جسے پچنا لگایا جائے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا.] کو ذکر کیا ہے، تو ابو الولید کی بات رد کردی گئی، کیونکہ امام شافعی نے تو اس حدیث کو اس کی صحت کے علم کے باوجود ترک کیا ہے کیونکہ یہ حدیث انکے نزدیک منسوخ ہے اور امام شافعی نے اس کے منسوخ ہونے کو واضح فرمادیا اور اس پر دلیل بھی قائم فرمادی ، آپ اسے إن شاء الله تعالى (كتاب الصيام) میں پائیں گے . اور ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ ابن خزیمہ نے کہا ہے: حلال و حرام میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث میرے علم میں نہیں ہے جسے امام شافعی نے اپنی کتاب میں نہ رکھی ہو، اورابن خزیمہ کی عظمت اور حدیث و فقہ میں ان کی امامت، اور امام شافعی کی تحروں پر ان کا عبور تو سبھی جانتے ہیں. شیخ ابو عمرو کہتے ہیں: لہٰذا اگر شافعيہ میں سے کسی کو ایسی حدیث ملے جو خلاف مذھب ہو تو دیکھا جائے گا اگر اس شخص میں مطلق اجتہاد کی صلاحیتیں موجود ہیں یا پھر اس باب میں یا خاص اس مسئلہ میں اجتہاد کی صلاحیت موجود ہے تو وہ اس حدیث پر عمل کر سکتا ہے، اور اگر صلاحیت اجتہاد مکمل نہیں ہے اور حدیث کی مخالفت اس پر شاق ہے اور بحث و تدقیق کے بعد بھی اسے خلاف حدیث عمل کرنے پر کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا تو وہ اس حدیث پر عمل کرسکتا ہے اس شرط پر کہ امام شافعی کے علاوہ کوئی مستقل امام اس پر عمل کئے ہوں اور اس مسئلے میں وہ اپنے امام کے مذھب کے ترک کرنے پر معذور سمجھا جائے گا . اور یہ جو انہوں نے ارشاد فرمایا ہے وہ عمدہ بات ہے اور وہی متعین ہے .]ختم شد .
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے
لیجیے خود حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں: "جب بجز مذاہب اربعہ کے اور سا رے مذاہب حقہ ختم ہوگئے تب انھیں مذاہب اربعہ کا اتباع سواد اعظم کا اتباع قرار پایا اور ان چاروں مذہب سے نکلنا سواد اعظم سے نکلنے کے مرادف ٹھیرا۔" (عقد الجید ص۳۸)
شاہ صاحب کس طرح آپ کو سود اعظم سے نکال کر باہر پھینک رہے ہے
👈👈پانچواں قول
’’جو حدیث سے ثابت ہو وہ سر آنکھوں پر ہے ۔‘‘
وقال الامام ابوحنيفة لاتقلدوني ولا تقلدون مالكا ولاغيره وخذالاحكام من حيث اخذوامن الكتاب والسنة-كذا في الميزان (تحفہ الاضیاء فی بیان الابراء)
’’میر تقلید نہ کرنا اور نہ مالک کی اور نہ کسی اور کی تقلید کرنا اور احکام دین وہاں سے لینا جہاں سے انہوں نے لیئے ہیں یعنی قرآن و حدیث سے ۔‘‘
✅✅✅الجواب
ائمہ مجتہدین قرآن و حدیث کی روشنی میں ہی مسائل کا استنباط اور استخراج کرتے ہیں، وہ توریت یا زبور یا انجیل یا رامائن یا گیتا سے مسائل اخد نہیں کرتے ہیں، لہٰذ ان کے بتائے ہوئے مسائل کو قبول کرنا عین قرآن و حدیث کی اتباع ہے۔
اور امام شاطبی "الموافقات" (4/292-293) میں کہتے ہیں :[عوام کے حق میں مجتہدین کے فتوے ایسے ہی ہیں جیسے مجتہدین کے حق میں شرعی دلائل، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ مقلد کے حق میں دلیل کا وجود و عدم دونوں برابر ہیں، کیونکہ وہ تو اس سے مستفید ہونے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے ہیں، اور دلائل میں غور و خوض اور اجتہاد سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ، اور نہ ہی ان کے لئے یہ کام درست ہے . جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ﴾ [النحل: 43] [تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں.] [سورہ نحل:٤٣] اور مقلد کیونکہ عالم نہیں ہوتا ہے اس لئے اس کے حق میں صرف اہل ذکر سے دریافت کرنا ہی متعین ہے ، اور دین کے معاملات میں بہر حال ان کو انہیں کی طرف رجوع کرنا ہے اور ان کے حق میں وہی علمائے کرام صاحب شریعت کے قائم مقام ہیں اور ان کے اقوال ان کے حق میں شریعت کے قائم مقام ہیں.]
اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ ؒ اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان مذاہب اربعہ میں تقلید شخصی کے انحصار اور جواز تقلید پر اجماع امت ہے اور یہ قوی ترین دلیل ہے، فرماتے ہیں: "تمام امت نے یا امت کے قابل لحاظ افراد نے ان مذا ہب اربعہ مشہورہ کی تقلید کے جواز پر اجماع کرلیا ہے جو آج تک جا ری ہے۔" (حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص ۲۳، ج ۱) اور فرماتے ہیں: "اور اس میں بہت سی مصلحتیں ہیں جو پو شیدہ نہیں ہیں بالخصوص اس زمانہ میں کہ ہمتیں پست ہو گئی ہیں اور نفوس میں خواہشات کا غلبہ اور ہر رائے والا اپنی رائے پر مغرور ہے۔" (حجۃ اللّٰہ البالغۃ)
آخر میں شاہ صاحب رح کا قول نقل کرکے غیر مقلدوں کے اس مکرو فریب پر پانی ڈالتا ہو
تقلید شخصی پر لعن طعن کرنے والوں پر سخت تنقید فرماتے ہیں: "علامہ ابن حزم ؒ نے جو رائے قائم کی ہے کہ ’’تقلید حرام ہے اور سوائے حضور اکرمﷺ کے کسی اور کا قول لینا حلا ل نہیں‘‘ یہ ایک بے دلیل بات ہے۔" (حجۃ اللّٰہ البالغۃ)
✅✅✅✅لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح صاف ظاہر ہے
قرآن و سنت تو نصوص و عبارات ہیں جن سے مجتہد احکام کو اخذ کرتا ہے اسی طرح مجتہد ان کے علاوہ دیگر دلائل سے بھی احکام اخذ کرتا ہے، نیز ائمہ مجتہدین کے اقوال تو قرآن و سنت کے ہم سر نہیں ہیں بلکہ ان کے اقوال تو قرآن و سنت کے فہم کے نتائج ہیں، لہٰذا ان کے اقوال درحقیقت قرآن و سنت کی تفسیر و توضیح ہیں . اس لئے ائمہ کرام کے اقوال کو پکڑنے سے آیات اور احادیث کو ترک کرنا لازم نہیں آتا بلکہ یہ تو عین اتباع قرآن و سنت ہے، آیات اور احادیث تو انہیں کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں، اور وہ حضرات تو بعد والوں کے مقابلے میں احاديث کے صحيح وسقیم، وحسن وضعيف، ومرفوع ومرسل، ومتواتر ومشهور، وتاريخ مقدم ومؤخر، ناسخ ومنسوخ، وأسباب ورود، ولغات و مفردات ، اور سارے علوم میں زیادہ معرفت رکھتے تھے نیز ضبط و تنقیح میں وہ حضرات زیادہ احتیاط کے حامل تھے. پھر كمال ادراك ، نہایت دینداری، پرہیزگاری، تقوی ، احتیاط اور روشن بصیرت ان کی طبیعت کے جز بن چکے تھے، چنانچہ ان حضرات نے علوم قرآن وسنت کے لئے درکار اور ضروری قواعد کے مطابق مسائل کا استخراج کیا اور قرآن و احادیث کے اسرار ورموز کا انکشاف کیا اورانہوں نے ان کے نتائج و احکام کی پردہ کشائی کی اور لوگوں کے لئے معقول و منقول اصول کے مطابق وہ احکام واضح فرمائے جو عام لوگوں پر مخفی رہ جاتے ہیں، لہٰذا انہوں نے لوگوں پر ان کے دین کے مسائل کو آسان سے آسان کردیا اور اصول سے فروع کو مستنبط کرکے اور فروع کو اصول کی طرف ضم کرکے اشکالوں کا ازالہ کیا اس طرح ان کے ذریعہ ایک عمومی بھلائی کی نشر و اشاعت عمل میں
اللّه تعالیٰ غیر مقلدین کے شر سے امت کی حفاظت فرمایے
۔آمین

No comments:
Post a Comment