Thursday, 2 July 2020

اے اللّه معاویہؓؓ کا پیٹ علم اور حلم سے بھر دے الحدیث


حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے سوار فرمایا ، پھر ارشاد فرمایا : اے معاویہ تمہارا کون سا حصہ مجھ سے لگ رہا ہے ؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا پیٹ ، ( اس پر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ اسے علم اور حلم سے بھردے ( الشریعہ / رقم : 1979 )

اس روایت کی سند حسن درجے کی ہے لہذا یہ روایت احقر نے اپنے سلسلہ وار دفاع سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایک ویڈیو میں نقل کی تھی لیکن ایک دوست کی وسادت سے معلوم ہوا کہ کسی تحریر میں اس روایت کے ایک راوی سلمة بن بشر ابو بشر کو سلمة بن بشیر لکھ کر مجہول اور ایک دوسرے راوی عبدالرحمن بن نافع کو اگر کے امکان میں رکھ کر امام دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالے سے مجہول لکھا گیا ہے !
تو اس بارے میں عرض ہے کہ تحریر سے پہلے تحقیق سے کام لینا بہتر رہتا
یہ جو اس کے راوی ہیں وہ سلمة بن بشیر نہیں بلکہ سلمة بن بشر ابو بشر ہیں اور ان سے ثقة ، حافظ ، امیر المومنین فی الحدیث امام یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ نے روایت لی ہے 
دیکھئے :
( مصنف ابن ابی شیبہ / ج : 12 / ص : 637/ رقم : 25809 )
( العلل ومعرفة الرجال لاحمد بن حنبل بروایة عبداللہ / رقم : 3824 )
لہذا معلوم ہوا کہ سلمة یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ کے نزدیک ثقہ ہیں کیونکہ وہ انہی سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں۔
دیکھئے :
( دراسات حدیثیة / ص : 379 )
( اتحاف النبیل / ج : 2 / ص : 123 ، 124 )

نیز ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے
دیکھئے : ( کتاب الثقات لابن حبان / ج : 8 / ص : 286 )

لہذا ثابت ہوا کہ سلمة بن بشر پر مجہول ہونے کی جرح صحیح نہیں ہے۔

اب جہاں تک بات ہے عبد الرحمن بن نافع کی جن کی کنیت ابو زیاد اور لقب درخت ہے تو وہ بھی ثقہ ہیں
دیکھئے :
( تاریخ بغداد / ج : 10 / ص : 262 )
( کتاب الثقات لابن حبان / ج : 8 / ص : 381 )
( تاریخ الاسلام للذہبی / ج : 17 / ص : 243 )
نیز ابو زرعة الرازی نے آپ کو صدوق کہا ہے ( الجرح والتعدیل / ج : 5 / ص : 356 )

الغرض سند کے تمام رواة کو مدنظر رکھ کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ روایت حسن درجے کی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

نیز ضرورة یہ بات بھی عرض کردوں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور ان پر اعتراضات کے جوابات پہلے سے کتابوں میں موجود ہیں اور کئی اشخاص نے فلاں اور فلاں کی ویڈیوز بنانے سے پہلے ہی انہیں اردو کتب میں بھی جمع کررکھا ہے تو کیا اب یہ مان لیا جائے کہ جس نے بھی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں ویڈیوز بنائی ہیں اس نے انہی اردو کتب سے چوری کرکے بنائی ہیں اور اصل ماخد دیکھے بھی نہیں ؟ نہیں بلکہ یہ بات غلط ہوگی۔ لہذا اس طرح کی غیرمقلدانہ باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔ ہم چیلینج کرتے ہیں کہ جو بھی ویڈیو پچھلے مہینوں یا سالوں میں کسی غیرمقلد عالم نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بنائی ہیں اور کچھ اعتراضات کے جوابات دئے ہیں ، کوئی صاحب ان میں سے کوئی اعتراض پیش کردے ہم ان غیرمقلد عالم صاحب کی ویڈیو بنانے سے سالہا سال پہلے لکھی گئی کتاب سے اس اعتراض کا جواب دکھا دیں گے ان شاء اللہ۔ تو کیا آپ مان لیں گے کہ ان غیرمقلد عالم صاحب نے انہیں کتب سے چوری کرکے ویڈیو بنالی ہے اور اصل مصادر کو خود نہیں دیکھا۔
اور اس بات پر بھی غور کرلینا چاہئے کہ اوپر جس روایت کی بحث کی گئی ہے وہ تو شاید غیرمقلد عالم صاحب نے اپنی ویڈیوز میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں پیش نہیں کی لیکن ہم نے کردی اور اب اس پر اعتراض کا بفضل اللہ جواب بھی لکھ دیا ہے لہذا یہاں بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ویڈیوز کسی غیرمقلد عالم صاحب کے بھروسے اور ان کی تحقیق کی بنیاد پر رکارڑ نہیں کرائیں۔ بلکہ میں حلفا کہتا ہوں کہ جس غیرمقلد عالم نے مرزا علی کے رد میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں ویڈیوز رکارڈ کرائی ہیں میں نے آج تک ان غیرمقلد عالم صاحب کی اس سلسلے میں اپنی یاد داشت کے مطابق صرف اور صرف دس منٹ کی ایک ویڈیو دیکھی ہے اور اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی جو ہمیں خود کتب سے نا ملی ہو۔ ہمارے علماء نے الحمدللہ اس بارے میں کافی کچھ لکھ رکھا ہے اور ہمیں اللہ پاک نے حضرت اقدس مفتی مظفر حسین قاسمی صاحب دامت فیوضہم العالیہ جیسے عالم ، فقیہ ، مفتی محدث ، مدرس اور محقق سے نوازا ہے جس کے بعد ہمیں کسی اور کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ نیز ہم خود بھی اس سلسلے میں بفضل اللہ کافی وسیع الظرف واقع ہوے ہیں لہذا اس قسم کی سطحی باتوں سے ہمارے مخالف خود کو تسلی تو دے سکتے ہیں لیکن حقیقت کی دنیا میں ان باتوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اہل فہم کیلئے اتنی باتیں کافی ہونگی ان شاء اللہ۔

باقی اللہ پاک کے بارے میں غیرمقلدین کا عقیدہ مجسمہ اور مشبہ فرقے کا نیا ایڈیشن ہے جو کہ واضح اور صریح گمراہی ہے۔ اللہ پاک اس غیرمقلدانہ گند سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں عقیدہ طحاویہ والے عقیدے پر موت نصیب فرمائے جو کہ کتاب و سنت کی صحیح ترجمانی ہے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

راقم الحروف : ( حافظ ) محمد نعمان ( نوشہرہ سرینگر )
تاریخ نوشت : ١ جولائی ٢٠٢٠ء بروز بدھ

No comments:

Post a Comment