#Mauz_bin_Jabal
نامی ایک جاہل قسم کے غیر مقلد فوٹو گرافر جو ہر وقت فوٹو چپکاتا ہے اپنے جاہل ملاؤں کی
عجیب بات تو یہ ہے اس جیسا جاہل ہو کوئی ہو اس دنیا میں تقلید کا رد بھی کسی کی تقلید میں ہی کر رہا ہے اس نے حوالاجات دئے جس میں ان لوگوں نے صرف جھوٹ اور خیانت سے کام لیا جب میں میں نے وہ خیانتیں دکھا دی یہ جاہل پھر بھی اپنے اس جاہل ملا کی دم نہیں چھوڑ رہا ہے
🚫جاہل کا پہلا اعتراض 🚫
امام ابو جعفر الطحاوی حنفی رحمہ اﷲسے مروی ہے، تقلید تو صرف وہی کرتا ہے جو معتصب اور بے وقوف ہوتا ہے۔لسان المیزان،جلد:1 ،صفحہ:280
جواب :امام طحاوی تو خود مجتہدین فی المسائل کے طبقہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے ”بن حربویہ“ کو بطور طنز کے غصہ میں فرمایا تھا اوراس لیے فرمایا تھا کہ وہ مسائل واحکام کے دلائل اور مآخذ کو وہ نہیں سمجھ رہے تھے تو اسے غصہ میں یہ جملہ کہہ دیا غبی یا عصبی جیسے کوئی استاذ کسی اپنے غبی شاگرد کو جو نہ سمجھ رہا ہو ”گدھا“ کہہ دے یا جاہل کہہ دے، اس جملہ کو قاعدہ کلیہ قرار دینا اور اس سے تقلید کرنے کا رد سمجھ لینا صحیح نہیں ہے اور کیونکر یہ صحیح ہوسکتا ہے جب کہ وہ خود بھی مقلد تھے یعنی حنفی تھےتو مستقل ان کی کتابیں فقہ حنفی سے متعلق ہیں۔
🚫جاہل کا دوسرا اعتراض 🚫
زیلعی حنفی رحمہ اﷲنےکہا تھا،پس مقلد غلطی کرتا ہے اور مقلد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے۔نصب الرایہ ،جلد:1،صفحہ:219
جواب: علامہ زیلعی خود حنفی تھے اور جس کتاب سے آپ نے اعتراض نقل کیا ہے یہ کتا ب علامہ صاحب نے ہدایہ کے مسائل کا جن احادیث سے اخراج کیا گیا ہے اس پر لکھی ہےاس لیے آپ کا اعتراض باطل اور جہالت پر منبی ہے۔
غیرمقلدین کا امام زیلعی رحمہ اللہ کے اس جملے ”قالمقلد ذہل والمقلَّد جہل“ سے تقلید کا رد کرنا ثابت نہیں؛ کیونکہ امام زیلعی رحمہ اللہ نے ایک خاص پس منظر میں یہ بات کہی ہے، اس جملہ میں انھوں نے اپنے شیخ کی ایک غلطی پر تنبیہ کی ہے اور وہ غلطی یہ تھی کہ ان کے شیخ علاوٴ الدین نے ایک حدیث کو جس کی تخریج امام مسلم نے بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے دوسرے کی تقلید میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کردی گویا ان سے دوسرے کی اتباع میں یہ غلطی ہوگئی، پوری عبارت اس طرح ہے: ووہم الشیخ علاء الدین الترکمانی فی عزوہ ہذا الحدیث لمسلم عن طلحة وإنما رواہ مسلم عن أبی ہریرة - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - وروی بعضہ عن جابر ولم یخرج مسلم لطلحة فی کتابہ إلا خمسة أحادیث لیس ہذا منہا․ ”ہمارے شیخ علاوٴ الدین کو وہم ہوا کہ انھوں نے کسی دوسرے شخض کی پیروی میں اس حدیث کو صحیح مسلم کے حوالے سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی مروی قرار دیا حالانکہ امام مسلم نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس روایت کے بعض الفاظ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں، امام مسلم نے تو اپنی صحیح میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے صرف پانچ احادیث تخریج کی ہیں، ان میں یہ روایت نہیں ہے۔“ (نصب الرایہ: ۱/ ۱۱۳)
اس کے بعد صحیح مسلم کی وہ پانچ روایات نقل کرنے کے بعد امام زیلعی فرماتے ہیں: فالمقلد ذہل والمقلَّد جہل یعنی بات نقل کرنے والے سے بھول ہوگئی اور جس شخص سے بات نقل کی ہے اس سے بھی خطا ہوگئی ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ یہاں تقلید اصطلاحی معنی میں نہیں ہے بلکہ یہاں قلد کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ کسی دوسرے کی بات نقل کرنا جیسا کہ سیاق وسباق سے بالکل واضح ہے۔ اور تقلید اصطلاحی کا رد امام زیلعی رحمہ اللہ کیسے کرسکتے ہیں جب کہ وہ خود مقلد ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں غیرمقلدین نے تین خیانتیں کی ہیں:
(۱) تقلید کو اصطلاحی معنی میں استعمال کیا جب کہ یہاں لغوی معنی میں مستعمل ہے۔
(۲) یہاں پہلا لفظ ”مقلِّد“ صیغہ اسم فاعل بمعنی بات نقل کرنے والا ہے اور دوسرا لفظ مقلَّد صیغہ اسم مفعول بمعنی وہ شخص جس سے بات نقل کی جائے، لیکن غیرمقلدین نے دونوں کو اسم فاعل کا صیغہ بنادیا۔
(۴) یہاں لفظ ”ذہِل“ ہے جس کا معنی ذہول اور بھول ہونا ہے لیکن غیرمقلدین نے اس کا معنی ”خطا“ والا کردیا یعنی غلطی کرنا
اور تو اور جب اسکو بولتا ہو اپنا دعوا ثابت کر یہ ایک دم دوسرے مسلے پر بھاگ جاتا ہےاللّه ان جیسے جاہلوں سے امت کی حفاظت فرماییں

No comments:
Post a Comment